کشمیر میں شہید ہونے والے پی ایچ ڈی سکالر منان وانی کون تھے؟

کپوارہ کی لولاب ویلی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ منان وانی کو قریب سے جاننے والے بھی گذشتہ برس جنوری میں حیران ہو گئے جب انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی راہ لی اور یہاں مسلح ہو کر سوشل میڈیا پر اعلان کر دیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے ہیں۔ منان وانی کا آبائی ضلع کپوارہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہونے کے باعث فوجیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سائنس کے طالب علم تھے لیکن تاریخ، مذاہب اور سیاسی مزاحمت سے متعلق بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے مضامین میں امریکی شہری حقوق کے رہنما میلکم ایکس اور دیگر سیاہ فام مزاحمتی رہنماؤں کے حوالے دیا کرتے تھے۔ پی ایچ ڈی میں منان وانی کی تحقیق کا موضوع اپنے آبائی قصبہ لولاب کی ارضیاتی خصوصیات سے متعلق تھا۔

منان وانی مسلح گروپ میں شمولیت سے قبل تقریر و تحریر میں کافی سرگرم تھے۔ وہ سٹوڈنٹ اکٹیوزم میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے کئی طویل مضامین لکھے، جن کی اشاعت پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی مقامی نیوز ایجنسی کرنٹ نیوز سروس کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج ہوا اور سروس کی ویب سائٹ سے منان کا مضمون بھی ہٹایا گیا۔ انہیں چند سال قبل بھوپال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس کے دوران بہترین مقالہ کے لیے ایوارڈ دیا گیا تھا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ نہایت خالص خیالات پر مبنی تحقیق کے قائل تھے۔ انھوں نے ہتھیاروں کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی تھی لیکن ان کے دانشورانہ قد کی وجہ سے انہیں حزب میں کمانڈر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ۔  منان اُس طویل فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جس میں ایسے متعدد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کو ادھورا چھوڑ کر بندوق تھام لی۔

منان وانی کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موجودہ قدغنوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر سے متعلق تاریخ کو فراموش کروانے کی سرکاری کوششوں پر نالاں تھے۔ ان میں سے ایک مضمون میں منان لکھتے ہیں: ‘کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی نگرانی کرنے کے لیے جاسوس معمور کیے گئے ہیں، طلبا کے لیے اظہار رائے پر پابندی ہے اور ان کے بھی پیچھے جاسوس لگے ہیں، پوری آبادی محصور ہے، قوانین بنائے جاتے ہیں تاکہ سرکاری ملازمین حکومت کی پالیسیوں کی تنقید نہ کر سکیں، اس ساری صورتحال پر وہ لوگ کیا کہیں گے جو سمجھتے ہیں کہ جموں کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔’ منان وانی کی ہلاکت کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں وہ سب نہیں ہوا جو دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ برہان کی ہلاکت نے وہاں احتجاج، مسلح مزاحمت اور مظاہروں کی نئی تحریک چھیڑ دی تھی۔

لیکن منان کی ہلاکت پر نہ صرف ہند نواز حلقے پریشان ہیں بلکہ سیکورٹی اداروں کے بعض افسروں کو بھی خدشہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بغاوت کی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے منان کی ہلاکت کو قومی نقصان قرار دیا۔ آئی اے ایس افسر شاہ فیصل نے ٹویٹ کیا: ‘منان وانی ایک نوجوان قائد تھا۔ ہمیں اس کی ضرورت تھی، کاش اس نے تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا ہوتا۔ کیا ہو گا اگر وہ سب لوگ جو کشمیر پر مرنا چاہتے ہیں جینے کا فیصلہ کریں۔ کوئی تو بات کرے، اس جنگ کو ختم ہونا ہو گا۔’ کپوارہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کر دی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کر دیا۔’

خفیہ پولیس کے ایک افسر نے بتایا: ‘منان وانی کی ہلاکت بے شک ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اس ہلاکت کے بعد منان کی شخصیت اور ان کا نصابی ریکارڈ تعلیمی اداروں میں بغاوت کے بیچ بوئے گا، جو ہمارے لئے تشویش کی بات ہے۔’
واضح رہے دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک متعدد تعلیم یافتہ نوجوانوں اور سکالرز سمیت 600 نوجوان مسلح ہو کر بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہو گئے ہیں جن میں سے اب تک کم از کم 300 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ اس قدر تشویشناک ہے کہ سابق وزیراعلی عمرعبداللہ نے بھی کہا کہ ‘اب کشمیریوں کو پاکستان کی ضرورت نہیں’ کیونکہ اب وہ پولیس اور فورسز اہلکاروں کی بندوق چھین کر جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

