آپ کا پاسورڈ کیسا ہونا چاہیے؟

برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کی تحقیق میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اکاؤنٹز کی حفاظت کے لیے کیا کرتے ہیں اور انہیں کس بات کا خدشہ رہتا ہے؟ ریسرچ میں یہ سامنے آیا کہ بیالیس فیصد افراد کو یہ ڈر پریشان کرتا ہے کہ ان کا پیسہ آن لائن چوری ہو سکتا ہے۔ صرف پندرہ فیصد افراد ہی ایسے تھے جو اس بارے میں پراعتماد تھے کہ انہیں اپنے اکاؤنٹ کی حفاظت کے لیے تمام ضروری باتیں اور اقدامات پتہ ہیں۔ آدھے سے بھی کم ایسے لوگ تھے جو اپنے ایمیل کے اہم اکاؤنٹ کے لیے مختلف اور زیادہ محفوظ پاسورڈ استعمال کر رہے تھے۔

ماہر سائبر سیکیورٹی ٹرائے ہنٹ ہیک ہونے والے اکاؤنٹز کے ڈاٹا بیس تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن سیکیورٹی کے معاملے میں لوگوں کے پاس سب سے بڑا اور واحد اختیار یہی ہے کہ وہ ایک محفوظ یا طاقتور پاسورڈ کا انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کر کے کہ سب سے زیادہ استعمال یا کمزور پاسورڈز کون سے ہیں، ہم انہیں محفوظ پاسورڈز کے انتخاب کے لیے تیار کر سکتے ہیں۔ اپریل کی چوبیس اور پچیس تاریخ کو برطانیہ میں نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس سے قبل یہ سروے شائع کیا گیا۔ نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر ایئن لیوی نے بتایا کہ وہ افراد جو پاسورڈ میں آسان نام یا آسان الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، ان کے اکاؤنٹز کو ہیک کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

اپنے حساس ڈاٹا کی حفاظت کے لیے ایسے الفاظ یا ناموں کو نہیں استعمال کرنا چاہیے جن کے بارے میں قیاس لگانا آسان ہو۔ اپنے پسندیدہ میوزک بینڈ یا فنکار کا نام پاسورڈ میں استعمال کرنا بھی ایسا ہی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے گذشتہ ہفتے جب وزارت سے سبکدوشی کا اعلان کیا تو تمام لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ اس مشکل وقت میں کابینہ کے اس سب سے اہم رکن کے طور پر وزیراعظم پاکستان کا انتخاب کون ہو گا۔ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں اسد عمر کی ٹویٹ کے بعد سے شروع ہو گئی تھیں اور کبھی عمر ایوب کو یہ عہدہ دیے جانے کی خبریں گردش کرتی رہیں تو کبھی شوکت ترین کی جانب سے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کی باتیں ہوئیں۔ لیکن ان سب ناموں کے برعکس قرعۂ فال عبدالحفیظ شیخ کے نام نکلا اور وہ وزیراعظم کے مشیر برائے مالیاتی امور بنا دیے گئے۔ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تھے جبکہ اس سے قبل مشرف دور میں سندھ کے وزیر خزانہ اور بعد میں نجکاری کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

حفیظ شیخ کس کا انتخاب؟
حفیظ شیخ کی تعیناتی کے ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بحث کا آغاز بھی ہو گیا ہے کہ اس اہم عہدے کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیوں کیا گیا جو عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آئی اور آیا وہ وزیراعظم عمران خان کا انتخاب ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے۔ اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالیاتی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ نواز کے سوا پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں یہ ایک بڑا مسئلہ پایا جاتا ہے کہ ان کے پاس صف اول کے معاشی ماہرین نہیں ہوتے۔‘ ان کے مطابق ’اسی کمزوری کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں کو بھی ’بریف کیس‘ وزیر خزانہ کی طرف دیکھنا پڑا اور اس دفعہ پھر وہی ہوا۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نئے مشیرِ خزانہ کے نام کا انتخاب وزیر اعظم عمران خان کا نہیں تھا اور خیال یہی ہے کہ ’حفیظ شیخ وزیراعظم سے زیادہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی پسند تھے۔

سینیئر صحافی محمد ضیا الدین بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ حفیظ شیخ عمران خان کا نہیں بلکہ ’کسی اور‘ کا انتخاب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ دور دور تک عمران خان کے ریڈار پر نہیں تھے‘ اور ان کے خیال میں ان کے آپس میں کسی قسم کے تعلقات بھی نہیں رہے۔ صحافی اور تجزیہ نگار ندیم ملک کا بھی کہنا ہے کہ ’جب معیشت پر مشکل وقت آتا ہے تو پاکستان سے باہر ایسے پاکستانیوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے یا کسی بڑے بینک کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے کافی تحفظات تھے جس کو دیکھتے ہوئے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ بنایا گیا کہ وہ بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر کر سکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ سات، آٹھ ماہ میں کافی بدانتظامی ہوئی ہے۔ قوی امکان ہے کہ حفیظ شیخ صاحب کا نام کسی دوسرے کونے سے آیا ہو۔

