محکمۂ پولیس روبہ زوال کیوں؟

انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مختلف ناموں سے پولیس فورس سماج سے جرائم کے خاتمے، قیامِ امن، اور قانون کی بالا دستی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس ڈیوٹی میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی نائن الیون کے بعد بڑھتی دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے پولیس کی روایتی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ موجودہ عالمی تناظر میں قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ماضی میں پولیس سروس آف پاکستان کے افسران بیرونِ ممالک بھی قانون کی عملداری کے فرائض بجا لاتے رہے ہیں۔ آج حکومتی و سیاسی دخل اندازی اور پولیس کو سیاسی و گروہی فائدے کیلئے استعمال کرنے کی روش کی بدولت یہ اہم ترین شعبہ روبہ زوال ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بدلتے تقاضوں کے ساتھ اس اہم ترین قومی سلامتی کے ادارے کو اقربا پروری، ملکی سیاست اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

نہ تو گزشتہ 74 برسوں میں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکی اور نہ ہی میرٹ کی بالا دستی، قوانین کی تبدیلی، تربیت کی مناسب سہولتیں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں اشرافیہ سمیت حکومتی و سیاسی طبقے کے شکنجے سے نجات مل سکی۔ ہمارا موجودہ پولیس کا نظام برطانوی راج کا تحفہ ہے؛ اگرچہ 1861ء ایکٹ کی جگہ2002ء پولیس آرڈر لایا گیا جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام، قومی، صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر پولیس کو خود مختاری ملی اور عوام کو بھی پولیس کے محاسبے کا اختیار تفویض ہوا تاکہ پولیس اور عوام کے مابین ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو سکے مگر چہ معنی دارد؟ پولیس کا مورال عوام کے نزدیک اس قدر گر چکا ہے کہ بالخصوص پنجاب پولیس کا تصور آتے ہی خوف کی ایک لہر سی پورے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کے بڑے شہروں کی نسبت جنوبی پنجاب سمیت دیگر پسماندہ و دور دراز علاقوں میں پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ وہاں کے پولیس سٹیشن عقوبت خانوں کا دوسرا روپ ہیں۔ آئے روز اخبارات ان کی زیادتیوں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کرپشن، رشوت ستانی، تشدد کی خبریں بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ پاک فوج کی طرح محکمہ پولیس کے ایک معمولی سپاہی سے لے کر افسرانِ بالا تک‘ سب میں مادرِ وطن کے تحفظ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، وہ الگ بات کہ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے کا پورا محکمہ بدنام ہو چکا ہے اور فرض شناس و ایماندار پولیس اہلکاروں اور افسروں کے اچھے کارنامے بھی یکساں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے کالم کے ذریعے چند گزارشات کرنا چاہوں گا کہ ‘ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ‘ اور متعلقہ اربابِ حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ مذکورہ ڈپارٹمنٹ میں بے جا سیا سی مداخلت نے قومی سلامتی کے ادارے پر مضر اثرات مرتب کئے ہیں اور پولیس کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ فرض کریں اگر کوئی ایماندار، فرض شناس سپاہی یا پولیس افسر اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے تو بدلے میں اسے کیا ملے گا؟ اس کا متعلقہ علاقے کے حکومتی و عوامی نمائندوں کے مفادات کے خلاف نعرۂ حق بلند کرنا اگلے ہی روز اس کے تبادلے کا سبب بن جائے گا؛ چنانچہ پولیس کے حالات موجودہ نہج تک پہنچانے میں حکومتی و سیاسی اراکین کا کردار اہم رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے گزشتہ حکومتی دور میں کے پی پولیس اصلاحات کا خوب چرچا کرتے رہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا۔ اسی مقصد کے پیش نظر پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ سابق آئی جی کے پی ناصر درانی مرحوم کو پنجاب میں بھی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی مگر افسوس تحریک انصاف حکومت بلند بانگ دعووں تک محدود رہی اورپولیس سے سیاسی اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے کسی طور آمادہ دکھائی نہیں دی؛ ناصر درانی کے استعفے کو بھی اسی سوچ کا شاخسانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ پنجاب پولیس ان کی خدمات سے استفادہ نہ کر سکی۔ ان حالات میں بھی راولپنڈی پولیس نے اعلیٰ کارکردگی میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کھلی کچہری میں 20 ہزار سے زائد افراد کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کرنا یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ میں کسی کی تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہا لیکن یہ سچ ہے کہ محکمہ پولیس میں چند انقلابی اقدامات نے محکمے میں اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ایسا سسٹم صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت پسماندہ علاقوں میں بھی اپنایا جائے۔ مجھے خود سی پی او راولپنڈی کی ایک کھلی کچہری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں سائلوں کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر بڑے احسن طریقے سے باری آنے پر ہر سائل کی شکایات سنی جاتی ہے اور اس کی داد رسی کیلئے فوری طور پر متعلقہ افسر و ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس کا آفیشل سوشل میڈیا پیج بھی کھلی کچہری کا انعقاد کرتا ہے اور یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکوں کی مانند انقلابی اقدامات محکمے کی نیک نامی میں اضافے کے ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان خلیج پاٹنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ شہر میں امن و امان کی بہتر صورتحال اور جرائم میں واضح کمی بالخصوص کار چوری کی وارداتیں کم ہونے پر پولیس افسران لائقِ ستائش ہیں۔ بلاشبہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز ہو چکا ہے۔

پنجاب پولیس جس کا نام سن کر ایک ظالم‘ جابر پولیس کا تصور ذہن میں آتا ہے اسے ایک خوشگوار تبدیلی کے ذریعے واقعی ‘ پولیس کا فرض مدد آپ کی ‘ کے سلوگن میں ڈھالا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس وسائل کا اغوا برائے تاوان اور ریپ کیسز میں استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ لاک ڈائون جیسی آزمائش کی گھڑی میں پولیس پر کئی اضافی ذمہ داریاں بھی آئیں جن سے پولیس بخوبی عہدبرآ ہوئی۔ دکانوں اور کاروبار کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ٹرانس جینڈرز، خواتین و بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت خواتین کیلئے ہراسمنٹ رپورٹنگ یونٹ کی تشکیل اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے شکایات کے ازالہ کیلئے مفید ریفارمز کی گئیں۔ پاک فوج کے علاوہ دیگر سکیورٹی اداروں اور پولیس کے جوانوں نے بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں شہادتیں پائی ہیں اور شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں۔

پولیس والوں کے برے کاموں کا تو خوب شوروغوغا کیا جاتا ہے‘ بدعنوانی، زیادتی اور اختیارات سے تجاوز کی خبریں تو بڑھ چڑھ کر نشر کی جاتی ہیں لیکن ان کی قربانیاں اور اچھے کاموں کی اس طرح کوریج نہیں کی جاتی جو ان کا حق بنتا ہے۔ پولیس کے شہدا و غازی ہنوز پذیرائی سے محروم ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ پولیس آفیسرز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے پولیس کے شہدا کی تصاویر شہر کی اہم شاہراہوں پر آویزاں کر کے ان کو عزت و رتبہ دیا جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کیلئے اس سے بہترخراجِ تحسین نہیں ہو سکتا۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے تاریخی اقدامات کرتے ہوئے ان کی چھٹیوں، میڈیکل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ بہتر پرفارمنس اور بہادری کے جوہر دکھانے والے پولیس اہلکاروں کے لیے نقد انعامات و تعریفی سرٹیفکیٹس اور ناقص کارکردگی کی صورت میں سخت تادیبی محکمانہ کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر حسنِ نیت ہو اور کچھ کرنے کی ٹھان لی جائے تو بہت بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے، جبکہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے اگر محکمانہ اصلاحات کی جائیں تو کم وقت میں یقینا بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آگیا کہ محکمہ پولیس سیاست سے مبریٰ کیا جائے تاکہ پولیس کا مورال بلند ہو اور عوام کی نظر میں پولیس والوں کا ایک بہتر امیج ابھرے جس سے اس ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو اور صحیح معنوں میں یہ قومی خدمتگار ادارہ بن سکے۔

محمد عبداللہ حمید گل

بشکریہ دنیا نیوز

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s