میر ظفراللہ جمالی : ایک شائستہ سیاستدان

میر ظفراللہ جمالی ملکی سیاست میں اپنے شائستہ اور دھیمے لہجے کے ان سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جب سیاست میں نظریات ، اصول ، قومی ایشوز اور خطے وعلاقائی سیاست سمیت عالمی سیاسی حالات قومی رہنماؤں کا خاص موضوع ہوا کرتے تھے، میرصاحب سیاست میں مفاہمت اور اشتراک عمل کے ساتھ سیاسی معاملات کے حل پر یقین رکھتے تھے، وہ سیاست میں متنازعہ معاملات کو کثیر جہتی مشاورت سے حل کرنے کو صائب انداز فکر سمجھتے اور ملکی سلامتی، اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کو اولیت دیتے تھے۔ اپنے پورے سیاسی کیریئر میں دھیمے مزاج کے سیاستدان کے طور پر اپنا ایک الگ تشخص برقرار رکھا۔ میر ظفر اللہ جمالی یکم جنوری 1944 کو پیدا ہوئے، ان کا تعلق ضلع نصیرآباد کے علاقے روجھان کے سیاسی خانوادے سے تھا، انھوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1970 میں کیا، پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر 1977 میں پہلی بار بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، دو بار سینیٹ کے رکن، نگران وزیراعلیٰ بلوچستان اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔ انھیں جنرل ضیا الحق کے دور میں وزیرمملکت مقرر کیا گیا، وہ 23 نومبر 2002 میں ملک کے 13ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے، 26 جون 2004 کو انھوں نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان میں کان کنوں کی تلخ زندگیوں کو راحت میں بدلیں

مقام افسوس ہے کہ پاکستان میں کان کنی کا شعبہ اٹھارویں صدی کے طور طریقوں پر ہی کام کر رہا ہے، لہذا حادثات کے رونما ہونے کا تسلسل برقرار ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روزکا معمول کہا جاسکتا ہے۔ مختلف معدنیات مثلاً نمک، کوئلہ اور جپسیم کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے حالات سخت مشقت کے باوجود انتہائی پسماندہ ہیں اور نہایت قلیل اجرت سے جڑے ہونے کی وجہ سے گھمبیر مسائل کا شکار بھی ہیں۔ ایسا کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں کانوں کے مالکان با اثر ہوتے ہیں، ان کو کانکنوں کی ترقی اور ان کی صحت و سلامتی سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ کانکن، کانوں میں میتھین گیس کے جمع ہو جانے، کان کے بیٹھ جانے، کان میں ہوا کا دباؤ کم ہو جانے، آگ لگنے، زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یہ حقائق اور اعدادوشمار صرف بلوچستان کے ہیں۔

ایک بڑی تعداد ان مزدوروں کی بھی ہے جن کو کان کا ٹھیکیدار اس کا قانون کے مطابق ریکارڈ بنائے بغیر دیہاڑی دار مزدور کے طور پر صرف سستی لیبر کے حصول کے لیے اسے کام پر بھیج دیتا ہے، ایسا ورکر اگر حادثے میں مارا جائے تو اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ کان کے حادثات میں جو مزدور زخمی ہو جاتے ہیں ان کی زیادہ تعداد زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں جہاں پہاڑیوں کو توڑ کر بجری بنانے کے لیے پتھر حاصل کیا جاتا ہے اس شعبہ میں سیکڑوں مزدور پہاڑیوں سے گر کر یا پہاڑیوں کے پتھروں کے نیچے آکر جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔ اس شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کا زیادہ تر تعلق ضلع سوات، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اور جب یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ برقرار رکھنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

کانوں کے اندر رونما ہونے والے حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ تین سے سات ہزار فٹ کی گہرائی میں جا کر کام کرنے والے کانکن، کان میں اڑنے والی گرد، ہوا کے کم دباؤ اورکام کی سختی کی وجہ سے ٹی بی، دمہ، پٹھوں کی مختلف بیماریوں کے علاوہ خارش اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں کانوں سے مال گدھوں پر لاد کر کان سے باہر لایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بھی ایسی کان نہیں جس میں آپ کھڑے ہو کر کان کے اندر جا سکیں۔ کان کنوں کو دوران کام پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا جس کی سپلائی قانون کے مطابق ضروری ہے۔ کان کن دوران کام گندا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شعبہ ملک کی کل آمدنی میں 3 سے 5 فی صد تک حصہ ڈالتا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ محنت کش وابستہ ہیں، اس شعبے کو ترقی دے کر قومی آمدن میں اس کے حصہ کو بہت مناسب حد تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کون کرے اور کیوں کرے؟

ایک جانب تو پاکستان میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو کسی بھی قسم کے حقوق حاصل نہیں ہیں بلکہ وہ بیچارے تو مائنز یعنی قبروں میں مزدوری کر کے روٹی روزی کماتے ہیں لیکن دوسری جانب لاطینی امریکا کے ملک چلی میں دنیا نے انسان دوستی ، ہمت وجرات کا عجب نظارہ دیکھا۔ وہ بھی اڑسٹھ دن تک۔ کان میں بتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور پچاسی فیصد نمی تھی جب کارکنوں کو زندہ بچانے کے لیے چھ سو میٹر سے زیادہ تک امدادی کیپسول بنایا گیا تھا ، جس کے ذریعے ان خوراک فراہم کی جاتی تھی۔ جائے وقوع پر موجود دو ممالک کے صدور نے حصہ لیا بلکہ ٹیلی فون کے ذریعے صدر اوباما اور وزیر اعظم کیمرون سمیت کئی عالمی شخصیات بھی شامل رہیں۔ یعنی کان کن کو بحفاظت نکالنے کا ایسا مشن تھا، جو دنیا میں آج ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چلی کی حکومت اور ذمے دار اہلکاروں نے امدادی مشن تخلیق کیا اور بعد میں جس انداز میں اُس کی بظاہر انتہائی معمولی وغیر اہم جزیات پر بھرپورتوجہ مرکوز رکھی، اُس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس سارے عمل کو ہم انسانیت کی معراج سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو کان میں اس کا ریکارڈ مکمل کیے بغیر نہ بھیجا جائے، ٹھیکیدارکے نمائندے قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر کان کے علاقہ میں ایک ڈسپینسری ہو جس میں ڈاکٹر سمیت تمام سہولیات موجود ہوں اس کا قیام ضروری ہے۔ ان سہولیات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ایمبولینس جو کسی بھی ایمرجنسی میں مزدوروں کو جلد از جلد اسپتال تک پہنچائے، اس کا دور تک کوئی ذکر نہیں۔ اس شعبے میں کانکنوں کی صحت و سلامتی کا زیادہ تر دارومدار محکمہ کانکنی کے انسپکٹر کا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کانوں کے لیز ہولڈرز کانکنوں کو کان میں کام کرنے کے لیے ان کی حفاظت کا تمام سامان ان کو بہم پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔ اوّل تو محکمہ کے پاس انسپکٹرزکی مطلوبہ تعداد ہی نہیں ہے کہ وہ تمام کام بخوبی سرانجام دے سکیں، انسپکٹر حضرات دور دراز اور پر خطر علاقوں میں جا کر انسپیکشن کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ بلوچستان کی کانوں میں موجود میتھین گیس کی وجہ سے سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کی کانوں میں اس مہلک گیس کی نشاہدہی کرنے والے انڈیکیٹرز لگائے جائیں۔

ایک انڈیکیٹر کی مارکیٹ میں قیمت 25 ہزار روپے ہے لیکن کوئی لیز ہولڈر یہ انڈیکیٹرلگانے کو تیار نہیں اور متعلقہ محکمے اس پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کان سے کوئلہ وغیرہ نکالنے کے لیے مزدوری کا تعین پیس ریٹ کے حساب سے ہوتا ہے۔ جتنا مال نکالو گے اتنی مزدوری ملے گی۔ اس تمام مزدوری کا حساب کتاب لیز ہولڈر یا ٹھیکیدار کے کار خاص جمعدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ آج تک کبھی بھی کانکن اپنی محنت کی پوری اجرت ان جمعداروں سے حاصل نہیں کر سکا۔ ماسوائے ان علاقوں کے جہاں کانکنوں کی مضبوط یونینز موجود ہیں۔ انگریز دور میں کھیوڑہ کے مقام پر ایک بڑی کان کا منصوبہ بنایا گیا اور مختلف جگہوں سے لوگوں کو اکٹھا کر کے کان کا کام مائینگ میتھڈ سے شروع کیا گیا تاکہ جگہ جگہ سے کھدائی کے ذریعے وقت اور طاقت کے ضیاء کو روکا جاسکے نیز کم سے کم اخراجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو سکے۔

کم اجرت اور سخت محنت و مشقت سے ان لوگوں کی زندگیاں نہایت تلخ و بدمزہ تھیں حالانکہ یہ لوگ پورے جہاں کو لذت دھن پہنچانے میں سرگرم عمل تھے۔1930 سے قبل ان مزدوروں کو پیداوار کا ٹارگٹ دے دیا جاتا تھا اور نمک کی کانوں کو باہر سے تالا لگا دیا جاتا جب تک کوئی فرد ٹارگٹ پورا نہ کر پاتا اس کو گھر جانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اس کے علاوہ 1937 میں کھیوڑہ نمک کان پر جیل بھی بنائی گئی جس میں ملک کے کونے کونے سے قیدیوں کو رکھا گیا اور ان سے بھی بیگار لی جاتی رہی۔ آخر 1930 میں کان نمک کے ان محنت کشوں کی یونین بنائی گئی اور عورتوں پر بچوں کے کام سے رہائی ہو پائی۔ آج بھی ان معدنی مزدوروں کے حالات نہایت دگرگوں ہیں اور ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ استحصالی رویے سے ان سے بیگار لی جارہی ہے۔ کان کنوں کے دکھ، مصائب وآلام بیان کرنے سے قاصر ہے، حالیہ سانحہ قومی نوعیت کا ہے، قلم کیسے بیان کر سکتا ہے کہ زمین کے اندر ہزاروں فٹ نیچے کام کرنا، ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ اس بات سے کسی طور پر انکار ممکن نہیں ہے کہ کان کنی دنیا کا قدیم ترین پیشہ ہے۔

تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ترقی میں کان کنی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ امریکا سے لے کر یورپ تک تمام ممالک کی ترقی کی بنیادیں کانکنوں کی لاشوں پر ہی رکھی گئی ہیں۔ مہم جو ممالک نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے جن جن ممالک پر اپنا تسلط قائم کیا اس کے پیچھے وہاں سے خام مال کا حصول سرفہرست رہا۔ وہ کوئلہ، سونا، تانبا، جپسم، گندھک اور ہیرے جواہرات وغیرہ کی شکل میں اس دولت کو اپنے اپنے ممالک کو منتقل کرتے رہے اور اپنی صنعتی ترقی کی بنیادوں کو اس لوٹے ہوئے خام مال سے مستحکم کرتے رہے ہیں۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ پاکستان میں کان کنی کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کا جو سفاکانہ اور بے رحمانہ استحصال جاری وساری ہے وہ اسی تسلسل کا حصہ جو نوآبادتی نظام کا حصہ رہا ہے۔ کان کنی سے وابستہ مزدور کے حالات کار جان کر راتوں کی نیند اڑجاتی ہے بلکہ رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ان کو حادثات کا معاوضہ یا دیگر ملنے والی کئی گرانٹ کا حقدار نہیں گردانا جاتا اور نہ ہی اولڈ ایج بینفٹ کی سہولت میسر ہے۔ حرف آخر ہم موجودہ حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کان کنی کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی اور انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان کا سب سے پسماندہ ضلع

