ڈیرن سیمی کے لیے پاکستان کی اعزازی شہریت اور اعلیٰ سول ایوارڈ

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر اور پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو اعزازی شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی انہیں پاکستان کی شہریت کے ساتھ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے بھی نوازیں گے۔ ڈیرن سیمی کو پاکستان کی اعزازی شہریت دینے کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔ ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیرن سیمی نے پاکستان میں کرکٹ کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی ڈیرن سیمی کو 23 مارچ کو اعلیٰ سول ایوارڈ اور اعزازی شہریت سے نوازیں گے۔ 

ڈیرن سیمی کا شمار ان بین الاقوامی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو پاکستان میں بھی خاصے مقبول ہیں۔ ڈیرن سیمی پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن سے پاکستان آ رہے ہیں۔ وہ پانچویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے اب بھی پاکستان میں موجود ہیں اور پشاور زلمی کی کپتانی کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈیرن سیمی کو پاکستان کا اعلیٰ سول ایوارڈ دیے جانے کے اعلان پر پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیمی کو پاکستان کا اعلٰی ترین سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ کرکٹ اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کے جذبات و احساسات کا عکاس ہے۔ 

جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اس مرد میدان کی خدمات پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈیرن سیمی نے کراچی کنگز سے میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پاکستان سے محبت کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔ ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی محبت میرے دل میں ہے۔ مجھے خود کو اس ملک سے جوڑنے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری کاوشوں کا اعتراف کرنا اچھا ہے لیکن میرے لیے لوگوں کی محبت ہی سب کچھ ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی

آئی سی سی ورلڈ کپ 2019 میں شرکت کے لئے پاکستان کی بعض تجربہ کار اور کئی ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم بڑی روشن امیدوں کے ساتھ لندن گئی تھی لیکن پانچ میچ کھیلنے کے بعد ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی دس ٹیموں میں اس وقت نویں نمبر پر پہنچ گئی ہے، صرف افغانستان کی کمزور ٹیم اس سے ایک نمبر نیچے ہے۔ ابھی اس نے چار ٹیموں نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور افغانستان کے ساتھ کھیلنا ہے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان چاروں کو اچھے مارجن سے ہرائے۔ کھیل میں ہارجیت لگی رہتی ہے مگر بھارت سے اس کا ہارنا قوم کے لئے کبھی قابلِ قبول نہیں رہا، اس ہار پر ٹیم ہر طرف سے تنقید کی زد میں ہے۔

کوئی ٹیم کی حکمت عملی پر اعتراض کر رہا ہے اور کسی کو شک ہے کہ وہ اختلافات کا شکار ہے تاہم پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کپتان سرفراز احمد کی بجا طور پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں درست مشورہ دیا ہے کہ وہ منفی تبصروں پر توجہ دینے کے بجائے اگلے میچوں میں کامیابی کی منصوبہ بندی کریں۔ ٹیم کی سلیکشن کے وقت ہر کھلاڑی کی پیشہ ورانہ مہارت، تکنیک فٹنس، سٹیمنا اور گزشتہ کارکردگی کو دیکھا جاتا ہے، موجودہ ٹیم کے انتخاب میں بھی انہی اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے لیکن وہ میدان میں توقعات پر پوری نہیں اتری۔ 

خاص طور پر بھارت کے خلاف پوری ٹیم لڑکھڑاتی نظر آئی تاہم انہی کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کو اگلے میچوں میں اچھی کارکردگی دکھانا ہے، اس لئے برا بھلا کہنے کے بجائے ان کا حوصلہ بڑھانا چاہئے۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی ابتدا میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ تھی اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونیوالی ہے لیکن آخر میں وہ چمپئن بن کر ابھری۔ کرکٹ کے منتظمین، نقادوں اور شائقین کو چاہئے کہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھائیں۔ پاکستانی ٹیم کو مبصرین نے ہمیشہ ایسی ٹیم قرار دیا ہے جسکے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اگلے میچوں میں اچھا کھیل کر وہ ناممکن کو ممکن کر دکھائے گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

شاباش لالہ شاباش

شاہد آفریدی پاکستانی کرکٹ کے ہیرو آج کل دیسی لبرلز اور سیکولر طبقہ کے نشانہ پر ہیں۔ کرکٹ کے لالہ پر بھارتی اور مغربی میڈیا بھی برس رہا ہے۔ دیسی لبرلز اور بھارتی و مغربی میڈیا کی شاہد آفریدی پر غصہ کی وجہ لالہ کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب  ہے، جس میں آفریدی نے لکھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کوئی بھی آئوٹ ڈور کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس کی وجہ ہماری اسلامی اور معاشرتی اقدار ہیں۔ آفریدی نے لکھا کہ اُن کے اس فیصلے میں اُن کی اہلیہ کی حمایت بھی شامل ہے۔ آفریدی نے یہ بھی لکھا کہ حقوقِ نسواں کے علمبردار جو مرضی کہیں وہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔

لالہ کے ان الفاظ نے جیسے طوفان برپا کر دیا ہو۔ بھارتی اور مغربی میڈیا سے تو یہ توقع تھی ہی کہ وہ کیسے دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے نام کی طرف سے کوئی ایسی بات سنیں جو اسلام سے متعلق ہو، جو عورت کے پردہ کے حق اور اُس کی بے پردگی کے خلاف ہو لیکن افسوس کہ پاکستان کے لبرلز اور سیکولرز میں موجود ایک مخصوص طبقے کو بھی آفریدی کی بات ہضم نہ ہوئی اور اُنہوں نے بھی آفریدی کو اپنے طعنوں اور تنقید کا نشانہ بنایا۔ آفریدی نے جو بات کی وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اور ہمارے معاشرتی اقدار کی عکاس تھی۔ اس بات پر تو آفریدی کو شاباش ملنا چاہیے تھی

 یہ تو بڑے فخر اور نیکی کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اسلام کی بات کرنے والوں کے پیچھے لوگ ہاتھ دھو کر پڑ جائیں، وہاں ایک کرکٹ ہیرو اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اُس کی بیٹیاں کرکٹ سمیت کسی بھی ایسے کھیل کا حصہ نہیں ہوں گی جو چار دیواری سے باہر ہو اور جسے دیکھنے کے لیے غیر محرم افراد آزاد ہوں۔ جو بات آفریدی نے کی یہ تو اب اسلامی سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی کرنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ پیچھے نہ پڑ جائے۔ اللہ تعالیٰ شاہد آفریدی، اُن کی اہلیہ اور اُن کی بیٹیوں کو جزائے خیر دے اور اُن پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے۔ آمین! شاہد آفریدی کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کی کہ بلوغت کو پہنچتے ہی وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آئیں، ہمیشہ پردہ میں نظر آئیں۔

لالہ کی اہلیہ بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق پردہ کرتی ہیں اور یہ وہ عمل ہے جو آفریدی اور اُن کی بیوی اور بچیوں کو دوسروں کے لیے ترغیب کا ذریعہ بناتا ہے۔ اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب عورت کو بے لباس کرنے کی ایک Mad ریس لگی ہو، بے شرمی اور بے حیائی کو ترقی اور جدت پسندی سے جوڑا جائے، جہاں عورت کے جسم اور خوبصورتی کوپیسہ کمانے کے لیے استعمال کیا جائے، جب ناچنے اور گانے والوں اور والیوں کو رول ماڈل بنا کر پیش کیا جا رہا ہو۔ مجھے امید ہے کہ شاہد آفریدی اپنے مخالفین کے پروپیگنڈا کی وجہ سے گھبرائیں گے نہیں. اور اُنہیں گھبرانا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اُنہوں نے جو بات کی، وہ تو اسلام کی بات ہے، یہ تو بڑے فخر اور بڑے اجر کا کام ہے۔

مجھے امید ہے کہ لالہ کے اس عمل سے بہت سے ایسے لوگ جو میڈیا کے ساتھ ساتھ لبرل اور سیکولر طبقے کے دبائو کی وجہ سے اسلام کی بات کرنے سے ڈرتے ہیں، بھی حوصلہ پکڑیں گے۔ شاہد آفریدی پرحملے کرنے والے اگرچہ کم ہیں لیکن منظم ہونے کی وجہ سے اُنہی کی آواز میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے گونج رہی ہے لیکن افسوس کہ اسلامی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں جو سوشل میڈیا میں ویسے تو کافی سرگرم ہیں، اس معاملے میں عمومی طور پر خاموش نظر آئیں۔

حالانکہ یہ وہ وقت ہے جب میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے وہ بات جو لالہ نے کی، اُس کے متعلق لوگوں کو اسلامی تعلیمات اور دینی احکامات سے آگاہ کیا جائے۔ ہمیں معاشرے اور اس کے افراد کو یہ بھی بتانا ہے کہ مسلمان ہوتے ہوئے ہم مغرب کی اندھی تقلید نہیں کر سکتے بلکہ اُن حدود و قیود کے پابند ہیں جو بحیثیت مسلمان ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے۔ آخر میں مَیں پھر ایک بار شاہد آفریدی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے بہت اچھی بات کی اور امید کرتا ہوں کہ ایسی اچھی باتیں آئندہ بھی کرتے رہیں گے، چاہے دنیا جو مرضی کہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

