ایک باپ کی تڑپ اور مخصوص سیکولر طبقہ کی سرد مہری

ایک دکھی باپ کے پہلے مجھے وٹس ایپ پر پیغام موصول ہوئے پھر فون پر اُس سے گفتگو ہوئی تو اُس کی بات سن کر دل دہل گیا۔ اُس کے پانچ سالہ بیٹے عمر راٹھور کو 21 دسمبر 2019 کو بھارہ کہو اسلام آباد سے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا پھر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا لیکن وہ کہتا ہے کہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ پھول جیسا بچہ، جس کی تصویریں بھی مجھے بھیجی گئیں، کو زیادتی کا شکار بنا کر انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ باپ کہتا ہے کہ بچے کی ماں اور بہن، بھائیوں کی حالت بھی بہت خراب ہے، جب واقعہ ہوا تو حکمران آئے، میڈیا نے بھی خوب کوریج دی لیکن اب کیس ہے کہ چلتا ہی نہیں۔ اسلام آباد کی ماڈل کورٹ میں کیس بھیجا گیا کہ تین ماہ میں فیصلہ ہو لیکن ابھی تک ملزموں پر فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ اب نہ حکمران اور رہنما نظر آتے ہیں، نہ ہی میڈیا کو اب اس کیس میں کوئی دلچسپی ہے۔ اُس باپ، جس کا نام مختار راٹھور ہے، نے بتایا وہ بڑے کرب سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بہت بےقرار اور مایوس ہو چکا ہے۔

کہنے لگا کہ کہنے کو تو میرے بچے کا کیس ماڈل کورٹ میں اس لئے بھیجا گیا کہ جلد انصاف ملے لیکن وہاں سے بھی ہر ماہ نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ یہ بھی کہا کہ جب اپنے بیٹے کے بارے میں سوچتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ قاتل آرام سے جیل میں بیٹھے ہیں بلکہ اب عدالتوں میں اپنی ضمانتوں کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں تو میں برداشت سے باہر ہو جاتا ہوں۔ کہنے لگا، قاتلوں کو سرِعام پھانسی لگے دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہمارا دل اور کلیجہ بھی ٹھنڈا ہو لیکن اب مایوسی کی یہ حالت کہ سوچتا ہوں، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے سامنے جا کر خود سوزی کر لوں۔ میرے پوچھنے پر مختار راٹھور نے بتایا کہ پولیس نے چالان مکمل کر لیا، ملزموں کی ڈی این اے رپورٹس بھی آ چکیں، فنگر پرنٹس کی بھی تصدیق ہو چکی، پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موجود ہے لیکن کیس ہے کہ چلنے کا نام ہی نہیں لیتا، جس کے وجہ سے ہر گزرتا دن مایوسی کو بڑھائے چلا جارہا ہے۔

مختار کا کہنا تھا کہ بیٹا گنوا دیا، اپنا محلہ بھی چھوڑ دیا کیوںکہ ملزمان اُسی محلہ میں رہتے تھے لیکن انصاف ہے کہ سب ثبوتوں کے باوجود مل نہیں رہا۔ کہنے لگا کہ میرے ساتھ ظلمِ عظیم ہوا، بیٹے کو اغوا کر کے چار درندوں نے زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔ الماری میں بند ٹیپوں سے جکڑی ہوئی نعش ملی جسے دیکھ ہر آنکھ اشک بار ہوئی اور لوگوں کے سینے چھلنی ہوئے۔ قتل سے پہلے عمر کے پیٹ میں لاتیں بھی ماری گئیں ، اس کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا لیکن ہم ابھی تک انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ ایک نہیں بلکہ ہزاروں ماں باپ کی کہانی ہے۔ کوئی دو تین سال قبل قصور کی زینب کے ساتھ جو زیادتی ہوئی تو پورے ملک میں ایک بےچینی پھیل گئی۔ ہر کوئی قاتل کو پکڑ کر اُسے نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ اور دعائیں کرتا رہا لیکن اُس کے قاتل، جس نے کم از کم آٹھ بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اور اُنہیں قتل کیا، کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا۔

پھانسی دے دی گئی لیکن زینب کے باپ اور کروڑوں پاکستانیوں کے مطالبہ کے باوجود اُسے سرعام نہیں لٹکایا گیا۔ وہ نشانِ عبرت تو نہ بنا لیکن اُس واقعہ کے بعد کوئی دن نہیں گزرا جب کسی نہ کسی بچے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات سامنے نہ آئے ہوں۔ سینکڑوں یا شاید ہزاروں بچوں کو اس عرصہ میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا گیا لیکن مجھے زینب کے قاتل درندہ صفت عمران علی کے علاوہ کسی ایک ایسے درندے کا نام بتا دیں جسے پھانسی دی گئی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ چند ایک کو پھانسی دی بھی گئی ہو لیکن نہ اُس کا عوام کو کوئی علم نہ میڈیا کو اور یہ وہ بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر درندہ صفت روز بروز اپنی درندگی میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں جبکہ مظلوموں کی لسٹ ہے کہ اُس میں بےپناہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ موٹروے پر خاتوں کو اُس کے بچوں کے سامنے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لاہور موٹروے سانحہ کے ایک یا دو روز بعد ہی کوئی دس ریپ کے واقعات میڈیا کے ذریعے سامنے آئے جن کا شکار بچے اور عورتیں تھیں۔ نشانِ عبرت بنائیں تو دیکھیں کہ کیسے معاشرہ سدھرتا ہے۔ جنرل ضیاء مرحوم کے دور میں لاہور میں ایک کیس جسے شاید پپو کیس کے حوالے سے جانا جاتا ہے، میں بچے کے ساتھ زیادتی اور اُسے قتل کرنے والے کو سرعام پھانسی دی گئی۔ میری این جی اوز، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے ایک خاص طبقہ جو اسلامی سزائوں کا مخالف ہے، سے گزارش ہے کہ ذرا ڈیٹا نکالیں کہ اُس پھانسی کے بعد چار پانچ سال ایسے واقعات میں کتنی کمی ہوئی۔ میری اسلامی سزاؤں کے مخالفین سے یہ بھی درخواست ہے کہ ذرا سعوی عرب اور ایران کا امریکا اور برطانیہ سے بھی موازنہ کر کے دیکھ لیں۔ اگر بُرا نہ منائیں تو افغانستان میں طالبان دور میں کرائم ریٹ کا موازنہ اُن سے پہلے اور بعد کے ادوار سے بھی کر لیں۔ اپنے سیکولر نظریہ اور مغرب پسندی کی وجہ سے خدارا اس قوم کے بچوں اور خواتین کو مزید غیرمحفوظ نہ کریں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

جنابِ شیخ کی کتابِ زندگی

شیخ رشید کا کوئی انکار کرے یا اعتراف، ان سے اتفاق کرے یا اختلاف، ان سے محبت کا دم بھرے یا نفرت کے بخار میں مبتلا رہے، ان کو داد دے یا بے داد، ان کی بلائیں لے یا اپنی بلائیں ان کے سر لاد دے، اِس کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ وہ پاکستانی سیاست کا ایک منفرد کردار ہیں۔ اپنی مثال آپ۔ انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں۔ سونے تو کیا چاندی کا چمچہ بھی منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ایک عام سے گھرانے میں ایک عام سے بچے کی طرح اِس دُنیا میں وارد ہو گئے۔ گورے چٹے تھے، انہیں دیکھ کر دیکھتے چلے جانے کو جی چاہتا تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ وہ ”جماندرو سیاستدان‘‘ ہیں۔ زمانہ طالب علمی ہی میں ان کے اندرکے سیاستدان نے اپنے آپ کو متعارف کرانا شروع کر دیا تھا۔ پاکستانی سیاست میں آج کوئی شخص ایسا نہیں‘ جو ایوب خان کے خلاف نعرہ زن رہا ہو، اور پھر مسلسل اپنے وجود کا احساس دلاتا چلا گیا ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کو انہوں نے زچ کیا، جنرل ضیاالحق کو بھی کھٹکتے رہے، محمد خان جونیجو کے ساتھ مصافحہ کیا، نوازشریف کے ساتھ معانقہ فرما ہوئے، بلکہ یہ کہیں کہ ”جپھیاں‘‘ ڈالیں۔

جنرل پرویز مشرف کی نگاہ میں پسندیدہ ٹھہرے۔ عمران خان کے ساتھ آنکھ لڑی تو انہی کے ہو رہے۔ عمران خان کی سیاست نے شیخ صاحب سے فیض حاصل کیا یا شیخ جی نے ان سے فائدہ اٹھایا ہے، اس بارے میں ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کے گٹھ جوڑ نے دونوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ سیاست میں یکطرفہ ٹریفک نہیں چلتی۔ نوازشریف کے خلاف دونوں کے اتحاد ہی نے انہیں ایوانِ اقتدار سے نکلنے پر مجبور کیا، اور اب سیاست میں ان کا راستہ روک کر کھڑے ہیں۔ شیخ صاحب راولپنڈی کی اسی لال حویلی میں رہائش پذیر ہیں، جہاں ان کا بچپن اور لڑکپن گزرے۔ انہوں نے اپنا علاقہ بدلا، نہ ووٹر بدلے، نہ طور طریقے بدلے، 85ء سے اب تک یہیں سے انتخاب میں حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں۔ ایک دوبار ناکامی کا منہ بھی دیکھا لیکن اسے دِل سے نہیں لگایا، کامیابی کا تسلسل برقرار رہا، اور آج بھی وہ راولپنڈی شہرکی نمائندگی قومی اسمبلی میں کر رہے ہیں۔

شیخ صاحب بڑے پُرزور بلکہ منہ زور مقرر ہیں۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم ان کے سرپرست تھے۔ چودھری ظہورالٰہی شہید ان پر فدا تھے، مجید نظامی مرحوم ان کے قدردان تھے، اور ہمارے جیسے عامی بھی، ان کیلئے دُعا گو رہے۔ وہ جلسوں کو لوٹتے رہے، ٹی وی سکرین پر چھائے رہے، پروگراموں کی ریٹنگ بڑھاتے رہے۔ انہوں نے زبان سے بندوق کا کام لیا، بعض اوقات اسے ہتھوڑا بھی بنا ڈالا، جو منہ میں آیا، کہہ ڈالا، اپنے لگائے گئے زخم پر مرہم رکھنے کی ضرورت سے بے نیاز رہے۔ حرف معذرت ان کی لغت میں نہیں۔ شیخ صاحب اسیر بنے، وزیر بنے، پھر اسیر ہوئے، پھر وزیر ہوئے، ان کے خلاف مقدموں پر مقدمے بنے۔ وہ جو مولانا ظفرعلی خان نے کہا تھا کہ؎

بچپن ہی سے لکھی تھی مقدر میں اسیری
ماں باپ کہا کرتے تھے، دِل بند جگر بند

وہ شیخ صاحب پر بھی صادق آتا ہے۔ نابالغ تھے تو جیل جانا شروع کیا اور چند برس پہلے تک یہ عادت برقرار تھی۔ انہوں نے ایوانِ اقتدار کا لطف خوب اٹھایا، اور کوچۂ اختلاف میں بھی نقش جمایا۔ ان کی آنکھوں نے بہت کچھ ایسا دیکھا، جو بہت کم کو دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ انکے کانوں نے بہت کچھ ایسا سنا‘ جس کی سن گن بہت سوں کو نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے کو الفاظ کے کوزے میں بند کر کے پاکستانی سیاست اور اپنی زندگی کے کھلے اور چھپے گوشوں تک اہلِ وطن کی رسائی ممکن بنا دی ہے۔

انکی زندگی کا اچھا خاصا حصہ کھلی کتاب کی طرح ہے، انکی خود نوشت میں دھماکہ خیز انکشافات ہیں تو ان کے تندو تلخ تبصرے بھی موجود ہیں۔ وہ بے دھڑک اپنی بات کہہ گزرتے ہیں، حرف مطبوعہ میں بھی وہی شیخ رشید نظر آئے گا، جو جلسے میں یا ٹی وی سکرین پر نظر آتا ہے۔ انہیں دوستی نبھانا آتا ہے اور دشمنی کا حق بھی ادا کر سکتے ہیں‘ چھپ کر وار کرنے کے قائل نہیں، حریف کو للکارتے، میدان میں بلاتے، پھر اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ وہ ”وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیلتے‘‘۔ ”پنڈی بوائے‘‘ سے فرزندِ پاکستان بننے تک انہوں نے اپنا کلچر بدلے بغیر بہت کچھ بدل ڈالا۔ ان کی خود نوشت ان سیاسی کارکنوں کیلئے نصابی کتاب کی اہمیت رکھتی ہے، جو وسائل کی کمی سے گھبرا کر حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی کتابِ زندگی ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دِل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

مندرجہ بالا سطور شیخ رشید کی حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘‘ کے دیباچے کے طورپر لکھی گئی تھیں۔ ”دُنیا پبلشرز‘‘ کے تحت شائع ہونے والی اس پہلی کتاب کے دو ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں، اور تیسرے ایڈیشن کی تیاری جاری ہے۔ کم کتابوں کوایسی پذیرائی حاصل ہوئی ہوگی، جیسی ان کی تصنیف کے حصے میں آئی ہے۔ ملکی سیاست اور اس کے حریفوں اور حلیفوں سے قطع نظر گزشتہ چند روز کے دوران شیخ صاحب نے ایک بہت ہی اہم معاملے کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی ہے، اور وہ ہے وطنِ عزیز میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت۔ شیعہ اور سنی تصادم پیدا کرنے والے سرگرم ہو چکے ہیں، غیر ذمہ دار عناصر جو طرح طرح کے مقدس لبادے اوڑھے ہوئے ہیں، آگ بھڑکانے میں لگے ہیں۔

مسلمانوں میں مختلف فقہی مسالک صدیوں سے موجود ہیں۔ اختلاف رائے ایک حد میں رہے تو یہ باعثِ رحمت ہوتا ہے کہ اس سے سوچ کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ مختلف واقعات کی تعبیریں مختلف ہو سکتی ہیں، مختلف نکات کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان کو کفر اور اسلام کا معاملہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خوب سے خوب تر کی تلاش (اپنے اپنے ذوق کے مطابق) جاری رکھنے والے ایک دوسرے سے مختلف راستوں پر جا نکلتے ہیں، جیسے کسی مقدمہ قتل میں ایک عدالت ایک شخص کو بری کر دیتی ہے تو اس سے اعلیٰ عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے۔ دونوں کی بنیاد مقدمے کی ایک ہی فائل میں بیان کردہ حقائق پر ہوتی ہے۔ فقہی اختلافات کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ ایک بار رسول اللہؐ نے ایک وفد ایک مہم پر روانہ کیا تو ہدایت کی کہ نمازِ عصر منزل پر جا کر پڑھنا ہے۔ سفر کے دوران تاخیر ہوئی، نماز کا وقت آیا تو ارکان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔

ایک رائے تھی کہ حضورؐ نے جو فرمایا، وہ جلد پہنچنے کی تاکید کیلئے تھا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے؛ چنانچہ اس رائے کے حاملین نے نماز ادا کر لی، دوسری رائے یہ تھی کہ الفاظ واضح ہیں، اِس لئے نماز بہرطور منزل ہی پر جا کر پڑھی جائے گی، وفد واپس آیا تو یہ معاملہ حضورؐ کی خدمت میں رکھا گیا، آپ مسکرا دیے اور کسی کو بھی حکم عدولی کا مرتکب قرار نہیں دیا۔ دونوں ہی فرمانبردار تھے۔ فقہی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ان کیلئے مرنے مارنے پر اتر آنے کی اسلام تو کیا انسانیت بھی اجازت نہیں دے سکتی۔ شیخ رشید نے جس خطرے کی نشاندہی کی ہے، وہ خیالی نہیں حقیقی ہے۔ ہمارے اردگرد ہی نہیں، ہمارے سروں پر بھی منڈلا رہا ہے، سیاسی اختلافات اور وابستگیاں جو بھی ہوں، فرقہ وارانہ لہر کو بھڑکنے سے روکنا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی پر لازم ہونا چاہیے۔ اس کیلئے سب سر جوڑ کر بیٹھیں، تو سب کے سر سلامت رہیں گے۔ شیخ رشید وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کیلئے پیش قدمی پر آمادہ کریں۔ ان کا ہاتھ بڑھے گا، تو اسے تھامنے والے بھی آگے بڑھ سکیں گے۔

مجیب الرحمان شامی

بشکریہ دنیا نیوز

جلد انصاف کی اہمیت : ارشاد حسن خان…سابق چیف جسٹس پاکستان

پاکستان کے دیوانی و فوجداری نظامِ انصاف کو بیشمار مسائل، مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ جن میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور بالخصوص عرصہ سے فیصلہ طلب پڑے مقدمات کا ڈھیر اہم ترین ہیں۔ اس حوالے سے اگر ہم اپنے خطے کے یا دیگر ممالک پہ نگاہ ڈالیں تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دیگر ممالک میں رائج نظام ہائے انصاف بھی انہی مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ دائمی مسئلہ ترقی پذیر معاشروں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت تقریباً سبھی اقوام کے لئے مستقلاً پریشانی اور فکر مندی کا باعث بن چُکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 17 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہے۔ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 37 ہزار 843 ہے۔ عدالتوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود فیصلوں کے منتظر مقدمات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اُتنے کیس فیصلہ نہیں ہوتے جتنے نئے آجاتے ہیں۔

ہمیں یہ سوچ کر مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے کہ یہ مسئلہ ترقی پذیر معاشروں تک محدود نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت سبھی اقوام کے لئے مستقلاً پریشانی اور فکر مندی کا باعث ہے۔ یہ مسئلہ اُن معاشروں کیلئے تو اتنا سنگین نہیں جہاں سزائے موت موقوف ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ مبینہ قاتل کی بریت کے فیصلے تک ’’قاتل‘‘ جیل میں ہی فوت ہو چُکا ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ ’’قاتل‘‘ اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیل کی منظوری سے کئی سال قبل راہی ملک عدم ہو چُکا ہوتا ہے۔ یوں بھی ہوا ہے کہ بااثر دشمنوں کے انتقام کا نشانہ بننے والے نوجوان کو کہیں بڑھاپے میں جا کر بریت نصیب ہوئی۔ انصاف کے حصول میں جائیدادیں بِک جاتی ہیں۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے کنگال اور عمر کے قیمتی سال غارت ہو جاتے ہیں جس نے صاحبِ فکر اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔

یہ کہنا غیرضروری نہیں ہو گا کہ اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ سینکڑوں نئی عدالتیں بنا کر ہزاروں جج تعینات کر دیے جائیں، اول تو ملک کی معیشت اتنے بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی، دوسرا جب تک معاشرے کی مجموعی سوچ نہیں بدلی جائیگی۔ اس حوالے سے جہالت کا ماتم فضول ہے۔ یہاں تو بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ معمولی جھگڑوں کو لے کر عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ جب تک لوگوں کے دلوں میں صبر، برداشت اور معاف کرنے کی اسلامی اقدار راسخ نہیں کی جائینگی مقدمہ بازی کے ناسور سے جان نہیں چھوٹے گی۔ اس ضمن میں پولیس کی روش اور کردار کو بدلنا بھی بہت ضروری ہے جو گلی میں بچوں کی لڑائی پر کسی ایک فریق کے اثر میں آکر شیر خوار بچے پر بھی دہشت گردی کی دفعات لگا کر عدالتوں کے کا م کو بڑھا دیتی ہے۔ عدالتی تاخیر کے مسئلے کا حل نہ تو جج صاحبان کی تعداد میں بڑے پیمانے پہ اضافہ ہے اور نہ ہی خصوصی عدالتوں کا قیام بلکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر میں کمی صرف وہی جج صاحبان کر سکتے ہیں جو اس بات پہ اصرار کر سکیں کہ وکلاء پراسیکیوٹر اور فریقین سبھی مقدمہ کے فیصلہ کیلئے مقرر کی جانیوالی تاریخ کی آخری حد تک پابندی کریں۔

ایسی کوشش کیلئے ضروری ہے کہ جج صاحبان فکر اور لگن کے حامل ہوں۔ جج صاحبان کو ایسے وکلاء اور پراسیکیوٹروں کی جانب سے غالباً تلخی کا سامنا کرنا پڑیگا جن کے اپنی مرضی کی تاریخ سماعت مقرر کروانے کے استحقاق میں خلل پڑیگا۔ صورتِ حال خواہ جو بھی ہو، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا سدِ باب بڑی حد تک عدالتی امور کو بہتر طور پہ چلانے کی تراکیب کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے نہ کہ نئی عدالتوں کے قیام یا جج صاحبان کی تعداد میں اضافہ سے۔ میں اس بات پہ زور دوں گا کہ افسرانِ جلیل اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ قانون اور ضابطے کی حدود کے اندر رہتے ہوئے دیوانی اور فوجداری مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں اضافہ کیلئے ایسی تراکیب اختیار کریں جو تاخیر میں کمی اور سابقہ جمع شدہ مقدمات کے فیصلے پہ منتج ہوں۔ تاہم یہاں میں تنبیہ کرتا چلوں کہ انصاف کی قربانی کی قیمت پر مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لانے کو کسی صورت میں انصاف نہیں کہا جاسکتا۔ ’’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار‘‘ اور ’’انصاف میں جلد بازی، قتل انصاف‘‘ دونوں قانونی سچائیوں میں توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تیز رفتاری اور مستعدی عدالت کی آخری منازل نہیں ہونی چاہئیں البتہ یہ سب کچھ انصاف کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔ محرم علی بنام وفاقِ پاکستان کے مشہور مقدمہ میں اس معاملے پہ میں نے درج ذیل خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ’’مقدمات کے جمع ہونے اور تاخیر کی وجوہات کو مختلف اسباب اور عوامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ نظامِ انصاف آبادی میں اضافے اور اس کے نتیجہ میں بڑھنے والی مقدمہ بازی کیساتھ رفتار قائم نہیں رکھ سکا۔ مقدمہ بازی میں اضافہ کا تعلق شرح خواندگی میں اضافے اور عوام کے اندر اپنے حقوق و مفادات کے بارے میں شعور اور آگہی سے بھی ہے۔ جو کہ بلاشبہ ایک مہذب رویے اور قانون کی حکمرانی کے احترام کا مظہر ہے۔ ’’یہ سچ ہے کہ بہت ساری شکایات کا تعلق سرکاری حکام کے امتیازی اقدامات اور ان کے صوابدیدی اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہے۔ جن سے لوگوں کے حقوق، مفادات اور آزادیوں پر زد پڑتی ہے۔ یوں متاثرہ افراد ناانصافی کے ازالے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔

مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کو یکے بعد دیگرے آنیوالی حکومتوں کی طرف سے ملکی نظامِ انصاف کو مضبوط و مستحکم کرنے کے بارے میں بےعملی یا بہت ہی کم عملی سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔ عدالتوں، خاص طور پہ ماتحت عدالتوں کے پاس موثر کارکردگی کیلئے درکار مناسب وسائل کا نہ ہونا ہے۔ بلاشبہ کئی عدالتیں انتہائی بےسرو سامانی کے حالات میں کام کر رہی ہوتی ہیں یعنی عدالتی افسران اور انتظامی عملہ کی مستقل کمی۔ کچھ شعبوں میں ججز کی تعداد کو دگنا بلکہ تگنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیرِ التوا مقدمات کے ساتھ رفتار برقرار رکھی جا سکے۔ ناکافی عدالتی عمارتیں، جج صاحبان اور انتظامی عملہ کیلئے رہائشی سہولتوں کے فقدان کا مسئلہ بھی مذکورہ بےسرو سامانی کی کڑی ہے۔ ان عدالتوں کے پاس مناسب دفتری سازوسامان کی کمی ہے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی تک بھی رسائی حاصل نہیں حتیٰ کہ ان کی لائبریریوں میں قانون اور فیصلوں کے متعلق انتہائی ضروری کتابیں بھی نہیں پائی جاتیں۔ میرے خیال میں ماتحت عدلیہ کی کارکردگی پر سست نگرانی بھی تاخیر کی وجوہات میں شامل ہے۔ لہٰذا میں نے متعلقہ ہائی کورٹوں کے ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان کی کارکردگی کے جائزے اور جانچ پڑتال پہ زور دیا ہے جو کہ ان عدالتوں پر کنٹرول اور نگرانی پہ مامور ہیں۔

عدالتی کارروائی کا موثر بندوبست نہ ہونا، مقدمات کی نامکمل فائلیں، قانونی و عدالتی تربیت کے نظام میں نقائص، تنازعات کے متبادل حل کے نظام کا عدم استعمال، پرانے قوانین، غیرلچکدار ضابطے، سبھی خراب صورتِ حال میں اضافہ کرتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی طرف پیش قدمی، شہری زندگی کا رجحان، نجکاری کی پالیسی اور اس کے نتیجہ میں مزدوروں کی تخفیف کا عمل، جیسے عوامل معاشرتی ڈھانچے میں مزید دراڑیں ڈالتے ہیں اور جرائم کے گراف کو اونچا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بلاشبہ یہ فہرست بڑھتی ہی جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال امنِ عامہ میں خرابی کا باعث بنتی ہے اور اقتصادی ترقی کے امکانات کو کم کرتی ہے۔ یہ اگر انصاف تک رسائی کو ناممکن نہ بھی بنائے تو بھی اس کو محدود ضرور کرتی ہے اور نظامِ انصاف پر عدم اعتماد کا باعث بنتی ہے۔ چیلنج کا حل : گوکہ عدالتی نظام کو درپیش مسائل اور مشکلات بہت ہی گمبھیر اور بھیانک نظر آتے ہیں، تاہم میرے خیال میں یہ ہمیں انہیں حل کرنے کا بیش بہا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ میں نے نظامِ انصاف کے سربراہ کے طور پر چیف جسٹسز کمیٹی، سپریم جوڈیشل کونسل اور پاکستان لا کمیشن جیسے اداروں کے فورم پر ایک منظم حکمت عملی کے تحت باقاعدہ بحث و مباحثہ اور غور و فکر کے بعد قابلِ عمل اور مقررہ وقت والے اقدامات تجویز کرنے کی سعی کی ہے جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

(1) عدلیہ کے تنظیمی ڈھانچے کی ہر سطح پر مروجہ طریقہ کار کے مطابق خالی اسامیوں پر تعیناتی عمل کا آغاز کیا جانا۔ (2) مقدمات کو تیزی سے نبٹانے کو یقینی بنانے کیلئے عدالت عالیہ میں مخصوص شعبوں کیلئے خصوصی بنچز کی تشکیل۔ (3) مقدمات کو نبٹانے کے مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے اوقات کار میں اضافہ۔ (4) سابقہ جمع شدہ مقدمات اور معاشرے کے کمزور طبقات بشمول بیوگان، نابالغان، بیویوں کے نان ونفقہ کے دعویٰ جات، نابالغ بچوں کی حوالگی وغیرہ کے مقدمات کے جلد فیصلہ کیلئے حکمت عملی کا مرتب کیا جانا۔ (بحوالہ فیصلہ جات چیف جسٹسز کمیٹی) (5) عدالت عالیہ اور ماتحت عدلیہ میں فیصلہ ہونے والے سابقہ جمع شدہ مقدمات اور نئے دائر ہونے والے مقدمات کے بارے میں ہفتہ وار اور ماہوار رپورٹوں کا مرتب کیا جانا۔ (6) ناکافی کارکردگی، نامناسب رویہ یا بدعنوانی وغیرہ کی بنا پر عدالتی افسران و انتظامی عملہ کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کے ذریعے انکے اندر نظم و ضبط پیدا کرنے جیسے اقدامات۔ (7) مقدمات کے جلد فیصلے کیلئے ماتحت عدالتوں کو ہدایات کا جاری کیا جانا۔ (8) نئے بھرتی ہونے والے جج صاحبان کیلئے قبل ازسروس، جبکہ دیگر جج صاحبان کیلئے دوران سروس تربیتی کورسوں کا انعقاد۔ (9) مثالی کارکردگی دکھانے والے عدالتی افسران کیلئے تعریفی اسناد۔ (10) مقدمات کے جلد فیصلے کیلئے ماتحت عدالتوں کو ہدایات کا جاری کیاجانا وغیرہ۔

اس پروگرام کے شروع کئے جانے کے بعد نتائج بہت ہی حوصلہ افزا رہے۔ تمام عدالتوں بشمول عدالتِ عالیہ اور ماتحت عدالتوں کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ اعداد و شمار، جن میں زیرِ التوا مقدمات، نئے دائر ہونے والے مقدمات، کل تصفیہ طلب مقدمات، اور جس حدتک زیرِ التوا مقدمات میں کمی ہوئی۔ تفصیلات کیلئے 2000 اور 2001 سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس ملاحظہ کی جا سکتی ہیں‘‘۔ میں نے بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان 20 برس پہلے جو اقدامات کئے وہ آج بھی قابلِ عمل ہیں۔ جب میں اپنے اصلاحی اقدامات اور سفارشات کو موجودہ تناظر میں دیکھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ازحد اطمینان ہوتا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے جو انقلابی اور دور رس نتائج کے حامل انتظامی اور عدالتی فیصلے کیے ہیں وہ میر ی تمنا کے عین مطابق ہیں۔ خصوصاً انہوں نے کراچی کے لاینحل مسائل کو حل کرنے اور اسے جنوبی ایشیا کا خوب صورت، منظم اور شہری سہولتوں سے آراستہ شہر بنانے کیلئے جو فیصلے اور اقدامات کئے ہیں وہ یقیناً نتیجہ خیز ہوں گے اگر دُنیا میں کہیں کسی بھی شہری آبادی کو منضبط زندگی کا حامل بنانے کے تقاضے درپیش ہونگے، تو چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کے فیصلوں اور اقدامات سے لازماً استفادہ کرنا پڑے گا۔

 ارشاد حسن خان…سابق چیف جسٹس پاکستان

بشکریہ روزنامہ جنگ

اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے

ہمیں وزیر اعظم عمران خان کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی والا بیان اب سمجھ میں آیا ہے۔ محترم وزیر اعظم اس بیان کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے ذہن میں حوالہ شاید اس بےلگام گفتگو کا تھا جو ان کے تحت چلنے والے نظام میں ان کے پیارے اور چہیتے کسی بھی موضوع پر کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اس گفتگو سے واضح ہوئی جو اس افسر نے موٹر وے پر ریپ ہونے والی خاتون کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کی۔ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔ بیان میں اپنے اندر کی جذباتی کیفیت کو چھپائے بغیر نیم سوالیہ نشان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو شام کے وقت اس طرح باہر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک نام نہاد وضاحتی بیان میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون چونکہ فرانس سے آئی تھیں لہذا ان کے ذہن میں اس معاشرے کا معیار اور ماحول تھا جو پاکستان کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس طرح کے تجزیے ایک ایسے پولیس افسر کی طرف سے، جو تفتیش پر بھی مامور ہو، جرم کا شکار ہونے والے خاندان پر بجلی کی طرح گرے ہوں گے۔ اس بات پر اصرار کہ یہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین واقعے کی بالواسطہ طور پر خود ذمہ دار ہیں، جرم میں شراکت داری کے الزام کے مترادف ہے۔ جرم کا شکار ہونے والوں کو ذہنی اذیت دینا، تفتیش سے پہلے مفروضوں کی بنیاد پر الٹے سیدھے نتائج اخذ کرنا جرم کی نوعیت اور سنجیدگی کو متاثر کرنے کی ایک مذموم کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر کسی بھی معاشرے میں افسر کو تفتیش اور عہدے سے ہٹا کر باضابطہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سی سی پی او خاص آدمی ہیں اور ان کو لانے کے لیے ایک آئی جی کی باقاعدہ قربانی دی گئی ہے لہٰذا ان کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو فارغ کیے گئے آئی جی شعیب دستگیر سے پوچھ لیں یا سلیکشن بورڈ کی اس رپورٹ کو پڑھ لیں جو ان کے تمام کیریئر کا احاطہ کرتی ہے۔

اسی آزادی کا فائدہ شہزاد اکبر نے بھی اٹھایا اور سی سی پی او کے دفاع میں لمبی چوڑی وضاحتیں دیں۔ قوم کو یہ بتایا کہ عمر شیخ کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے۔ ستم طریفی یہ ہے کہ عمر شیخ خود اپنے بیان پر مکمل استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہزاد اکبر کی وضاحتوں کے برعکس بار بار ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ اسد عمر کو بھی اظہار آزادی رائے سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ دانش مندی کے نئے دروازے کھولتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں عمر شیخ کے بیان کو بار بار’غیر ضروری‘ قرار دیتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان کے اس بیان میں کوئی پہلو غیرقانونی نہیں ہے لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بےجا ہے۔  اسی موضوع پر چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کو ایک ڈھیلے ڈھالے اور انتہائی دوستانہ انٹرویو میں سی سی پی او عمر شیخ کے بیانات کی مذمت کرنے کے اتنے ہی مواقع دیے گئے جتنے نقلی ریسلنگ کے مقابلوں میں ایک ریفری اپنے پسندیدہ پہلوان کو بار بار جتوانے کے لیے دیتا ہے۔ مگر ہر مرتبہ عثمان بزدار وہی کہہ سکے جو ان کو رٹوایا گیا تھا یعنی وہ مجرموں تک پہنچ جائیں گے اور کمیٹی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ان کے اظہار رائے پر پابندی صرف ان کی اپنی مجبوریاں ہیں جن کے تحت وہ اس پولیس افسر کو کسی طور غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ اگر اس کو بچانے کے لیے ایک آئی جی گرایا جا سکتا ہے تو چیف منسٹر کے آفس کے اندر بھی ہنگامہ مچ سکتا ہے، لہذا کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سر چھپا کر بیٹھے رہو، دامن پر کسی اصول کا دھبہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ خواہ مخواہ داغ نمایاں نظر آئے گا۔ کیا فائدہ۔ سوشل میڈیا پر ایک چیتے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون ایک بلیک میلر بھی ہو سکتی ہیں اور یہ واقعہ ن لیگ کا سی سی پی او اور حکومت کے خلاف ایک سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس موصوف کے 42 ہزار کے لگ بھگ فالورز ہیں اور یہ اپنے آپ کو ایک قابل فخر جماعت کے کارکن کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔

سی سی پی او عمر شیخ کی قوم کی ماؤں بہنوں کو جاری کردہ ہدایت کہ وہ آئندہ احتیاط کریں، بھی حق اظہار رائے کی ایک قسم ہے۔ اس طرح کی ہدایات ان جیسے افسران سے اٹی ہوئی ریاست اپنے مجبور شہریوں کی مدد کے لیے وقفے وقفے سے جاری کرتی رہتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب قصور میں زینب کے قتل اور زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تو اس ریاست کے طاقتور ترین، محفوظ قلعوں میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے قائدین نے قوم کو کیا مشورہ دیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ ماں باپ کو اپنی بچیوں کی خود حفاظت کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ بےنظیر بھٹو جب دہشت گردی کے ہاتھوں دن دہاڑے لیاقت باغ کے باہر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ایک انگریزی اخبار میں آرٹیکل کے ذریعے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بےنظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ جنرل مشرف، ان کے تمام وزرا اور مشیر (جن سے اس وقت 70 فیصد حکومت بنی ہوئی ہے) طویل عرصے تک بےنظیر بھٹو کی مبینہ بےاحتیاطی کو بیان کر کے اس سانحے کی وضاحت کرتے رہے۔

اخبارات میں آئے روز چھپنے والے بچوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات سے متعلق اکثر پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان بھی ایسا ہی ہوتا ہے جس میں والدین کو اولاد سے نظر ہٹانے پر سرزنش کی جاتی ہے۔ اپنی طرف سے یہ تمام لوگ ایسے بیانات دے کر اپنے فرائض کی انجام دہی کے ریکارڈ کو بہترین انداز سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، مگر اصل میں وہ گھناؤنے جرائم کے وکیل کے طور پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر احتیاط والی توجیہہ کو مان لیا جائے تو پھر ریاست اور حکومت کے کرنے کا کوئی کام نہیں رہ جاتا۔ اے پی ایس پشاور کے بچوں کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دن ان کو سکول سے چھٹی کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔ اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو ان کو وہ دن اپنی تمام تر بدنصیبیوں کے ساتھ نہ دیکھنا پڑتا۔ اسی سوچ کے تحت آپ مجید اچکزئی کی گاڑی کے نیچے آنے والے ٹریفک پولیس والے کے خاندان کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کے آگے سے ہٹ کیوں نہیں گیا۔

قصور گاڑی چلانے والے کا نہیں کانسٹیبل کا تھا جس نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔ ساہیوال کے واقعے میں تلف ہونے والی جانوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا الزام دیا جا سکتا ہے۔ نقیب اللہ مسحود کو بھی موت کا خود ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں جل جانے والے اگر وہاں کام نہ کر رہے ہوتے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جانیں بچ جاتیں۔ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی مکمل ہے۔ وزیر اعظم صحیح کہتے ہیں۔ یہاں پر رائے دینے کے لیے اپنے حواسوں میں ہونا ضروری نہیں۔ ہر مخبوط الحواس خود کو منبع عقل سمجھ کر کچھ بھی بول سکتا ہے۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

شہریوں کی محافظ پولیس

میں اگر یہ عرض کیا کرتا ہوں ہمارا ملک نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ ہی پرانے والا پاکستان ہے۔ یہ کوئی اور ملک ہے جو ہمارے ان سیاستدانوں نے بنایا تھا جو اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے آزاد ملک کی سرزمین پر ہر روز ایسے کئی ظلم ہوتے ہیں جو کہیں رپورٹ نہیں ہوتے یعنی ان کی کوئی شکایت کہیں درج نہیں کرائی جاتی کیونکہ ان مظلوموں کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان کی داد رسی نہیں ہو گی، اس لیے وہ صبر شکر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا فیصلہ ﷲ تبارک و تعالیٰ کی عدالت میں درج کرا دیتے ہیں۔ عوام کے ساتھ زیادتی کرنیوالوں میں کوئی سرکاری محکمہ بھی کسی دوسرے محکمہ سے پیچھے نہیں ہے۔ جہاں جائیں وہاں عوام کو تنگ کرنے والوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور چند منٹوں کا کام دو تین دن کی تاریخ دے کر بڑھا دیا جاتا ہے۔ 

بغیر کسی لالچ کے کام کرنیوالا کوئی دکھائی نہیں دیتا لیکن اکثر محکمے ایسے ہیں جن سے عوام کا واسطہ زیادہ نہیں یا بہت کم پڑتا ہے مگر پولیس کا محکمہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ دن رات کا واسطہ پڑتا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھیں تو پولیس دکھائی دے جاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی چوک تک دور ہوتی ہے ۔ اگر آپ کسی چیز پر سوار ہیں تو پھر پولیس کی اجازت اور مہربانی سے یہ سواری استعمال کر رہے ہیں۔ اگر پیدل ہیں تو آوارہ گردی میں پکڑے جا سکتے ہیں اور   کام پڑ جائے جو پڑ ہی جاتا ہے تو پھر تھانے کے اندر وہی ہوتا ہے جو منکر نکیر آپ کے ساتھ کریں گے۔ اس لیے پولیس کے ساتھ عوام کا واسطہ چونکہ زیادہ پڑتا ہے، اس لیے پولیس دوسرے سرکاری محکموں سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور پولیس کے ساتھ ناراضگی بھی دوسرے محکموں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

ادھر پولیس کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہیں اتنے زیادہ کہ وہ کسی بھی خواہ وہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اسے کسی نہ کسی قانونی دفعہ کے تحت گرفتار کر سکتی ہے اور اسے عدالت کے سپرد کر سکتی ہے جو خود کسی تھانے سے کم نہیں ہے۔ جو خبریں ہم پڑھتے ہیں کہ جیل سے ایک ایسا شخص رہا ہوا ہے جو برسوں تک بلاوجہ جیل میں سڑ رہا تھا تو اس شخص کی مصیبت کا آغاز پولیس سے ہوا تھا۔ سچ یہ ہے کہ پولیس کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہے کیونکہ اس کے اختیارات سے کوئی بھی فرد باہر نہیں ہے۔ پولیس اور عوام کا یہی تعلق اور رابطہ ہے جس کی وجہ سے پولیس ہر کسی کی نظروں میں کھٹکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ پولیس کے اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ان تما م اختیارات کے باوجود گمراہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ فرشتوں کی طرح دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایسے تو کئی ہیں جو قتل کے مقدمے میں کسی بے گناہ کا چالان نہیں کرتے کیونکہ انسان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ میں ایک ایسے علاقے کا باشندہ ہوں جہاں کبھی جرائم بہت ہوا کرتے تھے۔ اب تعلیم کی وجہ سے لوگ عقل مند ہو گئے ہیں اس لیے مجھے پولیس والوں کے بہت قصے کہانیاں یاد ہیں۔ دیہی علاقوں میں چونکہ باہم رابطے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مجرم اور بے گناہ عوام سے چھپے نہیں رہ سکتے اس لیے پولیس بھی زیادہ سنبھل کر چلتی ہے لیکن شہروں میں اسے کھلی چھٹی ہوتی ہے۔ جہاں پر میں روز ٹھنڈی گاڑیوں میں پولیس والوں کو سڑک کنارے آرام کرتے دیکھتا ہوں جو اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی پٹرول کی صورت میں پھونک رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹھنڈی گاڑیوں میں آرام کرنے والوں کے افسران یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ رات گئے گاڑی کا پٹرول چیک کیے بغیر خاتون کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایسے دلخراش سانحے پر بیان داغنا کسی پولیس والے کا ہی کام ہے، عوا م کا کوئی ہمدرد افسر اگر ہو تو وہ ایسے کیس میں عوام کی بات کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان باتوں کا تعین بعد میں ہوتا ہے کہ واقعہ سے پہلے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے یہ وقوعہ پیش آیا۔ لیکن لاہور کے اعلیٰ پولیس افسر نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کے بعد نہ جانے کس زعم میں زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بیان داغ دیا جس کی ہر طبقہ فکر جن میں عوام کے ساتھ حکومت بھی شامل ہے سب نے شدید مذمت کی ہے۔ لاہور میں سڑک کنارے ہونے والے اکیلی خاتون کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ جس نے بھی سنا اس کی زبان سے یہ فریاد نکلی کہ اتنے بڑے ظلم کے ملزموں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہر طبقہ فکر کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مجرموں کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے۔

موٹر وے لنک روڈکے ساتھ واقع گائوں کے مردوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ کی خطیر رقم جاری کر دی گئی ہے تا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعین کیا جاسکے۔ بھلا ہو میڈیا کا جو اس طرح کے عوامی کیس حکومت تک پہنچا کر ارباب اختیار کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ تحقیقات تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ عوامی حفاظت کا وہ کون سا محکمہ ہے جو اس لنک روڈ پرعوام کی حفاطت کا ذمے دار ہے۔ موٹر وے پولیس ہے یا ہائی وے پولیس، لنک روڈ کے لیے کوئی خصوصی پولیس فورس ہے یا ڈولفن پولیس کے دندناتے موٹر سائیکل سوار ہیں ان ذمے داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دینی چاہیے۔ لنک روڈ پرسفر کریں یا موٹر وے پر عوام کو بھاری ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ موٹر وے پر عوام کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  

جو جرم ہوا اس کے ملزمان تو حکومت ڈھونڈ لے گی لیکن جن کی غفلت اس جرم کا باعث بنی ان کو سزا دینا بھی ضروری ہے۔ بعد از خرابی بسیار سیکیورٹی کے لیے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی ٹیمیں تعینات کی گئیں ہے۔ موٹروے پر پیش آنے والے اس دلخراش سانحے کے اگلے ہی روز لاہور اسلام آباد موٹروے پر شیخو پورہ انٹر چینج سے دو کلو میٹر دوردن دہاڑے لوٹ مار کی گئی جس سے مجرموں کی دیدہ دلیری اور پولیس کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ عوام موٹروے پر سفر کو سب سے محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ موٹر وے بھی سفر کے لیے محفوظ نہیں رہے۔ بہر کیف یہ بحث بہت طویل ہے اور نازک بھی کہ میں بھی ایک عام شہری ہوں اور کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقیم رہتا ہوں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ پولیس یاد رکھے کہ عام شہریوں کی حفاظت بھی اس کی ذمے داری ہے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا ویکسین کی تیاری کی دوڑ چین جیتنے کے لیے تیار ہے

چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کی ویکسین کے حوالے سے کئی مثبت اعلانات کیے گئے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب ایک رضاکار کی نامعلوم بیماری کی وجہ سے اس دوڑ میں سب سے آگے سمجھے جانے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ٹرائل کچھ روز تک التوا کا شکار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین پہلی بار سنجیدگی سے خیال کرنے لگے ہیں کہ چین دنیا میں کورونا کی روک تھام کے لیے پہلی موثر ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہے کیونکہ دنیا بھر میں 9 کورونا ویکسینز کے ٹرائلز کے تیسرے اور آخری مرحلے سے گزر رہی ہیں اور ان میں سے 4 چین کی ہیں۔

بائیو میڈیکل تھنک ٹینک پالیسی کیورز ریسرچ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ویپول چوہدری کے مطابق ‘چین کی 4 میں سے تین ویکسینز میں غیرفعال کووڈ 2 وائرس استعمال کیا گیا ہے جو کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے ممکنہ طور پر بہترین طریقہ کار ہو سکتا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ ویکسینز وائرس کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی اینٹی جین خصوصیات کو برقرار رکھ سکتی ہیں، یہ روایتی طریقہ کار ہے، تو اس سے عموماً بیماری کے خلاف اچھا دفاع ملتا ہے اور مضر اثرات کا امکان کم ہوتا ہے’۔ فلاڈلفیا کے چلڈرنز ہاسپٹل کے ویکسین ایجوکیشن سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پال اوفیٹ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ‘میں اس طریقہ کار پر مبنی ویکسینز کے حوالے سے زیادہ بہتر سوچ رکھتا ہوں کیونکہ ہمیں ان کا بہت زیادہ تجربہ حاصل ہے، اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کو صرف اسپائیک پروٹین کے خلاف نہیں بلکہ کورونا وائرس کے تمام پروٹینز کے خلاف مدافعتی ردعمل بنانے میں مدد مل سکتی ہے’۔

رواں ہفتے چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی جو چین کی سرکاری ویکسین کمپنی ہے) نے اپنی 2 ویکسینز کے تیسرے مرحلے کے ابتدائی ڈیٹا کے بارے میں اعلان کیا تھا کہ وہ رضاکاروں میں کووڈ 19 کو بچانے کے لیے موثر ثابت ہوئی ہیں۔ سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی گئیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘ویکسین استعمال کرنے والے کسی بھی فرد میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کووڈ سے متاثر ہوا’۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویکسین سے ایک فرد کو ممکنہ طور پر 3 سال تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا ‘جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے’۔

چین کی جانب سے کامیاب ویکسین کو دیگر ممالک کو بھی فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں اور چینی کمپنیوں کی جانب سے وہاں ویکسین کے ٹرائلز بھی کیے جارہے ہیں۔ ویکسین کی تیاری کے بعد بڑے پیمانے پر اسے تقسیم کرنے کے حوالے سے لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے حوالے سے چین عالمی سطح پر بڑا نام نہیں بلکہ بھارت کو اس میں سبقت حاصل ہے۔ تاہم سی این بی جی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک نیا کارخانہ تعمیر کیا جارہا ہے جو ویکسین کی سالانہ ڈوز کی گنجائش 20 کروڑ سے زیادہ بڑھا دے گا۔ دوسری جانب سینوویک کی جانب سے بھی بیجنگ میں ایک نیا پلانٹ تعمیر کیا جارہا ہے جو سالانہ  تیس کروڑ ڈوز تیار کر سکے گا۔ واضح رہے کہ اگست میں چین نے کہا تھا کہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی منظوری اسی صورت میں دی جائے گی جب ان کی افادیت کی شرح کم از کم 50 فیصد اور کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت 6 ماہ تک برقرار رکھ سکے گی۔

چین کے سینٹر فار ڈرگ ایولوشن (سی سی ڈی ای) کا تجویز کردہ مسودہ سامنے آیا ہے جس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے ضوابط دیئے گئے ہیں۔ مسودے کے مطابق ویکسینز کے ہنگامی استعمال کے لیے کم از کم افادیت کی شرح رکھی گئی ہے اور ان میں ایسی ویکسین بھی شامل ہو گی جس کا کلینیکل ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو مگر افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔ ویکسین کی افادیت کے حوالے سے چینی گائیڈ لائنز میں عالمی ادارہ صحت اور یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ یہ گائیڈ لائنز اس وقت سامنے آئیں جب چین میں 4 کورونا ویکسینز کلینیکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز

وطن واپس نہ آنے والے پی ایچ ڈی

پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بیرون ملک پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے گئے 132 میں سے 80 اسکالر پاکستان واپس ہی نہیں آئے جبکہ 52 فیل ہو کر وطن لوٹے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان اسکالرز پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 955 ملین روپے کا خرچہ کیا۔ اس حوالے سے ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں، صرف ایک سکالر نے رقم واپس کی، ایچ ای سی حکام کے مطابق سکالر شپ فیز ٹو میں بھی 68 سکالر واپس نہیں آئے، اس روش کے سدباب کیلئے ایچ ای سی زمین یا گھر بطور ضمانت اپنے پاس رکھے گا۔ پی ایچ ڈی یا ڈاکٹریٹ ایک ایسی تعلیمی سند ہے جو کسی یونیورسٹی کی جانب سے کسی خاص شعبہ علم میں اعلیٰ مدارج تک فضیلت حاصل کرنے کے بعد عطا کی جاتی ہے، اس درجہ تعلیم کو عام طور پر’’علامہ فلسفہ‘‘ (پی ایچ ڈی) کے متبادل بھی استعمال کیا جاتا ہے

وطن عزیز کی جامعات کی حالت اور تعلیمی معیار کسی سے پوشیدہ نہیں اسی لئے اپنے سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے انتہائی مایوس کن نتائج سامنے ہیں اور یہ سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا اسکالر شپ دیتے وقت واقعی شفافیت کو ملحوظ رکھا گیا؟ کیا ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دنیا کے ہمقدم ہونے کے لائق نہیں؟ کیا پی ایچ ڈی کیلئے جانے والوں کا مطمح نظر تعلیم نہیں بیرون ملک اقامت تھا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور اسکالرز کو ملک میں امید کی کوئی کرن اب دکھائی نہیں دیتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے جانے والے اسکالرز کے وطن واپس نہ آنے یا فیل ہو کر واپس آنے سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر جائے گا۔ اس سارے معاملے کی جامع، شفاف اور بلاامتیاز انکوائری ہونی چاہئے کیونکہ یہ صرف انہی اسکالرز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بات نہیں آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان میں کان کنوں کی تلخ زندگیوں کو راحت میں بدلیں

مقام افسوس ہے کہ پاکستان میں کان کنی کا شعبہ اٹھارویں صدی کے طور طریقوں پر ہی کام کر رہا ہے، لہذا حادثات کے رونما ہونے کا تسلسل برقرار ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روزکا معمول کہا جاسکتا ہے۔ مختلف معدنیات مثلاً نمک، کوئلہ اور جپسیم کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے حالات سخت مشقت کے باوجود انتہائی پسماندہ ہیں اور نہایت قلیل اجرت سے جڑے ہونے کی وجہ سے گھمبیر مسائل کا شکار بھی ہیں۔ ایسا کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں کانوں کے مالکان با اثر ہوتے ہیں، ان کو کانکنوں کی ترقی اور ان کی صحت و سلامتی سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ کانکن، کانوں میں میتھین گیس کے جمع ہو جانے، کان کے بیٹھ جانے، کان میں ہوا کا دباؤ کم ہو جانے، آگ لگنے، زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یہ حقائق اور اعدادوشمار صرف بلوچستان کے ہیں۔

ایک بڑی تعداد ان مزدوروں کی بھی ہے جن کو کان کا ٹھیکیدار اس کا قانون کے مطابق ریکارڈ بنائے بغیر دیہاڑی دار مزدور کے طور پر صرف سستی لیبر کے حصول کے لیے اسے کام پر بھیج دیتا ہے، ایسا ورکر اگر حادثے میں مارا جائے تو اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ کان کے حادثات میں جو مزدور زخمی ہو جاتے ہیں ان کی زیادہ تعداد زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں جہاں پہاڑیوں کو توڑ کر بجری بنانے کے لیے پتھر حاصل کیا جاتا ہے اس شعبہ میں سیکڑوں مزدور پہاڑیوں سے گر کر یا پہاڑیوں کے پتھروں کے نیچے آکر جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔ اس شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کا زیادہ تر تعلق ضلع سوات، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اور جب یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ برقرار رکھنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

کانوں کے اندر رونما ہونے والے حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ تین سے سات ہزار فٹ کی گہرائی میں جا کر کام کرنے والے کانکن، کان میں اڑنے والی گرد، ہوا کے کم دباؤ اورکام کی سختی کی وجہ سے ٹی بی، دمہ، پٹھوں کی مختلف بیماریوں کے علاوہ خارش اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں کانوں سے مال گدھوں پر لاد کر کان سے باہر لایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بھی ایسی کان نہیں جس میں آپ کھڑے ہو کر کان کے اندر جا سکیں۔ کان کنوں کو دوران کام پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا جس کی سپلائی قانون کے مطابق ضروری ہے۔ کان کن دوران کام گندا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شعبہ ملک کی کل آمدنی میں 3 سے 5 فی صد تک حصہ ڈالتا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ محنت کش وابستہ ہیں، اس شعبے کو ترقی دے کر قومی آمدن میں اس کے حصہ کو بہت مناسب حد تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کون کرے اور کیوں کرے؟

ایک جانب تو پاکستان میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو کسی بھی قسم کے حقوق حاصل نہیں ہیں بلکہ وہ بیچارے تو مائنز یعنی قبروں میں مزدوری کر کے روٹی روزی کماتے ہیں لیکن دوسری جانب لاطینی امریکا کے ملک چلی میں دنیا نے انسان دوستی ، ہمت وجرات کا عجب نظارہ دیکھا۔ وہ بھی اڑسٹھ دن تک۔ کان میں بتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور پچاسی فیصد نمی تھی جب کارکنوں کو زندہ بچانے کے لیے چھ سو میٹر سے زیادہ تک امدادی کیپسول بنایا گیا تھا ، جس کے ذریعے ان خوراک فراہم کی جاتی تھی۔ جائے وقوع پر موجود دو ممالک کے صدور نے حصہ لیا بلکہ ٹیلی فون کے ذریعے صدر اوباما اور وزیر اعظم کیمرون سمیت کئی عالمی شخصیات بھی شامل رہیں۔ یعنی کان کن کو بحفاظت نکالنے کا ایسا مشن تھا، جو دنیا میں آج ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چلی کی حکومت اور ذمے دار اہلکاروں نے امدادی مشن تخلیق کیا اور بعد میں جس انداز میں اُس کی بظاہر انتہائی معمولی وغیر اہم جزیات پر بھرپورتوجہ مرکوز رکھی، اُس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس سارے عمل کو ہم انسانیت کی معراج سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو کان میں اس کا ریکارڈ مکمل کیے بغیر نہ بھیجا جائے، ٹھیکیدارکے نمائندے قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر کان کے علاقہ میں ایک ڈسپینسری ہو جس میں ڈاکٹر سمیت تمام سہولیات موجود ہوں اس کا قیام ضروری ہے۔ ان سہولیات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ایمبولینس جو کسی بھی ایمرجنسی میں مزدوروں کو جلد از جلد اسپتال تک پہنچائے، اس کا دور تک کوئی ذکر نہیں۔ اس شعبے میں کانکنوں کی صحت و سلامتی کا زیادہ تر دارومدار محکمہ کانکنی کے انسپکٹر کا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کانوں کے لیز ہولڈرز کانکنوں کو کان میں کام کرنے کے لیے ان کی حفاظت کا تمام سامان ان کو بہم پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔ اوّل تو محکمہ کے پاس انسپکٹرزکی مطلوبہ تعداد ہی نہیں ہے کہ وہ تمام کام بخوبی سرانجام دے سکیں، انسپکٹر حضرات دور دراز اور پر خطر علاقوں میں جا کر انسپیکشن کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ بلوچستان کی کانوں میں موجود میتھین گیس کی وجہ سے سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کی کانوں میں اس مہلک گیس کی نشاہدہی کرنے والے انڈیکیٹرز لگائے جائیں۔

ایک انڈیکیٹر کی مارکیٹ میں قیمت 25 ہزار روپے ہے لیکن کوئی لیز ہولڈر یہ انڈیکیٹرلگانے کو تیار نہیں اور متعلقہ محکمے اس پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کان سے کوئلہ وغیرہ نکالنے کے لیے مزدوری کا تعین پیس ریٹ کے حساب سے ہوتا ہے۔ جتنا مال نکالو گے اتنی مزدوری ملے گی۔ اس تمام مزدوری کا حساب کتاب لیز ہولڈر یا ٹھیکیدار کے کار خاص جمعدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ آج تک کبھی بھی کانکن اپنی محنت کی پوری اجرت ان جمعداروں سے حاصل نہیں کر سکا۔ ماسوائے ان علاقوں کے جہاں کانکنوں کی مضبوط یونینز موجود ہیں۔ انگریز دور میں کھیوڑہ کے مقام پر ایک بڑی کان کا منصوبہ بنایا گیا اور مختلف جگہوں سے لوگوں کو اکٹھا کر کے کان کا کام مائینگ میتھڈ سے شروع کیا گیا تاکہ جگہ جگہ سے کھدائی کے ذریعے وقت اور طاقت کے ضیاء کو روکا جاسکے نیز کم سے کم اخراجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو سکے۔

کم اجرت اور سخت محنت و مشقت سے ان لوگوں کی زندگیاں نہایت تلخ و بدمزہ تھیں حالانکہ یہ لوگ پورے جہاں کو لذت دھن پہنچانے میں سرگرم عمل تھے۔1930 سے قبل ان مزدوروں کو پیداوار کا ٹارگٹ دے دیا جاتا تھا اور نمک کی کانوں کو باہر سے تالا لگا دیا جاتا جب تک کوئی فرد ٹارگٹ پورا نہ کر پاتا اس کو گھر جانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اس کے علاوہ 1937 میں کھیوڑہ نمک کان پر جیل بھی بنائی گئی جس میں ملک کے کونے کونے سے قیدیوں کو رکھا گیا اور ان سے بھی بیگار لی جاتی رہی۔ آخر 1930 میں کان نمک کے ان محنت کشوں کی یونین بنائی گئی اور عورتوں پر بچوں کے کام سے رہائی ہو پائی۔ آج بھی ان معدنی مزدوروں کے حالات نہایت دگرگوں ہیں اور ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ استحصالی رویے سے ان سے بیگار لی جارہی ہے۔ کان کنوں کے دکھ، مصائب وآلام بیان کرنے سے قاصر ہے، حالیہ سانحہ قومی نوعیت کا ہے، قلم کیسے بیان کر سکتا ہے کہ زمین کے اندر ہزاروں فٹ نیچے کام کرنا، ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ اس بات سے کسی طور پر انکار ممکن نہیں ہے کہ کان کنی دنیا کا قدیم ترین پیشہ ہے۔

تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ترقی میں کان کنی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ امریکا سے لے کر یورپ تک تمام ممالک کی ترقی کی بنیادیں کانکنوں کی لاشوں پر ہی رکھی گئی ہیں۔ مہم جو ممالک نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے جن جن ممالک پر اپنا تسلط قائم کیا اس کے پیچھے وہاں سے خام مال کا حصول سرفہرست رہا۔ وہ کوئلہ، سونا، تانبا، جپسم، گندھک اور ہیرے جواہرات وغیرہ کی شکل میں اس دولت کو اپنے اپنے ممالک کو منتقل کرتے رہے اور اپنی صنعتی ترقی کی بنیادوں کو اس لوٹے ہوئے خام مال سے مستحکم کرتے رہے ہیں۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ پاکستان میں کان کنی کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کا جو سفاکانہ اور بے رحمانہ استحصال جاری وساری ہے وہ اسی تسلسل کا حصہ جو نوآبادتی نظام کا حصہ رہا ہے۔ کان کنی سے وابستہ مزدور کے حالات کار جان کر راتوں کی نیند اڑجاتی ہے بلکہ رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ان کو حادثات کا معاوضہ یا دیگر ملنے والی کئی گرانٹ کا حقدار نہیں گردانا جاتا اور نہ ہی اولڈ ایج بینفٹ کی سہولت میسر ہے۔ حرف آخر ہم موجودہ حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کان کنی کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی اور انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

راولپنڈی کا اصغر مال کالج

یہ چار دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد میری عملی زندگی کا آغاز ہو رہا تھا۔ ابھی ڈگریوں کی بہتات اور ارزانی نہیں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں ایم اے انگلش کے بعد طالبِ علموں کا پہلا انتخاب سی ایس ایس ہوتا۔ میری گورڈن کالج میں پہلی پوزیشن تھی لیکن میں نے اپنی مرضی سے تدریس کے شعبے کا انتخاب کیا اور طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مجھے اپنے انتخاب پر خوشی ہے۔ ایم اے کا نتیجہ آنے کے کچھ دن بعد ہی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے لیکچررشِپ کا اشتہار آیا۔ میں بھی انٹرویو میں شریک ہوا۔ دو ہفتے بعد اطلاع ملی کہ میری سلیکشن ہو گئی ہے‘ اور میری تقرری گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین میں کی گئی ہے۔ منڈی بہاؤالدین میں میرا قیام چند ماہ رہا کیونکہ اسی دوران پبلک سروس پبلک سروس کمیشن کے تحت میری سلیکشن ہو گئی اور مجھے راولپنڈی کے ایک انٹر کالج میں تعینات کر دیا گیا۔ یہاں صرف دو کلاسوں کو پڑھانا ہوتا۔

بظاہر زندگی بہت آسان تھی۔ میری اپوائنٹمنٹ میرے شہر میں تھی اور ورک لوڈ بہت کم تھا۔ اصولی طور پر مجھے مطمئن ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن میں چند ماہ میں ہی یکسانیت سے اکتا گیا۔ مجھے اس کام میں کوئی چیلنج نظر نہیں آرہا تھا۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ بشیر قریشی مرحوم‘ جو گورنمنٹ کالج اصغر مال میں انگریزی کے شعبے سے وابستہ تھے‘ کا پیغام ملا کہ شعبے میں ایک ویکنسی ہے‘ اگر چاہو تو شعبے کے سربراہ سے ملاقات کر لو۔ قریشی صاحب کا پیغام سُن کر مجھے یوں لگا‘ جیسے میں اسی کا منتظر تھا۔ اس زمانے میں اصغر مال کالج میں شعبہ انگریزی کے سربراہ محترم سعیدالحسن صاحب تھے۔ وہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔ باغ وبہار شخصیت تھے۔ اونچا لمبا قد، سر کے بال سفید‘ ہونٹوں پر پان کی سُرخی اور دبی دبی مسکراہٹ۔ میں ملاقات کا وقت لے کر ان کے آفس پہنچ گیا۔ سعیدالحسن صاحب نے چائے منگوائی اور عام گفتگو کرنے لگے۔

میرا خیال تھا یہ ایک روایتی انٹرویو ہو گا۔ جب چائے پی چکے اور تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو سعید صاحب رُکے اور کہنے لگے: آپ سے مل کر مجھے خوشی ہوئی لیکن ایک مسئلہ ہے۔ مجھے لگا میرے اندر کوئی دیوار گِر گئی ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا: سرکیا مسئلہ ہے؟ اس پر سعید صاحب کہنے لگے: پہلے بھی دو امیدوار آئے تھے‘ لیکن جب انہیں بتایا کہ ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھانا ہو گا تو وہ واپس نہیں آئے۔ میں ان کا جواب سُن کر ہنس پڑا اور کہا: ایم اے انگلش پڑھانے کی ذمہ داری میری خوش بختی ہو گی۔ سعید صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر آئی اور وہ کہنے لگے: ہماری طرف سے ایک سرکاری خط ڈائریکٹوریٹ چلا جائے گا‘ جس میں آپ کی سروسز گورنمنٹ کالج اصغر مال کو دینے کی درخواست ہو گی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا۔ اور پھر وہ دن آگیا جب میں گورنمنٹ کالج اصغر مال کے شعبہ انگریزی سے منسلک ہو گیا۔

قیامِ پاکستان سے بہت پہلے 1904ء میں یہاں ایک سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نام سناتن دھرم سکول تھا۔ کہتے ہیں‘ یہ اس زمانے میں ایک وسیع وعریض جگہ تھی۔ ایک طرف ہری مندر تھا‘ لہلہاتے کھیت تھے اور ساتھ ہی سکول۔ اس زمانے میں ڈی اے وی کے نام سے کئی تعلیمی ادارے اور سڑکیں تھیں۔ آج بھی کچھ سڑکیں اسی نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ یوں تعلیمی اداروں کی اکثریت ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے قبضے میں تھی اور مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تعداد میں بہت کم تھے۔ وہ کالج میں میرا پہلا دن تھا۔ سائیکل سٹینڈ پر میں نے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی۔ سٹینڈ کے انچارج کا نام ممتاز خان تھا۔ فربہ اندام، سانولا چہرہ ،چمکتی آنکھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اس کی یادداشت بلا کی تھی۔ پہلے دن مجھے ٹائم ٹیبل ملا۔ چونکہ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی فیکلٹی میں سب سے جونیئر تھا‘ لہٰذا مجھے سب سے زیادہ ورک لوڈ دیا گیا۔

ٹائم ٹیبل کے مطابق مجھے ہر روز پانچ کلاسز کو پڑھانا ہوتا۔ ایم اے فائنل، ایم اے پریویس، بی ایس سی، ایف ایس سی اور بی اے۔ کلاسوں کی تعداد کے ساتھ دوسرا چیلنج فکری چھلانگ کا تھا۔ ابھی ایم اے کی کلاس، پھر ایف اے، اس کے بعد بی اے۔ ہر درجے کے طالبِ علموں کی ذہنی سطح مختلف تھی اور مجھے اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہوتا تھا۔ یہ آسان نہ تھا۔ ایک اور چیلنج یہ تھا کہ یہ کلاسیں کسی ایک بلاک میں نہیں تھیں۔ ایم اے کی کلاسز کیلئے فیصل بلاک، بی اے اور ایف اے کیلئے مین بلاک اور بی ایس سی کیلئے مجھے سائنس بلاک جانا پڑتا‘ اور تینوں بلاکس کے درمیان خاصا فاصلہ تھا۔ اس زمانے میں انگلش ڈیپارٹمنٹ میں سعیدالحسن صاحب کے علاوہ پروفیسر نذیر، ظفر زیدی، رؤف جمال، شوکت علی، اظہر جاوید، بلال سبحانی، بشیر قریشی اور اشرف صاحب پڑھاتے تھے۔ آہستہ آہستہ کالج کے دوسرے فیکلٹی ممبرز سے شناسائی ہونے لگی۔ پروفیسر وثیق بھی باغ وبہار شخصیت تھے۔

کالج کی ایک مقبول شخصیت پروفیسر اشتیاق شاہ تھے۔ وہ کالج کی کرکٹ ٹیم کے انچارج تھے۔ اُن کے عہد میں کالج کی کرکٹ ٹیم شہرت کی بلندیوں کو پہنچی اور ہمارے کچھ طالبِ علم قومی کرکٹ ٹیم میں بھی کھیلے‘ مسعود انور نے پاکستان کی طرف سے بطور اوپنر کئی میچز کھیلے اور شعیب اختر جنہیں راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کلاسوں کے درمیان کچھ وقت ملتا تو میں لائبریری چلا جاتا اور لائبریرین صدیقی صاحب کے کمرے میں بیٹھتا۔ وہیں میری ملاقات اردو ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اور معروف شاعر یوسف حسن سے ہوئی جو بعد میں مستقل دوستی میں بدل گئی۔ لائبریری کے علاوہ ہمارا ٹھکانا چائے کا ایک ڈھابہ تھا‘ جو کالج کے مین گیٹ کے بالکل سامنے سڑک کے اس طرف تھا۔ وہاں سے کالج کی مین بلاک کی عمارت صاف نظر آتی۔ یہ فنِ تعمیر کا دلکش نمونہ تھی۔ اس کے مینار، وسیع راہداریاں، اس پر نقش نگاری، بارش میں ہم اسے دیکھتے تو نجانے کیوں مجھے کہانیوں کا وہ قلعہ نما محل یاد آجاتا جس پر جادو کر دیا گیا ہے اور جہاں ایک شہزادی اپنے راجکمار کے انتظار میں بیٹھی ہے۔

یہ کالج کا سب سے پُرانا بلاک تھا جس میں ہال، پرنسپل آفس اور سٹاف روم ہوا کرتا تھا۔ اصغر مال کالج کی پُرشکوہ عمارت اپنی جگہ اس کی پہچان کا ایک اور واسطہ یہاں مختلف ادوار میں پڑھنے اور پڑھانے والی شخصیات ہیں جنہوں نے شعروادب کے میدان میں نام پیدا کیا۔ ان میں جیلانی کامران، اشفاق علی خان، ظہیر فتح پوری، آفتاب اقبال شمیم، کنیز فاطمہ، جمیل آذر، ماجد صدیقی، سرور کامران، سعادت سعید، فتح محمد ملک، اظہارالحق، احمد جاوید، نوازش علی، روش ندیم اور سعید احمد کے نام مجھے یاد آ رہے ہیں۔ اس وقت کے نمایاں طالبِ علموں میں بابر اعوان اور صدیق الفاروق شامل تھے۔ اب مجھے اصغر مال چھوڑے ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے۔ پچھلے دنوں کالج کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر ندیم اکرام کا فون آیا۔ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا بتا رہے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ اصغر مال کالج میں ایم اے انگلش کی کلاس میں میرا پہلا دن تھا۔

سامنے بیٹھے طالبِ علموں میں ندیم اکرام بھی تھا‘ جس کی آنکھیں روشن اور متجسس تھیں اور جو آج مجھے اپنی ریٹائرمنٹ کی خبر دے رہا تھا۔ وقت جیسے پر لگا کر اُڑ گیا ہو۔ سُنا ہے اس عرصے میں اصغر مال کالج میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ بہت سے نئے اُستاد آگئے ہیں۔ بہت سے پُرانے لوگ چلے گئے۔ کبھی کبھی جی میں آتا ہے اپنے پُرانے کالج جاؤں۔ ان عمارتوں کو دیکھوں، ان میدانوں سے گزروں اور پھر فیصل بلاک کی ان سیڑھیوں پر جا بیٹھوں جہاں سے ساری دنیا خوب صورت نظر آتی تھی۔ لیکن پھر یہ سوچ کر ارادہ بدل دیتا ہوں کہ اتنی مدت بعد مجھے وہاں کون پہچانے گا۔ مجھے فیصل بلاک کی سیڑھیوں پر کون بیٹھنے دے گا۔

شاہد صدیقی

بشکریہ دنیا نیوز

سارے شہر پیکیج کے مستحق ہیں

منتخب سندھ حکومت یقیناً خوش ہو گی کہ شہروں سے منتخب حکومتوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ہر میونسپل وحدت میں ایک ایڈمنسٹریٹر بیٹھا ہے اور ہمیں ضرورت بھی اچھے ایڈمنسٹریٹروں کی ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اگر اچھے ایڈمنسٹریٹر ہوں، ایڈمنسٹریشن کی باقاعدہ تربیت حاصل کریں، یہ خبط نہ ہو کہ ہم تو پیدائشی ایڈمنسٹریٹر ہیں تو ہماری بدحالی ایسی نہ ہو۔ وزیراعظم صاحب ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز میں آئے۔ جہاں ان کی پارٹی کے 14 ایم این اے ہیں، جس شہر نے ان کو وزیراعظم بننے میں سب سے زیادہ مدد دی، اس کے لئے ان کے پاس اتنا ہی مختصر سا وقت تھا۔ شہرِ قائد کے لئے 1100 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے لیکن کسی کو یقین نہیں آرہا ہے کیونکہ اب لوگ وفاقی حکومت پر اعتبار کرتے ہیں نہ صوبائی پر اور شہری حکومتیں تو ہیں ہی نہیں۔ پھر فنڈز پر وفاق اور صوبے کے درمیان بیان بازی بھی شروع ہو گئی۔

کراچی کو ایک کتاب دوست ایڈمنسٹریٹر نصیب ہوا ہے۔ افتخار علی شلوانی۔ ان سے ہماری ملاقات نہیں ہے لیکن شہر میں اسٹریٹ لائبریریاں قائم کرنے اور دوسری لائبریریوں میں بہتری کا ہم سلطان خلیل کے ذریعے سنتے آئے ہیں۔ اس لئے سمجھتے ہیں کہ کتاب دوست ہے تو اچھا ہی ہو گا۔ کتاب دوست انسان دوست بھی ہوتے ہیں۔ یہاں شہر قائد میں 2½کروڑ انسانوں کو ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو پریشان حالی و درماندگی میں ان کا ہاتھ تھامے۔ ملک کے دوسرے شہروں کو بھی انسان دوست افتخار شلوانیوں کی ضرورت ہے۔ کراچی سی بدحالی دوسرے سب بڑے شہروں میں بھی ہے۔ عوام اور خاص طور پر شہروں میں رہتے لوگ ریاست کو جو ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں زندگی کی ساری آسانیاں میسر آنی چاہئیں۔ وہ اور ان کے گھر محفوظ ہوں۔ انہیں گھر سے دفتر، کارخانے جانے کے لئے اچھی سڑکیں اور آرام دہ ٹرانسپورٹ ملے۔

انہیں مہرباں سرکاری و غیرسرکاری اسپتال ملیں۔ تفریح کے لیے باغات، کھیل کے میدان دستیاب ہوں۔ آئندہ نسلوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے معیاری درسگاہیں موجود ہوں۔ مسلم اکثریت کے لئے اچھی مساجد، اقلیتوں کی اپنی اپنی عبادت گاہیں۔ بارشیں ہوں تو پانی نکلتا رہے، کہیں محفوظ ہوتا رہے۔ گندے پانی کی نکاسی کے لئے سیوریج کے مستحکم انتظامات۔ شہر کیوں بسائے جاتے ہیں۔ انسان جنگل کے بجائے شہر میں رہنا کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے تنظیم، ترتیب، تحفظ، تمدن، تہذیب، تربیت، تعلیم، تدریس، تحقیق، تندرستی، تفریح کی سہولتیں ریاست کی طرف سے میسر ہوتی ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی آسانی سے گزر سکے۔ ہمارے اور آپ کے بیٹے بیٹیاں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں، آپ کا بھی جانا ہوتا ہے۔ وہ محفوظ اور مامون بستیاں انسانوں نے ہی بسائی ہیں، ہم بھی ایسی بستیاں بسا سکتے ہیں بلکہ ہمارے شہروں میں پہلے یہ آسانیاں میسر ہوتی تھیں۔

انگریز نے بڑی منصوبہ بندی سے یہ شہر بسائے تھے۔ ایک سسٹم تھا۔ سردیاں شروع ہوں تو اس سے پہلے کیا کیا کرنا ہے۔ گرمیوں سے پہلے کیا اقدامات ہوں۔ برسات سے بہت پہلے نالے صاف کئے جائیں۔ نہروں اور دریائوں سے مٹی نکالی جائے۔ ہم نے پہلے دس بارہ سال میں ہی انگریز کے سسٹم کو بتدریج ختم کر دیا۔ 1970 کے بعد شہروں کی بدحالی، لاوارثی شروع ہوئی۔ جو منتخب سیاسی اور غیر منتخب فوجی حکومتوں کے دوران بڑھتی ہی رہی ہے۔ اب یہ حال ہے کہ گلی کی صفائی کے لئے خاکروب کو سفارشیں کروانا پڑتی ہیں یا بھتّہ دینا ہوتا ہے۔ گٹر ابلنے لگیں تو محلّے والے چندہ اکٹھے کر کے ان میونسپل ملازمین کو بلاتے ہیں جن کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں۔ پارکوں میں صفائی نہیں ہوتی۔ نئے درخت نہیں لگتے۔ سارے شہر کچرے کے ایک سے ڈھیر دکھاتے ہیں۔

پہلے شہروں کی اپنی محصول چنگیاں ہوتی تھیں۔ ان سے کافی آمدنی ہو جاتی تھی۔ شہر کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔ سرمایہ داروں نے یہ ناکے ختم کر کے اپنی آمدنی بڑھالی۔ شہر کو غریب کر دیا۔ مہذب ملکوں میں ہر شہر میں اپنے تحقیقی ادارے ہوتے ہیں جو شہر کی سہولتوں پر روزانہ تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ کہاں ٹریفک کا مسئلہ ہے، کہاں علاج معالجے کا۔ ہمارے ہاں جب تک لوگ پریس کلب کے سامنے احتجاج نہ کریں یا سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل نہ ہوں ہمارے ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ وہاں شہری مستقبل پر تحقیق ہو رہی ہے۔ زمین کے استعمال کے منصوبے بنتے ہیں۔ شہر کو آفات سے کیسے بچانا ہے۔ لوگوں پر دماغی دبائو کیسے کم کرنا ہے۔ یہاں ایک شہری گھر سے نکلتا ہے۔ سڑکیں، ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس، مافیا، اس کے دفتر پہنچنے تک ہزار پریشانیوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ایسا ذہنی تنائو کام میں رکاوٹ بنتا ہے۔

کراچی ہی نہیں باقی سب شہروں میں بھی کچرا بکھرا رہتا ہے۔ گٹر کا پانی پھیلا رہتا ہے۔ سب جگہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ہیں۔ میونسپل اداروں کے کمشنر ہیں لیکن از خود کچھ نہیں ہوتا ہے۔ پہلے کنٹونمنٹ ایریاز کو بڑا مثالی کہا جاتا تھا اب یہ بھی غریب سول علاقوں کی طرح ہی بد حال ہو گئے ہیں۔ شہر شہر اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کا بنیادی فرض ہے کہ یہ اپنے اپنے شہر کے ماضی، حال اور مستقبل پر تحقیق کریں۔ بہتری کے لئے تجاویز دیں۔ اقوامِ متحدہ، جرمنی، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک سے فنڈز لینے والی بےشُمار این جی اوز موجود ہیں جو شہری سہولتوں کے لئے ہی وجود میں آئی ہیں، اس کے لیے فنڈز ملتے ہیں۔

آپ اپنے اپنے شہر میں ایسی این جی اوز کو تلاش کریں۔ پوچھیں کہ انہوں نے ان مہربان ملکوں کے شہریوں کے ٹیکسوں سے ارسال کی گئی رقوم کا کیا استعمال کیا۔ آپ کے شہر میں انسانی زندگی کو کیا آسانیاں فراہم کی ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق 1۔ شہری معاملات میں، فیصلوں میں عوام کو شریک کیا جائے۔ 2۔ علاج معالجے کے سلسلے میں بھی شہریوں کو منصوبوں تک رسائی ہو۔ 3۔ شہری اپنے اہل خانہ، احباب کی صحت اور تحفظ کے سلسلے میں مطمئن ہوں۔ 4۔ تعلیم، ملازمت اور تفریح کی سہولتیں۔ 5۔ ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی میں عوام کی بھرپور شرکت۔ 6۔ زندگی کو آسان اور معیاری بنانے کے لئے تمام مالی وسائل۔ 7۔ سارے شہروں میں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایک سی سہولتیں، امتیاز نہ رکھا جائے۔ اس کے لئے تمام شہروں میں رہنے والوں کو خود بھی متحرک اور سرگرم ہونا ہو گا۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