Muhamad Ali Sadpara : Greatest Mountaineers in the World

Muhamad Ali Sadpara’ (born 1976) is a Pakistani mountaineer. He was part of the team which successfully achieved the first ever winter summit on Nanga Parbat in 2016. Both his teammates, Alex Txicon and Simone Moro, have gone on record stating that they could not have done it without Sadpara’s brilliance. He has successfully climbed four eight-thousanders in a calendar year and a total of eight in his career. His 20 year old son, Sajid Sadpara has also climbed K2 in 2019. They had teamed up with John Snorri for a joint K-2 Winter 2021 mission and they succeeded to summit K-2 on 5th Feb 2021.The attempt started on 24 January 2021 and several attempts were made till 3rd Feb. Sajid Sadpara had to return back from C-4 due to malfunction of oxygen regulator.Ali Sadpara made history by summiting the eight-thousander without Oxygen.

Early life

He was born in a village, Sadpara, in periphery of Skardu city, extreme north of Pakistan. He started his career as porter. With a natural passion for mountaineering, he started climbing high peaks with expeditions.


Mountaineering experience

He started as a high porter and now he has climbed 8 of 14 Eight-thousanders. After working as High Altitude Porters with many expeditions, he get a chance and first climb was Gasherbrum II in Karakoram.

List of mountains climbed:

Gasherbrum II (Pakistan) in 2006,

Spantik Peak (Pakistan) in 2006,

Nanga Parbat (Pakistan) in 2008,

Muztagh Ata (China) in 2008,

Nanga Parbat (Pakistan) in 2009,

Gasherbrum I (Pakistan) in 2010,

Nanga Parbat First Winter Ascent (Pakistan) in 2016,

Broad Peak (Pakistan) in 2017,

Nanga Parbat First Autumn Ascent (Pakistan) in 2017,

Pumori Peak First Winter Ascent (Nepal) in 2017,

K2 (Pakistan) in 2018,

Lhotse (Nepal) in 2019,

Makalu (Nepal) in 2019,

Manaslu (Nepal) in 2019,

K2 (Pakistan) Winter Summit 2021.

In 2015 his team tried to scale the Nanga Parbat in winter and was unsuccessful. They again tried in 2016 and summited the peak, and this resulted in the first ever winter summit of Nanga Parbat. He has climbed Nanga Parbat four times. In January 2018 Ali Sadpara teamed up with Alex Txikon, a Spanish mountaineer, and tried unsuccessfully, to summit Mount Everest in winter without any supplemental oxygen. In June 2018 he has been enlisted by Marc Batard to undertake a five year program known as “Beyond Mount Everest”. They plan to summit Nanga Parbat, K2 and Mount Everest in 2019, 2021 and 2022 respectively.

Courtesy : Wikipedia

کرونا وائرس ویکسین کی فراہمی، دنیا ایک ’تباہ کن اخلاقی ناکامی‘ کے دہانے پر ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ‘اگر امیر ممالک نے کورونا ویکسین کے استعمال میں خود غرضی کا مظاہرہ کیا اور غریب ممالک کا خیال نہ رکھا تو دنیا ایک ‘تباہ کن اخلاقی ناکامی’ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکیٹو بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے امیر ممالک کے ‘میں پہلے’ کے رویے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں عالمی سطح پر گرین لائٹ ویکسین کے استعمال کے لیے اپنا ڈیٹا عالمی ادارہ صحت کے پاس جمع کرانے کے بجائے امیر ممالک میں ریگولیٹری منظوری کے پیچھے پڑ گئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ’دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین تک تمام ممالک کو برابر رسائی فراہم کرنے کے وعدے کو اب سنگین خطرہ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ‘زیادہ آمدنی والے کم سے کم 49 ممالک میں اب تک کورونا ویکسین کی 3 کروڑ 90 لاکھ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔’ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ‘ایک کم آمدنی والے ملک میں کورونا ویکسین کی صرف 25 خوراکیں فراہم کی گئی ہیں۔ 25 ملین نہیں، 25 ہزار نہیں، صرف 25۔ ”مجھے کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا تباہ کن اخلاقی ناکامی کے دہانے پر ہے، اور اس ناکامی کی قیمت دنیا کے غریب ترین ممالک انسانی جانوں اور معاش کے ساتھ ادا کریں گے۔’ انہوں نے کہا کہ ’یہاں تک کہ کچھ ممالک ویکسین تک مساوی رسائی کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں اور ساتھ ہی کمپنیوں کے ساتھ اپنے معاملات آگے بڑھانے کو بھی ترجیح دیتے ہیں، قیمتیں بڑھاتے ہیں اور ویکیسن کے حصول کے لیے دوسروں سے آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ ’2020 میں ان ممالک نے اس طرح کے 44 معاہدے کیے تھے اور رواں برس اب تک کم سے کم 12 معاہدے ہو چکے ہیں۔‘ ’ویکسین بنانے والوں نے عالمی ادارہ صحت کو تفصیلات جمع کرانے کے بجائے امیر ممالک میں اپنی ویکسین منظور کرانے کو ترجیح دی ہے جہاں منافع سب سے  زیادہ ہے۔ ’اس سے دنیا کے غریب ترین اور انتہائی کمزور افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔‘ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ’اس طرح کے اقدامات سے وبا کے دورانیے میں اضافہ ہو جائے گا، ہمارا درد بھی طویل ہو جائے گا، بیماری پر قابو پانے کے لیے درکار پابندیوں اور انسانی اور معاشی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔‘ واضح رہے کہ اس سے قبل کچھ ماہرین نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ کورونا ویکسین کی خوراکیں امیر ممالک میں صحیح طریقے سے تقسیم ہوں گی جبکہ غریب ممالک کے لیے ویکسین کے حصول کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔‘ کچھ غریب ممالک جنہوں نے کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے لیے کوویکس پر دستخط کیے تھے، اب ویکسین کے حصول کے لیے متبادل کی تلاش میں ہیں۔

بشکریہ اردو نیوز

امریکہ پاکستان ایک دوسرے کیلئے ضروری کیوں ہیں؟

دس ہزار میل سے زیادہ فاصلے۔ لیکن امریکہ اور پاکستان میں ہمیشہ قربتیں رہی ہیں۔
یہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت کیوں ہیں؟
اس دو طرفہ تعلق سے فائدہ کس نے زیادہ اٹھایا ہے؟
میں رات سے سوچ رہا ہوں کہ اس انتہائی اہم موضوع پر بات کی جائے۔ کیونکہ تین دن بعد نو منتخب صدر جوبائیڈن حلف اٹھانے والے ہیں۔ یہ حلف برداری بندوقوں کے پہرے میں ہو گی۔ واشنگٹن میں قریباً ایک ڈویژن 15 سے 20 ہزار مسلح نیشنل گارڈز متعین کر دیے گئے ہیں۔ مواخذہ زدہ صدر ٹرمپ کے حامی کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ مختلف ریاستوں سے ٹرمپ نواز واشنگٹن کا رُخ کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے تو ملٹری۔ پیرا ملٹری۔ پہرے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن دو صدیوں سے جمہوریت۔ شہری آزادیوں۔ نظم و ضبط سے زندگی گزارنے والے امریکیوں کے لیے بالکل انوکھی اور افسوسناک صورت حال ہے۔ آج اتوار ہے۔ اپنی اولادوں سے پیاری پیاری میٹھی میٹھی باتیں کرنے کا دن۔ مستقبل ان کو ہی سنبھالنا ہے۔ اس لیے امریکہ پاکستان تعلقات کی تاریخ ان کے سامنے دہرانی چاہئے۔

ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاک امریکہ بندھن نسل در نسل جاری رہتا ہے۔ دیکھنا چاہئے کہ ان تعلقات سے ہماری نسلوں کو کیا ملا۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے ملک کے مفادات سامنے رکھے یا ذاتی فائدوں کو ترجیح دی۔ آپ کے آس پاس بھی بے شمار ایسے خاندان ہوں گے جن کے آدھے پیارے امریکہ میں جابسے ہیں۔ کچھ گرین کارڈ پر ہیں۔ زیادہ تر امریکی شہری بن چکے ہیں۔ ہمارے ریٹائرڈ بیورو کریٹ۔ جنرل۔ بریگیڈیئر۔ سفارت کار۔ امریکہ میں عمر کا آخری حصّہ بسر کر رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان اتنا پاکستان کے بارے میں نہیں جانتے جتنا امریکہ کی سیاست۔ معاشرت۔ فلموں کتابوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ واٹس ایپ، فیس بک اور نزدیک لے آئی ہے۔ ہمارے سیٹھ۔ تاجر۔ صنعت کار بھی دونوں ملکوں میں بزنس کر رہے ہیں۔ امریکی ڈالر ہماری زندگیاں سب سے زیادہ اجیرن بناتا ہے۔ ہماری سبزیاں۔ چینی۔ گندم مہنگی کر دیتا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھوا دیتا ہے۔

