افریقہ بھی پاکستان پر بازی لے گیا

افریقی براعظم پولیو کی بیماری سے آزاد ہو گیا ہے، اب صرف پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو ہر سال کئی بچوں کی زندگیاں متاثر کرتا ہے۔ افریقی ریجینل سرٹیفیکیشن کمیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ گزشتہ چار سال سے افریقہ میں پولیو کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ایک وقت تھا جب اس براعظم میں سالانہ 75 ہزار کیس ریکارڈ کیے جاتے تھے۔ اب دنیا میں پاکستان اور افغانستان صرف ایسے دو ممالک ہیں جہاں ہیلتھ ورکرز پر حملوں اور سکیورٹی صورتحال کے باعث پولیو وائرس اب بھی پانچ سال سے کم عمر کئی بچوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اس سال پاکستان میں پولیو کے 65 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا اور ماضی میں ایبولا سے نبرد آزما افریقہ سے پولیو کے خاتمے پر عالمی سطح پر مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عالمی ادارہء صحت افریقہ کی ڈائریکڑ ماٹشیڈیسو مویٹی کا کہنا ہے،”یہ ایک بہت بڑا اور بہت جذباتی دن ہے لیکن ہمیں ابھی احتیاط کرنا ہوں گی کیوں کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پولیو کی ویکسین ہر علاقے تک پہنچنا مشکل ہے۔‘‘ واضح رہے کہ سمال پوکس یا چیچک کے بعد پولیو دوسرا وائرس ہے، جس کا افریقہ سے خاتمہ کیا جا سکا ہے۔
براعظم افریقہ میں نائیجریا وہ واحد ملک تھا جہاں آخری مرتبہ پولیو کے کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے اور جہاں بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنظیم کے سائے تلے پولیو ورکرز اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ نائجیریا میں آخری کیس 2016ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکام کا یہ کہنا کہ پولیو کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے درست نہ ہو گا کیوں کہ اب بھی ویکیسنز میں موجود پولیو وائرس کی انتہائی کمزور قسم کم از کم سولہ افریقی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ ملک کے کم از کم نوے فیصد بچوں کو پولیو ویکیسن دی جائے اور اب بھی نائیجریا سمیت افریقہ کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں تک پولیو ویکسین پہنچانا اتنا آسان نہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

ٹڈی دل کے باعث سوا کروڑ انسانوں کو فاقوں کا خطرہ ہے

مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کے حملوں کے باعث سوا کروڑ سے زائد انسانوں کے فاقوں کا شکار ہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ نے اس ’خوفناک مسئلے‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق براعظم افریقہ کے مشرقی حصے میں اتنی زیادہ تعداد میں ٹڈی دل زرعی شعبے میں فصلوں اور درختوں پر حملے کر رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے ‘خوفناک مسئلے‘ کو بروقت حل کرنا بظاہر مشکل سے مشکل تر نظر آنے لگا ہے۔ عالمی ادارے نے بین الاقوامی برادری سے اس ٹڈی دل سے نمٹنے کی کارروائیوں میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حشرات کی وجہ سے سوا کروڑ سے زائد (13 ملین) انسانوں کی بقا کو شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے، کیونکہ یہ ٹڈیاں ان انسانوں کی خوراک یا تو کھا جائیں گی یا اسے بالکل ناکارہ بنا دیں گی۔

کئی ممالک بری طرح متاثر
اقوام متحدہ کے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کے رابطہ کار مارک لوکاک نے نیو یارک میں بتایا کہ اگر عالمی برادری نے اس مسئلے کے حل کی طرف فوری توجہ نہ دی، تو پورے مشرقی افریقی خطے میں اس سال کے دوران عام لوگوں کے لیے خوراک کی دستیابی کی صورت حال تشویش ناک صورت اختیار کر جائے گی۔ اپنے پیچھے کسی قدرتی آفت کی طرح کے اثرات چھوڑ جانے والے ان ٹڈی دلوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں صومالیہ، ایتھوپیا اور کینیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند روز پہلے یہی ٹڈی دل یوگنڈا بھی پہنچ گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق ان ٹڈی دلوں سے نمٹنے کے لیے کم از کم بھی 76 ملین ڈالر کے برابر مالی وسائل درکار ہیں جبکہ اب تک ان رقوم میں سے اس ادارے کو صرف 20 ملین ڈالر ہی مل سکے ہیں۔

تباہی کی شدت
ماہرین کے مطابق صحراؤں میں پرورش پانے والے ٹڈی دل علاقائی سطح پر موسمی حالات کے باعث اس وقت انتہائی تیز رفتاری سے نمو پا رہے ہیں اور حیاتیاتی حوالے سے ان حشرات کی فی کس اوسط عمر بھی کافی زیادہ ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی خطے میں جب ان ٹڈیوں کو اپنی بقا خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے، تو وہ کئی کئی لاکھ کے گروہوں کی صورت میں مل کر کسی نہ کسی نئے علاقے کا رخ کر لیتے ہیں۔ ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق یہ ٹڈی دل اتنے بڑے اور اتنے تیز رفتار ہیں، کہ وہ ایک دن میں 150 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ پھر جب یہ کسی بھی علاقے پر حملہ کرتے ہیں تو اپنی شدید بھوک اور افزائش نسل کے بہت شدید حیاتیاتی رویوں کے نتیجے میں اپنے پیچھے تباہی اور بربادی کے وسیع و مناظر چھوڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو