محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رخصتی

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد وطنِ عزیز پاکستان کی جن اہم ترین شخصیات کو عوامی محبت و اکرام ملا، ذو الفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان میں ممتاز ترین اور سر فہرست حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض مقامی اور بین الاقوامی قوتوں نے دونوں شخصیات کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ عوام مگر دونوں کا دل و جاں سے احترام و اکرام کرتے رہے۔ دونوں کا ’’قصور‘‘ یہ تھا کہ ایک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اساس رکھی اور دوسرے نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم پاکستانی شخصیات کی موت اس حال میں ہُوئی کہ ایک پھانسی کے تختے پر اُس وقت جھول گیا جب ملک آمریت کے سائے تلے کراہ رہا تھا اور دوسرے نے ایسے حالوں میں موت کو لبیک کہا کہ اسپتال میں کوئی اہم ترین سرکاری شخصیت اُن کی تیمار داری اور پرسش کے لیے حاضر نہ ہو سکی۔ جی ہاں ، پاکستان کی یہ اہم ترین اور محترم ترین شخصیت اب ہمارے درمیان میں نہیں رہی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے خالق کے پاس حاضر ہو گئے ہیں۔ اُن سے پوری پاکستانی قوم کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام نے اُن کی بے مثل خدمات کے صلے میں انھیں ’’محسنِ پاکستان‘‘ کے لقب سے نوازا۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے چند ہفتوں سے خاصے بیمار تھے۔ کووِڈ 19کے اِس جاں سوز اورمہلک موسم سے وہ بھی متاثر ہُوئے تھے؛ چنانچہ اسپتال میں داخل کر دیے گئے تھے۔ پہلے اسلام آباد میں اور پھر راولپنڈی میں۔ درمیان میں کچھ دنوں کے لیے اُن کی صحت سنبھل بھی گئی تھی لیکن مکمل صحت کی جانب وہ لَوٹ نہ سکے۔ بسترِ علالت پر انھیں اس بات کا شدید رنج اور قلق تھا کہ کوئی ایک بھی اہم سرکاری اور غیر سرکاری شخصیت اُن کی عیادت کے لیے نہ آ سکی تھی؛ چنانچہ ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر سے انھوں نے اس بات کا بر ملا گلہ اور افسوس بھی کیا تھا۔ کسی حکمران نے فون کے ذریعے بھی اُن کا حال تک نہ پوچھا۔ ہماری سیاسی اور مقتدر شخصیات اس قدر بے حس ہو چکی ہیں کہ کسی اَن دیکھی طاقت سے خوف کھاتے ہُوئے بسترِ مرگ پر پڑے اُس شخص کا حال احوال پوچھنے سے بھی گریزاں رہیں جس نے پاکستان کو ہر قسم کے دشمنوں کی یلغار سے ہمیشہ کے لیے محفوظ و مامون بنا ڈالا۔

ڈاکٹر قدیر خان کی عیادت کے لیے نہ تو ہمارے صدر صاحب جا سکے، نہ وزیر اعظم صاحب اور نہ ہی کوئی اپوزیشن لیڈر۔ ڈاکٹر خان سے بے پناہ محبت کرنے والے عوام کو بھی اُن ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ سخت پابندیاں تھیں۔ وہ شدید تنہائی اور قید کے ماحول میں اپنے اللہ کے پاس پہنچے ہیں۔ اتنے بڑے احسانوں کی ایسی سزا؟ یہ تو کبھی انھوں نے اُس وقت سوچا بھی نہ ہو گا جب وہ ہالینڈ میں ایک شاندار ملازمت اور پُر آسائش زندگی کو تیاگ کر محض اپنے وطن کی کامل خدمت کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دشمنی اور مخالفت میں امریکی اور مغربی ممالک اور وہاں کے میڈیا نے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف بھرپور مہمات چلائیں لیکن وہ سب مل کر بھی پاکستانی عوام کے دلوں سے ڈاکٹر خان کی محبت ختم نہ کروا سکے ۔ ہمارے ملک کے نامور اخبار نویس اور ’’ایکسپریس‘‘ کے معروف کالم نگار جناب عبدالقادر حسن مرحوم جب تک حیات رہے، ہمیشہ ڈاکٹر خان کا ذکر اعلیٰ ترین الفاظ میں اور محبت سے کرتے رہے۔

عبدالقادر حسن صاحب مرحوم ہر اُس مقامی اور عالمی شخصیت اور ادارے کی بھی گوشمالی کرتے تھے جوتعصب سے مغلوب ہو کر ڈاکٹر خان کو ہدف بناتے تھے۔ اسلام آباد میں فروکش ممتاز صحافی جناب زاہد ملک مرحوم بھی ڈاکٹر خان کے سب سے بڑے حامی تھے۔ زاہد ملک صاحب نے تو ڈاکٹر خان کی شخصیت اور خدمات پر مبنی ایک ضخیم کتاب ( محسنِ پاکستان کی ڈی بریفنگ) بھی لکھی۔ اس تصنیف میں ڈاکٹر خان پر عائد کیے جانے والے متنوع الزامات کا شافی جواب بھی دیا گیا۔ اور یہ جناب مجیب الرحمن شامی کا جریدہ (قومی ڈائجسٹ) تھا جس نے پاکستان میں سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مفصل انٹرویو شایع کیا تھا۔ ویسے تو عالمی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام اور پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کے حوالے سے اُن کی شخصیت کی باز گشت عالمی میڈیا میں مسلسل سنائی دیتی رہتی تھی لیکن اس بازگشت میں اُس وقت بے پناہ اضافہ ہُوا جب ممتاز بھارتی صحافی، آنجہانی کلدیپ نئیر، نے بھارت سے اسلام آباد آ کر ڈاکٹر خان کا مفصل انٹرویو کیا۔ اسی تاریخی انٹرویو میں پہلی بار اعتراف اور اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔

یہ انٹرویو پاکستان کے ایک اہم صحافی ، جو اب مشہور سیاستدان بھی ہیں، کے توسط سے کیا گیا تھا۔ یہ انٹرویو بذاتِ خود ایٹم بم بن کر بھارت کے حواس پر گرا تھا۔ ساتھ ہی ساری دُنیا بھی ششدر رہ گئی تھی۔ کلدیپ نئیر نے اس انٹرویو اور ڈاکٹر خان سے ملاقات کا تفصیلی احوال اپنی سوانح حیات (بیانڈ دی لائنز) میں بھی کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ زیڈ اے بھٹو کے بعد ڈاکٹر خان پاکستان کی دوسری شخصیت تھے جن پر کئی غیر ممالک میں کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مغربی ممالک میں انھیں ایک پُر اسرار اور اساطیری کردار کی حیثیت میں بھی یاد کیا جاتا تھا۔ یہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی وطن سے شدید محبت اور محنت کا نتیجہ تھا کہ بالآخر اسلامی جمہوریہ پاکستان 28 مئی 1998 کو عالمِ اسلام کی پہلی جوہری طاقت بن گیا۔ برملا ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو دُنیا کی جوہری طاقتوں میں شامل کرنے کا یہ اعزاز جناب میاں محمد نواز شریف کا مقدر بنا۔ پوری پاکستانی قوم وہ دُکھی لمحہ نہیں بھول سکتی جب ڈاکٹر خان صاحب کو، پاکستان کے ایک آمر کے جبریہ دَور میں، پی ٹی وی پر اپنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ایسا اقدام کر کے شاید ہمارے حکمرانوں نے اپنی جان عالمی قوتوں سے چھڑا لی ہو لیکن ذلت کا یہ لمحہ پوری پاکستانی قوم آج تک فراموش نہیں کر سکی۔

اور وہ لمحہ بھی ہمارے لیے شرمناک ہی تھا جب ڈاکٹر خان اسلام آباد کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر بیٹھے، پاؤں میں معمولی سی چپل پہنے، ایک ٹی وی اینکر سے گفتگو کر رہے تھے۔ جبر کا یہ عالم تھا کہ محسنِ پاکستان کا چہرہ پاکستان کے کسی ٹی وی پر دکھایا جا سکتا تھا نہ اُن کی گفتگو سنائی جا سکتی تھی۔ اپنے محسنوں سے کوئی ایسا بھی کرتا ہے؟ لیکن ہمارے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں نے یہ انہونی بھی کر کے دکھا دی۔ اس جبریہ اور قہریہ ماحول میں محض سانسیں لیتے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ شاید زیادہ دنوں تک زندہ نہ بچ سکیں؛ چنانچہ انھوں نے ایک معاصر میں خود ہی اپنے بارے میں یہ الفاظ شایع کروا دیے تھے :’’میری وفات کے بعد پورے پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی کوچے میں آپ لوگوں نے میرے لیے جنازہ پڑھنا ہے اور دعائے مغفرت کرنا ہے‘‘۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اللہ کریم اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ ( آمین )۔

تنویر قیصر شاہد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

عمر شریف کو کس کا ڈر تھا؟

لندن کی ایک سرد اور حسین شام تھی۔ ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کے ولیمے کی تقریب تھی اور کراچی سے آئے ہوئے عمر شریف کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ ان کے خوف سے پسینے چھوٹ رہے تھے اور وہ میرا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ الطاف بھائی سے ذاتی تعلق کبھی نہیں رہا، کراچی میں تھے تو صحافت ان کی دھمکیوں کی زد میں رہتی تھی۔ ان کی پریس کانفرنس میں بھی سرجھکا کر بیٹھتے تھے کہ کہیں نظر میں نہ آ جائیں۔ افطار کی دعوت پر بہانہ کر دیتے تھے اور جب ان کے لڑکے فون پر گالی دے کر کہتے تھے تمھارے دفتر کا پتہ ہے تو دفتر کو تالا لگا کر گھر چلے جاتے تھے۔ لیکن لندن میں جب ان کے ولیمے کا کارڈ ملا تو ساتھیوں نے کہا صحافت اور سیاست گئی بھاڑ میں، ہم کراچی والے ولیمہ تو دشمن کا بھی نہیں چھوڑتے۔ سب نے اپنے ریشمی پاجامے نکالے اور بچوں سمیت بدھائی دینے پہنچ گئے۔ محل نما شادی ہال میں سیکیورٹی بہت زیادہ تھی۔

ہال کے اندر داخل ہو کر باہر جانے کی ممانعت تھی۔ سگریٹ پینے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ایک بزرگ کے مشورے اور معاونت سے ایک بازو والا دروازہ ڈھونڈا اور اس میں پیر پھنسا کر آدھے اندر اور آدھے باہر ہو اپنی علتیں پوری کرنے لگے۔ ایک گاڑی آ کر رکی اور اس میں سے عمر شریف برآمد ہوئے۔ میرے اندر ایک دم وہ احترام جاگا جو کسی بڑے سیلبرٹی یا خاندانی بزرگ کو دیکھ کر جاگ جاتا ہے۔ میں نے سگریٹ بجھائی، آگے بڑھا اور جھک کر پھر نجانے کیوں عمر بھائی کہہ کر سلام کیا۔  ویلکم ٹو لندن عمر بھائی۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا، ادھر ادھر دیکھا، ان کے ہاتھ پسینے سے شرابور تھے۔ انھوں نے کہا مجھے بھائی کے پاس لے چلو اور دیکھو میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔ میں نے بتانے کی کوشش کی کہ میں الطاف بھائی کا لڑکا نہیں، میں خود ایک مہمان ہوں۔ انھوں نے کہا جو کوئی بھی ہو سٹیج تک میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔

میں نے کراچی میں میڈیا کے سیٹھوں سے لے کر ایم کیو ایم کے منحرفین میں سب کو الطاف حسین سے خوفزدہ ہوتے دیکھا تھا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سٹیج پر کھڑے ہو کر ہر طاقتور کی کراچی کی زبان میں پتلون اتارنے والا عمر شریف بھی کسی سے اتنا خوفزدہ ہو سکتا ہے۔ پھر ایک ساتھی نے سمجھایا کہ عمر شریف کراچی کا جم پل تھا اس کی زبان، اس کا فن اس کے لطیفے، اس کی جگتیں کراچی کے غریب محلوں کی گلیوں میں گندھی ہوئی تھیں۔ پھر وہ اپنی شہرت کے عروج پر کراچی چھوڑنے کو کیوں مجبور ہوا۔ ایک زمانے میں کراچی سے باہر رہنے والے شاید شہر کو دو لوگوں کی وجہ سےجانتے تھے ایک الطاف حسین اور دوسرا عمر شریف۔ ایک اپنے ایک حکم سے شہر بند کروا دیتا تھا اور دوسرا ایک ایسا ڈرامہ لکھتا کہ مہینوں کھڑکی توڑ رش لیتا تھا۔ ہر بڑے کامیڈین کی طرح عمر شریف کا مزاح بھی کراچی کے حالات کی پیداوار تھا۔

اب شہر کا سب سے مشہور فنکار شہر کے سب سے بڑے سیاسی فنکار کا مذاق نہیں اڑا سکتا تو کیا کرتا۔ کچھ امن عامہ کے مسائل بھی تھے لیکن اگر آپ کراچی کے سٹیج پر چڑھ کر ایم کیو ایم کا مذاق نہیں اڑا سکتے، الطاف حسین کی نقل نہیں کر سکتے، تو پھر اس شہر کو چھوڑنا اچھا۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت کم فنکار ہوں گے جنھوں نے ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں اپنا مقام بنایا ہو۔ لاہور میں لالو کھیت کے مزاح کو کون سمجھتا۔ اس لیے انھوں نے پنجابی سیکھی، پنجابی کامیڈی کی کئی صنفوں کو اپنے ڈراموں میں لیا اور خود اپنا تھیٹر کھول کر کئی سال تک جلاوطنی میں رہ کر خود اپنے آپ پر ہی ہنستے رہے اور پنجابیوں کو ہنساتے رہے۔ یہ کام انھوں نے قومی یکجہتی کا درس دینے والی حکومت کی سرپرستی میں نہیں کیا اور نہ ان کے پیچھے کوک سٹوڈیو جیسا محب وطن کاروباری ادارہ تھا۔

اپنے فن کے بل بوتے پر اور اسی عوام کے ساتھ جو سو دو سو روپے کا ٹکٹ خرید کر دو گھنٹے کے لیے اپنے دکھڑے بھلانا چاہتے تھے۔ الطاف بھائی کا ولیمہ عمر شریف کے لیے دشمنوں کے درمیان ایک شام کا منظر تھا۔ پاکستان کا ہر بڑا فنکار موجود تھا اور الطاف بھائی کی نظر پڑنے سے پہلے یہ بتانا ضروری تھا کہ وہ خود اپنے پلے سے ٹکٹ لے کر بھائی کی خوشیوں میں شریک ہونے آیا ہے۔ (الطاف بھائی شاید پہلے سیاستدان تھے جن کی غائبانہ تقریب ولیمہ چوبیس ملکوں میں منائی گئی)۔ عمر شریف نے الطاف بھائی کو شادی کی مبارکباد دی، پھر شادی کے بارے میں کچھ گھسے پٹے لطیفے سنائے اور کسی اور کا ہاتھ پکڑ کھسک لیے۔ کراچی کا سب سے بڑا فنکار عمر شریف چلا گیا۔ کراچی کا دوسرا بڑا فنکار خود ایسا گھسا پٹا لطیفہ بن چکا ہے کہ اس کا غائبانہ ولیمہ کھانے والے بھی نہیں ہنستے۔

محمد حنیف

بشکریہ بی بی سی اردو

عوامی مسائل اور جماعت اسلامی کی جدوجہد

جماعت اسلامی ملک کی ایک قدیم جماعت ہے، اس جماعت کی تنظیم آزاد کشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں موجود و فعال ہے۔ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے اور عوام تک اپنا نام و کام پہنچانے میں اسے ملکہ حاصل ہے۔ اسے جہاں بین الااقوامی ایشوز اُٹھانے میں مہارت حاصل ہے وہاں یہ ملکی و عوامی مسائل جن کیلئے جدوجہد دیگرتمام جماعتوں کیلئے بےمعنی ہے، ہر وقت سرگرم رہتی ہے، راقم کے نزدیک جماعت اسلامی کو دیگر مذہبی جماعتوں پر اس لئے بھی فوقیت حاصل ہے کہ یہ جماعت دیگر مذہبی جماعتوں کی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کو کفر قرار نہیں دیتی، اگرچہ جدید تعلیم کو شجرممنوعہ قراردینے والی جماعتیں پوچھے جانے پر اس سے انکار کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر عالم یہ ہے کہ ان کے مکتب و مدرسوں میں جدید تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں، د یگر مذہبی جماعتوں کے مقابل اپنے اس امتیازی وصف کی وجہ سے جماعت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں ۔

جماعت اسلامی کا قیام 1941ء میں سید مودودیؒ کے اُن دعوتی مضامین کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا، جن کی اشاعت 1938 اور 1939 میں ان کے ماہنامے ترجمان القرآن میں ہوئی تھی۔ ان مضامین میں جماعت اسلامی کے قیام کے اغراض و مقاصد یعنی نصب العین کا اجمال ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار 1951 میں کراچی کے اجتماع میں جماعت کے لائحہ عمل کو امیر جماعت اسلامی سید مولانا مودودیؒ نے ایک تقریر کے ذریعے واضح کیا، یہ ایک پمفلٹ کی صورت میں ’مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے نام سے موجود ہے۔ اُنہوں نے اسی تقریر میں جماعت کے مقصد و نصب العین کے چاربنیادی نکات بتائے۔ تطہیر و تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت، اصلاح کی سعی (اصلاح معاشرہ)، نظام حکومت کی اصلاح۔ اس کے بعد 1956 میں جماعت اسلامی کے ایک اہل رائے طبقے کی یہ تجویز سامنے آئی کہ ہمیں اپنی قوتیں سیاسی میدان میں جھونکنے کی بجائے عام معاشرے کی اصلاح، دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کے کام میں ہمہ تن مصروف ہو جانا چاہیے۔

اس طرح جیسے جیسے معاشرے کی اصلاح ہوتی جائے گی، سیاسی حالات خود بخود تبدیل ہوتے جائیں گے اور عملی میدان میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی جائے گی۔ اس اختلاف رائے کا جائزہ لینے اور جماعت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور جماعت کی پالیسی بنانے کے لئے شوریٰ کی ایک ’’جائزہ کمیٹی‘‘ بنا دی گئی، بہرحال 17 تا 21 فروری 1957 کو ماچھی گوٹھ میں اجلاس کے دوران دو مخالف سوچ کے حامل زعما آمنے سامنے تھے، مولانا مودودی اوران کے ہم خیال اصحاب نے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر زور دیا اور ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا امین اصلاحی صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کیلئے کام پر اصرار کیا، ارکان جماعت نے بہرحال مولانا مودودی کی رائے پر صاد کیا، یوں انتخابی سیاست جماعت اسلامی کی مستقل حکمتِ عملی قرار پا گئی۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور مولانا امین اصلاحی صاحب اور ان کے ہمنوا جماعت سے علیحدہ ہو گئے جن میں بڑی تعداد واپس آگئی تاہم جماعت سے علیحدگی کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنے آپ کو مکمل طور پر علمی اور فکری سرگرمیوں تک محدود کر لیا جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے علمی اور فکری سرگرمیوں کے علاوہ عملی جدوجہد بھی جاری رکھی۔

آج ہم سے زیادہ جماعت ہی بہتر جانتی ہے کہ موجودہ دور میں معاشرے کو اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے یا اسمبلی کی اُن نشستوں کی، جو جماعت حاصل کر پاتی ہے کیونکہ ماسوائے اُن انتخابات میں جن میں بڑی جماعتوں کو بہ وجودہ انتخابات سے دور رکھا گیا ہو، یا بڑی جماعتوں نے حصہ نہ لیا ہو اس جماعت کو کبھی قابلِ رشک کامیابی نہیں ملی۔ موضوع کراچی کے مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کا کردار و جدوجہد تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہم ان سطورمیں اکثر یہ بین کرتے رہتے ہیں کہ مہنگائی کی عفریت، بے روزگاری کی سفاکی، بیماری کی بے رحمی سمیت اُن ان گنت عوامی مسائل پر وہ سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک قدم حرکت نہیں کر پاتیں جن کا براہ راست تعلق نہ صرف یہ کہ عوام سے ہے بلکہ ان کے اُن غریب سیاسی کارکنوں سے بھی ہے جن کی وجہ سے ان کا کاروبارِ سیاست رواں دواں ہے۔

جو سیاسی ومذہبی رہنما آئے روز اپنے کارکنوں بلکہ مکتب و مدرسے کے بچوں تک کو سڑکوں پر گھنٹوں کھڑا رکھتے ہیں اور ہفتہ وار بنیاد پر اپنے جلسوں، لانگ مارچوں اور دھرنوں کیلئے کارکنوں کو برسرپیکار رکھتے ہیں وہ متذکرہ مسائل جن سے ان کے یہی جان نثار بھی دیگر لوگوں کی متاثر ہیں، کے حل کیلئے کوئی دھرنا، لانگ مارچ یاجلسہ نہیں کرتے، ایسے ذات و جماعت پرور ماحول میں جماعتِ اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جوعوامی مسائل کے حل کی جدوجہد میں ممتاز ہے۔ان دنوں جماعت اسلامی حقوق کراچی مہم چلا رہی ہے، جس کے تحت مردم شماری ، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، پانی کی قلت، بجلی کی بندش کیخلاف بڑی شاہرائوں پر ریلیوں سمیت ان مسائل سے متعلق مرکزی دفاتر پر دھرنے بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت اسلامی ہی ہے جو مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہے، نظریاتی و فکری اختلاف کے باوجود میرے نزدیک صرف جماعت اسلامی مہنگائی سمیت عوامی مسائل اُٹھانے کی وجہ سے یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ ملکی عوام بالخصوص غریبوں کی حقیقی ترجمان ہے۔

اجمل خٹک کثر

بشکریہ روزنامہ جنگ

میڈیا کو کنٹرول کرنے والا متنازع قانون

برصغیر پاک و ہند میں صحافت کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے منحرفین نے اخبار شایع کرنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ کمپنی کے افسروں کے مفاد میں نہیں تھا اس لیے کلکتہ کی انتظامیہ نے وہ کوشش ناکام بنادی، تاہم بعد میں کمپنی کے ایک سابق سر پھرے ملازم جیمس آگسٹ ہکی نے اپنا اخبار شایع کر ہی لیا مگر اسے مستقل انتظامیہ سے لڑائی کا سامنا رہا اور بالآخر وہ اخبار بند ہو گیا اور ہکی کو جیل جانا پڑا۔ مقامی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں جیل بھیج دیا مگر ہکی صاحب جیل سے اخبار شایع کرتے رہے۔ پوسٹ آفس والوں نے ہکی گزٹ کی تقسیم روک دی تو ہاکروں کا انتظام کیا مگر چیف جسٹس سے معرکے کے بعد برصغیر کا پہلا اخبار بند ہو گیا۔ ہکی نے کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر پھر انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں اخبارات شایع ہونے لگے۔ یہ اخبارات کلکتہ کے علاوہ ہندوستان کے مختلف شہروں سے شایع ہوئے۔ اس وقت تک اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قانون نہ تھا، اب کمپنی کی حکومت کو تشویش ہوئی لہٰذا اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے 1822 میں پہلی مرتبہ پرمٹ کا قانون نافذ کر دیا گیا۔

اس قانون کے تحت اخبار کے اجراء کے لیے پرمٹ لازمی قرار پایا اور اخبار کو شایع ہونے سے پہلے سنسر کرنا ایڈیٹر کی قانونی ذمے داری قرار پائی۔ راجہ رام موہن رائے پہلے سوشل ریفارمر تھے، وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز حکومت سے متاثر تھے اور کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تھے، وہ کمپنی کے افسروں کے اس بیانیے پر یقین رکھتے تھے کہ انگریز ہندوستان کے عوام کی بہتری کے لیے آئے ہیں اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں میں برطانیہ کے شہریوں اور ہندوستان کے شہریوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے لیے اخبار کی اشاعت کے لیے پرمٹ اور سنسر کے بعد اخبار شایع کرنے کی شرط ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے برابر ہے کیونکہ برطانیہ میں اخبار کے اجراء کے لیے کسی قسم کے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اخبارات کو سنسر کرتی ہے۔ راجہ صاحب نے پرمٹ کے قانون کے خلاف حکام سے اپیل کی اور مقامی عدالتوں سے انصاف طلب کیا، جب ہندوستان میں انھیں انصاف نہ ملا تو کسی دانا شخص نے مشورہ دیا کہ وہ لندن جاکر پریویو کونسل میں اپیل دائر کریں۔

اس وقت بحری جہاز سے برطانیہ جانے میں 9 ماہ کا عرصہ لگ جاتا تھا اور بحری سفر میں خاصی مشکلات بھی پیش آتی تھیں مگر راجہ صاحب کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ بحری جہاز کے ذریعے لندن گئے اور کونسل میں مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان کی عرض داشت اس نکتہ پر مسترد کر دی گئی کہ برطانیہ میں رائج قوانین کا ہندوستان میں اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ ہندوستان کے شہری برطانیہ کے غلام ہیں۔ راجہ صاحب برطانوی عدالتوں کے فیصلوں سے اتنے مایوس ہوئے کہ انھوں نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ پرمٹ لینے اور اخبار کو افسروں سے سنسر کرا کے شایع کرنے سے بہتر ہے کہ اخبار ہی بند کر دیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے قیام کے بعد سے میڈیا کے بحران کو بڑھانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور واپس لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اس آرڈیننس کے تحت اس میڈیا اتھارٹی کے دائرہ کار میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی شامل ہوں گے۔

پریس کونسل پیمرا سمیت پہلے سے قائم تمام ادارے ختم ہو جائیں گے، اس میڈیا اتھارٹی کی ہیئت کچھ یوں ہو گی کہ اس کے چیئرمین اور ممبران کا تقرر وزیر اعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کریں گے۔ اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ان اراکین کا تعلق سول سوسائٹی سے ہو گا مگر سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان اراکین کو نامزد نہیں کریں گی بلکہ وزارت اطلاعات ان اراکین کو تلاش کرے گی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری کی تیار کردہ یہ فہرست وزیر اعظم کی منظوری سے صدر کو پیش کی جائے گی، جن کی منظوری سے چیئرمین اور اراکین کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔ اس قانون کے تحت اتھارٹی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عام طور پر خود مختار ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر میڈیا اتھارٹی کی ہیئت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی طور پر یہ اتھارٹی حکومت کی نگرانی میں فرائض انجام دے گی۔ اس اتھارٹی کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ فلم ڈائریکٹوریٹ کام کریں گے۔

الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی صوبائی اور قومی سطح پر الگ الگ لائسنس لینے ہوں گے۔ اس قانون کے تحت ہر میڈیا ہاؤس کو اپنے اخبار، ریڈیو ، ٹیلی وژن چینل اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے لائسنس کی ہر سال تجدید کرانا ہو گی۔ ڈیجیٹل میڈیا کو بھی انٹرٹینمٹ، اسپورٹس نیوز، ٹورازم اور اس طرح کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک فرد صرف ایک شعبے کے لیے یوٹیوب چینل کا لائسنس حاصل کر سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس فیس ہو گی اور کہیں ایسا مواد چلانے کی اجازت نہیں ہو گی جس میں صدر پاکستان، مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید ہو رہی ہو۔ قانون کے تحت شکایات کونسل قائم کی جائیں گی جس کے دفاتر اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایڈوائزری کونسل کا قیام بھی عمل میں آئے گا جس کے 8 اراکین ہوں گے جن میں سے 4 ارکان سرکاری افسر ہوں گے۔

اس ایڈوائزری کونسل کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے اور اس کونسل کو شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر کسی اخبار، ٹی وی چینل کے علاوہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہو گا۔ کونسل یہ کارروائی ایسے مواد کے شایع یا نشر کرنے پر کرے گی جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو اور جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا جو فحاشی پھیلائے گا تو ایسی صورتوں میں اپیلٹ کورٹ کے طور پر صدر ایک ٹریبونل قائم کریں گے۔ یہ ٹریبونل میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گا اور ویج بورڈ پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا، اس قانون کے تحت کوئی متاثرہ شخص ہائی کورٹ سے داد رسی حاصل نہیں کر سکے گا، صرف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا اور اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر میڈیا پرسنز کو 3 سے 5 سال تک کی سزا دی جاسکے گی۔