ماضی کی کار کردگی
حفیظ شیخ کی ماضی کی کارکردگی کی بات کی جائے تو تجزیہ نگار انھیں کمزور قوتِ فیصلہ کا مالک قرار دیتے ہیں۔ شہباز رانا کہتے ہیں کہ حفیظ شیخ صاحب کی وزارت کے دوران ان کے بارے میں یہ عام تاثر تھا کہ وہ ایسے معاملات پر فیصلے کرنے میں احتیاط اور کچھ معاملات میں تاخیر سے کام لیتے ہیں جن پر فوری فیصلے چاہیے ہوتے ہیں۔ ندیم ملک کا کہنا تھا کہ بطور وزیر خزانہ ان کی قوت فیصلہ کمزور تھی جس کی وجہ سے معاملات بگڑ گئے تھے ۔ ایم ضیا الدین کے مطابق ’بطور وزیرِ نجکاری ان کی سب سے بڑی ناکامی اتیصلات کی پی ٹی سی ایل کے ساتھ ڈیل تھی جس کے مطابق اتیصلات نے ہمیں آٹھ سو ملین ڈالر دینے تھے۔ ابھی بھی ہم اس کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ دیتے نہیں ہیں۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حفیظ شیخ چونکہ مختلف وزارتوں پر رہے ہیں اس لیے اسد عمر کے مقابلے میں انھیں زیادہ بہتر پتا ہے کہ نظام کس طرح چلتا ہے اور بیوروکریسی سے کام کس طرح کروانا ہے۔

تجربہ اور سیاسی حمایت
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حفیظ شیخ کے بارے میں کہا کہ وہ ماہر معاشیات ہیں اور انھیں اس کام کا تجربہ بھی ہے لیکن انھیں بہت برے حالات میں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’حفیظ شیخ کو اس معیشت کو بحال کرنے کا ایک مشکل کام دیا گیا ہے جسے اسد عمر نے بریک لگا دی۔‘ شہباز رانا کے نزدیک مشیر خزانہ سیاسی طور پر کمزور ہیں جو کہ حکومت کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ خزانہ کے لیے یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرے تاکہ آئی ایم ایف کی طرف سے دیے گئے مشکل معاشی فیصلوں پر عمل درآمد ہو سکے۔‘ انھوں نے کہا کہ حفیظ شیخ کو ’ابھی پارٹی کا مفلر بھی نہیں پہنایا گیا اور بغیر پارٹی کی شمولیت کے انھیں مشیر بنا دیا گیا ہے، ان کے لیے کافی مشکل حالات ہوں گے۔

معاشی حالات کا مستقبل
پاکستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے چار بڑے مسئلے ہیں جن پر حکومت کی فوری توجہ درکار ہے اور وہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، درآمدات کی زیاتی، برآمدات میں کمی اور محصولات کم اور خرچ زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے ایک مہینے پہلے وزارت خزانہ میں ایسی تبدیلی حکومت کے حالات کے بارے میں مثبت عندیہ نہیں دیتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر بنیادی پالیسی یہی رہی جو پچھلی دو، تین دہائیوں سے رہی ہے تو خدشہ ہے کہ ڈالر دو سو روپے کا ہو جائے گا اور افراط زر 20 فیصد کے قریب ہو سکتا ہے چلا جائے۔‘

ماہر معاشیات اکبر زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معیشت کا حال اچھا نہیں ہے مگر منصب پر کون بیٹھا ہے اس سے فرق پڑ سکتا ہے۔ ’وہ کس طرح کیا بات کر رہا ہے اور کس طرف لے کر جا رہا ہے اس کی بہت اہمیت ہے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ حفیظ شیخ کچھ کر پائیں گے۔ میرے خیال سے پاکستان میں اس وقت ایسے لوگ ہیں جو ان سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور اُن کا ماضی کا ریکارڈ بھی اتنا برا نہیں ہے۔‘ تاہم ندیم ملک کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے اصلی دو بڑے امتحان بجٹ اور آئی ایم ایف کا معاہدہ ہے اور اگر وہ ان میں کامیاب ہو گئے تو ان کے لیے راستے کھل جائیں گے ورنہ مزید بند ہو جائیں گے۔

