پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نہ نکل سکا، کمزور خارجہ پالیسی

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس بیجنگ میں ختم ہوا، اس اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں مالی معاونت کرنے والے گرے لسٹ میں شامل تمام ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر فیٹف کے صدر نے اعلامیہ میں کہا کہ آئس لینڈ اور منگولیا کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے لیکن شمالی کوریا، ایران اور پاکستان بدستور گرے لسٹ میں رہیں گے۔ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد کیا تاہم جب تک وہ باقی چھ نکات پر عمل درآمد نہیں کر لیتا اس وقت تک پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔ اس اجلاس کی سفارشات کو فیٹف کے سالانہ اجلاس میں جو فروری 2020 میں پیرس میں ہو گا پیش کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ترکی نے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی سفارش کر دی جائے، لیکن بھارتی مندوب کا موقف تھا کہ جب تک پاکستان تمام نکات پر عملدرآمد نہ کرے اسے گرے لسٹ سے نہ نکالا جائے۔ یوں بھارت حاوی رہا۔ یہ صورتحال پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ گرے لسٹ میں رہنے کی سفارش کو ہم اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اس عمل کو کامیابی قرار دینا عجیب بات ہے۔

بدقسمتی سے ہماری حکومت گزشتہ دو ڈھائی سال سے جس طرح پاکستان کی اپوزیشن سے الجھی ہوئی ہے، اس وجہ سے حکومت یکسوئی سے کسی اور قومی معاملے کی طرف توجہ نہیں دے پا رہی۔ ایف اے ٹی ایف اور ملک سے مہنگائی کا خاتمہ غالبا حکومت کی پہلی ترجیح نہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ تین سال سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ حتمی طور پر پاکستان کے بارے میں فیصلہ اگلے ماہ فروری 2020 میں پیرس کے سالانہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے 100 صفحات سے زائد تفصیلی رپورٹ فیٹف کو بھیج دی ہے۔ اس رپورٹ میں تمام نکات پر اب تک کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل درج ہے۔ اس رپورٹ کے ہمراہ اس حوالے سے کی جانے والی قانون سازی اور پالیسی اقدامات کا ذکر بھی ہے۔ اس کے علاوہ ترمیمی بل اور سخت قوانین بنانے کی تفصیلات بھی دی گئی ہی۔

حکومت پاکستان کی کوشش تھی کہ بیجینگ اجلاس کے بعد فروری 2020 میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوانے کے لیے مزید دو اور ملکوں کی حمایت حاصل کی جائے۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان اپنی رپورٹ پر براہ راست بحث میں حصہ نہیں لے سکتا تاہم پورٹ پر دوست ممالک کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ اجلاس کے دوران دوست ممالک پاکستانی موقف کی حمایت کریں۔ ذرایع کے مطابق اگر امریکا فرانس اور برطانیہ میں سے کسی ایک ملک نے بھی حمایت کی تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے قواعد کے مطابق بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے کم از کم تین ممبر ممالک کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ توقع تو یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستان خود کو اس مشکل سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے گا اور بیرونی دنیا میں ایک متحرک خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے خود کو واچ لسٹ سے نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ملک کے سیاسی نظام میں تلاطم کی وجہ سے ارباب بست و کشاد ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑنے میں لگے رہے۔ ملک کے سبھی سیاستدان ایک دوسرے کو “کرپٹ” اور “غدار وطن” ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔

گرے لسٹ میں آنے سے پاکستان دنیا کی نظر میں ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ اس کے اثرات ہماری معیشت اور خارجہ پالیسی پر نمایاں ہونے لگے۔ گرے لسٹ میں آنے کی وجہ سے بھارت کو یہ موقع بھی مل گیا او ر وہ پاکستان کے حوالے سے اپنے منفی خیالات کھل کر بیان کرنے لگا۔ گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کے معاملے پر پاکستانی میڈیا اور خصوصا سوشل میڈیا کو بھی اپنا علمی اور اصلاحی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم اپنی “آنکھیں بلی کو دیکھ کر بند نہ کریں۔ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ہمیں معاشی اعتبار سے بہتر کی لسٹ سے نکال کر منفی لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ ڈالر کہاں تک پہنچ گیا۔ پیٹرول کی قیمت کیا گل کھلا رہی ہے۔ مہنگائی اور پانی کی کمی ہمیں کہاں لے جا رہی ہے ۔ صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کوئی ہے جو اس بارے میں سوچے۔ خدارا ترجیحات درست کریں ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے گی۔

سرور منیر راؤ

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

ایف اے ٹی ایف اجلاس اور پاکستان کی توقعات

دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے تدارک کے لیے قائم بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پیرس میں جاری اجلاس پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکالنے کے ممکنہ فیصلے کی توقع کی جارہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مالیاتی نظام کے لیے خطرات جیسے اہم معاملات میں پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018ء میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے لیے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا اس کے بڑے حصے پر اب تک کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے پر عزم انداز سے اس ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باوجود گزشتہ برس اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو اس فروری کے اجلاس تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ‘ تاہم گزشتہ ماہ بیجنگ میں ہونے والے ورکنگ گروپ کے اجلاس ہی میں پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے مقرر کردہ اہداف اور شرائط پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی ‘جس کا جائزہ حالیہ پیرس اجلاس میں لیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے لیے دو مشکلات رہی ہیں‘ پہلی یہ کہ پاکستان اس 39 رکنی تنظیم کا رکن نہیں؛ چنانچہ بھارت یہاں اپنی موجودگی کا پاکستان کے خلاف ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ظاہر ہے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات سے فرار پاکستان کا کبھی آپشن نہیں رہا‘ یہی وجہ ہے کہ جو ایکشن پلان پاکستان کو دیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کی رفتار اور سمت ایف اے ٹی ایف کی توقعات سے بڑھ کر رہی ہیں ‘ تاہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ بھارت نے اس پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو بلیک میل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا ؛چنانچہ پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے دو طرح سے کوششیں کرنا پڑیں ‘ ایک تو ایکشن پلان پر عمل کیا گیا اور دوسرا سفارتی رابطہ کاری کا محاذ تھا۔ 

چین ‘ ترکی‘ سعودی عرب اور ملائیشیا جیسے دوست ممالک تو پہلے ہی پاکستان کا دفاع کرتے رہے ہیں‘ مگر بھارت کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسڑیلیا، جرمنی، اٹلی اور روس کی حکومتوں سے بھی رابطے کئے گئے ہیں ۔ ان سفارتی کوششوں سے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی سپورٹ مل رہی ہے کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کے پالیسی ساز ادارے کو پاکستان کے خلاف اپنے سیاسی مفاد میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ تکنیکی پیش رفت کے ساتھ پاکستان کے دفاع کے اس واضح نکتے سے بھی ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید سامنے آ رہی ہے۔ صدر رجب طیب اردوان گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران پاکستان کے لیے حمایت کا اعلان کر گئے ہیں ‘ امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی کہہ چکی ہیں کہ امریکہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق مالی اعانت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ 

چین بھی گزشتہ ماہ پاکستان کے ان بھر پور اقدامات کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی ان کوششوں کو تسلیم کرنے پر زور دے چکا ہے۔مختصر یہ کہ 39 ملکوں کے اس ادارے میں سوائے بھارت اور اس کے ایک آدھ حلیف کے کوئی بھی ایسی ریاست نہیں جو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے مؤثر اقدامات سے انکار کر سکے؛چنانچہ بھارت ایک برس پہلے سے جن بد ارادوں کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا ‘ اس میں اسے برُی طرح شکست ہوتی نظر آ رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان رکن ممالک کے اتنے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

 

ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کریں گے : اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ترک قوم ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر ان کے موقف کی حمایت جاری رکھے گی جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھی پاکستان کی حمایت کی جائے گی۔ پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوغان نے کہا کہ ’کشمیر کی حیثیت پاکستان کے لیے ویسی ہی ہے جیسی چنا قلعہ کی ترکی کے لیے ہے۔‘ ترک صدر کے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزرا، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ ترک صدر رجب اردوغان نومبر 2016 میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران پاکستان آئے تھے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ تاہم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر 17 نومبر 2016 کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس اجلاس کے بعد عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے اراکین نے اس لیے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی کیونکہ وہ نواز شریف کو ملک کا وزیراعظم نہیں مانتے۔ انہوں نے وضاحت کی اجلاس کا بائیکاٹ صدر اردوغان کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل جب ترک صدر اسلام آباد پہنچے تھے تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایئرپورٹ سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کی گاڑی ڈرائیو کی تھی۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں طیب اردوغان نے مزید کہا کہ ترک قوم ماضی میں پاکستانی بھائیوں کی جانب سے ملنے والی امداد اور احسانات کو کبھی نہیں بھول سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود انقرہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ریاست اور قوم کی قربانیوں اور کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا۔ صدر اردوغان کے مطابق پاکستان اور ترکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد صدر رجب طیب اردغان نے پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کیا اور پاکستانی عوام کو علاج کی غرض سے مغربی ممالک جانے کی بجائے ترکی آنے کی دعوت دی۔ طیب اردوغان نے کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد علاج کی غرض سے مغربی ملکوں کا رخ کرتی ہے، لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ترکی میں بھی علاج معالجے کی بہترین سہولتیں موجود ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ غیر ملکی علاج کے لیے ترکی آتے ہیں۔

طیب اردغان نے بتایا کہ ترکی میں بہترین ہسپتال موجود ہیں جہاں ہر قسم کے علاج کی اعلیٰ سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے تجارتی تعلقات کو اپنے سیاسی تعلقات کی سطح تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملک نئے کاروباروں کی راہیں کھولیں گے۔ طیب ادوغان نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم صرف 80 لاکھ ڈالر ہے۔ ’تجارت کا یہ حجم ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہماری باہمی آبادی تین ارب سے زیادہ ہے، لہذا ہمیں اپنی تجارت کو اس حد تک پہنچانا ہوگا جس کے ہم مستحق ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ترکی میں پاکستانی سرمائے کے ساتھ 158 کمپنیاں ہیں اور ہم ایسی مزید کمپنیاں دیکھنا چاہیں گے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ فی الحال ہمارے پاس سرمایہ کاروں کو مخصوص شرائط کے تحت ترک شہریت کی پیش کش کے لیے ایک نمونہ موجود ہے۔ ترک صدر نے کہا: ’میں اپنے پاکستانی بھائیوں کو ترکی کی معیشت پر اعتماد کرنے کی دعوت دیتا ہوں، کیوں کہ ترک معیشت کا شمار دنیا کی 20 اعلیٰ معیشتوں میں ہوتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی پر عوام کا 72 فیصد قرض تھا، جس کو ان کی حکومت 30 فیصد تک لے آئی ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

ایف اے ٹی ایف : پاکستان کے لیے بلیک لسٹ کا خطرہ نہ ٹلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو تنبیہ جاری کی ہے کہ فروری تک مزید اقدامات نہ کرنے کی صورت میں ملک کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے؟ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرنے والے سابق سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گو پاکستان کو چند مزید اقدامات کی ضرورت ہے مگر ایف اے ٹی ایف کے عدم اطمینان کی سیاسی اور سفارتی وجوہات بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کو امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے اور سفارتی میدان میں زیادہ دوست بنانے ہوں گے۔

دہشت گردی سے نمٹنے والے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں ایف اے ٹی ایف اور زیادہ تر بین الاقوامی ریگولیٹری اتھارٹیز میں سیاسی عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ ’جب ہم کچھ اہداف حاصل کر لیتے ہیں تو گول پوسٹ بدل دی جاتی ہے اور پیمانہ تبدیل کر دیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان رابطے کا بحران بھی ہے کیونکہ یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں کسی دور دراز علاقے میں اگر کوئی چندہ اکھٹا کر لیتا ہے تو بعض اوقات حکومت کو اس کا علم نہیں ہو پاتا اور اسے روکنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بات نہ ہم سمجھا پا رہے ہیں نا وہ سمجھنا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کو شکایت تھی کہ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں رابطے کا فقدان ہے۔ ’اس شکایت کو دور کرنے کے لیے میں نے اپنے دور میں ایک ٹاسک فورس بنائی تھی تاکہ سب ادارے مل کر دہشت گردی کے لیے پیسوں کی ترسیل کا راستہ روکیں۔ اس ٹاسک فورس میں ایف آئی اے، آئی بی، وزارت مذہبی امور، صوبائی ادارے، مذہبی ادارے ، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور ایف بی آر سب شامل تھے۔‘ ان کے مطابق ’ہر ماہ ان تمام اداروں کا اجلاس ہوتا تھا اور دہشت گردی کی معاونت کے اقدامات کا تذکرہ ہوتا تھا تاہم اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ ایک دفتر میں ان تمام اداروں کے نمائندے بیٹھا کریں جو کہ پورا نہ ہو سکا اور اب تک یہ اقدام مکمل نہیں ہوا۔

پولیس، استغاثہ اور عدلیہ میں صلاحیت کا فقدان
نیکٹا کے سابق سربراہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں مالیاتی امور کی تفتیش کی مکمل مہارت اور صلاحیت نہ پولیس کے پاس ہے، نہ استغاثہ کے پاس اور نہ ہی عدلیہ کے پاس۔ اس سلسلے میں مہارت میں وقت درکار ہے مگر ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ ہوتا ہے کہ مالیاتی جرائم میں ملوث افراد نہ صرف پکڑے جائیں بلکہ ان پر مضبوط کیس چلائے جائیں اور پھر ان کو سزائیں بھی ملیں۔ سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود جو کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات دیکھتے رہیں ہیں وہ احسان غنی سے متفق نظر آتے ہیں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صلاحیت کی کمی کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ عرصے میں سٹیٹ بینک نے متعدد بینکوں کو تقریبا ایک ارب کے جرمانے اس لیے کیے کہ وہ مشکوک مالی ترسیلات کی صحیح رپورٹنگ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسی طرح پولیس اور حتی کہ نیب کی تربیت بھی نہیں کہ وہ پیچیدہ مالی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایسی تفتیش کر سکیں جو سزاؤں پر منتج ہوں۔

قانون سازی کے لیے سیاسی قیادت کا اتفاق درکار
سابق سیکرٹری خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر مکمل عمل کے لیے کسٹم اتھارٹی، ہاؤسنگ سیکٹر اتھارٹی وغیرہ کی طرز پر کئی ادارے بنانے پڑیں گے جس کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو ملک کے لیے نئے عہدو پیمان کرنا ہوں گے تاکہ مل کر ایسی قانون سازی ہو سکے ورنہ اکیلی حکومت کے لیے یہ کام ممکن نہیں ہو گا۔ ان کے بقول ’جہاں جہاں بڑی رقوم کا لین دین ہوتا ہے، چاہے وہ سونے کا کاروبار ہو یا پراپرٹی کا اسے ریگولیٹ کرنا اب ضروری ہو گیا ہے تاکہ منی لانڈرنگ کا شک نہ رہے۔

امریکہ سے تعلقات بہتر کرنا ہوں گے
وقار مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کچھ مشکلات بین الاقوامی سیاست کا بھی نتیجہ ہیں۔ جس انداز میں چین سے تعلق رکھنے والے ایف اے ٹی ایف کے صدر نے باتیں کی ہیں وہ خوشگوار نہیں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں امریکہ سے اتنی پینگیں بڑھائیں مگر اس کا کیا فائدہ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ انڈیا جس انداز سے دنیا میں اثرو رسوخ بنا رہا ہے اس سے پاکستان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید دوست بنانے ہوں گے اور امریکہ سے تعلقات بھی بہتر کرنے ہوں گے۔

بلیک لسٹ کی نوبت شاید نہ آئے
ماہر معیشت اور اسلام آباد کے تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری کا خیال ہے کہ پاکستان نے اپریل 2019 کے بعد بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے مگر ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں جو رپورٹ پیش ہوئی وہ اس مدت سے قبل کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’بلیک لسٹ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس لسٹ میں وہ ممالک ڈالے جاتے ہیں جو بات مانتے ہی نہیں، جیسے شمالی کوریا اور ایران۔ تاہم پاکستان مکمل تعاون کر رہا ہے اور اپنی خامیوں کو تسلیم بھی کر رہا ہے۔ ہاں اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو گئے تو اور بات ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا اور دوسرا یہ کہ معیشت بھی دستاویزی شکل اختیار کر لے گی۔

