عوامی مسائل اور جماعت اسلامی کی جدوجہد

جماعت اسلامی ملک کی ایک قدیم جماعت ہے، اس جماعت کی تنظیم آزاد کشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں موجود و فعال ہے۔ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے اور عوام تک اپنا نام و کام پہنچانے میں اسے ملکہ حاصل ہے۔ اسے جہاں بین الااقوامی ایشوز اُٹھانے میں مہارت حاصل ہے وہاں یہ ملکی و عوامی مسائل جن کیلئے جدوجہد دیگرتمام جماعتوں کیلئے بےمعنی ہے، ہر وقت سرگرم رہتی ہے، راقم کے نزدیک جماعت اسلامی کو دیگر مذہبی جماعتوں پر اس لئے بھی فوقیت حاصل ہے کہ یہ جماعت دیگر مذہبی جماعتوں کی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کو کفر قرار نہیں دیتی، اگرچہ جدید تعلیم کو شجرممنوعہ قراردینے والی جماعتیں پوچھے جانے پر اس سے انکار کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر عالم یہ ہے کہ ان کے مکتب و مدرسوں میں جدید تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں، د یگر مذہبی جماعتوں کے مقابل اپنے اس امتیازی وصف کی وجہ سے جماعت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں ۔

جماعت اسلامی کا قیام 1941ء میں سید مودودیؒ کے اُن دعوتی مضامین کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا، جن کی اشاعت 1938 اور 1939 میں ان کے ماہنامے ترجمان القرآن میں ہوئی تھی۔ ان مضامین میں جماعت اسلامی کے قیام کے اغراض و مقاصد یعنی نصب العین کا اجمال ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار 1951 میں کراچی کے اجتماع میں جماعت کے لائحہ عمل کو امیر جماعت اسلامی سید مولانا مودودیؒ نے ایک تقریر کے ذریعے واضح کیا، یہ ایک پمفلٹ کی صورت میں ’مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے نام سے موجود ہے۔ اُنہوں نے اسی تقریر میں جماعت کے مقصد و نصب العین کے چاربنیادی نکات بتائے۔ تطہیر و تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت، اصلاح کی سعی (اصلاح معاشرہ)، نظام حکومت کی اصلاح۔ اس کے بعد 1956 میں جماعت اسلامی کے ایک اہل رائے طبقے کی یہ تجویز سامنے آئی کہ ہمیں اپنی قوتیں سیاسی میدان میں جھونکنے کی بجائے عام معاشرے کی اصلاح، دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کے کام میں ہمہ تن مصروف ہو جانا چاہیے۔

اس طرح جیسے جیسے معاشرے کی اصلاح ہوتی جائے گی، سیاسی حالات خود بخود تبدیل ہوتے جائیں گے اور عملی میدان میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی جائے گی۔ اس اختلاف رائے کا جائزہ لینے اور جماعت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور جماعت کی پالیسی بنانے کے لئے شوریٰ کی ایک ’’جائزہ کمیٹی‘‘ بنا دی گئی، بہرحال 17 تا 21 فروری 1957 کو ماچھی گوٹھ میں اجلاس کے دوران دو مخالف سوچ کے حامل زعما آمنے سامنے تھے، مولانا مودودی اوران کے ہم خیال اصحاب نے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر زور دیا اور ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا امین اصلاحی صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کیلئے کام پر اصرار کیا، ارکان جماعت نے بہرحال مولانا مودودی کی رائے پر صاد کیا، یوں انتخابی سیاست جماعت اسلامی کی مستقل حکمتِ عملی قرار پا گئی۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور مولانا امین اصلاحی صاحب اور ان کے ہمنوا جماعت سے علیحدہ ہو گئے جن میں بڑی تعداد واپس آگئی تاہم جماعت سے علیحدگی کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنے آپ کو مکمل طور پر علمی اور فکری سرگرمیوں تک محدود کر لیا جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے علمی اور فکری سرگرمیوں کے علاوہ عملی جدوجہد بھی جاری رکھی۔

آج ہم سے زیادہ جماعت ہی بہتر جانتی ہے کہ موجودہ دور میں معاشرے کو اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے یا اسمبلی کی اُن نشستوں کی، جو جماعت حاصل کر پاتی ہے کیونکہ ماسوائے اُن انتخابات میں جن میں بڑی جماعتوں کو بہ وجودہ انتخابات سے دور رکھا گیا ہو، یا بڑی جماعتوں نے حصہ نہ لیا ہو اس جماعت کو کبھی قابلِ رشک کامیابی نہیں ملی۔ موضوع کراچی کے مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کا کردار و جدوجہد تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہم ان سطورمیں اکثر یہ بین کرتے رہتے ہیں کہ مہنگائی کی عفریت، بے روزگاری کی سفاکی، بیماری کی بے رحمی سمیت اُن ان گنت عوامی مسائل پر وہ سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک قدم حرکت نہیں کر پاتیں جن کا براہ راست تعلق نہ صرف یہ کہ عوام سے ہے بلکہ ان کے اُن غریب سیاسی کارکنوں سے بھی ہے جن کی وجہ سے ان کا کاروبارِ سیاست رواں دواں ہے۔

جو سیاسی ومذہبی رہنما آئے روز اپنے کارکنوں بلکہ مکتب و مدرسے کے بچوں تک کو سڑکوں پر گھنٹوں کھڑا رکھتے ہیں اور ہفتہ وار بنیاد پر اپنے جلسوں، لانگ مارچوں اور دھرنوں کیلئے کارکنوں کو برسرپیکار رکھتے ہیں وہ متذکرہ مسائل جن سے ان کے یہی جان نثار بھی دیگر لوگوں کی متاثر ہیں، کے حل کیلئے کوئی دھرنا، لانگ مارچ یاجلسہ نہیں کرتے، ایسے ذات و جماعت پرور ماحول میں جماعتِ اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جوعوامی مسائل کے حل کی جدوجہد میں ممتاز ہے۔ان دنوں جماعت اسلامی حقوق کراچی مہم چلا رہی ہے، جس کے تحت مردم شماری ، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، پانی کی قلت، بجلی کی بندش کیخلاف بڑی شاہرائوں پر ریلیوں سمیت ان مسائل سے متعلق مرکزی دفاتر پر دھرنے بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت اسلامی ہی ہے جو مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہے، نظریاتی و فکری اختلاف کے باوجود میرے نزدیک صرف جماعت اسلامی مہنگائی سمیت عوامی مسائل اُٹھانے کی وجہ سے یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ ملکی عوام بالخصوص غریبوں کی حقیقی ترجمان ہے۔

اجمل خٹک کثر

بشکریہ روزنامہ جنگ

میڈیا کو کنٹرول کرنے والا متنازع قانون

برصغیر پاک و ہند میں صحافت کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے منحرفین نے اخبار شایع کرنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ کمپنی کے افسروں کے مفاد میں نہیں تھا اس لیے کلکتہ کی انتظامیہ نے وہ کوشش ناکام بنادی، تاہم بعد میں کمپنی کے ایک سابق سر پھرے ملازم جیمس آگسٹ ہکی نے اپنا اخبار شایع کر ہی لیا مگر اسے مستقل انتظامیہ سے لڑائی کا سامنا رہا اور بالآخر وہ اخبار بند ہو گیا اور ہکی کو جیل جانا پڑا۔ مقامی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں جیل بھیج دیا مگر ہکی صاحب جیل سے اخبار شایع کرتے رہے۔ پوسٹ آفس والوں نے ہکی گزٹ کی تقسیم روک دی تو ہاکروں کا انتظام کیا مگر چیف جسٹس سے معرکے کے بعد برصغیر کا پہلا اخبار بند ہو گیا۔ ہکی نے کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر پھر انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں اخبارات شایع ہونے لگے۔ یہ اخبارات کلکتہ کے علاوہ ہندوستان کے مختلف شہروں سے شایع ہوئے۔ اس وقت تک اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قانون نہ تھا، اب کمپنی کی حکومت کو تشویش ہوئی لہٰذا اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے 1822 میں پہلی مرتبہ پرمٹ کا قانون نافذ کر دیا گیا۔