اس سلسلے میں شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ’شاید وہ (حفیظ شیخ) واشنگٹن میں اپنے تعلقات کو مثبت طریقے سے استعمال کر کے پاکستان کے لیے کچھ مراعات حاصل کر سکیں لیکن (آئی ایم ایف کے) پروگرام کے خدوخال جو سامنے ابھی تک آ رہے ہیں وہ اتنے شاندار نہیں ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ان خدوخال کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والا وقت حکومت کے لیے بھی اور مشیر خزانہ صاحب کے لیے بھی بہت چیلنجنگ ہو گا۔‘

حسن عباس
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیراعظم عمران خان ٹیکنوکریٹس کے نرغے میں

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سال 2018 کے عام انتخابات کے بعد عمران خان کی قیادت میں برسراقتدار آئی تو اس کا دعویٰ تھا کہ یہ ایک محدود کابینہ کے ساتھ موثر طرز حکمرانی متعارف کروا کے عوام کو معاشی آسودگی اور بہتر معیار زندگی فراہم کرے گی۔ مگر ابھی حکومت کو پہلا سال بھی مکمل نہیں ہوا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث حکومت کی کارکردگی تنقید کے کٹہرے میں آنے لگی۔ منتخب حکومتیں ایسی تنقید زیادہ دیر برداشت نہیں کرتیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ اچانک نہیں تھی۔ کھچڑی تو کئی دن سے پک رہی تھی مگر کہانی ایک خبری ’لیک‘ کی صورت میں 15 اپریل کو مختلف ٹیلی ویژن چینلز پرمنظر عام پر آئی اور بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ میں وزیر خزانہ اسد عمر سمیت اہم تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ مگر شام کو حکومتی ترجمانوں نے تبدیلی کی اس خبر کی تردیدیں جاری کر دیں اور پیمرا نے متعلقہ ٹی وی چینلز کے خلاف یہ غلط خبریں نشر کرنے کا نوٹس بھی لے لیا۔

دو روز تک خاموشی رہی مگر تیسرے روز تبدیلی کی پہلی خبر اسد عمر نے پارلیمان ہاؤس میں صحافیوں سے شیئر کی۔ وہ قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی اجلاس کی صدارت کرنے وزیراعظم سیکریٹریٹ سے وہاں پہنچے تھے۔ صحافیوں کو دیکھتے ہی بول اٹھے کہ وزیراعظم نے انھیں وزارت پیڑولیم کی پیشکش کی ہے مگر انھوں نے انکار کر دیا ہے۔ تھوڑی دیر میں وزیراعظم سیکریٹریٹ سے صحافیوں کو فون پر اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئیں کہ کابینہ میں تبدیلی صرف اسد عمر تک محدود نہیں ہے۔ دراصل حکومت اسد عمر کی جانب سے غیر متوقع طور پر پیٹرولیم کی وزارت قبول نہ کرنے کے ردعمل سے پیدا ہونے والے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش میں تھی۔ حیران کن طور پر وزرا کے قلمدانوں کی تبدیلی اور تین نئے خصوصی معاونین بھی تعینات کیے گئے۔

ان تبدیلیوں میں اہم ترین اسد عمر کی جگہ وزارت خزانہ میں عبدالحفیظ شیخ کو لانا، وزیر پارلیمانی امور بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کو وزارت داخلہ کا قلمدان دینا، فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات سے سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دینا اور غلام سرور خان کو وزارت پیڑولیم سے ایوی ایشن کی وزارت میں تعینات کرنا شامل تھا مگر کابینہ میں ان اندرونی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تین غیر منتخب شخصیات فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ندیم بابر اور ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو معاون خصوصی برائے وزیراعظم بھی تعینات کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کا بنیادی نعرہ تبدیلی تھا۔ اس نعرے کے ساتھ حکومت کے وجود میں آنے سے اب تک آٹھ ماہ کے اندر تحریک انصاف کی حکومت کو مرکز میں دو وزرا یعنی اعظم خان سواتی اور بابر اعوان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اعظم سواتی کو اسلام آباد میں زمین کے قبضے اور اپنے پڑوس میں ایک غریب خاندان کو جیل بھیجنے کے سکینڈل میں ملوث ہونے کے باعث وزارت چھوڑنی پڑی تو بابر اعوان کو نیب میں نندی پور ریفرنس میں ملزم نامزد ہونے کے باعث وزیراعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات کے لیے مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ گذشتہ عام انتخابات میں سیالکوٹ سے ہار گئی تھیں۔

ڈاکٹر ندیم بابر اورینٹ پاور نامی کمپنی کے سابق سربراہ ہیں جنھیں پی ٹی آئی حکومت نے اکتوبر نے توانائی کے بارے میں ٹاسک فورس کا سربراہ تعینات کیا تھا۔ اب انھیں توانائی کے شعبے کا معاون خصوصی تعینات کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبہ میں تعینات کیے گئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو پارٹی میں البتہ کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ عرصہ دراز بیرون ملک صحت کے شعبہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں ۔  حیران کن بات تو یہ ہے کہ حکومت کے غیر منتخب معاونین کی فہرست میں سب سے زیادہ معاونین میڈیا سے متعلق ہیں۔ فردوس عاشق اعوان اس فہرست میں ابھی شامل ہوئی ہیں لیکن افتخار درانی اور یوسف بیگ مرزا پہلے ہی میڈیا کے امور دیکھ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو میڈیا کے زریعے اپنا تاثر بہتر بنانا معیشت اور دیگر چیلنجز سے بڑا چیلنج لگتا ہے۔

