پاکستان میں پانی کا بحران : سنگین قومی چیلنج

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے جن ملکوں کو پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا ہے پاکستان اُن میں سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول آنے والے برسوں میں اس بحران کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔ اس صورت حال کی بناء پر مسئلے سے نمٹنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز عالمی یومِ ماحولیات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ پاکستان کو 80 فیصد پانی گلیشیروں سے ملتا ہے جو زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو انسانیت کی بقا کے لئے ضرورت کے مطابق مالیاتی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی جانب سے کاربن کا اخراج کم کیے جانے پر زور دیا۔

اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030ء تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دیں گے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہوں گے اور موسمی تبدیلیاں ختم ہوں گی، آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی اور حیوانی حیات کو تحفظ ملے گا۔ اس موقع پرچینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یومِ ماحولیات کی کامیاب میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ماحولیات کے شعبے کی ترقی میں پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صراحت کی کہ کوئی ایک ملک مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

بلاشبہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری انسانی دنیا کا ایسا مسئلہ ہیں جن کے حل کی کوششوں میں لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک کر چکی ہے اور اب اس سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ کاوشوں کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم ہم اہلِ پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری کی طرف دیکھتے رہنے کے بجائے اپنے حصے کا کام انجام دینے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات کم سے کم ممکنہ مدت میں مکمل کر لینے چاہئیں کیونکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ گلیشیروں سے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کا ازالہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر انتظامات سے ممکن ہے جس کا کم و بیش 90 فیصد حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہی ضروری نہیں یہ کام مقامی سطح پر ملک بھر میں چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیں بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بارش کا زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی اور ٹیوب ویلوں وغیرہ کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اسی طرح پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو رواج دنیا بھی ضروری ہے۔ زرعی فصلوں کی آبیاری کے لئے اب ایسے طریقے دنیا کے مختلف ملکوں میں مروج ہیں جن میں فصلوں کو دیے جانے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کی معمولی مقدار بھی ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔ ہمارے ہاں بھی یہ طریقے ہنگامی بنیادوں پر متعارف کرائے جانے چاہئیں۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں کا بھی کم سے کم وقت میں مکمل کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگرہمارے قومی وجود کا برقرار رہنا غیریقینی ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s