کالم نگار اعجاز ایوب کہتے ہیں: ‘یہ عسکریت پسندی عددی اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بھارتی فورسز کے لیے بڑا چیلنج نہیں ہے لیکن فکری اعتبار سے یہ بھارت کی شکست ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اب ہند نواز حلقے بھی نئی دلی سے ناراض ہو رہے ہیں، کجا کہ کوئی بھارتی موقف کا پرچار کرتا۔’ منان وانی کے پڑوسی اور دوست نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: ‘منان وانی اُس گھٹن کو محسوس کر رہے تھے جو ہم سب کا مقدر بن گئی ہے۔ انہوں نے لکھنا چاہا لیکن وہاں بھی قدغن ۔ ان کا مسلح ہونا یہ دکھا رہا ہے کہ قلم روکو گے تو وہی قلم بندوق بن جائے گی۔’

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

Advertisements

پاکستانیوں کے غیر ملکی اثاثے

حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں ملکی پیسہ بیرون ملک لے جانا اور
جائیدادیں بنانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس عمل سے ملکی معیشت کا ستیاناس ہوتا ہے اور فائدہ غیر ممالک اٹھاتے ہیں۔ یہ عذر مکمل طور پر درست نہیں کہ ملک میں بدامنی کے باعث ملکی دولت جائز و ناجائز طریقوں سے باہر لے جائی گئی کہ یہ سلسلہ فتنہ دہشت گردی سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کر کے گویا عوام کو انگشت بدنداں کر دیا ہے کہ محض برطانیہ اور امارات میں پاکستانیوں کی نئی 10 ہزار جائیدادوں کا سراغ ملا ہے اور اسحاق ڈار کے مزید 2 فلیٹس کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

وزیراعظم نے ٹاسک فورس بنائی ہے کہ منی لانڈرنگ، ہنڈی، حوالہ پر قانون سازی کی جائے جس کا اٹارنی جنرل نے مسودہ تیار کر لیا ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 895 جائیداد مالکان کو کارروائی کیلئے چن لیا گیا ہے اور ان میں سے 300 کو طلب کر لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی جو ماضی میں عوامی عہدوں پر فائز تھے۔ چین، برطانیہ، عرب امارات، جرمنی سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بیرون ملک جائیدادوں کا تعلق ہے یہ دو طرح کی ہیں ایک وہ جو پاکستانیوں نے دیار غیر میں رہ کر برسوں کی محنت کے بعد بنائیں اور وہیں کے ہو رہے، دوسری وہ جو جائز یا ناجائز طریقے سے ملکی دولت بیرون ملک لے جا کر خریدی گئیں، صرف برطانیہ اور امارات میں اس قدر جائیدادیں یہ حقیقت منکشف کرنے کو کافی ہیں کہ پاکستان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی معاشی طور پر مستحکم کیوں نہ ہو سکا۔ اس ضمن میں قانون سازی ایک بہترین عمل ہے جو جس قدر جلد ہو جائے بہتر ہے۔ پاکستانی حکومت کا مذکورہ اقدام ہے تو لائق تحسین لیکن اس کو ایسا صاف و شفاف ہونا چاہئے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کے خلاف انتقامی کارروائی کی جارہی ہے، اگر ایسا ہوا تو سیاسی فضا مکدر ہونے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

ان حالات میں جب قومی معیشت میں دیوالیہ پن کی نشانیاں عود کر آئی ہیں، اس سے بچنے کے لئے سردست آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کی سخت ترین شرائط پر دس سے بارہ ارب ڈالر قرضے کا حصول حکومت کے کڑے امتحان کا باعث بنا ہوا ہے۔ وزیرخزانہ، اسد عمر جو کبھی آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے حق میں نہیں تھے، زمینی حقائق دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ موجودہ حالات میں آئی ایم ایف سے قرضہ لئے بغیر گزارا ممکن نہیں اس کے لئے آئندہ ہفتے مذاکرات کا آغاز کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف آئی ایم ایف موجودہ حکومت کے گزشتہ 100 دن میں منی بجٹ اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے جیسے اقدامات سمیت دیگر فیصلوں کو بھی ناکافی قرار دے رہی ہے حالانکہ متذکرہ اقدامات کا پاکستان اور اس کے غریب عوام متحمل نہیں ہو سکتے اور اس فیصلے سے لوگوں کے معاشی حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں اس بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