اگر اسد عمر کو کابینہ سے نکال دیا جائے تو کابینہ میں وفاقی وزیروں کی کل تعداد 24 رہ جاتی ہے، پانچ وزرا مملکت، چار مشیران اور 13 خصوصی معاونین۔ یعنی کابینہ کے کل ارکان کی تعداد 46 ہو چکی ہے۔ اس سارے عمل میں اگر غیر منتخب افراد کی گنتی کی جائِے تو پتہ چلتا ہے ہے کہ 46 رکنی کابینہ میں وفاقی وزیر کے برابر عہدے کے حامل غیر منتخب مشیران اور معاونین خصوصی یعنی ٹیکنو کریٹس کی تعداد 17 ہو چکی ہے۔ یہ تمام افراد اہم ترین امور کو دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے خیال میں کابینہ میں غیر منتخب معاونین تو محض پتے ہیں اصل مسئلہ تو جڑوں کا ہے جو بہت سنگین مسئلہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر غیر منتخب افراد آئین میں درج ہدایات کے مطابق ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔

احمد بلال محبوب کی فکر انگیز باتیں اپنی جگہ مگر عملی طور پر وفاقی کابینہ کے اہم ترین امور یہ غیر منتخب لوگ ہی دیکھ رہے ہیں جن میں عبدالحفیظ شیخ ایک اہم اضافہ ہوں گے۔ اس سے قبل احتساب امور کی نگرانی برطانیہ سے تعلیم یافتہ لیکن غیر منتخب معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر کر رہے ہیں جو ملک میں جاری احتسابی عمل کے نگران اعلیِ ہیں۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے معاون خصوصی نعیم الحق بھی ایک غیر منتخب شخصیت ہیں۔ ایسا واضع طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ ہر گذرتے وقت کے ساتھ وزیراعظم عمران خان منتخب ارکان سے دور ہو کر غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ وہ بہتر کارکردگی نہ دکھانے پر تبدیلیاں لے کر آئے ہیں اور جو بھی بہتر کارکردگی نہیں دکھائے گا اور ملک کے لیے بہتر نہیں ہو گا وہ اسے بدل دیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ مزید غیر منتخب افراد کو کابینہ میں شامل کر کے کیا وزیراعظم مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے؟

اعزاز سید
بشکریہ بی بی سی اردو

دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کی آبادی میں 55 فیصد اضافہ

صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے چار روزہ انتھک سروے کے بعد قوم کو اچھی خبر دی ہے کہ معدومیت کے خطرے سے دوچار سندھ کی نابینا ڈولفن ’بھلن‘ کی تعداد میں 55 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے کئے گئے سروے میں 500 نئی ڈولفن شمار کی گئی ہیں یعنی 2019 میں ان کی کل تعداد 1419 ہو چکی ہے جبکہ 2011 میں ڈولفن کی تعداد 918 تھی۔ ماہرین نے اس کے لیے سکھر سے گدو بیراج تک 200 کلومیٹر کا پانیوں کا جائزہ لیا ہے۔ ’ ماضی میں کئے گئے سروے جون اور جولائی میں ہوئے جب دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور اطرافی نالوں اور آبی راستے بھی پانی سے بھرے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار اپریل میں کیا گیا ہے جبکہ پانی کا بہاؤ کم تھا لیکن بیراجوں کی اطراف میں پانی کی شدت تھی،‘ محکمہ وائلڈ لائف کے کنزرویٹر جاوید مہر نے بتایا۔

جاوید مہر نے اس سروے میں 58 شرکا کو خشکی پر تعینات کیا اور 22 اراکین کو دو کشتیوں میں سوار کر کے ڈیٹا جمع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نایاب سندھو ڈولفن سندھ ڈیلٹا سے لے کر پنجاب میں اٹک تک کے مقام پر دیکھی جاتی تھی۔ لیکن آج کوٹری بیراج سے آگے تک پانی کے بہاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اب اس کی آبادیاں ایک محدود علاقے تک رہ گئی ہیں جسے ’انڈس ڈولفن ریزرو‘ کے نام سے تحفظ گاہ کا مقام حاصل ہے۔ پاکستان میں دریائی ڈولفن کا پہلا باقاعدہ سروے 1974 میں سوئزرلینڈ کے پروفیسر جورجیو پیلری نے کیا تھا اور 150 ڈولفن شمار کی تھیں۔ اس کے بعد ڈولفن کے لیے آبی تحفظ گاہ قائم کی گئی تھی۔

جاوید مہر نے بتایا کہ میٹھے پانی میں چار اقسام کی ڈولفن پائی جاتی رہیں جن میں سے اب تین اقسام کی ڈولفن ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے چین کے دریائے یانگزی میں پائی جانے والی ڈولفن ناپید ہو چکی ہے۔ دریائے ایمیزون کی ڈولفن ابھی موجود ہے جبکہ پاکستانی ڈولفن دنیا کے کسی اور علاقے میں نہیں پائی جاتیں۔ جاوید مہر نے کہا کہ ایک قسم کی ہموار بالوں والی اودبلاؤ کے آثار کے متعلق بھی کہا جس کے فضلے اور قدموں کے نشانات کی بنا پر اس کی شناخت کی گئی ہے اور اس نسل کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ اس سروے میں دو خواتین ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر زیب النسا میمن اور ڈاکٹر کومل عارف ہنگورو نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ماہرین نے تمام مشکلات کے باوجود اس اہم تجربے کو بہت اہم قرار دیا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سوشل میڈیا کا انسانی تعلقات پر بڑھتا ہوا اثر

اس بات میں شک نہیں کہ آج سوشل میڈیا کا استعمال ضرورت بن چکا ہے۔ بچے ہوں، بوڑھے ہوں یا جوان ہر عمر کے لوگ کمیونیکیشن کے لیے، اپنے خیالات کے اظہار کے لیے، معلومات میں ا ضافہ کے لیے، تفریح کے لیے، سیاسی یا مذہبی لگائو ظاہر کرنے کے لیے یا بزنس کی پروموشن کیلئے اسے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی استعمال میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے اس حوالے سے بہت احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔ ضروری نہیں کہ جو معلومات سوشل میڈیا پر کوئی فرد اپنی ظاہر کرتا ہے وہ درست بھی ہوں۔ 

بہرحال سوشل میڈیا کے اس بڑھتے ہوئے استعمال سے زندگی کے ایک اور پہلو پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ ہے آپس کے تعلقات۔ رشتہ داروں، تعلق داروں، دوست و احباب اور کولیگز میں اس کا بہت استعمال کیا جاتا ہے اور نہ صرف استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اس کی اہمیت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ اگر آپ اپنے کسی دوست کی پوسٹ کو اگنور کرتے ہیں یا کسی مصروفیت کی وجہ سے اس کے واٹس ایپ پیغام کو دیکھ نہیں پاتے تو آپ کا دوست اس بات کو بہت محسوس کرتا ہے۔ بعض مرتبہ نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ ناراض بھی ہو جاتا ہے جو کہ مناسب عمل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اُس کے سامنے تصویر کا ایک رخ ہے اور وہ صرف واٹس ایپ کے ٹِک کے بلیو ہونے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دوست نے آپ کا میسج دیکھ لیا ہے۔ 

اسی طرح اگر وہ دیکھ کر بھی رپلائی نہیں کرتا تو آپ ناراض ہوتے ہیں اور اگر وہ میسج ہی نہیں دیکھتا تو بھی آپ ناراض ہوتے ہیں جبکہ ممکن ہے آپ کا دوست کسی کام میں مصروف ہو یا لاپروائی میں اس کا ہاتھ لگ گیا ہو یا پھر کسی بچے نے کلک کر دیا ہو اور آپ کا دوست اس بات سے بے خبر ہو جبکہ آپ خواہ مخواہ بدگمان ہو رہے ہوں۔ ایک دفعہ مجھے کسی عزیز کی عیادت کرنے ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو دو نرسز اپنے کام کو جاری رکھتے ہوئے آپس میں باآواز بات چیت کر رہی تھیں۔ ایک نرس اس بات پہ دکھ کا اظہارکر رہی تھی کہ میری فلا ں دوست نے میری پوسٹ کو ’’لائیک‘‘ نہیں کیا لہٰذا اب میں اس سے بات چیت نہیں کروں گی ۔ 

دوسری طرف اگر آپ اپنے رشتہ داروں یا دوستوں میں سے بعض کو ایڈ کریں اور بعض کو نہ کریں تو اس پر بھی ناراضگی اور بدگمانی پیدا ہوتی ہے جبکہ اسکی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ممکن ہے آپ اس لیے کسی کو ایڈ نہ کر رہے ہوں کہ آپ کا اپنے دوست کے سیاسی یا مذہبی نظریات یا خیالات سے اختلاف ہو اور آپ کی پوسٹ دیکھنے سے وہ آپ سے ناراض ہو سکتا ہو یا آپ اس کی دل آزاری نہ کرنا چاہتے ہوں۔ اگر آپ اسے ایڈ نہ کریں تو وہ آپ سے ناراض ہو جاتا ہے اور دل میں آپ سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ 