اس قانون کے تحت اخبار کے اجراء کے لیے پرمٹ لازمی قرار پایا اور اخبار کو شایع ہونے سے پہلے سنسر کرنا ایڈیٹر کی قانونی ذمے داری قرار پائی۔ راجہ رام موہن رائے پہلے سوشل ریفارمر تھے، وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز حکومت سے متاثر تھے اور کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تھے، وہ کمپنی کے افسروں کے اس بیانیے پر یقین رکھتے تھے کہ انگریز ہندوستان کے عوام کی بہتری کے لیے آئے ہیں اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں میں برطانیہ کے شہریوں اور ہندوستان کے شہریوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے لیے اخبار کی اشاعت کے لیے پرمٹ اور سنسر کے بعد اخبار شایع کرنے کی شرط ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے برابر ہے کیونکہ برطانیہ میں اخبار کے اجراء کے لیے کسی قسم کے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اخبارات کو سنسر کرتی ہے۔ راجہ صاحب نے پرمٹ کے قانون کے خلاف حکام سے اپیل کی اور مقامی عدالتوں سے انصاف طلب کیا، جب ہندوستان میں انھیں انصاف نہ ملا تو کسی دانا شخص نے مشورہ دیا کہ وہ لندن جاکر پریویو کونسل میں اپیل دائر کریں۔

اس وقت بحری جہاز سے برطانیہ جانے میں 9 ماہ کا عرصہ لگ جاتا تھا اور بحری سفر میں خاصی مشکلات بھی پیش آتی تھیں مگر راجہ صاحب کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ بحری جہاز کے ذریعے لندن گئے اور کونسل میں مقدمہ دائر کر دیا لیکن ان کی عرض داشت اس نکتہ پر مسترد کر دی گئی کہ برطانیہ میں رائج قوانین کا ہندوستان میں اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ ہندوستان کے شہری برطانیہ کے غلام ہیں۔ راجہ صاحب برطانوی عدالتوں کے فیصلوں سے اتنے مایوس ہوئے کہ انھوں نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ پرمٹ لینے اور اخبار کو افسروں سے سنسر کرا کے شایع کرنے سے بہتر ہے کہ اخبار ہی بند کر دیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے قیام کے بعد سے میڈیا کے بحران کو بڑھانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور واپس لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اس آرڈیننس کے تحت اس میڈیا اتھارٹی کے دائرہ کار میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی شامل ہوں گے۔

پریس کونسل پیمرا سمیت پہلے سے قائم تمام ادارے ختم ہو جائیں گے، اس میڈیا اتھارٹی کی ہیئت کچھ یوں ہو گی کہ اس کے چیئرمین اور ممبران کا تقرر وزیر اعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کریں گے۔ اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ان اراکین کا تعلق سول سوسائٹی سے ہو گا مگر سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان اراکین کو نامزد نہیں کریں گی بلکہ وزارت اطلاعات ان اراکین کو تلاش کرے گی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری کی تیار کردہ یہ فہرست وزیر اعظم کی منظوری سے صدر کو پیش کی جائے گی، جن کی منظوری سے چیئرمین اور اراکین کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔ اس قانون کے تحت اتھارٹی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عام طور پر خود مختار ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر میڈیا اتھارٹی کی ہیئت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی طور پر یہ اتھارٹی حکومت کی نگرانی میں فرائض انجام دے گی۔ اس اتھارٹی کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ فلم ڈائریکٹوریٹ کام کریں گے۔

الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی صوبائی اور قومی سطح پر الگ الگ لائسنس لینے ہوں گے۔ اس قانون کے تحت ہر میڈیا ہاؤس کو اپنے اخبار، ریڈیو ، ٹیلی وژن چینل اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے لائسنس کی ہر سال تجدید کرانا ہو گی۔ ڈیجیٹل میڈیا کو بھی انٹرٹینمٹ، اسپورٹس نیوز، ٹورازم اور اس طرح کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک فرد صرف ایک شعبے کے لیے یوٹیوب چینل کا لائسنس حاصل کر سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس فیس ہو گی اور کہیں ایسا مواد چلانے کی اجازت نہیں ہو گی جس میں صدر پاکستان، مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید ہو رہی ہو۔ قانون کے تحت شکایات کونسل قائم کی جائیں گی جس کے دفاتر اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایڈوائزری کونسل کا قیام بھی عمل میں آئے گا جس کے 8 اراکین ہوں گے جن میں سے 4 ارکان سرکاری افسر ہوں گے۔

اس ایڈوائزری کونسل کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے اور اس کونسل کو شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر کسی اخبار، ٹی وی چینل کے علاوہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہو گا۔ کونسل یہ کارروائی ایسے مواد کے شایع یا نشر کرنے پر کرے گی جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو اور جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا جو فحاشی پھیلائے گا تو ایسی صورتوں میں اپیلٹ کورٹ کے طور پر صدر ایک ٹریبونل قائم کریں گے۔ یہ ٹریبونل میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گا اور ویج بورڈ پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا، اس قانون کے تحت کوئی متاثرہ شخص ہائی کورٹ سے داد رسی حاصل نہیں کر سکے گا، صرف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا اور اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر میڈیا پرسنز کو 3 سے 5 سال تک کی سزا دی جاسکے گی۔

ماضی میں جنرل ایوب خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قوانین اور برطانوی ہند کے نافذ کردہ قوانین کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1963 میں ضم کر دیا تھا۔ آزادئ صحافت پر تحقیق کرنے والے محققین نے اس کو سیاہ قانون قرار دیا تھا۔ اس قانون کے خلاف اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس، ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای اور صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے مشترکہ جدوجہد کی تھی، یہ صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی پہلی مشترکہ جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں پورے ملک میں اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی تھی، جنرل ایوب خان کی حکومت کو پہلی دفعہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑی تھی اور حکومت نے تمام تنظیموں کے نمایندوں سے مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں ایڈیٹر کی آزادی ختم کرنے والی بعض شقیں ختم کرنی پڑی تھیں مگر صحافتی تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں سن 1988 میں قائم مقام صدر غلام اسحاق خان کے دور میں یہ سیاہ قانون ختم ہوا تھا۔ بعض سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے میڈیا انڈسٹری میں سرمایہ کاری رک جائے گی اور میڈیا ہاؤس آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کے مطابق بنیادی فریضہ پورا نہیں کر سکیں گے، جس کا مجموعی نقصان جمہوری نظام کو ہو گا۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

گیلانی مرا نہیں زندہ ہو گیا

’گیلانی کی زندگی موت سے کئی گنا بھاری، ہندوستان سے کئی گنا وسیع اور پاکستان سے کئی گنا شاطر ہے۔ ان کی زندگی بھارت کے لیے اتنی اذیت نہیں تھی جتنی ان کی موت جو اس پر صدیوں تک عذاب بن کر رہے گی۔ گیلانی نے زندگی بھر کی سختیاں، جیل اور انٹروگیشن اسی امید میں برداشت کیں کہ انہیں عوام شیخ عبداللہ نہیں بلکہ عمر مختار یا ارطغرل کی طرح ایک پرعزم، پروقار اور ایک موقف پر ڈٹے رہنے والا ہیرو تصور کریں۔ ایسا ہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ وہ زندگی میں صرف ہیرو تھے لیکن موت کے بعد سپر ہیرو۔‘ یہ خیالات ہیں 15 برس کے بشارت کے جو ایک پرائیویٹ میشنری سکول میں دسویں کلاس میں زیر تعلیم ہیں۔ والد مین سٹریم پارٹی نیشنل کانفرنس کے سرگرم کارکن ہیں اور ماں سماجی ورکر جو بچے کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے اپنے خاندان اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر دور ایک ہجرے میں رہائش پر مجبور ہو گیں۔