آئی ایم ایف نے بجلی گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور سخت مالیاتی پالیسی کو پاکستان کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے، دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کی یہ رائے ہے کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف کے جال میں دوبارہ نہیں پھنسنا چاہئے جس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ماہرین کے بقول پاکستان کے پاس بیل آئوٹ قرضے کے لئے آزمودہ دوست چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی بات چیت پر اس وقت سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں کی گہری نظر ہے پی ٹی آئی کی اپنی پالیسی بھی آئی ایم ایف کے حق میں نہیں، بہتر ہو گا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حلقوں سے رائے لے لی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے تحت پھنسی ہوئی رقوم کا حصول بڑی حد تک ملکی معیشت کو مشکل سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کے خوبصورت مقامات

قدرت نے پاکستان کو کئی نعمتوں سے نوازا ہے اور ہماری دھرتی کو بہت ہی خوبصورت مقامات عطا کیے ہیں، آئیے آپ کو پاکستان کے ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو بے حد حسین ہیں۔ آپ کو زندگی میں ایک بار ضرور ان مقامات کو دیکھنا چاہیے ۔

کلر کہار: موٹروے ایم 2 سے اسلام آباد جاتے ہوئے چکوال کے قریب یہ مقام آتا ہے۔ یہاں پر موجود ایک خوبصورت جھیل اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ موروں، مختلف پھلوں، اور رنگ برنگے پھولوں کے سبب یہ مقام انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں سیکورٹی کا بھی بظاہرکوئی مسئلہ نہیں جبکہ متعدد سیاحتی مقامات کی طرح یہاں زیادہ مہنگائی بھی نہیں ہے۔ آپ بآسانی اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔

موہنجو داڑو: سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے یہ تاریخی مقام صرف 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا یہ شہر اڑھائی ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ تعمیر ہوا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو اسے عالمی ورثہ قرار دے چکا ہے۔

مری: اسلام آباد سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ شہر بیشتر سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ سردی کا موسم ہو یا گرمی کا یہاں کی رونقیں ماند نہیں پڑتیں۔

ٹھنڈیانی: ایبٹ آباد کے شمال مغرب میں 31 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کو خوبصورتی اور ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے ٹھنڈیانی کہا جاتا ہے اور اس علاقے میں سال کے ہر مہینے میں آیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سستے ہوٹلوں میں اچھی رہائش کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

وادیٔ کیلاش: یہ وادی خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع ہے۔ یہاں منفرد زبان اور ثقافت کا حامل کیلاش قبیلہ آباد ہے۔ اپنے پُرفضا مقامات اور خوبصورتی کی وجہ سے یہ وادی پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہے۔

سوات: یہ خوبصورت مقام خیبر پختو نخوا میں واقع ہے اور اس کو خوبصورتی کی وجہ سے ایشیا کا سوئٹزر لینڈ بھی کیا جاتا ہے۔ اسے یہ خطاب ملکہ برطانیہ نے اپنے 1961ء کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دیا تھا۔ وہ اس وادی کو دیکھنے کے بعد بہت متاثر ہوئیں۔

زیارت: صوبہ بلوچستان کے اس مقام کو یہ شرف حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظمؒ نے اپنے آخری ایام یہاں گزارے تھے اور انہیں اس سے خاص رغبت تھی۔ کوئٹہ سے 125 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کا درجہ حرارت گرمیوں میں بھی خوشگوار رہتا ہے اور سیاحوں کو آنے کی دعوت دیتا ہے۔

وادیٔ نیلم: آزاد کشمیر کے دریائے نیلم کے ساتھ واقع یہ وادی خوبصورت درختوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ وادی کاغان کے متوازی واقع ہے اور ان دونوں وادیوں کو تقریباً چار ہزار فٹ بلند پہاڑی سلسلے جدا کرتے ہیں۔

شندور ٹاپ: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع اس مقام کی بلندی تقریباً 12200 فٹ ہے۔ اس کی خاص بات پولو میچز ہیں، جو ہر سال یہاں منعقد کیے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گرائونڈ ہے ۔

دیوسائی میدان : پاکستان کے شمال میں یہ میدان سکردو، گلتاری، کھرمنگ اور استور کے درمیان واقع ہے۔ ان کی اونچائی تقریباً 13497 فٹ ہے۔ مقامی زبان میں دیوسائی کا مطلب جنات میں زمین ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جگہ جنات کی قیام گاہ ہے۔ یہ جگہ غیر گنجان آباد ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی سرد ہے اور یہاں طوفان آتے رہتے ہیں۔ یہاں مختلف طرح کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں ۔

روھاب لطیف

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جوانی پھر نہیں آنی

صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کو اُس وقت تک کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جب تک علوی صاحب اس عہدے پر براجمان رہیں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ آئینِ پاکستان میں صدرِ مملکت کو ایسی کسی بھی عدالتی کارروائی سے استثنا حاصل ہے، اس لیے علوی صاحب کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ عدالت میں نہیں چل سکتا، اس لئے اسے معطل کیا جا رہا ہے۔ جب کچھ ایسا ہی معاملہ پیپلز پارٹی دور کے صدر آصف علی زرداری کو کرپشن کے مقدمات میں پیش تھا اور اُن کے آئینی استثنا کی بات کی جاتی تھی تو تحریک انصاف سمیت دوسری سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی اس پر سخت اعتراض کرتے رہے۔

یہ بحث کی جاتی تھی کہ جب خلفائے راشدینؓ عدالتوں کے سامنے پیش ہوتے رہے تو کسی ایسے استثنا کی یہاں کیسے گنجائش ہو سکتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ استثنا سے متعلق آئینی شقیں اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ انصاف کے تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔ ڈاکٹر علوی کی جماعت جو اب حکمران پارٹی ہے، اس نقطۂ نظر (جسے میں بھی درست سمجھتا ہوں) میں پیش پیش تھی لیکن آج صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنے ٹویٹر اکائونٹ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ نہ تو وہ یہ استثنا چاہتے تھے اور نہ ہی اُنہوں نے عدالت سے کوئی رعایت طلب کی لیکن عدالت اُس آئینی شق کی پابند ہے جو کہتی ہے کہ کوئی بھی فوجداری مقدمہ صدر یا گورنر کے خلاف اُن کے مدتِ عہدہ کے دوران نہ تو قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی چلایا جا سکتا ہے۔

اگرچہ صدر صاحب نے بعد ازاں ایک ٹویٹ میں یہ بات بھی کہی کہ وہ اپنے وکیل کو کہیں گے کہ عدالت سے استثنا کے خاتمے کی بات کریں۔ اس صورتحال اور صدر علوی کے جواب پر ایک صحافی نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک مولوی صاحب چوری کے خلاف لیکچر دینے کے بعد ایک دعوت پر پہنچے۔ میزبان مولوی صاحب کی تقریر سن چکا تھا۔ مولوی صاحب نے جب قورمہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو میزبان بولا : مرغی چوری کی ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا : شوربہ حلال ہے۔ شوربہ ڈالتے ڈالتے بوٹیاں لڑھک کر مولوی صاحب کی پلیٹ میں آ گئیں، میزبان بوٹیاں پلیٹ سے نکالنے لگا تو مولوی صاحب کہنے لگے: پلیٹ میں خود سے آنے والی بوٹی حرام نہیں۔ گویا کل تک جو صدارتی استثنا دوسروں کے لیے حرام تھا، وہ آج تحریک انصاف کے صدر کے لیے حلال ہو چکا۔

امید تو یہ تھی کہ صدر صاحب اس معاملہ کو حکومت، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اس مطالبہ کے ساتھ اُٹھاتے کہ ایک اسلامی ملک میں ایسے کسی استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور پھر ایسے صدرِ پاکستان کہ جنہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے حالیہ خطاب میں تحریک انصاف کے اس وعدہ کو دہرایا کہ اُن کی حکومت ریاستِ مدینہ کی عظیم مثال کو سامنے رکھ کر پاکستان میں تبدیلی لائے گی لیکن جب عمل کا وقت آیا تو علوی صاحب کو اُس آئینی شق کے تقدس کا خیال آ گیا جو کل تک بُری اور ناقابل برداشت تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرِ مملکت کا ایک اور ٹویٹ دیکھا تو حیرانی ہوئی کہ صدر صاحب کر کیا رہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ میں نے فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ دیکھی، جسے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستانی سینما اچھی تفریح فراہم کر رہا ہے۔ صدر صاحب سے گزارش ہے کہ اپنے منصب کا خیال رکھیں، اُس تقریر کو بھی دوبارہ پڑھ لیں جو انہوں نے پارلیمنٹ میں کی تھی اور جس میں صدر صاحب نے خود ریاستِ مدینہ کو ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا۔ نیز اگر مناسب سمجھیں تو اپنا یہ ٹویٹ ڈیلیٹ (delete) کر دیں۔

گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیر اعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے، کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔ وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل بھی کرتا ہے.

لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔  بخاری2322

انصار عباسی

امراض قلب اور پاکستان

دنیا بھر میں امراض قلب سے بچائو کا دن منایا گیا۔ عوام الناس میں آگہی کے لئے سیمینار منعقد ہوئے، پیدل چلنے کی خصوصی تقاریب اورمقابلوں کا اہتمام کیا گیا۔ طبی ماہرین نے بجا طور پر میڈیا سمیت ہر سطح پر صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے پر زور دیا اس حوالے سے جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں ہر تیسری موت کی وجہ امراض قلب ہیں جبکہ پاکستان میں اوسطاً فی گھنٹہ 24 افراد اس مرض کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک صورت حال قوم کے ہر فرد کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس گھمبیر مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔

ڈاکٹروں کی ایک تحقیق کے مطابق امراض قلب کا رجحان پہلے عموماً پچاس سال کی عمر کے بعد ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مرض تیس سال کے نوجوانوں تک عام ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ سہل پسندی، ورزش سے دوری اور مرغن غذائوں کا بے محابا استعمال ہے۔ ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی کی مضرت جانتے ہوئے بھی لوگ سگریٹ سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ارد گرد موجود افراد کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ امراض قلب کے ماہرین بجا طور پر ذہنی دبائو کو بھی امراض قلب کی ایک بڑی وجہ بتاتے ہیں۔

ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے مطابق دل کی بیماریاں انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ دنیا میں روزانہ 2.3 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے علاج پر خرچ کا سبب بھی ہیں۔ امراض قلب کی شرح کے تناسب سے اس خطیر رقم کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں بھی خرچ ہو تا ہے جسے صحت کے معیار کو بہتر بنا کر بچایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا شہریوں کے ساتھ ساتھ صحت کے قومی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امراض قلب کے عالمی دن کو موثر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ کھیل کے ویران پڑے میدان اسپتالوں میں تبدیل ہو جائیں انہیں پھر سے کھیل کود کے لئے آباد کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

چین کا پاکستان کو معاشی جھنجھٹ سے نکالنے کا فیصلہ

وزارت تجارت میں تعینات ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ چین نے اسٹرٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی جھنجھٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خاطر سی پیک کی طلب کو مزید بڑھایا جاے گا اور وزیراعظم عمران خان کی شنگھائی گلوبل امپورٹ ایکسپو میں موجودگی کے دوران یکطرفہ تجارتی مراعات کا اعلان کیا جائے گا۔ شنگھائی گلوبل امپورٹ ایکسپو 5 سے 10 نومبر تک منعقد ہو گی۔ اب تک سی پیک کی نوعیت رسد کی بنیاد پر تھی لیکن اب چین کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو اسلام آباد کی ترجیحات اور مطالبوں کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ اس کا پاکستان کو زیادہ فائدہ ہو۔ اہلکار کے مطابق بیجنگ میں اعلیٰ چینی قیادت نے یہ سمجھ لیا ہے کہ پاکستان برے طریقے سے قرضوں اور تجارتی خسارے میں ڈوبا ہوا ہے اور اگر اس دلدل سے نہ نکالا گیا تو کوئی دوسری بڑی معیشت اسلام آباد کو گمراہ کر کے ملبہ بیجنگ پر ڈال سکتی ہے۔

خالد مصطفی

سوشل میڈیا اور احساس ذمہ داری

آج کے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس میں واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر، یو ٹیوب وغیرہ شامل ہیں۔ اپنا پیغام، اپنے خیالات اور نظریات دنیا تک پہنچانے کا یہ انتہائی سستا، تیز اور مؤثر ذریعہ ہے۔ لیکن ماہرین اس کے بہت سے مضر اثرات کی بنا پر بہت سی احتیاطی تدابیر بھی بتاتے ہیں جنھیں ہمیں مدنظر رکھنا چاہے۔ مثلاً اس کا استعمال زیادہ نہ کریں۔ خاص طور پر سوتے اور کھانا کھاتے ہوئے اسے اپنے سے دور رکھیں۔ نیز چارج کرتے ہوئے موبائل کو کبھی کان سے نہ لگائیں۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال سیاست، مذہب اور ذاتی حیثیت میں ہو رہا ہے۔

اکثر لوگوں کی پوسٹس اور میسجز پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ انتہائی متقی، پرہیز گار ، فلسفی یا دانشور ہیں، لیکن اگر کبھی آپ کا ان سے عملی زندگی میں واسطہ پڑ جائے یا آپ کو اس کا کردار دیکھنے کا موقع مل جائے تو آپ کو شدید مایوسی ہو۔ اس لئے کہ عموماً ہم سب کی خواہش یہ ہے کہ ہم ایک بہت اچھے، نیک اور متقی انسان کے طور پر معروف ہو جائیں، لیکن یہ خواہش کم ہوتی ہے کہ ہم واقعی ایک اچھے انسان بن جائیں۔ اس لئے ہماری توجہ عمل کی طرف نہیں ہوتی اور ہم مشہور و معروف ہونے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔

ہم سب کو چند اہم باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ شخص سوشل میڈیا پر متقی انسان نظر آتا ہے بلکہ عملی زندگی بھی ہمارے اچھے کردار، عمل اور اخلاق کی گواہی دے۔ اس لئے ہمیں اپنے طرزعمل کی اصلاح کرنی ہو گی۔ پہلا غیر اخلاقی عمل تو ہمارا یہ ہوتا ہے کہ جب ایک مہمان ہمارے سامنے بیٹھا ہو، ہم اسے نظر انداز کر کے اپنے موبائل سے کھیل رہے ہوتے ہیں اور ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اسے یہ بات کتنی ناگوار گزرتی ہو گی۔ اس لئے ہمیں اس برے طرزعمل سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کسی بھی مہمان کے سامنے بلا ضرورت کالز یا میسجز نہ کریں۔ اسی طرح اس کے حد سے زیادہ استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ سارا دن اسی پر توجہ ہو۔

اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ ہم جو بھی سرگرمی سوشل میڈیا پر کرتے ہیں اسے مکمل ذمہ داری اور فکر کے ساتھ کریں۔ اکثر سوشل میڈیا کی پوسٹس پر آپ کو یہ کہا جا رہا ہوتا ہے کہ اچھی باتیں پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، خاص طور پر قرآن و احادیث یا بزرگوں کے اقوال پر مبنی پوسٹس اور بیشتر لوگ تیزی سے اس کو شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر بات کی تصدیق کر کے شیئر کرنا آپ پر لازم ہے ،خاص طور پر قرآن و احادیث پر مبنی پوسٹس کو، کیونکہ اگر ان میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کا گناہ جاریہ بھی آپ کے حصے میں آ سکتا ہے۔ اس لئے اس معاملے میں احساس ذمہ داری کا ثبوت دینا بہت ضروری ہے۔ جب آپ محنت کر کے خالص اللہ کی رضا کے لئے تصدیق کرنے میں اپنا وقت صَرف کر تے ہیں اور پھر کسی اچھی بات کو پھیلاتے ہیں تو تبھی اس کا اجرو ثواب ملنے کی توقع کرنی چاہیے۔

سوتے جاگتے، سفر کرتے ہوئے جو پوسٹس سامنے آئیں بس بغیر پڑھے، سمجھے اور تصدیق کیے اسے دھڑا دھڑ شیئر کئے جائیں تو یہ مناسب نہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا ایک منفی استعمال یہ بھی ہو رہا ہے کہ لوگ اپنے سیاسی یا مذہبی نظریاتی حریف کو نقصان پہنچانے کیلئے جھوٹ اور غلط معلومات کو تیزی سے شیئر کرتے ہیں اورحقائق اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ تصاویر اور ویڈیوز کو اپنے مقاصد کے تحت ایڈٹ کرتے ہیں اور اسے شیئر کرتے ہیں اور عام شخص ان معلومات کو درست سمجھ کر یقین کر لیتا ہے اور اپنی رائے قائم کر لیتا ہے۔ یہ بھی درست عمل نہیں۔ عوام میں یہ شعور بیدار کرنا بہت ضروری ہے کہ اُن تک جو معلومات پہنچیں انہیں اس وقت تک حتمی نہ سمجھ بیٹھیں جب تک کہ ان کی تصدیق نہ کر لیں۔ اس لئے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر آپ جو رائے قائم کریں گے اور پھر اس کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں یا مختلف طبقات سے نفرت کریں گے تو یہ آپ کا اپنا نقصان ہے کسی اور کا نہیں، اس لئے کہ آپ اندھیرے میں ہوں گے، کوئی اور نہیں۔

عمیر قادری

نیا عالمی منظر نامہ اور پاکستان

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ نے کئی دہائیوں سے پوری عالمی برادری کی خیرخواہی اور قیادت کا جو کردار اپنا رکھا تھا ، اب اس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کھل کر کہا کہ وہ گلوبل نظریے کو مسترد کرتے ہیں ، امریکہ اب صرف اپنے مفاد میں فیصلے کرے گا اور اپنے دوستوں ہی کو امداد دے گا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری بدامنی کے سبب پناہ کی تلاش میں مغربی ملکوں کا رخ کرنے والے لاکھوں پریشان حال افراد کے حوالے سے امیگریشن کے عالمی سمجھوتے پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے یہ غیرہمدردانہ موقف اپنایا کہ یہ مسئلہ متعلقہ ملکوں کو خود حل کرنا چاہیے ۔

چین کے خلاف تجارتی پابندیوں کے تناظر میں انہوں نے چینی حکومت پر امریکی دانش چرانے اور امریکی کمپنیوں کو دھوکا دینے کے الزامات عائد کیے۔ عالمی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت چھوڑ دینے کے فیصلے کو بھی انہوں نے درست قرار دیا اور کہا کہ مطلوبہ اصلاحات ہونے تک امریکہ کونسل میں واپس نہیں آئے گا۔ عالمی عدالت انصاف کے اسرائیلی مظالم کے خلاف فیصلوں کے پس منظر میں انہوں نے اس عدالت کی قانونی حیثیت سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کے امریکی اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے آنے والے دنوں میں تہران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا جبکہ عالمی برادری کی بھاری اکثریت اس معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کی واضح طور پر مخالف ہے۔ انہوں نے ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی۔

صدر ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور امریکہ کی خواہش کے مطابق تیل کے نرخ کم نہ کرنے کی وجہ سے ان پر لوٹ کھسوٹ کا الزام لگایا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف عالمی برادری کے جذبات کے ادراک کا مظاہرہ صدر ٹرمپ نے ان الفاظ میں کیا کہ ’’ میں عالمی دباؤ کو مسترد کرتا ہوں اور آزادی اور تعاون کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جب یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کی تاریخ میں اپنے ملک کے لیے سب سے زیادہ اور بہتر کام کیا ہے تو پنڈال شرکاء کے استہزائیہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری کی رائے کے حوالے سے یہ واقعہ بجائے خود ایک بلیغ تبصرہ ہے۔

صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے اپنے ملک کو جس عالمی تنہائی کی جانب دھکیل رہے ہیں، اس کا اندازہ ایران کے خلاف پابندیوں کے مخالف ملکوں کی تازہ ترین پیش رفت سے لگایا جا سکتا ہے ۔ بین الاقومی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک روس، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور یورپی ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈالر کے بجائے بارٹر سسٹم کے تحت تجارت جاری رکھی جائے گی اور ایران کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ پاکستان کو اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنے قومی مفادات اور مؤثر بین الاقوامی کردار کو یقینی بنانے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز صدر ٹرمپ سے ہونے والی مختصر ملاقات پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بڑی خوش گمانی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم سیماب صفت امریکی صدر اور ان کی حکومت سے توقعات باندھنے میں مکمل حقیقت پسندی سے کام لینا ضروری ہے۔ امریکہ سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں یقیناً جاری رہنی چاہئیں لیکن تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا ، اس میں امریکہ کے کردار اور نئی بین الاقوامی صف بندیاں بھی پوری طرح پیش نظر رکھی جانی چاہئیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ نئی دنیا میں باعزت مقام کے حصول کی جانب پیش قدمی کی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں گہرے غور و خوض کے ساتھ وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام بھی وقت کا تقاضا ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

کیا نواز شریف اسٹیبلشمنٹ مخالف رہیں گے یا جی ایچ کیو سے ہاتھ ملائیں گے ؟

کئی سیاسی مبصرین کے خیال میں اس رہائی کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے جب کہ کچھ کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیں گے۔ واضح رہے کہ نواز شریف نے معزول ہونے کے بعد بڑے بڑے جلسے کیے تھے، جس میں انہوں نے ملک کی طاقتور ترین اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان میں کئی ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے اس رویے کی وجہ سے ہی انہیں سزا دی گئی تھی۔ مسلم لیگ نون اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو فتح سے تعبیر کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما مشاہد اللہ خان نے اس رہائی پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ انصاف کی فتح ہے۔ ماضی میں بھی عدالتوں سے غلط فیصلے کرائے گئے، جیسے کہ بھٹو کی پھانسی لیکن ایسے فیصلے اب تاریخ کے کچرا خانے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اب کچھ سیکھا بھی جائے گا یا نہیں۔‘‘

مسلم لیگ اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ نواز شریف خاموش نہیں بیٹھے گے اور وہ سیاسی سر گرمیوں میں بھر پور انداز میں حصہ لیں گے۔ پارٹی کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ نون لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے اس مسئلے پراپنا موقف دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر ڈیل کرنی ہوتی تو میاں صاحب کو اتنی پریشانیاں اور مشکلات اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کی ضرور ت تھی۔ ابھی ان کی رہائی ہوئی ہے۔ ہزاروں لوگ تعزیت کے لیے آرہے ہیں۔ پہلے میاں صاحب ان سے ملیں گے۔ بعد میں پارٹی ان کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے فیصلہ کرے گی لیکن وہ ہر حالت میں جلسے، جلوس بھی کریں گے اور انٹرویوز وغیرہ بھی دیں گے۔ وہ خاموش نہیں بیٹھے گے۔‘‘

میاں صاحب کے قریب رہنے والے افراد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب خاموش نہیں رہیں گے لیکن کچھ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی جارحانہ سیاست سے ملک میں کشیدگی بڑھے گی۔ پی ٹی آئی کے رہنما ظفر علی شاہ نے جو ماضی میں میاں صاحب کے بڑے قریب رہے ہیں، اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرا تجزبہ یہ کہتا ہے کہ میاں صاحب فوج اور عمران کے خلاف محاذ بنائیں گے۔ اچکزئی، اسفندیار ولی اور دوسرے اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ ایسی صورت میں فوج بھی خاموش نہیں بیٹھے گی اور ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھے گی۔‘‘

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر مزاحمت کی سیاست شروع کریں گے: ’’نواز شریف کو معلوم ہے کہ ان کی سیاسی بقاء مزاحمت میں ہے۔ میرے خیال میں وہ سویلین برتری کے لیے ایک بار پھر جدوجہد کریں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جمہوری قوتوں کو متحد کریں گے۔ جس سے طاقتور حلقے ناراض ہوں گے اور سیاسی کشیدگی بڑھے گے۔‘‘ تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیں گے: ’’میرے خیال میں میاں صاحب فوری طور پر ایسی مخالفانہ سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ تاہم وہ انتظار کریں گے کہ عمران اور فوج میں اختلافات ہوں، جو آج نہیں تو کل ہونے ہی ہیں۔ پھر وہ عمران کے خلا ف محاذ بنائیں گے اور ممکنہ طور پر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملائیں گے۔ جیسا کہ انہوں نے ماضی میں پی پی پی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا تھا۔‘‘

بشکریہ DW اردو