ماضی میں جنرل ایوب خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قوانین اور برطانوی ہند کے نافذ کردہ قوانین کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1963 میں ضم کر دیا تھا۔ آزادئ صحافت پر تحقیق کرنے والے محققین نے اس کو سیاہ قانون قرار دیا تھا۔ اس قانون کے خلاف اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس، ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای اور صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے مشترکہ جدوجہد کی تھی، یہ صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی پہلی مشترکہ جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں پورے ملک میں اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی تھی، جنرل ایوب خان کی حکومت کو پہلی دفعہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑی تھی اور حکومت نے تمام تنظیموں کے نمایندوں سے مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں ایڈیٹر کی آزادی ختم کرنے والی بعض شقیں ختم کرنی پڑی تھیں مگر صحافتی تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں سن 1988 میں قائم مقام صدر غلام اسحاق خان کے دور میں یہ سیاہ قانون ختم ہوا تھا۔ بعض سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے میڈیا انڈسٹری میں سرمایہ کاری رک جائے گی اور میڈیا ہاؤس آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کے مطابق بنیادی فریضہ پورا نہیں کر سکیں گے، جس کا مجموعی نقصان جمہوری نظام کو ہو گا۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

گیلانی مرا نہیں زندہ ہو گیا

’گیلانی کی زندگی موت سے کئی گنا بھاری، ہندوستان سے کئی گنا وسیع اور پاکستان سے کئی گنا شاطر ہے۔ ان کی زندگی بھارت کے لیے اتنی اذیت نہیں تھی جتنی ان کی موت جو اس پر صدیوں تک عذاب بن کر رہے گی۔ گیلانی نے زندگی بھر کی سختیاں، جیل اور انٹروگیشن اسی امید میں برداشت کیں کہ انہیں عوام شیخ عبداللہ نہیں بلکہ عمر مختار یا ارطغرل کی طرح ایک پرعزم، پروقار اور ایک موقف پر ڈٹے رہنے والا ہیرو تصور کریں۔ ایسا ہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ وہ زندگی میں صرف ہیرو تھے لیکن موت کے بعد سپر ہیرو۔‘ یہ خیالات ہیں 15 برس کے بشارت کے جو ایک پرائیویٹ میشنری سکول میں دسویں کلاس میں زیر تعلیم ہیں۔ والد مین سٹریم پارٹی نیشنل کانفرنس کے سرگرم کارکن ہیں اور ماں سماجی ورکر جو بچے کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے اپنے خاندان اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر دور ایک ہجرے میں رہائش پر مجبور ہو گیں۔

سال 1947 میں بھارت پاکستان بننے کے بعد بشارت کشمیر کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس ایک بڑے طبقے کی ترجمانی کرتے ہیں جن کے بارے میں بھارت کی ڈیفنس کمانڈ نے کہا تھا کہ انہیں ڈی ریڈکلازیشن کرنے کے لیے حراستی مراکز میں رکھنے کی ضرورت ہے حالانکہ گیلانی سمیت بیشتر آزادی پسند رہنماؤں کے خلاف عوام کو بدظن کرنے کی ایک بڑی مہم بھی چلائی گئی ہے۔ گیلانی کے لیے ہر کشمیری کے دل میں کہیں ایسا کونہ ضرور موجود ہے جہاں وہ عزت کا مقام رکھتے ہیں۔ سید علی گیلانی سن 1929 کے ستمبر میں شمالی کشمیر کے ایک گاؤں بانڈی پورہ کے نزدیک پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی اور بعد میں لاہور کے اورینٹل کالج میں سیکنڈری تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ انہوں نے تین بار ریاستی اسمبلی کے لیے انتخابات لڑا۔ انیس سو بہتر، انیس سو ستتر اور انیس سو ستاسی میں ممبر اسمبلی رہے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کشمیر کے سرکردہ کارکنوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بعد میں تحریک حریت کی تنظیم بنائی اور علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد کے جماعتی حریت کانفرنس کے کئی برس تک سربراہ بھی رہ چکے ہیں جس میں بعد میں اعتدال گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض لیڈروں سے اختلاف کی وجہ سے الگ ہو گئے۔ گیلانی نے کشمیر کی صورت حال، اپنی اسیری اور بھارت کی کشمیر پالیسی پر درجنوں تصنیفات لکھی ہیں جن میں روداد قفس، نواے حریت، بھارت کے استعماری حربے، مقتل سے واپسی اور ولر کنارے کافی مقبول عام بن گئیں ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی کے بارے میں ان کی پاکستان نواز سیاست پر بعض اہم سوال ہر دور میں اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اگر وہ 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرنے کے خواہش مند تھے تو انہوں نے ہندوستان کے آئین کے تحت ریاستی انتخابات میں حصہ کیوں لیا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ پکے پاکستان نواز تھے تو 1979 میں جب مکمل آزادی کی خواہش مند تنظیم جے کے ایل ایف نے عسکری تحریک شروع کی تو انہوں نے اس تحریک کی حمایت کر کے یہ تاثر کیوں دیا کہ وہ الحاق پاکستان نہیں بلکہ مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔ میں نے چند برس پہلے علی گیلانی سے کئی بار یہ سوالات پوچھے ہیں جن کی ریکارڈنگ شاید بی بی سی کے آرکایوز میں موجود بھی ہوں۔ گیلانی صاحب نے پہلے سوال کے جواب میں ہمیشہ کہا کہ ’انتخابات میں شامل ہونا ہماری مجبوری تھی کیونکہ مقامی سطح پر عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہوتی تھیں، عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانے کا صرف یہی راستہ تھا۔ ہمارا مقصد یہ بھی تھا کہ جمہوری طور پر اسمبلی کے فلور پر کشمیر تنازعہ اٹھائیں جیسے سکاٹ لینڈ والے اٹھاتے ہیں۔

قومی دھارے میں آ کر ہمیں ہندوستان کی نیت کا بھرپور انداز بھی ہو گیا کہ وہ اصل میں جموں و کشمیر کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا بلکہ یہاں کی زمین پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ میں راے شماری کے حق میں 1960 میں بھی جیل چلا گیا تھا۔ ہم نے ہندوستان کو کئی بار موقعہ دے دیا کہ جموری طور پر بھی اس تنازعے کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے مگر اس کو نہ ہمارا جمہوری طریقہ پسند آیا اور نہ ہمارا آزادی پسند بننا۔ ہار تو اس بڑے ملک کی ہے کہ جس نے ہماری قوم پر شب خون مار کر ہماری آنے والی نسلوں کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے مگر ہماری جنگ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک نہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں، یہ ایک فرد کی جنگ نہیں پوری قوم کی ہے اور میں اس قوم کا ایک ادنی فرد ہوں۔‘ سید علی گیلانی نے دوسرے سوال کا جواب سیاست دان کی طرح ہمیشہ گول مول میں دیا ہے۔

’جے کے ایل ایف ہو یا حزب المجاہدین یا اور کوئی اور تنظیم، ہم سب کا ایک مقصد ہے کہ ہندوستان کی فوج کو اپنی رہاست سے باہر نکالنا اور آزادی یا الحاق پاکستان پر ہم بعد میں غور کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ہمارا مذہبی اور ثقافتی رشتہ ہے اور اس رشتے کو کسی بھی صورت میں ہمیں قائم و دائم رکھنا ہے۔ راستے مختلف ہو سکتے ہیں مگر ہم سب کی ایک منزل ہے۔‘ گیلانی کی پاکستان پسندی اس وقت بہت مہنگی بھی پڑی جب سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے چار نکاتی فارمولا پیش کر کے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ بعض ذرائع کے مطابق مشرف نے گیلانی سے سارے تعلقات منقطع کرنے کی ہدایات بھی دی تھیں جس کے فورا بعد گیلانی نے ان کے خلاف سخت بیانات جاری کرنا شروع کیا۔ اس کا فائدہ بھارت نے خوب اٹھایا تھا۔ گیلانی کا پاسپورٹ بھارت مخالف سرگرمیوں پر 1981 سے ضبط کیا گیا ہے جس کے باعث وہ علاج کرنے باہر نہیں جاسکے حالانکہ انہوں نے کئی بار حکومت سے اس کی اجازت بھی مانگی تھی۔

گیلانی پر غداری کے علاوہ کئی مقدمات چل رہے ہیں جن میں وہ معاملہ بھی شامل ہے جو حال ہی میں اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ نے درج کیا جس میں انہیں غیرملکی کرنسی رکھنے پر جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا تھا۔ گیلانی صاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا جبکہ گذشتہ تقریباً دس برسوں سے اپنے مکان میں نظر بند رہے ہیں۔ دوران اسیری انہیں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے لیکن قرآن کی تلاوت یا نماز کو کبھی نہیں چھوڑا۔ سن نوے کے بعد وہ حکومت بھارت اور ان کی پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے جس کی وجہ سے انہیں آزادی پسند رہنماؤں میں سب سے زیادہ عزت حاصل ہے۔ ہڑتال کی بار بار کی کال دینے پر بعض کشمیری انہیں ہڑتالی بب (بابا) بھی پکارتے تھے اور بیشتر کشمیری ان کے خلاف کچھ بولنے پر جنونی ہوتے ہیں۔ گیلانی صاحب سے سیاسی اختلافات کتنے رہے ہوں مگر جب وہ کسی پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں تو کبھی اس سے محروم نہیں کرتے۔

میرے لیے گیلانی صاحب کی شفقت ایک بڑا سرمایہ ہے۔ انہوں نے کئی محفلوں میں میری کتاب دہشت زادی پر تبصرے کیے اور کتاب تلاش کرنے کے لیے خود ایک کتابی میلے میں چلے گئے تھے گو کہ انہیں لفظ دہشت زادی پر اعتراض تھا۔ میں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے اکثر سنا ہے کہ ’گیلانی کے خلاف شیخ عبداللہ سے زیادہ پروپیگینڈا کیا گیا مگر گیلانی چونکہ صوم وصلوات اوراپنے موقف پر قائم رہے ہیں لہذا ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ ناصرف اب تک دشمن کو مات دیتے گئے بلکہ قوم کے ہر دلعزیز رہنما بھی بن گئے جس کی انہوں نے تمنا کی تھی۔ بقول ایک تجزیہ نگار ’جس طرح ان کی زندگی گذشتہ چار دہائیوں سے ہندوستان جیسے بڑے ملک پر حاوی رہی اس سے زیادہ ان کی موت اگلے دسیوں دہائیوں تک پورے بر صغیر پر حاوی رہے گی۔‘

نعیمہ احمد مہجور

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

افغانستان میں امریکی نظام ناکام کیوں ہوا؟

پندرہ اگست 2021 کو طالبان کی کابل میں واپسی یہ سمجھنے کے لیے ایک قابل ذکر مثال ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور اپنے عالمی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیشہ کامیاب کیوں نہیں ہوتی؟ طاقت کی حدود کیا ہیں؟ کس چیز نے افغان طالبان کو ایک عسکری تحریک کے طور پر بیس سال تک زندہ رکھا؟ جیسا کہ امریکہ کو طاقت کی محدودات کا سامنا کرنا پڑا، کیا طالبان کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد اسی طرح کا چیلنج درپیش ہے؟ کیا افغانستان میں حکمرانی کے حوالے سے طالبان کی طاقت کی بھی کچھ حدود ہیں؟ افغانستان کے تازہ واقعات سے ایک بار پھر بے لگام عسکری طاقت کی محدودات کا مظاہرہ ہوا ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور سب سے بڑی معیشت ہے۔ یہ کسی بھی طاقتور ملک کو چیلنج کر سکتا ہے یا عسکری لحاظ سے کمزور اور داخلی طور پر منقسم ملک میں حکومت کا نظام ختم کر سکتا ہے یا حکومت کو غیرمستحکم کر سکتا ہے‘ لیکن یہ سب کچھ ایسا مستحکم سیاسی و حکومتی نظام وضع کرنے میں امریکی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا جو امریکی مفاد سے جڑا ہوا ہو۔

امریکہ نے افغانستان پر اکتوبر 2001 اور عراق پر مارچ 2003 میں حملے کئے اور افغان طالبان اور صدام حسین‘ کی حکومتوں کو بے دخل کر دیا‘ تاہم وہ دونوں ممالک میں سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا۔ اسے دونوں ملکوں سے مشکل حالات میں اپنی فوج واپس بلانا پڑی۔ تاریخ سے کافی مثالیں مل سکتی ہیں کہ عسکری لحاظ سے طاقتور ریاستیں متنازع صورتحال کے کوئی تسلی بخش سیاسی اور عسکری حل یا نتائج حاصل کرنے میں ناکامی رہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے اور پچھلی دو دہائیوں کے دوران طاقت کی عالمی سیاست میں تبدیلیوں کے بعد یہ مزید مشکل ہو چکا ہے۔ ایک روایتی عسکری طاقت دوسری روایتی عسکری طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال سے مختصر مدت کے لئے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے‘ تاہم ہدف شدہ ریاست اور معاشرے میں مکمل تبدیلی کے حوالے سے عسکری سطح پر کامیابیوں کو قائم رکھنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ روایتی عسکری طاقت پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی یک رخی حکمت عملی عسکری اور سیاسی ایجنڈوں کے حصول کا قابلِ تجویز اصول نہیں ہے۔ اگر مقصد دشمن کی تباہی اور لوٹ مار سے آگے بڑھنا ہو تو عسکری حکمت عملی کو طاقت کے کئی غیر عسکری ذرائع کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

طاقت کے عسکری اور غیر عسکری ذرائع کا جوڑ اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب مسلح تصادم ایک ایسے مخالف کے ساتھ ہو جو غیر روایتی ہو، جزوی طور پر پوشیدہ ہو، اور ایک مخصوص جگہ پرموجود نہ ہو۔ ایسے مخالف میں بین الاقوامی عسکری تحریکیں شامل ہیں‘ جن کے اراکین انتہائی متحرک اور اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر غیر معینہ مدت تک لڑنے کیلئے پُرعزم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان اسی زمرے میں آتے ہیں جو امریکی فوجی حملے سے بچنے میں کامیاب رہے۔ ایسے غیر روایتی ڈھانچے انتہائی مشکل ماحول میں زندہ رہنے کا انتظام کر سکتے ہیں اور طویل عرصہ بعد بھی متحرک ہو سکتے ہیں۔ یہ تحریکیں مضبوط معاشرتی جڑیں قائم کر لیتی ہیں‘ علاوہ ازیں ان کو نظریاتی ہم آہنگی بھی حاصل ہوتی ہے جو انہیں زندہ رہنے میں مدد دیتی ہے۔ امریکہ نے نومبر 2001 میں کابل سے طالبان کی پہلی حکومت کا خاتمہ کر کے دسمبر میں حامد کرزئی کو عبوری صدر مقرر کیا تھا۔  اشرف غنی ستمبر 2014 میں صدرِ افغانستان بنے۔ دونوں حکومتوں نے امریکہ کی حفاظتی چھتری تلے کام کیا اور جمہوریت، انسانی حقوق، جدید تعلیم اور خواتین کے بہتر کردار کے نام پر وفاداروں کا ایک نیٹ ورک بنا لیا۔

اس نیٹ ورک میں بہت سے وہ افغان بھی شامل ہو گئے جو بیرون ملک سے افغانستان واپس آئے تھے تاکہ نئی کابل حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں یا امریکی فوجیوں کا ساتھ دیں۔ ایک پوری نوجوان نسل نے دونوں حکومتوں کے تحت جدید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہوگئے جو ہمیشہ اقتدار میں رہنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ سیاسی موقع پرستوں اور نئی اشرافیہ کے اس اتحاد کو نئے افغانستان کے طور پر پیش کیا گیا‘ جو مغرب کے ساتھ جدید جمہوری اقدار کا اشتراک کر رہا تھا۔ امریکہ نے افغان نیشنل آرمی اور پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی بھی بنائی تاکہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔ معاشرے کا یہ جدید اور جمہوری شعبہ صرف کابل اور دو تین شہروں تک محدود تھا اور افغان معاشرے میں اس کی جڑیں موجود نہیں تھیں‘ جس میں وہ قصبے اور دیہات بھی شامل تھے جو اس تبدیلی سے مستفید نہیں ہوئے۔ امریکہ نے افغانستان کی معاشی تعمیرِ نو اور انسانی ترقی پر بہت کم رقم خرچ کی اور 2003 میں صدام حسین کے عراق کو فتح کرنے پر اپنی توجہ مبذول کر لی۔ ہندوستان کو سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے آگے لایا گیا۔

افغانستان کے نئے نظام کی نہ تو لوگوں میں جڑیں تھیں اور نہ ہی اس نے عام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جب افغان طالبان نے مختلف شہروں پر عسکری دباؤ ڈالا تو مقامی انتظامیہ اور معاشرے نے عمومی طور پر ان کے ساتھ تعاون کیا یا کچھ مزاحمت کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو گئے۔ امریکہ اور کابل حکومت کے بنائے ہوئے جدید سیکٹر منہدم ہو گئے۔  امریکہ کی بنائی ہوئی افغان نیشنل آرمی اور پولیس کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ افغان نیشنل آرمی اور پولیس کی تشکیل کے لیے زیادہ تر کام امریکی ٹھیکیداروں نے کیا۔ وہ ایک پیشہ ور اور پرعزم فوج تیارکرنے کے بجائے پیسہ کمانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ افغان فوج میں خرابی اور بہت سے ”گھوسٹ سپاہیوں‘‘ کے وجود کی رپورٹیں آتی رہیں۔ سینئر کمانڈ اور نچلے درجے بالخصوص فوجیوں کے درمیان خراب تعلق تھا۔ ان میں پیشہ ورانہ مہارت اور طالبان سے لڑنے کے عزم کا فقدان تھا۔

افغانستان‘ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت اور دیگر مغربی لبرل اقدار کو اوپر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ضروری ہے کہ پہلے معاشرے کی روایتی اقدار اور سماجی نظام کو سمجھا جائے اور پھر مقبول موبلائزیشن کے ذریعے معاشرے میں تبدیلیوں کے لیے کام کیا جائے۔ تبدیلی کے اس عمل سے عام لوگوں کو فائدہ ہونا چاہیے تاکہ وہ نئے نظامِ حکومت اور سماجی تبدیلی میں اپنی دلچسپی پیدا کر سکیں۔ اگر تبدیلی کا عمل جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کرتا ہے تو اس تبدیلی کی کوئی جڑیں نہیں ہوتیں اور یہ ناپائیدار رہتی ہے۔ افغانستان میں امریکی ناکامی افغانوں کے اس سیاسی و ریاستی نظام کو مستحکم کرنے کا اہل نہ ہو سکنے کی وجہ سے ہوئی جو انہوں نے پہلی طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وضع کیا تھا۔ نیا نظام عوام میں جڑیں نہ پکڑ سکا۔ امریکی حفاظتی ڈھال ہٹنے کے بعد اس کا منہدم ہونا طے تھا۔