سال 1947 میں بھارت پاکستان بننے کے بعد بشارت کشمیر کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس ایک بڑے طبقے کی ترجمانی کرتے ہیں جن کے بارے میں بھارت کی ڈیفنس کمانڈ نے کہا تھا کہ انہیں ڈی ریڈکلازیشن کرنے کے لیے حراستی مراکز میں رکھنے کی ضرورت ہے حالانکہ گیلانی سمیت بیشتر آزادی پسند رہنماؤں کے خلاف عوام کو بدظن کرنے کی ایک بڑی مہم بھی چلائی گئی ہے۔ گیلانی کے لیے ہر کشمیری کے دل میں کہیں ایسا کونہ ضرور موجود ہے جہاں وہ عزت کا مقام رکھتے ہیں۔ سید علی گیلانی سن 1929 کے ستمبر میں شمالی کشمیر کے ایک گاؤں بانڈی پورہ کے نزدیک پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی اور بعد میں لاہور کے اورینٹل کالج میں سیکنڈری تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ انہوں نے تین بار ریاستی اسمبلی کے لیے انتخابات لڑا۔ انیس سو بہتر، انیس سو ستتر اور انیس سو ستاسی میں ممبر اسمبلی رہے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کشمیر کے سرکردہ کارکنوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بعد میں تحریک حریت کی تنظیم بنائی اور علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد کے جماعتی حریت کانفرنس کے کئی برس تک سربراہ بھی رہ چکے ہیں جس میں بعد میں اعتدال گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض لیڈروں سے اختلاف کی وجہ سے الگ ہو گئے۔ گیلانی نے کشمیر کی صورت حال، اپنی اسیری اور بھارت کی کشمیر پالیسی پر درجنوں تصنیفات لکھی ہیں جن میں روداد قفس، نواے حریت، بھارت کے استعماری حربے، مقتل سے واپسی اور ولر کنارے کافی مقبول عام بن گئیں ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی کے بارے میں ان کی پاکستان نواز سیاست پر بعض اہم سوال ہر دور میں اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اگر وہ 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرنے کے خواہش مند تھے تو انہوں نے ہندوستان کے آئین کے تحت ریاستی انتخابات میں حصہ کیوں لیا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ پکے پاکستان نواز تھے تو 1979 میں جب مکمل آزادی کی خواہش مند تنظیم جے کے ایل ایف نے عسکری تحریک شروع کی تو انہوں نے اس تحریک کی حمایت کر کے یہ تاثر کیوں دیا کہ وہ الحاق پاکستان نہیں بلکہ مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔ میں نے چند برس پہلے علی گیلانی سے کئی بار یہ سوالات پوچھے ہیں جن کی ریکارڈنگ شاید بی بی سی کے آرکایوز میں موجود بھی ہوں۔ گیلانی صاحب نے پہلے سوال کے جواب میں ہمیشہ کہا کہ ’انتخابات میں شامل ہونا ہماری مجبوری تھی کیونکہ مقامی سطح پر عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہوتی تھیں، عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانے کا صرف یہی راستہ تھا۔ ہمارا مقصد یہ بھی تھا کہ جمہوری طور پر اسمبلی کے فلور پر کشمیر تنازعہ اٹھائیں جیسے سکاٹ لینڈ والے اٹھاتے ہیں۔

قومی دھارے میں آ کر ہمیں ہندوستان کی نیت کا بھرپور انداز بھی ہو گیا کہ وہ اصل میں جموں و کشمیر کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا بلکہ یہاں کی زمین پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ میں راے شماری کے حق میں 1960 میں بھی جیل چلا گیا تھا۔ ہم نے ہندوستان کو کئی بار موقعہ دے دیا کہ جموری طور پر بھی اس تنازعے کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے مگر اس کو نہ ہمارا جمہوری طریقہ پسند آیا اور نہ ہمارا آزادی پسند بننا۔ ہار تو اس بڑے ملک کی ہے کہ جس نے ہماری قوم پر شب خون مار کر ہماری آنے والی نسلوں کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے مگر ہماری جنگ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک نہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں، یہ ایک فرد کی جنگ نہیں پوری قوم کی ہے اور میں اس قوم کا ایک ادنی فرد ہوں۔‘ سید علی گیلانی نے دوسرے سوال کا جواب سیاست دان کی طرح ہمیشہ گول مول میں دیا ہے۔

’جے کے ایل ایف ہو یا حزب المجاہدین یا اور کوئی اور تنظیم، ہم سب کا ایک مقصد ہے کہ ہندوستان کی فوج کو اپنی رہاست سے باہر نکالنا اور آزادی یا الحاق پاکستان پر ہم بعد میں غور کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ہمارا مذہبی اور ثقافتی رشتہ ہے اور اس رشتے کو کسی بھی صورت میں ہمیں قائم و دائم رکھنا ہے۔ راستے مختلف ہو سکتے ہیں مگر ہم سب کی ایک منزل ہے۔‘ گیلانی کی پاکستان پسندی اس وقت بہت مہنگی بھی پڑی جب سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے چار نکاتی فارمولا پیش کر کے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ بعض ذرائع کے مطابق مشرف نے گیلانی سے سارے تعلقات منقطع کرنے کی ہدایات بھی دی تھیں جس کے فورا بعد گیلانی نے ان کے خلاف سخت بیانات جاری کرنا شروع کیا۔ اس کا فائدہ بھارت نے خوب اٹھایا تھا۔ گیلانی کا پاسپورٹ بھارت مخالف سرگرمیوں پر 1981 سے ضبط کیا گیا ہے جس کے باعث وہ علاج کرنے باہر نہیں جاسکے حالانکہ انہوں نے کئی بار حکومت سے اس کی اجازت بھی مانگی تھی۔

گیلانی پر غداری کے علاوہ کئی مقدمات چل رہے ہیں جن میں وہ معاملہ بھی شامل ہے جو حال ہی میں اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ نے درج کیا جس میں انہیں غیرملکی کرنسی رکھنے پر جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا تھا۔ گیلانی صاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا جبکہ گذشتہ تقریباً دس برسوں سے اپنے مکان میں نظر بند رہے ہیں۔ دوران اسیری انہیں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے لیکن قرآن کی تلاوت یا نماز کو کبھی نہیں چھوڑا۔ سن نوے کے بعد وہ حکومت بھارت اور ان کی پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے جس کی وجہ سے انہیں آزادی پسند رہنماؤں میں سب سے زیادہ عزت حاصل ہے۔ ہڑتال کی بار بار کی کال دینے پر بعض کشمیری انہیں ہڑتالی بب (بابا) بھی پکارتے تھے اور بیشتر کشمیری ان کے خلاف کچھ بولنے پر جنونی ہوتے ہیں۔ گیلانی صاحب سے سیاسی اختلافات کتنے رہے ہوں مگر جب وہ کسی پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں تو کبھی اس سے محروم نہیں کرتے۔

میرے لیے گیلانی صاحب کی شفقت ایک بڑا سرمایہ ہے۔ انہوں نے کئی محفلوں میں میری کتاب دہشت زادی پر تبصرے کیے اور کتاب تلاش کرنے کے لیے خود ایک کتابی میلے میں چلے گئے تھے گو کہ انہیں لفظ دہشت زادی پر اعتراض تھا۔ میں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے اکثر سنا ہے کہ ’گیلانی کے خلاف شیخ عبداللہ سے زیادہ پروپیگینڈا کیا گیا مگر گیلانی چونکہ صوم وصلوات اوراپنے موقف پر قائم رہے ہیں لہذا ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ ناصرف اب تک دشمن کو مات دیتے گئے بلکہ قوم کے ہر دلعزیز رہنما بھی بن گئے جس کی انہوں نے تمنا کی تھی۔ بقول ایک تجزیہ نگار ’جس طرح ان کی زندگی گذشتہ چار دہائیوں سے ہندوستان جیسے بڑے ملک پر حاوی رہی اس سے زیادہ ان کی موت اگلے دسیوں دہائیوں تک پورے بر صغیر پر حاوی رہے گی۔‘

نعیمہ احمد مہجور

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

افغانستان میں امریکی نظام ناکام کیوں ہوا؟

پندرہ اگست 2021 کو طالبان کی کابل میں واپسی یہ سمجھنے کے لیے ایک قابل ذکر مثال ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور اپنے عالمی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیشہ کامیاب کیوں نہیں ہوتی؟ طاقت کی حدود کیا ہیں؟ کس چیز نے افغان طالبان کو ایک عسکری تحریک کے طور پر بیس سال تک زندہ رکھا؟ جیسا کہ امریکہ کو طاقت کی محدودات کا سامنا کرنا پڑا، کیا طالبان کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد اسی طرح کا چیلنج درپیش ہے؟ کیا افغانستان میں حکمرانی کے حوالے سے طالبان کی طاقت کی بھی کچھ حدود ہیں؟ افغانستان کے تازہ واقعات سے ایک بار پھر بے لگام عسکری طاقت کی محدودات کا مظاہرہ ہوا ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور سب سے بڑی معیشت ہے۔ یہ کسی بھی طاقتور ملک کو چیلنج کر سکتا ہے یا عسکری لحاظ سے کمزور اور داخلی طور پر منقسم ملک میں حکومت کا نظام ختم کر سکتا ہے یا حکومت کو غیرمستحکم کر سکتا ہے‘ لیکن یہ سب کچھ ایسا مستحکم سیاسی و حکومتی نظام وضع کرنے میں امریکی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا جو امریکی مفاد سے جڑا ہوا ہو۔

امریکہ نے افغانستان پر اکتوبر 2001 اور عراق پر مارچ 2003 میں حملے کئے اور افغان طالبان اور صدام حسین‘ کی حکومتوں کو بے دخل کر دیا‘ تاہم وہ دونوں ممالک میں سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا۔ اسے دونوں ملکوں سے مشکل حالات میں اپنی فوج واپس بلانا پڑی۔ تاریخ سے کافی مثالیں مل سکتی ہیں کہ عسکری لحاظ سے طاقتور ریاستیں متنازع صورتحال کے کوئی تسلی بخش سیاسی اور عسکری حل یا نتائج حاصل کرنے میں ناکامی رہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے اور پچھلی دو دہائیوں کے دوران طاقت کی عالمی سیاست میں تبدیلیوں کے بعد یہ مزید مشکل ہو چکا ہے۔ ایک روایتی عسکری طاقت دوسری روایتی عسکری طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال سے مختصر مدت کے لئے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے‘ تاہم ہدف شدہ ریاست اور معاشرے میں مکمل تبدیلی کے حوالے سے عسکری سطح پر کامیابیوں کو قائم رکھنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ روایتی عسکری طاقت پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی یک رخی حکمت عملی عسکری اور سیاسی ایجنڈوں کے حصول کا قابلِ تجویز اصول نہیں ہے۔ اگر مقصد دشمن کی تباہی اور لوٹ مار سے آگے بڑھنا ہو تو عسکری حکمت عملی کو طاقت کے کئی غیر عسکری ذرائع کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

طاقت کے عسکری اور غیر عسکری ذرائع کا جوڑ اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب مسلح تصادم ایک ایسے مخالف کے ساتھ ہو جو غیر روایتی ہو، جزوی طور پر پوشیدہ ہو، اور ایک مخصوص جگہ پرموجود نہ ہو۔ ایسے مخالف میں بین الاقوامی عسکری تحریکیں شامل ہیں‘ جن کے اراکین انتہائی متحرک اور اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر غیر معینہ مدت تک لڑنے کیلئے پُرعزم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان اسی زمرے میں آتے ہیں جو امریکی فوجی حملے سے بچنے میں کامیاب رہے۔ ایسے غیر روایتی ڈھانچے انتہائی مشکل ماحول میں زندہ رہنے کا انتظام کر سکتے ہیں اور طویل عرصہ بعد بھی متحرک ہو سکتے ہیں۔ یہ تحریکیں مضبوط معاشرتی جڑیں قائم کر لیتی ہیں‘ علاوہ ازیں ان کو نظریاتی ہم آہنگی بھی حاصل ہوتی ہے جو انہیں زندہ رہنے میں مدد دیتی ہے۔ امریکہ نے نومبر 2001 میں کابل سے طالبان کی پہلی حکومت کا خاتمہ کر کے دسمبر میں حامد کرزئی کو عبوری صدر مقرر کیا تھا۔  اشرف غنی ستمبر 2014 میں صدرِ افغانستان بنے۔ دونوں حکومتوں نے امریکہ کی حفاظتی چھتری تلے کام کیا اور جمہوریت، انسانی حقوق، جدید تعلیم اور خواتین کے بہتر کردار کے نام پر وفاداروں کا ایک نیٹ ورک بنا لیا۔

اس نیٹ ورک میں بہت سے وہ افغان بھی شامل ہو گئے جو بیرون ملک سے افغانستان واپس آئے تھے تاکہ نئی کابل حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں یا امریکی فوجیوں کا ساتھ دیں۔ ایک پوری نوجوان نسل نے دونوں حکومتوں کے تحت جدید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہوگئے جو ہمیشہ اقتدار میں رہنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ سیاسی موقع پرستوں اور نئی اشرافیہ کے اس اتحاد کو نئے افغانستان کے طور پر پیش کیا گیا‘ جو مغرب کے ساتھ جدید جمہوری اقدار کا اشتراک کر رہا تھا۔ امریکہ نے افغان نیشنل آرمی اور پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی بھی بنائی تاکہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔ معاشرے کا یہ جدید اور جمہوری شعبہ صرف کابل اور دو تین شہروں تک محدود تھا اور افغان معاشرے میں اس کی جڑیں موجود نہیں تھیں‘ جس میں وہ قصبے اور دیہات بھی شامل تھے جو اس تبدیلی سے مستفید نہیں ہوئے۔ امریکہ نے افغانستان کی معاشی تعمیرِ نو اور انسانی ترقی پر بہت کم رقم خرچ کی اور 2003 میں صدام حسین کے عراق کو فتح کرنے پر اپنی توجہ مبذول کر لی۔ ہندوستان کو سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے آگے لایا گیا۔

افغانستان کے نئے نظام کی نہ تو لوگوں میں جڑیں تھیں اور نہ ہی اس نے عام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جب افغان طالبان نے مختلف شہروں پر عسکری دباؤ ڈالا تو مقامی انتظامیہ اور معاشرے نے عمومی طور پر ان کے ساتھ تعاون کیا یا کچھ مزاحمت کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو گئے۔ امریکہ اور کابل حکومت کے بنائے ہوئے جدید سیکٹر منہدم ہو گئے۔  امریکہ کی بنائی ہوئی افغان نیشنل آرمی اور پولیس کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ افغان نیشنل آرمی اور پولیس کی تشکیل کے لیے زیادہ تر کام امریکی ٹھیکیداروں نے کیا۔ وہ ایک پیشہ ور اور پرعزم فوج تیارکرنے کے بجائے پیسہ کمانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ افغان فوج میں خرابی اور بہت سے ”گھوسٹ سپاہیوں‘‘ کے وجود کی رپورٹیں آتی رہیں۔ سینئر کمانڈ اور نچلے درجے بالخصوص فوجیوں کے درمیان خراب تعلق تھا۔ ان میں پیشہ ورانہ مہارت اور طالبان سے لڑنے کے عزم کا فقدان تھا۔

افغانستان‘ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت اور دیگر مغربی لبرل اقدار کو اوپر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ضروری ہے کہ پہلے معاشرے کی روایتی اقدار اور سماجی نظام کو سمجھا جائے اور پھر مقبول موبلائزیشن کے ذریعے معاشرے میں تبدیلیوں کے لیے کام کیا جائے۔ تبدیلی کے اس عمل سے عام لوگوں کو فائدہ ہونا چاہیے تاکہ وہ نئے نظامِ حکومت اور سماجی تبدیلی میں اپنی دلچسپی پیدا کر سکیں۔ اگر تبدیلی کا عمل جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کرتا ہے تو اس تبدیلی کی کوئی جڑیں نہیں ہوتیں اور یہ ناپائیدار رہتی ہے۔ افغانستان میں امریکی ناکامی افغانوں کے اس سیاسی و ریاستی نظام کو مستحکم کرنے کا اہل نہ ہو سکنے کی وجہ سے ہوئی جو انہوں نے پہلی طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وضع کیا تھا۔ نیا نظام عوام میں جڑیں نہ پکڑ سکا۔ امریکی حفاظتی ڈھال ہٹنے کے بعد اس کا منہدم ہونا طے تھا۔

نئی طالبان قیادت کو ایک چیلنج درپیش ہے جیساکہ امریکیوں کو درپیش تھا۔ چیلنج یہ ہے کہ عوام کا اعتماد اور سپورٹ حاصل کر کے نظام کو مستحکم کیا جائے۔ طالبان امریکہ اور اس کے مقامی اتحادیوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو چکے ہیں‘ تاہم انہیں ایک پرامن داخلی سیاسی نظم ترتیب دینے کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے جو اندرونی تناظر میں نسلی اور مذہبی تنوع کو ایڈجسٹ کرتا ہو اور پہلی طالبان حکومت کے ساتھ ان کے مشکل تجربے کی بنا پر پیدا ہونے والی عالمی برادری کے خدشات کو دور کرتا ہو۔ طالبان کو ایک بنیاد پرست مذہبی تحریک‘ جو دیگر بین الاقوامی بنیاد پرست تحریکوں کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہی ہو‘ کے بجائے ایک ذمہ دار ریاست کی طرح برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان کے ابتدائی پالیسی بیانات تسلی بخش ہیں، لیکن انہیں ان بیانات کو اپنے نئے گورننس انتظامات کے ذریعے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی

بشکریہ دنیا نیوز

محمد علی سد پارہ کے جسد خاکی کی شناخت کیسے ہوئی؟

الپائن کلب پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے تصدیق کی ہے کہ کے ٹو پر محمد علی سدپارہ سمیت لاپتہ تین کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تینوں لاشیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے بوٹل نیک کے قریب سے ملی ہیں جن کو نیچے لانا مشکل کام ہے جس کے لیے آرمی ایوی ایشن مدد کر رہی ہے۔ کرار حیدری کے مطابق کوہ پیما جان سنوری کی میت کو ان کی اہلیہ لینا کی درخواست پر آئس لینڈ بھجوایا جائے گا جبکہ دوسرے کوہ پیما جان پابلو کی میت ان کی والدہ اور بہن کے فیصلے کے مطابق ان کے ملک چلی لے جائی جائے گی۔ اس سے قبل گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کے کیمپ فور کے قریب سے لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

