پاکستانی کوہ پیما : ’پہاڑوں کے بادشاہ‘ مگر اعتراف سے محروم

دنیا بھر میں کوہ پیماؤں کے لیے مال برداری مقامی کوہستانی لوگ کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ ہو یا کے ٹو، ہر جگہ مقامی لوگ ہی غیر ملکی کوہ پیماؤں کی مدد کرتے ہیں لیکن ان کی کوہ پیمائی کی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔ نیپال کے شرپا کہلانے والے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ ان کا سامان لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے شوقین ملکی اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو مقامی پہاڑی یا کوہستانی افراد کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ شرپا ہوں یا پاکستان کے کوہستانی، یہ حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مہم جوئی کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔

اس خطرناک سفر میں کئی افراد نے شدید برفانی موسموں میں اپنی جانیں بھی ضائع کی ہیں اور کئی ایک کو تو عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے جری مہم جو افراد میں سے ایک فضل علی بھی ہیں، اور یہ دنیا کے واحد شخص ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ کے ٹو کی چوٹی سر کی ہے۔ کے ٹو نامی چوٹی کو ’ہلاکت خیز پہاڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بلندی تک پہنچنے والا کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہے۔ اس وقت چالیس برس کی عمر کے فضل علی کو کوہ پیمائی کرتے ہوئے بیس برس ہو گئے ہیں۔ کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑی راستوں پر سامان برداری اور رہنمائی کرنا اُن کا پیشہ ہے۔ انہوں نے کے ٹو کو سن 2014، 2017 اور 2018 میں سر کیا ہے۔ وہ کے ٹو کی انتہائی خطرناک ڈھلانوں پر مختصر سی جگہ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے کھانا پکانے کے علاوہ کسی تنگ درے یا راستے کے برفباری کے باعث بند ہو جانے کے بعد کسی دوسرے راستے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔

گِنیس ورلڈ ریکارڈ کے ایبرہارڈ ژُور گالسکی کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے شعبے میں فضل علی واحد مہم جو ہیں، جنہیں ’سفاک پہاڑ‘ کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے پیشہ ور مہم جو افراد میں فضل علی کو ایک معتبر حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی کوہ پیماؤں کی مدد کرنے والی کمیونٹی میں بھی ان کو بہت تکریم حاصل ہے۔ گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کیے جانے پر فضل علی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تاسف کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اُن کے اس اعزاز کو کبھی بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کوہ پیما بھی ابتدا میں بہت وعدے کرتے ہیں، لیکن کام نکل جانے کے بعد وہ بھی اُن جیسے افراد کو بھول جاتے ہیں۔ علی کے مطابق غیر ملکی کوہ پیما اُن کی رہنمائی میں چوٹیاں سر کرتے ہیں اور بلندی پر پہنچ کر اپنی تصویریں اکیلے بنواتے ہیں، جو حقیقت سے انکار کے برابر ہے۔ پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔

بشکریہ DW اردو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s