یہ ایک تاریخی دن تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی قسمت بدلنے کے لئے پانچ ستمبر کو گیارہ کھرب 13 ارب روپے کے ایک تاریخی پیکیج کا اعلان کیا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس شہر کے لئے جتنا بھی کیا جائے کم ہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم نے کراچی کے لئے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اُمید ہے کہ گیارہ کھرب 13 ارب روپے کا نصف بھی کراچی پر خرچ ہو گیا تو اس شہر کے بڑے بڑے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہفتہ کے دن جب وزیراعظم عمران خان کراچی میں تاریخی پیکیج کا اعلان کر رہے تھے تو میں پاکستان کے سب سے پسماندہ اور غریب علاقے آواران کے لوگوں سے اُن کی محرومیوں کی داستانیں سُن رہا تھا۔ آواران بلوچستان کے جنوب میں واقع ہے۔ 1992ء میں اسے ضلع کا درجہ ملا تھا۔ قبل ازیں یہ خضدار کا سب ڈویژن تھا۔ آواران کا علاقہ گوادر، لسبیلہ، کیچ، پنجگور، خضدار اور خاران کے درمیان واقع ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کا تعلق اسی علاقے سے ہے لیکن آواران شہر کو جانے والی سڑکوں کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے کے مکینوں کا کوئی والی وارث نہیں۔ آپ کو یہ سُن کر حیرانی ہو گی کہ صرف آواران نہیں بلکہ ابھی تک تربت اور گوادر سمیت جنوبی بلوچستان کے کئی علاقے واپڈا کی بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ ان علاقوں کے لئے ایران سے بجلی آتی ہے۔ ان علاقوں میں آپ کو پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت کسی پرائیویٹ کمپنی کا پٹرول پمپ نظر نہیں آئے گا۔ یہاں پر اسمگل شدہ ایرانی تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں کو گیس بھی نہیں ملتی۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔ اسکولوں کی عمارتیں موجود ہیں اور طلبہ و طالبات پڑھنے کے لئے تیار ہیں لیکن اسکولوں میں تربیت یافتہ اُستاد نہیں۔ آواران شہر میں ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے جو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے تعمیر کیا گیا۔ اس ہسپتال میں ایک ماڈرن آپریشن تھیٹر اور لیبر روم کے علاوہ چلڈرن وارڈ بھی موجود ہے لیکن ہسپتال کے میڈیکل سپرنڈنٹ نے بتایا کہ لیبر روم استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اُن کے پاس لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔

آپریشن تھیٹر کو چلانے کے لئے پاکستان آرمی نے کچھ سرجن دیئے ہیں لیکن یہاں مزید ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت جب کسی ڈاکٹر کی اس ہسپتال میں تعیناتی کرتی ہے تو وہ یہاں آنے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ یہاں بجلی اور گیس کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔ آواران کے لوگوں نے مجھے کہا کہ اگر آواران اور بیلہ کے درمیان سڑک کی مرمت کر دی جائے تو اُن کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر کھجور کے علاوہ پیاز کی کاشت کی جاتی ہے۔ مقامی لوگ اپنی پیداوار کراچی تو دور کی بات تربت، گوادر اور خضدار تک بڑی مشکل سے پہنچاتے ہیں۔ ڈیڑھ سو کلو میٹر کی ایک سڑک اُنہیں پاکستان کے ساتھ جوڑ سکتی ہے۔ آواران کے مرکزی بازار میں گھومتے ہوئے مجھے محکمہ جنگلات کا دفتر نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہاں تو کوئی جنگل ہی نہیں تو محکمہ جنگلات کے دفتر میں لوگ کیا کام کرتے ہیں؟ پتہ چلا کہ یہاں کئی سرکاری محکموں کے دفاتر تو ہیں اور وہاں لوگوں نے اپنی تعیناتیاں بھی کرا رکھی ہیں لیکن نہ کوئی دفتر آتا ہے نہ کام کرتا ہے البتہ تنخواہیں وصول کرنے کے لئے لوگ باقاعدگی سے آتے ہیں۔

آواران کے آس پاس کوئی سمندر ہے نہ دریا لیکن یہاں فشریز ڈیپارٹمنٹ کا دفتر بھی موجود ہے۔ مختلف سرکاری محکموں میں دو ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین تعینات ہیں اور ان میں سے صرف ڈیڑھ سو ملازمین فنکشنل ہیں۔ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہونے والی رقم سڑکیں بنانے پر خرچ کی جائے تو آواران والوں کا بہت بھلا ہو سکتا ہے۔ آواران سمیت جنوبی بلوچستان کے دیگر پسماندہ علاقوں کی محرومیوں نے یہاں کے نوجوانوں میں وہ غصہ اور بے چینی پیدا کی ہے، جسے پاکستان کے دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو اسلحہ، بارود اور پیسہ اُسی راستے سے ملتا ہے جس راستے سے کلبھوشن یادیو پاکستان آیا۔ آواران میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایف سی والوں نے ایک اسکول بنایا ہے اور وہاں آرمی ایجوکیشن کور کے اساتذہ کو پڑھانے کے لئے لایا گیا ہے۔

عجیب بات تھی کہ ہسپتال کو ڈاکٹر بھی فوج دے اور اسکولوں کو اساتذہ بھی فوج دے تو پھر صوبائی حکومت کیا کرتی ہے؟ اگر کسی نے پاکستان میں سیاسی اشرافیہ اور سول ایڈمنسٹریشن کی ناکامی کی وجوہات کو سمجھنا ہے تو اُسے آواران ضرور آنا چاہئے۔ یہاں ایف سی سائوتھ بلوچستان کے افسران سے بات چیت ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن ہم نے اپنے محدود وسائل میں مقامی لوگوں کو صرف اسکول اور دستکاری سینٹر نہیں بلکہ دکانیں بھی بنا کر دی ہیں۔ یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ مقامی نوجوانوں کو ایف سی میں بھرتی کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے مقامی نوجوانوں کو کئی رعائتیں دی جا رہی ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لئے ایف سی میں بھرتی کے لئے کم از کم ایف اے پاس ہونا ضروری ہے لیکن ایف سی سائوتھ بلوچستان نے مقامی نوجوانوں کے لئے مڈل پاس ہونے کا معیار مقرر کیا ہے اور قد کے معاملے میں بھی سہولت دی ہے۔

گزشتہ دنوں تربت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایف سی کے ایک اہلکار کے ہاتھوں حیات بلوچ نامی نوجوان قتل ہو گیا تھا۔ اس قتل پر پورے بلوچستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ میں آواران سے تربت پہنچا تو ایف سی سائوتھ بلوچستان کے ہیڈ کوارٹر میں ایک ایسے افسر سے ملاقات کا موقع ملا جس نے خود اس واقعہ کی انکوائری کی تھی۔ اس افسر نے بتایا کہ ہم نے وقوعہ کے دو گھنٹے بعد ہی اپنے جوان کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ جوان کچھ عرصہ قبل ایک حملے میں زخمی ہوا تھا لیکن ہماری انکوائری میں وہ گناہ گار نکلا لہٰذا ہم نا صرف پولیس کے کام میں مداخلت نہیں کر رہے بلکہ اُس کا کورٹ مارشل بھی کریں گے اور آئی جی ایف نے حیات بلوچ کے والد سے جا کر تعزیت بھی کی اور انصاف دلانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ میں اس واقعہ کا مجید اچکزئی کے باعزت بری ہونے کے واقع سے کوئی تقابل نہیں کرنا چاہتا۔

حیات بلوچ کے والد کو انصاف مل گیا تو یہ بلوچستان میں اُمید کی ایک نئی کرن بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ حیات بلوچ کے والد کو تو انصاف مل جائے گا لیکن پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے آواران کو انصاف کون دے گا؟ بلوچستان میں تو تحریک انصاف، اُس کے اتحادیوں کی حکومت ہے۔ آواران میں گیارہ کھرب نہیں گیارہ ارب روپے سے بھی کام چل سکتا ہے۔

حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ

بلوچستان کو بھی بالاخر تصویر مل گئی

اگر ہم بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کی ہسپانوی خانہ جنگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تو کوئی بات نہیں۔ پکاسو کی پینٹنگ گورنیکا دیکھ لیں یا پھر وہ فوٹو جس میں جنرل فرانکو کے فاشسٹ فائرنگ سکواڈ کے سامنے ہسپانوی شاعر و ڈرامہ نگار فیدریکو گارسیا لورکا موت سے چند سیکنڈ پہلے سینہ تانے نعرہ زن کھڑے ہیں۔ آپ کو سب سمجھ میں آ جائے گا کہ دراصل سپین پر کیسی سفاکی ٹوٹی ہو گی۔ ہٹلر نے کنسنٹریشن کیمپوں میں یہودیوں کے ساتھ کیا کیا۔ اس کی داستان اس ایک تصویر میں سمٹ کر رھ گئی جس میں قیدیوں کے دھاری دار یونیفارم پہنے بیسیوں یہودی مردوں ،عورتوں اور بچوں کے زندہ ڈھانچے خاردار تاروں کے دوسری جانب کھڑے آزادی کے منتظر ہیں۔ ویتنام کی جنگ کتنی تباہ کن تھی ۔ ہزاروں میل پرے ڈرائنگ روموں میں ٹی وی کے روبرو بیٹھ کر اس کا ہرگز اندازہ نہ ہوتا اگر مائی لائی نامی دیہات پر امریکی نیپام بموں کی بارش سے دھشت زدہ بھاگتے عریاں بچوں کی تصویر سامنے نہ آتی۔ اس ایک تصویر نے اس جنگ کے خلاف عالمگیر مظاہروں کو ایڑ لگا دی۔

قرنِ افریقہ میں انیس سو اسی کی دہائی میں خوفناک قحط پڑا۔ اس قحط پر ہزارہا لفظ لکھے گئے۔ کئی امدادی کنسرٹس بھی ہوئے۔ مگر جنوبی سوڈان کی بس ایک تصویر نے دراصل بتایا کہ قحط ہوتا کیا ہے ۔ تصویر میں ایک فاقہ زدہ بچے کا ڈھانچہ آخری سانسیں لے رہا ہے اور قریب بیٹھا ایک بے چین گدھ یہ سانسیں گن رہا ہے۔ انیس سو نواسی میں بیجنگ کے تئین آن من اسکوائر میں کیسی مزاحمت ہوئی۔ اس کا منظر صرف ایک تصویر میں سمٹ کر آ گیا جس میں ایک نہتا شہری آتے ہوئے ٹینکوں کی قطار کے سامنے کھڑا ہے۔ شام کی خانہ جنگی میں انسان پر کیا قیامت گذر گئی ۔ اس بارے میں بیسیوں تصاویر سامنے آئیں ۔ مگر ترکی کے ساحل پر چار سالہ شامی بچے ایلان الکردی کی اوندھی پڑی لاش نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا اور یورپ کو شامی پناہ گزینوں کے لئے دروازے کھولنے پڑے۔ کشمیر کے المیے کی تمام تصویریں اگر غائب بھی ہو جائیں تب بھی صرف ایک تصویر کشمیر کا نوحہ بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ سوپور کی ایک سڑک پر ایک تین سالہ بچہ اپنے دادا کی خون آلود لاش کے سینے پر حیران بیٹھا ہے۔

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی تصاویر مظاہروں اور ہڑتالی کمپیوں میں اتنی بار دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اب عادت سی ہو گئی ہے۔ نواب نوروز خان سے نواب اکبر بگٹی کے آخری دنوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر تھوڑے تھوڑے عرصے بعد نمودار ہوتی رہتی ہیں۔ مگر تیرہ اگست کو تربت کی ایک سڑک پر جواں سال حیات بلوچ کو جس طرح مارا گیا اور اس کے والدین جس کیفیت میں لاش پر سایہ فگن ہیں۔ بلوچستان سے نابلد کسی بھی شخص کو پوری کہانی سمجھانے کے لئے یہ تصویر کافی ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک امید تھی کہ شاید بلوچستان کا مسئلہ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی انداز میں حل کر لیا جائے گا۔ مگر اس کے لئے دماغ بھی توسیاسی چاہئے۔ فی زمانہ چہار جانب شلوار قمیض اور واسکٹ پہنے ایسے روبوٹ گھوم رہے ہیں جو ہمدردی کی اداکاری سے بھی نابلد ہیں۔ جن کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہے انھیں ہر مسئلہ کیل نظر آ رہا ہے۔