 علی سد پارہ کی جسد خاکی کی شناخت لباس سے ہوئی
ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خن کو بتایا کہ ’کے ٹو مہم جوئی کی ایک ٹیم کو بوٹل نیک اور بیس کیمپ 4 کے درمیان تین لاشیں ملی ہیں، ان میں سے ایک جسد خاکی کا کوہ پیمائی سوٹ علی سد پارہ کے سوٹ سے میچ کر گیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ساجد سدپارہ (محمد علی سدپارہ کے بیٹے) نے مہم جوئی پر جانے والی ٹیم کو علی سدپارہ کی مہم جوئی پر جاتے ہوئے تصاویر دی تھیں، اور ابتدائی طور پر ان کے لباس کی بنیاد پر ان کی تصدیق ہوئی ہے۔‘ ترجمان کے مطابق ‘علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کیمپ تھری سے کیمپ فور کی طرف روانہ ہوئے ہیں اور وہاں پہنچنے پر وہ شناخت کی تصدیق کر پائیں گے تاہم مہم جوئی ٹیم کے لائیزون افسر نے علی سدپارہ کے لباس کی بنیاد پر تصدیق کر دی ہے۔‘

کے ٹو کے کیمپ فور کے قریب سے لاشیں ملنے کی اطلاعات سوشل ٹائم لائنز پر شیئر کی گئیں تو الپائن ایڈونچرز گائیڈز نامی ٹوئٹر ہینڈل کے ساتھ دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ ملنے والی لاشوں میں ایک لاپتہ ہو جانے والے محمد علی سدپارہ کی ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے کئی روز تک آپریشن جاری رہا تھا تاہم لاشیں نہ ملنے کے بعد ان کے صاحبزادے نے والد کے انتقال کا اعلان کر دیا تھا۔ محمد علی سدپارہ کے انتقال کے اعلان کو کئی مارہ گزرنے کے بعد چند روز قبل ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے والد کی موت کی وجوہات جاننے اور والد کے جسد خاکی کی تلاش کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

جس مقام سے لاشیں ملی ہیں اسی کے متعلق کہا گیا تھا کہ کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران محمد علی سدپارہ اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ یہاں لاپتہ ہوئے ہیں۔علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے والد کے لاپتہ ہونے کے بعد دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ساجد علی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں علی سدپارہ اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما رواں برس پانچ فروری کو کے ٹو سر کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔

بشکریہ اردو نیوز

عارف نظامی کا خلا

عید کی نماز پڑھ کر معانقوں اور مصافحوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے گھر پہنچے، ناشتے کے بعد عزیزان علی اور عثمان کے ساتھ قبرستان کا رخ کیا کہ عمر شامی بیرون ملک ہیں۔ پہلی ملاقات والدہ محترمہ سے کی، جو نیو گارڈن ٹائون کے قبرستان میں محوِ آرام ہیں۔ اس سے متصل ماڈل ٹائون کا ایک چھوٹا سا قبرستان ہے، جس میں میری بھانجی سارہ‘ جو ایک ہونہار ماہر نفسیات تھیں اور بہت آگے بڑھنے کے ارادے رکھتی تھیں، اپنے جواں خوابوں سے لبریز دفن ہیں۔ یہیں محترم ضیا شاہد اور ان کے ہونہار بیٹے عدنان شاہد بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ دو، تین کلومیٹر کے فاصلے پر فیصل ٹائون کا قبرستان ہے، جہاں میری سب سے بڑی بہن وسیم اختر اور ان کے شوہر محمد اختر عادل لمبی تانے ہوئے ہیں۔ وہاں سے کچھ ہی دور ماڈل ٹائون جی بلاک کا قبرستان ہے جہاں جواں سال بھتیجے عامر ضیا نے پڑائو ڈال رکھا ہے۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر فیض احمد فیض مقیم ہیں۔

یہیں استادِ گرامی پروفیسر اصغر علی، رجحان ساز دانشور اشفاق احمد خان، ان کی بے مثال اہلیہ بانو قدسیہ، بیدار مغز استاد پروفیسر کرامت حسین جعفری اور بہت سے ایسے لوگ سو رہے ہیں، پاکستان جن کے دم سے مہکتا تھا، انہیں دیکھ کر اور سن کر زندہ رہنے کی امنگ پیدا ہو جاتی تھی۔ گارڈن ٹائون کے علاوہ ہر قبرستان میں پانی کھڑا تھا، آگے بڑھنا مشکل تھا، متعلقہ سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ‘ دونوں کے نگران راستے خشک نہیں رکھ پائے تھے۔ سو دروازوں ہی پر کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی، گارڈن ٹائون کا قبرستان البتہ حسن انتظام کا نمونہ تھا۔ پانی کا ایک قطرہ تک موجود نہیں تھا، راستے حسبِ معمول کشادہ اور خشک تھے، قدموں کی چاپ کے منتظر۔ واپس گھر پہنچے تو دِل کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بوجھل تھیں۔ قربانی کی ذمہ داری آب پاشوں کی ہائوسنگ سوسائٹی کے منتخب صدر اور اپنے اولوالعزم بھانجے شہزاد شامی کو سونپی جا چکی تھی، سو اطمینان سے بستر پر دراز ہو گئے۔

کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ طاہرہ بیگم صاحبہ نے جھنجوڑا، ٹی وی پر خبر آرہی ہے عارف نظامی چل بسے ہیں۔ یہ سنتے ہی اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اٹھا نہیں گیا۔ دِل بند ہوتا محسوس ہوا اور آنکھیں کھل کر بند اور بند ہو کر کھلنے لگیں، یااللہ، یہ کیا ہوا؟ عید کے روز انہوں نے اپنی جان کیسے قربان کر دی، اوسان بحال ہوتے دیر لگی، بیمار تو وہ تھے، لیکن اس طرح رخصت ہو جائیں گے، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ان کا ایک آپریشن ہوا تھا، وہ صحت یاب ہو رہے تھے لیکن آواز پست اور لہجہ سست نظر آتا تھا۔ ٹی وی پر اپنے پروگرام میں بھی ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے، لیکن ذہانت اور نکتہ سنجی برقرار تھی۔ آپریشن کی تفصیل معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ مشکل مراحل بخیروخوبی گزر گئے ہیں۔ چند ہی روز پہلے مشاہد حسین سید لاہور آئے تو احمد بلال محبوب صاحب نے انہیں اپنے ہاں ناشتے پر مدعو کیا۔ عارف نظامی صاحب کو بھی دعوت دی جو انہوں نے بصد خوشی قبول کر لی لیکن عین وقت پر معذرت موصول ہو گئی۔ طبیعت کی خرابی کی اطلاع تشویش کا باعث تو تھی، لیکن اسے غیرمعمولی نہ سمجھا گیا۔ دِل کے عارضے نے انہیں ہسپتال داخلے پرمجبور کیا، اور چند ہی روز بعد سانحہ پیش آگیا۔

عارف نظامی نے اِس دُنیا سے منہ موڑ لیا، اپنے گرامیٔ قدر والد حمید نظامی مرحوم کے پاس جا بسے۔ عارف نظامی بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے، صحافت انہوں نے وراثت میں پائی تھی، لیکن اس میں نام اور مقام اپنی محنت اورکوشش سے بنایا۔ والد کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تیرہ، چودہ برس کی ہو گی، وہ اپنے والد کو اخبار پڑھتے، لوگوں سے ملتے، اور کام کرتے دیکھتے تو انہی جیسا بننے کی خواہش دِل میں پیدا ہو ہو جاتی۔ والدہ محمودہ بیگم بھی پڑھی لکھی تھیں، علی گڑھ سے گریجویشن کی تھی، تحریر و تقریر پر ان کو عبور تھا۔ حمید نظامی کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی مجید نظامی نے ادارہ نوائے وقت کا انتظام سنبھالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عارف نظامی نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا، اور نوائے وقت سے وابستہ ہو گئے۔ پرنٹنگ پریس میں کام کیا، رپورٹر کے طور پر فرائض ادا کیے، اور پھر ایگزیکٹو ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اِس دوران ”نوائے وقت‘‘ نے کئی ادوار دیکھے۔

مجید نظامی مرحوم نے اپنا راستہ الگ کر کے روزنامہ ”ندائے ملت‘‘ کا اجرا کر لیا، نوائے وقت بیگم محمودہ نظامی کی براہِ راست نگرانی میں آگیا۔ چند برس بعد مجید نظامی نے یہ ذمہ داری دوبارہ سنبھال لی۔ عارف نظامی ان کے نائب (اور ولی عہد) کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ چچا اور بھتیجے کے خیالات اور احباب الگ الگ تھے۔ دونوں کو حمید نظامی مرحوم کے نسبی تعلق اور ادارے کے ساتھ کمٹمنٹ نے باندھ رکھا تھا۔ سقوط ڈھاکہ نے نوجوان عارف کے دِل پر ایسا چرکا لگایا تھا کہ آمریت ان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، وہ بھٹوکے مداح تھے، ان کے ساتھ ہر غیرملکی دورے میں شریک رہتے، مجید نظامی بھٹو صاحب سے نظریاتی فاصلہ رکھتے تھے لیکن نبھانے کا ہنر جانتے تھے۔ برسوں عارف نظامی کو ”نوائے وقت‘‘ گروپ کا مستقبل سمجھا اور سمجھایا جاتا رہا۔ مجید نظامی ان کی اسی طرح پرورش کرتے رہے۔

وہ انجمن مدیران پاکستان کے صدر منتخب ہوئے، انگریزی روزنامہ ”نیشن‘‘ کا اجرا کیا۔ چچا کی طرح بھتیجے کا قد بھی بڑا ہوتا گیا۔ اُس کے لہجے میں بھی وہ کاٹ آتی چلی گئی جو نظامی خاندان کا طرۂ امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ اہلِ اقتدارکو ٹوکنا، ان کے سامنے اپنی رائے کا بے دھڑک اظہار کرنا، پارلیمانی جمہوریت پر زور دینا سیاسی عمل کو پاکستان کیلئے آکسیجن سمجھنا، چچا اور بھتیجے دونوں کا تعارف یہی تھا۔ عارف دائیں بازو کے ساتھ بندھے ہوئے نہیں تھے، بایاں بازو بھی انہیں اپنا لگتا تھا، ان کے والد ہی ان کے آئیڈیل تھے۔ چچا کو ایک زمینی حقیقت کے طورپر انہوں نے قبول کیا اور آداب بجا لاتے رہے لیکن اپنا الگ تشخص بھی برقرار رکھا۔ خبران کی تلاش میں رہتی، بینظیر بھٹو کی اسمبلی تحلیل ہونے کی خبر انہوں نے دی، اور گویا ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ ریحام خان کی عمران سے علیحدگی کی خبر بھی انہی نے بریک کی تھی، ”وقت نیوز‘‘ کی بنیاد انہوں نے رکھی، لیکن اس کے ساتھ تعلق زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔ سو، ”وقت نیوز‘‘ وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، اس نے منہ موڑ لیا۔

کم و بیش پندرہ سال پہلے چچا بھتیجے کے اختلافات بے قابو ہو گئے۔ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ نوائے وقت گروپ عارف نظامی سے محروم ہو گیا۔ ایک قیامت تھی کہ جو برپا ہو گئی۔ عارف نے اپنا انگریزی روزنامہ ”پاکستان ٹوڈے‘‘ شروع کیا، روزنامہ ”جنگ‘‘ میں کالم لکھنے لگے، روزنامہ ”دنیا‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ 92 نیوز نے ان کا پروگرام شروع کیا تو کالم بھی وہیں منتقل ہو گیا۔ نئے ادارے کو خون کی ضرورت تھی، جو بے دھڑک فراہم کیا جارہا تھا۔ جدوجہد جاری تھی کہ دِل ہانپنے لگا۔ حمید نظامی مرحوم بھی دِل ہی کے عارضے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ مجید نظامی کے تین بائی پاس ہوئے، دِل ہی کا روگ عارف نظامی کی قربانی کا باعث بن گیا۔ عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پر قادر تھے۔ باخبر تھے، اور باعلم تھے۔ الفاظ کا چنائو سوچ کر کرتے لیکن لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی سی کہہ بھی گزرتے۔ ان کی رخصتی سے ذاتی طورپر تو نقصان ہوا ہی ہے کہ ان کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا، لیکن قومی صحافت کو بھی بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ آزادی کا استعمال کرنے والی صحافت میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے، جو آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا کہ اب اس خلا کو پُر کرنے کی ضرورت کا احساس ہی کم ہوتا جا رہا ہے؎

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساس زیاں جاتا رہا

مجیب الرحمن شامی

بشکریہ دنیا نیوز

ورلڈ بینک، ایف بی آر اور پاکستانی معیشت

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو چلانے کے قرضوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت معیشت کی کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی غیر ملکی قرض ہی ہیں۔ حکمران قرض لے کر عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ابھی ملک کے پاس اتنے اثاثے موجود ہیں جن کی بنا پر قرض مل سکتے ہیں۔ افسوس کہ آمدن میں اضافے کی بنیاد پر ملک چلانا حکمران طبقات کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ قرض لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ یاد رکھیے کہ قرضوں کی بنیاد پر ملک چلانا معاشی کمزوری کا آخری درجہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پچھلے تین سالوں سے اسی درجے پر فائز ہیں۔ ملکی اثاثے گروی رکھوانے کے بعد قرض لینے کا آخری آپشن عوام کو گروی رکھوانا ہے۔ جب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک یا آئی ایم ایف قرض دینے سے پہلے اس کی ادائیگی سے متعلق گارنٹی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ عوام پر ٹیکس بڑھا کر آپ کا پیٹ بھرا جائے گا، یعنی قرض کے حصول کے لیے ایک طرح سے عوام کو ہی گروی رکھوا دیا جاتا ہے ۔

ٹیکسز بڑھانے سے نہ صرف قرض بڑھتے رہتے ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے حسبِ روایت ڈالر ذخائر بڑھانے کے لیے ورلڈ بینک سے قرض مانگ رکھا تھا۔ ورلڈ بینک نے پہلے شرائط رکھیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مخصوص شرح سے اضافہ کیا جائے، سبسڈی ختم کی جائے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ میں پرائیویٹ ممبرزکو شامل کیا جائے اور قومی بجلی پالیسی کی منظوری دی جائے۔ وزارتِ خزانہ نے ہامی بھر لی اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔ جب عمل درآمد کا وقت آیا تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا جس پر ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالرز قرض کی قسط روک لی۔ 28 جون کو ورلڈ بینک نے دو سکیموں کے تحت 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کیا تھا۔ 400 ملین ڈالرز پاکستان پروگرام فار افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی‘ جسے پی ای اے سی ای بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوئے ہیں جبکہ مزید 400 ملین ڈالرز سکیورنگ ہیومین انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسفومیشن‘ جسے شفٹ ٹو بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوا۔

ورلڈ بینک نے شفٹ ٹو کے تحت منظور ہونے والے قرض کے 400 ملین ڈالرز تو فوری جاری کر دیے تھے لیکن پی ای اے سی ای کے تحت منظور ہونے والے 400 ملین ڈالرز معاہدے کی پاسداری کے بعد جاری کیے جانے تھے۔ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں ورلڈ بینک نے تین ماہ کا وقت دیا ہے جس کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور بقیہ رقم جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ ماہرین اس امر پر حیران تھے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھٹی جائزہ رپورٹ جاری ہونے میں تاخیر اور ایک ارب ڈالر کی قسط رک جانے کے بعد ورلڈ بینک نے کیسے 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کر لیا اور 400 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی کر دی گئی؟ ممکن ہے کہ بقیہ 400 ملین ڈالرز آئی ایم ایف سے تعلقات بہتر نہ ہونے تک منجمد رہیں۔ قرض کے کاغذات کے مطابق‘ ورلڈ بینک نے پانچ لاکھ ڈالرز بطور فیس چارج کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تک حکومت شرائط پوری کر کے قرض کی بقیہ رقم وصول نہیں کر لیتی اس پر صفر اعشاریہ پچیس فیصد اضافی سود چارج کیا جائے گا۔ قرض لینے کے لیے حکومت تیز رفتاری سے اقدامات کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن آمدن بڑھانے اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے اعداد و شمار مایوس کن ہیں۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن فنانس میں ایف بی آر کے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے پچھلے تین سالوں میں نان فائلرز کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے ہیں۔ اگر ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی بات کی جائے تو تقریباً تیرہ لاکھ نئے لوگ فائلرز بنے ہیں جو کل فائلرز کا تقریباً دس اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ نوٹسز میں چونسٹھ اعشاریہ تین ارب روپے کا ٹیکس واجب الادا تھا جس میں سے صرف دو اعشاریہ چھ ارب وصولیاں ہوئی ہیں جو محض چار فیصد بنتا ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی میں جے یو آئی (ایف) کے ممبر سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹسز بھیج کر عام شہریوں کو پریشان کرنا معمول بن گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معصوم لوگوں کو ڈرانے کے لیے نوٹسز بھیجے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے محکمے کے ملازمین کی بدنیتی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کے دستخطوں سے غلط نوٹسز بھیجے گئے ہیں‘ انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔

میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ دن پہلے قومی اسمبلی نے ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے مطابق نان فائلرز کی صورت میں اڑھائی کروڑ اور فائلرز کی صورت میں دس کروڑ روپوں کے ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ جس کی منظوری وزارتِ خزانہ کی کمیٹی سے لی جائے گی اور اس کے سربراہ وزیر خزانہ ہوں گے۔ ایک طرف ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے محکمے کو لامحدود اختیارات دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی صاحب نے بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں اعتراض اٹھایا ہے کہ محکمے کے ملازمین معصوم لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے نوٹسز بھیج رہے ہیں تاکہ ماحول کا فائدہ اٹھا کر جیبیں گرم کی جا سکیں، ایسے افسران کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے پہلے مالی سال 18ء تا 19ء میں تقریباً اکیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے تھے جن میں سے ایک لاکھ تہتر ہزار ریٹرنز جمع ہوئیں۔

نو ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار ہوئی جس میں سے صرف پچیس کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔ مالی سال 19ء تا 20ء میں تریسٹھ لاکھ ٹیکس نوٹسز جاری ہوئے اور دو لاکھ ستانوے ہزار دو سو بیاسی ریٹرنز جمع ہوئیں۔ بارہ ارب ستر کروڑ روپوں کی ٹیکس ڈیمانڈ بنائی گئی جس میں سے تقریباً ستاسٹھ کروڑ روپے اکٹھا ہوا۔ مالی سال 20ء تا 21ء میں تقریباً تینتالیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے۔ آٹھ لاکھ چھیالس ہزار دو سو چھیانوے لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائیں۔ ساڑھے بیالیس ارب کی ٹیکس ڈیمانڈ بھجوائی گئیں اور تقریباً پونے دو ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا۔ تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ نوٹسز کے جواب موصول نہیں ہوئے۔ ان اعداد و شمار کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے سسٹم میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔ افسران جان چھڑانے کے لیے ماتحت ملازمین کو غیر حقیقی اہداف دیتے ہیں جو ایک طرف ہدف سے کئی گنا کم ٹیکس وصولی کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف مبینہ طور پر کرپشن کے نئے راستے کھولتے ہیں۔

محکمے کے ان لینڈ ریونیو سروس آپریشن کے نمائندے نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں کو ٹیکس نوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کا کوئی بھی ٹیکس واجب الادا نہیں تھا۔ اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ میں کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کی بنا پر پورے ڈیپارٹمنٹ پر سوالیہ نشان نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ اور انسان ہیں‘ کوئی فرشتے نہیں، محکمے نے نوٹسز بھلے ضرورت سے زیادہ بھیجے ہیں لیکن گرفتاریاں نہیں کیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے افسران کے پاس گرفتاری کے اختیارات موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ان اختیارات پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں ممبر ایف بی آر کا جواب تسلی بخش دکھائی نہیں دیتا۔ اگر وہ اقرار کر رہے ہیں کہ افسران غلط نوٹسز بھیج کر مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں۔ جن ممالک میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے‘ ان کے افسران عوام کو غلط نوٹسز نہیں بھجواتے بلکہ معاملات کو حل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

میاں عمران احمد

بشکریہ دنیا نیوز

سید منور حسن کا ایک منفرد انٹرویو

بیس اپریل 2011 کو منصورہ پہنچ کر امیر جماعت مرحوم سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ملاقات کا اہتمام پروفیسر طیب گلزار صاحب نے کیا تھا۔ اس وقت میں ایک برطانوی پبلشنگ ادارے کی جانب سے پاکستانی کرکٹ پر مشہور برطانوی صحافی اور مصنف پیٹر اوبورن کی طرف سے کتاب لکھنے کے پروجیکٹ کیلئے ریسرچر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ امیر جماعت کے بارے میں چونکہ مشہور تھا کہ وہ نہ صرف کرکٹ کے شیدائی ہیں بلکہ ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے ہیں اس لئے میں نے ان سے اس حوالے سے انٹرویو کی گزارش کی تھی۔ یہ انٹرویو اوبورن کی کتاب کا حصہ نہیں بن سکا مگر مرحوم منور حسن صاحب کے دیگر انٹرویوز کے مقابلے میں یہ کافی منفرد ہے۔

س: پاکستانی کرکٹ میں آپ کس چیز سے متاثر ہیں؟
ج: ہماری کرکٹ کافی منفرد ہے۔ یہ ہمیشہ توانا احساسات، جذبات اور قومی جوش و خروش سے بھرپور ہوتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کی تمام ٹیموں کو شکست دی ہے اور یہ ایک انتہائی فرحت بخش اور اعلیٰ احساس ہے۔

س: آپ نے کب اس کھیل میں حصہ لینا شروع کیا؟
ج: پہلے ہی دن سے۔ میں نے اپنی گریجویشن تک کرکٹ کھیلی اور یونیورسٹی سطح پر بیڈمنٹن بھی کھیلی۔ میری ذاتی دلچسپی سے قطع نظر ہم نے اس کھیل کو نوجوانوں سے تعلقات بنانے کیلئے ایک وسیلہ بنایا۔ مارشل لاکی وجہ سے ہماری طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبا پر پابندی تھی اس لئے ہم نے کرکٹ اور بیڈمنٹن کے توسط سے نوجوانوں کو اسلامی خطوط پر منظم کرنے کی کوشش کی اور ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

س: کرکٹ کے ساتھ اب جماعت کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟
ج: اس کے بعد ہم نے اس سے کچھ خاص استفادہ نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ سرمائے اور وقت دونوں کی کمی ہے۔ شاید اب اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے کیونکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کافی جامع ہے۔

س: کیا آپ اس کھیل کو ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کیلئے وسیلہ سمجھتے ہیں؟ حال ہی میں بھارت کے شہر موہالی میں پاک بھارت کرکٹ میچ کے تناظر میں ‘کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں کی گئیں۔
ج: اس طرح کی اصطلاح کا استعمال افسوسناک ہے اور یہ کھیل اور اس کی روح کو بدنام کرنے کے منافی ہے کیونکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی غیر ذمہ دارانہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اصل مسئلے کشمیر پر تو بالکل ہی بات نہیں کی جارہی۔

س: آپ کے خیال میں کرکٹ کو کیوں استعمال کیا جارہا ہے؟
ج: کیونکہ اس خطے میں کرکٹ ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ اس لئے بھارت اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے اس کا استعمال کررہا ہے۔ اسے پورا یقین ہے کہ اسے کشمیر کے بارے میں کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وہ کرکٹ کا استعمال کرکے کشمیر کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ کو مسخر کررہا ہے۔

س: پاکستان کیلئے کرکٹ کی کیا حیثیت ہے؟
ج: کرکٹ کا کھیل پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس کی حمایت میں سودمند ہو سکتا ہے۔ مثلاـ’’ جب پاکستان کی جیت ہوتی ہے تو پوری قوم بارگاہِ ایزدی میں سجدہ شکر بجا لاتی ہے۔ یہی طریقہ کار ہماری ٹیم میں بھی ہے۔ وہ اپنی پریکٹس کے دوران بھی عبادت گزار رہتی ہے جیسا کہ موہالی میں دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ہندو شدت پسندوں کو یہ ادا پسند نہیں آئی۔

س: پاکستانی ٹیم میں اس اچانک مذہبی جذبے کے ظہور میں کیا وجوہات کارفرما ہیں؟
ج: پوری مسلم دنیا میں مذہب اور اس کے ارکان کے ساتھ وابستگی بڑھ رہی ہے جس کی جھلک ہمیں پاکستانی ٹیم میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ تاریخ ساز لمحات بھی اس میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں جیسا کہ نائن الیون کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔

س: بھارت کے ساتھ حالیہ سیمی فائنل کے بعد کئی پاکستانی تجزیہ کاروں نے عندیہ دیا کہ کرکٹ نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا اور باہمی ملی جذبات کو مستحکم کیا۔
ج: کرکٹ کے مثبت سماجی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے پاس اس سے بھی اہم اور مضبوط مشترکہ اقدار ہیں جو ہمیں مستقل طور پر متحد رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً جہاد کا معاملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرتا ہے۔ اسی طرح شریعت کا نفاذ تمام مسلم معاشروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ حال ہی میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر لاکھوں پاکستانی جمع ہو گئے۔

س: پاکستان میں کرکٹ کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟
ج: اِن شاء ﷲ مستقبل تابناک ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی ٹیم کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔

س: کیا آپ کے بچے کرکٹ کھیلتے ہیں؟
ج: جی وہ کھیلتے ہیں۔ (مسکراتے ہوئے) حال ہی میں میرے بیٹے نے ایک مقامی میچ میں اکتیس گیندوں پر 72 رنز بنائے۔

مرتضیٰ شبلی

بشکریہ روزنامہ جنگ

غدار سازی کی قانونی فیکٹری

وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بدترین قوانین بھی بہترین نیت سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ریاست بھلے جمہوری ہو کہ فسطائی کہ سامراجی کہ آمرانہ کہ نظریاتی۔ جب بھی کوئی تادیبی قانون نافذ کرتی ہے تو ایک جملہ ضرور کہا جاتا ہے ’’ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے‘‘۔ اور پھر یہی قانون ہر گدھے گھوڑے کو قطار میں رکھنے کے کام آتا ہے۔ بس انھی پر لاگو نہیں ہوتا جن کی سرکوبی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ خوف سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ جب انگریز نے انڈین پینل کوڈ میں اب سے ایک سو اکسٹھ برس پہلے غداری سے نپٹنے کے نام پر آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کا ٹیکہ لگایا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو انگریز سرکار کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جائے۔ انگریز تو چلا گیا، خود برطانیہ میں بھی ایسے قانون کا وجود نہیں مگر انڈیا اور پاکستان کے سانولے آقاؤں نے گورے کے مرتب کردہ لگ بھگ پونے دو سو برس پرانے نوآبادیاتی پینل کوڈ کے اندر سے تادیبی ضوابط کو چن چن کر اماں کے جہیز میں ملے منقش لوٹے کی طرح آج بھی سینے سے لگا رکھا ہے۔

مثلاً نوآبادیاتی دور کی یادگار پینل کوڈ کا آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کسی بھی شہری کو غدار قرار دے سکتا ہے، اگر حکومت ِ وقت کی نظر میں اس شہری نے اپنی زبان یا تحریر سے، براہ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں کنایوں میں یا کسی اور طریقے سے سرکار کی توہین کرنے یا اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہو۔ ایسے غدار کو تین برس سے عمر قید تک سزا ہو سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت قانون کے دائرے میں آزادیِ اظہار کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے مگر پینل کوڈ کے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے، اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے ایکٹ اور اسی کے دیگر چچیرے ممیرے قوانین کے تحت دونوں ملکوں میں اس آئینی آزادی کو بیڑیاں پہنانے کا بھی تسلی بخش انتظام رکھا گیا ہے۔ تادیبی قوانین کو کیسے موم کی ناک بنا کر انھی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے کہ جن کے تحفظ کے نام پر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ایمرجنسی کے تحت ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) کا قانون تھا۔ جسے نہ صرف ایوبی و یحییٰ آمریت بلکہ بھٹو دور میں بھی سیاسی مخالفین کی تواضع کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ایمرجنسی قانون کا حکمران کو سب سے بڑا اور فوری فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کسی بھی منہ پھٹ کی زباں بندی کے لیے اسے بنا کسی فردِ جرم نوے دن کے لیے جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ ضیا دور میں نفاذِ شریعت کے نام پر جو تعزیری قوانین بنائے گئے اور پینل کوڈ میں جو ترامیم کی گئیں ان کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا کہ عوام ایک نوآبادیاتی قانونی شکنجے سے آزاد ہو کر اس نظام کے تحت محفوظ زندگی بسر کر سکیں جس کے نفاذ کے لیے دراصل یہ ملک بنایا گیا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ شرعی تعزیری قوانین کو بھی سیاسی مخالفین کو لگام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس کی چاندی ہو گئی۔ اگر مٹھی گرم ہو گئی تو ملزم کے خلاف اینگلو سیکسن قانون کے تحت پرچہ کٹ گیا۔ نہ بات بنی تو ایف آئی آر میں تعزیری دفعات شامل کر دی گئیں۔ اب یہ ملزم کا کام ہے کہ وہ کبھی اس عدالت میں تو کبھی اس عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں جوتے گھساتا رہے۔

سرحد پار بھارت میں آرٹیکل دو سو چوبیس اے کے تحت کیسے کیسے غدار اور دہشت گرد پکڑے گئے۔  بال گنگا دھرتلک، گاندھی جی نوآبادیاتی دور میں اس آرٹیکل کے جال میں پھنسے۔ دورِ مودی میں کانگریسی رہنما ششہی تھرور، گجرات کے کسان رہنما ہاردک پٹیل، نامور ادیبہ اور سیاسی نقاد ارودن دھتی رائے، طالبِ علم رہنما کنہیا کمار ، معروف اداکارہ کنگنا رناوت ، سرکردہ صحافی راج دیپ سر ڈیسائی، ونود دعا، مرنال پانڈے، ظفر آغا ، کارٹونسٹ اسیم ترویدی وغیرہ وغیرہ۔ دو ہزار دس سے دو ہزار بیس تک کے دس برس میں انڈیا میں غداری کے آٹھ سو سولہ مقدمے درج کیے گئے۔ ان میں سے پینسٹھ فیصد پرچے مئی دو ہزار چودہ میں مودی سرکار بننے کے بعد کاٹے گئے۔ ایسے ایسے غدار گرفتار ہوئے کہ اصل غداروں نے بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ مثلاً گجرات کے ایک صحافی پر اس لیے غداری کا پرچہ کاٹ دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی کہ جلد ہی گجرات کی ریاستی قیادت بدلنے والی ہے۔ یو پی میں جب ایک صحافی نے ریپ ہونے والی ایک لڑکی کے گھر جا کر حقیقت جانے کی کوشش کی تو وہ بھی آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے تحت دھر لیا گیا۔

ریاست منی پور میں ایک رپورٹر نے جب سوشل میڈیا پر بی جے پی کے ایک صوبائی رہنما کی بیوی کی پوسٹ کا جواب دیا تو وہ بھی غداری میں پکڑا گیا۔ ایک شہری نے فیس بک پر ایک مودی مخالف کارٹون شئیر کیا تو اس کے ساتھ بھی یہی بیتی۔ ماحولیاتی تحریک سے وابستہ بائیس سالہ کارکن دیشا روی گریٹا تھون برگ کا ٹویٹ شئیر کرنے پر پولیس کے ہاتھوں پرچہ کٹوا بیٹھی۔ ریاست کرناٹک کے ایک اسکول میں جب بچوں نے شہریت کے نئے قانون سے متعلق ڈرامہ پیش کیا تو ایک دس سالہ بچی کے منہ سے ادا ہونے والے ایک جملے کے جرم میں اس کی ماں کو پکڑ لیا گیا اور اسکول کی پرنسپل اور عملے پر غداری کا پرچہ ہو گیا۔ پاکستان میں ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو اور سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی سمیت چوہتر برس میں متعدد سیاسی رہنما ، سماجی و سیاسی کارکن ، صحافی ، ادیب اور دانشور آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے غدار بنے۔ چند ماہ قبل مسلم لیگ نون کی لاہور میں نکلنے والی ایک ریلی کے بعد لگ بھگ ڈھائی سو لوگوں پر یہ قانون ٹھوک دیا گیا۔

سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سہولتوں کی کمی پر وائس چانسلر دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے طلبا اور لاہور میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے جلوس نکالنے والے بیسیوں نوجوان بھی غداری کے پرچے میں پھنس گئے۔ گویا قانون نہ ہوا اندھے کی لاٹھی ہو گئی جیسے چاہے گھما دی۔ اس برس جنوری میں پاکستانی سینیٹ کی قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کو قانون کی کتابوں سے نکالنے کا پیش کردہ بل منظور کیا جانا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ انڈین سپریم کورٹ کا جانے مانے صحافی ونود دعا کو غداری کے الزام سے بری کرنا بھی خوشی کی خبر ہے۔ ونود دعا پر گزشتہ برس مارچ میں اس وقت غداری کا پرچہ کاٹا گیا جب انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کوویڈ لاک ڈاؤن کے سبب بھارت کے مختلف علاقوں میں پھنس جانے والے لاکھوں مزدوروں کی تکلیف کا ذمے دار سرکاری پالیسیوں کو قرار دیا۔

انھیں بری کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک بار پھر یہ اصول دھرایا گیا ہے کہ سرکاری پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر کڑی سے کڑی تنقید بھی غداری کے دائرے میں نہیں آتی۔ ایسی تنقید جو سدھار کی نیت سے کی جائے ایک صحت مند سماج کی نشانی ہے۔ حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ ایسے قانون پھٹیچر ہو چکے ہیں۔کوئی بھی اعلیٰ عدالت ان کے تحت بنائے گئے زیادہ تر مقدمات ایک سماعت میں ہی خارج کر دے گی۔ مگر ضمانت ہوتے ہوتے ملزم کو کم ازکم دباؤ میں تو رکھا ہی جا سکتا ہے۔ اس کی ناک تو رگڑی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ایسے قوانین کتابوں سے خارج کرنے کا کسی بھی سرکار کا دل نہیں چاہتا۔ دل بس تب چاہتا ہے جب سرکاری پارٹی اپوزیشن کی بنچوں پر جا بیٹھتی ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز