پاکستان میں پانی کا بحران : سنگین قومی چیلنج

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے جن ملکوں کو پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا ہے پاکستان اُن میں سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول آنے والے برسوں میں اس بحران کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔ اس صورت حال کی بناء پر مسئلے سے نمٹنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز عالمی یومِ ماحولیات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ پاکستان کو 80 فیصد پانی گلیشیروں سے ملتا ہے جو زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو انسانیت کی بقا کے لئے ضرورت کے مطابق مالیاتی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی جانب سے کاربن کا اخراج کم کیے جانے پر زور دیا۔

اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030ء تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دیں گے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہوں گے اور موسمی تبدیلیاں ختم ہوں گی، آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی اور حیوانی حیات کو تحفظ ملے گا۔ اس موقع پرچینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یومِ ماحولیات کی کامیاب میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ماحولیات کے شعبے کی ترقی میں پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صراحت کی کہ کوئی ایک ملک مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

بلاشبہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری انسانی دنیا کا ایسا مسئلہ ہیں جن کے حل کی کوششوں میں لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک کر چکی ہے اور اب اس سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ کاوشوں کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم ہم اہلِ پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری کی طرف دیکھتے رہنے کے بجائے اپنے حصے کا کام انجام دینے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات کم سے کم ممکنہ مدت میں مکمل کر لینے چاہئیں کیونکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ گلیشیروں سے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کا ازالہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر انتظامات سے ممکن ہے جس کا کم و بیش 90 فیصد حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہی ضروری نہیں یہ کام مقامی سطح پر ملک بھر میں چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیں بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بارش کا زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی اور ٹیوب ویلوں وغیرہ کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اسی طرح پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو رواج دنیا بھی ضروری ہے۔ زرعی فصلوں کی آبیاری کے لئے اب ایسے طریقے دنیا کے مختلف ملکوں میں مروج ہیں جن میں فصلوں کو دیے جانے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کی معمولی مقدار بھی ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔ ہمارے ہاں بھی یہ طریقے ہنگامی بنیادوں پر متعارف کرائے جانے چاہئیں۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں کا بھی کم سے کم وقت میں مکمل کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگرہمارے قومی وجود کا برقرار رہنا غیریقینی ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے پاکستانی فصلوں کو اربوں کا نقصان

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور رواں سال کے صرف چند ماہ میں اچانک رونما ہونے والے موسمی اثرات کی وجہ سے فصلوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ متعدد زرعی ماہرین نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا ہے کہ اس سال کلائمٹ چینج کے اثرات سے پاکستانی فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور مکئی، کپاس اور چاول کی پیداوار خطر ناک حد تک کم ہوئی ہے جس کے بعد صرف کپاس کی فصل کو کم و بیش ایک ہزارارب روپے کا نقصان پہنچا ہے، جب کہ دیگر فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جانا ابھی باقی ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ اس سال موسم گرما میں گرمی زیادہ پڑنے اور آندھیوں اور بے وقت کی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی ڈیڑھ کروڑ بیلوں کی بجائے صرف 90 لاکھ بیلیں حاصل ہو سکیں گی جبکہ مکئی کی پیداوار میں چالیس فیصد اور چاول کی پچاس فیصد کمی واقع ہو گی۔