اس وقت بلوچستان کا سب سے مظلوم طبقہ نہ تو لاپتہ افراد کے لواحقین ہیں اور نہ ہی عدم تحفظ و محرومی سے دوچار نوجوان نسل۔ سب سے قابلِ رحم وفاق نواز بلوچستانی سیاستدان ہیں۔ مگر وفاق نے ان کی سیاسی لاج رکھنے کے بجائے انہیں اپنوں ہی کی نظر میں دھوبی کا کتا بنا دیا۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن میں جکڑا یہ وفاق پسند طبقہ کس ذہنی ازیت و خلفشار کی سان پر چڑھا ہوا ہے۔ اس کی ایک جھلک بلوچستان کے گذشتہ وزیرِ اعلی اور عمران خان کے سابق اتحادی اختر مینگل کے قومی اسمبلی سے حالیہ خطاب میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ فرماتے ہیں ، ” کشمیر کے لیے کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں۔ کشمیر تو جب ملے گا تب ملے گا۔ یہ جو ہاتھ سے جا رہا ہے اس کے لیے تو کوئی کمیٹی بناؤ۔ اس ایوان میں آٹا ، چینی ، ٹماٹر تو زیرِ بحث آتا ہے مگر بلوچ کا خون زیرِ بحث نہیں آتا۔ کیا اس کے خون کا رنگ ٹماٹر سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اسے آپ نے اپنایا ہی نہیں بلکہ کالونی سمجھا ہے۔

اگر افغانستان امن کانفرنس بلائی جا سکتی ہے تو بلوچستان امن کانفرنس کیوں نہیں ہو سکتی ۔ یا پھر یوں کریں کہ آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ یا مفتوحہ بلوچستان لکھ دیں۔ اس کے بعد ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں رہے گا۔ ہم اپنے لواحقین کو کہہ سکیں گے کہ اپنی لاشیں خاموشی سے دفناتے رہو ۔ یہ تم پر خدا کا عذاب ہے اسے سہتے رہو “۔ مجھے اختر مینگل کی یہ تقریر سن کر بنگال کے وفاق پرست ڈاکٹر اے ایم مالک ، عبدلمنعم خان ، فضل القادر چوہدری ، پروفیسر غلام اعظم ، عبدالجبار خان ، راجہ تری دیورائے ، خواجہ خیر الدین ، خان عبدالصبور ، مولوی فرید احمد ، محمود علی ، نور الامین وغیرہ یاد آ رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

ریاست ماں کو شرمندہ مت کرو

کہتے ہیں کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے لیکن جب تربت ،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حیات بلوچ جو کراچی میں زیر تعلیم تھا، کی گولیوں سے چھلنی خون میں لت پت لاش زمین پر پڑی دیکھی اور لاش کے پاس نوجوان کے ماں باپ اپنے بیٹے کے اس طرح بہیمانہ انداز میں قتل کئے جانے پر بیٹھے تڑپتے دیکھے تو دل میں خیال پیدا ہوا نجانے اس نوجوان نے مرتے وقت اور اس کے ماں باپ نے اپنے بچے کے اپنے سامنے مارے جانے پر ریاست ماں کے بارے میں کیا سوچا ہو گا ؟؟ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ایف سی کے اہلکار نے علاقہ میں ایف سی کی دو گاڑیوں پر بم حملہ کے بعد اس نوجوان کو اس کے ماں باپ کے سامنے مار ڈالا۔ خبروں کے مطابق ایف سی نے متعلقہ اہلکار کو ایف آئی آر کے درج ہونے کے بعد پولیس کے حوالہ کر دیا۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے حیات بلوچ کے قتل کے واقعہ پر انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ شیریں مزاری کے بیان کا شکریہ لیکن ایسے واقعات تو پہلے بھی ہوئے لیکن ریاست ماں نے مرنے والوں کے ساتھ انصاف کیا نہ مارنے والوں کے ساتھ۔ اس واقعہ پر تو ابھی تک ایک ہی وزیر نے آواز اٹھائی اور انصاف کا وعدہ کیا۔ کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے ساہیوال میں تین معصوم بچوں کے سامنے اُن کے والدین، بڑی بہن اور ایک رشتہ دار کو دن دہاڑے مین شاہراہ پر سرکاری اہلکاروں نے گولیوں کی بوچھاڑ سے بے رحمی سے مار ڈالا اور کہا کہ سب دہشتگرد تھے۔ جو سرکاری اہلکاروں نے کہا وہ سب جھوٹ تھا. جو مارے گئے وہ سب کے سب بے گناہ تھے۔ سوچتا ہوں وہ تین چھوٹے بچے جن کے سامنے اُن کے ماں باپ اور بڑی بہن کو مارا گیا کیا وہ کبھی ریاست ماں پر بھروسہ کریں گے کیوں کہ اُس وقت بھی ایک نہیں کئی وزیروں بلکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے بھی وعدہ کیا کہ ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی، اُنہیں نشان عبرت بنایا جائے گیا۔

لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا کیوں کہ تمام کے تمام اہلکار جنہوں نے دنیا کے سامنے یہ قتل کیے سب کو باعزت بری کر دیا گیا۔ وہاں موجود افراد نے اپنے موبائل سے اس واقعہ کی وڈیوز بھی بنائیں، گواہ بھی موجود تھے لیکن بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ساہیوال واقعہ کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان نہ بنایا جا سکا۔ یہی کچھ کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ساتھ ہوا۔ وہ بھی بے گناہ تھا، بے قصور تھا۔ اُسے بھی دہشت گرد کا نام دے کر مار دیا گیا لیکن بعد میں ثابت ہو گیا کہ سب جھوٹ تھا۔ اس واقعہ میں ملوث پولیس ایس پی رائو انوار کے ساتھ جس لاڈلے انداز میں تحقیقات ہوئیں اور جس طرح اُس کے ساتھ انصاف کا مذاق ہوتے پورے پاکستان نے دیکھا ، اُس پر بھی ریاست ماں کے کردار پر سوال اُٹھے۔ 2011 میں کراچی میں ہی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک نوجوان سرفراز کا قتل ہوا جس کی وڈیو میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اُس وقت کے چیف جسٹس نے اس واقعہ پر سوموٹو لیا، ذمہ داروں کو گرفتار کر لیا گیا، اُن کا ٹرائل ہوا اور اُنہیں عمر قید کی سزا بھی دے دی گئی۔

لیکن 2018 میں اُس وقت کے صدر ممنوں حسین نے سزا پانے والے رینجرز اہلکاروں کی سزا کو اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوے معاف کر دیا اور یوں ریاست ماں کے کردار پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے گئے اور اُس کو ایک بار پھر شرمندہ کر دیا گیا۔ 9/11 کے بعد جب اس ملک میں دہشتگردی میں بے پناہ اضافہ ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی اتنے بڑھ گئے کہ رو ز کا معمول بن گئے۔ مارے جانے والوں میں کتنے معصوم تھے اور کتنے قصور وار اس کی کسی کو کوئی خبر نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ کئی بڑے بڑے دہشتگرد اور مجرم عدالتوں سے چھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل کا رواج یہاں بڑھ گیا اور اسے ریاست کی غیر تحریری پالیسی سمجھا گیا۔ قانون بدلیں، عدالتی نظام کو ٹھیک کریں. پولیس اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں کے تحقیقاتی نظام کو بہتر بنائیں کیوں کہ اس سلسلہ کو بند ہونا چاہیے ورنہ نجانے کتنے بے قصور دہشتگردی کے جھوٹے الزام کی بنیاد پر مرتے رہیں گے۔ جو سرکاری اہلکار بے قصور افراد کو مارنے کے الزام میں پکڑے جائیں اُنہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ ریاست ماں کی محبت سب کو ملے اور اس پر اعتبار قائم رہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

بلوچستان کا احساس محرومی کیسے دور ہو؟

کیا آپ بھی میری طرح یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ بلوچستان کی غربت اور پسماندگی دور کیوں نہیں ہوتی؟ معدنیات کے بےبہا ذخائر بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کا سبب کیوں نہیں بن پاتے؟ استحصال اور احساس محرومی کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتا ؟ نظر انداز کئے جانے کے زخم ہرے کیوں رہتے ہیں؟ اور ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں یہ صوبہ سب سے پیچھے کیوں رہ جاتا ہے؟ سوالات تو بہت پیچیدہ ہیں مگر ایک نہایت آسان سی مثال کے ذریعے ان کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان ہر سال 52 ممالک کو ماربل کی برآمد سے 20 ملین ڈالر کماتا ہے۔ ماربل کی ماہانہ پیداوار کا تخمینہ ایک ملین ٹن لگایا جاتا ہے۔ روزانہ ڈھائی سے تین لاکھ ٹن ماربل بیرون ملک بھجوانے کے لئے بلوچستان سے کراچی لایا جاتا ہے کیونکہ ماربل انڈسٹری میں بلوچستان سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے۔ ماربل کے 90 فیصد ذخائر بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ ماربل کو نکالنے کے بعد اور برآمد کئے جانے سے پہلے پراسیسنگ پلانٹ میں لے جایا جاتا ہے۔

ان پراسیسنگ پلانٹس میں مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد خام ماربل نہایت اعلیٰ کوالٹی کے ماربل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان بھر میں چھوٹے اور بڑے کل ملا کر 1329 پراسیسنگ یونٹس ہیں چونکہ 90 فیصد ماربل بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نکلتا ہے اس لئے زیادہ تر پراسیسنگ پلانٹس لسبیلہ، چاغی اور خضدار میں ہونے چاہئیں لیکن حقیقت اُس کے برعکس ہے۔ بلوچستان میں صرف 60 چھوٹے ماربل پراسیسنگ یونٹ ہیں۔ گویا ماربل کی برآمدات میں 90 فیصد شیئر رکھنے والے صوبہ بلوچستان کے حصے میں محض 4.5 فیصد پراسیسنگ پلانٹ آتے ہیں۔ اُس کے برعکس راولپنڈی اور اسلام آباد زون جس کا برآمدات میں شیئر ایک فیصد سے بھی کم ہے وہاں ماربل پراسیسنگ کے 150 یونٹ ہیں۔ لاہور زون میں ماربل کی پراسیسنگ کے 535 چھوٹے بڑے کارخانے ہیں۔

یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے، اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کپاس کی فصل جنوبی پنجاب میں ہوتی ہے لیکن اگر جننگ فیکٹریاں کراچی میں ہوں تو یہاں کے لوگوں کے احساسات کیا ہوں گے؟ گندم اور چاول سمیت بیشتر غذائی اجناس کی پیداوار میں پنجاب کو سبقت حاصل ہے لیکن اتنی رائس اور فلور ملز پنجاب میں نہ ہوں جتنی خیبر پختونخوا میں ہوں تو مقامی افراد کے تاثرات کیا ہوں گے؟ استحصال اور امتیاز کا یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں۔ گرینائٹ اور سنگِ سلیمانی سمیت جتنی بیش قیمت معدنیات نکلتی ہیں، اُن کی پراسیسنگ کے کارخانے بلوچستان سے باہر ہیں۔ گیس کا سب سے بڑا ذخیرہ سوئی میں ہے جس وجہ سے قدرتی گیس کو سوئی گیس کہا جاتا ہے، اِس لحاظ سے سوئی گیس کا مرکزی دفتر سوئی گیس فیلڈ یا پھر ضلع ڈیرہ بگٹی میں ہونا چاہئے۔

اگر وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے تو کوئٹہ میں ہیڈ کوارٹر بنانا چاہئے تھا لیکن سوئی سدرن کا مرکزی دفتر کراچی جبکہ سوئی ناردرن کا ہیڈ آفس لاہور میں ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر میں اکثر کہتا ہوں کہ اس بدقسمت صوبے کو لاشیں تو رقبے کے حساب سے ملتی ہیں مگر وسائل آبادی کے حساب سے۔ یہ استحصالی رویہ محض وفاقی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر طبقے کی طرف سے بلوچستان کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں مینڈک پکڑے جانے کی خبر بھی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے اس پر ٹاک شوز ہوتے ہیں لیکن بلوچستان میں کتنا ہی اہم واقعہ کیوں نہ پیش آجائے اسے کوریج نہیں ملتی۔ آپ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان اور کوئٹہ کے ہونہار باکسر محمد وسیم کا موازنہ کر کے دیکھ لیں۔

عامر خان کو پاکستانی میڈیا نے برسہا برس سے سر آنکھوں پہ بٹھا رکھا ہے جبکہ کوئٹہ کے محمد وسیم جو ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے باکسر ہیں، ورلڈ چیمپئن رہ چکے ہیں، انہیں نمبر ون باکسر قرار دیا گیا اور اب بھی ٹاپ ٹین باکسرز میں شمار ہوتا ہے وہ جب اپنے حریف کو پہلے ہی رائونڈ میں ایک منٹ بیس سیکنڈ بعد ناک آئوٹ کر کے وطن واپس لوٹے تو کسی نے انہیں درخور اعتنا نہیں جانا۔ اگر سوشل میڈیا پر آواز نہ اُٹھائی جاتی تو قوم کبھی ان کے کارناموں سے آگاہ نہ ہوپاتی اور نہ ہی انہیں پذیرائی ملتی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بہت باصلاحیت شخص ہیں گو انہیں دریافت کرنے والوں کا میں ناقد رہا ہوں مگر سوال یہ ہے کہ جب وہ مسلم لیگ (ن) میں تھے تو ان کی صلاحیتوں سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھایا گیا؟

مشاہدے کی بات یہ ہے کہ آپ میں جوہر قابل ہو تو پھر ہرقسم کی چھاپ پیچھے رہ جاتی ہے اور آپ کی کارکردگی آپ کی پہچان بن جاتی ہے۔ آپ محمد خان جونیجو کو دیکھ لیں، ضیاءالحق کے چنیدہ وزیراعظم تھے مگر کٹھ پتلی کہلانے کے بجائے تاریخ میں ایک خودمختار سربراہ حکومت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
جام آف لسبیلہ جام کمال سے میری پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی تھی اور پھر جب بھی کوئٹہ جانا ہو تو ان سے گپ شپ رہتی ہے۔ پہلی ملاقات میں ان کے ایک جملے نے متاثر کیا تھا کہ میں تختیاں لگانے کے بجائے ان کاموں پر زیادہ توجہ دے رہا ہوں جو بالعموم کارکردگی چارٹ پر ظاہر نہیں ہوتے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بھی بہت پیشرفت ہوئی ہے۔ بلوچستان نے پنجاب اور وفاق سے پہلے ترقیاتی بجٹ جاری کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

کبھی پنجاب گڈ گورننس ماڈل کے طور پر پہچانا جاتا تھا مگر اب چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا موازنہ کریں تو کارکردگی کے اعتبار سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال پہلے نمبر پر جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سے آخر میں آتے ہیں۔ جام کمال کو اگر صوبے کی تقدیر بدلنی ہے تو انہیں لاہور اور کراچی آکر سرمایہ کاروں کو قائل کرنا ہو گا کہ بلوچستان میں انڈسٹری لگائیں۔ جب تک صنعتیں نہیں لگتیں، کارخانے نہیں بنتے، جتنے مرضی فنڈز لگا لیں، بلوچستان کا احساس محرومی اور غربت دونوں ختم نہیں ہونگے۔

محمد بلال غوری

بشکریہ روزنامہ جنگ

Who is Kulbhushan Jadhav?

Kulbhushan Sudhir Jadhav is an Indian national. It is alleged by the Pakistani government that he was arrested in the Pakistani province of Balochistan on charges of terrorism and spying for India’s intelligence agency, the Research and Analysis Wing. The Pakistani government stated that he was a serving commander in the Indian Navy who was involved in subversive activities inside Pakistan and was arrested on 3 March 2016 during a counter-intelligence operation in Balochistan. The Indian government recognised Jadhav as a former naval officer but denied any current links with him and maintained that he took premature retirement and was abducted from Iran. On 10 April 2017, Jadhav was sentenced to death by a Field General Court Martial in Pakistan On 18 May 2017, the International Court of Justice stayed the execution pending the final judgement on the case.

Jadhav was born in Sangli, Maharashtra, on 16 April 1970 to Sudhir and Avanti Jadhav.  His father is a retired Mumbai Police officer. Jadhav is married and has two children. His family resides in Powai, Mumbai. According to reports in the Pakistani media, Jadhav joined the Indian National Defence Academy in 1987 and was commissioned in the engineering branch of the Indian Navy in 1991. Pakistani media has also reported that he began to gather information and intelligence within India after the 2001 attack on the Parliament of India. After 14 years of service, he was inducted into intelligence operations in 2003 and established a small business in Chabahar in Iran from where he made several undetected visits to Karachi and Balochistan. According to the Pakistani government, on 3 March 2016, Jadhav was arrested inside Balochistan in Mashkel near the border region of Chaman. He was arrested during a counterintelligence raid conducted by security forces. They believed him to be involved in subversive activities in Balochistan and Karachi. Jadhav was soon shifted to Islamabad for interrogation.  
On 10 April 2017, Jadhav was sentenced to death by a Field General Court Martial (FGCM) in Pakistan, following a confession before the magistrate and court. Jadhav’s trial lasted three and a half months and the charges he was convicted for included spying for India, waging war against Pakistan, sponsoring terrorism, and destabilising the state. He was tried in a military court due to his naval background and the sensitive nature of his case, involving espionage and sabotage. The sentence was confirmed by army chief Qamar Javed Bajwa, and released via the ISPR. Pakistan’s Defence Minister Khawaja Muhammad Asif stated that under the provisions of the Pakistan Army Act of 1952, Jadhav had the right to appeal against his conviction on three appellate forums within 40 days.
Courtesy : Wikipedia

کلبھوشن یادیو کون ہے؟

حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے بھارتی خفیہ جاسوس کلبھوشن سُدھیر یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی کے مطابق وہ 30 اگست 1968 کو بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر سانگلی میں پیدا ہوا۔ کلبھوشن یادیو کو یہ فرضی نام، جس کا اس نے اپنی اعترافی ویڈیو میں انکشاف کیا، بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان میں خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ ممبئی کے مضافاتی علاقے پووائی کے رہائشی کلبھوشن یادیو کا تعلق پولیس افسران کے خاندان سے ہے۔ اپنے بیان میں بھارتی شہری نے کہا تھا کہ وہ نیوی میں حاضر سروس افسر ہے، تاہم اس کے اس دعوے کی بھارت نے تردید کی تھی۔

کلبھوشن یادیو نے مزید کہا کہ اس نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی، جہاں اس نے دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیئے۔ بھارتی جاسوس نے کہا کہ پارلیمنٹ حملے کے بعد اس نے بھارت میں انفارمیشن اینڈ انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے اپنی خدمات دینے کا آغاز کیا۔
کلبھوشن کا اپنے اعترافی بیان میں کہنا تھا کہ ’میں اب بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں اور بطور کمیشنڈ افسر میری ریٹائرمنٹ 2022 میں ہو گی۔ بھارت نے کہا کہ وہ نیوی کا سابق افسر ہے۔ کلبھوشن کے اہلخانہ نے گزشتہ سال انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کلبھوشن یادیو وقت سے قبل نیوی سے ریٹائرمنٹ لے کر کاروباری شخص بن گیا تھا اور اسی سلسلے میں وہ اکثر بیرون ملک بھی جاتا تھا۔

ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’کلبھوشن یادیو ایرانی بندرگاہ شہر بندر عباس سے فیریز آپریٹ کرنے کے قانونی کاروبار سے منسلک تھا۔
کلبھوشن کا کہنا تھا کہ اس نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چابہار، ایران میں کاروبار کا آغاز کیا جہاں اس کی شناخت خفیہ تھی اور اس نے 2003 اور 2004 میں کراچی کے دورے کیے۔ 2013 کے آخر میں اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کی اور کراچی اور بلوچستان میں کئی تخریبی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔ کلبھوشن نے کہا کہ پاکستان میں اس کے داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا اور قتل سمیت مختلف گھناؤنی کارروائیوں میں ان سے تعاون کرنا تھا۔

کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے ‘را’ کا ہاتھ ہے۔ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔
تاہم انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے الزام لگایا کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے ایران سے اغوا کیا۔ بھارتی انٹیلی جنس عہدیداروں نے شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس کلبھوشن یادیو کے فون کی نگرانی کر رہی تھی اور اس کی فون کالز سے اس کی شناخت ظاہر ہوئی۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزائے موت سنائی۔

بشکریہ ڈان نیوز

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں مسلسل ہلاکتیں کیوں ہو رہی ہیں؟

سن 2018 پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا لیکن 2019 کا آغاز بھی ان کے لیے اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع دکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں پیش آئیں۔ چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ گزشتہ دس روز کے دوران چمالانگ اور دکی کوئلہ کانوں میں رونما ہونے والا یہ چوتھا واقعہ تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر دس کان کن ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر سنہ 2018 بلوچستان کی کوئلے کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ سنہ 2018 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔ لالہ سلطان نے اس کی سب سے بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کے فقدان کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات سے بچنے کے لیے چار پانچ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کانکنوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔

مزدور رہنما کے مطابق بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔ لالہ سلطان نے اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری کے نظام کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔‘ لالہ سلطان کے مطابق ٹھیکیدار اور پیٹی ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کے بجائے زیادہ تر اس بات کا  خیال رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔ انھوں نے بتایا کہ دکی اور چمالانگ میں اس وقت سب سے زیادہ حادثات پیش آرہے ہیں۔ مزدور رہنما کا دعویٰ ہے کہ کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔ بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی
چیف انسپکٹر مائنز افتخار احمد کا کہنا ہے کہ محکمے کی جانب سے تحفظ کے لیے جو بنیادی لوازمات ہیں ان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمے کے پاس کانوں کا معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی ہے، تاہم انسپکٹروں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افتخار احمد نے کوئلے کی کمپنیوں کے پرائیویٹ اہلکاروں اور کان کنوں کو بھی حادثات کا ذمہ دار ٹھیراتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی سیفٹی کا خیال نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنی کے لوگ اور کان کن خود سیفٹی کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کا خیال نہ رکھیں تو ان کے پاس جدید سے جدید آلات ہوں بھی تو حادثات کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں محکمہ کی جانب سے سیفٹی کے لیے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں وہاں کان کنوں کی تربیت کے لیے بھی انتظامات کیے جارہے ہیں ۔

محمد کاظم

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

مستونگ دھماکے میں کئی گھرانے اجڑ گئے

مستونگ میں سیاسی جلسے میں خود کش حملےمیں جہاں کئی گھروں کے چراغ گل ہوئے وہیں درینگڑھ کا ایک گھر ایسا بھی ہے جس کے تین بچے دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ مستونگ میں سیاسی جلسے میں ہونے والا دھماکا کئی خاندانوں کوغمزدہ کر گیا، بزرگ اور نوجوان تو خودکش دھماکے کا نشانہ بنے ہی لیکن درینگڑھ کے عبدالخالق کے تین چھوٹے بچے صرف جلسہ گاہ دیکھنے کی پاداش میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ معصوم بچوں کا سیاست سے کوئی تعلق تھا ناہی وہ جلسے میں شریک تھے، چھوٹی سی بستی کےمکین تینوں بھائی علاقے میں کبھی کبھار ہونے والی گہما گہمی دیکھنے جلسہ گاہ گئے تھے۔

عبدالخالق بتاتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد گھر واپس آئے تو دھماکا سنائی دیا، دیکھنے گئے تو ہر طرف لاشیں بکھری تھیں اور زخمی تڑپ رہے تھے، ان کے 2 بچوں کی لاشیں جلسہ گاہ کے اندر سے جبکہ ایک کی لاش اسپتال سے ملی۔
دھماکے سے ایک خاندان کے 11 جبکہ ایک اورخاندان کے سات افراد اپنے پیاروں سے جدا ہوئے جبکہ درینگڑھ کے عبدالقادر کے گھر کے دو افراد بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