یاد رہے کہ فرانس کے شہر پیرس میں اپنے اجلاس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف نے کہا تھا کہ پاکستان مقررہ وقت تک اس کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں ادارے کے صدر ژیانگ من لیو نے کہا کہ پاکستان کو جلد اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے اور اگر فروری تک اس نے خاطر خواہ پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف مزید اقدامات پر غور کرے گا جس میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا شامل ہے۔

وسیم عباسی

بشکریہ اردو نیوز، اسلام آباد

ایف اے ٹی ایف ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے ليے پاکستان کو 12 ارکان کی حمایت درکار

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا ابتدائی اجلاس پیرس میں ہو رہا ہے، جس کے لیے وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستانی وفد اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے لیے پاکستان نے اپنی دستاویزات پیش کر دی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان سے منی لانڈرنگ سے متعلق مزید سوالات پوچھے گئے تھے۔ پاکستان پیرس اجلاس میں اس حوالے سے جواب پیش کرے گا۔ پاکستانی حکام کے مطابق، اپنے جواب میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور تخریب کاروں کی معاونت کرنے والے اکاؤنٹس اور اثاثوں کے بارے میں تفصیلات کی وضاحت کی جائے گی۔ حماد اظہر کے علاوہ وفد میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور وزارت خارجہ کے ڈی جیز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے ليے 12 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ اسلام آباد میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں منی لانڈرنگ کو روکا جائے۔ منی لانڈرنگ کو روکنے سے دنیا میں اچھا تاثر جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے جلد نکلنا چاہتے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا گزشتہ اجلاس ستمبر میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے مؤثر انداز میں اپنا کیس پیش کیا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ رواں اجلاس میں ہو گا۔ گزشتہ اجلاس میں پاکستان نے مختلف معاملات پر پیش رفت سے متعلق ذیلی گروپ کو آگاہ کیا تھا جبکہ پاکستان نے اقدامات پر مبنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔

گزشتہ اجلاس میں پاکستان اور ایف اے ٹی ایف حکام میں براہ راست مذاکرات بنکاک میں ہوئے تھے۔ بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست دہشت گردی اور ٹیررازم فنانسنگ کے خطرات شامل تھے۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے بھی پاکستان کی اب تک کی کارکردگی پر اپنی رپورٹ جاری کی تھی جس میں اے پی جی کا کہنا ہےکہ پاکستان نے 40 سفارشات میں سے 36 پر کام کیا ہے، جن میں کچھ پر جزوی اور کچھ پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر بھی پاکستان کے حوالے سے فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔ پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ میں رکھا جائے گا، نکالا جائے گا یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا اس بات کا فیصلہ 18 اکتوبر سے پہلے کر لیا جائے گا۔

علی رانا

بشکریہ وائس آف امریکہ

ٹیکس ہیون ممالک اصل میں منی لانڈرنگ کا اہم ذریعہ

پچھلے کالم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر میں ایک اہم نکتہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کالم میں دوسرے اہم نکتہ پہ بات کی جائے گی۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان سے پیسہ باہر جارہا ہے۔ وہ ممالک جن میں پاکستان سے پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعہ جارہا ہے اگر ہمارے ساتھ تعاون کریں تو ہمیں پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں آسانی ہو گی۔ گزشتہ روز کی اخباری اطلاعات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے پاکستان سے بھیجے گئے پیسوں کی واپسی کو مشکل یا ناممکن قرار دیا ۔ جبکہ دوسری اخباری خبر کے مطابق ٹیکس ہیون قرار دیئے گئے ممالک کی فہرست سے سوئٹزرلینڈ اور متحدہ عرب امارات کے نکالنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کیونکہ ٹیکس ہیون ممالک اصل میں منی لانڈرنگ کا اہم ذریعہ ہیں۔ “شکر ہے کفرٹوٹا خدا خدا کر کے”۔ کچھ خیال تو آیا کہ ان یورپی ممالک کی بنائی گئی پالیسیوں سے نقصان کس کا ہوتا ہے اور دولت کون بناتا ہے؟ لہٰذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ان ٹیکس ہیون ممالک کی فہرست سے کچھ کو گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کر کے نکالا جارہا ہے۔ جب ان ممالک کو ٹیکس ہیون بنایا جا رہا تھا تب عالمی مالیاتی اداروں کو کیوں خیال نہ آیا کہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر مالی بدعنوانی، منی لانڈرنگ، عالمی دہشت گردی کے فروغ کا اہم ذریعہ بنے گا؟ کیا عالمی اداروں خاص طور پر امریکہ اور یورپی ممالک کے کئے گئے ہر غلط فیصلوں کا نقصان صرف ترقی پذیر ممالک کو ہی کیوں ہوتا ہے؟ 

 ایف اے ٹی ایف یہ تو پوچھتا ہے کہ آپ کے ملک کا پیسہ دہشت گردی کی مالی معاونت میں استعمال ہوا اور کیوں ہوا؟ لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا براہ راست  حصہ دارکون کون سے ملک ہیں؟ یقیناً یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک سے پیسہ باہر جائے اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہو تو اس ملک کو دھمکی ملتی ہے اور گرے اور پھر بلیک لسٹ میں نام ڈالا جاتا ہے مالیاتی نظام کو سخت کرنے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے تمام افراد کو ان ” ترقی یافتہ ممالک” میں فوراً پناہ دے دی جاتی ہے ۔ ان کے لائے گئے مال کو ” مال غنیمت” سمجھ کر حفاظت سے رکھ لیا جاتا ہے۔ 

باوجود حکومتی درخواست کے ان کو پاکستانی حکومت تک براہ راست رسائی نہیں دلوائی جاتی نہ ان کے بنک بیلنس کا حساب دیا جاتا ہے۔ یقیناً اب وقت آچکا ہے کہ ان ممالک اور خاص طور پر ان عالمی اداروں کے خلاف آواز اٹھائی جائے جو اس قسم کے عالمی بلاک کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یقیناً عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں اس موضوع کو چھیڑ کر عالمی اداروں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ تب ہی کئی ممالک کو ان کی تقریر کے بعد سے گرے لسٹ میں ڈالنے اور بہت سوں کو اس بلاک سے باہر یعنی بلیک لسٹ ہی کر دیا گیا ہے۔ آخرکب تک ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کی بدولت یہ یورپین، امریکن اور ٹیکس ہیون ممالک ترقی کرتے رہیں گے؟

سید منہاج الرب

بشکریہ روزنامہ جنگ

ایف اے ٹی ایف : کیا پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کا خطر ہ ٹل گیا ؟

پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے قائم بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے ترکی، ملائشیا اور چین کی مخالفت کے بعد پاکستان کو بلیک لسٹ نہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے گزشتہ سال جون میں پاکستان کا نام عالمی تنظیم کی گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ امریکہ برطانیہ اور بھارت اس تحریک کے محرک تھے جس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘انادولو’ کے مطابق پاکستان بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے عالمی تنظیم کے تین رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم ایف اے ٹی ایف کے طرف سے اس بابت حتمی فیصلہ ہونے تک پاکستان کے لیے خطرات بدستور موجود ہیں۔ بھارت اس وقت ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ کا شریک ہے اور پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے، بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ضابطوں پر پوری طرح عمل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جارحانہ سفارتی کوششوں کے باعث ترکی، ملائشیا اور چین نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی مخالفت کی جس کے بعد فی الحال یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

یہ اطلاعات امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں جاری رہنے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے تنظیم کے 36 ملکوں میں سے تین ملکوں کی حمایت لازمی ہے۔ ترکی کے خبررساں ادارے کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے بعض عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، دوست ممالک نے اس ضمن میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ تاہم پاکستان کے لیے خطرہ مکمل طور پر ابھی ٹلا نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز پر حتمی فیصلہ رواں سال اکتوبر میں پیرس میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا جائے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات پر باضابطہ طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم سابق سفیر اور سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹیڈیز کے سربراہ علی سرور نقوی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اس معاملے پر بہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ رواں سال فروری میں ایف ایے ٹی ایف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی ہے، اس لیے ایف اے ٹی ایف نے مزید اقدامات کے لیے پاکستان کو مئی 2019ء کی ڈیڈلائن دی تھی۔ تنظیم کے مطابق گو کہ پاکستان نے ایک سال کے دوران اس معاملے میں پیش رفت کی ہے تاہم اسے ابھی بھی بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد جلیل اختر

بشکریہ وائس آف امریکہ

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایشیا پیسفک گروپ کا 6 رکنی وفد مذاکرات میں شریک ہے۔ پاکستان گرے لسٹ سے نام نکلوانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس تناظر میں ان مذاکرات کے دوران ایف اے ٹی ایف حکام کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا، بینک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی پر بھی بریفنگ دی جائے گی جبکہ مشکوک ٹرانزیکشن کے خلاف اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایف اے ٹی ایف کیا ہے جس کی گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کے کسی بھی ملک کی معیشت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو 1989 میں جی 7 ممالک کی جانب سے تشکیل دیا گیا تھا۔

یہ ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کو روکنا، معاشی حوالے سے مالی بے ضابطگیاں اور معاشی لحاظ سے ہر اس جرم پر نظر رکھنا جو لوگوں کے لیے کسی نقصان یا خطرے کا باعث سکتی ہیں۔ اس کی تشکیل کے وقت توجہ کا محور منی لانڈرنگ کو روکنا تھا مگر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد اس کے بنیادی مقاصد میں ایک اور نقطہ کا اضافہ کیا گیا۔ دہشتگردی کی مالی معاونت روکنا۔ ایف اے ٹی ایف کے موجودہ چیف مارشل بلنگ سیلا امریکا سے ہیں جبکہ وائس پریذینٹ ژیانگ منگ لو چائنہ سے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی فیصلہ ساز ٹیم ممبر ممالک کے نمائندوں پرمشتمل ہوتی ہے جو بنیادی طور پر ان ممالک و اداروں کی نشاندہی کرتی ہے جوکہ اس ٹیم کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت میں مبینہ طور پر ملوث ہوتے ہیں۔ اس ٹیم کے ممبر ایک سال میں تین بار فیصلہ سازی کے لیے ایک اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا ہیڈ کوارٹر فرانس کے دارلحکومت پیرس میں واقع ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے ممبران کی تعداد 38 ہے جس میں یورپین کمیشن اور گلف کارپوریشن کونسل بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ گلف کارپویشن کونسل یا جی سی سی تنظیم میں کویت، عمان، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے دو مبصر ممالک بھی ہیں جن میں سعودی عرب اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ پاکستان کو اس گرے لسٹ اور واچ لسٹ میں ڈالنے کی سفارش یا کوشش سب سے پہلے پانچ ممالک کی جانب سے کی گئی جن میں امریکا، یو کے، فرانس اور جرمنی، بھارت شامل ہیں۔ اس کوشش کو قرارداد بنا کر دو بار ووٹنگ کی گئی فروری 2018 میں ہونے والی اس ووٹنگ میں چین، جی سی سی اور ترکی نے کھل کر اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ جس کے بعد اس ووٹنگ کو مزید غور و فکر کے لیے جون تک ملتوی کر دیا گیا۔ جبکہ مبصرین کے مطابق جون میں ہونے والی ووٹنگ کے لیے بھارتی ایماء پر امریکا نے اپنا دباؤ مزید بڑھایا جس کے نیتجے میں اس قرار داد کے حق میں ترکی کے علاوہ ہر ممبر نے ووٹ دیا۔ ترکی وہ واحد ملک تھا جس نے جون میں ہونے والی ووٹنگ میں بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں کوئی بھی ملک جب شامل کیا جاتا ہے تو اسے ایف اے ٹی ایف کی کمپلائنس ڈاکیومنٹ کے تحت سخت سکرونٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ملک کے تمام بینکنگ سسٹم کی ٹرانزیکشن پر کڑی نگرانی کی جاتی ہے جس سے یقینی طور پر اس ملک کے معیشت پر اثر پڑتا ہے۔ ورلڈ بنک کی 2017 سے 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 5۔5 فیصد تھی اور گرے لسٹ میں نام آنے سے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد گرنے کا خدشہ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بیرونی سرمایہ کاری کا کم ہو جانا ہے۔ اس کے علاوہ اس لسٹ میں آنے سے پاکستان کی برآمدات میں بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ یورپین ممالک کے ساتھ ہونے والی تجارت کافی حد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں بھاماس، کمبوڈیا، ایتھوپیا، سری لنکا، گھانا، تیونس، یمن، سربیا اور پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔ سربیا اس لسٹ میں واحد یورپی ملک ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں صرف دو ممالک ہیں جن میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں۔ بلیک لسٹ میں آنے والے ملک کو انٹرنیشنل تنظیموں کسی بھی قسم کی کوئی مالی مدد یا قرض فراہم نہ کرنے کے پابند ہو جاتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری وتجارت کا باب بند کر دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف پوری دنیا میں مختلف گروپس کے ذریعے اپنے کام سرانجام دیتا ہے۔ براعظم ایشیاء کے لیے ایف اے ٹی ایف کا ایشیاء پیسیفک گروپ کام کرتا ہے۔ 9 مارچ کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے ایف اے ٹی ایف حکام کو خط لکھا جس میں بھارت کو ایشیاء پیسفیک کے شریک چیئرمین سے ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی یہ خط پاکستان بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی اور فضائی جھڑپوں کے بعد لکھا گیا۔ اسد عمر کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ چونکہ بھارت پاکستان روایتی حریف ہے اس لیے ایشیاء پیسفک میں اس کی موجودگی غیر جانبدار فیصلے کی راہ میں واضح رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے مزید مطالبہ کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی ممبر ممالک سے بھی بھارت کو نکالا جانا چاہیے کیوں کہ اس نے ایک خود مختار ملک پر حملہ کیا اور وہ آن ریکارڈ پر یہ بیان دے چکا ہے کہ وہ پاکستان کو تنہا کرے گا۔

بشکریہ دنیا نیوز

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے کیسے نکلیں ؟

جون 2018ء میں پاکستان کو منی لانڈرنگ کے انسداد کیلئے قائم کردہ بینالاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ اس سے جہاں پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑا، وہیں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساکھ کو بھی بڑا دھچکا لگا۔ جولائی 2018ء میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی نئی حکومت نے پاکستان کی معاشی بہتری کیلئے بھرپور کوششیں کیں۔ اِنہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اکتوبر 2018ء میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ ہونے والے مذکرات میں پاکستان کو مشتبہ مالی لین دین کا ریکارڈ جمع کرنے کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا گیا۔

اب چھ ماہ بعد وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسفک گروپ پاکستان آئے گا جو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کرے گا۔ ایشیا پیسفک گروپ کے نو رکنی وفد کی سربراہی ایگزیکٹو سیکرٹری گارڈن ہک کریں گے اور یہ مذاکرات 26 سے 28 مارچ تک اسلام آباد میں ہوں گے۔ ایشیا پیسفک گروپ کا وفد وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ایس ای سی پی، ایف بی آر، ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کریگا۔

حکومتِ پاکستان نے اِس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے جہاں کالعدم تنظیموں کی گوشمالی کی، وہیں یہ فیصلہ بھی کیا کہ ٹیلی کام سیکٹر سے رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ اسٹیٹ بینک مرتب کرے گا جبکہ پاکستان پوسٹ کی ترسیلات کا ریکارڈ بھی اسٹیٹ بینک کو فراہم کیا جائے گا۔ اِس کے ساتھ ساتھ انعامی بانڈز کا ریکارڈ رکھنے کیلئے بھی قوانین کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ ان قوانین سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ انعامی بانڈ کس کی ملکیت ہیں اور کیسے خریدے گئے۔ امید کی جانی چاہئے کہ پاکستانی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا پیسفک گروپ کو مطمئن واپس بھیجیں گے اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں کامیاب رہیں گے۔

اداریہ روزنامہ جنگ