ورلڈ بینک، ایف بی آر اور پاکستانی معیشت

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو چلانے کے قرضوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت معیشت کی کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی غیر ملکی قرض ہی ہیں۔ حکمران قرض لے کر عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ابھی ملک کے پاس اتنے اثاثے موجود ہیں جن کی بنا پر قرض مل سکتے ہیں۔ افسوس کہ آمدن میں اضافے کی بنیاد پر ملک چلانا حکمران طبقات کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ قرض لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ یاد رکھیے کہ قرضوں کی بنیاد پر ملک چلانا معاشی کمزوری کا آخری درجہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پچھلے تین سالوں سے اسی درجے پر فائز ہیں۔ ملکی اثاثے گروی رکھوانے کے بعد قرض لینے کا آخری آپشن عوام کو گروی رکھوانا ہے۔ جب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک یا آئی ایم ایف قرض دینے سے پہلے اس کی ادائیگی سے متعلق گارنٹی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ عوام پر ٹیکس بڑھا کر آپ کا پیٹ بھرا جائے گا، یعنی قرض کے حصول کے لیے ایک طرح سے عوام کو ہی گروی رکھوا دیا جاتا ہے ۔

ٹیکسز بڑھانے سے نہ صرف قرض بڑھتے رہتے ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے حسبِ روایت ڈالر ذخائر بڑھانے کے لیے ورلڈ بینک سے قرض مانگ رکھا تھا۔ ورلڈ بینک نے پہلے شرائط رکھیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مخصوص شرح سے اضافہ کیا جائے، سبسڈی ختم کی جائے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ میں پرائیویٹ ممبرزکو شامل کیا جائے اور قومی بجلی پالیسی کی منظوری دی جائے۔ وزارتِ خزانہ نے ہامی بھر لی اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔ جب عمل درآمد کا وقت آیا تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا جس پر ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالرز قرض کی قسط روک لی۔ 28 جون کو ورلڈ بینک نے دو سکیموں کے تحت 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کیا تھا۔ 400 ملین ڈالرز پاکستان پروگرام فار افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی‘ جسے پی ای اے سی ای بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوئے ہیں جبکہ مزید 400 ملین ڈالرز سکیورنگ ہیومین انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسفومیشن‘ جسے شفٹ ٹو بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوا۔

ورلڈ بینک نے شفٹ ٹو کے تحت منظور ہونے والے قرض کے 400 ملین ڈالرز تو فوری جاری کر دیے تھے لیکن پی ای اے سی ای کے تحت منظور ہونے والے 400 ملین ڈالرز معاہدے کی پاسداری کے بعد جاری کیے جانے تھے۔ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں ورلڈ بینک نے تین ماہ کا وقت دیا ہے جس کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور بقیہ رقم جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ ماہرین اس امر پر حیران تھے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھٹی جائزہ رپورٹ جاری ہونے میں تاخیر اور ایک ارب ڈالر کی قسط رک جانے کے بعد ورلڈ بینک نے کیسے 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کر لیا اور 400 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی کر دی گئی؟ ممکن ہے کہ بقیہ 400 ملین ڈالرز آئی ایم ایف سے تعلقات بہتر نہ ہونے تک منجمد رہیں۔ قرض کے کاغذات کے مطابق‘ ورلڈ بینک نے پانچ لاکھ ڈالرز بطور فیس چارج کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تک حکومت شرائط پوری کر کے قرض کی بقیہ رقم وصول نہیں کر لیتی اس پر صفر اعشاریہ پچیس فیصد اضافی سود چارج کیا جائے گا۔ قرض لینے کے لیے حکومت تیز رفتاری سے اقدامات کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن آمدن بڑھانے اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے اعداد و شمار مایوس کن ہیں۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن فنانس میں ایف بی آر کے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے پچھلے تین سالوں میں نان فائلرز کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے ہیں۔ اگر ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی بات کی جائے تو تقریباً تیرہ لاکھ نئے لوگ فائلرز بنے ہیں جو کل فائلرز کا تقریباً دس اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ نوٹسز میں چونسٹھ اعشاریہ تین ارب روپے کا ٹیکس واجب الادا تھا جس میں سے صرف دو اعشاریہ چھ ارب وصولیاں ہوئی ہیں جو محض چار فیصد بنتا ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی میں جے یو آئی (ایف) کے ممبر سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹسز بھیج کر عام شہریوں کو پریشان کرنا معمول بن گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معصوم لوگوں کو ڈرانے کے لیے نوٹسز بھیجے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے محکمے کے ملازمین کی بدنیتی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کے دستخطوں سے غلط نوٹسز بھیجے گئے ہیں‘ انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔

میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ دن پہلے قومی اسمبلی نے ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے مطابق نان فائلرز کی صورت میں اڑھائی کروڑ اور فائلرز کی صورت میں دس کروڑ روپوں کے ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ جس کی منظوری وزارتِ خزانہ کی کمیٹی سے لی جائے گی اور اس کے سربراہ وزیر خزانہ ہوں گے۔ ایک طرف ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے محکمے کو لامحدود اختیارات دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی صاحب نے بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں اعتراض اٹھایا ہے کہ محکمے کے ملازمین معصوم لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے نوٹسز بھیج رہے ہیں تاکہ ماحول کا فائدہ اٹھا کر جیبیں گرم کی جا سکیں، ایسے افسران کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے پہلے مالی سال 18ء تا 19ء میں تقریباً اکیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے تھے جن میں سے ایک لاکھ تہتر ہزار ریٹرنز جمع ہوئیں۔

نو ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار ہوئی جس میں سے صرف پچیس کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔ مالی سال 19ء تا 20ء میں تریسٹھ لاکھ ٹیکس نوٹسز جاری ہوئے اور دو لاکھ ستانوے ہزار دو سو بیاسی ریٹرنز جمع ہوئیں۔ بارہ ارب ستر کروڑ روپوں کی ٹیکس ڈیمانڈ بنائی گئی جس میں سے تقریباً ستاسٹھ کروڑ روپے اکٹھا ہوا۔ مالی سال 20ء تا 21ء میں تقریباً تینتالیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے۔ آٹھ لاکھ چھیالس ہزار دو سو چھیانوے لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائیں۔ ساڑھے بیالیس ارب کی ٹیکس ڈیمانڈ بھجوائی گئیں اور تقریباً پونے دو ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا۔ تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ نوٹسز کے جواب موصول نہیں ہوئے۔ ان اعداد و شمار کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے سسٹم میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔ افسران جان چھڑانے کے لیے ماتحت ملازمین کو غیر حقیقی اہداف دیتے ہیں جو ایک طرف ہدف سے کئی گنا کم ٹیکس وصولی کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف مبینہ طور پر کرپشن کے نئے راستے کھولتے ہیں۔

محکمے کے ان لینڈ ریونیو سروس آپریشن کے نمائندے نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں کو ٹیکس نوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کا کوئی بھی ٹیکس واجب الادا نہیں تھا۔ اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ میں کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کی بنا پر پورے ڈیپارٹمنٹ پر سوالیہ نشان نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ اور انسان ہیں‘ کوئی فرشتے نہیں، محکمے نے نوٹسز بھلے ضرورت سے زیادہ بھیجے ہیں لیکن گرفتاریاں نہیں کیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے افسران کے پاس گرفتاری کے اختیارات موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ان اختیارات پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں ممبر ایف بی آر کا جواب تسلی بخش دکھائی نہیں دیتا۔ اگر وہ اقرار کر رہے ہیں کہ افسران غلط نوٹسز بھیج کر مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں۔ جن ممالک میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے‘ ان کے افسران عوام کو غلط نوٹسز نہیں بھجواتے بلکہ معاملات کو حل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

میاں عمران احمد

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان کا مستقبل : ایک مضبوط علمی معیشت

پاکستان کا مستقبل اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جدّت طرازی اور کاروباری صلاحیتوں پر مبنی مضبوط علمی معیشت کی ترقی میں مضمر ہے۔ ضروری ہے کہ غیر معیاری زرعی معیشت کے جال سے نکل کر ایک مضبوط علمی معیشت کی طرف گامزن ہوا جائے۔ اس کیلئے ہمیں ایک انتہائی ہنر مند افرادی قوت تشکیل دینےاور ایسی حکمتِ عملی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس سے اس افرادی قوت کی صلاحیتوں کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات کی تیاری اور برآمد کے لئے بڑی صنعتوں کے قیام کے لئے بروئے کار لا یا جا سکے۔ یہی سنگاپور، کوریا اور چین جیسے ممالک کی تیز رفتار ترقی کا راز ہے۔ ہمیں انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، بائیو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی کے اسٹوریج سسٹم، جدید دھات کاری، پریسیشن مینو فیکچرنگ، مائیکرو الیکٹرونکس، دفاعی مصنوعات، جہاز سازی، آٹو موبائل مینو فیکچرنگ اور اس طرح کی معیاری مصنوعات کی تیاری کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ پاکستان نے ہمیشہ کم آمدنی والے شعبوں پر ہی توجہ مرکوز کی ہے جس نے ہمیں فی کس آمدنی کے لحاظ سے بہت نچلے درجے پر پہنچا دیا ہے۔

علمی معیشت کے لئے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے، بین الضابطہ شعبوں میں کام کرنے اور تقریباً ہر شعبے میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کو تیزی سے اپنانے کی صلاحیتوں کے ساتھ بہترین تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کی مہارتیں جو آج کے نئے ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کاروبار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں، خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک علمی معیشت کو چلانے کے لئے چار بنیادی ستونوں کی ضرورت ہوتی ہے، پہلا ستون، ایک ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی دستیابی، ملازمین کا اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نئے چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کا اہل ہونا ضروری ہے۔ دوسرا ستون جدید معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنا لوجی ذرائع تک رسائی ہے تاکہ تازہ ترین معلومات، نئی پیش رفتوں اور موثر طریقے سے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔

تیسرا ستون تجارتی اداروں اور صنعتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک موثر جدت طرازی کا نظام ہے تاکہ دانشور جو اثاثہ ہوتے ہیں کو محفوظ رکھا جا سکے اور نئے خیالات کو جدید مصنوعات اور عمل میں تبدیل کرنے کے لئے نظام فراہم ہو۔ چوتھا ستون قومی ماحولیاتی نظام کا قیام ہے جس میں جدت طرازی پروان چڑھ سکے۔ اس کے لئے اچھی قیادت، یعنی ماہر وفاقی وزرا ء اور سیکرٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ ادراک رکھتے ہوں کہ کس طرح علمی معیشت کی طرف بڑھا جا سکتا ہے تاکہ ایک قابل ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ ایک مضبوط علمی معیشت کی ترقی کی شروعات صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی تھی جب سال 2000 میں وفاقی وزیر سائنس کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد میں نے انہیں سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے پر راضی کیا بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد، بہت بڑی تبدیلیاں رُونما ہوئیں جنہیں اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بے حد سراہا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پروگراموں کا جائزہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کے چیئرمین پروفیسرمائیکل روڈ نے لیا۔

 انہوں نے متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا اور 2008 میں پاکستان کے ایک اخبار میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جس میں میری پالیسیوں کی تعریف کی، ایچ ای سی کی قیادت کے طور پر میرا یہ رویہ تھا کہ’’معیار مقدار سے کہیں زیادہ اہم ہے‘‘۔ نیچر، دُنیا کا معروف سائنسی جریدہ ہے، اِس نے چار اداریے تحریر کئے جن میں پاکستان کے اس شعبے میں کئے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا۔ دُنیا کی سب سے مشہور سائنسی سوسائٹی، دِی رائل سو سائٹی (لندن) نے ’’اے نیو گولڈن ایج‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کی پالیسیوں کودوسرے ترقی پذیر ممالک کے لئے بہترین مثال قرار دیا۔ ہم نے سائنسدانوں کی تنخواہوں کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ ایک نئے ٹینور ٹریک نظام کے تحت پروفیسروں کی تنخواہوں میں 4 سے 5 گنا اضافہ کیا گیا جو وفاقی وزرا کی تنخواہوں سے چار گنا زیادہ تھا، جامعہ فیکلٹی ممبروں کے گریڈ میں اضافہ کیا گیا اور جامعہ کے اساتذہ کو 75 فیصد ٹیکس میں چھوٹ بھی دی گئی۔ ادبی سرقہ کو روکنے کے لئے ایک سوفٹ وئیر متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے تمام تحقیقی مقالوں کی جانچ پڑتال کی جانے لگی۔

 اس طرح کے دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستانی جامعات کی تحقیقی پیداوار میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ جہاں ہم 2000 میں بین الاقوامی جرائد میں ریسرچ کی اشاعت کے معاملے میں ہندوستان سے 400 فیصد پیچھے تھے، ہم نے 2017 میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا اور 2019 تک ہم ہندوستان سے تقریباً 25 فیصد آگے ہو گئے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم کو 22 جولائی 2006 کو میرے اور HEC کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بارے میں27 جولائی 2006 کو ہندوستان کے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی جس کی سُرخی تھی ’’ہندوستان کو پاکستان کی سائنس میں ترقی سے خطرہ‘‘۔ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم کی زیر صدارت علمی معیشت پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جس کا، میں وائس چیئرمین ہوں، ایک علمی معیشت کی طرف گامزن سفر جو 2000 میں شروع ہوا تھا دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن
کالم نگار سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اورسابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہیں

بشکریہ روزنامہ جنگ

قومی اداروں کے ملازمین کی حالت زار

قیام پاکستان کے وقت اور اس کے بعد صنعتکاروں نے اس نوزائیدہ ملک کے مستقبل اور اس کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے گراں قدر ، بیش بہا قربانیاں اور خدمات سرانجام دیں جس سے لگتا تھا کہ پاکستان بہت جلد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نظر آئے گا۔ لیکن پھر بدقسمتی سے سیاسی نا اہلی، بے جا دخل اندازی، غلط پالیسیوں،کرپشن اور سیاسی لوٹ مارکی وجہ سے ترقی سے تنزلی کا سفر شروع ہو گیا جس کی طویل داستان ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آج حکومتی ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں، ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشی اور دیگر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ نو ماہ میں یہ ادارے مزید 294 ارب روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔

ریلوے، پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے عوامی اور دفاعی نوعیت کے ادارے ختم ہونے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں، دوسری جانب سیاسی اشرافیہ کی اپنی ایئرلائنز اور اسٹیل ملیں ترقی کی منزلیں چھو رہی ہیں۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی دن دگنی رات چو گنی ترقی کر رہی ہے مگرریلوے کو بند کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی لوٹ مار، کرپشن و نااہلی کی بنا پر خسارے سے دوچار ہونے والے اداروں کو منافع بخش بنانے کے بجائے ان کی نجکاری کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے، حکمران، سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے افراد اپنے اپنے مفادات اور عزائم کے ساتھ شریک ہیں۔ ایک فضائی حادثے کے بعد پاکستانی پائلیٹس کے جعلی لائسنسوں کا انکشاف کر کے نہ صرف دنیا بھر کی ایئرلائنوں میں ملازم پاکستانی پائلیٹس کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں گئیں بلکہ پاکستانی ایئرلائنوں کو بھی مسائل سے دوچار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ غیر ضروری جانچ پڑتال اور پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں جن میں مزید توسیع ہوتی جا رہی ہے جس سے انھیں اربوں روپے کا خسارہ پہنچ چکا ہے، ہر حکومت اور حکمران کی طرح موجودہ حکومت بھی اقتدار میں آنے سے قبل قومی اداروں اور اسی سے وابستہ افراد کی خیر خواہی کا دم بھرتے نہیں تھکتی تھی اور ان اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کے دعوے کرتی تھی۔

ملائیشیا کے رول ماڈل کی مثالیں پیش کی جاتی تھیں لیکن عملی طور پر اب تک کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسٹیل ملز کو تو تقریباً ختم کردیا گیا ہے گوکہ یہ کام آمر پرویز مشرف بھی نہیں کر سکا تھا اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے و دیگر اداروں کو بھی ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چند ماہ پیشتر اسد عمر نے یہ نوید سنائی تھی کہ وہ حکومتی اداروں کی اصلاح احوال کے لیے نیا قانون لا رہے ہیں لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ اسٹیل ملز کو پرائیویٹ کرنے کے لیے کاؤنسل آف کامن انٹرسٹ میں پالیسی وضع کرنے کے بجائے وزیر اعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ میں اس کی نجکاری کی منظوری لے لی گئی۔ قانونی ماہرین اس اقدام کو غیر آئینی اور معاشی ماہرین اسٹیل ملزکی بندش کو معاشی غلامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی نظریں اسٹیل ملز کی اراضی پر ہیں تو وفاق کی نظریں اس کے اثاثوں پر ہیں، سیاسی اشرافیہ اور بیورو کریسی کے بھی اپنے عزائم و مفادات ہیں۔

سنہ 2013 سے اسٹیل ملزکے ریٹائرہو جانے یا مر جانے والے ملازمین کی واجبات کی ادائیگی تاحال نہیں ہو پائی ہے نہ اس دوران ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے ملازمین کو تنخواہیں بھی تین یا چار ماہ بعد ادا کی جاتی ہیں۔ اب عدالت عالیہ کی کاوشوں کے نتیجے میں ریٹائر ہو جانے والے اور وفات پا جانے والے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وصولی کے لیے ملازمین اور ان کے لواحقین کا جمگھٹا عدالتوں میں نظر آتا ہے ان سات سالوں میں وفات پا جانے والے ملازمین کو واجبات کی وصولی کے لیے عدالتوں میں وراثت کے لیے کیسز داخل کرنا پڑ رہے ہیں جن میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر بروقت ادائیگیاں کر دی جاتیں تو یہ لوگ مالی مشکلات اور ان غیر ضروری قباحتوں سے بچ جاتے۔ اب بیک جنبش قلم 5 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جو سراسر زیادتی و ظلم ہے۔

ملز ملازمین کا موقف ہے کہ اسٹیل ملز کا معاملہ دیگر صنعتوں سے قدرے مختلف ہے یہاں ہیٹ، ڈسٹ، ہیزرڈ اور مضر صحت ماحول اور گیسوں کی موجودگی میں کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی جگہوں پر محنت کشوں سے چند سال سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا ہے ان کی صحت اور طبی ضروریات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں ان معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا ہے دوسرے یہ کہ مخصوص ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے باہر کے صنعتی اداروں میں ان ملازمین کو ملازمت کے مواقع بھی میسر نہیں آتے ہیں ہزاروں ملازمین کو جبری بے روزگار کرنے پر ملازمین سراپا احتجاج اور نوحہ خواں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کام فوجی ڈکٹیٹر نہیں کر پایا وہ کام عوامی حکومت کر رہی ہے۔ اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے سامنے مظاہرہ اور نعرے بازی کی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی تھی۔

ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس مسئلے پر ازخود نوٹس لینے کے لیے تحریری درخواست جمع کرائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جبری برطرفیوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب اسٹیل ملز کو 20 ارب روپے کے عوض فروخت کرنے کی کوششیں کی گئیں تو سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے اس کی نجکاری رکوائی تھی اور اس کی نج کاری کی صورت میں اس کے قانونی طریقہ کار کو بھی واضح کیا تھا اس مرتبہ بھی اسٹیل ملز کے ملازمین اور عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سندھ نے ایک آفیشل کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے کنوینر ناصر حسین شاہ جب کہ صوبائی وزیر سعید غنی، وقار مہدی اور مرتضیٰ وہاب اس کے ممبر ہوں گے جو ادارے کی مجوزہ نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیوں سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کرے گی۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی زبانی کلامی ہمدردی اور بیان بازی کا سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے آیندہ چند ماہ میں صورتحال سامنے آجائے گی کہ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کا مستقبل کیا بنے گا۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

بھارتی کسانوں کی تاریخی جدوجہد

بھارت میں کسانوں کی جدوجہد نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ بھارتی پنجاب، اتر پردیش اور مدہیہ پردیش کے لاکھوں کسانوں نے پولیس کی رکاوٹوں اور تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے، کسانوں کے اس دھرنا میں خواتین کی بھاری تعداد شریک ہے۔ یہ کسان مودی حکومت کی زراعت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالہ کرنے کے خلاف صف آراء ہیں۔ بھارت کی 2.9 ٹریلین ڈالر معیشت میں سے زرعی شعبہ کا تقریباً 15 فیصد حصہ ہے مگر بھارت کی 1.3 بلین آبادی میں سے آدھی آبادی کا انحصار زرعی شعبہ پر ہے۔ بھارت کی حکومت کارپوریٹ سیکٹر کو زرعی شعبہ میں داخل کر کے امریکا کے زرعی نظام کو نافذ کر رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے کسان پیلے اور ہرے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس دھرنے میں فیض اور جالب کی نظموں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ کسان بھگت سنگھ اور اشفاق ﷲ کی قربانیوں کو یاد کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومتوں کی کسان دشمن پالیسیوں کی بناء پر ہر سال درجنوں کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، کچھ زمینداروں کے تشدد سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کے اس دھرنا میں ان مرنے والے کسانوں کی بیوائیں اور بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ بیوائیں، بیٹیاں اور بہنیں زیادہ پرجوش ہیں۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ پرائیوٹ کمپنیوں کو زرعی شعبہ میں کردار کے لیے قانون سازی کی تھی۔ بھارتی پارلیمنٹ میں منظورکیے جانے والے اس قانون کے تحت کسان پرائیوٹ کمپنیوں کو زرعی اجناس فروخت کریں گے۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نجی شعبہ سے زرعی شعبہ کی معیشت بہتر ہو گی۔ بھارتی حکومت کی 24 سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو سیاہ قانون قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما اور جدید بھارت کے معمار پنڈت جواہر لعل نہرو کے پر نواسے راہول گاندھی کا مدعا ہے کہ وزیر اعظم مودی کسانوں کو سرمایہ دار کا غلام بنا رہے ہیں بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد جاگیرداری کا خاتمہ کیا تھا۔

سنہ 1964 ء میں ان کی حکومت نے زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی  ایم سی) ایکٹ نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسانوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ زرعی اجناس حکومت کی ریگولیٹ کردہ مارکیٹ یا منڈی میں فروخت کریں جہاں مڈل مین کسانوں کو ریاست کی قائم کردہ کمیٹی یا نجی خریداروں کو اشیاء فروخت کرنے میں مدد دیں گے۔ مودی حکومت کا دعوی ہے کہ اب اے پی  ایم سی منڈیس کی اجارہ داری ختم کر دی گئی ہے مگر حکومت نے زرعی اجناس کی کم از کم قیمت کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو ختم نہیں کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پورے ملک میں زرعی اجناس فروخت کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل زرعی اجناس کی ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقلی پر پابندی عائد تھی۔ ایک اندازہ کے مطابق اس قانون کے تحت کسانوں کو نجی کمپنیوں سے تحریری معاہدے کرنے ہونگے۔ اس معاہدہ میں کسانوں کو بہتر منافع کی یقین دہانی کرائی گئی ہے مگر بعض ایسی شقیں شامل ہیں کہ کسان ایک طرح سے کمیٹی کا غلام بن جائے گا۔

کسانوں کے دھرنا کی منظم تنظیموں میں سے ایک بھارتی کسان یونین (بھارتیہ کسان یونین) کے 53 سالہ بروندر سنگھ لگووال اس معاہدہ کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاملہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ عزت نفس کا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت کسان کی عزت نفس پامال ہو رہی ہے اور زرعی اجناس پیدا کرنے کے حق بڑھنے کا حق سے محروم ہو جائے گا، یوں حکومت کسانوں کو کارپوریشنز کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدہ پر عملدرآمد پر کوئی تنازعہ پیدا ہو گا تو کسان اپنے مفاد کا تحفظ نہیں کر  سکے گا۔ اب ان رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ زراعت میں بعض اوقات ناقابل برداشت صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس صورتحال میں کسان کے پاس صرف ایک راستہ رہ جائے گا، وہ راستہ خودکشی کا ہو گا۔ کسان اس بات پر متفق ہیں کہ پرانے نظام میں کئی خرابیاں ہیں، اس بناء پر زراعت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتا کہ زراعت کی معیشت میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ حکومت ایک مڈل مین سے دوسرے مڈل مین کی طرف دھکیل دے۔ یہ قانون قطعی طور پر مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

کسان اپنے مؤقف کی تقویت کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ 86 فیصد کسانوں کی زرعی زمین کا رقبہ دو ہیکٹرز (دو ہیکٹر) سے بھی کم ہے۔ اس صورتحال میں کسان کے لیے دور دراز علاقہ میں جا کر اپنی پیداوار فروخت کرنا ایک لاحاصل عمل ہے۔ بھارت کے زرعی شعبہ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نجی شعبہ کو زرعی معیشت میں داخل کر کے یہ امید لگا بیٹھی ہے کہ اب نتائج مثبت ہونگے مگر صورتحال اس کے بالکل منفی ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ یہ ابھی ابتدائی اقدامات ہیں، مستقبل میں کچھ بڑا خطرناک کام ہو گا اور خطرہ ہے کہ حکومت زرعی اجناس کی خریداری کے نظام سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گی۔ کسانوں کی معیشت کا سارا انحصار سرکاری نظام میں زرعی اجناس کی خریداری پر ہے۔ بھارتی پنجاب میں زرعی شعبہ کی تاریخ کا جائزہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1960 میں پنجاب اور ہریانہ میں زرعی اصلاحات کے بعد گیہوں اور دھان کے بیجوں کی مختلف اقسام حکومت نے رائج کیں، یوں ان اجناس کی پیداوار حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی تھی۔

اس بناء پر 60ء کی دہائی کو سبز انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ کسانوں کو حکومت کے زرعی اجناس کی کم سے کم قیمت مقررکرنے کے نظام سے خاطرخواہ فائدہ ہوا تھا۔ کسانوں کی اس تحریک کی مزدور تنظیموں کی جانب سے بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ مزدور، کسان اتحاد زندہ باد کے نعرے ہر طرف گونج رہے ہیں۔ اس تحریک میں بعض طبقاتی تضادات بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ خوشحال جاٹ، سکھ ، کسانوں اور بے زمین زرعی مزدوروں میں تضادات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ 1970ء میں قائم ہونے والی بڑے کسانوں کی انجمن نئے کسان تحریک نے چھوٹے کسانوں کو بھی اس جدوجہد میں شامل کر لیا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ 1960ء کی دہائی کے سبز انقلاب کے اثرات ختم ہو چکے ہیں۔ اس زمین کی پیداواری صلاحیت سیم و تھور کی وجہ سے کم ہو گئی ہے، یوں زرعی اجناس پر آنے والی لاگت بڑھ گئی ہے، مگر اجناس کی مناسب قیمتیں نہیں ملتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے کسان اور بے زمین زرعی مزدوروں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ کسان کارکن کہتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف کسانوں کا ہے، اس صورتحال سے مزدور، دکاندار، طالب علم، آڑتی اور بے روزگار نوجوان لڑکے لڑکیاں سب متاثر ہوئے ہیں۔

دہلی کے قریب مسلمانوں نے کسانوں کے لیے لنگر قائم کیا ہے۔ 30 کے قریب کھلاڑیوں، ادیبوں اور ڈاکٹروں نے کسانوں سے برے سلوک کے خلاف احتجاجاً اپنے قومی ایوارڈ واپس کر دئیے ہیں۔ کسان تنظیموں کی اپیل پر گزشتہ منگل کو 4 گھنٹے تک مکمل ہڑتال ہوئی۔ حکومت نے اس ہڑتال کو روکنے کے لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ کو گھر میں نظربند کر دیا۔ کسان رہنما کہتے ہیں کہ بھارت کے تین بڑے سرمایہ دار خاندان اس قانون کے پیچھے ہیں۔ اس دھرنا کی خاص بات یہ ہے کہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی کھانا تیارکرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسانوں کے اس دھرنا کی گونج سمندر پار تک پھیل گئی ہے۔ کینیڈا اور برطانیہ میں سکھوں نے اس دھرنا سے یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے کسانوں کے مطالبات سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے جس پر مودی حکومت چراغ پا ہے۔

