بابا بُلّھے شاہ

اربوں کھربوں سال سے بنی اس دنیا میں وقت کی لہریں یوں ہی گزرتی رہی ہیں اور گزرتی جائیں گی۔ انسان بھی آتے ہیں اور لہروں کی طرح گزر جاتے ہیں لیکن ہمیشہ وہ انسان دنیا اور دلوں میں گھر بناتے ہیں جو اس دنیا میں کچھ کر جاتے ہیں۔ وہ چلے بھی جائیں لیکن دنیا انہیں ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔کبھی لفظوں میں کبھی یادوں میں اور کبھی مزاروں کی شکل میں، اور بزرگ برصغیر پاک و ہند میں بے شمار صوفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے برصغیر کی اس سرزمین میں اسلام پھیلانے کیلئے آخری سانس تک بے شمار کوششیں کیں۔ وہ ساری کوششیں چاہے ان کی زندگی میں پوری نہ ہو سکیں لیکن ان کی تعلیمات اور کردار روشن ستاروں کی طرح اس دنیا میں قائم رہے۔ ان کی قبروں پر آج بھی لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور انہیں ایصال ثواب کرتا ہے۔ ان صوفیاء کرام نے جہالت ختم کرنے کیلئے اس سرزمین پر بے شمار کوششیں کیں، مشکلات برداشت کیں اور قربانیاں دیں جو لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔

انہی ناموں میں ایک نام حضرت بابا بلھے شاہ کا ہے۔ قصور شہر کا نام اور بابا بلھے شاہ کا نام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جہاں قصور کا نام لیا جائے وہاں بابا بلھے شاہ کا نام بھی ساتھ ہی لیا جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے ہمارا قصور جانے کا اتفاق ہوا، دل میں بہت شوق تھا کہ بابا بلھے شاہ کا مزار دیکھیں۔ لاہور سے 28 کلومیٹر دور قصور کا چھوٹا سا شہر ہے۔ قصور پہنچ کر چار پانچ کلومیٹر دائیں جانب ایک چھوٹا سا پسماندہ گاوں ہے جو آج بھی اتنا ہی پسماندہ ہے جتنا کہ بابا بلھے شاہ کے زمانے میں ہو گا۔ آج بھی سائیڈوں پر بنے ہوئے بنوں پر لوگ بے کار بیٹھے رہتے ہیں۔ کچے پکے راستوں اور کھیتوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ہم مزار شریف کے پاس پہنچے۔ مزار کے آس پاس ایک چھوٹا سا شہر آباد ہے جہاں زیادہ مچھلی اور فالودے کی دکانیں موجود ہیں۔ کار پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے کچی جگہوں کو پار کرتے ہوئے ہم نے مزار کا رخ کیا۔ ان کچی جگہوں پر زیادہ قبریں ہی بنی ہوئیں تھیں۔

ایک لمبی قطار کے ساتھ چلتے ہوئے ہم مزار کے احاطے میں داخل ہوئے۔ وہاں سے وضو کیا اور مزار کے اندر کا رخ کیا۔ بے شمار رش اور چاہنے والے روزانہ سیکڑوں کے حساب سے حاضری دینے آتے جاتے رہتے ہیں۔ مزار کے ایک طرف ایک کمرہ تعمیر ہے جہاں ہر وقت قوالی کا انتظام ہے جو موسیقی بابا بلھے شاہ کی زندگی کا حصہ تھی۔ وہ آج بھی وہاں پر اسی طرز پر چلتی رہتی ہے۔
نہ کر بندیا میری میری نہ تیری نہ میری
تو ایں خاک دی ڈھیری

کوٹھیاں بنگلے سب ٹر جانے
جدوں لیکھاں نے اکھ پھیری

پنجابی صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کو بخاری سید بھی کہتے ہیں۔ ان کا نام عبداللہ شاہ تھا، ان کے والد کا نام شاہ محمد درویش تھا جو مسجد کے امام تھے۔ بابا بلھے شاہ کی پیدائش اوچ شریف میں ہوئی۔ ان کے والد بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے تھے۔ بابا بلھے شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ قرآن، حدیث اور منطق کی تعلیم قصور سے حاصل کی۔ گلستان استاد بھی پڑھی۔ دنیا کے علم حاصل کر کے بھی ان کا دل مطمئن نہ ہوا۔ بابا بلھے شاہ حافظ غلام مرتضیٰ کے شاگرد بن گئے اور ان سے عربی، فارسی اور تصوف کی تعلیم بھی حاصل کی۔ وارث شاہ نے بھی حافظ غلام مرتضیٰ سے تعلیم حاصل کی۔

حافظ غلام مرتضیٰ کہا کرتے تھے۔ مجھے دو ایسے عجیب شاگرد ملے ہیں ایک بلھے شاہ ہے جو تصوف کی تعلیم حاصل کرے اس نے ایک ہاتھ میں سارنگی پکڑ لی اور دوسرا وارث شاہ جو عالم دین بن کر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہیرا رانجھے کے گیت گانے لگا۔ بابا بلھے شاہ اپنی شاعری میں نہ صرف مذہبی ضابطوں پر تنقید کرتے بلکہ ترک دنیا کو بھی بھرپور انداز میں مذمت کرتے اور محض علم جمع کرنے کو وبال جان قرار دیتے ہیں۔ علم بغیر عمل کے بے کار ہے۔ بابا بلھے شاہ کے دور میں مغلیہ سلطنت داخلی اور خارجی مسائل کا شکار تھی، معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا، انسان بے بس ہو چکا تھا۔ لوگ ایک خدا کی عبادت کرنے کی بجائے توہمات میں الجھے ہوئے تھے لیکن بابا بلھے شاہ کو اللہ کی طرف سے یہ خوبی عطا تھی کہ وہ انسان کو تصویر کا دوسرا رخ سمجھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے انسانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اے ابن آدم تو کچھ بھی نہیں تیری کوئی شناخت نہیں تو مٹی کی ڈھیری ہے بس وہ ایک درویش آدمی تھے۔

 یہ درویشی صفت ساری عمر ان کے ساتھ رہی۔ بابا بلھے شاہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس لیے مفتی ان کے خلاف تھے۔ انہیں کافر کہہ رہے تھے۔ مغل سکھوں کا قتل عام کر رہے تھے اور سکھ مغلوں کو مار رہے تھے۔ بلھے شاہ نے صوفیانہ شاعری کے ذریعے اورنگ زیب عالمگیر کی حکمرانی کو چیلنج کیا۔ مفتیوں نے فتوے دیئے کہ ان کی شاعری کافرانہ ہے اس لیے ان کو ملک بدر کر دیا جائے۔ بلھے شاہ کا انسانیت سے بھرپور کلام اپنے جوبن پر تھا۔ اس وقت بلھے شاہ قصور کو خیرباد کہہ کر لاہور آ گئے۔ عوام کو محبت اور انسانیت کا درس دینا شروع کیا۔ ایسے شخص کو کیسے ریاست اور اس کے حلقے بے باکی سے زندہ رہنے دیتے۔ یہ سچ کی ریاستوں کے ٹھیکیداروں کیلئے خطرناک تھا۔ اس لیے لوگوں کو یہ سمجھ آ رہا تھا کہ یہ درویش مختلف بات کر رہا ہے۔ مفتیوں کو چیلنج کر رہا ہے، عشق ان کی طاقت تھی۔ ان کو مارنا مشکل تھا۔

بابا بلھے شاہ کا انتقال 1757 عیسوی میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ ان کے عقیدت مند آج بھی ان کے مزار پر ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مزار کے احاطے میں ایک طرف شیشے کے کیس میں بابا بلھے شاہ کا عمامہ شریف اور ستار بھی موجود ہے۔ ایک حصے میں ان کے کلام کو گا کر سنایا جاتا ہے اور لوگ بڑے اشتیاق سے سنتے ہیں۔ سارا دن لوگوں کے ہجوم آتے جاتے رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کیلئے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی وہ اس دنیا کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں وہ کبھی بھی نہیں مرتے۔ قصوری میتھی ایک خاص سوغات ہے جو ان کے مزار پر لوگ کثرت سے خریدتے ہیں۔ ہم نے بھی فاتحہ خوانی کی اور سارا دن قصور میں گزارا اور یہ دن ہماری زندگی کا ایک بہت اہم اور یادگار دن تھا کہ ہم نے ایک صوفی شاعر کے مزار پر حاضری دی۔

روبینہ شاہین

بشکریہ روزنامہ جسارت

ٹیکس معافیوں سے پاکستان کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

ہم اپنی آمدنیوں سے پیسے بچا کر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے لیے سب سے پہلے اپنی آمدنیوں کے رجحان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 19ء-2018ء میں سامنے آنے والے گھریلو انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق ہماری اوسط سالانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے رہی جو 02ء-2001ء میں محض 7 ہزار 168 روپے تھی۔ مطلب یہ کہ گھریلو آمدن میں اوسط سالانہ اضافے کی شرح 10.9 فیصد رہی۔ اس عرصے کے دوران ہر 5 میں سے ایک غریب کی آمدن 4 ہزار 391 سے بڑھ کر 23 ہزار 192 تک پہنچ چکی ہے، یعنی 10.3 کا سالانہ اضافہ ہوا۔ اسی طرح ہر 5 میں سے ایک امیر ترین گھرانوں کی آمدن 11 ہزار 360 روپے سے بڑھ کر 63 ہزار 544 روپے پہنچ گئی ہے، یعنی 10.7 فیصد کا سالانہ اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں مہنگائی میں سالانہ اضافے کی اوسط شرح 7.9 رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصے میں مہنگائی کی کٹوتیوں کے بعد بچنے والی حقیقی آمدنیوں میں اوسط کے اعتبار سے اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ ہمارا ملک تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ گھرانوں پر مشتمل ہے۔ اگر مذکورہ بالا اعداد و شمار آپ کے تجربے سے مماثلت نہیں رکھتے تو آپ وہ خوش قسمت ہیں جو گھرانوں کے 5ویں حصوں میں سے ایک اعلیٰ حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر گھریلو انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے سروے میں 10 یا ایک فیصدی لحاظ سے اعداد وشمار پیش کیے جاتے تو کئی قارئین خود کو پاکستان کے 10 یا 5 فیصد امیر ترین گھرانوں میں شمار کرتے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بظاہر نظر آنے والی کم گھریلو آمدنیوں کو کمانے والا کوئی فرد واحد نہیں تھا۔ ایک اوسط گھرانہ 6.24 افراد پر مشتمل تھا اور ایک گھرانے میں کمانے والوں کی تعداد 1.86 فیصد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھریلو آمدن کے مقابلے میں کمانے والے ایک فرد کی اوسط آمدن کم رہی۔ ہماری قومی بچت کی کم شرح سے متعلق ہم سب جانتے ہیں جس کا 19ء-2018ء کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 10.8 فیصد تھا۔ مگر چند ہی لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ اسی سال ماہانہ گھریلو کمائی میں سے نقدی یا ڈیپازٹس کی صورت میں اوسط ماہانہ بچت کی شرح 4.6 فصد رہی۔

اگر ہم جیولری اور دیگر مالی اثاثوں کی خریداری پر ہونے والے اخراجات کو جوڑ دیں تو 19ء-2018ء میں گھریلو بچت کی شرح 02ء-2001ء میں رہنے والی 6.3 فیصد شرح کے مقابلے میں 8.8 فیصد بنتی ہے۔ اگرچہ اس عرصے کے دوران ہماری بچت کی شرح بڑھی ہے لیکن اس معاملے میں ہماری بہتری کی رفتار بہت زیادہ سست رہی ہے۔ ہمارے ہاں بچت کا رجحان زیادہ نہیں پایا جاتا۔ اس کا تعلق ہماری میکرو ایکنامک پالیسیوں میں موجود بے ترتیبی سے بھی ہے کیونکہ ان پالیسیوں میں بچت سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ آپ سود کی شرح میں موجودہ اور ماضی کے رجحانات پر ہی نگاہ ڈال لیجیے۔ جب بھی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو احتجاجی مظاہروں کا شور شروع ہو جاتا ہے حالانکہ اس اضافے سے بچت کرنے والوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ ہماری توجہ کا مرکز ہمیشہ ‘غریب’ قرض دار ہوتے ہیں حالانکہ وہ شرح کے اضافے سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے منافع میں سے معمولی حصہ ہی کٹتا ہے۔

ڈالر کو سستا رکھنے کا ہمارا شوق بھی بچت کے بجائے خرچ کرنے کو فروغ دیتا ہے۔ کیا ہم بچت کرنے والوں کو مناسب معاشی مراعات دے رہے ہیں؟ بینک میں پیسے جمع کروانے والوں کے منافع کی شرح پر ہی نظر دوڑا کر دیکھ لیجیے۔ 02ء-2001ء سے 19ء-2018ء تک اس میں صرف 4 فیصد کا اوسط اضافہ ہوا۔ اب اس کا موازنہ اسی عرصے کے دوران رہنے والی افراطِ زر کی سالانہ 7.9 فیصد کی اوسط شرح سے کیجیے اور (یہ بھی یاد رہے کہ 2008ء سے 2012ء کے بیچ افراطِ زر دو ہندسوں میں تھی)۔ چنانچہ بینک میں رقم جمع کروانے والوں کے لیے حقیقی شرح بڑے فرق کے ساتھ منفی رہیں۔ پھر کم بچت پر رونا کیسا؟ اگر ہم درست شرح مبادلہ اور شرح سود رکھیں تو ان سے افراطِ زر کو کم رکھنے کے ساتھ بچت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم ہمارے پاس خرچ کرنے کی نفی اور بچت (مالی پالیسیوں) کے فروغ کے لیے دیگر پالیسیاں بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں گھرانے ایف بی آر کو بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز گھرانوں کی جانب سے خریدی جانے والی مصنوعات کی قیمتوں میں ضم ہوتی ہیں۔ چنانچہ گھریلو انٹیگریٹڈ اکنامک سروے صرف انکم ٹیکس اور دیگر بلاواسطہ ٹیکسوں پر ہونے والے اخراجات کے تخمینے ہی فراہم کر سکتا ہے۔ ہمارے گھرانے کتنے ٹیکسوں کی ادائیگی کر سکتے ہیں؟ 18ء-2019ء میں ہمارے ایک اوسط گھرانے نے ماہانہ صرف 144.12 روپے بلاواسطہ ٹیکس ایف بی آر کو ادا کیا۔ یہ گھریلو آمدن کے ایک فیصد کے آدھے حصے سے بھی کم (0٫35 فیصد) رقم بنتی ہے! اگر 02ء-2001ء کی بات کریں تو اس وقت آمدن کا 0.38 فیصد حصے کے برابر ٹیکس ادا کیا گیا تھا۔ دنیا میں شاید ہی ایسے ملک ہوں گے جہاں کے گھرانے اس رقم سے کم بلاواسطہ ٹیکسوں کی ادائیگیاں کرتے ہوں گے۔ مثلاً، امریکا میں ایک اوسط گھرانے نے 2019ء میں اپنی آمدن کا 13.7 فیصد حصہ بلاواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کیا تھا۔ یقیناً یہ موازنہ غیر منصفانہ ہے!

تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے گھرانے پورا ٹیکس دینے سے بچ جاتے ہیں۔ مگر اسے بھی آدھا سچ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ٹیکسوں کی کم وصولی کی وجہ ہماری ٹیکس پالیسیاں ہیں۔ ہمارے مالی حکام اکثر و بیشتر انکم ٹیکس شرح کو گھٹانے اور انکم ٹیکس کی چھوٹ کا درجہ بڑھانے میں کنجوسی نہیں کرتے۔ ہمارے وزرائے خزانہ کے ذہنوں پر انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کو ‘ریلیف’ کی فراہمی کی فکر ہمیشہ سے سوار رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایف بی آر ایئر بک 19ء-2018ء کے مطابق ٹیکس وصولی میں کمی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ اس سال بجٹ میں اعلان کردہ انکم ٹیکس کی محدود شرح تھی۔ یہاں ہمیں لافر کرو (یہ ایک تھیوری ہے جو ٹیکس کی شرح اور حکومتوں کی طرف سے جمع کی جانے والی ٹیکس آمدنی کی مقدار کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے) کے حامیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو سوچتے ہیں کہ ٹیکس شرح کو گھٹانے سے ریونیو میں اضافہ ہو گا۔ (انکم ٹیکس سے لے کر زرعی و دیگر شعبوں میں) ٹیکس کی بے تحاشا چھوٹ دینے کے ساتھ ٹیکس کی شرح کو گھٹانا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

ہم اپنی آمدن کا بیشتر حصہ نجی مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں۔ مجموعی قومی پیداوار کے 93 فیصد سے زائد حصے کے برابر مصنوعات خریدیں، اس لحاظ سے ہم نجی مصنوعات استعمال کرنے والے کئی دیگر ملکوں سے آگے ہیں۔ مگر ہم سڑکوں، پلوں، صاف پانی کی فراہمی، نکاس آب، صفائی کے نظام، داخلی سیکیورٹی وغیرہ جیسی عوامی مصنوعات کی دستیابی اور معیار میں کوتاہی کا گلہ کرتے ہیں۔ ٹیکسوں کی ادائیگی ہی انفرااسٹرکچر کی دستیابی کو یقینی بنانے کا واحد ذریعہ ہے۔ ہم ایک طرف تو اپنی حکومتوں سے بہتر معیار کی عوامی مصنوعات کی فراہمی کا تقاضا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہم بلاواسطہ ٹیکس ادا کرنے میں کافی ہچکچاتے ہیں، اور پھر ٹیکسوں کی وصولی میں ہماری حکومت کی غیر سنجیدگی بھی کم نہیں (جو متعدد ٹیکسوں میں مسلسل چھوٹ سے نمایاں ہے)۔ اس کا نتیجہ مالی حکام کے بظاہر ذی شعور اقدامات کی پُرکشش کرتبوں کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جس سے تھوڑی بہت آمدن تو ہوتی ہے مگر اس کا حجم ٹیکس چھوٹ کے باعث ہونے والے ٹیکس خسارے کے مقابلے میں بہت ہی کم ہوتا ہے۔

ایف بی آر کے ٹیکس اخراجات کی رپورٹ برائے 2021ء کے مطابق وفاقی ٹیکسوں میں معافیوں کے باعث ایک ہزار 314 ارب روپے کا خسارہ پیدا ہوا جو مجموعی قومی پیداوار کے 3.2 فیصد حصے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنی غلطیوں (غافل میکرو اکنامک پالیسیوں) کے لیے غیر ملکیوں کو موردِ الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔ ہم خود کو تباہ کر رہے ہیں اور آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ مسئلہ ہماری تقدیر میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے اندر ہے۔