اور اگر کریں تو بھی اس کا امکان ہوتا ہے۔ صرف اس معمولی سی وجہ سے دلوں میں دوریاں اور نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ باتیں اب بہت عام ہوتی جارہی ہیں ہر شخص فیس بک ، ٹویٹر، واٹس ایپ کے معاملات کو محبت اور نفرت کا پیمانہ سمجھنے لگا ہے اور آپس کے تعلقات میں اسے بہت اہمیت دیتا ہے جو کہ قطعاً درست عمل نہیں ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم صرف اس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھائیں نہ کہ اسے اپنی زندگی میں انسانوں سے بڑھ کر مقام دیں۔  

عمیر احمد قادری

بشکریہ دنیا نیوز

کیا حفیظ شیخ پاکستان کی مشکلات کم کر سکیں گے؟

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں سندھ کے وزیرِ خزانہ کے طور پر سامنے آنے والے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پارٹی و عملی سیاست سے دور رہنے کے باوجود متعدد بار اعلیٰ حکومتی عہدوں پر براجمان رہ چکے ہیں۔ لگ بھگ 35 سال پر محیط پیشہ ورانہ زندگی میں حفیظ شیخ پاکستان میں اہم حکومتی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک عالمی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، ان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ عالمی مالیاتی بیورو کریسی کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں درس و تدریس کے علاوہ وہ دنیا کے 25 ممالک میں عالمی بینک کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ حفیظ شیخ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں اور حکومتی اداروں کی نجکاری سے متعلق امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق سن 2000 میں بطور وزیرِ خزانہ سندھ اپنی پہلی حکومتی ذمہ داری میں انہوں نے ٹیکس کی شرح کم کر کے وصولیوں میں اضافہ کیا اور مالیاتی نظم و نسق میں بہتری لائے۔ مشرف دور میں ہی انہیں وزیرِ اعظم کا مشیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری لگایا گیا۔ اپنی اس ذمہ داری کے دوران حفیظ شیخ نے 34 سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری کی جس سے حکومت کو پانچ ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ عبد الحفیظ شیخ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے لیکن 2006ء میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز کی کابینہ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

چار سال تک سیاست سے دور رہنے کے بعد حفیظ شیخ دوبارہ اس وقت سیاسی میدان میں وارد ہوئے جب 2010ء میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے استعفیٰ دے دیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی نظریں حفیظ شیخ پر ٹہریں۔ انہوں نے سال 2010ء سے 2013ء کے دوران وزارتِ خزانہ کا قلم دان سمبھالا اور سینیٹر بھی منتخب ہوئے۔ ماہرین کے مطابق بطور وزیرِ خزانہ پیپلزپارٹی دور میں حفیظ شیخ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ان کے دور میں بجٹ خسارے میں اضافہ جب کہ ٹیکس وصولیوں میں کمی ہوئی اور مہنگائی کی شرح بھی بڑھ گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ بیرونِ ملک منتقل ہو گئے تھے اور اب تقریباً پانچ سال کے بعد وہ مشیرِ خزانہ کی اہم ذمہ داری کے لیے پاکستان آئے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اسد عمر کی معاشی کارگردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری ڈاکٹر حفیظ شیخ کو سونپی ہے جس کا چارج انہوں نے سنبھال لیا ہے۔ سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ اگرچہ اس تبدیلی کو حیران کن گردانتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ حفیظ شیخ کو مشکل ماحول میں مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے اور انہیں پارٹی کے اندر اور باہر سے بھی اختلافات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سلمان شاہ کے مطابق اگرچہ حفیظ شیخ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں لیکن عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ان کے کام کا تجربہ اچھا نہیں رہا اور پیپلز پارٹی کے اپنے دورِ وزارت میں وہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل در آمد میں ناکام رہے تھے۔

سلمان شاہ کہتے ہیں کہ نئے مشیرِ خزانہ کے لیے کام کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا اور خاص طور پر اس وقت جب ان کے کام کی نگرانی ایک اکنامک ایڈوائزی بورڈ کرے گا جس کی سربراہی جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کہتے ہیں کہ نئے مشیرِ خزانہ تجربہ کار ماہرِ معیشت ہیں اور حکومتی معاملات سے بھی اجنبی نہیں ہیں۔ لیکن ماحول کو سمجھنے اور نئے حالات اور اہداف کا جائزہ لینے میں انہیں کچھ وقت لگے گا کیوں کہ وہ ایک عرصے کے بعد بیرونِ ملک سے پاکستان واپس آئے ہیں۔ ان کے مطابق حفیظ شیخ اپنے ساتھ کچھ آسانیاں بھی لے کر آئے ہیں اور کچھ اضافی مشکلات کا سامنا بھی انہیں ہو گا۔ ان میں ان کا غیر منتخب ہونا اور حکومتی جماعت کے لوگوں کے باہمی اختلافات کے ماحول میں اپنا کام کرنا جیسے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ 2012ء کے معاشی حالات میں بہت بہتری نہ لا سکنے والے حفیظ شیخ کے سامنے 2019ء میں ماضی سے کہیں زیادہ مشکل اہداف ہیں۔

علی فرقان

بشکریہ وائس آف امریکہ

کیا ملک صدارتی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے ؟

صدارتی نظام کے حق میں بڑھتے ہوئے مباحثے کے دوران حکومت چلانے کیلئے منتخب نمائندوں کی بجائے غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین پر انحصار شروع کر دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ میں حالیہ اکھاڑ پچھاڑ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کا اعتماد حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹرز کی بجائے نامزد کردہ افراد پر بڑھ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد اقتصادیات کی اہم ترین وزارتیں اُن مشیروں اور معاونین کے کنٹرول میں آ گئی ہیں جو پارلیمنٹ میں جواب دہ نہیں۔ اس کے علاوہ، تبدیلیوں کے نتیجے میں صرف منتخب افراد کو ہدف بنایا گیا اور حکومت کے مقرر کردہ غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین میں سے کسی کو ہٹایا گیا اور نہ ہی کوئی نئی ذمہ داری دی گئی۔ 

جس وقت کئی غیر منتخب مشیروں کو پہلے ہی وزیر کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں اس وقت کے اقدام سے ان کی طاقت تعداد اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کے لحاظ سے بڑھ گئی ہے۔ کابینہ میں پہلی تبدیلی کرتے ہوئے حکومت نے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کو وزیر خزانہ کے اہم ترین عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو لگا دیا جو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے پاکستان پہنچ گئے۔ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی سروَر خان کو بھی پٹرولیم کی اہم وزارت سے ہٹا دیا گیا اور انہیں ایوی ایشن کے قلمدان کی پیشکش کی گئی۔ 

پٹرولیم کی یہ اہم وزارت اب حکومت کی جانب سے مقرر کردہ غیر منتخب شخص نعیم بابر چلائیں گے۔ انہیں کابینہ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات کو تبدیل کرتے ہوئے حکومت نے یہاں بھی غیر منتخب پی ٹی آئی رکن فردوس عاشق اعوان کو گوجر خان سے منتخب ہونے والے پارٹی رکن قومی اسمبلی فواد چوہدری کی جگہ پر مقرر کیا ہے۔ فواد چوہدری اب سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں جو ایوی ایشن کی طرح پرکشش قلمدان نہیں ہے۔ ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا بھی نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص ہیں جنہیں حکومت نے وزارت صحت کیلئے مقرر کیا گیا۔ وہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عامر محمود کیانی کی جگہ سنبھالیں گے۔ 

کابینہ میں کی جانے والی تازہ ترین تبدیلیوں کے نتیجے میں اگرچہ چار غیر منتخب مشیر / معاونین خصوصی کابینہ میں شامل ہو گئے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی پارلیمانی طاقت میں سے کسی کو بھی ملک کے پالیسی ساز ادارے (کابینہ) میں شامل نہیں کیا گیا۔ غیر منتخب مشیروں / معاونین خصوصی کی کابینہ میں شمولیت ایسے نامزد کردہ افراد کی فہرست میں نیا اضافہ ہے جو اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر رزاق دائود وزیر اعظم کے مشیر تجارت ہیں، ڈاکٹر عشرت حسین وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ہیں، محمد شہزاد ارباب وزیر اعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ہیں، ملک امین مشیر ماحولیاتی تبدیلی ہیں، بیریسٹر شہزاد اکبر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ہیں، ذلفی بخاری خصوصی معاون برائے اوور سیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہیں، شہزاد سید قاسم خصوصی معاون برائے پاور، عثمان ڈار امور نوجوانان دیکھتے ہیں۔ 

کچھ غیر منتخب خصوصی معاونین وزیراعظم آفس میں وزیراعظم کو گھیرے رکھتے ہیں۔ اب وفاقی کابینہ میں پانچ مشیر اور 17؍ خصوصی معاونین ہیں۔ صدارتی نظام کے برعکس، پارلیمنٹ نظام میں کابینہ منتخب نمائندوں / ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس نظام میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام میں، صدر مملکت اور ان کی کابینہ پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہوتے۔ اگرچہ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت ہے لیکن حکومت کا طرزِ حکمرانی صدارتی اور پارلیمانی نظام کا ملاپ ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر وہ کون اہم شخصیت ہے جسے پارلیمنٹ میں آنا چاہئے لیکن نہیں آتی جبکہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے ہچکچاتی ہے جبکہ غیر منتخب مشیر / خصوصی معاونین کو منتخب ارکان پر ترجیح دی جاتی ہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

Who is Dr. Abdul Hafeez Shaikh?

Abdul Hafeez Sheikh is a Pakistani economist and politician who is the current advisor to the Prime Minister Imran Khan on Finance, Revenue and Economic Affairs, in office since April 2019. Previously, he has served as the Finance Minister of Pakistan between 2010 and 2013 and Provincial Minister for Finance and Planning in Government of Sindh between 2000 and 2002. He also had been member of the Senate of Pakistan between 2012 and 2018. On 18th April 2019, he was appointed as an Advisor to the Prime Minister of Pakistan for Finance after the cabinet reshuffle by Prime Minister Imran Khan. 

Early life and education
He was born in Jacobabad, Sindh. He holds Masters and Doctorate degree in Economics from the Boston University. 
Academic career
Shaikh well-known work includes a book on Argentina’s privatisation program. After his higher education, Shaikh joined the faculty of Harvard University in Cambridge, Massachusetts where he led research project for his doctoral students. While at Harvard, he also advised several countries on their economic policies and programs.
Political career
In 2000, he was made the Provincial Minister for Finance and Planning in the military government. He was elected to the Senate of Pakistan as a candidate of Pakistan Muslim League (Q) from Sindh in March 2003. He had been member of the Senate between 2003 and 2006. Later in April 2003, he was made the Federal Minister for Privatisation in Musharraf government. He was again elected to the Senate of Pakistan as a candidate of Pakistan Peoples Party (PPP) from Sindh in March 2006. He had been member of the Senate between 2006 and 2012. In March 2010, he was made the Finance Minister of Pakistan in Gillani ministry. He was again elected to the Senate of Pakistan as a candidate of PPP from Sindh in 2012. He had been member of the Senate between 2012 and 2016.  In February 2013, he resigned as the Finance Minister of Pakistan. In April 2019, he was appointed as an Advisor to the Prime Minister of Pakistan for Finance after the cabinet reshuffle by Prime Minister Imran Khan.

Courtesy : Wikipedia

اسد عمر کو کیوں ہٹایا گیا ؟

اسد عمر کو کیوں ہٹایا اس حوالے سے بھی چہ میگوئیاں چل رہی ہیں اور ان کی جگہ کون لے گا اس حوالے سے بھی خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلوں میں تاخیر اسد عمر کے استعفیٰ کی وجہ بنی۔ وزراتِ خزانہ کے ایک ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں بہت دیر کی۔ جس کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا۔ اسی طرح روپے کی قدر کم کرنے کا فیصلہ بھی وقت پر نہیں ہوا اور جب یہ کم ہوئی تو اس پر تنقید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، جس کی وجہ سے حکومت پر دباؤ پڑا اور اس کا سارا ملبہ اسد عمر پر گرا۔‘‘

لیکن کئی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جو شرائط آئی ایم ایف کر رہا ہے، وہ مکمل طور پر پوری کرنا کسی بھی وزیر کے بس کی بات نہیں۔ پلاننگ کمیشن کے ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ اسد عمر کو آئی ایم ایف کی شرائط پر سخت رویہ دکھانے پر گھر بھیجا گیا۔ پلاننگ کمیشن کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’آئی ایم ایف والے کہہ رہے ہیں کہ سی پیک کے حوالے سے مکمل اطلاعات دیں کہ زراعت، صنعت کاری اور ریئل اسٹیٹ میں چین کس طرح کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس پر سود کیا ہو گا۔ ادائیگیوں کا کیا طریقہ کار ہو گا اور یہ ادائیگیاں کیسے کی جائیں گی؟ آئی ایم ایف کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ دفاع کے حوالے سے بجٹ کی بھی تفصیلات دی جائیں۔ یہ ایسی شرائط ہیں، جن کو کوئی وزیر پورا نہیں کر سکتا تو آنے والے وزیر کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

 

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کون ہیں؟

وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ تعینات کیے گئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ معاشی پالیسی سازی میں 30 برس سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہے پھر 1990 کے عشرے میں سعودی عرب میں عالمی بینک کے ڈائریکٹر اکنامک آپریشنز کے فرائض انجام دیئے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی ایک کتاب سمیت بہت سی تصانیف ہیں۔ حفیظ شیخ نے 21 ممالک میں ماہر معاشیات کے طور پر خدمات سر انجام دیں

بعدازاں 2000 سے 2002 کے دوران سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے پھر 2003 سے 2006 کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری کے طور پر فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے پیپلز پار ٹی کے دور میں 2010 سے 2013 کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ حفیظ شیخ 2012 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئے اور سینیٹ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