خالد کھوکھر کے مطابق صرف کپاس کی بیلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے چھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے کیونکہ ٹارگٹ سے 60 لاکھ بیلیں کم پیدا ہوئی ہیں اور 10 لاکھ بیلوں کی مالیت ایک ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر مصنوعات جیسے کہ خوردنی تیل کی کم پیداوار سے ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ رواں سال گرمی تین سے چار درجے زیادہ تھی جبکہ فصلوں کو بیس سے تیس فیصد نقصان بے موسمی بارشوں اور آندھیوں کی وجہ سے پہنچا۔ ’پاکستان کے جنوبی علاقوں بالخصوص ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال جہاں کپاس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے میں عمومی درجہ حرارت گرمیوں کے مہینوں میں 43 درجے اور ستمبر میں 37 درجے تک ہوتا ہے جو اس مرتبہ بڑھ کر ستمبر میں 43 درجے تک چلا گیا۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر نے بتایا کہ ذیادہ نقصان اس وجہ سے بھی ہوا ہے کہ پاکستان میں بیجوں کی مناسب اقسام موجود نہیں ہیں اور گرمی سے مزاحمت کرنے والے بیجوں کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں ذیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ ملتان کے نواحی علاقے ٹاٹے پور کے زمیندار مظہر حسین گردیزی نے اردو نیوزکو بتایا کہ بیجوں کے غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے اس سال نہ صرف یہ کہ مکئی کے خوشوں میں پھل کم لگا ہے بلکہ ان کو فنگس بھی ہو گیا ہے۔ ’یہ فنگس میں نے اپنے 36 سالہ کیرئیر میں کبھی نہیں دیکھا۔ یہ بہت خوفناک ہے۔‘ وزارت قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی نے فصلوں پر پڑنے والے اثرات کی تصدیق کرتے ہوئے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ زیادہ نقصان جنوبی پنجاب میں ہوا ہے اور اس کی وجہ اچانک سے آنے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرمی کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیجوں کے استعمال سے اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا لیکن یہ اچانک آنے والی تبدیلی میں موثر نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسانوں کو پہلے سے اندازہ ہو کہ اس مرتبہ گرمی زیادہ پڑے گی۔ ہاشم پوپلزئی نے بتایا کہ متعلقہ حکام نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور مستقبل میں زراعت میں جدت لانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی کے سینیئر عہدیدارعرفان طارق کے مطابق کلائمیٹ چینج کے اثرات کچھ سالوں سے مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والے سالوں میں یہ فصلوں کی پیداوار میں مزید کمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ گرمی بڑھنے کی وجہ سے پورا موسمی پیٹرن ڈسٹرب ہو جاتا ہے اور بوائی کے لیے وقت بھی کم بچتا ہے جو کہ کم پیداوار کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ عرفان طارق نے بتایا کہ فصلوں کو ان اثرات سے محفوظ کرنے کے لیے زراعت کے صوبائی محکمے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی مل کر ایک نیا پروگرام شروع کر رہے ہیں جس کے تحت متعدد اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

خرم شہزاد

بشکریہ اردو نیوز

پاکستان میں سردیوں میں معمول سے زیادہ بارشیں اور برفباری

دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت کے باعث موسم سرما ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں بارشوں اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کا دورانیہ بڑھنے سے موسمِ بہار میں تاخیر ہوئی ہے اور گرمیوں کا دورانیہ کم ہو گا لیکن گرمیوں میں شدید گرم موسم ہو گا۔ ملک کے موسم میں یہ شدت بارشوں اور برف باری میں یہ غیر معمولی اضافہ تقریباً دو عشروں کے بعد رونما ہوا ہے جس کے نتیجے میں بارشوں میں تیس سے چالیس فیصد جب کہ برف باری میں تقریباً سو فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ مری میں معمول کے مطابق اوسط چار فٹ برف پڑی تھی لیکن اس سال اب تک آٹھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ میں مزید دو بارشیں اور ہونے کا امکان بھی ہے۔ موسم سرما کی بارشوں کی طوالت سے ملک میں موسم بہار دو ہفتے تاخیر سے آئے گا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال گرمی کا دورانیہ کم ہو گا لیکن شدت زیادہ ہو گی۔

دنیا بھر میں غیر معمولی موسمیاتی پیٹرن
محکمہ موسمیات پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر حنیف کے مطابق موسم میں اس غیر معمولی تبدیلی کی وجہ اوزون میں تبدیلی کے باعث بالائی فضا کا گرم ہو جانا ہے جس سے دنیا بھر موسمیاتی پیٹرن تبدیل ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ غیر معمولی تبدیلی دنیا بھر میں دیکھی گئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت میں کمی مارچ کے تیسرے ہفتے میں متوقع ہے۔ تاہم رواں سال موسم گرما میں سخت گرمی پڑنے کا امکان ہے اور شدید گرم موسم کے سبب امکان ہے کہ پہاڑوں پر برف تیزی سے پگھلے گی اور دریاؤں کے پانی میں غیر معمولی بہاؤ اور سیلابی ریلے آ سکتے ہیں۔

فصلوں کے لیے وافر پانی
چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر محمد حنیف کے مطابق زیادہ بارشوں اور برف باری سے دریاؤں میں پانی میں اضافہ ہو گا جبکہ زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوئی ہے ۔  فصلوں کے لیے دستیاب پانی کے ذخائر زیادہ ہونے سے پیداوار اچھی ہونے کا امکان ہے۔ بارشوں کے طویل سلسلے سے ملک میں ربیع کی فصلیں خاص طور پہ گندم پر مثبت اثرات پڑے ہیں اور اس سال گندم کی بھرپور فصل ہو گی۔

سیلابی ریلوں کے خطرات
ملک کے شمالی علاقوں، کشمیر، مری گلیات اور بلوچستان میں پڑنے والی غیر معمولی برف باری کے بعد جب مئی اور جون میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلے گی تو اس سے بعض علاقوں میں سیلاب آ سکتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، شمالی اور پہاڑی علاقوں کے مقامی ندی نالوں میں تغیانی کا خدشہ ہے۔ حالیہ موسلادھار بارشوں اور برف باری کے نتیجے میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال کے سبب رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور کئی علاقوں کا زمینی راستہ منقطع ہے۔ ماہرین موسمیات کہتے ہیں کہ بارش کے اس طویل سلسلے سے صوبے بلوچستان میں جاری طویل خشک سالی ختم ہوئی ہے اور کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی کم ہوتی ہوئی سطح میں بہتری آئی ہے۔

علی فرقان

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو

موسمیاتی تغیر سے متأثرہ ممالک میں پاکستان 7 ویں نمبر پر

عالمی موسمیاتی تغیر کے سبب پاکستان ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آگیا۔ زولوجیکل سوسائٹی آف لندن اور ڈبیلو ڈبیلو ایف کے اشتراک سے شائع ہونے والی لیونگ پلانیٹ رپورٹ کا سن 1998 سے ہر دو سال کے بعد تواتر سے اجرا کیا جاتا ہے۔ 140 صفحات پر مشتمل لیونگ پلانیٹ رپورٹ کی تیاری میں 11 ممالک کے تقریبا 126 ادارے اور 80 کے قریب ماہرین ماحولیات کی آرا شامل کی جاتی ہیں جس کے مطابق عالمی موسمیاتی تغیر کے سبب پاکستان ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ موسم گرما میں گرمی کا مسلسل بڑھتا پارہ اور سرد موسم میں بتدریج گرتے درجہ حرارت جیسی صورتحال کے باعث تیزی سے پگھلتے برف کے ذخائر ( گلیشیر) نے سیلابوں کی شرح خوفناک حد تک بڑھا دی، سال بھر استعمال ہونے والے میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، سندھ میں 2010 کا سپرفلڈ بھی موسمیاتی تبدیلی کے سبب آیا۔

جو جتنا مظلوم اتنا ہی ظالم

بین الاقوامی جنگی قوانین کی پامالی، آبادیوں پر مظالم، گروہی نسل کشی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر اقتصادی محاصرے یا مصنوعی قحط یا پھر ماحولیات کو جان بوجھ کے برباد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے کروڑوں انسانوں کا جو جانی، مالی و سماجی نقصان ہوتا ہے، وہ کیوں انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل نہیں ؟ اگر ماحولیاتی قتلِ عام کے سبب جنگلی و انسانی حیات کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان کے اعداد و شمار کو ہی جمع کر لیا جائے تو گذشتہ سو برس میں ہم اپنے ہی ہاتھوں خود کو جتنا قتل کر چکے، وہ پچھلے سات ہزار برس کی تمام جنگوں میں ہونے والی بربادی سے سو گنا زائد ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ تم میں جو جتنا مظلوم ہے اتنا ہی ظالم ہے۔مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ میں نے جتنے بھی جیدوں سے اس قول کی کنجی کھلوانے کی کوشش کی عقدہ کھلنے کے بجائے اور الجھتا چلا گیا۔ مگر پچھلے ایک ہفتے میں اس قول کو میں نے پاکستان کی ماحولیاتی بربادی پر رکھ کے دیکھا تو آنکھیں کھلتی چلی گئیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کا شمار پچھلے دس برس سے ان دس چوٹی کے ممالک میں ہو رہا ہے جو تیزی سے آبی قحط سالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کچھ نہ کیا گیا تو دو ہزار پچیس کے بعد زراعت چھوڑ پینے کے صاف پانی کے لالے پڑ جائیں گے۔

یہ تو آپ کے علم میں ہو گا ہی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے ملکی و غیر ملکی آبی کمپنیوں کے ہاتھوں ریپ کا ازخود نوٹس لے چکے ہیں۔ بھاشا ڈیم کی فنڈنگ کی جنگ کا کنٹرول روم سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں قائم ہے۔ میڈیا دن رات ڈیم فنڈ میں پیسے دینے کی اپیل دوہرا رہا ہے اور قومی ادارے اور شہری اس اپیل کے سبب کسی حد تک متحرک بھی نظر آ رہے ہیں۔ مگر تصویر کا ایک اور رخ شائد سب کی نگاہ سے اوجھل ہے۔ سارا زور پانی کی کم ہوتی مقدار بڑھانے اور اسے احتیاط سے استعمال کرنے کی مہم پر ہے۔ لیکن جو پانی اس وقت میسر ہے اس کے معیار پر شائد ہی ایک آدھ متعلقہ فریق کے سوا کوئی سنجیدگی سے غور کر رہا ہو۔

میں آپ کو اس وسیع موضوع کا رائتہ بنانے کی ترکیب سمجھانے کے بجائے صرف ایک مثال دوں گا۔ پاکستان میں تین عشرے سے ماحولیات کی وفاقی وزارت قائم ہے۔ چاروں صوبوں میں انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسیز ہیں جن کے این او سی کے بغیر کوئی منصوبہ سرکاری و نجی شعبے میں شروع ہو ہی نہیں سکتا کہ جس کا تعلق براہِ راست یا بلا واسطہ ماحولیاتی بقا سے ہو۔ وفاقی و صوبائی سطح پر متعدد قوانین نافذ ہیں جن کا مقصد جنگلی ، آبی و انسانی حیات کا تحفظ ہے۔ ان میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی بھی صنعتی ، زرعی ، انسانی فضلہ اور آلودہ پانی ٹریٹ کیے بغیر خام شکل میں کسی جھیل، آبی گذرگاہ ، دریا یا سمندر میں نہیں پھینکا یا ڈالا جائے گا۔

اس قانون کے ہوتے عملی صورت یہ ہے کہ پاکستان میں جتنا گند یا آلودہ پانی مذکورہ بالا تمام شعبے پیدا کرتے ہیں ان میں شامل زہریلے مواد کو بے اثر بنانے کا ڈھانچہ بس اتنا ہے کہ ایک فیصد فضلہ اور آلودہ پانی دریا و سمندر میں ٹریٹ کر کے ڈالا جا رہا ہے۔ ننانوے فیصد کچرہ ، فضلہ اور ناقابلِ استعمال پانی براہ راست دریاؤں اور سمندر میں پہنچ رہا ہے۔ اس وقت سندھ کی کوئی بڑی جھیل ایسی نہیں جس کا پانی انسانی استعمال کے قابل ہو۔ یہ شہادت تو سپریم کورٹ میں بھی پیش ہو چکی ہے کہ سندھ کی اسی فیصد آبادی کو وہ پانی میسر ہے جو انسانی استعمال کے قابل ہی نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دیگر تین صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے حالات اس ضمن میں تسلی بخش ہیں۔

حال ہی میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کی ایک ماہر ڈاکٹر بشری خان کی ایک رپورٹ کے کچھ مندرجات نظر سے گذرے۔ انھوں نے دریائے سندھ کے دو معاون دریاؤں کابل اور سوات کے آبی معیار پر کام کیا ہے۔ انیسویں صدی میں شاہ شجاع مہاراجہ رنجیت سنگھ کو دریائے کابل کے راستے افغان تربوز اور دیگر پھلوں کی سوغات ایک رافٹ پر باندھ کر بھیجا کرتا تھا۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ٹراؤٹ مچھلی کا کوئی نام لیتا تو شفاف دریائے سوات ذہن میں آتا تھا۔ آج صورت یہ ہے کہ ان دونوں دریاؤں میں خام صنعتی و انسانی فضلہ اتنی بڑی مقدار میں پھینکا جا رہا ہے کہ یہ دونوں دریا جو سندھو میں بہنے والے پانی کا پچیس فیصد فراہم کرتے ہیں دریائے سندھ میں گرنے سے پہلے پہلے ایک گندے نالے میں تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔

دریائے کابل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پشاور، چار سدہ ، نوشہرہ سے گذرتا ہوا اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ اس دریا کے کنارے سب سے بڑے شہر پشاور میں کہنے کو چار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ہیں مگر ایک بھی کام نہیں کر رہا۔ انگریز نے دریائے کابل اور سوات میں مچھلیوں کی چون اقسام گنی تھیں۔ آج بمشکل دو سے تین نسلیں بچی ہیں۔ وجہ بہت سامنے کی ہے، دریا میں پھینکے جانے والے گند کی مار آبی حیات نہ سہہ سکی۔ مچلھیوں کی ہارمونل کمپوزیشن برباد ہونے لگی اور جو جو نسلیں بانجھ ہوتی گئیں مٹتی چلی گئیں۔ جن انسانوں کا گذارہ دریا کے کنارے مچھلی پکڑ کے پکانے اور بیچنے پر تھا ان میں سے بیشتر اپنی دوکان بڑھا گئے۔

رہا ہمارا سمندر تو اس پر تہرا ظلم ہے۔ بین الاقوامی ماہی گیر ٹرالرز ہمارے پانیوں کو مچھلیوں سے خالی کر رہے ہیں۔ زہریلا دریائی پانی سمندر میں گر رہا ہے اور جو کسر باقی رہ گئی وہ خام صنعتی و انسانی سیوریج کے براہ راست سمندر میں اتارے جانے نے پوری کر دی۔ روزانہ صرف کراچی کا پانچ سو ملین گیلن ان ٹریٹڈ آلودہ آبی زہر سمندر کو پلایا جا رہا ہے۔ دو ہزار تین میں ایک یونانی رجسٹرڈ اڑسٹھ ہزار ٹن تیل سے لدا ٹینکر سی ویو کے ساحل پر پھنس گیا اور اس میں سے اکتیس ہزار ٹن تیل سمندر میں خارج ہو گیا۔ ہمارے کسی ادارے کے پاس اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے نہ طریقے تھے نہ ہی وسائل۔ چنانچہ تیل کے بڑے بڑے تیرتے جزیرے نامیاتی طریقے سے خود ہی شرمندہ ہو کر چند ماہ کے دوران پانی میں گھل مل گئے۔ مگر اس حادثے کے ایک برس بعد بھی ساحل سے ٹکرانے والے پانی کی چکناہٹ ختم نہ ہوئی۔

سی ویو وہ واحد غریب پرور ساحل بچا ہے جہاں ڈھائی کروڑ آبادی والے کراچی کے بیشتر غریب غربا کچھ دیر کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ دو ہزار سترہ میں اسی علاقے میں کچرے اور انسانی فضلے کا ایک بہت بڑا جزیرہ نمودار ہو گیا۔ یہ وہ فضلہ تھا جو بارشوں کے سب پھٹ پڑنے والے نالوں سے براہِ راست سمندر میں داخل ہو گیا تھا۔ اور اب پچھلے ہفتے پھر اچانک سندھ بلوچستان کے ساحلی علاقے مبارک ولیج سے چرنا آئی لینڈ تک سیاہ تیل کی ایک بڑی تہہ پھیلتی چلی گئی۔ چرنا آئی لینڈ کراچی کے قریب واحد جزیرہ ہے جہاں مونگے کی چٹانیں ہیں اور سکوبا ڈائیونگ ہوتی ہے۔ ساحل جزوی طور پر صاف تو کر دیا گیا مگر یہ تیل آیا کہاں سے؟ کوئی یقین سے نہیں بتا پا رہا۔ حالانکہ اس ساحل کی دن رات کڑی نگرانی ہوتی ہے۔

ایسے ماحول میں اگر ہم نے پانی کی قلت پر قابو پا بھی لیا تو پھر بھی کس کام کا۔جو میسر ہے وہی قابلِ استعمال نہیں۔ مزید کا ہم کیا کریں گے۔ ایسا بھی نہیں کہ جھیلوں ، دریاؤں اور سمندروں کو صاف رکھنے کے جدید سستے طریقے میسر نہیں۔ لیکن ان طریقوں اور پہلے سے موجود قوانین کے سختی سے نفاذ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ پھر ہم بحثیتِ مجموعی کیسے روئیں گائیں گے کہ ہمارے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے؟ مگر کون کر رہا ہے ؟ اس پر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ اب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول پھر سے دہراتا ہوں ’’ تم میں جو جتنا مظلوم ہے اتنا ہی ظالم ہے‘‘۔

وسعت اللہ خان

کم وقت میں جنگل اگانے کا جاپانی طریقہ

میاواکی تیزی سے درخت لگانے کا وہ طریقہ ہے جسے جاپان کے ایک ماہر نباتات اکیرا میواکی نے 60 سال کی ریسرچ کے بعد وضع کیا تھا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک ماہر نباتات رفیع الحق نے اس طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ میاواکی درخت لگانے کا وہ طریقہ ہے جس کی مدد سے کسی بھی خطے میں ان درختوں کے ساتھ تیزی سے جنگل اگایا جا سکتا ہے، جو وہاں لاکھوں سال پہلے اگا کرتے تھے۔ کراچی میں میواکی طریقے سے درخت لگانے کا تجربہ کرنے والی ایک تنظیم اربن فاریسٹ کے بانی شہزاد قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بھارت میں مقیم میاواکی کے ایک ماہر کی مدد سے کراچی میں یہ طریقہ آزمانا شروع کیا ہے جس کا مقصد کراچی کی آب و ہوا کو بہتر بنانے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

انہوں نے کراچی کے ایک پارک کی پانچ سال کے لیے سرپرستی حاصل کی اور اس کے 500 مربع فٹ کے ٹکڑے پر جنوری 2016 میں جو پودے لگائے تھے ان میں سے کچھ اس وقت بیس بیس فٹ کے اور کچھ 25 فٹ بلند ہو چکے ہیں۔ میواکی طریقے سے درخت لگانے پر گفتگو کرتے ہوئے شہزاد قریشی نے کہا کہ اس کے ذریعے چھوٹی اور کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے علاقے کے آبائی پودوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے جن میں پھل دار، پھول دار،سایہ دار، جھاڑی درخت ، گویا ہر قسم کے پودے شامل ہوتے ہیں۔ جہاں جنگل اگانا ہوتا ہے وہاں زمین پر کوئی کیمیکل یا کیمیائی کھاد نہیں ڈالی جاتی بلکہ صرف علاقائی کھاد ڈالی جاتی ہے اور پھر مقامی پودوں کو چار تہوں میں جنگل کی ترتیب سے لگا دیا جاتا ہے۔

انہیں صرف تین سال پانی دیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ خود بخود بڑھنے لگتے ہیں اور ساٹھ ستر فٹ کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف تین سال میں وہاں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں پرندے، ہر قسم کے حشرات، تتلیاں، چڑیاں، شہد کی مکھیاں، گرگٹ وغیرہ آنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے جنگل کا ایک پورا ماڈل تیار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاواکی طریقے سے لگائے گئے یہ درخت مقابلتاً دس گنا زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور مقابلتاً تیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ تیس گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں اور ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزا کو تیس گنا زیادہ جذب کرتے ہیں اور یوں اس علاقے کی ہوا کو صاف کر کے ایک صحت مند فضا پیدا کر دیتے ہیں۔

کراچی میں میاواکی طریقے سے چھوٹا مصنوعی جنگل لگانے کا تجربہ کرنے والے اربن فاریسٹ کے فاؤنڈر شہزاد قریشی نے کہا کہ اب تک تین ہزار سے زیادہ لوگ اس پارک میں آ کر پودے لگا چکے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پانچ سال میں یہاں ایک چھوٹا سا قدرتی جیسا جنگل بن جائے گا جس سے پورے علاقے میں مجموعی درجہ حرارت کم ہو گا، ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔ اور یہ ایک ایسی مثالی چیز بن جائے گی جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آیا کریں گے۔ لاہور میں ایک نجی ہاؤسنگ کمپنی کے سی ای او شہراز منو نے بھی اپنی ہاؤسنگ اسکیم میں میواکی طریقے سے ایک چھوٹا سا جنگل لگانا شروع کیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ہاؤسنگ اسکیم کے چھ کینال کے رقبے پر ایک سال قبل میواکی کے ایک ماہر کی مدد سے ساڑھے پانچ ہزار درخت لگائے تھے جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور بہت خوبصورت منظر پیش کر رہے ہیں۔

