فیصل آباد اور گھنٹہ گھر

فیصل آباد جس کو آٹھ راستوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہاں کا گھنٹہ گھر بہت مشہور ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی برصغیر اور پنجاب پر حملہ ہوا تو اس دھرتی کے سپوت سامنے آتے۔ 1903 سے یہاں آبادی شروع ہوئی۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ ڈالتے۔ ابتدائی دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا بعد میں پنجاب کے گورنر کے نام سے ’’لائل پور‘‘ رکھا گیا۔ شہر کا مرکز ایسے مستطیل رقبہ میں واقع ہے جہاں پر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں (اشکال) میں آٹھ سڑکوں میں تقسیم کیا گیا۔ جہاں آٹھ راستے ملتے ہیں وہیں ایک گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا گھنٹہ گھر جانے والی آٹھوں سڑکیں دراصل یہ آٹھ بازار ہیں۔ جھنگ بازار، گوانابازار، امین پور بازار، چنیوٹ بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، منٹگمری بازار، ریل بازار۔

دراصل 1895 میں یہاں پہلی رہائش تعمیر ہوئی، 1897 میں اس شہر کی بنیاد رکھی جس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جیمز براڈ لاسٹل کے نام سے لائل پور رکھا گیا یہی اس شہر کا پہلا نام پڑا۔ لائل پور سے قبل یہاں پکا ماڑی قدیم رہائشی قبیلہ تھا، جس کو آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ اس علاقے کو بعد میں بلدیہ کا درجہ دیا گیا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے کیا اور اسکا سنگ بنیاد 1903 میں لیفٹیننٹ سرجیمز لائل نے ہی رکھا۔ گھنٹہ گھر میں استعمال ہونے والا پتھر قریبی پہاڑی سلسلہ سے لیا گیا۔ گھنٹہ گھر جس جگہ موجود ہے اس کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک کنواں تھا۔ گھنٹہ گھر چالیس ہزار کی مالیت سے دو سال میں مکمل ہوا۔ لندن کی کیپ کمپنی بمبئی میں تھی وہاں سے اس کی بڑی گھڑیاں لائی گئیں۔ بعد ازاں سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے کرائے گئے بہت سے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شہر کا نام ’’فیصل آباد‘‘ رکھا دیا گیا۔

یہ نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ موصوف نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1985 میں فیصل آباد کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔  اس ڈویژن میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع جھنگ اور ضلع فیصل آباد شامل ہوئے۔ اس کی چھ تحصیلیں ہیں جن میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، سمندری، جڑانوالہ اور ٹانٹیاں والا شامل ہے۔ لائل پور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، جناح پارک اور مدینہ ٹاؤن اس شہر کے اہم مقامات ہیں۔ فیصل آباد ان چار اضلاع میں سے ہے جن کا نام پچھلے پچاس سالوں میں تبدیل کیا گیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت یہ ایک زراعتی شہر تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ ترقی کر کے ایک صنعتی شہر بن گیا اور پاکستان کا مانچسٹر کہلانے لگا۔ پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہے آبادی کے لحاظ سے کراچی اور لاہور کے بعد فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

کبھی اسے برصغیر کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، لوگوں نے روزگار کے لیے شہر میں آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع کیا اس وجہ سے یہ ایک بڑا شہر بن گیا۔  پاکستان کا 25 فیصد زر مبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے۔ مسیح قبرستان تقریباً سو سال پرانا ہے اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کتبوں کے ساتھ مرحوم شدگان کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ فیصل آباد کا خصوصی گھنٹہ گھر تاج برطانیہ کے دور میں 1904 میں تعمیر ہوا۔ اس کی گھڑیوں کا وزن ستر کلو ہے ایک ویٹ کا وزن 150 دوسری 125 کلو، پنڈولم تقریباً 200 کلو وزنی ہے۔ گھنٹہ گھر کی کلاک مشین جس کا وزن سیکڑوں کلو بتایا جاتا ہے۔ عمارت کے چو طرفہ ستر، ستر کلو کے چار کلاک نصب ہیں اور یہ چاروں گھڑیاں صرف ایک ہی مشین سے چل رہی ہیں۔ ان گھڑیوں کی صرف ایک سوئی کا وزن تقریباً ڈیڑھ کے جی ہے۔

مشین اور گھڑیوں پر گھڑی ساز کمپنی جو کہ بمبئی میں تھی 1904 کھدا ہوا ہے۔ گھنٹہ گھر سے المعروف آٹھ بازار صاف نظر آتے ہیں۔ 1904 میں فیصل آباد سٹی آباد ہوا اور اس کے گرد آٹھ بازار ڈیزائن کیے گئے۔ کچہری بازار کچہری کی طرف جاتا ہے ضلع کچہری صاف نظر آتا ہے۔ ریل بازار ریلوے اسٹیشن کی طرف، کارخانہ بازار۔ یہاں کارخانہ والا ساز و سامان کی مارکیٹ کی طرف جاتا ہے۔ کارخانہ میں استعمال ہونے والا ساز و سمان اس جگہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ منٹگمری بازار پھر دوسری طرف گوانا بازار منٹگمری کی طرف اور گوانہ بازار، گوانا سٹی کی طرف اسی لیے اسے گوانا بازار کہتے ہیں۔ چنیوٹ بازا ر چنیوٹ کی طرف، آگے جھنگ بازار اس کا رخ جھنگ سٹی کی طرف ہے۔ چونکہ پہلے ساہیوال کا پرانا نام منٹگمری تھا لہٰذا یہ اس جانب جاتا ہے۔

گھنٹہ گھر کو دیکھنے پر برٹش دور کی تاریخ نظر آتی ہے۔ جیساکہ میں نے عرض کیا یہ گھڑیاں بمعہ ساز و سامان لندن بروچکی کمپنی بمبئی کی 1904 سے چلائی  گئیں جن میں چابی لگتی ہے۔ اس کے تین عدد ویٹ ہیں پنڈولم درمیان میں لگا ہوا ہے یہ ہیوی ویٹ وائنڈنگ کرنے کے بعد گھڑیوں کو چلاتے ہیں۔ ایک ویٹ نچلی طرف دو ویٹ اوپر کی جانب ہیں۔ میں نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مشین کو بخوبی دیکھا جو کہ دھانسو قسم کی مشین ہے۔ چونکہ میں رات کے وقت یہاں تھا، میں نے دیکھا منظر شاندار تھا۔ میں نے اپنی گھڑی دیکھی تو رات کے ایک بجا رہی تھی۔ لیکن اس قدر رونق تھی کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ رات ایک بج چکے ہیں۔ میں گھنٹہ گھر میں داخل ہوا یہ میری زندگی کا پہلا مشاہدہ تھا کہ یہ ساری عمارت جوں کی توں موجود ہے۔ میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل تک جا پہنچا جہاں میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہاں سے سارے بازار صاف نظر آرہے تھے۔

میں 19 جون کو گھنٹہ گھرآیا اور اب 20 جون ہو چکی تھی میں نے نوٹ بک دیکھی جس میں ڈائل کے سائز ساڑھے پانچ فٹ درج تھے آخری منزل پر ایک پنڈولم دیکھا جوکہ میرے اندازے کے مطابق دو سو کلو گرام سے زیادہ وزنی معلوم دیتا ہے۔ منٹ والی سوئی پونے تین فٹ، گھنٹہ کو دکھانے والے دو فٹ کی سوئیاں ہیں۔ سارا خود کار نظام موجودہ ورکرز نہایت محنت، مشقت سے کام کر رہے ہیں۔ چاروں گھڑیوں کو پیرل ایک ہی وقت پر گراریوں کے ساتھ چلتی ہیں لیور لگا ہے جو گھنٹہ بجاتا ہے اس میں چابی پھیرنا مشکل کام ہے ساتھ ہی موٹی تاریں لگی ہوئی ہیں۔ تینوں وقت چابیاں دینی ہوتی ہیں گھنٹوں کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر سسٹم ہے۔ ایمپلی فائر لگا ہوا ہے جہاں لاؤڈ اسپیکر نظر آتے ہیں۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s