بعض کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جس طرح دہلی میں شاہین باغ میں احتجاج کرنے والی خواتین کو محصور کیا تھا اور تشدد کر کے انھیں منتشر ہونے پر مجبورکیا تھا مودی حکومت وہی طریقے کسان دھرنا کے شرکاء پر استعمال کرنا چاہتی ہے مگرکسانوں کا مزدوروں کے ساتھ اتحاد ہے، یہ ایک سیکیولر تحریک ہے۔ یوں ہر سیاسی جماعت اس تحریک کی حمایت کر رہی ہے۔ حکومت کسانوں کو اعصابی لڑائی میں الجھا کر منتشرکرنا چاہتی ہے مگر دھرنا کے شرکاء خاص طور پر عورتوں کا عزم ہے کہ جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں ہونگی وہ واپس نہیں جائیں گی۔ پنجاب کے دونوں طرف کے کسان بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ یہ جدوجہد خطہ کے مظلوموں کو ایک نیا راستہ دکھا رہی ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

انڈیا کسانوں کے نرغے میں

بہت دنوں سے نریندر مودی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر اسمبلی میں کھیلتے کھیلتے کسانوں کی زمینوں کو بھی اپنی ملکیت سمجھ کر اور اپنے من مانے کھلاڑیوں کی فیلڈ جان کر یہاں بھی انھیں کھیلنے کی سوجھی۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ سردیوں کے موسم میں کوئی نیا ڈکٹیشن ملک اور قوم کو نہیں دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ موسم تھا جس نے روس کو سوویت یونین بنا دیا تھا۔ کسانوں کی ٹولیاں نکلی تھیں اور ارد گرد کی ریاستوں نے ان کو جوائن کر کے دنیا کی سب سے بڑی ریاست بنا دیا تھا۔ لیکن نریندر مودی کو بھلا کیا معلوم تھا ان کو تو بھارتی زر پرستوں نے بھارت کا پرائم منسٹر بنا دیا۔ وہ بھی دوسرے انتخاب میں دو تہائی ووٹوں کا مالک بنا کر۔ پہلے تو انھوں نے جموں اور کشمیر کو ہڑپ کیا اس بل کے مخالف بڑا احتجاج ہوا۔ کرفیو لگے، جو شاید تاریخ عالم میں اپنی نوعیت کے یہ طویل ترین کرفیو تھے۔ کشمیری لیڈروں کو یکے بعد دیگرے پھر اچانک اپنی ہی اتحادی پارٹی کے لیڈروں کو جو کشمیر سے متعلق تھے۔

ان کو پس زنداں کر دیا۔ جن میں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی صاحبہ اور ان کی پوری کابینہ شامل تھی۔ پورے ہند میں بیشتر صوبوں میں بعض حکمرانوں اور شہریوں نے سری نگر شہر کو تو فوجیوں کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا ۔ تقریباً ہر گلی میں پانچ سے سات فوجی ڈیوٹی پر نافذ کر دیے گئے۔ پھر وہی سربراہ پوچھتے ہیں کہ سری نگر میں مظاہرے کیوں نہیں ہو رہے۔ اس کے بعد انھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک بل پاس کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پینتیس فیصد مسلمان وہ بھی بھارت میں۔ تو ان کو ایک بل کے ذریعے ملک میں آ کر بنگلہ دیش سے اور برما سے آئے ہوئے مسلمانوں کو غیر قانونی قرار دے کر نکالنا مقصد تھا۔ بقول مودی حکومت کے ایک وزیر کے تیس فیصد مسلمان ہونا ملک کے لیے خطرناک ہو گا۔ اس لیے جب اس بل کی مخالفت کے لیے تحریک چلی تو ہندو طلبا بھی مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر آگئے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی جنرل سیکریٹری نے بھی مسلمانوں کے خلاف اس بل کی مخالفت کی۔ لہٰذا ان کو فرقہ پرستوں نے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔

اس طرح بھارت میں ہندو مسلم نوجوانوں کا اتحاد اس قدر بڑھ گیا کہ شاہین باغ میں پنجاب یونیورسٹی سے طعام و قیام کا انتظام ہونے لگا جو یقینا بی جے پی کے خلاف ایک بڑی قوت بن گئی تھی۔ اس قدر مضبوط قوت کہ شاہین باغ کی مسلم خواتین کو بے دخل کرنے کی مسٹر مودی کو جرأت نہ ہوئی مگر کورونا وبا پھیلتی گئی اور تحریک ٹوٹتی گئی۔ تحریک کے اس ٹوٹ پھوٹ اور سائنسی بندش کی وجہ سے مسلمانوں کی یہ تحریک تو چل نہیں سکی۔ لہٰذا انھوں نے عوام دشمن سرمایہ دارانہ حمایت کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سرمایہ داروں کی اسمبلی تھی لہٰذا بل پاس بھی ہو گیا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے ایک ارب پینتیس کروڑ آبادی والے ملک میں سرمایہ دار تو محدود تعداد میں ہیں جب کہ عوام اور مزدور طبقات لامحدود تعداد میں۔ پھر یہ موسم انقلاب کی نوید کا موسم ہے۔ آدھی رات کو دہلی میں ناقوس، جھانجھ، ڈھول اور بگل کی آوازیں آنے لگیں۔ شہر جاگ گیا۔ پھر بگل کی آواز سے یہ سمجھ گئے کہ یہ انقلاب کی آواز ہے۔ پھر انھیں یہ یاد آیا کہ انھوں نے اخبارات میں صبح کو یہ پڑھا تھا کہ سیکڑوں کسان اور مزدور انجمنیں پنجاب، یوپی اور دکن سے دلی میں 30 نومبر کو داخل ہوں گی۔ اور تمام راستے بند کر دیں گے۔

وقت گزرتا گیا لیکن آواز تیز نہ ہوئی۔ اس سے اندازہ ہو گیا کہ میرؔ و غالبؔ کے اس شہر میں آنے والے لوگوں کو روک دیا گیا ہے۔ جب صبح ہوئی تو صورتحال واضح ہوئی کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی جلسے جلوس کو دلی شہر میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ سیکڑوں راہ میں گھائل ہوئے۔ جاں سے گزر بھی گئے۔ پھر لاٹھی چارج بند ہو گیا۔ کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ کہیں 1949 کے پیکنگ کا حال نہ ہو جس کو ماؤزے تنگ نے گھیر کر اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ لہٰذا اس سنسنی خیز اور خطرناک صورتحال کو سرمایہ دار سمجھ گئے وہ تصادم سے بچ کر امن کی چھاؤں میں گفتگو پر تیار ہو گئے۔ مگر اب صورتحال بات چیت سے آگے نکلتی جا رہی تھی۔ کیونکہ دوسرے شہروں سے آندولن کے حامی دلی کی سرحدوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کسانوں کی تقریباً دو سو پارٹیاں اس آندولن میں شرکت کر رہی ہیں۔ اور ہر پارٹی دو تین ہزار افراد کو لے کر چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو دو سو افراد کے یونٹ بھی چل رہے ہیں۔

اس بغاوت نما جلوس میں یہ ٹولیاں رات گئے تک پولیس اور پیرا ملٹری فورس سے تصادم کرتی رہیں۔ دلی چلو تحریک میں شامل ہونے کے لیے پنجاب سے تو کسان چلے ہی تھے۔ اس کے علاوہ یوپی، سی پی سے بھی کسان چل پڑے۔ ہر آدمی اپنے کھانے کا سامان بھی ساتھ لے کر چلا ہے۔ اور ان کا عزم ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے وہ واپس نہیں جائیں گے۔ ایسی صورت میں بھارتی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی ہوشیاریاں بھی دھری کی دھری رہ گئیں۔ اس جلوس کی خاص بات یہ ہے کہ تامل ناڈو اور مہاراشٹرا سے چلنے والے تین سو کسان اپنے ساتھ ان کسانوں کی کھوپڑیاں بھی لائے تھے جنھوں نے خودکشی کر لی تھی۔ کیونکہ وہ بینک کے قرضہ جات ادا نہیں کر سکے تھے اور بینک نے ان کو حد درجہ اذیت دی تھی یہ اذیت خانے نریندر مودی کے ایجاد کردہ چالبازیوں میں سے ایک ہیں کہ انسان کو کیسے دکھ دیا جائے کہ پہلے تو وہ شرمندہ ہو اور شرمندگی کے بعد موت کی آغوش میں پناہ لے لے۔

مردہ کسانوں کی تین سو کھوپڑیاں تاریخ کا بدترین المیہ ہیں اور ایک ٹولی ان کسانوں کی بھی تھی جو کامریڈوں کی طرح جان دینے پر تیار نہ تھے بلکہ سابقین کے طریقے سے موت کو گلے لگانے آئے تھے۔ تا کہ انتظامیہ پر اس کا بوجھ پڑے اور حکومت جن علاقوں میں بارش نہیں ہوئی یا پانی کی قلت رہی ہے ان کسانوں کے قرضے معاف کر دے۔ ایک کسان چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں نے پانچ سال پہلے بینک سے چالیس ہزار قرض لیا تھا جو اب بڑھ کر چار لاکھ ہو گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ لیکن بعد میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسانوں میں یہ بے چینی ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ برسوں سے کسان مسائل کا شکار ہیں۔ یوپی کے کسان جو پنجاب کے کسانوں کی طرح اعداد و شمار میں ہوشیار ہیں۔ ان کی ٹولیاں جونپور، نیشاپور، لکھنو کے اطراف سے ہوتی ہوئی یکم دسمبر کو دہلی کے بارڈر غازی آباد میں روڈ تک پہنچ چکی تھیں۔ ان کی پولیس سے بڑی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کی ہوشیاریاں یہی تھیں کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ جس طرح کورونا کی آمد سے مسلمان گھروں کو چلے گئے تو کسان مارچ کیا کریں گے۔ یہ غفلت ان کو رات دن ہیجانی کیفیت اور مینٹل ٹینشن میں ڈال چکی ہے۔ اب صورتحال یہی رہ گئی ہے کہ آخرکار کسانوں کو جلسہ کر کے اپنی ڈیمانڈ پیش کرنے دی جائے۔ اگر ان کسانوں میں کوئی لیڈر زبردست ہوا تو وہ دلی کا گھیراؤ کر دے گا۔ چین کی کمیونسٹ حکومت شہروں کا گھیراؤ کر کے معرض وجود میں آئی اور آج وہ امریکا کے مقابل کھڑی ہے۔ جہاں تک ہماری اطلاع ہے بھارت کی چین نواز کمیونسٹ پارٹی جس کو عرف عام میں ماؤ نواز کہتے ہیں وہ بھی اس سنگھٹن میں اپنا کردار بتانے کو ہے صورتحال جس طرف جا رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کے مزدور طبقات اب زیادہ دنوں تک خودکشی کر کے سرمایہ داری کو فروغ نہیں دیں گے۔ بی جے پی کا منصوبہ یہ تھا کہ تمام کسانوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ گورنمنٹ کو کم سے کم ریٹ پر مال بیچیں اور پھر اس کی پیمنٹ توڑ توڑ کر قسطیں بنا کر دی جائیں۔ ایک تو عوام کو کسان مجبور ہو کر اپنی اصل قیمت سے کم قیمت پر اجناس کو فروخت کرنے پر مجبور کیے جائیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غلے کو جمع کرنا اس کو منافع کسی خاطر چھپا دینا۔ بھارت کی حکومت نے اس کو جرم کے حصے سے نکال دیا ہے۔

حکومت نے ذخیرہ اندوزی کو قابل جرم قرار دینے کے بجائے اس کو جائز قرار دینے کے لیے بھی بل پاس کیا ہے تاکہ چھوٹے کسانوں کی کوئی آواز نہ رہے۔ صرف وہ چند بڑے کسانوں سے ڈیل کر کے اپنا سودا عوام کو فروخت کریں اور دنیا میں نایاب بڑے بڑے تاجر بھارت کی سسکتی جنتا میں پیدا کریں۔ اب تک تو بمبئی کی سڑکوں پر رات گئے بے گھر لوگوں کے سونے کی جگہیں سڑکیں ہیں اب لاکھوں نئے لوگ بھی سرمایہ دارانہ چال سے اپنی نیند اور کئی شہروں کی سڑکوں پر خراب کریں گے۔ مگر ہر وقت یہ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں حکومت کو چین نصیب نہیں کرنے دیں گی۔ 3 دسمبر کے بعد جو اب تک پنجاب اور ہریانہ سے تین لاکھ کسان آئے تھے اور بقیہ جگہوں سے لاکھوں کسان جو مختلف صوبوں کے کسان ہیں جو مودی کے اعلان کے بعد اپنا طبل جنگ بجائیں گے۔ تب مسٹر مودی کو اندازہ ہو گا کہ کسان مزدور قوت کیا ہے۔ اب جا کر گارجین اور دنیا بھر کے اخباروں کے ایڈیٹروں کی آنکھیں کھلی ہیں کہ بھارت میں حکومت کی مجرمانہ سرگرمیاں کیا ہیں۔ جو خود اپنی نفی کی طرف آگے بڑھ رہی ہیں۔

انیس باقر  جمعـ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ملک کا واحد فولاد ساز ادارہ پاکستان اسٹیل ملز مکمل بند ہو گیا

ملک کی واحد فولاد ساز ادارہ پاکستان اسٹیل مکمل طور پر بند ہو گیا، واضح رہے جب ذوالفقار بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے. اس وقت انہوں نے پاکستان اسٹیل کی بنیاد رکھتے ہوئے ’’ مہمانوں کی کتاب میں اپنے ریمارکس لکھے تھے کہ پاکستان اسٹیل ملک فولاد کی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ملکی دفاعی ضرورت بھی پوری کرے گی۔ لیکن پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے یہ کتاب ہی گم کر دی، پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے 4 ہزار سے زائد ملازمین کی برطرفی پر عوام میں شدید منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ملکی سیاست دانوں ، سماجی ورکرز اور مزدور یونین کے عہدے داروں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ہفتہ کو ملازمین کی جانب سے کئے جانے والا احتجاج اور دھرنا ختم کر دیا، اور مرحوم ملازم کی تدفین بھی کر دی ہے، پاکستان اسٹیل 10 جون 2015 سے مالی مشکلات کا شکار ہوا جس کی وجہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹیل کا کنکش کاٹ دینا ہے۔

لیکن 2015 سے پاکستان اسٹیل مالی بحران کاشکار ہوا جس کی وجہ نا اہل انتظامیہ کی تقرری ہے، اور ن لیگ حکومت اور پی ٹی آئی کی حکومت نے کبھی پاکستان اسٹیل کے لئے بحالی پیکج تیار نہیں کیا، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ گمراہ کن اعداد و شمار پیش کئے۔ پاکستان اسٹیل کو 212 ارب روپے نقصان ہوا ہے جبکہ حقیقت میں 190 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، پاکستان اسٹیل کے بند ہونے پر گزشتہ 5 سال کے دوران حکومت کو 12 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا، کیونکہ پاکستان اسٹیل ملکی 40 فیصد ضرورت پوری کرتا تھا۔ اب ملک سو فیصد درآمد پر انحصار کر رہا ہے، پاکستان اسٹیل نے شعبہ ایڈ من اور پرسنل، قانون، سیکورٹی ، تعلیم ختم کر کے اسکول اور کالج بند کر دئیے، اسطرح فائر برگیڈ کا شعبہ بھی ختم کر دیا ہے ، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے برطرف کئے گئے ملازمین کے گھروں پر انفرادی طور خطوط جاری کر دئیے ، ہفتہ کو سینکڑوں کو ملازمین کو برطرفی کے خطوط موصول ہوئے۔

جاری کردہ خط میں تحریر ہے کہ پاکستان اسٹیل کئی سالوں سے نقصان کا شکار ہے ، اور پاکستان اسٹیل کو 30 جون 2020 تک دو سو 12 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ پیدواری صفر ہے، اور 2015 سے پلانٹ مکمل طور پر بند ہیں۔ مالی مشکلات کے باوجود برطرف کئے جانے والے ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ادا کی جائے گی، جبکہ قانونی واجبات پاکستان اسٹیل کی جانب سے ادا کئے جائیں گے، خط میں لکھا ہے کہ انتظامیہ کو ملاز مین کی برطرفی پر بہت دکھ ہے۔ لیکن ادارے کے حالات کے پیش نظر برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے، خط میں برطرف ملازم کے لئے انتظامیہ کی جانب سے بہتر صحت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ آپ اپنے واجبات کی وصولی کے لئے شعبہ انتظامیہ سے رابطہ کر لیں۔

رفیق بشیر
بشکریہ روزنامہ جنگ

سی پیک کے تحفظ کے لیے چین و پاکستان متحد ہیں

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نریندر مودی کی حاسد‘ تنگ دل اور متعصب حکومت کی نگاہوں میں پہلے دن سے کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے جس کا اظہار آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے یہ بےبنیاد دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیم کی دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے اِس بےثبوت الزام کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی دہشت گردی میں ملوث قرار دیا جس سے حکومت پاکستان کے اِس اندیشے کو تقویت ملی کہ مودی حکومت دہشت گردی کی کسی جعلی کارروائی کا ناٹک رچا کر اُس کا الزام پاکستان پر عائد کرنے اور اُسے پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا کر سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بڑی کارروائی کے لئے زمین ہموار کر رہی ہے۔

بھارتی قیادت کے ارادوں کی سنگینی کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر مودی سرکار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نوٹس لینا ضروری سمجھا اور اُس کے ترجمان نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتا ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان نے واضح کیا کہ چین دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی معاونت کرتا رہے گا اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ہر موسم کے ساتھی دونوں ملک مل کر ناکام بنائیں گے۔ چین کے اِس بیان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صراحت کی کہ پاکستان سی پیک منصوبے کی حفاظت کیلئے پوری طرح مستعد اور پُرعزم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے کوشاں ہے جبکہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان اور سی پیک کے منصوبوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے مودی سرکار نے 80 ارب روپے کے لگ بھگ رقم مختص کی ہے اور یہ رقم سی پیک منصوبوں کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جانی ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہر صورت سی پیک منصوبے کی حفاظت کا عزم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین مل کر اس منصوبے کی حفاظت کریں گے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اِن حقائق کی نشاندہی کی کہ سی پیک منصوبہ پورے خطے کیلئے فائدہ مند ہے، اِن فلیگ شپ پراجیکٹس کے ساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، چین بھارتی سازش سے اچھی طرح واقف ہے، سی پیک منصوبے پر چین کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہے اور اُس کے انجینئر اور کارکن یہاں کام کر رہے ہیں، اگر اُن منصوبوں کو کسی طور بھی نشانہ بنایا جاتا ہے تو چین اور پاکستان ہرگز خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں بھی پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو اٹھایا جائے گا اور بھارت خطے میں جو خطرناک کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے پوری دنیا کو اس سے خبردار کیا جائے گا۔

نریندر مودی کے الزامات پر چین اور پاکستان کے اس فوری اور بھرپور ردِعمل سے صورت حال کی سنگینی پوری طرح عیاں ہے۔ چینی قیادت کا ون بیلٹ ون روڈ کا انقلابی تصور اگرچہ بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور خود بھارت کیلئے اس میں شمولیت کی راہ کھلی رکھی گئی ہے لیکن ہمسایہ دشمنی کے چانکیائی فلسفے پر استوار مودی حکومت اس عظیم منصوبے کے پاک چین جزو یعنی سی پیک کو تباہ کرنے کی مجنونانہ کوششوں میں مصروف ہے تاہم انہیں ناکام بنانے کیلئے چین و پاکستان پوری طرح متحد ہیں جس کی بناء پر مودی سرکار کی رسوا کن ناکامی دیوار پہ لکھی نظر آتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ریکوڈک کے خزانے پر جرمانے کا سانپ

آج اتوار ہے۔ نسلوں کے درمیان رابطے کا دن۔ کم از کم تین نسلیں تو آج آپس میں ملتی ہیں۔ دادا۔ دادی۔ نانا نانی۔ ماں باپ۔ بچے بچیاں۔ نئی نسل جسے آٹھ دس سال بعد ملک سنبھالنا ہے۔ وہ ہم سے کہیں زیادہ تیز ذہن رکھتی ہے۔ اس کی سوچ کے آفاق بہت وسیع ہیں۔ ان کی فکر کے زاویے آج کی ضرورت کے مطابق ہیں۔ ہماری سوچیں تو زیادہ تر بیسویں صدی کے سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہیں۔ آج میں آپ سے بلوچستان کے عظیم ضلع چاغی میں موجود سونے کے خزانوں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ چاغی کو ہم اپنے ایٹمی تجربوں کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن دنیا بھر میں معدنیات کے ماہرین یہاں سونے۔ تانبے۔ چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ذخائر کے حوالے سے اسکے قدردان ہیں۔ اور وہ سب حیرت میں ہیں کہ یہ پاکستانی کیسی قوم ہیں کہ ان کے پاس اربوں ڈالر کے معدنی وسائل ہیں۔ 5½کروڑ کو غربت کے کنویں سے باہر نکالنے کیلئے اس سونے تانبے کو استعمال کرنا ان کی ترجیح نہیں ہے۔ ان کے مسائل کا حل چاغی میں ہے۔ مگر یہ واشنگٹن میں کشکول پھیلائے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے باہر کھڑے رہتے ہیں۔

آپ کو آج اپنے بچوں کو یہ ولولۂ تازہ دینا ہے کہ وہ کسی کے آگے دست طلب دراز نہیں کریں گے۔ یہیں اپنی سر زمین میں ہی چھپے خزانے باہر نکالنے ہیں۔ ﷲ تعالیٰ نے ہمیں جن نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان سے اپنی ضرورتیں پوری کرنی ہیں۔ قرضے لینے کا لفظ ہی اپنی لغت سے نکال دینا ہے۔ میں آج ریکوڈک (ریت کی چوٹی) کا تذکرہ اس لیے لے کر بیٹھا ہوں کہ پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔ پاکستان کے کچھ درد مند صاحب بصیرت ارب پتیوں کو قادر مطلق نے توفیق دی ہے۔ بڑی ہمت کر کے پاکستان کو درپیش بین الاقوامی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے نیشنل ریسورس لمیٹڈ کمیٹی قائم کی ہے۔ بہت دُشوار گزار راہ ہے۔ درمیان میں چھ ارب ڈالر کے جرمانے کا سانپ ہے۔ عالمی بینک کے ادارے۔ آی سی ایس آئی ڈی۔ سرمایہ کاری کے تنازعات طے کرنے کے بین الاقوامی مرکز نے حکومت پاکستان پر چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہوا ہے کیونکہ ہم نے اپنے معاہدوں کا پاس نہیں کیا۔ جس کمپنی سے 1993 اور 2006 میں معاہدے کیے۔ اس کے لائسنس منسوخ کر دیے۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

یہ جرمانہ پاکستان کے اپوزیشن اور حکومت کے سیاستدانوں۔ ججوں۔ بیورو کریسی کی بیمار سوچ کو بے نقاب کرتا ہے۔ قومیں خود انحصاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ ہم قرضوں کو اصل منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے اشرافیہ کی املاک اندرون ملک بیرون ملک بڑھانے پر صَرف کرنے کے عادی ہیں۔ ہم پر جو 36 ہزار ارب روپے قرضہ ہے۔ کسی کو علم ہے کہ اتنا روپیہ کونسی عمارتوں۔ کونسے ڈیموں۔ کونسی سڑکوں پر خرچ ہوا۔ میں تو ریکوڈک پر کئی دہائیوں سے لکھ رہا ہوں۔ اب نیشنل ریسورس لمیٹڈ بننے اور ان کی طرف سے کینیڈا کی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن سے سلسلہ جنبانی سے مجھے پھر سرنگ کے آخر میں روشنی دکھائی دینے لگی ہے۔ میں نے عارف حبیب صاحب سے برقی رابطہ کیا۔ ماہرین سے جاننے کی کوشش کی۔ تانبے کی کان کنی میں چلّی سب سے آگے ہے۔ کراچی میں چلّی کے اعزازی قونصل جنرل انور صالح 2010 سے مجھے سقوط ریکوڈک کا پس منظر بتا رہے ہیں۔ ان سے بھی گفتگو کی۔

بہرام ڈی اواری سے بھی برقی رابطہ کیا۔ کامرس وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ارتقا زیدی صاحب سے مشاورت کی۔ انہوں نے تفصیلی ای میل بھیجی۔ وقار مسعود صاحب آج کل مصروف ہیں۔ ان کے بھی جواب کا انتظار ہے۔ چاغی کے پہاڑوں میں پہلے صرف تانبے کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ یہ 6 بلین ڈالر کا منصوبہ تھا۔ جس میں 52 فی صد پاکستان کا حصّہ۔ 48 فی صد چلّی کی کمپنی ٹی تھیان کا۔ پاکستان نے 52 فی صد میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت کو دینے تھے۔ تانبا نکال کر ریفائنری میں بھیجنے کے لیے کمپنی چاغی سے گوادر تک 650 کلومیٹر پائپ لائن بچھاتی۔ جس سے یہ مواد بندرگاہ پر کھڑے بحری جہازوں میں لد جاتا۔ چاغی میں چھوٹا سا ایئرپورٹ بھی بنایا گیا۔ جائزے کے دوران پتا چلا کہ یہاں آٹھ سے نو فیصد سونا بھی ہے۔ اس کمپنی کی مہارت صرف تانبے کی تھی۔ سونے کے لیے بیرک گولڈ سے معاہدہ ہوا۔ 2000 میں کام شروع ہوا۔ کمپنی کے بقول 800 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔

اس کے بعد 20 اگست 2010 کو انہوں نے مائننگ لائسنس کی درخواست دی۔ جہاں سے تنازع شروع ہو گیا۔ سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں۔ 1993 اور 2006 کے معاہدے۔ سب غیرقانونی قرار دیے گئے۔ ٹی تھیان کمپنی نے عالمی بینک کے بین الاقوامی مرکز تنازعات میں اپیل دائر کی۔ 2017 میں پاکستان پر چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ حکومت پاکستان کے وکلاء کی محنت اس حد تک رنگ لائی کہ فی الحال جرمانے کی فوری ادائیگی میں مہلت دی گئی ہے۔ لیکن کسی بین الاقوامی بینک کے ذریعے جرمانے کے 25 فیصد کی گارنٹی جمع کروانے کے لیے کہا گیا ہے۔ آئندہ سماعت مئی 2021 میں ہو گی۔ حکومت اور اپوزیشن تو اپنے بیانیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ترجمان لکڑی کی تلواریں سونتے کھڑے ہیں مگر پاکستان کے چار صنعتی گروپوں نے ملک کے مستقبل کی فکر کی ہے۔

یونس برادرز۔ عارف حبیب۔ فاطمہ گروپ۔ لبرل گروپ اکٹھے ہو کر اپنے ملک کو اس مالی بحران سے نکالنے کے لیے نیشنل ریسورس کے پرچم تلے میدان میں نکلے ہیں۔ بیرک گولڈ سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ جرمانے کی ادائیگی ہے جو ناقابل تنسیخ ہے۔ اس پل کو عبور کر کے ہی سونے کے خزانے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ عارف حبیب پُر امید ہیں۔ ممکن ہے ٹی تھیان ماورائے عدالت معاملہ طے کرنے پر تیار ہو جائے۔ پھر ریکوڈک پر کام شروع ہو جائے گا۔ میں تو ﷲ کا شکر ادا کررہا ہوں کہ جب سیاسی اور فوجی قیادتیں اس انتہائی سنگین مسئلے کو ترجیح نہیں دے رہی ہیں۔ کسی بیانیے میں کسی تقریر میں کسی ٹویٹ میں آپ ریکوڈک کا ذکر بھی نہیں سنتے۔ حالانکہ یہ جرمانہ ہماری پہلے سے ڈانواں ڈول معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہمارے تو زر مبادلہ کے اپنے ذخائر بھی اتنے نہیں ہیں۔ ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔ بلوچستان کے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار ملے۔ ہم 2022 میں اپنی ڈائمنڈ جوبلی قرضوں سے آزاد ہوتے ملک کی حیثیت سے منا سکیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