ریاض ریاض الدین

یہ مضمون 6 دسمبر 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
لکھاری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نائب گورنر رہ چکے ہیں

بشکریہ ڈان نیوز

پاکستان میں پراپرٹی کی نئی قیمتوں کے تعین سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کتنا متاثر ہو گا؟

پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمت بڑھانے کے فیصلے کے بعد پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ افراد خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایف بی آر نے پراپرٹی کی نئی ویلیوایشن کا یکم دسمبر سے اطلاق کر دیا تھا اور ملک کے لگ بھگ 40 شہروں کی کمرشل اور رہائشی پراپرٹیز کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پراپرٹی کی خریدوفروخت کے کاروبار سے وابستہ افراد اور تنظیموں کے جانب سے احتجاج کے بعد ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ پانچ دسمبر کو فیڈریشن آف ریٹلرز اور اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس ویلیوایشن میں فریقین سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ایف بی آر کے اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں کاروباری سرگرمی میں کمی آئی ہے۔

ہم احتجاجاً پراپرٹی ٹرانسفر نہیں کرائیں گے
بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں پراپراٹی کے کاروبار سے وابستہ عمران عزیز نے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر کہا کہ ’عمران خان نے ٹیکس دگنا کرنے کی بات کی لیکن انہوں نے اس کے لیے جو طریقہ اپنایا ہے یہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کے بجائے کمی کا باعث بنے گا۔‘ ’ایف بی آر نے جو حالیہ ویلیوایشن کی ہے اس کی وجہ سے سرمایہ لگانے والوں نے مارکیٹ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور ہماری کچھ تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ احتجاجاً پراپرٹی ٹرانسفر نہیں کرائیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آر نے بغیر کسی فارمولے کے زمینوں کی ویلیوایشن کی ہے۔ اس سے قبل محکمہ مال پراپرٹیز کو دیکھ بھال کر ان کی قیمت کا تعین کرتا تھا۔ اب ایف بی آر نے ویلیوایشن دگنی کر دی ہے اور بعض جگہوں پر تو 700 گنا بھی بڑھا دی ہے۔‘

’عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ہم کنسٹرکشن انڈسٹری چلانا چاہتے ہیں، جب وہ چلنے لگی تو انہوں نے اس پر بم گرا دیا۔ یہ حکمت عملی اچھی نہیں۔ حکومت کو فوراً پیسے نکالنے کی پالیسی کے بجائے طویل المدت پالیسی بنانی چاہیے۔‘ اس سلسلے میں جب اردو نیوز نے ایف بی آر کے فیسیلیٹیشن اینڈ ٹیکس پیئرز ایجوکیشن (ایف اے ٹی ای) ونگ کے سیکریٹری تعلقات عامہ عدنان اکرم باجوہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایف بی آر کے موقف پر مبنی مراسلہ بھیجا۔  ایف بی آر کا موقف ہے کہ ’حالیہ پراپرٹی ویلیوایشن نہایت غوروخوض اور فیلڈ فارمیشن کی مشاورت کے بعد مقرر کی گئی ہے۔ پراپرٹی کی ویلیو میں اضافہ دنیا میں رائج بہترین طریقہ کار کو اپناتے ہوئے مارکیٹ قیمت کے قریب تر کیا گیا ہے۔‘ تاہم ایف بی آر نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ’اسے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن کو مارکیٹ قیمت سے زائد کہا گیا ہے۔‘

’شکایت کو رفع کرنے کے لیے ایف بی آر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ٹاپ ویلیوایشن ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور ٹاؤن ڈیویلپرز سے مشاورت کریں گے اور انفرادی طور پر کیسز کی جانچ پڑتال کے بعد اپنی سفارشات پیش کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی دور کر سکیں اور پراپرٹی کی ویلیو کو مارکیٹ قیمت کے قریب تر کر سکیں۔‘ ’کچھ لوگ سازش کے تحت ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بند کرانا چاہتے ہیں‘ گلبرگ گرینز اسلام آباد میں پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے ملک نجیب کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے بغیر سوچے سمجھے یہ ویلیوایشن کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر اسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر میں کسی اپارٹمنٹ کی قیمت چھ یا سات کروڑ تھی، انہوں نے اسے یکدم 35 سے 40 کروڑ کر دیا ہے۔‘

’اس وقت ملک میں صرف ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہی چل رہا ہے لیکن کچھ لوگ سازش کے تحت اسے بھی بند کرانا چاہتے ہیں۔‘ ’حکومت کو پراپراٹی کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کرنا ہو گی اور اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا ہو گا۔ اگر اس طرح کے فیصلے کیے گئے تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔‘ ملک نجیب نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے 5 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں ایف بی آر کو متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے کہا گیا ہے۔ امید ہے کہ کچھ بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔

پراپرٹی ویلیوایشن کیا ہے؟
سادہ لفظوں میں پراپرٹی ویلیوایشن کا مطلب غیر منقولہ جائیدادوں کی حکومت کی جانب سے قیمت کا تعین ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے تک غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمت کا تعلق محکمہ مال کرتا رہا ہے۔ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے اسے ڈی سی ریٹ کہتے ہیں۔ اس حوالے سے پراپرٹی ڈیلر عمران عزیز نے بتایا کہ ’نواز شریف کے آخری دور حکومت میں ایف بی آر کو پراپرٹی ویلیوایشن کی جانب لانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے بعد سے کہیں ایف بی آر کی ویلیوایشن لاگو ہے تو کہیں محکمہ مال کی۔ ابھی تک یہ معاملہ بالکل واضح نہیں ہو سکا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا فیصلہ
پراپرٹی ڈیلرز کے احتجاج کے بعد 6 دسمبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ٹیکس کا اجلاس ہوا جس میں ایف بی آر کے اس نئے ایس آر او کو معطل کرتے ہوئے جولائی 2019 کے ویلیوایشن ایس آر او کو بحال کرنے کا فیصلہ ہوا اور ایف بی آر کو ہدایت کی گئی کہ اس معاملے میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد 15 دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ جمع کرائے۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ نئی ویلیوایشن مقررہ وقت میں کی جائے اور اس میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

فرحان خان

بشکریہ اردو نیوز- اسلام آباد

باقر شوکت ڈاکٹرائن اور غربت کی ٹوپی

گزشتہ ماہ گورنر اسٹیٹ بینک نے لندن میں ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کا مثبت پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سمندر پار پاکستانیوں کی محنت مشقت کی کمائی سے بھیجے جانے والے زرِ مبادلہ کی قدر میں موجودہ شرح ِ تبادلہ کے سبب اضافہ ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر پاکستان میں تیس ارب ڈالرِ زرمبادلہ بھیجا جا رہا ہے اور روپے کی قدر میں دس فیصد کمی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ زرِ مبادلہ بھیجے جانے والوں کو روپے کی قدر میں کمی سے تین ارب ڈالر کا اضافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہر معاشی پالیسی کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ تو کچھ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے ۔‘‘ اس بیان میں روپے کی قدر میں کمی کے نتیجے میں لاکھوں سمندر پار پاکستانیوں کے مقابلے میں کروڑوں غیر سمندر پار پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تکالیف کو ’’ کچھ لوگوں کے نقصان ‘‘ کے قالین تلے دبانے کی کوشش پر میڈیا اور سوشل میڈیا میں گورنر اسٹیٹ بینک پر خاصی تنقید ہوئی مگر وہ آج بھی اپنے ’’ وچاروں ‘‘ پر بلا ترمیم قائم ہیں۔

تازہ ’’ ارسطوکاری‘‘ مشیرِ خزانہ شوکت ترین کی جانب سے سامنے آئی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے گفتگو میں فرمایا کہ پاکستان میں غربت سے بھی بڑا مسئلہ افراطِ زر کا ہے۔ آپ نے یہ بتانے کے بجائے کہ پاکستان میں شرح غربت اڑتیس سے چالیس فیصد کے درمیان جھول رہی ہے (جو کسی بھی خود دار قوم کے لیے قابلِ خفت بات ہے) یہ خوشخبری سنائی کہ عالمی بینک کے تازہ آنکڑوں کے حساب سے گزشتہ ایک برس کے دوران غربت کی شرح پانچ اعشاریہ چار فیصد سے کم ہو کر چار اعشاریہ دو فیصد ہو گئی ہے۔ ( یعنی ایک اعشاریہ دو فیصد کی کمی )۔ آپ نے فرمایا کہ دیہی علاقوں میں زبردست فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے سبب موٹر سائیکلوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ متوسط اور اوپری طبقے کے دن بھی پھرے ہیں۔ ریستوران بھرے پڑے ہیں۔ کاریں طلب میں اضافے کے سبب مہنگی ہو گئی ہیں۔

یہ وہی دلائل ہیں جو پرویز مشرف، شوکت عزیز اور خود شوکت ترین سن دو ہزار سے دو ہزار چھ تک کے زمانے کی ادھاری ببل اکانومی (غبارہ معیشت) کے ’’ سنہری دور ‘‘ میں دیا کرتے تھے۔ جب یہ غبارہ دو ہزار آٹھ میں پھٹا تو پھر ’’ نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا ‘‘ والا معاملہ ہو گیا۔ پرویز مشرف اور شوکت عزیز ہوا ہو گئے اور بھائی ترین بھی کئی برس تک تارہ بننے کے بعد دوبارہ بحفاظت لینڈ کر گئے کیونکہ ان سے بہتر فی الحال کون جانتا ہے کہ بھنوروں سے گھری معیشت کو بھنور سے کیسے نکالا جاتا ہے۔ گزشتہ تین برس میں ڈالر اوپن مارکیٹ میں ایک سو بیس روپے سے ایک سو اٹہتر روپے تک کیسے پہنچا ؟ اس بارے میں اعلیٰ حضرت ترین نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے ہمکلام ہوتے ہوئے براہِ راست تبصرے سے بوجوہ گریز کیا۔ بس کرنسی ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ڈالر اوپر جا سکتا ہے تو نیچے بھی آ سکتا ہے اور ڈالر پر کمند ڈالنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مجھے ہرگز ہرگز نہیں معلوم تھا کہ افراطِ زر غربت سے بڑا مسئلہ ہے۔ مجھے تو بس یہ معلوم تھا کہ جب درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اور پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھر لگژری کہلائے جانے والے آئٹمز سے لے کر روٹی تک ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے اور اس عمل کے دوران اگر آمدنی اور تنخواہ ساتھ نہ دے تو غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگر ’’ باقر و شوکت ڈاکٹرائن ‘‘ پر اعتبار کر لیا جائے تو سب اچھا ہے ، بہترین ہے ، کشل منگل ہے۔ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی کنزیومر پرائس انڈیکس کے ریکارڈ کا ہی ایکسرے کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ اگست دو ہزار اٹھارہ سے اکتوبر دو ہزار اکیس کے درمیان کاسٹ آف لیونگ ( زندہ رہنے کی قیمت) اوسطاً پینتیس فیصد بڑھی ہے۔ خوراک کے نرخوں میں گزشتہ اڑتیس ماہ کے دوران اڑتالیس فیصد ، صحت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بتیس فیصد ، آٹے کی قیمت میں انسٹھ فیصد، چینی کی قیمت میں اناسی فیصد، مرغی کے گوشت کی قیمت میں ایک سو اٹھارہ فیصد، خوردنی تیل کی قیمت میں نواسی فیصد ، دالوں کی قیمت میں تراسی فیصد ، انڈوں کی قیمت میں اکہتر فیصد ، تازہ دودھ کی قیمت میں تینتیس فیصد اور سبزیوں کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جولائی دو ہزار اٹھارہ سے قبل اسٹیج پر سے یہ کہا جاتا تھا کہ مہنگائی دراصل حکمرانوں کی کرپشن کا نتیجہ ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں عالمی سطح پر کوویڈ کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ پھر بھی ہمارے ہاں قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش سے اب بھی کم ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ گھبرانا نہیں ہے۔اچھے دن بس نکڑ پر کھڑے ہیں کے ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی تکیہ کلام میں جوڑ لیا جائے کہ میرے پاکستانیو !ہمارے ہاں غربت ضرور ہے مگر آج بھی صومالیہ ، چاڈ اور کانگو سے کم ہے۔ گذرے زمانوں میں حکمران بھیس بدل کر بازاروں میں حقیقی حالات کی ٹوہ لینے کے لیے گھومتے تھے۔ آج کے وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ اور مشیرانِ کرام بھی وقتاً فوقتاً بازاروں کا اچانک دورہ کرتے ہیں۔ مگر یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اچانک دورے کے باوجود میڈیا پہلے سے کیمرے لے کر کیسے کھڑا ہوتا ہے ، دکانوں پر نرخ نامے خود بخود لٹکنے کا چمتکار کیسے ہو جاتا ہے اور کاؤنٹرز کے پیچھے مستعد کھڑے دکانداروں کو ’’جی سر یس سر آپ درست فرما رہے ہیں ‘‘ کا ورد کون پروٹوکولی یاد کراتا ہے ۔

اور جیسے ہی اس اچانک دورے میں شامل شاہی قافلے کی لینڈ کروزرز کی لمبی قطار دھول چھوڑتی ہوئی آگے بڑھتی ہے تو یہی دھول لٹکے ہوئے نرخ ناموں اور عام آدمی کے ہونق چہرے پر دوبارہ جم جاتی ہے۔ اب تو ہفتہ وار کنزیومر پرائس انڈیکس بھی ماہانہ کر دی گئی ہے۔ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس اقدام سے دن وار مہنگائی سے پیدا ہونے والی مرگی سے عام آدمی کو بچایا جا سکے گا۔ ظاہر ہے یہ عام آدمی براہ راست بازار جانے سے پہلے کنزیومر پرائس انڈیکس پڑھ کے ہی شاپنگ کے لیے نکلتا ہے۔ ہر دکان دار کے پاس بھی اس انڈیکس کی مصدقہ کاپی ہوتی ہے۔ پہلے وہ اس پر نظر ڈالتا ہے اور پھر گاہک کو بتاتا ہے کہ آج دہی کی کیا قیمت ہے اور آٹا کس بھاؤ ہے۔ ایسا ہی ہے نا ؟

میں کن لوگوں میں رہنا چاہتا تھا
یہ کن لوگوں میں رہنا پڑ رہا ہے

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا ترک حزبِ اختلاف ایردوان کو ہرا سکتی ہے؟

ہمارے بعض صحافی صدر ایردوان کی مقبولیت میں بے حد کمی آنے اور سن 2023 کے صدارتی انتخابات میں صدر ایردوان کے کسی بھی صورت کامیاب نہ ہونے سے متعلق دعوے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں پر سب سے پہلے یہ عرض کر دوں کہ صدر ایردوان کو آج بھی ترکی کے تمام سیاسی رہنمائوں پر واضح برتری حاصل ہے اور کوئی بھی لیڈر آج تک ان کی مقبولیت کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ یہ بات درست ہے کہ صدر ایردوان کی مقبولیت میں عالمی حالات خاص طور پر کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ دو سال میں ملکی اقتصادیات پر پڑنے والے منفی اثرات اور مہنگائی کی وجہ سے کمی آئی ہے لیکن تمام منفی رجحانات کے باوجود اب تک ترکی کی سیاست میں کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جو صدر ایردوان کا مقابلہ کرتا دکھائی دے۔

ترکی میں 2023 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے صدر ایردوان کی جماعت’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ اور ان کے حلیف دولت باہچے کی جماعت ’’ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی‘‘ پر مشتمل ’’جمہور اتحاد‘‘ اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد جسے ’’ملت اتحاد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں’’ری پبلکن پیپلز پارٹی، گڈ پارٹی، سعادت پارٹی، ڈیموکریٹ پارٹی، دیوا پارٹی، فیوچر پارٹی اور کردوں کی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ عرض کر چکا ہوں عالمی حالات اور کوویڈ 19 کی وجہ سے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ترکی بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے اور مہنگائی نے ترک عوام کی کمر توڑ رکھی ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے سے ترکی جس تیزی سے ان تمام مشکلات پر قابو پاتے ہوئے حیرت انگیز رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے اس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور تمام عالمی اور اقتصادی ادارے ترکی سے متعلق آئندہ سال کے لیے ترقی کے تخمینوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کم و بیش تمام ہی عالمی مالیاتی اور اقتصادی اداروں نے ترکی کی سالانہ شرح نمو 6 فیصد سے بڑھ کر آئندہ سال نو فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ صدر ایردوان شرح ترقی کے دہرے ڈیجیٹ تک پہنچنے یعنی دس فیصد سے بھی زائد ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ اس دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی یونین کے رہنمائوں نے جس طریقے سے صدر ایردوان کو مظلوم مسلمانوں کی کھل کر حمایت کرنے پر نشانہ بنایا اور ترکی کی اقتصادیات کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کئے اس سے اگرچہ ترکی کی کرنسی ’’ٹرکش لیرا‘‘ پر منفی اثرات مرتب ہوئے، اس پر قابو پانے کیلئے صدر ایردوان نے اسٹیٹ بینک کے گورنروں کو اوپر تلے تبدیل بھی کیا لیکن ٹرکش لیرے کی قدرو قیمت کو ابھی تک کنٹرول نہیں کیا جاسکا ہے لیکن ترک عوام کو صدر ایردوان پر مکمل بھروسہ ہے اور یہی یقین اور بھروسہ صدر ایردوان کے 2023ء کے انتخابات میں کامیابی کاعندیہ بھی دیتا ہے کیونکہ ماضی کے تمام واقعات صدر ایردوان کی اس خصوصیت کو اجاگر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

کالم کے آخر میں صدر ایردون کے ’’جمہور اتحاد‘‘ اور حزبِ اختلاف کے ’’ملت اتحاد‘‘ کی کامیابی کے امکانات کو اعدادو شمار کے ذریعے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ پر صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔ حالیہ سروئیز کے مطابق حزبِ اختلاف کے ’’ ملت اتحاد‘‘ میں ری پبلکن پیپلز پارٹی کو 25 فیصد، گڈ پارٹی کو 10 فیصد، پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کو 10 فیصد، سعادت پارٹی کو ایک فیصد، دیوا پارٹی اور مستقبل پارٹی کو بھی ایک ایک فیصد سے زائد ووٹ ملنے کی توقع نہیں اور سب سے اہم بات اسی اتحاد میں کردوں کی قومیت پسند ’’پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی‘‘ اور ترکوں کی قومیت پسند پارٹی ’’گڈ پارٹی‘‘ کے درمیان دشمنی کی حد تک اختلافات موجود ہیں جسکے اثرات لازمی طور پر ان کے اتحاد پر مرتب ہونگے۔ اس اتحاد کو، اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو، 44 فیصد کے لگ بھگ ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ صدر ایردوان کے ’’جمہور اتحاد‘‘ کو اس وقت 48 فیصد کے لگ بھگ ووٹ ملنے کی توقع ہے، تاہم صدر ایردوان جو سیاسی حالات کو اپنے حق میں بدلنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے 2023ء تک ملک کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے، معیار زندگی بہتر بنا کر اور ترک لیرے کو مضبوط بناتے ہوئے بڑی آسانی سے کامیابی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں کیونکہ حزبِ اختلاف آپس کے اختلافات کی وجہ سے صدر ایردوان سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

ڈاکٹر فر قان حمید

بشکریہ روزنامہ جنگ

ن لیگ کا نیا بیانیہ

ن لیگ کے نواز شریف، مریم نواز گروپ نے اپنی حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی کر دی ہے۔ اس حکمت عملی کے مطابق باقی سب تو خاموش ہیں لیکن مریم نواز کی طرف سے موجودہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض کو کھلے عالم نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اب اسٹیبلشمنٹ کے کسی دوسرے فرد کا نام بھی نہیں لیا جا رہا بلکہ نواز شریف کی سپریم کورٹ کے ذریعے نااہلی، وزارت عظمی سے نکالے جانے، پاناما کیس اور اس کے نتیجے میں عدلیہ کی طرف سے میاں صاحب اور مریم کو دی جانے والی سزائوں اور پھر الیکشن سے پہلے مبینہ پولیٹیکل انجینئرنگ ہر چیز کا ذمہ دار صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا جا رہا ہے جس کا وہ بار بار نام بھی لے رہی ہیں اور ایک نیا بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ یہی فرد عمران خان کو لانے اور تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ پہلے تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن کے ذریعے جنرل فیض کا نام لے کر اپنے تمام الزامات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا اور پھر دوسرے یا تیسرے دن میڈیا سے بات کرتے ہوے اپنی پٹیشن میں لگائے گئے ان الزامات کو دہرایا بلکہ اُس سے بھی زیادہ کھل کرباتیں کیں جو تقریباً تمام ٹی وی چینلز پر چل بھی گئیں۔

یہی نہیں اب گزشتہ (ہفتہ کی) رات کو فیصل آباد میں پی ڈی ایم کے جلسہ میں ایک بار پھر مریم نواز نے ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنے نشانہ پر رکھا ۔ عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوے، اُنہیں ایک منتخب شدہ وزیر اعظم نہ مانتے ہوئے مریم نواز نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے صرف اور صرف جنرل فیض کا حوالہ دے کر بار بار یہ دہرایا کہ اس سب کی ذمہ داری اُسی ایک فرد پر ہے۔
اسی جلسہ میں سٹیج پر سے جنرل فیض استعفی دو کے نعرے بھی لگوائے گئے اور پھر آج اس مطالبہ کو ن لیگ کے سوشل میڈیا نے ٹاپ ٹویٹر ٹرینڈز میں شامل کر لیا۔ پہلے میاں صاحب اور مریم آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی دونوں کو تمام تر خرابیوں، اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، عمران خان کو اقتدار میں لانے اور ن لیگ کو ہرانے کا ذمہ داری ٹھہراتے رہے لیکن اس کے نتیجے میں ن لیگ کے خلاف بالعموم اور نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بالخصوص شدید ردعمل محسوس کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ نواز شریف اور مریم نواز نے فوج کے ادارے کو ہی نشانہ پر رکھ لیا! دونوں باپ بیٹی کے متعلق دفاعی ادارے میں انتہائی منفی تاثر زور پکڑ گیا۔

اگرچہ نواز شریف اور مریم نواز کی اس پالیسی سے ن لیگ کے کئی رہنما بشمول شہاز شریف متفق نہ تھے لیکن ذرائع کے مطابق نواز شریف نے بھی یہ محسوس کیا کہ فوجی قیادت کے دو انتہائی اہم افسران کا نام لے لے کر اُنہیں نشانہ بنانے کی پالیسی کا شاید پارٹی کو فائدے سے زیادہ نقصان ہو۔ شاید اسی وجہ سے اب ایک نیا بیانیہ بنایا جارہا ہے جس کا نشانہ صرف اور صرف جنرل فیض ہیں جو کہ عمران خان کے ممکنہ آئندہ سال تعینات ہونے والے نئے آرمی چیف ہو سکتے ہیں۔ اس نئے بیانیہ کا واضح مقصد یہ ہے کہ جنرل فیض کو اتنا متنازعہ بنا دو اور بار بار عوامی سطح پر اُن کے خلاف بات کرو کہ اُن کا اگلا آرمی چیف بننے کا چانس ہی باقی نہ رہے۔ ن لیگ کو اس بات کا پتا ہے کہ جنرل فیض پر جو جو الزمات لگائے وہ اُس وقت کے ہیں جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ نہیں بلکہ سیکنڈ ان کمانڈ تھے۔
یعنی اُن پر جو جو کچھ غلط کرنے کا الزام ہے اگر وہ سب اُنہوں نے کیا تو آیا خود سے کیا یا کسی کے حکم پر کیا؟ اگلے سال نومبر میں موجودہ آرمی چیف اپنی ایکسٹینشن کے تین سال پورے کر لیں گے۔

اُس وقت تک کیا ہوتا ہے اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہو گا کیوں کہ یہاں تو دنوں میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ن لیگ کے نئے بنائے جانے والے بیانیہ کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے فوج میں حالیہ تبدیلیوں کے نوٹیفیکیشن روکنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعہ سے تقویت ملی۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ حکومت کے اپنے نمائندوں نے ٹی وی چینلز پر آ کر اور کہہ کر پوری کر دی کہ عمران خان جنرل فیض کو ابھی آئی ایس آئی سے کہیں اور بھیجنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اپوزیشن خصوصاً ن لیگ اور مریم نواز نے اس بات کو بھی خوب اچھالا جس سے ایک تو عمران خان پر تنقید کی کہ وہ فوج کے ادارے کو سیاست زدہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا جنرل فیض کو نہ ہٹانے کی بات کو سیاست سے جوڑا۔ حکومت کی طرف سے جنرل فیض کو چند ماہ تک اسی ادارہ میں رکھنے کی وجہ افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں کی گئی۔ یہ بات سامنے آ چکی اور میری بھی یہ اطلاعات ہیں کہ جنرل فیض خود بھی آئی ایس آئی میں مزید نہیں رہنا چاہتے اور آئی ایس پی آر کے نوٹیفیکیشن کے مطابق جلد از جلد پشاور کور کو سنبھالنا چاہتے ہیں۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم جنہوں نے نوٹیفیکیشن روک کر ایک غیر ضروری تنازعہ کھڑا کیا اور اپنے اور فوج کے درمیان ایک کھنچائوکی صورتحال پیدا کر دی، آئندہ بدھ کو یعنی دو دن کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کر دیں گے۔ جب پاکستان کے حالات دیکھتا ہوں اور خراب معیشت اور انتہا لیول کی مہنگائی کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت پریشانی ہوتی ہے اور پاکستان کے مستقبل کے متعلق ڈر سا محسوس ہوتا۔ یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ سب سر جوڑ کر پاکستان کو ان مشکلات سے نکالنے او ر اس کے بہتر مستقبل کے لئے اپنے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں۔ اس کے لیے وزیر اعظم عمران خان کا کردار اہم ہو سکتا ہے لیکن وہ چور ،چور ڈاکو، ڈاکو اور این آر او نہیں دوں گا کے جنون سے ہی باہر نہیں نکل رہے۔ اور حالات ہیں کہ بد سے بدتر ہوئے جا رہے ہیں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رخصتی

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد وطنِ عزیز پاکستان کی جن اہم ترین شخصیات کو عوامی محبت و اکرام ملا، ذو الفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان میں ممتاز ترین اور سر فہرست حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض مقامی اور بین الاقوامی قوتوں نے دونوں شخصیات کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ عوام مگر دونوں کا دل و جاں سے احترام و اکرام کرتے رہے۔ دونوں کا ’’قصور‘‘ یہ تھا کہ ایک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اساس رکھی اور دوسرے نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم پاکستانی شخصیات کی موت اس حال میں ہُوئی کہ ایک پھانسی کے تختے پر اُس وقت جھول گیا جب ملک آمریت کے سائے تلے کراہ رہا تھا اور دوسرے نے ایسے حالوں میں موت کو لبیک کہا کہ اسپتال میں کوئی اہم ترین سرکاری شخصیت اُن کی تیمار داری اور پرسش کے لیے حاضر نہ ہو سکی۔ جی ہاں ، پاکستان کی یہ اہم ترین اور محترم ترین شخصیت اب ہمارے درمیان میں نہیں رہی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے خالق کے پاس حاضر ہو گئے ہیں۔ اُن سے پوری پاکستانی قوم کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام نے اُن کی بے مثل خدمات کے صلے میں انھیں ’’محسنِ پاکستان‘‘ کے لقب سے نوازا۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے چند ہفتوں سے خاصے بیمار تھے۔ کووِڈ 19کے اِس جاں سوز اورمہلک موسم سے وہ بھی متاثر ہُوئے تھے؛ چنانچہ اسپتال میں داخل کر دیے گئے تھے۔ پہلے اسلام آباد میں اور پھر راولپنڈی میں۔ درمیان میں کچھ دنوں کے لیے اُن کی صحت سنبھل بھی گئی تھی لیکن مکمل صحت کی جانب وہ لَوٹ نہ سکے۔ بسترِ علالت پر انھیں اس بات کا شدید رنج اور قلق تھا کہ کوئی ایک بھی اہم سرکاری اور غیر سرکاری شخصیت اُن کی عیادت کے لیے نہ آ سکی تھی؛ چنانچہ ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر سے انھوں نے اس بات کا بر ملا گلہ اور افسوس بھی کیا تھا۔ کسی حکمران نے فون کے ذریعے بھی اُن کا حال تک نہ پوچھا۔ ہماری سیاسی اور مقتدر شخصیات اس قدر بے حس ہو چکی ہیں کہ کسی اَن دیکھی طاقت سے خوف کھاتے ہُوئے بسترِ مرگ پر پڑے اُس شخص کا حال احوال پوچھنے سے بھی گریزاں رہیں جس نے پاکستان کو ہر قسم کے دشمنوں کی یلغار سے ہمیشہ کے لیے محفوظ و مامون بنا ڈالا۔

ڈاکٹر قدیر خان کی عیادت کے لیے نہ تو ہمارے صدر صاحب جا سکے، نہ وزیر اعظم صاحب اور نہ ہی کوئی اپوزیشن لیڈر۔ ڈاکٹر خان سے بے پناہ محبت کرنے والے عوام کو بھی اُن ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ سخت پابندیاں تھیں۔ وہ شدید تنہائی اور قید کے ماحول میں اپنے اللہ کے پاس پہنچے ہیں۔ اتنے بڑے احسانوں کی ایسی سزا؟ یہ تو کبھی انھوں نے اُس وقت سوچا بھی نہ ہو گا جب وہ ہالینڈ میں ایک شاندار ملازمت اور پُر آسائش زندگی کو تیاگ کر محض اپنے وطن کی کامل خدمت کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دشمنی اور مخالفت میں امریکی اور مغربی ممالک اور وہاں کے میڈیا نے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف بھرپور مہمات چلائیں لیکن وہ سب مل کر بھی پاکستانی عوام کے دلوں سے ڈاکٹر خان کی محبت ختم نہ کروا سکے ۔ ہمارے ملک کے نامور اخبار نویس اور ’’ایکسپریس‘‘ کے معروف کالم نگار جناب عبدالقادر حسن مرحوم جب تک حیات رہے، ہمیشہ ڈاکٹر خان کا ذکر اعلیٰ ترین الفاظ میں اور محبت سے کرتے رہے۔

عبدالقادر حسن صاحب مرحوم ہر اُس مقامی اور عالمی شخصیت اور ادارے کی بھی گوشمالی کرتے تھے جوتعصب سے مغلوب ہو کر ڈاکٹر خان کو ہدف بناتے تھے۔ اسلام آباد میں فروکش ممتاز صحافی جناب زاہد ملک مرحوم بھی ڈاکٹر خان کے سب سے بڑے حامی تھے۔ زاہد ملک صاحب نے تو ڈاکٹر خان کی شخصیت اور خدمات پر مبنی ایک ضخیم کتاب ( محسنِ پاکستان کی ڈی بریفنگ) بھی لکھی۔ اس تصنیف میں ڈاکٹر خان پر عائد کیے جانے والے متنوع الزامات کا شافی جواب بھی دیا گیا۔ اور یہ جناب مجیب الرحمن شامی کا جریدہ (قومی ڈائجسٹ) تھا جس نے پاکستان میں سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مفصل انٹرویو شایع کیا تھا۔ ویسے تو عالمی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام اور پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کے حوالے سے اُن کی شخصیت کی باز گشت عالمی میڈیا میں مسلسل سنائی دیتی رہتی تھی لیکن اس بازگشت میں اُس وقت بے پناہ اضافہ ہُوا جب ممتاز بھارتی صحافی، آنجہانی کلدیپ نئیر، نے بھارت سے اسلام آباد آ کر ڈاکٹر خان کا مفصل انٹرویو کیا۔ اسی تاریخی انٹرویو میں پہلی بار اعتراف اور اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔

یہ انٹرویو پاکستان کے ایک اہم صحافی ، جو اب مشہور سیاستدان بھی ہیں، کے توسط سے کیا گیا تھا۔ یہ انٹرویو بذاتِ خود ایٹم بم بن کر بھارت کے حواس پر گرا تھا۔ ساتھ ہی ساری دُنیا بھی ششدر رہ گئی تھی۔ کلدیپ نئیر نے اس انٹرویو اور ڈاکٹر خان سے ملاقات کا تفصیلی احوال اپنی سوانح حیات (بیانڈ دی لائنز) میں بھی کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ زیڈ اے بھٹو کے بعد ڈاکٹر خان پاکستان کی دوسری شخصیت تھے جن پر کئی غیر ممالک میں کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مغربی ممالک میں انھیں ایک پُر اسرار اور اساطیری کردار کی حیثیت میں بھی یاد کیا جاتا تھا۔ یہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی وطن سے شدید محبت اور محنت کا نتیجہ تھا کہ بالآخر اسلامی جمہوریہ پاکستان 28 مئی 1998 کو عالمِ اسلام کی پہلی جوہری طاقت بن گیا۔ برملا ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو دُنیا کی جوہری طاقتوں میں شامل کرنے کا یہ اعزاز جناب میاں محمد نواز شریف کا مقدر بنا۔ پوری پاکستانی قوم وہ دُکھی لمحہ نہیں بھول سکتی جب ڈاکٹر خان صاحب کو، پاکستان کے ایک آمر کے جبریہ دَور میں، پی ٹی وی پر اپنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ایسا اقدام کر کے شاید ہمارے حکمرانوں نے اپنی جان عالمی قوتوں سے چھڑا لی ہو لیکن ذلت کا یہ لمحہ پوری پاکستانی قوم آج تک فراموش نہیں کر سکی۔

اور وہ لمحہ بھی ہمارے لیے شرمناک ہی تھا جب ڈاکٹر خان اسلام آباد کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر بیٹھے، پاؤں میں معمولی سی چپل پہنے، ایک ٹی وی اینکر سے گفتگو کر رہے تھے۔ جبر کا یہ عالم تھا کہ محسنِ پاکستان کا چہرہ پاکستان کے کسی ٹی وی پر دکھایا جا سکتا تھا نہ اُن کی گفتگو سنائی جا سکتی تھی۔ اپنے محسنوں سے کوئی ایسا بھی کرتا ہے؟ لیکن ہمارے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں نے یہ انہونی بھی کر کے دکھا دی۔ اس جبریہ اور قہریہ ماحول میں محض سانسیں لیتے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ شاید زیادہ دنوں تک زندہ نہ بچ سکیں؛ چنانچہ انھوں نے ایک معاصر میں خود ہی اپنے بارے میں یہ الفاظ شایع کروا دیے تھے :’’میری وفات کے بعد پورے پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی کوچے میں آپ لوگوں نے میرے لیے جنازہ پڑھنا ہے اور دعائے مغفرت کرنا ہے‘‘۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اللہ کریم اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ ( آمین )۔

تنویر قیصر شاہد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

عمر شریف کو کس کا ڈر تھا؟

لندن کی ایک سرد اور حسین شام تھی۔ ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کے ولیمے کی تقریب تھی اور کراچی سے آئے ہوئے عمر شریف کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ ان کے خوف سے پسینے چھوٹ رہے تھے اور وہ میرا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ الطاف بھائی سے ذاتی تعلق کبھی نہیں رہا، کراچی میں تھے تو صحافت ان کی دھمکیوں کی زد میں رہتی تھی۔ ان کی پریس کانفرنس میں بھی سرجھکا کر بیٹھتے تھے کہ کہیں نظر میں نہ آ جائیں۔ افطار کی دعوت پر بہانہ کر دیتے تھے اور جب ان کے لڑکے فون پر گالی دے کر کہتے تھے تمھارے دفتر کا پتہ ہے تو دفتر کو تالا لگا کر گھر چلے جاتے تھے۔ لیکن لندن میں جب ان کے ولیمے کا کارڈ ملا تو ساتھیوں نے کہا صحافت اور سیاست گئی بھاڑ میں، ہم کراچی والے ولیمہ تو دشمن کا بھی نہیں چھوڑتے۔ سب نے اپنے ریشمی پاجامے نکالے اور بچوں سمیت بدھائی دینے پہنچ گئے۔ محل نما شادی ہال میں سیکیورٹی بہت زیادہ تھی۔

ہال کے اندر داخل ہو کر باہر جانے کی ممانعت تھی۔ سگریٹ پینے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ایک بزرگ کے مشورے اور معاونت سے ایک بازو والا دروازہ ڈھونڈا اور اس میں پیر پھنسا کر آدھے اندر اور آدھے باہر ہو اپنی علتیں پوری کرنے لگے۔ ایک گاڑی آ کر رکی اور اس میں سے عمر شریف برآمد ہوئے۔ میرے اندر ایک دم وہ احترام جاگا جو کسی بڑے سیلبرٹی یا خاندانی بزرگ کو دیکھ کر جاگ جاتا ہے۔ میں نے سگریٹ بجھائی، آگے بڑھا اور جھک کر پھر نجانے کیوں عمر بھائی کہہ کر سلام کیا۔  ویلکم ٹو لندن عمر بھائی۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا، ادھر ادھر دیکھا، ان کے ہاتھ پسینے سے شرابور تھے۔ انھوں نے کہا مجھے بھائی کے پاس لے چلو اور دیکھو میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔ میں نے بتانے کی کوشش کی کہ میں الطاف بھائی کا لڑکا نہیں، میں خود ایک مہمان ہوں۔ انھوں نے کہا جو کوئی بھی ہو سٹیج تک میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔

میں نے کراچی میں میڈیا کے سیٹھوں سے لے کر ایم کیو ایم کے منحرفین میں سب کو الطاف حسین سے خوفزدہ ہوتے دیکھا تھا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سٹیج پر کھڑے ہو کر ہر طاقتور کی کراچی کی زبان میں پتلون اتارنے والا عمر شریف بھی کسی سے اتنا خوفزدہ ہو سکتا ہے۔ پھر ایک ساتھی نے سمجھایا کہ عمر شریف کراچی کا جم پل تھا اس کی زبان، اس کا فن اس کے لطیفے، اس کی جگتیں کراچی کے غریب محلوں کی گلیوں میں گندھی ہوئی تھیں۔ پھر وہ اپنی شہرت کے عروج پر کراچی چھوڑنے کو کیوں مجبور ہوا۔ ایک زمانے میں کراچی سے باہر رہنے والے شاید شہر کو دو لوگوں کی وجہ سےجانتے تھے ایک الطاف حسین اور دوسرا عمر شریف۔ ایک اپنے ایک حکم سے شہر بند کروا دیتا تھا اور دوسرا ایک ایسا ڈرامہ لکھتا کہ مہینوں کھڑکی توڑ رش لیتا تھا۔ ہر بڑے کامیڈین کی طرح عمر شریف کا مزاح بھی کراچی کے حالات کی پیداوار تھا۔

اب شہر کا سب سے مشہور فنکار شہر کے سب سے بڑے سیاسی فنکار کا مذاق نہیں اڑا سکتا تو کیا کرتا۔ کچھ امن عامہ کے مسائل بھی تھے لیکن اگر آپ کراچی کے سٹیج پر چڑھ کر ایم کیو ایم کا مذاق نہیں اڑا سکتے، الطاف حسین کی نقل نہیں کر سکتے، تو پھر اس شہر کو چھوڑنا اچھا۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت کم فنکار ہوں گے جنھوں نے ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں اپنا مقام بنایا ہو۔ لاہور میں لالو کھیت کے مزاح کو کون سمجھتا۔ اس لیے انھوں نے پنجابی سیکھی، پنجابی کامیڈی کی کئی صنفوں کو اپنے ڈراموں میں لیا اور خود اپنا تھیٹر کھول کر کئی سال تک جلاوطنی میں رہ کر خود اپنے آپ پر ہی ہنستے رہے اور پنجابیوں کو ہنساتے رہے۔ یہ کام انھوں نے قومی یکجہتی کا درس دینے والی حکومت کی سرپرستی میں نہیں کیا اور نہ ان کے پیچھے کوک سٹوڈیو جیسا محب وطن کاروباری ادارہ تھا۔

اپنے فن کے بل بوتے پر اور اسی عوام کے ساتھ جو سو دو سو روپے کا ٹکٹ خرید کر دو گھنٹے کے لیے اپنے دکھڑے بھلانا چاہتے تھے۔ الطاف بھائی کا ولیمہ عمر شریف کے لیے دشمنوں کے درمیان ایک شام کا منظر تھا۔ پاکستان کا ہر بڑا فنکار موجود تھا اور الطاف بھائی کی نظر پڑنے سے پہلے یہ بتانا ضروری تھا کہ وہ خود اپنے پلے سے ٹکٹ لے کر بھائی کی خوشیوں میں شریک ہونے آیا ہے۔ (الطاف بھائی شاید پہلے سیاستدان تھے جن کی غائبانہ تقریب ولیمہ چوبیس ملکوں میں منائی گئی)۔ عمر شریف نے الطاف بھائی کو شادی کی مبارکباد دی، پھر شادی کے بارے میں کچھ گھسے پٹے لطیفے سنائے اور کسی اور کا ہاتھ پکڑ کھسک لیے۔ کراچی کا سب سے بڑا فنکار عمر شریف چلا گیا۔ کراچی کا دوسرا بڑا فنکار خود ایسا گھسا پٹا لطیفہ بن چکا ہے کہ اس کا غائبانہ ولیمہ کھانے والے بھی نہیں ہنستے۔

محمد حنیف

بشکریہ بی بی سی اردو

عوامی مسائل اور جماعت اسلامی کی جدوجہد

جماعت اسلامی ملک کی ایک قدیم جماعت ہے، اس جماعت کی تنظیم آزاد کشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں موجود و فعال ہے۔ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے اور عوام تک اپنا نام و کام پہنچانے میں اسے ملکہ حاصل ہے۔ اسے جہاں بین الااقوامی ایشوز اُٹھانے میں مہارت حاصل ہے وہاں یہ ملکی و عوامی مسائل جن کیلئے جدوجہد دیگرتمام جماعتوں کیلئے بےمعنی ہے، ہر وقت سرگرم رہتی ہے، راقم کے نزدیک جماعت اسلامی کو دیگر مذہبی جماعتوں پر اس لئے بھی فوقیت حاصل ہے کہ یہ جماعت دیگر مذہبی جماعتوں کی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کو کفر قرار نہیں دیتی، اگرچہ جدید تعلیم کو شجرممنوعہ قراردینے والی جماعتیں پوچھے جانے پر اس سے انکار کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر عالم یہ ہے کہ ان کے مکتب و مدرسوں میں جدید تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں، د یگر مذہبی جماعتوں کے مقابل اپنے اس امتیازی وصف کی وجہ سے جماعت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں ۔

جماعت اسلامی کا قیام 1941ء میں سید مودودیؒ کے اُن دعوتی مضامین کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا، جن کی اشاعت 1938 اور 1939 میں ان کے ماہنامے ترجمان القرآن میں ہوئی تھی۔ ان مضامین میں جماعت اسلامی کے قیام کے اغراض و مقاصد یعنی نصب العین کا اجمال ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار 1951 میں کراچی کے اجتماع میں جماعت کے لائحہ عمل کو امیر جماعت اسلامی سید مولانا مودودیؒ نے ایک تقریر کے ذریعے واضح کیا، یہ ایک پمفلٹ کی صورت میں ’مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے نام سے موجود ہے۔ اُنہوں نے اسی تقریر میں جماعت کے مقصد و نصب العین کے چاربنیادی نکات بتائے۔ تطہیر و تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت، اصلاح کی سعی (اصلاح معاشرہ)، نظام حکومت کی اصلاح۔ اس کے بعد 1956 میں جماعت اسلامی کے ایک اہل رائے طبقے کی یہ تجویز سامنے آئی کہ ہمیں اپنی قوتیں سیاسی میدان میں جھونکنے کی بجائے عام معاشرے کی اصلاح، دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کے کام میں ہمہ تن مصروف ہو جانا چاہیے۔

اس طرح جیسے جیسے معاشرے کی اصلاح ہوتی جائے گی، سیاسی حالات خود بخود تبدیل ہوتے جائیں گے اور عملی میدان میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی جائے گی۔ اس اختلاف رائے کا جائزہ لینے اور جماعت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور جماعت کی پالیسی بنانے کے لئے شوریٰ کی ایک ’’جائزہ کمیٹی‘‘ بنا دی گئی، بہرحال 17 تا 21 فروری 1957 کو ماچھی گوٹھ میں اجلاس کے دوران دو مخالف سوچ کے حامل زعما آمنے سامنے تھے، مولانا مودودی اوران کے ہم خیال اصحاب نے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر زور دیا اور ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا امین اصلاحی صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کیلئے کام پر اصرار کیا، ارکان جماعت نے بہرحال مولانا مودودی کی رائے پر صاد کیا، یوں انتخابی سیاست جماعت اسلامی کی مستقل حکمتِ عملی قرار پا گئی۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور مولانا امین اصلاحی صاحب اور ان کے ہمنوا جماعت سے علیحدہ ہو گئے جن میں بڑی تعداد واپس آگئی تاہم جماعت سے علیحدگی کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنے آپ کو مکمل طور پر علمی اور فکری سرگرمیوں تک محدود کر لیا جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے علمی اور فکری سرگرمیوں کے علاوہ عملی جدوجہد بھی جاری رکھی۔

آج ہم سے زیادہ جماعت ہی بہتر جانتی ہے کہ موجودہ دور میں معاشرے کو اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے یا اسمبلی کی اُن نشستوں کی، جو جماعت حاصل کر پاتی ہے کیونکہ ماسوائے اُن انتخابات میں جن میں بڑی جماعتوں کو بہ وجودہ انتخابات سے دور رکھا گیا ہو، یا بڑی جماعتوں نے حصہ نہ لیا ہو اس جماعت کو کبھی قابلِ رشک کامیابی نہیں ملی۔ موضوع کراچی کے مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کا کردار و جدوجہد تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہم ان سطورمیں اکثر یہ بین کرتے رہتے ہیں کہ مہنگائی کی عفریت، بے روزگاری کی سفاکی، بیماری کی بے رحمی سمیت اُن ان گنت عوامی مسائل پر وہ سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک قدم حرکت نہیں کر پاتیں جن کا براہ راست تعلق نہ صرف یہ کہ عوام سے ہے بلکہ ان کے اُن غریب سیاسی کارکنوں سے بھی ہے جن کی وجہ سے ان کا کاروبارِ سیاست رواں دواں ہے۔

جو سیاسی ومذہبی رہنما آئے روز اپنے کارکنوں بلکہ مکتب و مدرسے کے بچوں تک کو سڑکوں پر گھنٹوں کھڑا رکھتے ہیں اور ہفتہ وار بنیاد پر اپنے جلسوں، لانگ مارچوں اور دھرنوں کیلئے کارکنوں کو برسرپیکار رکھتے ہیں وہ متذکرہ مسائل جن سے ان کے یہی جان نثار بھی دیگر لوگوں کی متاثر ہیں، کے حل کیلئے کوئی دھرنا، لانگ مارچ یاجلسہ نہیں کرتے، ایسے ذات و جماعت پرور ماحول میں جماعتِ اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جوعوامی مسائل کے حل کی جدوجہد میں ممتاز ہے۔ان دنوں جماعت اسلامی حقوق کراچی مہم چلا رہی ہے، جس کے تحت مردم شماری ، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، پانی کی قلت، بجلی کی بندش کیخلاف بڑی شاہرائوں پر ریلیوں سمیت ان مسائل سے متعلق مرکزی دفاتر پر دھرنے بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت اسلامی ہی ہے جو مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہے، نظریاتی و فکری اختلاف کے باوجود میرے نزدیک صرف جماعت اسلامی مہنگائی سمیت عوامی مسائل اُٹھانے کی وجہ سے یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ ملکی عوام بالخصوص غریبوں کی حقیقی ترجمان ہے۔

اجمل خٹک کثر

بشکریہ روزنامہ جنگ

میڈیا کو کنٹرول کرنے والا متنازع قانون

برصغیر پاک و ہند میں صحافت کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے منحرفین نے اخبار شایع کرنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ کمپنی کے افسروں کے مفاد میں نہیں تھا اس لیے کلکتہ کی انتظامیہ نے وہ کوشش ناکام بنادی، تاہم بعد میں کمپنی کے ایک سابق سر پھرے ملازم جیمس آگسٹ ہکی نے اپنا اخبار شایع کر ہی لیا مگر اسے مستقل انتظامیہ سے لڑائی کا سامنا رہا اور بالآخر وہ اخبار بند ہو گیا اور ہکی کو جیل جانا پڑا۔ مقامی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں جیل بھیج دیا مگر ہکی صاحب جیل سے اخبار شایع کرتے رہے۔ پوسٹ آفس والوں نے ہکی گزٹ کی تقسیم روک دی تو ہاکروں کا انتظام کیا مگر چیف جسٹس سے معرکے کے بعد برصغیر کا پہلا اخبار بند ہو گیا۔ ہکی نے کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر پھر انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں اخبارات شایع ہونے لگے۔ یہ اخبارات کلکتہ کے علاوہ ہندوستان کے مختلف شہروں سے شایع ہوئے۔ اس وقت تک اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قانون نہ تھا، اب کمپنی کی حکومت کو تشویش ہوئی لہٰذا اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے 1822 میں پہلی مرتبہ پرمٹ کا قانون نافذ کر دیا گیا۔

اس قانون کے تحت اخبار کے اجراء کے لیے پرمٹ لازمی قرار پایا اور اخبار کو شایع ہونے سے پہلے سنسر کرنا ایڈیٹر کی قانونی ذمے داری قرار پائی۔ راجہ رام موہن رائے پہلے سوشل ریفارمر تھے، وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز حکومت سے متاثر تھے اور کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تھے، وہ کمپنی کے افسروں کے اس بیانیے پر یقین رکھتے تھے کہ انگریز ہندوستان کے عوام کی بہتری کے لیے آئے ہیں اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں میں برطانیہ کے شہریوں اور ہندوستان کے شہریوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے لیے اخبار کی اشاعت کے لیے پرمٹ اور سنسر کے بعد اخبار شایع کرنے کی شرط ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے برابر ہے کیونکہ برطانیہ میں اخبار کے اجراء کے لیے کسی قسم کے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اخبارات کو سنسر کرتی ہے۔ راجہ صاحب نے پرمٹ کے قانون کے خلاف حکام سے اپیل کی اور مقامی عدالتوں سے انصاف طلب کیا، جب ہندوستان میں انھیں انصاف نہ ملا تو کسی دانا شخص نے مشورہ دیا کہ وہ لندن جاکر پریویو کونسل میں اپیل دائر کریں۔

اس وقت بحری جہاز سے برطانیہ جانے میں 9 ماہ کا عرصہ لگ جاتا تھا اور بحری سفر میں خاصی مشکلات بھی پیش آتی تھیں مگر راجہ صاحب کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ بحری جہاز کے ذریعے لندن گئے اور کونسل میں مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان کی عرض داشت اس نکتہ پر مسترد کر دی گئی کہ برطانیہ میں رائج قوانین کا ہندوستان میں اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ ہندوستان کے شہری برطانیہ کے غلام ہیں۔ راجہ صاحب برطانوی عدالتوں کے فیصلوں سے اتنے مایوس ہوئے کہ انھوں نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ پرمٹ لینے اور اخبار کو افسروں سے سنسر کرا کے شایع کرنے سے بہتر ہے کہ اخبار ہی بند کر دیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے قیام کے بعد سے میڈیا کے بحران کو بڑھانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور واپس لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اس آرڈیننس کے تحت اس میڈیا اتھارٹی کے دائرہ کار میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی شامل ہوں گے۔

پریس کونسل پیمرا سمیت پہلے سے قائم تمام ادارے ختم ہو جائیں گے، اس میڈیا اتھارٹی کی ہیئت کچھ یوں ہو گی کہ اس کے چیئرمین اور ممبران کا تقرر وزیر اعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کریں گے۔ اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ان اراکین کا تعلق سول سوسائٹی سے ہو گا مگر سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان اراکین کو نامزد نہیں کریں گی بلکہ وزارت اطلاعات ان اراکین کو تلاش کرے گی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری کی تیار کردہ یہ فہرست وزیر اعظم کی منظوری سے صدر کو پیش کی جائے گی، جن کی منظوری سے چیئرمین اور اراکین کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔ اس قانون کے تحت اتھارٹی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عام طور پر خود مختار ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر میڈیا اتھارٹی کی ہیئت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی طور پر یہ اتھارٹی حکومت کی نگرانی میں فرائض انجام دے گی۔ اس اتھارٹی کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ فلم ڈائریکٹوریٹ کام کریں گے۔

الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی صوبائی اور قومی سطح پر الگ الگ لائسنس لینے ہوں گے۔ اس قانون کے تحت ہر میڈیا ہاؤس کو اپنے اخبار، ریڈیو ، ٹیلی وژن چینل اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے لائسنس کی ہر سال تجدید کرانا ہو گی۔ ڈیجیٹل میڈیا کو بھی انٹرٹینمٹ، اسپورٹس نیوز، ٹورازم اور اس طرح کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک فرد صرف ایک شعبے کے لیے یوٹیوب چینل کا لائسنس حاصل کر سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس فیس ہو گی اور کہیں ایسا مواد چلانے کی اجازت نہیں ہو گی جس میں صدر پاکستان، مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید ہو رہی ہو۔ قانون کے تحت شکایات کونسل قائم کی جائیں گی جس کے دفاتر اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایڈوائزری کونسل کا قیام بھی عمل میں آئے گا جس کے 8 اراکین ہوں گے جن میں سے 4 ارکان سرکاری افسر ہوں گے۔

اس ایڈوائزری کونسل کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے اور اس کونسل کو شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر کسی اخبار، ٹی وی چینل کے علاوہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہو گا۔ کونسل یہ کارروائی ایسے مواد کے شایع یا نشر کرنے پر کرے گی جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو اور جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا جو فحاشی پھیلائے گا تو ایسی صورتوں میں اپیلٹ کورٹ کے طور پر صدر ایک ٹریبونل قائم کریں گے۔ یہ ٹریبونل میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گا اور ویج بورڈ پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا، اس قانون کے تحت کوئی متاثرہ شخص ہائی کورٹ سے داد رسی حاصل نہیں کر سکے گا، صرف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا اور اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر میڈیا پرسنز کو 3 سے 5 سال تک کی سزا دی جاسکے گی۔

ماضی میں جنرل ایوب خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قوانین اور برطانوی ہند کے نافذ کردہ قوانین کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1963 میں ضم کر دیا تھا۔ آزادئ صحافت پر تحقیق کرنے والے محققین نے اس کو سیاہ قانون قرار دیا تھا۔ اس قانون کے خلاف اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس، ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای اور صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے مشترکہ جدوجہد کی تھی، یہ صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی پہلی مشترکہ جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں پورے ملک میں اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی تھی، جنرل ایوب خان کی حکومت کو پہلی دفعہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑی تھی اور حکومت نے تمام تنظیموں کے نمایندوں سے مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں ایڈیٹر کی آزادی ختم کرنے والی بعض شقیں ختم کرنی پڑی تھیں مگر صحافتی تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں سن 1988 میں قائم مقام صدر غلام اسحاق خان کے دور میں یہ سیاہ قانون ختم ہوا تھا۔ بعض سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے میڈیا انڈسٹری میں سرمایہ کاری رک جائے گی اور میڈیا ہاؤس آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کے مطابق بنیادی فریضہ پورا نہیں کر سکیں گے، جس کا مجموعی نقصان جمہوری نظام کو ہو گا۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز