وبا سے بچ جانے والوں کے پیغامات

برادر عزیز ۔ مجھے احساس ہے کہ آپ ابّا اور امّی کے انتقال پر کیوں نہیں آسکے۔ اس ظالم کورونا نے پوری دُنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔ ﷲ تعالیٰ کی رضا یہی تھی۔ یہ سب المیے اسی طرح رُونما ہونے تھے۔ آپ احتیاط کریں۔ بھابھی اور بچوں کا بھی پورا خیال رکھیں۔ انڈیا کی طرح اب کینیڈا میں بھی برا حال ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے دنیا بھر میں مقبول ناول نگار ابّو اس طرح ہمیں اچانک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ان کے نامکمل ناول مجھے خون کے آنسو رُلارہے ہیں۔ ان کی جدائی مجھ اکیلے کے لیے تو بہت تکلیف دہ ہے۔ مجھے تو ابّو اور امّی کی طرح اپنے محسوسات قلمبند کرنا بھی نہیں آتے۔ یہ غم میرا مقدر تھا۔ دو روز بعد ہماری پیاری امّی بھی ابّو کے پاس چلی گئیں۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ مجھ اکیلے کا کیا ہو گا۔ مجھے کون سنبھالے گا۔ پورا گھر بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔ ابّو کے دوست احباب دو تین روز آتے رہے۔ اب تو دروازے پر دستک ہی نہیں ہوتی۔

رشتے دار تو پہلے بھی کب پوچھتے تھے۔ سب کہتے تھے تمہارے ابّو بہت بڑے آدمی ہیں۔ ہماری کیا ضرورت ہے۔ ہمارے ابو یقیناً بڑے آدمی تھے۔ ان کے ناولوں کی دھوم تو پوری دنیا میں مچی ہوئی ہے۔ اخبارات میں ان کے بارے میں بہت اچھے مضامین آئے۔ بھائی۔ میں بہت اُداس ہوں۔ دل گرفتہ ہوں۔ بہت سے مراحل طے کرنے ہیں۔ بینک اکائونٹس کی تصدیق ۔ منتقلی ۔ مکان کے معاملات۔ کل میں نے ابّو کی ڈائری اچانک نکالی۔ ان کے ابتدائی حالات پڑھے۔ اب میں بہت پُر عزم ہوں۔ مجھے پوری امید ہے۔ اعتماد ہے۔ ﷲ تعالیٰ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ میرے کالج کے دوست میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔ وبا کا زور ٹوٹے تو پھر ہم مشورہ کر لیں گے کہ آپ اِدھر آئیں یا میں آپ کی طرف آئوں گا۔ آپ نے پوچھا ہے تو بتا رہا ہوں ورنہ میں نے یہاں کسی سے ذکر تک نہیں کیا۔ ابّو کے آخری لمحات بہت ہی کربناک تھے۔ پھیپھڑوں نے کام چھوڑ دیا تھا۔ پھر گردے ناکام ہونے لگے۔ مجھ سے تو یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ ﷲ کسی کو کورونا میں مبتلا نہ کرے۔ آپ کا بھائی احسن۔

میرے دوست۔ آج اس قابل ہوا ہوں کہ موبائل فون پکڑ سکوں۔ سب سے پہلے تمہیں ہی واٹس ایپ کر رہا ہوں۔ تمہارے فون چھوٹی ہوئی کالوں میں ہیں۔ کیسے فون سن سکتا تھا۔ میرے دونوں بیٹے۔ میرے بڑھاپے کے سہارے۔ میرے بازوئوں میں دم توڑ گئے۔ صرف 24 گھنٹوں کے وقفے میں۔ جانا تو مجھے ان کے کندھوں پر تھا لیکن مجھے انہیں کندھا دینا پڑا۔ وہ مجھے احتیاط کی تلقین کرتے رہے۔ میں بھی انہیں بہت سمجھاتا تھا لیکن ایک کے دفتر والے مجبور کرتے رہے اور دوسرے کے بازار والے۔ دنیا بھر میں واویلا مچا ہوا تھا لیکن ہمارے شہر میں تو گویا فکر ہی نہیں تھی۔ چھوٹے والا تو پھر بھی ماسک کبھی کبھی اوڑھ لیتا تھا۔ بڑے والا تو مان کے ہی نہیں دیتا تھا۔ مجھ سے تو ان کی ماں کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ جس نے انہیں 9 ماہ تک پیٹ میں پالا۔ پھر گود میں کھلایا۔ کتنی منتوں مرادوں سے تو آئے تھے۔ مت پوچھو کہ ان کے آخری دن کیسے گزرے وہ لمحے میری تو آنکھوں میں اٹکے ہوئے ہیں۔ بس اور نہیں لکھا جاتا۔

ہیلو۔ السلام علیکم۔ بھائی معاف کرنا میں پیغام دے سکی نہ بات کر سکی۔ ان دو ہفتوں میں تو قیامتیں گزر گئیں۔ ہم تو سب ہی بہت ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ کورونا کے حملے جاری تھے۔ میں تو روزانہ دفتر جارہی تھی۔ پھر یہ پابندی لگی کہ ایک دن دفتر دو روز گھر سے کام۔ گھر سے کام والے دنوں میں ہی بیماری نے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ ابّو تو پہلے ہی بستر سے لگے ہوئے تھے۔ پہلے سے ہی انہیں دمہ رہتا تھا۔ یہ کورونا کی لہر نہ جانے کہاں سے آئی۔ ان کو اپنے ساتھ لے گئی۔ ان کے آخری لمحے تو دیکھے نہیں جاتے تھے۔ اسپتال والے بھی کیا کرتے۔ بل بناتے رہے۔ جو جمع پونجی تھی لگ گئی۔ قسمت کو نہ جانے کیا منظور تھا۔ امی جو ابو کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں وہ بھی کھانسنے لگیں۔ ابو کے بعد تین روز ہی سانس لے سکیں۔ بھائی دنیا اجڑ گئی ہے۔ بڑی مشکل سے میں یہ ریکارڈ کررہی ہوں۔ میرے میاں نے بہت خیال کیا۔ سارے بل اس نے ہی دیے ہیں۔ ﷲ کا شکر ہے کہ وہ سخت احتیاط کرتا رہا۔ محفوظ رہا۔ بھائی اپنا خیال رکھنا۔ ایسی بیماری تو پہلے دیکھی نہ سنی۔
۔۔۔۔
انکم ٹیکس آفیسر۔ ابھی تو خدا کا واسطہ۔ ان دنوں تو تنگ نہ کرو۔ کاروبار بالکل تباہ ہوگیا ہے۔ اپنے ورکرز جو برسوں سے ساتھ کام کررہے تھے۔ کمپنی کا اثاثہ تھے۔ ان سب سے معذرت کرنا پڑی ہے۔ سالوں کی محنت اکارت گئی ہے۔ کچھ خبر نہیں آگے کیا ہو گا۔
۔۔۔۔۔
میں بوڑھی اکیلی رہ گئی ہوں۔ یہ چھوٹے چھوٹے پوتا پوتی پالنے کے لیے۔ بیٹا بہو دونوں ہی کورونا کی نذر ہو گئے۔ کیا سوچوں ۔ کیا کروں۔ میں کتنے دن جیوں گی۔ انہیں کون پالے گا۔ کون خیال رکھے گا۔
۔۔۔۔۔
میں ایک ہندو ہوں۔ چھوٹی ذات کا۔ پولیس میں ہوں۔ میرا قصبہ بلا کی زد میں ہے۔ میں تو اس مسجد کے پاس سے بھی نہیں گزرتا تھا۔ آر ایس ایس سے ڈرتا تھا مگر اب میں مسجد کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ امام صاحب سے اپیل کر رہا ہوں۔ اپنے ﷲ سے دعا مانگیں۔ میرے شہر کو بچائے۔ لوگ سسکیاں لے لے کر تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔
ہیلو: یار یہاں تو بہت برا حال ہے۔ وہاں چین میں کیا ہورہا ہے۔
یہاں تو بہت سختی ہے۔ الحمد للہ۔ وبا کو روکا ہوا ہے۔
دکاندار شور نہیں مچا رہے۔
یہاں جمہوریت شمہوریت نہیں ہے۔ لوگوں کی زندگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ہم بھی کمروں میں بند ہیں۔ زندہ تو ہیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیونکہ وائرس ووٹر نہیں ہوتا

ایک ایسے وقت جب بھارت کوویڈ متاثرین کی شکل میں امریکا اور برازیل جیسے سب سے زیادہ متاثر ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے، خود نریندر مودی کو اپنے ماہانہ ریڈیو خطاب میں اعتراف کرنا پڑ گیا ہے کہ یہ وہ بحران ہے جس نے بھارت کو ہلا ڈالا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دنیا سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ امریکا ، جرمنی اور فرانس نے مہارت اور آلات کی شکل میں فوری مدد پہنچانے کی حامی بھری ہے۔ مگر مصیبت کی اس گھڑی میں بھی کوویڈ تعصبات کو ہلاک کرنے میں ناکام ہے۔ عالمی طاقتوں میں سب سے پہلے چین نے گزشتہ ہفتے اپنے سب سے بڑے ہمسائے کی اپیل سے بھی پہلے مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہم حکومتِ بھارت کی اس کڑے وقت میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ پاکستانی کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن اور پھر حکومتِ پاکستان نے مدد کی پیش کش کی مگر تاحال مودی حکومت نے شکریہ تو درکنار پاکستان اور بھارت کی جانب سے مدد کی پیش کش کا رسمی شکریہ تک ادا کرنا گوارا نہیں کیا۔

ایک ایسے وقت جب بھارت کی دردناک تصاویر عالمی میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ مودی حکومت کو اس بحران سے تیزی سے نمٹنے کے بجائے اپنے امیج کی کہیں فکر پڑی ہوئی ہے۔ آج بھی اسے اتنی فرصت ہے کہ اس نے ٹویٹر کو کوویڈ سے متعلق سرکاری حکمتِ عملی پر تنقید کرنے والے ایک سو اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ بجائے یہ کہ آر ایس ایس اپنے تیس لاکھ سے زائد کارسیوکوں ( رضا کاروں ) کو آکسیجن کی فراہمی کی پہرے داری اور لوگوں کی شہر شہر مدد کے لیے متحرک کرتی، اس کی قیادت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں اس وبا کی سنگینی کی آڑ میں ملک کے اندرونی و بیرونی دشمن بھارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی کارروائی نہ کر ڈالیں۔ کل میں بھارت کے سرکردہ صحافی اور دی پرنٹ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کا ایک تجزیہ پڑھ رہا تھا۔ ان کے بقول ’’ ہم سب واقف ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ، جے بولسنارو ( برازیل کے صدر )، نیتن یاہو یا نریندر مودی جیسے طاقتور کہلانے کی شوقین شخصیات میں ایک بنیادی قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان کی پوری توجہ اپنے ووٹ بینک کو یکجا رکھنے پر ہوتی ہے۔

مضبوط لیڈر کی آج کل ایک نشانی یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنی ناکامی یا چھوٹی سے چھوٹی کمزوری کا اعتراف نہیں کرتا، بھلے اس کے آس پاس کی دنیا اینٹ اینٹ بکھر رہی ہو۔ اس کے بارے میں تاثر ابھارا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کے سامنے پلک نہیں جھپکتا۔ ووٹ بینک انھی خوبیوں کے سبب اپنے لیڈر پر لٹو رہتا ہے۔ ووٹ بینک تصور ہی نہیں کر سکتا کہ اس کے لیڈر کے منہ سے کبھی ایسے فقرے نکلیں گے جیسے ’’معافی چاہتا ہوں دوستو! میں اس صورتحال کو غلط سمجھا ‘‘۔غلطی کے اعتراف کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ بھی کسی دوسرے انسان کی طرح خطا کے پتلے ہیں۔ آپ بھی دیوتا یا اوتار نہیں ہیں۔ آپ سے تو ہماری ہمیشہ یہی توقع رہے گی کہ آپ مٹی کو بھی چھو لیں تو وہ سونا بن جائے۔ آپ کا ہر قدم ماسٹرا سٹروک ہو اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالیں اس میں کامیابی آپ کے پاؤں چھوتے ہوئے پیچھے پیچھے چلے۔

مگر گزشتہ ہفتے پہلی بار ایسا لگا کہ ’’ ناقابلِ تسخیر قیادت ’’کے بھی تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں پھولے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اس آفت سے نپٹنے کے لیے ویکسینیشن میں تیزی لانے سمیت مودی جی کے نام اپنے خط میں جو بھی تجاویز دیں، لگتا ہے حکومت اعتراف کیے بغیر ان پر عمل درآمد کرنے پر خود کو مجبور پا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے عین آخری دن بادلِ نخواستہ اعلان کیا کہ وہ مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں آخری بڑے جلسے سے خطاب کرنے نہیں جا رہے۔مگر مودی بھگتوں کو اب بھی امید ہے کہ جیسے ہی مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں اگلے ہفتے بی جے پی کی کامیابی کا گجر بجے گا، بھارت واسی کوویڈ شوویڈ بھول بھال کر پھر سے نریندر مودی بھائی کی شاندار شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے اور اس کامیابی کے شور میں کوویڈ ہاتھ سے نکلنے کا غل غپاڑہ کہیں دب دبا جائے گا۔

مشکل یہ ہے کہ دنیا کے بہترین سائنسی دماغ آج بھی کوویڈ کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ دماغ ہیں جو بہت پہلے ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔ پر کیا کیا جائے کہ یہ کم بخت وائرس ووٹر نہیں ہوتا۔ نہ ہی اسے پرواہ ہے کہ کون ہارا کون جیتا۔ اسے انسانوں کی طرح تقسیم بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا کام تو سیاسی و مذہبی عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بس تکلیف، بیماری اور موت پھیلانا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکا ، برازیل اور برطانیہ جیسے ممالک کی قیادت کے حد سے زیادہ اعتماد کو بھی پارہ پارہ کر دیا اور اب بھارت کی باری ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے لیڈر (مودی) نے جنوری میں ڈیوس میں ہونے والے عالمی اکنامک فورم کے اجلاس میں چھپن انچ کا سینہ پھلاتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ ’’ جب کوویڈ شروع ہوا تو دنیا بھارت کے بارے میں پریشان ہونے لگی کہ کوویڈ کا سونامی ٹکرانے والا ہے۔

سات سو سے آٹھ سو ملین بھارتی اس سے متاثر ہوں گے اور بیس لاکھ سے زائد اموات ہوں گی۔ مگر بھارت نے نہ صرف ایسا ہونے نہیں دیا بلکہ دنیا کو بھی ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں کو بلا تاخیر بڑھایا۔ ملک میں دنیا کا سب سے بڑا ویکسینشن پروگرام شروع کیا۔ دو میڈ ان انڈیا ویکسینز تیار کی گئیں اور باقی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ اور اب بھارت اس قابل ہے کہ وہ ان ویکسینز کی برآمد کے ذریعے باقی دنیا کی مدد کر سکے‘‘۔ پھر فروری میں بی جے پی کی ایگزیکٹو کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے کوویڈ پر فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ ہمیں فخر ہے بھارت نے نہ صرف نریندر مودی کی فعال اور ویژنری قیادت تلے کوویڈ کو شکست دی بلکہ ہر بھارتی کو یہ اعتماد بخشا کہ ایک خودکفیل بھارت کی تعمیر ممکن ہے۔ پارٹی بھارت کو دنیا کے سامنے کوویڈ کو شکست دینے والی قوم کے طور پر پیش کرنے پر اپنی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے‘‘۔

شکر ہے کہ اس قرار دار میں ایک عظیم الشان مہرابِ فتح تعمیر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے اس لمحے کی یاد دلا دی جب نعرہ لگا تھا کہ ’’ اندرا ہی انڈیا ہے ‘‘۔ مگر مسئلہ پھر وہی ہے کوویڈ نہ صرف ناخواندہ ہے بلکہ اندھا اور بہرا بھی ہے۔ اسے تو بس یہی یاد رہتا ہے کہ کب غافلوں پر پہلے سے بڑا شبخون مارنا ہے۔ اسی دوران ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا جس میں اتر پردیش میں کوویڈ کے حملے کو روکنے کے لیے وزیرِِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی کوششوں کو سراہا گیا۔ فروری کے وسط میں پنجاب ، کیرالا اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے مرکز سے درخواست کی کہ وبا کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے لہٰذا انھیں تیزی سے ویکسین فراہم کی جائے۔ مگر چونکہ ان تینوں ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی حکومتیں تھیں لہٰذا مرکز نے ان کی اپیل کو شیر آیا شیر آیا والا واویلا سمجھ کر سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آج کوویڈ ہر طرف سے ہر کسی کو کھا رہا ہے مگر مودی حکومت نے جنوری اور فروری میں آتے ہوئے طوفان کو دیکھنے کے بجائے عالمی اور مقامی سطح پر فتح کے جو لمبے لمبے دعوی کیے اب انھیں نگلے کیسے اور کیسے تسلیم کرے کہ ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ وہ ذہن ہے جو کوویڈ سے بھی بڑی مصیبت ہے۔‘‘

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

تعلیمی اداروں کا بگڑتا ماحول

لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ذریعے پھیلائے جانے والے کلچر کا شاخانہ تھا اور جس کا اپنے حالیہ انٹرویوز میں وزیراعظم عمران خان نے بار بار ذکر کیا۔ واقعہ جس کی وڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں کچھ یوں ہے کہ مغربی لباس میں زیب تن ایک طالبہ ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھامے گھٹنوں کے بل ایک لڑکے کے سامنے بیٹھ کر اُسے وہ گلدستہ پیش کرتی ہے جس کا مقصد اُس بچی کی طرف سے لڑکے کو Propose کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لڑکا لڑکی کو کھڑا کرتا ہے اور دونوں گلے لگ جاتے ہیں اور یہ سین یونیورسٹی میں موجود درجنوں دوسرے طلباء و طالبات کے درمیان فلموں کی طرز میں موبائل کیمروں میں فلمایا بھی گیا۔ اچھا ہوا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے دونوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔ یہ واقعہ ہماری حکومت، ہمارے معاشرے، ماں باپ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی بند آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

یہ خطرے کی وہ گھنٹی ہے جسے اگر مزید نظر انداز کیا گیا تو ہماری رہی سہی معاشرتی اور مذہبی اقدار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور ہمیں اُس گندگی کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس کا شکار آج کل مغربی معاشرہ بن چکا اور جس کی نقالی میں بھارت بھی آگے نکل چکا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں بچے بچیاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں لیکن جس تیزی سے بالخصوص پرائیویٹ اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ماحول مغربی کلچر سے مرعوب ہو کر آزاد خیالی کی طرف جا رہا ہے وہ اِن اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے علاوہ پورے معاشرے کے لئے بہت خطرناک ہے جس کے تدارک کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ اِس بگڑتے ماحول کو دیکھ کر تو بڑی تعداد میں والدین اِس فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے بچے بچیوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں بھیجیں بھی کہ نہیں؟ تعلیمی ادارے بچوں کی تربیت کی بجائے اگر شرم و حیا کو تار تار کرنے اور مغربی کلچر کو پھیلانے کا سبب بن جائیں تو پھر ایسی تعلیم معاشرے کی تباہی کی وجہ بن جاتی ہے۔

ایک اسلامی ملک میں اصولاً تو لڑکے لڑکیوں کے لئے تعلیمی ادارے علیحدہ علیحدہ ہونے چاہئیں لیکن اگر کسی مجبوری کی بنیاد پر ہر جگہ ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو یہ حکومت اور تعلیم اداروں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ ایسے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں جہاں بچے اپنی تعلیم پر توجہ دیں نہ کہ تعلیمی اداروں کو ہالی وڈ اور بالی وڈ کے کلچر کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو فیشن کا گھر نہ بنایا جائے۔ بچوں بچیوں دونوں کے لئے اپنے معاشرتی و دینی اقدار کے مطابق مہذب لباس پہننے کو لازمی قرار دیا جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی اداروں میں کسی قسم کی نازیبا حرکت کو برداشت کرنے کے متعلق زیرو ٹالرنس ہو۔ حال ہی میں گورنر خیبر پختون خوا کی طرف سے صوبہ کی کچھ اہم جامعات میں لڑکے لڑکیوں کے لئے مخصوص یونیفارم کا لازمی کیا جانا ایک احسن اقدام ہے۔ تمام وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ پبلک اور پرائیویٹ دونوں قسم کی جامعات کے ماحول کو اپنے دینی اور معاشرتی اقدار کے مطابق سختی سے ڈسپلن کرنے کے لئے ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ جو تماشا ہم نے لاہور کی یونیورسٹی میں دیکھا وہ کہیں معمول نہ بن جائے۔

مغربی کلچر پھیلانے والوں کی سختی سے حوصلی شکنی کرنی چاہئے اور اس میں ریاست کا کردار بہت اہم ہے لیکن افسوس کہ وزیراعظم عمران خان کا بار بار اسلام اور ریاستِ مدینہ کی بات کرنے کے باوجود اُن کی ان باتوں اور وعدوں کا عملی طور پر کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آئینِ پاکستان کے مطابق وہ معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اس آئین کے ہم سب پابند ہیں۔ میڈیا ہو، سیاسی جماعتیں ہوں، حکومت ہو، پارلیمنٹ ہو، عدلیہ ہو یا کوئی اور ریاستی ادارہ ہو، سب کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائے نہ کہ اس کے خلاف کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

اشرافیہ پاکستان کو کھا گئی

ویسے تو پاکستان کو بہت سی بیماریوں کا سامنا ہے اور جس طرف دیکھیں مایوسی ہی مایوسی ہے۔ اخبارات پڑھیں یا ٹی وی کھولیں تو کم ہی اچھی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں لیکن جنگ اخبار میں صحافی رفیق مانگٹ کی ایک خبر شائع ہوئی جو ہمارے ایک ایسے مرض کے متعلق ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور اس ملک کا غریب طبقہ دونوں شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارے (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوے خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے 26 کھرب 60 ارب روپے (17.4 ارب ڈالر) اشرافیہ کی مراعات پر خرچ ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر، جاگیردار، سیاسی طبقہ اور اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان کی اشرافیہ کو دی جانے والی معاشی مراعات ملکی معیشت کا چھ فیصد ہیں جو تقریباً 17.4 ارب ڈالر (2,659,590,000,000روپے) بنتے ہیں۔

خبر کے مطابق گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تحت نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (این ایچ ڈی آر) جاری کی گئی جس میں 22 کروڑ نفوس کے ملک پاکستان میں عدم مساوات کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طاقتور طبقہ اپنے منصفانہ حصے سے زیادہ کے لئے اپنا استحقاق استعمال کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراعات سے سب سے زیادہ فائدہ کارپوریٹ سیکٹر اُٹھاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس نے سات کھرب 18 ارب روپے (4.7 ارب ڈالر) کی مراعات حاصل کی ہیں۔ دوسرے اور تیسرے نمبر پر مراعات حاصل کرنے والا ملک کا ایک فیصد امیر ترین طبقہ ہے جو ملک کی مجموعی آمدن کا نو فیصد مالک ہے، جاگیر دار اور بڑے زمیندار جو آبادی کے 1.1 پر مشتمل ہیں لیکن ملک کی 22 فیصد قابلِ کاشت زمین کے مالک ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان آخر سے دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلے پر افغانستان ہے۔ خبر کے مطابق اس رپورٹ کے نتائج پر تبادلۂ خیال کے لئے، یو این ڈی پی کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور علاقائی چیف، کنی وگینا راجا دو ہفتوں کے ورچوئل ٹور پر ہیں، انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزراء سمیت ان کی کابینہ کے دیگر اراکین جن میں امور خارجہ اور منصوبہ بندی کے وزرا شامل ہیں، سے اس رپورٹ کی فائنڈنگ پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں نے اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اِس حوالے سے کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے۔ بہت اچھی بات ہے اگر موجودہ حکومت اس بیماری کو دور کرنے کے لئے کچھ اقدامات اُٹھا سکے لیکن جو اشرافیہ پاکستان اور غریب عوام کا خون چوس رہی ہے، وہ تو اُس چینی اور آٹا مافیا سے بہت مضبوط ہے جسے قابو کرنے میں حکومت ناکام رہی۔ حکومت تو گزشتہ ایک دو دن سے ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے سامنے بھی بےبس نظر آئی جس کی وجہ سے شہر شہر بلاک ہوئے، خون خرابہ ہوا، جانیں ضائع ہوئیں، توڑ پھوڑ ہوئی، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دلی تکلیف ہوتی ہے لیکن کوئی حل نظر نہیں آتا۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

عالمی وبا : لاک ڈائون حل نہیں ہے

بھارت میں کورونا کی وبا آج کل ایسی بھیانک شکل اختیار کر رہی ہے کہ اس نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پاک بھارت جنگوں کے وقت اتنا خوف نہیں تھا، جتنا آج کل ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو قوم سے خطاب کرنا پڑا اور بتانا پڑا کہ حکومت اس وبا سے لڑنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ آکسیجن، انجکشن، بیڈ، دوائیوں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟ اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت پر غفلت اور لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے‘ لیکن انہی قائدین کو کورونا نے پکڑ لیا ہے۔ کورونا کسی بھی ذات، حیثیت، مذہب، صوبے وغیرہ سے امتیازی سلوک نہیں کر رہا ہے۔ سب ویکسین کیلئے دوڑ لگا رہے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ لوگوں کی مدد کریں۔ یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ یہ وبا ہر روز لاکھوں نئے لوگوں میں کیوں پھیل رہی ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں میں بے احتیاطی بہت بڑھ گئی تھی۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ، پونے جیسے شہروں کے علاوہ، چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ماسک پہنے بغیر لوگ گھومتے ہوئے نظر آئے۔

شادیوں، ماتمی جلسوں اور کانفرنسوں میں ایک بہت بڑا ہجوم نظر آیا۔ بازاروں میں، لوگ ایک دوسرے کے قریب چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ٹرینوں اور بسوں میں بھی لوگ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے اور منہ چھپانے میں عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ایسے حالات میں پھر یہ کورونا کیوں نہیں پھیلے گا؟ شہروں سے دیہاتوں میں فرار ہونے والے لوگ اپنے ساتھ کورونا کے جراثیم بھی لے کر جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ہم ہر روز لاکھوں لوگوں کیلئے ہسپتالوں میں جگہ کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ حکومت نے یقینی طور پر نرمی کی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ کورونا کا دوسرا حملہ اتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔ وہ اس نئے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ کچھ صوبائی حکومتیں ایک بار پھر لاک ڈائون کا اعلان کر رہی ہیں، جبکہ کچھ نائٹ کرفیو نافذ کر رہی ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ ان کے ارادے نیک ہیں، لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ بیروزگار لوگ بھوک سے مر جائیں گے، معیشت تباہ ہو جائے گی اور بحران دوگنا ہو جائے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مکمل لاک ڈائون کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ابھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ منہ پر ماسک لگائے رکھیں، جسمانی فاصلہ رکھیں اور اپنے روزمرہ کے تمام کام کرتے رہیں۔ یہ ضروری ہے کہ لوگ خوفزدہ نہ ہوں۔ کورونا ان لوگوں کو ہوا ہے جو مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

بھارت کی سکڑتی ہوئی مڈل کلاس
کورونا وبا کے دوسرے حملے کا اثر اتنا شدید ہے کہ لاکھوں مزدور ایک بار پھر اپنے گائوں بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والوں اور منشیات فروشوں کے سوا تمام تاجر پریشان ہیں۔ ان کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ اس دور میں، صرف لیڈر اور ڈاکٹر زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے تمام شعبوں میں سُستی کا ماحول ہے۔ گزشتہ سال، تقریبا 10 ملین افراد بیروزگار ہوئے تھے۔ اس وقت حکومت نے غریبوں کی کھانے پینے کی اشیا کے حوالے سے مدد ضرور کی، لیکن یورپی حکومتوں کی طرح اس نے بھی خود عام آدمی کی 80 فیصد آمدنی کا بوجھ نہیں اٹھایا۔ اب ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کی بنیاد پر، پیو ریسرچ سنٹر کا کہنا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے بھارت کی معیشت اس قدر گر چکی ہے کہ اس کے غریبوں کا تو کیا، جسے ہم مڈل کلاس کہتے ہیں، اس کی تعداد بھی 10 کروڑ سے کم ہو کر 7 کروڑ رہ گئی ہے یعنی درمیانی طبقے سے 3 ملین افراد غریبی کی سطح پر آ چکے ہیں۔ متوسط طبقے کے خاندانوں کے یومیہ اخراجات 750 سے 3750 روپے تک ہوتے ہیں۔

یہ اعدادوشمار خود ہی کافی مایوس کن ہیں۔ اگر ہندوستان کا متوسط طبقہ 10 کروڑ ہے تو غریب طبقہ کتنے کروڑ ہو گا؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اعلیٰ متوسط طبقے اور اعلیٰ آمدنی والے گروپ میں 5 کروڑ افراد یا اس سے بھی زیادہ 10 کروڑ لوگ ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا یہ نہیں ہے کہ بھارت کے 100 کروڑ سے زیادہ لوگ غریب طبقے میں آگئے ہیں؟ ہندوستان میں انکم ٹیکس جمع کرنے والے کتنے لوگ ہیں؟ پانچ چھ کروڑ بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1.25 بلین افراد کے پاس کھانے، لباس، رہائش، تعلیم، دوا اور تفریح کے کم سے کم وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آزادی کے بعد بھارت نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ اس نے ترقی کی ہے لیکن اس کی رفتار بہت سست رہی ہے اور اس کا فائدہ بہت کم لوگوں تک محدود رہا ہے۔ چین بھارت سے بہت پیچھے تھا لیکن اس کی معیشت آج ہندوستان سے پانچ گنا بڑی ہے۔ وہ کورونا پھیلانے کے لئے پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے، لیکن اس کی معاشی ترقی اس دور میں بھی بھارت کی نسبت زیادہ ہے۔ وہ دوسری سپر پاورز کے مقابلے میں کورونا کو کنٹرول کرنے میں زیادہ کامیاب ہے۔بھارت کی بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود، وہ اب بھی ذہنی طور پر انگریزوں کا غلام ہی ہے۔ اس کی زبان، اس کی تعلیم، اس کی دوائی، اس کا قانون، اس کا طرز زندگی حتیٰ کہ اس کا نقلچی پن بھی آج تک زندہ ہے۔ خود انحصاری کی عدم موجودگی میں، بھارت نہ تو کورونا کی وبا کا شدت سے مقابلہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی یہ ایک بڑی طاقت بننے کے قابل ہے۔

بھارت روس تعلقات
روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے مابین پچھلے دنوں ہونے والی گفتگو کے اقتباسات شائع ہو چکے ہیں اور اگر آپ نے ان کی پریس کانفرنس میں ان دونوں کی باتوں کا گہرائی سے جا ئزہ لیا ہو گا تو بھارتیوں کو کچھ خوشی ہوئی ہو گی لیکن وہ غمزدہ ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکے ہوں گے۔ بھارتی لوگ اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ بھارت روس سے ایس 400 میزائل خرید رہا ہے اور یہ خریداری امریکی پابندیوں کے باوجود جاری رہے گی۔ روس بھارت سے ساڑھے سات لاکھ کورونا ویکسین خریدے گا۔ اگرچہ بھارت نے روسی ہتھیاروں کی خریداری میں تقریباً 33 فیصد کی کمی کر دی ہے، لیکن لاوروف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ روس اب جدید اسلحہ سازی میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ لاوروف نے ہند روس سٹریٹیجک اور تجارتی تعاون بڑھانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات بند کرنے کیلئے آزاد ہے۔ یہاں اس کا اشارہ شاید بھارت اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت کی طرف تھا، لیکن اس نے بہت سی باتیں بھی کہی ہیں، جن پر تھوڑا سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔

وہ دن گزر گئے جب بھارت روس تعلقات کو آہنی دوستی کہا جاتا تھا۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی لاوروف اسلام آباد پہنچ گئے۔ بھارت کے بارے میں روس کا رویہ ویسا ہی ہو گیا ہے، جیسا کبھی امریکہ کا تھا۔ وہ اسلام آباد کیوں گئے؟ کیونکہ وہ افغانستان کے بحران کو حل کرنے میں مصروف ہیں۔ سوویت روس ہی اس تکلیف کا باعث بنا تھا اور وہی اس کی دوا تلاش کر رہا ہے۔ لاوروف نے واضح طور پر کہا کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر افغان بحران حل نہیں ہو سکتا۔ لاوروف نے طالبان کے ساتھ روسی تعلقات پر اصرار کیا۔ انہوں نے ‘انڈو پیسیفک‘ کے بجائے ‘ایشیا پیسیفک‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلوی چوکڑی کو ‘ایشین نیٹو‘ بھی کہا۔ روس، چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر اب امریکی تسلط کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بہتر ہو گا کہ بھارت کسی دھڑے کا پچھ لگو نہ بنے۔ جے شنکر نے اس نکتے کو واضح کیا ہے۔

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ دنیا نیوز

اس بار ضمیر کا ریٹ کیا تھا؟

senate election 2021 2

میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ شاہ جی! یہ ضمیر کیا چیز ہے؟ شاہ جی ہنسے اور کہنے لگے: یہ موم کی ناک ہے جیسے چاہو گھما لو اور جیسے چاہے بنا لو‘ لیکن تمہیں اچانک اس بات کا خیال کیسے آیا ہے؟ میں نے کہا: شاہ جی! دراصل مجھے ملکی سیاست میں ضمیر کی حرکتوں نے تنگ و پریشان کر رکھا ہے۔ شاہ جی ایکدم سے پریشان ہو کر کہنے لگے خیر تو ہے؟ میں نے کہا: شاہ جی! میری تو خیر ہے مجھے تو پریشانی اس بات کی ہے کہ حقیقت میں ضمیر ہے کیا چیز؟ خصوصاً ہماری سیاست میں ضمیر نے یہ کیا گھڑمس مچا رکھا ہے؟ ضمیر اور بریف کیس میں کیا فرق ہے اور ان کے درمیان حد فاضل کہاں قائم ہوتی ہے؟ شاہ جی کہنے لگے: تمہارا سوال غیر واضح ہے براہ کرم پہلے اپنے سوال کی کھل کر وضاحت کرو۔ میں نے کہا: شاہ جی! دور کیوں جائیں؟ صرف سینیٹ الیکشن کو دیکھ لیں۔ حکومت کو سادہ عددی اکثریت کے باوجود قومی اسمبلی سے اپنے امیدوار کے لیے سولہ ووٹ کم ملے ہیں اور وہ ہار گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں حکومت کے مقابلے میں کم ارکان کی حامل پی ڈی ایم کی پارٹیوں کو ان کی گنتی سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور ان کا امیدوار جیت گیا ہے۔

شاہ جی نے قطع کلامی کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ممکن ہے پی ڈی ایم کا امیدوار تحریک انصاف کے امیدوار سے بہتر ہو؟ یقین کریں شاہ جی کی اس بات پر میری تو ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے کہا: شاہ جی! قبلہ نہ تو آپ اتنے بھولے اور لاعلم ہیں کہ دونوں امیدواروں کے بارے میں نہ جانتے ہوں اور نہ ہی ان امیدواروں کے درمیان کوئی میرٹ کا مسئلہ درپیش تھا۔ دونوں کی خوبیاں سب پر عیاں تھیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے اوپر ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران کرپشن کی کہانیاں زبان زدعام تھیں۔ لوگ ان کو ایم بی بی ایس کے نام سے یاد کرتے تھے۔ شاہ جی نے حیران ہو کر پوچھا: واقعی؟ میں نے سنی ان سنی کر دی۔ مجھے علم تھا کہ شاہ جی حسب معمول کھچرے پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان کے ایک بیٹے پر ایفیڈرین کا کوٹہ جاری کروانے اور اس میں مال پانی کمانے کا الزام ہے‘ دوسرے بیٹے کا نام حج سیکنڈل میں تھا۔ ان کے باقی معاملات پر چار حرف بھیجیں‘ لیکن ترک خاتون اول کا ہار تو بصد مشکل ان سے برآمد کروایا گیا‘ اب بھلا مال مسروقہ کی ان کے گھر سے برآمدگی کے بعد جرم میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے‘ لیکن خود اعتمادی کی حد دیکھیں کہ وہ ارکان اسمبلی سے میرٹ، کارکردگی اور ایمان داری کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے تھے۔

دوسری طرف ہر بار آئی ایم ایف کے نمائندے کے طور پر عالمی استعمار کے تحصیل دار کے طور پر پاکستانی سیاست میں پیرا شوٹ کے ذریعے اترنے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ تھے‘ یعنی نتھو سنگھ اینڈ پریم سنگھ، ون اینڈ دی سیم تھنگ والی بات تھی؛ تاہم دونوں فریقوں کا ضمیر کے بارے میں موقف بڑا مزیدار ہے۔ پی ڈی ایم کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دینے سے منحرف ان سولہ ارکان نے ضمیر کی کس آواز پر سید یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیئے یا ان کے برخوردار کی ہدایات کی روشنی میں اپنے ووٹ ضائع کیے‘ اور کون سے ضمیر کی آواز پر چار دن بعد انہی سولہ ارکان نے عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دے دیا؟ خوردبین سے جائزہ لینے کے باوجود مجھے ایسی کوئی ایک بھی معقول وجہ نظر نہیں آئی جو ان سولہ اراکین قومی اسمبلی کے ضمیر کو جگا کر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے پر مائل کر سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ضمیر کو مدِ نظر رکھ کر ووٹ ڈالے جاتے تو گیلانی صاحب کی تو ضمانت ضبط ہو جاتی، اس لئے مجھے ذاتی طور پر ان سولہ ووٹوں کے ضمیر کے بارے میں یہ کہتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ یہ قابل خرید قسم کا ضمیر تھا جو خفیہ ووٹنگ میں جاگ پڑا اور حکومت کے مخالف امیدوار کو پڑ گیا اور محض تین دن بعد ہی ان کے ضمیر کی ایک بار پھر آنکھ کھل گئی اور وہ قومی اسمبلی میں جا کر عمران خان کے حق میں اپنا ووٹ ڈال آئے۔ اس خفیہ ووٹنگ کے حق میں بھی بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں اور مخالفت میں بھی۔ ہر دو طریقہ ہائے کار میں اچھی اور خراب روایات بھی موجود ہیں اور امکانات بھی؛ تاہم میرے خیال میں اس آمریت بھرے جمہوری نظام میں جہاں کوئی بندہ اپنی مرضی سے بات کر کے ذلیل و خوار ہو جائے اور جہاں جمہوریت کے نام لیوا پارٹی لیڈرز اپنے ارکان اسمبلی کو زر خرید نوکروں اور مزارعوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوں‘ اوپر سے میاں نواز شریف کے دور کی فلور کراسنگ والی آئینی ترمیم ان کو اپنی مرضی استعمال کرنے سے روک دے وہاں ارکان اسمبلی کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا کہ وہ خفیہ ووٹ میں اپنے پارٹی لیڈرز کو اپنے عدم اطمینان کا پیغام دے سکیں۔

جس ملک کی جمہوری سیاست میں بڑے نام والا تجربہ کار، پرانا اور نمایاں لیڈر اپنی گود میں کھلائے ہوئے پارٹی لیڈر کے سامنے تابعداری کا مظاہرہ کرنے پر مجبور نظر آئے‘ جہاں ایک نیک نام، معقول اور سینئر رہنما زندگی میں پہلی بار عوامی جلسے کے ذریعے سیاست میں اپنی انٹری ڈالنے والی نوعمر سے سیاست سیکھنے کی خواہش کا اظہار کرے‘ جہاں تیسرے بڑے آئینی عہدے پر فائز رہنے والا سینئر سیاستدان اپنے سے دسواں حصہ سیاسی زندگی والے رہنماؤں کے لئے دروازہ کھول کر مؤدب کھڑا ہو اور اخبار نویسوں کو اپنے نام کے ساتھ ”سردار‘‘ کا لقب نہ پکارنے پر گرم ہو جانے والا سینئر سیاستدان اپنے بیٹوں کے ہم عمر کے سامنے ہاتھ باندھ کر مؤدب کھڑا ہو بھلا وہاں کس کی جرأت ہے کہ وہ اپنے پارٹی لیڈر کی پالیسیوں سے کھل کر اختلاف کر سکے؟ سینیٹ میں شو آف ہینڈز اور سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے انتخاب کی صورتوں میں ایک فرق تو صاف نظر آتا ہے کہ اگر شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخاب ہو تو امیدوار سارا پیسہ ٹکٹ کے خریدنے پر لگائے گا اور ظاہر ہے یہ پیسہ ٹکٹ دینے والا وصول کرے گا اور سیکرٹ بیلٹ کی صورت میں امیدوار اپنے ووٹ خریدنے کے لئے خرچہ کرے گا۔

اگر ووٹروں کے حساب سے دیکھا جائے تو سیکرٹ بیلٹ بہترین طریقہ ہے جس میں ووٹر کی یعنی ارکان اسمبلی کی جیب گرم ہوتی ہے۔ اگر پارٹی لیڈر اور امیدوار سے پوچھا جائے تو شو آف ہینڈز بہترین طریقہ انتخاب ہے کہ اس میں سارا معاملہ صرف دو لوگوں کے درمیان طے ہو جائے گا اور ٹکٹ دینے والا بھی خوش ہو گا اور ٹکٹ لینے والا بھی کہ ایسی صورت میں ایک شخص سے معاملات طے کر کے وہ بے فکر جائے گا اور خرچہ بھی مقابلتاً بہت کم ہو گا۔ سینیٹ کی ٹکٹوں کی اکثریت پہلے بھی ارب پتی لوگوں کو ملتی تھی اور آئندہ بھی انہی کو ملتی رہے گی۔ تاج حیدر ٹائپ لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہے گی۔ لوٹا بننے والے سولہ ارکان اسمبلی قومی اسمبلی کے بارے میں لوگ اپنی اپنی جگہ پر اندازے لگا رہے ہیں مگر یہ صرف اندازے ہیں؛ تاہم یہ بات لازمی نہیں کہ سب نے پیسے ہی پکڑے ہوں۔ ممکن ہے کہ منہ پر بات نہ کر سکنے والے ہمت سے عاری ایک دو ارکان اسمبلی نے مؤرخہ تین مارچ کو یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہوں؛ تاہم بقول ہمارے دوست خان صاحب کے، ووٹ ضائع کرنے والوں کا ریٹ تھوڑا کم تھا اور ووٹ بیچنے والوں کا ریٹ بھی زیادہ تھا اور آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ بھی تھا۔ اس بار ضمیر کا ریٹ اڑھائی سے پانچ کروڑ روپے تھا۔

خالد مسعود خان

بشکریہ دنیا نیوز

اعلیٰ ملازمتوں میں میرٹ کا قتل جاری

پہلے تو ایک اچھی خبر ملی، بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب لوح و قلم سے، تعلق جماعت اسلامی سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کے پی میں اب نوکریاں میرٹ پر بغیر کسی سفارش کے مل رہی ہیں۔ وہ اپنا عملی تجربہ بتارہے ہیں کہ ان کی صاحبزادی نے اسکول ٹیچر کے لئے درخواست دی۔ تمام ضروری کاغذات منسلک کر کے ڈاک سے متعلقہ پتے پر بھیج دیے۔ کچھ دنوں بعد ان کی تقرری کا خط آگیا۔ کسی سے کہنا پڑا نہ کسی نے کوئی رشوت مانگی۔ اب وہ پاکستانی بیٹی اسکول جارہی ہے، پڑھا رہی ہے۔ بہت خوشی ہوئی کہ تبدیلی آگئی ہے۔ سندھ میں تو روز یہی خبریں سنتے ہیں کہ نوکریاں اتنے ہزار میں بک رہی ہیں۔ کوئی سننے والا نہیں لیکن کچھ دنوں بعد ہمارے بہت ہی قریبی عزیز نوجوان واہ سے آئے جو کے پی کی سرحد پر واقع ہے۔ دونوں بھائیوں نے انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ بہت سے متعلقہ تربیتی کورسز بھی کیے ہیں۔ دونوں کو کمپیوٹر پر نئی نئی باتیں اور نئے طریقے سیکھنے کا شوق بھی ہے۔ وہ کئی سال سے نوکری کی تلاش میں اخبارات دیکھ رہے ہیں۔

آن لائن نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اپنے ڈاکومنٹ بھیج رہے ہیں۔ ایک طرف میں ان کی پیشانی پر تابندہ عزائم بھی دیکھ رہا ہوں۔ دوسری طرف ان کی آنکھوں سے جھلکتی مایوسی سے پریشان بھی ہو رہا ہوں۔ ہوتا کیا ہے کہ وہ تحریری امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر لیتے ہیں۔ شارٹ لسٹ میں بھی آجاتے ہیں۔ زبانی انٹرویو بھی بہت تسلی بخش ہوتا ہے۔ اس میں بھی وہ سر فہرست ہوتے ہیں لیکن تقرری کا پروانہ انہیں نہیں ملتا ۔ کوئی جواب دینے کو بھی تیار نہیں ہوتا کہ انہیں نوکری کیوں نہیں دی گئی۔ انہیں یاد آتا ہے کہ امیدواروں میں دو نوجوان ایسے تھے جو دیگر نوجوانوں سے مل بھی نہیں رہے تھے۔ الگ تھلگ بیٹھے تھے۔ بہت پُرامید۔ پُر اعتماد۔ معلوم ہوا کہ نوکری کی شہزادی ان کے حصّے میں ہی آئی۔ تحریری امتحان میں بھی وہ بہت پیچھے تھے۔ زبانی انٹرویو میں بھی۔

میرے از حد قریبی عزیز نوجوانوں کو یہ تلخ اور مایوس کن تجربات گزشتہ پانچ سال سے ہو رہے ہیں۔ اب ان دونوں کو ایک سرکاری محکمے نے کراچی میں تحریری امتحان اور زبانی انٹرویو کے لئے بلایا ہے۔ اس میں بھی وہ کامیاب رہے ہیں لیکن وہ اب بھی آس اور یاس کی شاخ پر لٹکے ہوئے ہیں۔ اپنے شہر سے دوسرے شہر اپنے خرچ پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اپنے طور پر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ یہ ساری کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ۔ مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ عمران حکومت بھی نوجوانوں کے لئے میرٹ پر روزگار کی فراہمی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکی ۔ ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی داستان بیان کی ہے۔ انہیں بھی ایسی ہی مایوسیوں اور پسپائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر ناکامی پر بھرپور تحقیق کی، متعلقہ محکمے میں سوال جواب کیے۔ گوگل سے مدد لی تو وہ بار بار اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے تحریری ٹیسٹ اور زبانی انٹرویو میں سر فہرست آنے کے باوجود جن نوجوانوں کو نوکریاں ملتی رہی ہیں، وہ تعلیمی اعتبار سے اُن کے برابر نہیں تھے لیکن ان کا کھونٹا بہت مضبوط تھا۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ یہ تقرریاں عام کی جائیں۔ 

امیدواروں کے نام اہلیت، بھی ویب سائٹ پر دی جائے اور تقرری پانے والے خوش نصیبوں کے نام اور کوائف بھی دیے جائیں۔ اس وقت بعض اداروں کے مطابق 66 لاکھ سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ہر برس یونیورسٹیوں سے ہزاروں گریجویٹ فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہیں۔ نہ جانے کس طرح بھاری فیسوں کا انتظام کر کے وہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ دن رات پڑھتے ہیں۔ ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ ڈگری اعلیٰ گریڈ کے ساتھ ملتے ہی اچھے گریڈ کی نوکری مل جائے گی۔ ڈگری کے حامل نوجوانوں میں بیروزگاری مجموعی بیروزگاروں میں 3 گنا ہے تعلیم یافتہ خواتین میں بےروزگاری مردوں سے زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا میں آہ و فغاں کے جو مقامات ہیں وہاں یہ بےروزگار اپنی اہلیت اور کوائف آویزاں کرتے ہیں۔ 2008 میں بیروزگاری کی شرح 0.42 فیصد تھی۔ 2013 میں 2.95 فیصد۔ 2018 میں 4.08 تک جا پہنچی۔ 2020 میں 4.45 فیصد ہو گئی۔ 

پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سر فہرست ہے جہاں 65 فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی ہے جو کسی بھی مملکت کے لئے قابلِ فخر ہونی چاہئے لیکن اپنے اس اثاثے کو ہم نے اپنے لئے خطرناک بوجھ بنا لیا ہے۔ کیا ہماری یونیورسٹیاں وہ تعلیم اور تربیت نہیں دے رہی ہیں جس کی مارکیٹ میں ضرورت ہے۔ یا اس کی وجوہ کوئی اور ہیں؟ زیادہ بےروزگاری 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ہے۔ اِس عمر کے نوجوان تو پاکستان کی زبردست معاشی اور سماجی طاقت بن سکتے ہیں۔ بےروزگاری کے خاتمے کے لئے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو کسی نہ کسی ہُنر کی تربیت دی جائے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت پر زور دیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن کے پاس ڈگری ہے، میرٹ بھی، ذہانت بھی، ہُنر بھی، ان کی خوش نصیبی میں حائل اسباب کی نشاندہی کی جائے۔ دوسرے مافیائوں کی طرح ایک ایمپلائمنٹ مافیا بھی سرگرم ہے۔ نوکریوں کی خرید و فروخت ہی ان کا ذریعۂ معاش ہے۔

وہ میرٹ والوں کو آگے نہیں آنے دیتے۔ انٹرویوز میں سب نوجوانوں کو مساوی مواقع نہیں ملتے۔ یہ مافیا پرائیویٹ مارکیٹ میں بھی پیش پیش ہے اور وفاقی صوبائی سیکرٹریٹوں کے باہر بھی منڈلاتی رہتی ہے۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا مملکت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے پلیسمنٹ سینٹر بنائے جائیں۔ سرکاری محکمے اور پرائیویٹ ادارے اہل نوجوانوں کو دورانِ تعلیم ہی اپنے لئے چُن لیں۔ بھرتی اور تقرری کا شفاف سسٹم قائم کیا جائے۔ نوکری نہ ملنے پر شکایات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ محتسبِ اعلیٰ کے دفتر سے بھی جواب نہیں ملتا۔
میرے نوجوان مایوس ہیں۔ یعنی ہمارا مستقبل مایوس ہے۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

سارے پاکستانی بکاؤ نہیں ہیں

پہلے تو ولادی میر لینن یاد آتے ہیں
“There are decades where nothing happens and there are weeks where decades happen”
پچھلا ہفتہ ایسا ہی تھا۔ جس میں عشرے برپا ہو گئے۔ راج سنگھاسن ڈول گئے۔ حکمرانوں کے چہرے فق ہو گئے۔ ایسے ہفتے صدیوں کے خلفشار کے بیج بو دیتے ہیں۔
پھر اقبال یاد آئے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

گنتی نے بڑے بڑوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ دونوں طرف نوٹوں کی گڈیاں اچھالی جارہی تھیں۔ سرکاری خزانے خاص طور پر سندھ کے خزانے کا منہ کھول دیا گیا تھا۔ کسی کا ٹکٹ چل رہا تھا، پارلیمانی جمہوریت کی آخری رسوم ادا ہو رہی تھیں۔ دو خطرناک حد تک بیمار سارے تندرستوں اور ہٹے کٹوں پر غالب آرہے تھے۔ روحانی حلقے لرز رہے تھے۔ ایک سید کا بیٹا ضمیر خرید رہا ہے۔ ووٹ جیسی مقدس دستاویز کو مسخ کرنے کے گر بتا رہا ہے۔ پھر ملک کے سب سے بالاتر ادارے میں ووٹ ضائع بھی کیے جارہے ہیں۔ ووٹوں کا ضیاع سیدوں کی کامیابی کی سبیل بن رہا ہے۔ وفاداریاں خریدی گئیں۔ پانچ چھ کروڑ سے قیمت زیادہ لگانے کو کہا گیا۔ یہ تو کل کا مورخ بتائے گا کہ 3 مارچ کو کل کتنے ارب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو منتقل کیے گئے۔

سرمائے کا یہ برہنہ رقص اس ملک میں ہو رہا ہے۔ جہاں شرح نمو صرف ڈیڑھ فیصد رہ گئی ہے۔ جہاں 8 کروڑ 70 لاکھ ہم وطن غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک کروڑ مزید اس لکیر سے نیچے چلے گئے۔ حکومت کچھ نہ کر سکی نہ اپوزیشن۔ عدالتیں صرف تبصرے کرتی ہیں کہ سینیٹ کی سیٹیں اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کے تناسب سے ہونی چاہئیں۔ فیصلے نہیں دیتیں۔ الیکشن کمیشن آزاد ہے، خود مختار ہے۔ کہیں تو چند پولنگ اسٹیشنوں میں دھاندلی کے باعث پورے حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں سارے سمعی، بصری ثبوتوں کے باوجود امیدوار نااہل نہیں ہوتا۔ ادارے کمزور ہو گئے ہیں یا غیر جانبدار۔ اشرافیہ اور انتخابیہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور طاقت کا نام نہاد سر چشمہ عوام صرف تماشائی۔ غلاموں کو صرف تالیاں اور بھنگڑا ڈالنے کی اجازت ہے۔

اس ہفتے میں برپا ہونے والے عشرے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ملک میں خلفشار جاری رہے گا۔ تاج اچھالے جاسکتے ہیں۔ تخت گرائے جاسکتے ہیں۔ آپ کا میرا اس میں کوئی کردار نہیں ہو گا لیکن اس کے نتائج ہمیں ہی بھگتنا ہوں گے۔ میڈیا ہمیں دکھاتا ہے کہ پاکستان میں سارے لوگ بکائو ہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔ میرا آپ کا پورا پاکستان ایسا نہیں ہے۔ عوام کی اکثریت پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتی۔ اسے تو رزق حلال بھی اتنی مشقت سے ملتا ہے کہ وہ حرام رزق کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ انتہائی اہم اور حساس محل وقوع اور 60 فیصد نوجوان آبادی والی سرزمین کی اکثریت بہت پر عزم ہے۔ بہت کام ہو رہا ہے۔ درسگاہوں میں تحقیق ہو رہی ہے۔ انسانوں کی جبلتوں پر، پہاڑوں پر، خود رو جڑی بوٹیوں پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کا شعبۂ تحقیق انتہائی اہم موضوعات پر ریسرچ کروا رہا ہے۔ عالمی جریدوں میں یہ مقالے شائع ہو رہے ہیں۔ ہماری تحقیق کو بین الاقوامی سند مل رہی ہے۔ عالمی سیمیناروں میں ہمارے اساتذہ شرکت کرتے ہیں۔ ہمارے اہل قلم اعلیٰ شاعری کر رہے ہیں۔ افسانے تخلیق ہو رہے ہیں۔ ناول لکھے جارہے ہیں۔ اُردو ہی نہیں پنجابی۔ سندھی۔ سرائیکی۔ پشتو۔ بلوچی۔ براہوئی۔ کشمیری۔ بلتی۔ پوٹھوہاری۔ ساری زبانوں میں اعلیٰ ادب جنم لے رہا ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ محقق، پروفیسر، شاعر، ناول نویس اور مزاح نگار ہمارے ہیرو نہیں ہیں۔ انہیں تھرکتا میڈیا اپنی اسکرین کے قابل نہیں سمجھتا۔ میڈیا کے ہیرو وہ ہیں جو ووٹ خریدتے ہیں۔ بیچتے ہیں۔ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ دوسری جماعتوں کے ارکان توڑ کر اپنے امیدوار کو کامیاب کرواتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر ہتھیار استعمال کریں گے۔ چاہے وہ لوٹے ہی ہوں۔ لوٹوں کا بڑھ چڑ ھ کر خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ عدالتوں سے اعلان کردہ اشتہاری، مجرم، ملزم میڈیا کے محبوب ہیں۔ سارے سیاسی۔ سماجی۔ معاشی مسائل پر ان سے ہی رائے لی جاتی ہے۔ حالانکہ سیانے بہت پہلے کہہ گئے۔ آزمودہ را آزمودن جہل است۔ اخلاقیات پر درس اخلاق باختہ دیتے ہیں۔

محنت کشوں کے حقوق کے لیے جیلیں کاٹنے والے رائے دینے کے لائق نہیں ہیں۔ مختلف علوم اور فنون میں ریاضتیں کرنے والے اس کے اہل نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں سائنسدان بھی ہیں۔ ریاضی دان بھی۔ جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی۔ ایک بڑی تعداد نوجوانوں کے ولولے بڑھانے والے مقررین کی ہے۔ مگر ان کے چہروں میں کشش نہیں ہے۔ ریٹنگ نہیں بڑھتی۔ خواتین کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کی دُھن میں دشوار، پہاڑی مقامات، صحرائوں اور بیابانوں میں خدمت کرنے والی۔ پولیو کے قطرے پلانے والی۔ مائیں۔ بہنیں۔ ہمیں نظر نہیں آتیں۔ ہر شہر کے اپنے ایدھی ہیں۔ چھیپا ہیں۔ ادیب رضوی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالباری ہیں۔ قرآن پاک کی تعلیمات ، تفاسیر ، احادیث نبویؐ کی تبلیغ میں عمریں گزار دینے والے۔ علمائے کرام ہمارے محترم نہیں ہیں۔ وہیل چیئرز بانٹی جارہی ہیں۔ دستر خوان سجائے جارہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کا معاشرہ ان معزز ہستیوں کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اور اپوزیشن کے سربراہ۔ ترجمان۔ موجودہ وزراء۔ سابق وزراء تو سب تاریخ کے پہیے کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ بہت سے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی معاشرہ آگے نکل گیا ہے۔ حکومتیں پیچھے رہ گئی ہیں۔ تاریخ ریاستوں کو صرف میڈیا کی آنکھ سے نہیں دیکھتی وہ گلی کوچوں۔ شہر دیہات۔ قصبوں میں بدلتے رجحانات۔ جبلتوں۔ جینے کے انداز کا مشاہدہ کرتی ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں مصروف عمل بے لوث ہستیاں نام و نمود کی خواہاں نہیں ہیں۔ لیکن کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم ان کی روز و شب کی خدمات کی بدولت عام لوگوں کے چہروں پر بکھرتی مسرت سے آگاہ کریں تاکہ لاہور سے کوئٹہ تک ہمارے ہم وطنوں کو اعتماد حاصل ہو۔ کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ اور وہ ان چند خواص کی حرکتوں پر سر جھکا کر دن گزارنے کی بجائے ان خادمانِ خلق کے کارناموں پر سر اٹھا کر چل سکیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

سیاست پھر سے رُسوا ہوئی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے حوالے سے جو کچھ سینیٹ الیکشن سے ایک روز قبل سامنے آیا، اُسے دیکھتے ہوئے گیلانی صاحب ووٹنگ سے پہلے ہی اخلاقی طور پر یہ انتخاب ہار چکے تھے۔ ووٹنگ کے روز یعنی بروز بدھ فیصلہ جو بھی آتا ہے، کون جیتتا ہے، کون ہارتا ہے وہ سیاسی طور پر تو اہم ہو گا لیکن جو کچھ ایک وڈیو اور ایک آڈیو لیک کے ذریعے منگل کے دن سامنے آیا، وہ انتہائی شرمناک تھا اور اُس نے ان سینیٹ انتخابات کو ایک بار پھر داغدار کر دیا۔ وڈیو میں علی حیدر گیلانی پی ٹی آئی کے چار ایم این ایز کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ سکھا رہے تھے جو اُنہوں نے لیک وڈیو کے سامنے آنے کے بعد تسلیم بھی کر لیا۔ لیک آڈیو میں علی گیلانی سندھ کے وزیر ناصر حسین شاہ سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے اراکین کے ’’پیکج‘‘ کو ڈسکس کر رہے تھے۔ اس آڈیو میں پی ٹی آئی ممبرانِ اسمبلی کی ناصر حسین شاہ سے بات چیت بھی سنوائی گئی۔

ناصر شاہ نے اگرچہ کہا کہ اس آڈیو میں اُن کی آواز نہیں بلکہ مشورہ دیا کہ علی گیلانی سے پوچھیں کہ وہ کس سے بات کر رہے ہیں لیکن بظاہر علی گیلانی سے وہی بات کرتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں۔ اس آڈیو کی حقیقت کو جاننے کے لئے الیکشن کمیشن کو فرانزک ایکسپرٹ سے مدد لینی چاہئے۔ ان دونوں وڈیو اور آڈیو میں گیلانی صاحب کے بیٹے کا اہم کردار ہے جس کے باعث یوسف رضا گیلانی کا اپنا کردار مشکوک ہو گیا۔ اگرچہ سندھ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے بھی ووٹوں کی خرید و فروخت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں لیکن سینیٹ الیکشن سے ایک روز قبل لیک ہونے والی وڈیو اور آڈیو نے ایک بار پھر سیاست اور سیاستدانوں کو داغدار کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ الیکشن جیتنے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ بکنے والے اکثر اراکینِ اسمبلی کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جبکہ خریداروں میں پاکستان پیپلز پارٹی پیش پیش ہے۔

میری ذاتی رائے میں لیک وڈیو آڈیو کے سامنے آنے کے بعد یوسف رضا گیلانی الیکشن لڑنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے تھے لیکن اُنہوں نے الیکشن میں حصہ لیا اور افسوس کی بات یہ کہ اپوزیشن یعنی پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں بشمول ن لیگ نے اُنہیں ووٹ ڈالا۔ کیا ن لیگ نے اس مشکوک عمل میں حصہ ڈال کر ووٹ کو عزت دی؟ یہ ن لیگیوں اور اُن کی اعلیٰ قیادت کو سوچنا چاہئے۔ یعنی جس طرف دیکھیں حالات ایک سے ہیں۔ ایک طرف اگر اپوزیشن ووٹ خریدتے ہوئے دکھائی دی تو دوسری طرف حکومتی جماعت خصوصاً پی ٹی آئی والے، بکتے ہوئے نظر آئے اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب کئی ہفتوں سے اسی موضوع یعنی سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا معاملہ عدالت، قومی سیاست اور میڈیا کا فوکس رہا۔

عدلیہ کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں جو بحث کی گئی وہ سینیٹ کے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدلنے اور اُس میں اصلاحات لانے کے متعلق تھی۔ کسی نے یہ نکتہ نہیں اُٹھایا نہ اس بات پر غور کیا کہ آخر ممبرانِ اسمبلی بکتے کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ووٹ خریدنے والوں کو شرم آتی ہے اور نہ بکنے والوں کو اور یہ بکنے بکانے والے تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے بارے میں ایسی شکایت سننے کو نہیں ملی تو وہ جماعتِ اسلامی ہے جس کی موجودگی اسمبلیوں میں بہت کم ہے۔ ایک تو عوام کو سوچنا چاہئے کہ آخر کیوں وہ ایسے افراد کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں جو بکنے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن اس سے بھی پہلے اہم سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئینِ پاکستان کی روح کے مطابق صرف اُنہی افراد کو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیں جو باکردار ہوں، اچھی شہرت کے مالک اور باعمل مسلمان ہوں، نمازی ہوں اور دوسرے اسلامی فرائض کو سرانجام دینے کے حوالے سے جانے جاتے ہوں، سچے اور ایماندار ہوں اور بڑے گناہوں اور اخلاقی برائیوں سے دور رہتے ہوں اور اچھی شہرت رکھتے ہوں۔

اگر آئین کے آرٹیکل 62-63 پر سختی سے عمل کیا جائے تو پھر صرف باکردار اور باعمل مسلمان ہی سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بن سکتے ہیں۔ جب با کردار قیادت اسمبلیوں میں پہنچے گی تو اُنہیں پیسوں کی بنیاد پر خریدنا مشکل ہو گا، سیاست صاف اور با عزت ہو گی لیکن افسوس اس طرف نہ تو عدلیہ کی توجہ ہے نہ ہی الیکشن کمیشن کی، سیاسی جماعتیں اور اُن کے رہنما تو کردار کی بجائے الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ دیتے ہیں۔ کوئی اخلاقی طور پر اور کردار کے حوالے سے کتنی ہی خراب شہرت کیوں نہ رکھتا ہو، اگر وہ الیکٹ ایبلز
ہے تو تمام سیاسی جماعتیں، بےشک وہ پی ٹی آئی ہو، پی پی پی یا ن لیگ اُسی کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ اس لئے اصلاحات یا قانون کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہونے والا۔ سیاست کی گندگی کو اگر صاف کرنا ہے تو آئین کی روح کے مطابق باکردار اور با عمل مسلمان کو ہی سینیٹ اور اسمبلیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