پی ایس ایل : غیرملکی پلیئرز نے محبت کے پھولوں سے دامن بھر لیا

پاکستان آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں نے محبت کے پھولوں سے دامن بھر لیا جب کہ شین واٹسن نے دورے کو یادگار قرار دے دیا۔ پاکستان میں کھیلے گئے پی ایس ایل کے میچز کو دلچسپ بنانے اور یہاں کے شائقین کو کھیل کے سنسنی خیز لمحات سے لطف اندوز کرنے والے غیرملکی کھلاڑیوں نے بھی اپنے دامن محبت کے پھولوں سے بھر لیے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک اور ٹیم مینجمنٹ کی کوششوں سے یہاں آنے پر راضی ہونے والے سابق آسٹریلوی کرکٹرشین واٹسن نے اپنے دورہ پاکستان کو یادگار قرار دے دیا۔ واٹسن پی ایس ایل فور میں سب زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی قرار پائے انھوں نے کئی میچز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی فتح کو اپنی بیٹنگ سے یقینی بنایا۔

پشاور زلمی کے کپتان اور لگاتار تیسری مرتبہ پی ایس ایل کیلیے پاکستان کا رخ کرنے والے ڈیرن سیمی نے بھی ایونٹ کے دوران مداحوں کے پیار اور سپورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا ٹویٹر پرکہنا تھا کہ ’’پاکستان، میں واپس آؤں گا، پیار اور سپورٹ کا شکریہ‘‘ ۔ سیمی نے کراچی کے شائقین کرکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کرکٹ کا ماحول بہترین ہے اور یہ کرکٹ کھیلنے کے لیے شاندار جگہ ہے۔ ویسٹ انڈیز کے سابق عظیم کرکٹر اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مینٹور ویوین رچرڈز نے مداحوں، پاکستان کے کرکٹ شائقین اور کراچی کے عوام کا بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ ٹویٹر پر ویڈیو پیغام میں ویوین رچرڈز نے ٹیم کوئٹہ کے ہر ممبر کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی، تاریخ کے آئینے میں

پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان انٹرنیشنل کھیلوں کی دوری کی صورت میں برداشت کرنا پڑا، تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے ملکی گراؤنڈز انٹرنیشنل کرکٹ سے ویران ہی رہے، پی سی بی کی انتھک کوششوں سے 2008 میں بنگلہ دیش جبکہ اگلے برس سری لنکن ٹیم پاکستان کے دورے پر آ ہی گئی لیکن لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پاکستان غیر ملکی ٹیموں کے لئے ایک بار پھر نو گو ایریا بن گیا۔ سانحہ لبرٹی کے 6 سال کے بعد قذافی سٹیڈیم میں تو زمبابوے، کینیا اور ورلڈ الیون کی ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دے چکیں، پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل بھی ہو چکا تاہم نیشنل سٹیڈیم کراچی کو 9 سال کے طویل عرصے کے بعد پی ایس ایل کے فائنل کی شکل میں کرکٹ کے بڑے میلے کی میزبانی کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی کی تاریخ کی بات کی جائے تو اسی گراؤنڈ میں پہلا میچ 26 فروری تا یکم مارچ 1955 تک پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جبکہ آخری بار پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں 21 تا 25 فروری2009 میں ایک دوسرے کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیں، 1955 سے دسمبر 2000 تک ہونے والے 34 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے 17 میں فتح سمیٹی جبکہ اسے کسی ایک بھی مقابلے میں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ پہلا ایک روزہ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 21 نومبر 1980 جبکہ آخری میچ 21 جنوری 2009 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا۔

اسی گراؤنڈ پر پہلا اور آخری ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ 20 اپریل 2008 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، پاکستان نے میچ کا نتیجہ 102 رنز سے اپنے نام کیا۔ ملک کے سب سے بڑے سٹیڈیم کو اب تک ورلڈ کپ 1987 اور عالمی کپ 1996 کے 6 میچز کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اسی گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میں 765 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے اور آسٹریلیا کو 80 کے سب سے کم سکور پر پویلین کی راہ دکھانے سمیت متعدد ریکارڈز بنانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔

اسٹیڈیم میں 34228 افراد کے میچ دیکھنے کی گنجائش موجود ہے، کرکٹ کے دیوانوں کو شکوہ رہا ہے کہ 2 کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر میں یہ تعداد بہت کم ہے، پی سی بی نے متعدد بار وعدہ کیا ہے کہ یہ تعداد بڑھا کر 90 ہزار تک کر دی جائے گی تاہم ابھی تک یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا ہے۔ ایک عشرہ تک اس گراؤنڈ میں کرکٹ کی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکنے کی وجہ سے سٹیڈیم کا کوئی پرسان حال نہیں رہا تھا تاہم جب پی سی بی نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل کراچی میں کروانے کا فیصلہ کیا تو اس کے ساتھ ہی ڈیرھ ارب کی خطیر رقم سے سٹیڈیم کی تزئین وآرائش کا کام بھی شروع کروا دیا گیا.

میاں اصغر سلیمی

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو