بلاول کو اربوں، ورثے میں ملے یا تحائف ؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے ڈیڑھ ارب روپے مالیت کے اثاثے ظاہر کر دیئے۔ آئندہ عام انتخابات کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنے اثاثوں کی دی گئی تفصیل کے مطابق بلاول ملک اور بیرون ملک تقریباً دو درجن جائیدادوں کے مالک ہیں۔ ان کے علاوہ 23 غیر منقولہ اثاثے جن میں شیئرز، دبئی اور لندن میں بینک اکائونٹس شامل ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے اثاثوں کی قیمت ظاہر کی ہے ۔ مثال کے طور پر کلفٹن کراچی میں بلاول ہاؤس کی قیمت 30 لاکھ روپے دکھائی گئی ہے ۔ اسی طرح پاک لین اسٹیٹس میں شیئرز کی مالیت 9 لاکھ روپے بتائی جو سنگجیانی اسلام آباد میں اربوں روپے کی 2460 کنال اراضی کی مالک ہے ۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت حلف نامہ ہی داخل نہیں کرایا، جس کی وجہ سے معلوم نہ ہو سکا کہ گزشتہ تین سال کے عرصہ میں انہوں نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا ہے ۔

بلاول کی زیادہ تر جائیداد والدین یا دادا یا نانا کی جانب سے تحفہ کی شکل میں ظاہر کی گئی ہے ۔ بلاول کی جو جائیداد پاکستان میں اور اس کی قیمت کچھ یوں ہے (1) بلاول ہائوس، ڈی۔ 30 ، کلفٹن کراچی (تحفہ ) مالیت 30 لاکھ روپے۔ (2) ڈی۔ 33 ( 1027 مربع گز ) اسکیم۔ 5 کلفٹن، ایک تہائی حصہ۔ قیمت 22 لاکھ روپے۔      (3) پشاور میں مکان۔ ایک تہائی حصہ خود ملکیت ، قیمت 62 لاکھ روپے۔ (4) مکان نمبر۔ ایک، اسٹریٹ۔ 85 ۔ جی 4 / 6 ۔ اسلام آباد۔ ( 5) بنگلہ نمبر ۔ 158 ۔ سی ماڈل ٹائون لاہور۔ ایک تہائی حصہ ، خود ملکیت۔ ( 6) اپارٹمنٹ جی 1 / 7 اسلام آباد ( تحفہ ) قیمت 12 لاکھ روپے۔ ( 7 ) ایم ۔ 05 ، میزو نائن فلور، جی 1 / 7 اسلام آباد ( تحفہ ) ۔ قیمت 14 لاکھ روپے۔ ( 8) بیسمنٹ 502 مربع گز جی۔ 1 / 7 اسلام آباد   ( تحفہ ) قیمت 52 لاکھ روپے، ( 9 ) اپارٹمنٹ جی 1 / 7 اسلام آباد ( تحفہ ) قیمت 14 لاکھ روپے۔ ( 10) 90 ۔ کلفٹن کراچی، 50 فیصد کا ایک تہائی حصہ ۔11 زرعی اراضی پریتم آباد، سانگھڑ سندھ دادا کا تحفہ )، قیمت 6 لاکھ 80 ہزار روپے۔ ( 12) 181 ایکڑ زرعی اراضی، دیہہ بھٹہ۔ لاڑکانہ رتوڈیرو ( ماں سے وراثت میں تحفہ ) قیمت 21 لاکھ روپے۔ ( 13) 33 ایکڑ زرعی اراضی دیہہ سالار، تعلقہ رتوڈیرو لاڑکانہ ( ماں کی طرف سے تحفہ ) قیمت 11 لاکھ روپے۔ ( 14) 0.37 گنٹا زرعی اراضی دیہہ بھانڈو رتوڈیرو، شکارپور روڈ ، قیمت 10744 روپے۔ ( 15) 13.2 ایکڑ اراضی دیہہ پنجو ابڑو رتوڈیرو، وراثت میں ملی۔ ( 16) وراثت میں ملی 3.1 ایکڑ ارضی نوڈیرو لاڑکانہ۔ ( 17) ماں سے وراثت میں ملی لاڑکانہ میں 2.2 ایکڑ اراضی۔ ( 18) 240 ایکڑ زرعی اراضی کا 15 فیصد جھانڈو مری ٹنڈو الہہ یار ۔ 5 لاکھ 25 ہزار 750 روپے ( 19) 12 ۔ ایکڑ زرعی اراضی تعلقہ چمبر، 10 لاکھ روپے اور ( 20) 17.10 ایکڑ اراضی دیہہ۔ 23 نوابشاہ قیمت 447388 روپے،

بلاول نے پاکستان سے باہر دو غیر منقولہ جائیدادیں ظاہر کی ہیں، لیکن ان کی قیمت نہیں بتائی۔ ( 1) جمیرہ ۔ دبئی میں ولا نمبر۔ 11 میں 33 فیصد حصہ، قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔ ( 2) ولا نمبر۔ 34 میں 37.5 فیصد حصہ الصفاء۔ 2 دبئی قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔ بلاول نے دو کمپنیوں میں سرمایہ کاری ظاہر کی ہے۔ ( a) زرداری گروپ کراچی میں 21 ہزار روپے مالیت کے شیئرز ( دادا کا تحفہ ) ( b) پارک لین اسٹیٹس کراچی میں 9 لاکھ روپے مالیت کے شیئرز ( والد کا تحفہ ) ان کمپنیوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ کئی سال قبل دی نیوز کی ایک خبر کے مطابق پارک لین اسٹیٹس کی ملکیت 2460 کنال اراضی شنگجیانی اسلام آباد دکھائی گئی تھی، جو 1990 کی دہائی میں ( نیب کیس میں ) مبینہ طور پر آصف علی زرداری کے فرنٹ مین کی ملکیت ظاہر کی گئی تھی۔

بلاول کے اعلان کے مطابق ان کے پاس کوئی کار نہیں ہے۔ 12 لاکھ روپے مالیت کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس ہیں۔ 4 کروڑ 90 لاکھ روپے نقد اور 5 مختلف بینکوں میں 98 لاکھ، 39 لاکھ، ایک لاکھ دو ہزار 566 ایک ہزار اور 33334 روپے کے اکائونٹس ہیں۔ بلاول نے بیرون ملک 23 منقولہ اثاثے ظاہر کئے ہیں، جن میں ( 1) 77 لاکھ روپے کا قرضہ ٹیمپو گلوبل گروتھ دبئی ۔ (2 ) 12 کروڑ 50 لاکھ روپے قرض ریڈئنٹ انوسٹمنٹ سروسز دبئی۔ ( 3) 6 کروڑ 80 لاکھ روپے کا قرض رائل پراپرٹیز انٹرنیشنل دبئی کو۔ ( 4) 6 کروڑ 10 لاکھ روپے یونین نیشنل بینک، ایس زیڈ آر دبئی برانچ۔ ( 5) یونین نیشنل بینک دبئی ایس زیڈ آر برانچ میں جمع تین کروڑ 60 لاکھ روپے۔ ( 6) وکڑی انٹر پرائز یوکے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے کا قرض۔ ( 7) دبئی میں بیمہ پالیسی میں 28 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ( 8) دبئی میں ایک اور انشورنس پالیسی میں 90 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری۔ ( 9) اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک دبئی میں جمع 66 لاکھ روپے۔ ( 10) اسی بینک میں 60 لاکھ روپے ٹرم ڈپازٹ، ( 11) موروثی رقم سے یونین نیشنل بینک دبئی میں 5 لاکھ روپے سیونگ اکائونٹ۔ ( 12) 20 لاکھ روپے کا اسی بینک میں ایک اور سیونگ اکائونٹ۔ ( 13) 60 لاکھ روپے سے اسی بینک میں ایک اور کھاتہ۔ ( 14) دبئی میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے نقد موجود۔ ( 15) ٹیمپو گلوبل 16 لاکھ روپے کے شیئرز،     ( 17 ) وکٹری انٹر پرائز یوکے میں 526 روپے کے شیئرز۔ ( 18) ٹیمپو گلوبل گین میں 14 لاکھ روپے مالیت کے شیئرز۔ ( 19) ریڈنیڈنٹ انوسٹمنٹ سروسز دبئی میں ماں کی طرف سے تحفہ 13 لاکھ روپے مالیت کے شیئرز۔ ( 20) ٹیمپو گلوبل دبئی میں 87514 روپے کے شیئرز۔ (21) رائل پراپرٹیز انٹرنیشنل دبئی میں 87514 روپے ہی کے شیئرز۔ ( 22) ٹیمپو گلوبل گین ہی کو 27 کروڑ 30 لاکھ روپے کا قرض۔ ( 23) دبئی میں زیورات کے دس سیٹ، 9 شرٹ کف لنکس، سات گھڑیاں اور لیپ ٹاپ وغیرہ، پاکستان میں بلاول نے 25 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر اور دیگر ذاتی اشیاء ظاہر کیں۔ اس کے علاوہ 30 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ، 5 لاکھ روپے مالیت کا لیپ ٹاپ اور موبائل سیل فون، 17 لاکھ روپے قابل وصولی اور پونے تین لاکھ روپے مالیت کے زرعی آلات ہیں، بلاول کے ظاہر اثاثوں کی مجموعی مالیت ڈیڑھ ارب روپے ہے۔

انصار عباسی

Advertisements

تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف اس وقت ایک سیاسی قوت بن کر سامنے آگئی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بعد مسلم لیگ ن کا مقابلہ کرنے والی کوئی سیاسی جماعت ہے تو وہ تحریک انصاف ہے۔ سندھ کی بات کی جائے تو وہاں بھی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف سامنے آگئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد ظاہری بات ہے کہ پی ٹی آئی صف اول میں شامل ہو گئی ہے لیکن بلوچستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں۔ چاروں صوبوں کی سیاسی صورتحال دیکھتے ہوئے آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آرہی ہے اور تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث وہ سیاست دان جو اپنے سیاسی ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں، اب تحریک انصاف میں جگہ بنارہے ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے سونامی جلسوں کو دیکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں یہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ پی ٹی آئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس وقت پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ کو بھی حتمی شکل دیدی تھی۔

اس وقت کے تجزیئے اب بھی کیے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی پوری کابینہ تشکیل دیدی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کو وزیراعظم، اسد عمر کو فنانس منسٹر، فواد چوہدری کو اطلاعات، شفقت محمود کو دفاع، مراد سعید کو آئی ٹی، فیصل جاوید کو انرجی اور پرویز خٹک کو تجارت کے قلم دان تک سونپ دیئے گئے ہیں۔ اور تو اور شاہ محمود قریشی کو پنجاب، اسد قیصر کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلی بھی چن لیا گیا ہے اور ایک لمبی بحث اس موضوع پر جاری ہے۔ لیکن اس وقت تحریک انصاف کو بڑا چیلنج ٹکٹوں کی تقسیم کا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد بڑے باغی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کو دیکھتے ہیں ہواؤں کا رخ دیکھنے والے سیاستدانوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ماضی کی طرح اس بار بھی تاریخ کو دوہرایا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن حکومت کی کشتی کے سوار ایک ایک کر کے جانے لگے، جانے والوں کی اکثریت نے تحریک انصاف کو اپنا اگلا ٹھکانہ بنایا۔

خیبرپختونخوا میں بھی کئی لوگ پیپلزپارٹی، اے این پی اور دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے لگے۔ 1999ء میں جب پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا خاتمہ کیا تو ن لیگ کو توڑنے کےلیے ہم خیال مسلم لیگ اور پھر ق لیگ تشکیل دی گئی تو اس وقت بھی سیاسی پنچھیوں نے اپنا ٹھکانہ بدل کر ق لیگ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ٹکٹوں کے مفاد میں بہت سے سیاسی پنچھی اب ن لیگ سے پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی سے ٹکٹ ملا تو ایم پی اے یا ایم این اے تو بن ہی جائیں گے۔ دوسری سیاسی جماعتوں سے پی ٹی آئی ميں شمولیت کا سلسلہ دھڑا دھڑ جاری رہا اور ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل اس خدشے کا اظہارکیا جا رہا تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کا پرانا ورکر اسی خوش فہمی میں رہا کہ ٹکٹ تو اسے ہی ملے گا، ٹکٹ کے حصول کے لیے تعلقات کو بھی استعمال کیا گیا سفارشی پرچی بھی چلی لیکن ہوا وہی جو عمران خان کو قائل کر گیا۔

خیبرپختونخوا میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے امیدواروں کی فہرست آنے کے بعد نئے اور پرانے ساتھیوں کے لیے حیرانی ضروری تھی۔ گزشتہ الیکشن میں قومی اسمبلی کی چاروں نشستوں پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی لیکن این اے ون، جس پر عمران خان نے کامیابی حاصل کر کے بعد میں سیٹ چھوڑ دی تھی، اس پر ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اس بار پشاور میں قومی اسمبلی کی چاروں نشستوں پر پی ٹی آئی نئے امیدواروں کو سامنے لے کر آئی ہے اور چاروں امیدوار دوسری پارٹیاں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔ این اے 27 پر پیپلز پارٹی سے شامل ہونے والے نور عالم، این اے 28 پر اے این پی چھوڑ کر آنے والے ارباب عامر ایوب کو اور این اے 31 کا ٹکٹ پیپلز پارٹی سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے شوکت علی کو دیا گیا ہے۔

باقی حلقوں میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے پرانے ورکرز پیراشوٹ سے آنے والوں کو ٹکٹ دینے پر خفگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی حلقوں پر پی ٹی آئی کے پرانے ورکرز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سربراہی میں بننے والے پارلیمانی بورڈ میں ٹکٹ اسی کو ملا جس پر متعلقہ صوبے کے ممبران عمران خان کو قائل کر گئے۔ سابق وزیراعلی پرویز خٹک سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر مانے جاتے ہیں اور انہوں نے پہلے سے ہی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کام شروع کر دیا تھا۔ اپنی ٹیم بنانے کے لیے انہوں نے دوسری پارٹیوں سے ایسے لوگوں کو چنا جو اپنی سیٹ جیتنے اور جیتنے کےلیے پیسے لگانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ چونکہ عمران خان کی سربراہی میں پارلیمانی بورڈ کی جانب سے کسی کو ٹکٹ ملنے کا انحصار عمران خان کے قائل ہونے پر تھا، اور اپنے لوگوں کو ٹکٹ دلانے کےلیے پرویزخٹک پوری تیاری کے ساتھ گئے تھے اس لیے وہ کامیاب ٹھہرے۔

مگر ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد اب اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس پر عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم سے وہ 90 فیصد مطمئن ہیں، باقی دس فیصد پر وہ نظرثانی کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ دو روز میں نظر ثانی کےلیے اجلاس بلا رہے ہیں۔ لیکن اب وقت گزر گیا ہے اور جہاں سے پی ٹی آئی کے ورکرز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے وہاں کسی حد تک پی ٹی آئی کا ووٹ تقسیم ہو گا۔ پی ٹی آئی پر جہاں پیرا شوٹ سے آنے والوں کو ٹکٹ دینے کے الزامات لگ رہے ہیں وہیں نوجوانوں کو نظرانداز بھی کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے امیدواروں کی جو فہرست جاری کی گئی اس میں نوجوان اِکا دُکا ہی نظر آرہے ہیں۔ ٹکٹ لینے والوں میں زیادہ تعداد پچاس سال سے زیادہ عمر والوں کی ہے۔ خیبرپختونخوا میں بہت ہی کم ایسے امیدوار ہیں جو چالیس سے 45 سال کے ہیں۔ بہت سے ایسے نوجوان ٹکٹ کے حصول میں رہ گئے ہیں جنہیں ٹکٹ دینے کے وعدے کیے گئے تھے لیکن انہیں ٹکٹ نہ مل سکے۔ آنے والے الیکشن میں اگر پی ٹی آئی کو نقصان پہنچے گا تو وہ کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ہی ٹھکرائے گئے ورکرز سے ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سیاسی حلقوں میں یہی بات چل رہی ہے کہ تحریک انصاف کو تحریک انصاف ہی شکست دے سکتی ہے۔

احتشام بشیر
بشکریہ ایکسپریس نیوز

کشمیر : موت اب سوگ نہیں جشن کا باعث ہوتی ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اخبار ’رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کی ہلاکت پر انڈیا کے تقریباً سبھی قومی اخباروں نے مضامین اور اداریے شائع کیے ہیں۔ جس طرح شجاعت کے بارے میں ان کی زندگی میں لوگوں کی رائیں منقسم تھیں اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد بھی لوگوں کی الگ الگ آرا ہیں ۔  کشمیر میں علیحدگی پسند اور شدت پسند انھیں انڈیا اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ سمجھتے تھے اور ہندوتوا نواز تنظیمیں انھیں شدت پسند تنظیموں اور جہادیوں کا ترجمان مانتی تھیں۔ شجاعت کے قتل سے پہلے وہ بعض ہندوتوا نواز عناصر کے ان الزامات سے خود کا دفاع کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کے اشارے پر چل رہے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے جب انھوں نے کشمیر میں امن کا کوئی راستہ نکالنے کے لیے کے دبئی میں ایک ٹریک ٹو ٹائپ کے مذاکرات کا اہتمام کیا تھا تو کشمیر کی شدت پسند تنطیمون نے اسے انڈیا کا سپانسر کیا ہوا پروگرام قرار دیا تھا۔

ایک صحافی کے طور پر شجاعت بخاری کی ساکھ کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ انھیں تقسیم کے دونوں جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ تجزیہ کار نروپما سبھرامنین لکھتی ہیں کہ شجاعت کشمیر کو دلی سے آگے دنیا کے دوسرے دارالحکومتوں میں لے کر گئے اس امید میں کہ شاید کشمیر کو وہاں کچھ ہمدردی مل سکے اور لوگ کسی پیشگی تعصب کے کشمیر کو تشدد کے جہنم سے نکالنے میں مدد کر سکیں ۔ شجاعت کی ٹارگٹ کلنگ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کشمیر میں اب کوئی راستہ محفوظ نہیں ہے۔ شجاعت کی ہلاکت گذشتہ 15 برس میں پہلا ہائی پروفائل ٹارگٹڈ قتل ہے۔ ان کا قتل کس نے کیا اس کے بارے میں بھی اپنی اپنی نظریاتی وابستگی کی بنیاد مفروضے قائم کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بحث میں اس حملے میں انڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب انڈین ٹی وی چینلز اس میں پاکستانی شدت پسندوں کا ہاتھ بتاتے ہیں۔

ماضی میں بھی کشمیر میں صحافیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں سٹیٹ ایکٹرز یا نان سٹیٹ ایکٹرز کا ہاتھ ہوتا ہے یہ پتہ نہیں چل پاتا اور یہ بحث یونہی چلتی رہتی ہے۔ کشمیر اب ایک انتہائی خطرناک خطہ بن گیا ہے۔ انڈیا کی دائیں بازو کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں شورش کو طاقت کے بل پر دبایا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد شدت پسندی کی طرف مائل ہونے والے نوجوانوں کی تعد اد بڑھتی جا رہی ہے۔ مذاکرات کے راستے بند کیے جانے کے بعد علحیدگی پسندوں کی مذکرات میں یقین رکھنے والی قیادت اپنی معنویت اور سا کھ سبھی کچھ کھو چکی ہے۔ سنگ بازی اب ایک نئے قسم کی شدت پسندی اور مزاحمت کا حربہ بن گئی ہے۔ موت اب سوگ نہیں اکثر جشن کا باعث ہوتی ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر غیر اختیاری ہو چکی ہے۔ ہر آنے والا دن کشمیر کے حالات کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ کنٹرول لائن بھی انتہائی متحرک ہے۔ ہر کسی کو پتہ ہے کہ کشمیر اپنے کسی حل سے کافی دور نکل چکا ہے۔ امن کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ کشمیر اب انتہائی خطرناک مرحلے میں ہے ۔ بات چیت کے امکان کے سارے بھرم ٹوٹ چکے ہیں ۔ طاقت کے استعال سے کشمیریوں کے مرنے کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن مزاحمت مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ کمشیر تشدد کا ایک ایسا بھنور بن چکا ہے جس میں انڈین ریاست بھی پھنس چکی ہے اور شدت پسند بھی۔ شجاعت بخاری نے اپنے آخری ایام کے ایک تبصرے میں لکھا تھا کہ آنے والے دنوں میں کشمیر کی صورتحال کافی مشکل ہوگی۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

 

اقوام متحدہ کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سن 2016 سے اب تک بھارتی فوج نے کشمیر میں طاقت کا بے جا استعمال کیا جس کے باعث متعدد کشمیری شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ لہٰذا انسانی حقوق کی ان مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے اسلام آباد حکومت سے بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے پر امن کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے ’غلط استعمال‘ سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی متنازعہ کشمیر میں ايک ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کا افتتاح کر رہے ہیں۔ بھارتی زير انتظام کشمير ميں تازہ کشيدگی اور مودی کے دورے کے سبب کاروباری اور ديگر سرگرمياں معطل ہيں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا فوکس جولائی 2016ء سے اپریل 2018ء کے دوران بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اس دوران 145 عام شہری مارے گئے جب کہ اسی عرصے کے دوران مسلح گروپوں کی جانب سے بھی بیس کے قریب عام شہریوں کو قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، ’’2016ء میں شروع ہونے والے مظاہروں کے رد عمل میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے طاقت کا بے جا استعمال کیا جو غیر قانونی ہلاکتوں اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو زخمی کرنے کی وجہ بنا۔‘‘ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ برداشت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جموں اور کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کی وجہ 1990ء میں بنایا گیا وہ قانون ہے جو ایسے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اپنے بیان میں زید رعد الحسین نے ہیومن رائٹس کونسل سے کہا کہ وہ تمام طرح کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے۔ ہیومن رائٹس کونسل کا تین ہفتے دورانیے کا اجلاس جنیوا میں جاری ہے اور اس کا آغاز پیر 11 جون کو ہوا تھا۔ زید رعد الحسین نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وادی کشمیر اور جموں کے علاقے میں مبینہ اجتماعی قبروں کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں خلاف ورزیوں کی نوعیت اور شدت مختلف درجے کی ہیں۔ رپورٹ میں وابستگی اور اظہار کی آزادی پر پابندیوں کی مذمت بھی کی گئی ہے۔

ایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی خفیہ پوسٹس عام ہو گئیں

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک پر گزشتہ کئی ماہ سے پرائیویسی پالیسی اور صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ نہ کرپانے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں جہاں فیس بک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا موبائل بنانے والی 60 کمپنیوں کو فراہم کیا، وہیں اب سماجی ویب سائٹ کی ایک بہت خرابی سامنے آگئی۔ جی ہاں فیس بک نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مئی میں دنیا بھر کےایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی ایسی خفیہ پوسٹیں از خود عام ہو گئیں جنہیں صارفین نے ’پبلک‘ نہیں کر رکھا تھا۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے اپنے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ سماجی ویب سائٹ پر خود کار سافٹ ویئر کی خرابی کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک کروڑ 40 لاکھ صارفین کی محدود پوسٹس از خود پبلک ہو گئیں، جس وجہ سے کئی صارفین کی خفیہ معلومات بھی عام ہو گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سافٹ ویئر میں خرابی کا پتہ چلنے کے بعد کمپنی نے اس خرابی کو دور کر دیا، ساتھ ہی کمپنی نے متاثرہ افراد کو خصوصی پیغامات کے ذریعے آگاہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ بیان کے مطابق کمپنی نے متاثرہ افراد سمیت اپنے عام صارفین کو بھی اپنی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کی تجاویز دی ہیں، تاکہ صارفین کی معلومات اور پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھا جا سکے۔ کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سافٹ ویئر کی خرابی سے کن ممالک کے صارفین کی محدود پوسٹس عام ہوئیں اور ایسی پوسٹس میں کس طرح کا مواد شامل ہے۔

کمانڈو جرنیل پر تا حیات پابندی برقرار

عدالت عظمٰی کی جانب سے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی مشروط اجازت منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مشرف کی تا حیات نااہلی کا 2013 ء میں کیا گیا فیصلہ بحال ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ 31 جولائی 2009 ء کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں کیا گیا تھا جس میں بطور فوجی آمر پرویز مشرف کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ کے چار رکنی بنچ نے تا حیات نا اہلی کے خلاف مشرف کی اپیل بھی خارج کر دی تھی اور 2013 ء کے انتخابات کے لیے کراچی، حیدرآباد اور چترال کے حلقوں میں داخل کرائے گئے انکے کاغذات نامزدگی بھی خارج کر دیے گئے تھے۔

تاہم عدالت عظمی نے مورخہ 7 جون کو آئندہ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ مورخہ 11 جون کو مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا عدالتی حکم جاری کیا گیا۔ اس سے قبل وزارت داخلہ نے نادرہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو انکا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ آج مورخہ چودہ جون کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کو پرویزمشرف کے وکیل کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ انکے موکل “عید کی تعطیلات” اور “موجودہ صورتحال” کے سبب وطن واپس نہیں آ پائیں کے۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے دوپہر تک عدالت میں حاضر ہونے کی مہلت دی تھی۔ مورخہ 13 جون کو سپریم کورٹ نے انکی وطن واپسی کے حوالے سے گردش کرنے والی متضاد اطلاعات کے حوالے سے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ “فوجی کمانڈو اسقدر    خوف ذدہ کیوں ہے”۔ اس سے قبل مورخہ 12 جون کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ “مشرف کی واپسی کی راہ میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ واپس آئیں اور دکھائیں کہ وہ کتنے بہادر ہیں۔”

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو جولائی 2017 میں نا اہل قرار دے دیا تھا۔ اسی تناظر میں نواز شریف کو وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس فیصلے نے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ دوسری جانب نگران حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کے مقدمہ کے لئے قائم خصوصی بنچ کی نئے سرے سے تشکیل کرتے ہوئے جسٹس نزر اکبر اور جسٹس طاہرہ صفدر کو اراکین اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاورعلی کو سربراہ مقرر کر دیا تھا۔ اس سے قبل 30 مارچ کو بنچ کے سابق سربراہ جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو اس بنچ سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بیشتر سیاسی حلقوں کی جانب سے عدالت عالیہ کے مندرجہ بالا فیصلوں پر حیرت کا اظہار کیا گیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنماؤں کی جانب سے ان فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سابق وزیر اعظم اور تا حیات نا اہل قرار دیے گئے مسلم لیگ نون کے تا حیات قائد، میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کسی ایسے شخص کو اس نوعیت کی پیشکش کیسے کر سکتے ہیں جس پر آئین پامال کرنے کے جرم میں سنگین غداری کے مقدمے ہوں۔ انکا سوال تھا کہ ” کیا ملکی آئین میں یہ گنجائش ہے کہ ایک ایسے فوجی آمر کو اس نوعیت کی مراعات دی جائیں جو سنگین غداری کا مقدمہ بھگت رہا ہو، جس پر اکبر بگٹی اور بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام ہو، جو اعلی عدالت کے ججوں کو گرفتار کرنے کا مرتکب ہوا ہو اور جو لال مسجد آپریشن میں ملوث رہا ہو۔ دوسری طرف اسی عدالت نے مجھے اپنے بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے کی پاداش میں وزارت عظمی سے برطرف کر دیا، انتخابات سے تا حیات نا اہل کر دیا اور اپنی جماعت کی سربراہی سے ہٹا دیا۔”

پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما اور سینٹ کے سابق چیئرمین، رضا ربانی نے عدالت کے مذکورہ بالا فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، “یہ سابق فوجی آمر 1973ء کے آئین کی دفعہ 6 کے تحت ایک خصوصی عدالت میں سنگین غداری کا مقدمہ بھگت رہا ہے۔ اس نے بیماری کا بہانہ بنا کر پاکستان کی اعلی عدالت کو گمراہ کیا اور اسے ایک سے زیادہ مقدموں میں “اشتہاری” قرار دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئین توڑنے اور معطل کرنے والوں کو پاکستان میں عدالتی مراعات دی جا رہی ہیں۔” قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بھی ان فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم انکا دعوی تھا کہ “مشرف اعلی عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ وہ پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔”

بشکریہ DW اردو

موبائل فون کمپنیوں کا 100 روپے کے کارڈ پر 100 روپے کا بیلنس

موبائل فون کمپنیوں نے 100 روپے کے موبائل کارڈ پر 100 روپے کا بیلنس دینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موبائل فون کمپنیوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر صارفین کو 15 روز کیلئے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع ایف بی آر کا بتانا ہے کہ آج رات 12 بجے کے بعد سے 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے ملیں گے۔ ذرائع کے مطابق 100 والے کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے بعد 64 روپے 28 پیسے ملا کرتے تھے لیکن 15 روز بعد ایف بی آر کے ساتھ مل کر ٹیکسز کا نیا میکنزم بنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ موبائل فون کارڈز پر 40 روپے کٹوتی کا نوٹس لیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت اٹارنی جنرل کو طلب کر کے تمام موبائل فون کمپنیوں کو نوٹس بھی جاری کروائے تھے۔

بھارتی آرمی نے کشمیر میں شکست مان لی

بھارتی آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر میں شکست تسلیم کر لی، ان کا کہنا ہے کہ ہم جتنے لوگ مارتے ہیں ان سے زیادہ تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف جنرل راوت کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس سلسلے کو روکنے کے لئے کچھ کرنا ضروری ہے، دراندازی پر قابو پا سکتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات بہت ضروری ہیں، کوشش کر کے دیکھا جائے، مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ملنا چاہیے ۔  مبصرین بھارتی آرمی چیف کی رائے میں تبدیلی کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں .  واضح رہے کہ جنرل راوت نے اپریل میں کہا تھا کہ نوجوان بندوق سے نہیں جیت سکتے، وادی کے موجودہ حالات بھارت کے لیے انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گئے ہیں.

تربیلا توسیعی منصوبہ

بجلی کے شدید بحران پر قابو پانے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر ان دعوئوں میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ ملک کے اکثر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج سے لگایا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بحران نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں یہ خبر یقیناً اطمینان کا باعث ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافے اور دستیابی کے بعد تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے پہلے یونٹ نے 8 جون سے بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد تربیلا ہائیڈرل پاور اسٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 470 میگاواٹ کا اضافہ ہو گا۔

یہ یونٹ ریلائی ایبلٹی دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت نیشنل گرڈ کو اوسطاً 335 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے مذکورہ یونٹ کو بتدریج اس کی پوری پیداواری صلاحیت 470 میگاواٹ پر لے جایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا یونٹ اپریل میں مکمل ہوا تھا مگر دریائے سندھ میں پانی کے بہائو میں کمی اور عدم دستیابی کے باعث اس یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع نہیں کی جا سکی تھی۔ واضح رہے کہ تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے دوسرے یونٹ کی بھی ایبل ویٹ کمیشنگ شروع ہو چکی ہے یہ یونٹ بھی جولائی کے پہلے ہفتہ میں ریلائی ابیلٹی کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے تحت تربیلا ڈیم کی سرنگ نمبر 4 پر بجلی پیدا کرنے کے لئے 3 یونٹ نصب کئے گئے ہیں اور ہر یونٹ کے 470 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا یعنی 1410 میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کی جائے گی۔ تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ کم لاگت میں بجلی پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، ہمارے خیال میں بجلی پیدا کرنے کے تمام منصوبوں کی کامیابی کا انحصار بجلی کے ترسیلی نظام پر ہے جب تک اس نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جائے گا بجلی کی مطلوبہ ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ملک میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے اور قومی نظام میں پن بجلی کا تناسب بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اداریہ روزنامہ جنگ