نئی طالبان قیادت کو ایک چیلنج درپیش ہے جیساکہ امریکیوں کو درپیش تھا۔ چیلنج یہ ہے کہ عوام کا اعتماد اور سپورٹ حاصل کر کے نظام کو مستحکم کیا جائے۔ طالبان امریکہ اور اس کے مقامی اتحادیوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو چکے ہیں‘ تاہم انہیں ایک پرامن داخلی سیاسی نظم ترتیب دینے کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے جو اندرونی تناظر میں نسلی اور مذہبی تنوع کو ایڈجسٹ کرتا ہو اور پہلی طالبان حکومت کے ساتھ ان کے مشکل تجربے کی بنا پر پیدا ہونے والی عالمی برادری کے خدشات کو دور کرتا ہو۔ طالبان کو ایک بنیاد پرست مذہبی تحریک‘ جو دیگر بین الاقوامی بنیاد پرست تحریکوں کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہی ہو‘ کے بجائے ایک ذمہ دار ریاست کی طرح برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان کے ابتدائی پالیسی بیانات تسلی بخش ہیں، لیکن انہیں ان بیانات کو اپنے نئے گورننس انتظامات کے ذریعے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی

بشکریہ دنیا نیوز

محمد علی سد پارہ کے جسد خاکی کی شناخت کیسے ہوئی؟

الپائن کلب پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے تصدیق کی ہے کہ کے ٹو پر محمد علی سدپارہ سمیت لاپتہ تین کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تینوں لاشیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے بوٹل نیک کے قریب سے ملی ہیں جن کو نیچے لانا مشکل کام ہے جس کے لیے آرمی ایوی ایشن مدد کر رہی ہے۔ کرار حیدری کے مطابق کوہ پیما جان سنوری کی میت کو ان کی اہلیہ لینا کی درخواست پر آئس لینڈ بھجوایا جائے گا جبکہ دوسرے کوہ پیما جان پابلو کی میت ان کی والدہ اور بہن کے فیصلے کے مطابق ان کے ملک چلی لے جائی جائے گی۔ اس سے قبل گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کے کیمپ فور کے قریب سے لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

 علی سد پارہ کی جسد خاکی کی شناخت لباس سے ہوئی
ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خن کو بتایا کہ ’کے ٹو مہم جوئی کی ایک ٹیم کو بوٹل نیک اور بیس کیمپ 4 کے درمیان تین لاشیں ملی ہیں، ان میں سے ایک جسد خاکی کا کوہ پیمائی سوٹ علی سد پارہ کے سوٹ سے میچ کر گیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ساجد سدپارہ (محمد علی سدپارہ کے بیٹے) نے مہم جوئی پر جانے والی ٹیم کو علی سدپارہ کی مہم جوئی پر جاتے ہوئے تصاویر دی تھیں، اور ابتدائی طور پر ان کے لباس کی بنیاد پر ان کی تصدیق ہوئی ہے۔‘ ترجمان کے مطابق ‘علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کیمپ تھری سے کیمپ فور کی طرف روانہ ہوئے ہیں اور وہاں پہنچنے پر وہ شناخت کی تصدیق کر پائیں گے تاہم مہم جوئی ٹیم کے لائیزون افسر نے علی سدپارہ کے لباس کی بنیاد پر تصدیق کر دی ہے۔‘

کے ٹو کے کیمپ فور کے قریب سے لاشیں ملنے کی اطلاعات سوشل ٹائم لائنز پر شیئر کی گئیں تو الپائن ایڈونچرز گائیڈز نامی ٹوئٹر ہینڈل کے ساتھ دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ ملنے والی لاشوں میں ایک لاپتہ ہو جانے والے محمد علی سدپارہ کی ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے کئی روز تک آپریشن جاری رہا تھا تاہم لاشیں نہ ملنے کے بعد ان کے صاحبزادے نے والد کے انتقال کا اعلان کر دیا تھا۔ محمد علی سدپارہ کے انتقال کے اعلان کو کئی مارہ گزرنے کے بعد چند روز قبل ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے والد کی موت کی وجوہات جاننے اور والد کے جسد خاکی کی تلاش کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

جس مقام سے لاشیں ملی ہیں اسی کے متعلق کہا گیا تھا کہ کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران محمد علی سدپارہ اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ یہاں لاپتہ ہوئے ہیں۔علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے والد کے لاپتہ ہونے کے بعد دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ساجد علی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں علی سدپارہ اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما رواں برس پانچ فروری کو کے ٹو سر کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔

بشکریہ اردو نیوز

عارف نظامی کا خلا

عید کی نماز پڑھ کر معانقوں اور مصافحوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے گھر پہنچے، ناشتے کے بعد عزیزان علی اور عثمان کے ساتھ قبرستان کا رخ کیا کہ عمر شامی بیرون ملک ہیں۔ پہلی ملاقات والدہ محترمہ سے کی، جو نیو گارڈن ٹائون کے قبرستان میں محوِ آرام ہیں۔ اس سے متصل ماڈل ٹائون کا ایک چھوٹا سا قبرستان ہے، جس میں میری بھانجی سارہ‘ جو ایک ہونہار ماہر نفسیات تھیں اور بہت آگے بڑھنے کے ارادے رکھتی تھیں، اپنے جواں خوابوں سے لبریز دفن ہیں۔ یہیں محترم ضیا شاہد اور ان کے ہونہار بیٹے عدنان شاہد بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ دو، تین کلومیٹر کے فاصلے پر فیصل ٹائون کا قبرستان ہے، جہاں میری سب سے بڑی بہن وسیم اختر اور ان کے شوہر محمد اختر عادل لمبی تانے ہوئے ہیں۔ وہاں سے کچھ ہی دور ماڈل ٹائون جی بلاک کا قبرستان ہے جہاں جواں سال بھتیجے عامر ضیا نے پڑائو ڈال رکھا ہے۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر فیض احمد فیض مقیم ہیں۔

یہیں استادِ گرامی پروفیسر اصغر علی، رجحان ساز دانشور اشفاق احمد خان، ان کی بے مثال اہلیہ بانو قدسیہ، بیدار مغز استاد پروفیسر کرامت حسین جعفری اور بہت سے ایسے لوگ سو رہے ہیں، پاکستان جن کے دم سے مہکتا تھا، انہیں دیکھ کر اور سن کر زندہ رہنے کی امنگ پیدا ہو جاتی تھی۔ گارڈن ٹائون کے علاوہ ہر قبرستان میں پانی کھڑا تھا، آگے بڑھنا مشکل تھا، متعلقہ سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ‘ دونوں کے نگران راستے خشک نہیں رکھ پائے تھے۔ سو دروازوں ہی پر کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی، گارڈن ٹائون کا قبرستان البتہ حسن انتظام کا نمونہ تھا۔ پانی کا ایک قطرہ تک موجود نہیں تھا، راستے حسبِ معمول کشادہ اور خشک تھے، قدموں کی چاپ کے منتظر۔ واپس گھر پہنچے تو دِل کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بوجھل تھیں۔ قربانی کی ذمہ داری آب پاشوں کی ہائوسنگ سوسائٹی کے منتخب صدر اور اپنے اولوالعزم بھانجے شہزاد شامی کو سونپی جا چکی تھی، سو اطمینان سے بستر پر دراز ہو گئے۔

کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ طاہرہ بیگم صاحبہ نے جھنجوڑا، ٹی وی پر خبر آرہی ہے عارف نظامی چل بسے ہیں۔ یہ سنتے ہی اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اٹھا نہیں گیا۔ دِل بند ہوتا محسوس ہوا اور آنکھیں کھل کر بند اور بند ہو کر کھلنے لگیں، یااللہ، یہ کیا ہوا؟ عید کے روز انہوں نے اپنی جان کیسے قربان کر دی، اوسان بحال ہوتے دیر لگی، بیمار تو وہ تھے، لیکن اس طرح رخصت ہو جائیں گے، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ان کا ایک آپریشن ہوا تھا، وہ صحت یاب ہو رہے تھے لیکن آواز پست اور لہجہ سست نظر آتا تھا۔ ٹی وی پر اپنے پروگرام میں بھی ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے، لیکن ذہانت اور نکتہ سنجی برقرار تھی۔ آپریشن کی تفصیل معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ مشکل مراحل بخیروخوبی گزر گئے ہیں۔ چند ہی روز پہلے مشاہد حسین سید لاہور آئے تو احمد بلال محبوب صاحب نے انہیں اپنے ہاں ناشتے پر مدعو کیا۔ عارف نظامی صاحب کو بھی دعوت دی جو انہوں نے بصد خوشی قبول کر لی لیکن عین وقت پر معذرت موصول ہو گئی۔ طبیعت کی خرابی کی اطلاع تشویش کا باعث تو تھی، لیکن اسے غیرمعمولی نہ سمجھا گیا۔ دِل کے عارضے نے انہیں ہسپتال داخلے پرمجبور کیا، اور چند ہی روز بعد سانحہ پیش آگیا۔

عارف نظامی نے اِس دُنیا سے منہ موڑ لیا، اپنے گرامیٔ قدر والد حمید نظامی مرحوم کے پاس جا بسے۔ عارف نظامی بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے، صحافت انہوں نے وراثت میں پائی تھی، لیکن اس میں نام اور مقام اپنی محنت اورکوشش سے بنایا۔ والد کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تیرہ، چودہ برس کی ہو گی، وہ اپنے والد کو اخبار پڑھتے، لوگوں سے ملتے، اور کام کرتے دیکھتے تو انہی جیسا بننے کی خواہش دِل میں پیدا ہو ہو جاتی۔ والدہ محمودہ بیگم بھی پڑھی لکھی تھیں، علی گڑھ سے گریجویشن کی تھی، تحریر و تقریر پر ان کو عبور تھا۔ حمید نظامی کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی مجید نظامی نے ادارہ نوائے وقت کا انتظام سنبھالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عارف نظامی نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا، اور نوائے وقت سے وابستہ ہو گئے۔ پرنٹنگ پریس میں کام کیا، رپورٹر کے طور پر فرائض ادا کیے، اور پھر ایگزیکٹو ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اِس دوران ”نوائے وقت‘‘ نے کئی ادوار دیکھے۔

مجید نظامی مرحوم نے اپنا راستہ الگ کر کے روزنامہ ”ندائے ملت‘‘ کا اجرا کر لیا، نوائے وقت بیگم محمودہ نظامی کی براہِ راست نگرانی میں آگیا۔ چند برس بعد مجید نظامی نے یہ ذمہ داری دوبارہ سنبھال لی۔ عارف نظامی ان کے نائب (اور ولی عہد) کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ چچا اور بھتیجے کے خیالات اور احباب الگ الگ تھے۔ دونوں کو حمید نظامی مرحوم کے نسبی تعلق اور ادارے کے ساتھ کمٹمنٹ نے باندھ رکھا تھا۔ سقوط ڈھاکہ نے نوجوان عارف کے دِل پر ایسا چرکا لگایا تھا کہ آمریت ان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، وہ بھٹوکے مداح تھے، ان کے ساتھ ہر غیرملکی دورے میں شریک رہتے، مجید نظامی بھٹو صاحب سے نظریاتی فاصلہ رکھتے تھے لیکن نبھانے کا ہنر جانتے تھے۔ برسوں عارف نظامی کو ”نوائے وقت‘‘ گروپ کا مستقبل سمجھا اور سمجھایا جاتا رہا۔ مجید نظامی ان کی اسی طرح پرورش کرتے رہے۔

وہ انجمن مدیران پاکستان کے صدر منتخب ہوئے، انگریزی روزنامہ ”نیشن‘‘ کا اجرا کیا۔ چچا کی طرح بھتیجے کا قد بھی بڑا ہوتا گیا۔ اُس کے لہجے میں بھی وہ کاٹ آتی چلی گئی جو نظامی خاندان کا طرۂ امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ اہلِ اقتدارکو ٹوکنا، ان کے سامنے اپنی رائے کا بے دھڑک اظہار کرنا، پارلیمانی جمہوریت پر زور دینا سیاسی عمل کو پاکستان کیلئے آکسیجن سمجھنا، چچا اور بھتیجے دونوں کا تعارف یہی تھا۔ عارف دائیں بازو کے ساتھ بندھے ہوئے نہیں تھے، بایاں بازو بھی انہیں اپنا لگتا تھا، ان کے والد ہی ان کے آئیڈیل تھے۔ چچا کو ایک زمینی حقیقت کے طورپر انہوں نے قبول کیا اور آداب بجا لاتے رہے لیکن اپنا الگ تشخص بھی برقرار رکھا۔ خبران کی تلاش میں رہتی، بینظیر بھٹو کی اسمبلی تحلیل ہونے کی خبر انہوں نے دی، اور گویا ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ ریحام خان کی عمران سے علیحدگی کی خبر بھی انہی نے بریک کی تھی، ”وقت نیوز‘‘ کی بنیاد انہوں نے رکھی، لیکن اس کے ساتھ تعلق زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔ سو، ”وقت نیوز‘‘ وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، اس نے منہ موڑ لیا۔

کم و بیش پندرہ سال پہلے چچا بھتیجے کے اختلافات بے قابو ہو گئے۔ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ نوائے وقت گروپ عارف نظامی سے محروم ہو گیا۔ ایک قیامت تھی کہ جو برپا ہو گئی۔ عارف نے اپنا انگریزی روزنامہ ”پاکستان ٹوڈے‘‘ شروع کیا، روزنامہ ”جنگ‘‘ میں کالم لکھنے لگے، روزنامہ ”دنیا‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ 92 نیوز نے ان کا پروگرام شروع کیا تو کالم بھی وہیں منتقل ہو گیا۔ نئے ادارے کو خون کی ضرورت تھی، جو بے دھڑک فراہم کیا جارہا تھا۔ جدوجہد جاری تھی کہ دِل ہانپنے لگا۔ حمید نظامی مرحوم بھی دِل ہی کے عارضے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ مجید نظامی کے تین بائی پاس ہوئے، دِل ہی کا روگ عارف نظامی کی قربانی کا باعث بن گیا۔ عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پر قادر تھے۔ باخبر تھے، اور باعلم تھے۔ الفاظ کا چنائو سوچ کر کرتے لیکن لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی سی کہہ بھی گزرتے۔ ان کی رخصتی سے ذاتی طورپر تو نقصان ہوا ہی ہے کہ ان کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا، لیکن قومی صحافت کو بھی بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ آزادی کا استعمال کرنے والی صحافت میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے، جو آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا کہ اب اس خلا کو پُر کرنے کی ضرورت کا احساس ہی کم ہوتا جا رہا ہے؎

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساس زیاں جاتا رہا

مجیب الرحمن شامی

بشکریہ دنیا نیوز

ورلڈ بینک، ایف بی آر اور پاکستانی معیشت

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو چلانے کے قرضوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت معیشت کی کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی غیر ملکی قرض ہی ہیں۔ حکمران قرض لے کر عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ابھی ملک کے پاس اتنے اثاثے موجود ہیں جن کی بنا پر قرض مل سکتے ہیں۔ افسوس کہ آمدن میں اضافے کی بنیاد پر ملک چلانا حکمران طبقات کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ قرض لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ یاد رکھیے کہ قرضوں کی بنیاد پر ملک چلانا معاشی کمزوری کا آخری درجہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پچھلے تین سالوں سے اسی درجے پر فائز ہیں۔ ملکی اثاثے گروی رکھوانے کے بعد قرض لینے کا آخری آپشن عوام کو گروی رکھوانا ہے۔ جب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک یا آئی ایم ایف قرض دینے سے پہلے اس کی ادائیگی سے متعلق گارنٹی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ عوام پر ٹیکس بڑھا کر آپ کا پیٹ بھرا جائے گا، یعنی قرض کے حصول کے لیے ایک طرح سے عوام کو ہی گروی رکھوا دیا جاتا ہے ۔

ٹیکسز بڑھانے سے نہ صرف قرض بڑھتے رہتے ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے حسبِ روایت ڈالر ذخائر بڑھانے کے لیے ورلڈ بینک سے قرض مانگ رکھا تھا۔ ورلڈ بینک نے پہلے شرائط رکھیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مخصوص شرح سے اضافہ کیا جائے، سبسڈی ختم کی جائے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ میں پرائیویٹ ممبرزکو شامل کیا جائے اور قومی بجلی پالیسی کی منظوری دی جائے۔ وزارتِ خزانہ نے ہامی بھر لی اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔ جب عمل درآمد کا وقت آیا تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا جس پر ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالرز قرض کی قسط روک لی۔ 28 جون کو ورلڈ بینک نے دو سکیموں کے تحت 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کیا تھا۔ 400 ملین ڈالرز پاکستان پروگرام فار افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی‘ جسے پی ای اے سی ای بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوئے ہیں جبکہ مزید 400 ملین ڈالرز سکیورنگ ہیومین انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسفومیشن‘ جسے شفٹ ٹو بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوا۔

ورلڈ بینک نے شفٹ ٹو کے تحت منظور ہونے والے قرض کے 400 ملین ڈالرز تو فوری جاری کر دیے تھے لیکن پی ای اے سی ای کے تحت منظور ہونے والے 400 ملین ڈالرز معاہدے کی پاسداری کے بعد جاری کیے جانے تھے۔ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں ورلڈ بینک نے تین ماہ کا وقت دیا ہے جس کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور بقیہ رقم جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ ماہرین اس امر پر حیران تھے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھٹی جائزہ رپورٹ جاری ہونے میں تاخیر اور ایک ارب ڈالر کی قسط رک جانے کے بعد ورلڈ بینک نے کیسے 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کر لیا اور 400 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی کر دی گئی؟ ممکن ہے کہ بقیہ 400 ملین ڈالرز آئی ایم ایف سے تعلقات بہتر نہ ہونے تک منجمد رہیں۔ قرض کے کاغذات کے مطابق‘ ورلڈ بینک نے پانچ لاکھ ڈالرز بطور فیس چارج کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تک حکومت شرائط پوری کر کے قرض کی بقیہ رقم وصول نہیں کر لیتی اس پر صفر اعشاریہ پچیس فیصد اضافی سود چارج کیا جائے گا۔ قرض لینے کے لیے حکومت تیز رفتاری سے اقدامات کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن آمدن بڑھانے اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے اعداد و شمار مایوس کن ہیں۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن فنانس میں ایف بی آر کے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے پچھلے تین سالوں میں نان فائلرز کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے ہیں۔ اگر ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی بات کی جائے تو تقریباً تیرہ لاکھ نئے لوگ فائلرز بنے ہیں جو کل فائلرز کا تقریباً دس اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ نوٹسز میں چونسٹھ اعشاریہ تین ارب روپے کا ٹیکس واجب الادا تھا جس میں سے صرف دو اعشاریہ چھ ارب وصولیاں ہوئی ہیں جو محض چار فیصد بنتا ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی میں جے یو آئی (ایف) کے ممبر سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹسز بھیج کر عام شہریوں کو پریشان کرنا معمول بن گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معصوم لوگوں کو ڈرانے کے لیے نوٹسز بھیجے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے محکمے کے ملازمین کی بدنیتی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کے دستخطوں سے غلط نوٹسز بھیجے گئے ہیں‘ انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔

میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ دن پہلے قومی اسمبلی نے ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے مطابق نان فائلرز کی صورت میں اڑھائی کروڑ اور فائلرز کی صورت میں دس کروڑ روپوں کے ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ جس کی منظوری وزارتِ خزانہ کی کمیٹی سے لی جائے گی اور اس کے سربراہ وزیر خزانہ ہوں گے۔ ایک طرف ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے محکمے کو لامحدود اختیارات دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی صاحب نے بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں اعتراض اٹھایا ہے کہ محکمے کے ملازمین معصوم لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے نوٹسز بھیج رہے ہیں تاکہ ماحول کا فائدہ اٹھا کر جیبیں گرم کی جا سکیں، ایسے افسران کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے پہلے مالی سال 18ء تا 19ء میں تقریباً اکیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے تھے جن میں سے ایک لاکھ تہتر ہزار ریٹرنز جمع ہوئیں۔

نو ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار ہوئی جس میں سے صرف پچیس کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔ مالی سال 19ء تا 20ء میں تریسٹھ لاکھ ٹیکس نوٹسز جاری ہوئے اور دو لاکھ ستانوے ہزار دو سو بیاسی ریٹرنز جمع ہوئیں۔ بارہ ارب ستر کروڑ روپوں کی ٹیکس ڈیمانڈ بنائی گئی جس میں سے تقریباً ستاسٹھ کروڑ روپے اکٹھا ہوا۔ مالی سال 20ء تا 21ء میں تقریباً تینتالیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے۔ آٹھ لاکھ چھیالس ہزار دو سو چھیانوے لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائیں۔ ساڑھے بیالیس ارب کی ٹیکس ڈیمانڈ بھجوائی گئیں اور تقریباً پونے دو ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا۔ تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ نوٹسز کے جواب موصول نہیں ہوئے۔ ان اعداد و شمار کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے سسٹم میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔ افسران جان چھڑانے کے لیے ماتحت ملازمین کو غیر حقیقی اہداف دیتے ہیں جو ایک طرف ہدف سے کئی گنا کم ٹیکس وصولی کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف مبینہ طور پر کرپشن کے نئے راستے کھولتے ہیں۔

محکمے کے ان لینڈ ریونیو سروس آپریشن کے نمائندے نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں کو ٹیکس نوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کا کوئی بھی ٹیکس واجب الادا نہیں تھا۔ اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ میں کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کی بنا پر پورے ڈیپارٹمنٹ پر سوالیہ نشان نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ اور انسان ہیں‘ کوئی فرشتے نہیں، محکمے نے نوٹسز بھلے ضرورت سے زیادہ بھیجے ہیں لیکن گرفتاریاں نہیں کیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے افسران کے پاس گرفتاری کے اختیارات موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ان اختیارات پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں ممبر ایف بی آر کا جواب تسلی بخش دکھائی نہیں دیتا۔ اگر وہ اقرار کر رہے ہیں کہ افسران غلط نوٹسز بھیج کر مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں۔ جن ممالک میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے‘ ان کے افسران عوام کو غلط نوٹسز نہیں بھجواتے بلکہ معاملات کو حل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

میاں عمران احمد

بشکریہ دنیا نیوز

سید منور حسن کا ایک منفرد انٹرویو

بیس اپریل 2011 کو منصورہ پہنچ کر امیر جماعت مرحوم سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ملاقات کا اہتمام پروفیسر طیب گلزار صاحب نے کیا تھا۔ اس وقت میں ایک برطانوی پبلشنگ ادارے کی جانب سے پاکستانی کرکٹ پر مشہور برطانوی صحافی اور مصنف پیٹر اوبورن کی طرف سے کتاب لکھنے کے پروجیکٹ کیلئے ریسرچر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ امیر جماعت کے بارے میں چونکہ مشہور تھا کہ وہ نہ صرف کرکٹ کے شیدائی ہیں بلکہ ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے ہیں اس لئے میں نے ان سے اس حوالے سے انٹرویو کی گزارش کی تھی۔ یہ انٹرویو اوبورن کی کتاب کا حصہ نہیں بن سکا مگر مرحوم منور حسن صاحب کے دیگر انٹرویوز کے مقابلے میں یہ کافی منفرد ہے۔

س: پاکستانی کرکٹ میں آپ کس چیز سے متاثر ہیں؟
ج: ہماری کرکٹ کافی منفرد ہے۔ یہ ہمیشہ توانا احساسات، جذبات اور قومی جوش و خروش سے بھرپور ہوتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کی تمام ٹیموں کو شکست دی ہے اور یہ ایک انتہائی فرحت بخش اور اعلیٰ احساس ہے۔

س: آپ نے کب اس کھیل میں حصہ لینا شروع کیا؟
ج: پہلے ہی دن سے۔ میں نے اپنی گریجویشن تک کرکٹ کھیلی اور یونیورسٹی سطح پر بیڈمنٹن بھی کھیلی۔ میری ذاتی دلچسپی سے قطع نظر ہم نے اس کھیل کو نوجوانوں سے تعلقات بنانے کیلئے ایک وسیلہ بنایا۔ مارشل لاکی وجہ سے ہماری طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبا پر پابندی تھی اس لئے ہم نے کرکٹ اور بیڈمنٹن کے توسط سے نوجوانوں کو اسلامی خطوط پر منظم کرنے کی کوشش کی اور ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

س: کرکٹ کے ساتھ اب جماعت کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟
ج: اس کے بعد ہم نے اس سے کچھ خاص استفادہ نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ سرمائے اور وقت دونوں کی کمی ہے۔ شاید اب اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے کیونکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کافی جامع ہے۔

س: کیا آپ اس کھیل کو ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کیلئے وسیلہ سمجھتے ہیں؟ حال ہی میں بھارت کے شہر موہالی میں پاک بھارت کرکٹ میچ کے تناظر میں ‘کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں کی گئیں۔
ج: اس طرح کی اصطلاح کا استعمال افسوسناک ہے اور یہ کھیل اور اس کی روح کو بدنام کرنے کے منافی ہے کیونکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی غیر ذمہ دارانہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اصل مسئلے کشمیر پر تو بالکل ہی بات نہیں کی جارہی۔

س: آپ کے خیال میں کرکٹ کو کیوں استعمال کیا جارہا ہے؟
ج: کیونکہ اس خطے میں کرکٹ ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ اس لئے بھارت اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے اس کا استعمال کررہا ہے۔ اسے پورا یقین ہے کہ اسے کشمیر کے بارے میں کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وہ کرکٹ کا استعمال کرکے کشمیر کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ کو مسخر کررہا ہے۔

س: پاکستان کیلئے کرکٹ کی کیا حیثیت ہے؟
ج: کرکٹ کا کھیل پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس کی حمایت میں سودمند ہو سکتا ہے۔ مثلاـ’’ جب پاکستان کی جیت ہوتی ہے تو پوری قوم بارگاہِ ایزدی میں سجدہ شکر بجا لاتی ہے۔ یہی طریقہ کار ہماری ٹیم میں بھی ہے۔ وہ اپنی پریکٹس کے دوران بھی عبادت گزار رہتی ہے جیسا کہ موہالی میں دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ہندو شدت پسندوں کو یہ ادا پسند نہیں آئی۔

س: پاکستانی ٹیم میں اس اچانک مذہبی جذبے کے ظہور میں کیا وجوہات کارفرما ہیں؟
ج: پوری مسلم دنیا میں مذہب اور اس کے ارکان کے ساتھ وابستگی بڑھ رہی ہے جس کی جھلک ہمیں پاکستانی ٹیم میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ تاریخ ساز لمحات بھی اس میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں جیسا کہ نائن الیون کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔

س: بھارت کے ساتھ حالیہ سیمی فائنل کے بعد کئی پاکستانی تجزیہ کاروں نے عندیہ دیا کہ کرکٹ نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا اور باہمی ملی جذبات کو مستحکم کیا۔
ج: کرکٹ کے مثبت سماجی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے پاس اس سے بھی اہم اور مضبوط مشترکہ اقدار ہیں جو ہمیں مستقل طور پر متحد رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً جہاد کا معاملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرتا ہے۔ اسی طرح شریعت کا نفاذ تمام مسلم معاشروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ حال ہی میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر لاکھوں پاکستانی جمع ہو گئے۔

س: پاکستان میں کرکٹ کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟
ج: اِن شاء ﷲ مستقبل تابناک ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی ٹیم کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔

س: کیا آپ کے بچے کرکٹ کھیلتے ہیں؟
ج: جی وہ کھیلتے ہیں۔ (مسکراتے ہوئے) حال ہی میں میرے بیٹے نے ایک مقامی میچ میں اکتیس گیندوں پر 72 رنز بنائے۔

مرتضیٰ شبلی

بشکریہ روزنامہ جنگ