دنیا کی کسی طاقت، کسی اصول کو خاطر میں نہ لانے والی سپر طاقت کورونا کے سامنے عجز کا شکار ہو گئی ہے۔ اب نئے صدر کی اولین ترجیح بھی صحتِ عامہ ہو گی۔ مگر حلف برداری سے پہلے بہت کچھ ہونے کا خدشہ ہے۔ میں تو گزشتہ چار سال میں بار بار سوچتا رہا ہوں کہ امریکیوں کی شامت اعمال نے ٹرمپ کی صورت اختیار کی۔ دنیا بھر میں خلفشار برپا رکھنے والا امریکہ ٹرمپ کے چار سال میں کیسی کیسی قیامتوں سے دوچار ہوا ہے۔ برسوں سے مسلسل جمہوریت کا تجربہ کرنے والے ۔ دو سو سال سے اعلیٰ یونیورسٹیوں والے مہذب معاشرے میں ٹرمپ جیسا فسادی کیسے پیدا ہو گیا۔ پرورش پاتا رہا۔ اور اطلاعات ایجادات کی اکیسویں صدی میں ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے تک کیسے پہنچ گیا۔ تاریخ کے اسی اہم موڑ پر امریکی معاشرے کو ایسے جھگڑالو لیڈر کی ضرورت کیوں تھی۔ پھر بھی اس سسٹم کی پختگی ہے کہ اس نے یہ جھٹکے اور دھچکے برداشت کر لیے۔ اب یقیناً ایسی کتابیں اور دستاویزات آئیں گی جو ان چار سال کی ہنگامہ خیزیوں سے پردہ اٹھائیں گی۔

میں اپنے آپ سے سوال کر رہا ہوں کہ تین دن بعد کیا امریکہ پہلے والا امریکہ بن جائے گا۔ جوبائیڈن امریکی تہذیب۔ سیاست اور سماج کو پہنچنے والے صدموں کو کتنی مدت میں دور کر سکیں گے۔ صحت کا نظام متاثر ہے۔ معیشت بد حال ہے۔ امریکہ کالے اور گورے میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ہم پاکستانیوں کے لیے امریکہ میں یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ پاکستان امریکی پالیسی کا ایک اہم جزو رہا ہے۔ پاکستان جغرافیے کے ایک ایسے مقام پر موجود ہے کہ امریکہ کو 1947 سے ہی ہماری دوستی کی ضرورت رہی ہے۔ کمیونزم کے خلاف جنگ کے دَور میں کمیونسٹ روس اور کمیونسٹ چین سے ہماری سرحدیں ملتی تھیں۔ اسی لیے امریکہ کا ہم پر نظر رکھنا ضروری تھا۔ ہمارے ہاں سے وہ روس اور چین کی نگرانی کر سکتا تھا۔  پشاور میں بڈ ھ بیر کے فضائی اڈے میں پاکستان کا صدر بھی نہیں جاسکتا تھا۔ وہاں سے جاسوس طیارے کی پرواز کے بعد روسی صدر خروشیف نے دنیا کے نقشے پر پاکستان کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا تھا۔

بھارت نے روس کی آغوش میں جانے کا فیصلہ کیا تو ہماری وقعت دو چند ہو گئی۔ پھر سرد جنگ کے آخری دنوں میں افغانستان میں روسی فوجوں کی مداخلت نے بھی امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت بڑھا دی۔ اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی اور نائن الیون تو امریکہ کو ہمارے پڑوس میں لے آئے۔ اب تک وہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکہ کے لیے پاکستان کی ضرورت تاریخ کے ہر موڑ پر زیادہ ہوتی رہی۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے کبھی یہ باور نہ کیا۔ نہ کروایا کہ پاکستان کو امریکہ کی نہیں بلکہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سب سے امیر ملک کے 73 سالہ قریبی تعلقات اور ہر ضرورت کے وقت پاکستان کی خود سپردگی کے باوجود کروڑوں پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے کیوں ہیں۔ بے روزگاری ہمارے ہاں اتنی زیادہ کیوں ہے۔

قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ہماری یہ اقتصادی بد حالی۔ کیا اب تک کی ساری سیاسی اور فوجی حکومتوں کی بے تدبیری اور نا اہلی کی دلالت نہیں کرتی۔ کوئی ہے ان حکمرانوں سے پوچھنے والا۔ ان کے ذاتی مفادات تو پورے ہوتے رہے مگر ملک کے مفادات ہمیشہ خطرے میں رہے۔ کیا اس کے ذمہ دار صرف حکمراں ہیں۔ کیا ہماری یونیورسٹیاں نہیں ہیں۔ ہمارا میڈیا نہیں ہے۔ ہمارے علما نہیں ہیں۔ یہ سب بھی امریکہ سے اپنے اپنے فائدے اٹھاتے رہے۔ ملکی مفادات کی پروا نہیں کی۔ اب بھی امریکہ اور پاکستان کی تاریخ کے اہم فیصلہ کن موڑ پر جب ایک نئے صدر کی حلف برداری ہو رہی ہے تو کیا ہماری وزارت خارجہ۔ ہماری اپوزیشن یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکوں نے پاکستان کے عوام کو باخبر ہونے کے لیے کوئی ترجیحات مرتب کی ہیں۔ کیا پاکستانیوں میں یہ اعتماد پیدا کیا کہ پاکستان کو امریکہ کی نہیں بلکہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اس لیے بھکاری بن کر نہیں بلکہ ایک با وقار قوم کی حیثیت سے اپنی شرائط منوانی چاہئیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

ٹرمپ کے مواخذے کی راہ ہموار ہو گئی

امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے ان کے مواخذے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور صدر ٹرمپ کی میعاد ختم ہونے سے 8 روز قبل انہیں دوسری بار مواخذے کا سامنا ہے۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کی حامل ایوان نمائندگان نے امریکی ریپبلکن صدر ٹرمپ کیخلاف آخری اطلاعات تک 232 حمایت اور 197 ووٹ مخالفت سے تحریک مواخذہ منظور کر لی ہے ۔ 4 ری پبلکن اور ایک ڈیمو کریٹ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ ایوان میں 205 کے مقابلے میں 223 ووٹ سے مائیک پنس سے مطالبے کی قرار داد بھی منظور کی گئی کہ وہ 25ویں ترمیم استعمال کر کے اپنے باس کو ہٹا دیں تاہم 25ویں ترمیم استعمال نہ کر کے مائیک پنس کو نئی زندگی دی ہے ۔ تاہم امریکی نائب صدر مائیک پنس نے ایوان نمائندگان کی قرارداد پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

کئی ری پبلکن ارکان نے بھی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی حمایت کی ہے ۔ 10؍ ری پبلیکن نے ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ ان ری پبلکن ارکان میں واشنگٹن سے ڈین نیو ہاؤس ، نیویارک سے جان کیٹکو ، واشنگٹن سے جیمی ہریرا بٹلر ، مشی گن سے فریڈ اپٹن اور یومنگ سے لز چینی اور دیگر شامل ہیں۔ ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کی تیسری سب سے سینیئر رہنما لز چینی نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں گی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کی مواخذے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دیدیا۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے نئے منتخب صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ جرائم پر ان کی پراسیکیوشن ہونے دیں کیونکہ ایسے ہی آگے بڑھ جانا ایک بہت ہی خطرناک غلطی ہو گی۔

ادھر مواخذے کے موقع پر دارالحکومت واشنگٹن چھاؤنی کا منظر پیش کرنے لگا ہے اور کیپٹل ہل سمیت اہم مقامات اور شاہراہوں پر فوجی تعینات ہیں اور سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پنس کے انکار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کیلئے امریکی ایوان نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی منظور کر لی گئی ۔ نیویارک سے عظیم ایم میاں کے مطابق ڈیموکرٹیک پارٹی کی حامل ایوان نمائندگان نے امریکی ری پبلکن صدر ٹرمپ کے خلاف معمولی اکثریت (223 حمایت اور205 ووٹ مخالفت) سے تحریک مواخذہ منظور کر لی ہے اوردونوں طرف کے اراکین کانگریس نے اپنےاپنے حمایت اور مخالفت کا جواز دیتے ہوئے مؤقف کا اظہار بھی کیا لیکن ابھی اس تحریک مواخذہ کے اگلے آئینی مرحلہ کے بارے میں واضح نہیں ہو سکا کہ ایوان نمائندگان کی منظور کردہ تحریک مواخذہ اور اس میں شامل صدرٹرمپ کے خلاف الزامات کی سماعت کا امریکی سینیٹ میں آغاز کب ہو گا۔ ابھی ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے بھی واضح نہیں کیا کہ وہ منظور شدہ تحریک مواخذہ بقیہ آئینی کارروائی کیلئے یہ تحریک کپ سینیٹ کو بھیجیں گی۔

ایسٹرن ٹائم کے مطابق ایوان شروع ہوا اور قانون سازوں نے 10 بجے ووٹ دینے اور مواخذے کے آرٹیکل کے اصولوں کو منظور کر لیے گئے۔ ضابطے کی منظوری کے بعد ایوان میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ حتمی ووٹ مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ کا عمل 4 بجے تک مکمل ہو گا۔ قبل ازیں امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کو 25ویں آئنی ترمیم کے ذریعے ہٹانے کی قرارداد 223 ووٹوں کے ساتھ منظورکی گئی جبکہ قرارداد کی مخالفت میں 205 ووٹ آئے۔ قرارداد ڈیموکریٹک میری لینڈ کے رکن جیمی راکسن نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ امریکی نائب صدر مائیک پنس 25 ویں ترمیم کے سیکشن 4 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کا نااہل قرار دیں۔ لیکن اس سے پہلے ہی نائب صدر مائیک پنس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کی قرارداد کو رد کرتے ہیں۔ ترمیم کے سیکشن چار کے مطابق کابینہ کے لیے اجازت ہوتی ہے کہ اگر انھیں لگے کہ صدر اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اسے ہٹا دیا جائے۔ ہاؤس کی سپیکر نینسی پیلوسی کے نام لکھے گئے ایک خط میں مائیک پنس نے کہا کہ ہمارے آئین کے تحت 25ویں ترمیم کسی صدر کو ہٹانے یا اس کو سزا دینے کے لیے نہیں ہے۔

عظیم ایم میاں

بشکریہ روزنامہ جنگ

احتساب کا ادارہ خود کسی کو جواب دہ نہیں

براڈ شیٹ کیس نے نیب کی جس کارگزاری کو بے نقاب کیا ، وہ کل خرابی کاعشرِ عشیر بھی نہیں۔ مئی 2000 میں اُس وقت کے نیب پراسکیورٹر جنرل فاروق آدم نے سپریم کورٹ کو صدیق الفاروق کی سات ماہ پر محیط غیر قانونی حراست کے بارے میں بتایا کہ نیب دیگر اہم کاموں میں اتنا مصروف رہا کہ اُنہیں کہیں ’’رکھ‘‘ کر بھول گیا۔ نیب نے اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کسی ایف آئی آر کے اندراج کے بغیر ہی سات ماہ تک نیب کی حراست میں رہے ہیں۔ تاہم اُس وقت بھی نیب کے خلاف کسی نے کوئی کارروائی نہ کی۔ براڈ شیٹ کیسز کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کے مطابق نیب کی ناکامی کی وجہ سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف اس ادارے کی نااہلی اور نالائقی بے نقاب ہوئی بلکہ ایک اسکینڈل بھی سامنے آیا جس کے مطابق 2008 میں ایک غلط شخص کو 1.5 ملین ڈالر دیے گئے۔ مقامِ حیرت ہے کہ اس پر انکوائری کا حکم دیا گیا اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی کہ کس نے 2008 میں نیب کو کسی شخص کو اتنی بھاری رقم دینے کا اختیار دیا تھا کہ وہ اس کے اور براڈ شیٹ ایل ایل سی کے درمیان بروکر کا کردار ادا کرے۔

یہ معلوم ہونے کے بعد فرم نے مقدمہ کر دیا جس کے نتیجے میں 28.7 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ مئی 2008 میں پاکستان نے جیری جیمز کے ساتھ معاہدہ کیا۔جیری جیمز بھی کبھی براڈ شیٹ کا حصہ تھے۔ مان جزیرے (آئی او ایم) میں قائم کردہ فرم براڈ شیٹ کے اثاثے مارچ 2005 میں فروخت کر دیے گئے۔ اس دوران نیب نے 2003 میں اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا۔ کلوریڈا امریکا میں مقیم یہ کاروباری شخص، جیری جیمز بنیادی طورپر براڈ شیٹ کا حصہ تھا لیکن اس کی بندش کے بعد وہ ڈیل کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ اس نے کلوریڈا میں اسی نام سے ایک اور کمپنی بنائی، جس کا نام براڈ شیٹ ایل ایل سی تھا۔ بیس مئی 2008 میں اُس نے 1.5 ملین ڈالر کا ایک جعلی معاہدہ کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ وہ نیب پر براڈ شیٹ کی جانب سے عائد کئے گئے تمام دعوے ختم کرا دے گا۔ معاہدہ اور جیمز کا حلف نامہ جھوٹ اور ابہام سے بھرا ہوا تھا۔ تاہم اس سب کے باوجود آج تک کوئی شواہد دکھائی نہیں دیتے کہ اس معاملے میں نیب کے خلاف انکوائری کون کرے گا ؟

براڈ شیٹ، جسے پہلے ہی پاکستانی ٹیکس دہندگان کے 4.5 بلین روپے ادا کیے جا چکے ہیں، نے اب نیب پر 1,180,799.66 امریکی ڈالر کی اضافی رقم ادا کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یونائٹڈ نیشنل بینک کی طرف سے فنڈز کی وصولی سے پہلے نیب کے کلائنٹ پر واجب الادا اس رقم کا اضافہ ہو چکا تھا۔ کرویل اینڈ مورنگ میں براڈ شیٹ کے وکلا نے نیب کے وکلا کو لکھا ہے کہ ’’ اُن کے کلائنٹ نے پہلے باور کرایا تھا کہ وہ تمام رقم ادا کرے گا۔ برائے مہربانی اس بات کی تصدیق کیجیے کہ آپ کا کلائنٹ ہمارے کلائنٹ کو 2,100,000 امریکی ڈالر (337 ملین روپے) بلا تاخیر ادا کرے گا‘‘۔ اگر یہ کیس کسی بھی سرکاری محکمے میں ہوتا تو اب تک نیب بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث اربوں روپوں کے نقصان کی پاداش میں کئی ایک گرفتاریاں کر چکا ہوتا۔ صرف براڈ شیٹ ہی نہیں، نیب نے ایک اور فرم کو خاموشی سے 2.26 ملین ڈالر ادا کیے ہیں جس کی خدمات بے نظیر بھٹو مرحومہ، اُن کے شوہر ، آصف علی زرداری اور دیگر کے اثاثہ جات کی تفصیل جاننے کے لیے حاصل کی گئیں لیکن نیب نے قبل از وقت اس کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

سنہ 2000 میں جب دو سو افراد کے اثاثہ جات کی تحقیقات کے لیے میسرز براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی گئیں تو میسرز انٹر نیشنل ایسٹ ریکوری کے ساتھ بھٹو خاندان کے خلاف اُن اثاثہ جات کی تحقیقات کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ تاہم نیب نے 2003 میں ضروری طریقہ کار اپنائے بغیر دونوں فرموں کے ساتھ معاہدہ توڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے معاہدوں کے ذریعے تصفیہ کیا گیا۔ پاکستان کے فوجداری جسٹس سسٹم کی تاریخ کے ایک منفرد اسکینڈل کی خبر بھی سامنے آئی۔ دو مختلف ہائی پروفائل کرپشن کیسز ، ایس جی ایس، کوٹیکنا اور اے آر وائی گولڈ کے مختلف احتساب عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے کی ہو بہو نقل ہیں۔ اس کیس کوبھی نظر انداز کیا گیا اور کسی کا احتساب نہ ہوا۔ 2011 میں راولپنڈی احتساب عدالت کا کوٹیکنا کیس کا فیصلہ ایس جی ایس کیس کے فیصلے کی ہو بہو نقل تھا۔ وہ فیصلہ بھی راولپنڈی کی ایک اور احتساب عدالت نے سنایا تھا۔ نہ صرف دونوں فیصلوں کو ایک ہی انداز میں نمٹایا گیا بلکہ ان کے بہت سے الفاظ ، انداز بلکہ کئی ایک پیرے بھی ایک ہی تھے۔

سابق چیئرمین نیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے تسلیم کیا تھا کہ جنرل مشرف نے اُنہیں بدعنوانی کے اسکینڈلز ،جن میں چینی، آئل مافیا اور حتیٰ کہ کئی بلین ڈالر حجم رکھنے والا اسٹاک ایکس چینج کا سقم بھی شامل تھا، کو بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سابق چیئرمین کا اعتراف ظاہرکرتا تھا کہ کس طرح یکے بعد دیگرے مختلف حکمرانوں نے نیب قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اس ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران کئی ملزموں نے سختی یا میڈیا میں بدعنوانی کے الزامات کی بھرمار کی وجہ سے یا تو خود کشی کر لی یا وہ ادارے کی تحویل میں ہی فوت ہو گئے۔ اگرچہ نیب کے طریقہ کار اورفعالیت کو بہت سے حلقے ’’بے رحم ‘‘قرار دیتے ہیں لیکن اس کا سلسلہ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ اس کی اپنی جانچ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ادارہ دوسروں کے احتساب کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس کا کوئی احتساب نہیں کر سکتا۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

قومی اداروں کے ملازمین کی حالت زار

قیام پاکستان کے وقت اور اس کے بعد صنعتکاروں نے اس نوزائیدہ ملک کے مستقبل اور اس کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے گراں قدر ، بیش بہا قربانیاں اور خدمات سرانجام دیں جس سے لگتا تھا کہ پاکستان بہت جلد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نظر آئے گا۔ لیکن پھر بدقسمتی سے سیاسی نا اہلی، بے جا دخل اندازی، غلط پالیسیوں،کرپشن اور سیاسی لوٹ مارکی وجہ سے ترقی سے تنزلی کا سفر شروع ہو گیا جس کی طویل داستان ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آج حکومتی ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں، ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشی اور دیگر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ نو ماہ میں یہ ادارے مزید 294 ارب روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔

ریلوے، پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے عوامی اور دفاعی نوعیت کے ادارے ختم ہونے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں، دوسری جانب سیاسی اشرافیہ کی اپنی ایئرلائنز اور اسٹیل ملیں ترقی کی منزلیں چھو رہی ہیں۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی دن دگنی رات چو گنی ترقی کر رہی ہے مگرریلوے کو بند کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی لوٹ مار، کرپشن و نااہلی کی بنا پر خسارے سے دوچار ہونے والے اداروں کو منافع بخش بنانے کے بجائے ان کی نجکاری کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے، حکمران، سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے افراد اپنے اپنے مفادات اور عزائم کے ساتھ شریک ہیں۔ ایک فضائی حادثے کے بعد پاکستانی پائلیٹس کے جعلی لائسنسوں کا انکشاف کر کے نہ صرف دنیا بھر کی ایئرلائنوں میں ملازم پاکستانی پائلیٹس کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں گئیں بلکہ پاکستانی ایئرلائنوں کو بھی مسائل سے دوچار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ غیر ضروری جانچ پڑتال اور پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں جن میں مزید توسیع ہوتی جا رہی ہے جس سے انھیں اربوں روپے کا خسارہ پہنچ چکا ہے، ہر حکومت اور حکمران کی طرح موجودہ حکومت بھی اقتدار میں آنے سے قبل قومی اداروں اور اسی سے وابستہ افراد کی خیر خواہی کا دم بھرتے نہیں تھکتی تھی اور ان اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کے دعوے کرتی تھی۔

ملائیشیا کے رول ماڈل کی مثالیں پیش کی جاتی تھیں لیکن عملی طور پر اب تک کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسٹیل ملز کو تو تقریباً ختم کردیا گیا ہے گوکہ یہ کام آمر پرویز مشرف بھی نہیں کر سکا تھا اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے و دیگر اداروں کو بھی ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چند ماہ پیشتر اسد عمر نے یہ نوید سنائی تھی کہ وہ حکومتی اداروں کی اصلاح احوال کے لیے نیا قانون لا رہے ہیں لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ اسٹیل ملز کو پرائیویٹ کرنے کے لیے کاؤنسل آف کامن انٹرسٹ میں پالیسی وضع کرنے کے بجائے وزیر اعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ میں اس کی نجکاری کی منظوری لے لی گئی۔ قانونی ماہرین اس اقدام کو غیر آئینی اور معاشی ماہرین اسٹیل ملزکی بندش کو معاشی غلامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی نظریں اسٹیل ملز کی اراضی پر ہیں تو وفاق کی نظریں اس کے اثاثوں پر ہیں، سیاسی اشرافیہ اور بیورو کریسی کے بھی اپنے عزائم و مفادات ہیں۔

سنہ 2013 سے اسٹیل ملزکے ریٹائرہو جانے یا مر جانے والے ملازمین کی واجبات کی ادائیگی تاحال نہیں ہو پائی ہے نہ اس دوران ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے ملازمین کو تنخواہیں بھی تین یا چار ماہ بعد ادا کی جاتی ہیں۔ اب عدالت عالیہ کی کاوشوں کے نتیجے میں ریٹائر ہو جانے والے اور وفات پا جانے والے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وصولی کے لیے ملازمین اور ان کے لواحقین کا جمگھٹا عدالتوں میں نظر آتا ہے ان سات سالوں میں وفات پا جانے والے ملازمین کو واجبات کی وصولی کے لیے عدالتوں میں وراثت کے لیے کیسز داخل کرنا پڑ رہے ہیں جن میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر بروقت ادائیگیاں کر دی جاتیں تو یہ لوگ مالی مشکلات اور ان غیر ضروری قباحتوں سے بچ جاتے۔ اب بیک جنبش قلم 5 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جو سراسر زیادتی و ظلم ہے۔

ملز ملازمین کا موقف ہے کہ اسٹیل ملز کا معاملہ دیگر صنعتوں سے قدرے مختلف ہے یہاں ہیٹ، ڈسٹ، ہیزرڈ اور مضر صحت ماحول اور گیسوں کی موجودگی میں کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی جگہوں پر محنت کشوں سے چند سال سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا ہے ان کی صحت اور طبی ضروریات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں ان معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا ہے دوسرے یہ کہ مخصوص ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے باہر کے صنعتی اداروں میں ان ملازمین کو ملازمت کے مواقع بھی میسر نہیں آتے ہیں ہزاروں ملازمین کو جبری بے روزگار کرنے پر ملازمین سراپا احتجاج اور نوحہ خواں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کام فوجی ڈکٹیٹر نہیں کر پایا وہ کام عوامی حکومت کر رہی ہے۔ اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے سامنے مظاہرہ اور نعرے بازی کی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی تھی۔

ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس مسئلے پر ازخود نوٹس لینے کے لیے تحریری درخواست جمع کرائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جبری برطرفیوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب اسٹیل ملز کو 20 ارب روپے کے عوض فروخت کرنے کی کوششیں کی گئیں تو سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے اس کی نجکاری رکوائی تھی اور اس کی نج کاری کی صورت میں اس کے قانونی طریقہ کار کو بھی واضح کیا تھا اس مرتبہ بھی اسٹیل ملز کے ملازمین اور عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سندھ نے ایک آفیشل کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے کنوینر ناصر حسین شاہ جب کہ صوبائی وزیر سعید غنی، وقار مہدی اور مرتضیٰ وہاب اس کے ممبر ہوں گے جو ادارے کی مجوزہ نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیوں سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کرے گی۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی زبانی کلامی ہمدردی اور بیان بازی کا سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے آیندہ چند ماہ میں صورتحال سامنے آجائے گی کہ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کا مستقبل کیا بنے گا۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

بنگلہ دیش، بہاریوں کا المیہ

کسی بھی قوم کیلئے پہلے پچیس سال نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پچیس سالہ سالگرہ سلور جوبلی کی صورت میں نہایت دھوم دھام سے منائی جاتی ہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا پیارا وطن پاکستان اپنی سلور جوبلی منانے سے قبل ہی دولخت ہو گیا، یہ المناک سانحہ کیسے رونماء ہوا، اس کے پس پردہ عوامل اور مبینہ ذمہ داران کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، ہر سال پاکستان سے بے لوث محبت کرنے والے مجھ جیسے محب وطن سانحہ مشرقی پاکستان کاسوگ مناتے ہیں۔ قائداعظم کی زیرصدارت 23 مارچ 1940ء کو لاہور کے تاریخی جلسے کے دوران قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد تحریکِ پاکستان زور پکڑ چکی تھی، برصغیر کے مسلمانوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ انہیں آزاد ملک دیا جائے جسے وہ دنیا کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کر سکیں، قائداعظم کے شانہ بشانہ جوگندر ناتھ منڈل جیسے بے شمار غیر مسلم ہندو اور بہاری مسلمان تحریک پاکستان کے حامی تھے جنہیں یقین تھا کہ مسلمان اکثریتی ملک میں انہیں شہری، سماجی اور مذہبی آزادی میسر ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ 1946ء کے فیصلہ کن انتخابات میں بہار کے مسلمانوں کی آبادی اپنے صوبے میں دس فیصد سے زائد نہ تھی لیکن انہوں نے مسلم لیگ کو 34 نشستوں پر کامیابی دلوائی، وہ اچھی طرح اس امر سے آگاہ تھے کہ ان کا صوبہ پاکستان کا حصہ نہیں بن سکے گا لیکن وہ اپنے ووٹ کے ذریعے قائداعظم کی آواز پر لبیک کہنا اپنا فرض سمجھتے تھے، قیام پاکستان کے موقع پر فسادات پھوٹ پڑے تو یہ بہاری نقل مکانی کر کے مشرقی پاکستان آگئے، یہ لوگ تعلیم یافتہ تھے اس لئے بہت جلد سرکاری عہدوں پر بھی جگہ بنانے میں قائم ہو گئے، پاکستان میں جب قومی زبان اردو کو قرار دینے کا فیصلہ ہوا تو مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کی جانب سے مخالفت کی جانے لگی، تاہم بہاریوں نے اردو زبان کو دل و جاں سے اپنا لیا، مشرقی پاکستان میں برپاء ہونے والے لسانی جھگڑوں کی بناء پر قوم پرست بنگالیوں نے ہر اس باشندے کو بہاری قرار دے کر نفرت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جو بنگالی زبان نہ بولتا ہو، چاہے وہ پنجاب کا ہو یا پٹھان۔

صدر ایوب خان کا مارشل لاء بنگالیوں اور بہاریوں کے مابین فاصلے مزید گہرے کرنے کا باعث بنا، قومی انتخابات 1970ء میں بنگالیوں کی اکثریت نے شیخ مجیب الرحمان کی زیرقیادت عوامی لیگ کا ساتھ دیا تو بہاری مسلم لیگ کنونشن اور جماعت اسلامی کے سپورٹر تھے۔ بنگالی شدت پسندوں کی تنظیم مکتی باہنی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں موجود ہر غیربنگالی کو بہاری قرار دے کر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانے لگا تو محب وطن پاکستانی نوجوانوں نے پاک فوج کی حمایت میں سردھڑ کی بازی لگا دی۔ افسوس، پاکستان اپنی سلور جوبلی شان و شوکت سے منانے سے قبل ہی دو ٹکڑے ہو گیا، ہماری قومی تاریخ کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا وہ مشرقی حصہ جہاں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں سے تعلق رکھنے والے شیر بنگال مولوی اے کے فضل حق نے لاہور میں قراردادِ پاکستان پیش کی، جہاں کبھی پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجا کرتے تھے، اپنوں کی ہٹ دھری ، نادانیاں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے باعث ہم سے جدا ہو گیا، وہاں پاکستان سے محبت کرنے والے بہاریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانے لگا

مشرقی پاکستان کے زمانے میں ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے والے بہاریوں کو زور زبردستی مہاجرکیمپس میں محدود کر دیا گیا، قوم پرستی کی بنیاد پر قائم ہونے والے بنگلہ دیش میں ان پر زمین تنگ کر دی گئی، آج بھی بہاری کیمپوں پر آویزاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ان کے بنگلہ دیش کے شہری نہ ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ ان بہاری لوگوں کی زندگی سہولتوں سے عاری کیمپوں میں اجیرن بنا دی گئی ہے، آئے دن وہاں آتشزدگی کے واقعات رونما ہوتے ہیں، بہاریوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا جاتا ہے، ملازمتوں سے محرومی کی بناء پر وہ فاقہ کشی اور غربت کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں، نوجوان بچیوں کی کولکتہ اسمگلنگ کی خبریں منظرعام پر آتی ہیں۔ آج ان کی تیسری نسل بے یقینی کے عالم میں بہاری کیمپوں میں پاکستان کا پرچم سینے سے لگائے پریشان حال ہے، آج بھی ان کے بڑے اپنے کیمپوں میں اپنے دن کا آغاز پاکستان کے قومی ترانہ سے کرتے ہیں، پاکستان کے قومی دن مناتے ہیں، پاکستان میں چاہے کسی کی بھی حکومت ہو، ان کی توقعات پاکستان سے وابستہ ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہاری کیمپوں میں لگ بھگ پچاس برس گزارنے کے بعد وہ شدید مایوسی کا شکار ہو کر حقیقت پسند بنتے جارہے ہیں

ایک طرف نئی نسل بنگلہ دیش کو اپنا نے کیلئے آمادہ نظر آتی ہے لیکن دوسری طرف بنگلہ دیشی قوم پرستوں کے نزدیک ان کی پاکستان سے محبت ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح ماضی میں بہاریوں کی پاکستان میں آبادکاری کے معاملے پر یہاں بھی قوم پرستوں کی جانب سے پرتشدد مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، سندھ میں بسنے والوں کو اندیشہ ہے کہ کراچی میں بہاریوں کی آبادی میں اضافہ اردو اسپیکنگ ووٹ بینک کو بڑھائے گا، اسی طرح دیگر صوبے بہاریوں کے معاملے سے مکمل لاتعلق نظر آتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش میں پھنسی محب وطن بہاری کمیونٹی نے قائداعظم کی یقین دہانی پر پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ افسوس، قائداعظم آزادی کے صرف ایک سال بعد اس فانی دنیا سے چلے گئے لیکن آج ان کے وعدوں پر عمل کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کی یاد مناتے ہوئے اپنے مظلوم بہاری بہن بھائیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کے موقع پر افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھا، آج ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے تعاون سے بنگلہ دیش پرزور ڈالنا چاہئے کہ انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پر بہاری کمیونٹی کے مسائل کا دیرپا حل نکالا جائے۔

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

بشکریہ روزنامہ جنگ

کورونا مریضوں کو انسان سمجھنے والے

موت وہ اٹل حقیقت ہے جس کا مزہ ہر ایک کو ہر حال میں چکھنا ہے۔ فیصلہ میرے رب نے کرنا ہے کہ کس کو زندگی کی کتنی مہلت دینی ہے۔ بیماری اور شفاء بھی میرے رب کی طرف سے آتی ہے اور ہمیں ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ بیماری، مصیبت، مشکل اور آزمائش کی صورت میں صبر اور نماز کی ہمارا دین ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنا بھی ہمیں اسلام سکھاتا ہے۔ زندگی میں اگر مشکلات، مصیبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں تو آسانیاں، بہتر اور اچھے دن بھی آتے ہیں۔ یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ ہم سب کی تقدیر کا فیصلہ ہو چکا۔ جب سے کورونا کی وبا پھیلی اِس نے دنیا بھر میں ایک ایسا خوف پیدا کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ ماضی کے برعکس اِس خوف کی شدت میں کمی آئی ہے۔ باوجود اِس کے کہ کورونا کی دوسری موجودہ لہر پہلے کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں جیسے موت تو صرف کورونا سے ہی آنی ہے اور اگر ہم کورونا سے بچ گئے تو پھر ہمیں کبھی نہیں مرنا ہے۔

کورونا کا خوف کچھ ایسا رہا اور ہے کہ اِس کے مریضوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوتا رہا وہ مجھے ہمیشہ دکھ دیتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ جب کسی مریض کو اچھوت کی طرح سمجھا جائے گا، کوئی اُس کے قریب جانے کو تیار نہیں ہو گا۔ ڈاکٹرز یا تو دور دور سے ایسے مریضوں کو دیکھ کر علاج تجویز کر رہے ہوں گے یا اگر قریب جائیں تو ایسا لباس زیب تن کر کے جائیں گے جیسا کہ خلائی مشن میں جانے والوں نے پہنا ہوتا ہے تو مجھے یہ عجیب محسوس ہوتا تھا۔ جب تک میں خود کورونا کا شکار نہیں ہوا۔ میں سوچتا کہ نجانے ایسے ماحول میں کورونا کا مریض جسے اچھوت سمجھا جاتا ہو، جسے ایک ایسے ماحول میں رکھا گیا ہو جو نفسیاتی طور پر مریض کے لئے انتہائی منفی اور اُسے مزید بیمار کر دینے والا ہو، وہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ انہی وجوہات کی بنا پر بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے کورونا کے مریضوں کو حکومت کو رپورٹ کرنا بھی چھوڑ دیا اور اپنے اپنے گھروں میں ہی علامات کی بنیاد پر علاج پر زور دینا شروع کر دیا۔

یکم دسمبر 2020 کو جب میرا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تو میں پریشان نہیں ہوا، اِس امید کے ساتھ کہ بہت سے دوسرے مریضوں کی طرح کچھ معمولی علامتوں کے ساتھ میں بھی اِس بیماری سے گزر جائوں گا لیکن میرے کیس میں ایسا نہیں ہوا اور مجھ پر کورونا کے دو شدید حملے ہوئے جن کے بارے میں جنگ میں شائع ہونے والے اپنے گزشتہ چند کالموں میں ذکر کر چکا۔ اِس کالم کا مقصد قارئین کو اپنے اُس تجربہ سے آگاہ کرنا ہے جس کا سامنا میں نے بحیثیت کورونا مریض کے کیا اور جو اُس وحشت زدہ اور ڈراؤنے ماحول سے بالکل مختلف تھا جس کا میں نے کالم میں اوپر ذکر کیا ہے۔ مجھے کئی برسوں سے الرجی کا مسئلہ ہے جس کے لئے گزشتہ چند برسوں سے میں ڈاکٹر شازلی منظور کو دکھا رہا ہوں۔ ڈاکٹر شازلی الرجی، دمہ، ٹی بی، پھیپھڑوں کے کینسر، چیسٹ اسپیشلسٹ اور پلمنالوجسٹ ہیں۔ مجھے جب کورونا ہوا تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا۔ میرا علاج شروع ہوا، مرض بڑھ گیا اور مجھے کئی دن اسپتال میں رہنا پڑا۔

جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا کہ بیماری اور شفاء اللہ تعالی کی طرف سے ہی آتی ہے اور میں اپنے رب کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے کورونا کی شدید بیماری کے بعد اللہ نے صحت دی اور ان شاء اللہ بہت جلد میں مکمل صحت یاب ہو جائوں گا لیکن جس چیز نے مجھے بحیثیت کورونا سے متاثرہ مریض، بہت متاثر کیا وہ ڈاکٹر شازلی اور اُن کی ٹیم کا رویہ تھا جس میں نہ ہی مجھے اور نہ میرے جیسے دوسرے مریضوں کے ساتھ اچھوتوں کی طرح برتاؤ کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو میں نے ہمیشہ ڈبل ماسک پہنے تو دیکھا لیکن اُنہوں نے مجھے عام مریض کی طرح کئی بار چھوا، میرا پسینہ بھی صاف کیا۔ یہی حال اُن کے دوسرے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کا تھا۔ اِس رویہ نے مجھ پر نفسیاتی طور پر بہت مثبت اثر ڈالا جو کسی بھی مریض کے لئے بہت اہم ہو سکتا ہے۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر شازلی سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ پہلے دن سے جب اُنہوں نے کورونا کے مریضوں کا علاج شروع کیا تو اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام ممکنہ احتیاط تو کریں گے لیکن اپنے مریض کو اچھوت ہونے کا تاثر نہیں دیں گے۔ کہنے لگے پہلے دن اُنہوں نے اپنی فیملی سے بات کی اور کہا کہ اُن کی زندگی میں ایک ایسا مرض آ گیا ہے جو خطرناک ہے، اُنہیں بھی متاثر کر سکتا ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے لئے انسانی خدمت کا بہت بڑا موقع ہے جسے وہ کسی طور پر بھی کھونا نہیں چاہتے، چاہے اِس میں اُن کی اپنی زندگی کے لئے بھی خطرہ کیوں نہ ہو۔

ڈاکٹر شازلی نے بتایا کہ اسی نیت کے ساتھ اُنہوں نے اپنے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی ٹیم سے بات کی اور اُنہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا جو کورونا کے مریضوں کو اچھوتوں کی طرح نہیں بلکہ عام مریضوں کی طرح ہمدردی اور ممکنہ احتیاط کے ساتھ اُن کا علاج کر سکیں۔ پاکستان بھر میں کئی ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے کورونا کے علاج کے دوران اپنے زندگیاں قربان کر دیں لیکن یہاں ایک بڑی تعداد ایسے ڈاکٹرز کی بھی ہے جنہوں نے ابھی تک کورونا کے مریضوں کو اچھوت سمجھا ہوا ہے۔ آج کل مجھے ہر ہفتہ ڈاکٹر شازلی کے پاس فالو اپ کے لئے جانا ہوتا ہے۔ وہ کورونا کے درجنوں مریضوں کو روزانہ دیکھتے ہیں، اُن کا نارمل انداز میں معائنہ کرتے ہیں جو میری نظر میں ایک ایسا قابلِ تحسین عمل ہے جسے ہمارے میڈیکل پروفیشنلز کو پورے پاکستان میں رواج دینا چاہئے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

مولانا آ نہیں رہا آ رہے ہیں

میرا جو بھی سیاسی نظریہ ہو اس سے قطع نظر کبھی یہ چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ میں حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی شخصیت و سیاست کا کتنا بڑا پرستار ہوں۔ اس بابت چند برس پہلے بھی میں نے جو لکھا آج بھی اس پر قائم ہوں کہ قبل از مولانا سیاست برائے سیاست ہوا کرتی تھی مگر مولانا نے اسے فائن آرٹ میں بدل دیا اور اب لگ بھگ ہر سیاستداں کشادہ دل مولانا کے حوضِ سیاست سے بقدرِ ظرف بالواسطہ یا بلاواسطہ جتنے جرعے بھر سکتا ہے بھر رہا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ مولانا نے کھردری سیاست کو فائن آرٹ میں بدل دیا تو یہ کوئی تعلی یا ہوائی یا محض پرستارانہ بات نہیں ہے۔ بقول کسی مہان لکھاری کے دنیا ایک اسٹیج ہے جس پر ہم سب اپنا اپنا طے شدہ کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اسٹیج پر لگنے والے سیٹ پر ہر ایکٹ اور سین کی ضرورت کے اعتبار سے کچھ اشیا رکھی جاتی ہیں مثلاً میز کرسی ، گلدان، چھڑی ، کتاب، لاٹھی ، برتن وغیرہ۔ ان اشیا کو تھیٹر کی زبان میں پروپس کہا جاتا ہے۔ پروپس کسی اداکار کو اس کے مخصوص کردار کی ادائیگی ، نشست و برخواست چلت پھرت اور حرکات و سکنات میں مدد دینے کے لیے ہوتے ہیں۔

اگر ان میں سے ایک پروپ بھی کم ہو جائے تو بہت سے اداکار گڑبڑا جاتے ہیں اور تماشائیوں کی فقرے بازی کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ اگر دنیا ایک اسٹیج ہے جس پر زندگی کا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے تو سیاست بھی اس اسٹیج سے باہر نہیں ہو سکتی۔تھیٹر کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ پرفارمنس کے لیے صرف تین چیزیں درکار ہیں۔جگہ یعنی اسٹیج، ایک اداکار اور ایک تماشائی۔ اس تعریف کی روشنی میں اگر دیگران اور مولانا کا موازنہ کیا جائے تو باقیوں میں سے اکثریت کو نہ صرف بنا بنایا اسٹیج ، پروپس بلکہ تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد درکار ہے۔ مگر مولانا کی فنی عظمت یہ ہے کہ انھیں صرف اسٹیج درکار ہے۔ وہ جب اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں تو الفاظ اور ان کی ادائی پروپس میں بدل جاتے ہیں اور مجمع خود بخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور اسٹیج پر کھڑے باقی کردار ایکسٹراز میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور فضا مولانا آرہا ہے کہ نعروں اور تالیوں سے معمور ہو جاتی ہے۔

مولانا کی فنی عظمت کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ وہ تمام فن کار جو پارلیمنٹ کے اسٹیج پر عددی اعتبار سے چھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس امر کے باوجود کہ مولانا موجودہ پارلیمانی اسٹیج کا حصہ نہیں اپنی قیادت کے لیے مولانا کا انتخاب کیا ہے۔کیونکہ جتنا دینی و دنیاوی تجربہ ، زیرک نگاہ اور فنی باریکیوں کی سمجھ مولانا کے پاس ہے کسی کے پلے نہیں۔ مولانا اس وقت جس اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں اس میں دو بڑی ’’خاندانی جماعتیں‘‘ بھی شامل ہیں۔ کہنے کو دونوں خاندانی جماعتوں کا اقتداری تجربہ اور محلاتی سمجھ کسی بھی جماعت سے زیادہ ہے۔ مگر ان میں سے کسی کے پاس مولانا والی بات نہیں۔ بظاہر عددی اعتبار سے مولانا کبھی بھی اپنے تئیں اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں نہیں رہے مگر مولانا نے ہر دور میں اپنی بھاری بھرکم شخصیت کو اس آخری باٹ کی طرح استعمال کیا جو جس پلڑے میں بھی ڈل جائے اس کا وزن پورا ہو جاتا ہے اور دوسرا پلڑا ہوا میں لہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔

یہ ملک گزشتہ پچاس برس سے بالخصوص خاندانی سیاست کا اسیر ہے اور نہ جانے آنے والے کتنے برس تک یونہی رہے۔ مولانا کی دوررس نگاہی سے یہ راز کبھی بھی اوجھل نہیں رہا۔ اگرچہ مولانا طبعاً نظریاتی شخصیت ہیں مگر سیاست میں چونکہ سکہِ رائج الوقت خاندانیت ہی ہے لہذا بہ امرِمجبوری مولانا کو بھی یہ سکہ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسے آپ اپنی جماعت کے مرکزی سربراہ ہیں۔ آپ کے بھائی مولانا عطا الرحمان اسی جماعت کے صوبائی (کے پی کے) امیر ہیں۔ آپ کے دوسرے بھائی مولانا لطف الرحمان رکن ِصوبائی اسمبلی (کے پی کے) ہیں۔ آپ کے ایک اور بھائی عبید الرحمان جماعت کے ضلعی امیر ( ڈیرہ اسماعیل خان ) اور مہتمم جامعہ شریعہ ڈی آئی خان ہیں۔ آپ کے ایک اور بھائی ضیا الرحمان بیوروکریٹ ہیں۔آپ کے صاحبزادے اسعد محمود رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔

بہت سے حاسد اس خاندانی انتظام پر چیں بہ جبیں رہتے ہیں۔ مگر حاسدوں کا پیٹ صرف جہنم کی آگ ہی بھر سکتی ہے۔ ان لوگوں کو یہ ذرا سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ جتنے بھی نظریاتی و اصولی ہوں۔ بازار میں کام تو سکہ رائج الوقت سے ہی چلے گا۔ ویسے بھی اول خویش بعد درویش کی کہاوت مولانا نے توایجاد نہیں کی۔ یہ تو ہمارے پرکھوں کی دین ہے۔ ایسا ریاستی جہاز جس کے بیشتر مسافر خاندانی سیاست کے ہی اسیر ہوں اگر اس جہاز کا کپتان ہی اس سے بے بہرہ ہو اور اسے خاندانی سیاست کی الف ب کا بھی نہ پتہ ہو تو سوچیے اس جہاز کا کیا ہو گا۔ مولانا کے فن ِ سیاست و فضائل پر بہت بات ہو سکتی ہے۔ مگر میرا دھیان ایک اور خبر میں بھی جا اٹکا ہے۔ مفتی منیب الرحمان کو رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی سے تئیس برس بعد سبکدوش کر دیا گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جس ارسطو نے بھی یہ فیصلہ کیا اس نے کیا سوچ کے کیا۔

اگر چاند کروڑوں برس سے چمک رہا ہے تو مفتی صاحب کے تئیس برس کیوں کسی کی آنکھوں میں کھٹک گئے۔ اگلے رمضان کا چاند جب مفتی صاحب کو نہیں دیکھ پائے گا تو سوچیے اس پر کیا گذرے گی۔ مگر مفتی صاحب کو یوں اچانک ہٹایا جانا مہنگا پڑے گا۔ آپ نے ہٹتے ہی تحریکِ تحفظ مسجد و مدارس کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ نے بین الاقوامی طاغوتی قوتوں کے دباؤ پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کو خوش کرنے کے لیے جو قانون سازی کی ہے نیز اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری وقف بل منظور کیا ہے۔ ان دونوں قوانین کی دینی حلقے سختی سے مزاحمت کریں گے۔ ہم مدارس اور مذہبی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جے یو آئی ف کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی مفتی صاحب کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے اور دونوں قوانین کو خلافِ شریعت قرار دیا ہے۔ اگرچہ مفتی صاحب رکنِ پارلیمان نہیں ہیں مگر رکنِ پارلیمان تو مولانا فضل الرحمان بھی نہیں ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ مفتی منیب الرحمان کا تازہ مطالبہ رویت ہلال کمیٹی سے سبکدوشی کا ردِعمل ہے۔ یا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے عمران خان کے استعفی کے مطالبے کا تعلق کاروبارِ ریاست سے مولانا کی دوری کے سبب ہے۔ حق بات کے لیے کسی کمیٹی یا پارلیمنٹ کا حصہ ہونا ضروری تو نہیں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پروفیسر غفور احمد : پاکیزہ کردار سیاست دان

آج کے دور میں میدانِ سیاست میں بھرپور کردار ادا کرنے اور اپنے دامن کو پاک صاف رکھنے والی شخصیات کو ولی اللہ سمجھنا چاہیے۔ یہ المیہ ہے کہ سیاست کو یہاں اتنا گندا کر دیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہی عام آدمی کے نزدیک بے ایمانی، دھاندلی اور لوٹ مار ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سیاست کارِ انبیاء ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ہر نبی ان کی سیاست کو منضبط کرتا تھا۔ ایک نبی کے اُٹھ جانے کے بعد دوسرا نبی یہ ذمہ داری سنبھال لیتا تھا۔ آنحضورﷺ خود بھی جہاں منبر و محراب پر جلوہ افروز ہوئے، وہیں ایوانِ اقتدار میں سربراہِ مملکت کے فرائض بھی ادا کیے۔ اسلام کے نزدیک سیاست دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ پاکستان میں بھی پاکباز سیاستدان ہر دور میں موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں؛ اگرچہ آٹے میں نمک کے برابر۔ ہم آج جس شخصیت کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں، اس کی دیانت و امانت، قابلیت و ذہانت اور جامع شخصیت کا ہر دوست اور دشمن معترف ہے۔ ہماری مراد جماعت اسلامی کے عظیم رہنما پروفیسر غفور احمد صاحب سے ہے، جو 26 دسمبر 2012ء کو داغِ مفارقت دے گئے تھے۔ کئی ماہ وسال گزرنے کے باوجود ان کی یادیں دل میں تازہ ہیں۔

مرحوم سے براہِ راست ذاتی تعارف 1972ء میں قائم ہوا۔ 5-A ذیلدار پارک اچھرہ لاہور میں سردیوں کی ایک دوپہر کو وہ اسلام آباد سے تشریف لائے تو مجھے صاحبزادہ محمد ابراہیم صاحب کے ساتھ ان سے ملنے اور باہمی تعارف کا شرف حاصل ہوا۔ پروفیسر صاحب ان دنوں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کر کے آئے تھے۔ مرکزِ جماعت میں پروفیسر صاحب نے مولانا مودودیؒ کو ان کے کمرے میں جا کر اسمبلی کے حالات و واقعات کی بریفنگ دی۔ پروفیسر صاحب جماعت کے چار رکنی پارلیمانی گروپ کے لیڈر تھے۔ مولانا سے ملاقات کے بعد باہر نکلے تو میں نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور اپنا نام بتایا۔ میرا ہاتھ چھوڑنے سے پہلے اپنی دائمی مسکراہٹ اور شیرینی کے ساتھ مجھ سے پوچھا: ”اچھا تو آپ آج کل کیا کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا: ”کوئی خاص کام تو نہیں کر رہا، البتہ گجرات میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چھپنے والے ایک ہفت روزہ رسالے ”الحدید‘‘ کی نگرانی کر رہا ہوں‘‘۔ پھر پوچھا: ”آپ نے ایم اے کیا ہے تو اب پی ایچ ڈی کر لو‘‘۔ میں نے کہا: ”ارادہ تو ہے مگر پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کیا فرق پڑے گا سوائے اس کے کہ نام کے ساتھ ڈاکٹر لگ جائے گا‘‘۔

مرکزِ جماعت میں اس زمانے میں جو بزرگ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی ذات میں انجمن اور منفرد شخصیت کا حامل تھا۔ مرکزی ناظم مالیات شیخ فقیر حسین صاحب بڑے بذلہ سنج اور نکتہ طراز بزرگ تھے۔ قبل اس کے کہ پروفیسر صاحب مجھے کوئی جواب دیتے، شیخ صاحب نے جو پاس ہی کھڑے ہوئے تھے، فرمایا: ”فائدہ تو بہت ہو گا، پروفیسر صاحب کو دیکھیے، چند سال کالج میں پڑھایا اور اب پروفیسری مستقل طور پر ان کے نام کا حصہ ہے۔ آپ بھی مستقل ڈاکٹر صاحب بن جائیں گے‘‘۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ شیخ صاحب محترم پروفیسر صاحب سے اتنے بے تکلف ہیں۔ بعد کے ادوار میں کئی مواقع پر یہ عقدے مزید کھلتے چلے گئے۔ بہرحال اس موقع پر سید صدیق الحسن گیلانی صاحب اور خود پروفیسر صاحب کھلکھلا کر ہنسے۔ 73ء کے دستور میں اسلامی جمہوری دفعات شامل کروانے میں حزبِ اختلاف کی سبھی جماعتوں کا اہم کردار ہے مگر بنیادی مسودے میں ترمیمات اور حتمی آئین کی فقرے بندی پروفیسر صاحب کی قابلیت و مہارت کی مرہونِ منت تھی۔ 73ء کے دستور کا جب بھی حوالہ دیا جائے، میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا نام گونجنے لگتا ہے۔

وہ اکیلے بھی ایک جماعت تھے۔ وہ سپاہی بھی تھے اور سپہ سالار بھی۔ وہ شرق و غرب سے واقف تھے مگر نہ مشرق کی بے خدا تہذیب کے پھندے میں آئے، نہ مغرب کے مادر پدر آزاد تمدن کی زلف کے اسیر ہوئے۔ خود جماعت کے اندر جس بات کو غلط سمجھا اس پر بے لاگ تنقید کی، مگر بازار اور اخبار میں نہیں، پراپر پلیٹ فارم کے اوپر۔ وہ ایک مردِ آفاقی تھے۔ حق بات ڈنکے کی چوٹ کہتے مگر اندازِ گفتگو میٹھا اور شیریں۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں :
درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربی
گھر میرا نہ دلّی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند!
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلۂ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند!
پروفیسر صاحب میں بڑی خوبیاں تھیں۔ وہ مرنجاں مرنج انسان تھے، اپنی بے پناہ صلاحیتوں، شہرت، مقبولیت اور قابلیت کے باوجود ان کے اندر انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ خوراک انتہائی کم تھی۔ بعض اوقات تعجب ہوتا تھا کہ اس قدر بھاگ دوڑ کرنے اور فعّالیت کے ساتھ بلاتاخیر ہر اجلاس اور پروگرام میں پہنچنے والے یہ قائد اتنی کم خوراک کے ساتھ کیسے اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔

بہرحال اپنی آخری بیماری سے قبل وہ ہر لحاظ سے تو انا اور فِٹ تھے۔ ان کے اندر بے پناہ قوتِ ارادی تھی۔ نام و نمود اور نمائش سے ہمیشہ مجتنب رہے۔ پنجاب کے دور دراز اضلاع میں بھی ان کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا، بار کونسلوں اور پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے تو ان کا تعارف کرواتے ہوئے جب مقامی احباب تعریف و تحسین کے الفاظ استعمال کرتے تو وہ انہیں منع کر دیتے اور فرماتے کہ پروگرام شروع کرائو۔ پروفیسروں اور دانشوروں سے گفتگو ہو یا وکلا و صحافیوں کے سامنے اظہارِ خیال، جلسۂ عام ہویا احتجاجی مظاہرہ، پروفیسر صاحب دس پندرہ منٹ میں اپنا پورا مافی الضمیر بیان کر دیتے اور متعلقہ موضوع پر کوئی تشنگی نہ رہنے دیتے۔ صحافیوں کے ہر سوال کا جواب بھی ان کی طرف سے نپاتلا اور نہایت جامع ہوتا تھا۔ شوریٰ کے اجلاسوں میں خاموشی کے ساتھ بیٹھتے اور اپنی باری پر اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے کہ کوزے میں دریا بند کر دینے کا محاورہ مجسم صورت میں حقیقت کا روپ دھارتا نظر آتا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی رکنیت کے دوران انہوں نے جس بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس کا ہر شخص معترف ہے۔ ان کی تقاریر میں کوئی شور ہنگامہ نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ اپنی عظیم شخصیت اور مرتبے کے عین مطابق وہ پُرمغز نکات اٹھاتے اور ہر مؤقف مضبوط استدلال کے ساتھ پیش کرتے۔ 73ء کے دستور کی منظوری کے دور میں ڈاکٹر نذیر احمد تو شہید ہو چکے تھے اور جماعت کے صرف تین ارکان اسمبلی میں رہ گئے تھے، مگر اللہ کے فضل سے جماعت کا وزن اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ مسلّم تھا۔ ان ارکان میں پروفیسر صاحب کے علاوہ محمود اعظم فاروقی صاحب (کراچی) اور صاحبزادہ صفی اللہ صاحب تھے جو دیر سے منتخب ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کو 70ء والی اسمبلی کے اندر، بچے کھچے پاکستان میں بہت بڑی اکثریت حاصل تھی اور ان کے بیشتر ارکان انتہائی زبان دراز بلکہ منہ پھٹ تھے۔ اس کے باوجود اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ پروفیسر صاحب کی گفتگو کے دوران ایوان میں پُروقار ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔ سبھی ان کی بات غور سے سنتے اور ان کا احترام کرتے تھے۔

اس زمانے میں ملک کے مشہور اور بزرگ صحافی، مصطفی صادق مرحوم اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے اجلاس کی جھلکیاں دیکھ کر آئے تو 5-A ذیلدار پارک میں مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے مولانا مرحوم سے کہا: ”مولانا ایوان میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں مگر سچی بات یہ ہے کہ اگر کسی رکن کی کسی بات میں وزن اور تاثیر تھی تو یہ وہی ارکان تھے جو جماعت کی تربیت گاہوں سے ہو کر نکلے‘‘۔ پروفیسر غفور صاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب کا بالخصوص تذکرہ کرنے کے بعد مصطفی صادق نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جماعت کو چھوڑ کر چلے گئے مگر پیپلز پارٹی کے دور ارکانِ اسمبلی رائو خورشید علی خان اور کوثر نیازی بھی جب بات کرتے تو محسوس ہوتا کہ انہیں بات کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ آتا ہے۔ مصطفی صادق مرحوم کی بات سن کر مجھے بے ساختہ فارسی شاعر غنی مرحوم کا یہ شعر یاد آیا ؎
غنی روزِ سیاہِ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را!

بعد میں ایک دو نہیں بے شمار ”نورِ دیدہ‘‘ جو جمعیت اور جماعت اسلامی کی تربیت سے نکھر کر ہیرے بنے تھے‘ سیاست کی منڈی میں جا کر اپنی قیمت لگوانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ہوشیار لوگ کہلاتے ہیں حقیقت میں ناداں ہیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا ؎
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
میں کئی مرتبہ پروفیسر صاحب کو ملتے ہوئے ادب و احترام سے ان کے گھٹنے چھوتا تو گھٹنے پیچھے کر کے میرے شانوں پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے کہ ”جیتے رہو!‘‘ مرحوم کے یہ الفاظ ”جیتے رہو‘‘ اتنے پیار بھرے لہجے اور محبت کے انداز میں سماعت نواز ہوتے تھے کہ ان کی بازگشت اب تک سنائی دیتی ہے۔ 26 دسمبر کو اپنے اس عظیم محسن کو بستر پر جامد و ساکت دیکھا تو آنکھیں تر ہو گئیں۔ ان کی پیار بھری دعا شدت سے یاد آئی۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ان جیسے لوگ کم ہی دنیا میں نظر آتے ہیں۔ لوگ اپنے مفادات کے پیچھے دوڑتے ہیں، وہ اپنے مقصدِ حیات کو پاگئے تھے اور ان کی ساری تگ و دو اسی کی خاطر وقف رہی۔
اُس مردِ خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندۂ آفاق ہے، وہ صاحبِ آفاق

حافظ محمد ادریس

بشکریہ دنیا نیوز