کراچی میں ماحولیات کے ایک ماہر ناصر پنھور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آبادی جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی تیزی سے سبزہ بھی کم ہو رہا ہے جس سے نیچر کا توازن ٹوٹ رہا ہے۔ یہ توازن قائم رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے، جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

یاسمین جمیل

بشکریہ وائس آف امریکہ

سن 2040 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، ماہرین

پاکستان کو 2040 تک پانی کی شدید قلت کا سامنا ہو گا، ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر بڑے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے جبکہ دنیا بھر میں چین، امریکا، بھارت اور جاپان ڈیم بنانے میں سب سے آگے ہیں۔ ماہرین نے پاکستان میں پانی کی شدید قلت کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 1990 میں شروع ہونے والی پانی کی قلت 2005 میں شدت اختیار کر گئی۔ 44 فیصد سے زائد پاکستانی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔

آبی وسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیم نہ بنائے گئے تو 2040 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق پاکستان ڈیمز کی کمی کی وجہ سے سالانہ 2 کروڑ 90 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع کر دیتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانی کے استعمال کی سب سے زیادہ شرح کے حوالے سے پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پانی کی کمی والے ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو چین میں اس وقت 23841 اور بھارت میں 5100 ڈیمز ہیں جبکہ نیپال میں 43، بھوٹان میں 24، سنگاپور میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے 17 ریزروائرز ہیں۔

گلوبل وارمنگ اور پاکستان

عالمی ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ موجودہ د ور کا سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ گزشتہ 100 سال کے دوران دنیا کے درجہ حرارت میں 0.6 درجے سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ماحول خراب کرنے کی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں تو رواں صدی کے اختتام تک 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے سے نہ صرف دنیا کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا بلکہ انسانی زندگی بھی دائو پرلگ جائے گی۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرملکوں میں پہلے نمبرپر آ گیا ہے۔

ان خدشات کا اظہار گزشتہ روز پروگرام ’’جیو پاکستان‘‘ میں ماہر ماحولیات پروفیسر ڈاکٹرعالیہ رحمٰن نے بھی کیا۔ موسموں کے آنے جانے میں تیزی آگئی ہے۔ اکتوبر، نومبر کے شروع دنوں میں یہ سموگ کا چھا جانا ، دھند پیدا ہونا، بارش نہ ہونا، اگر ہو تو سیلاب آ جانا اور تباہی پھیلانا، اس بات کا عندیہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت جنگوں سے زیادہ انسان کو درجہ حرارت میں اضافے سے خطرہ ہے۔ گلوبل وارمنگ کی بڑی وجہ کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنا، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں ہے۔ گلیشیر پگھلنے سے جو شہر سطح سمندر سے نیچے ہیں وہ ڈوب جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک کراچی مکمل طور پر ڈوبنے کا خدشہ ہے جس کی تازہ مثال ٹھٹھہ اور بدین کے کچھ ساحلی علاقوں کا سمندر برد ہونا ہے۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری، خاص طورپر بڑے بڑے صنعتی ممالک سرجوڑ کر بیٹھیں اور انسانیت کو لاحق اس خطرے سے نجات دلانے کا مستقل حل ڈھونڈیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف ہماری موجودہ حکومت بلکہ آنے والی حکومت کو بھی جنگلات کی کٹائی روکنے اور عالمی معیار کے مطابق 2 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد رقبے پر جنگلات لگائے جانے پر بھرپور توجہ دے تاکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں گلوبل وارمنگ کے عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ

پاکستان میں قلت ملک کو تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے

پاکستان نے ‘واٹر ایمرجنسی’ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس سلسلے میں موثر اقدامات نہیں کیے گئے تو پانی کی قلت کا بحران ملک کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ میاں شہباز شریف، سید مراد علی شاہ، پرویز خٹک اور عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد میں مشاورت کے بعد ’پاکستان واٹر چارٹر‘ پر اتفاق کیا ہے جس پر وفاق اور صوبوں کے پانچوں نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔ اس چارٹر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آزادی کے وقت فی کس پانی کی دستیابی 5200 مکعب میٹر سالانہ تھی جو کم ہو کر اب ایک ہزار مکعب میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جس سے سرکاری طور پر پاکستان پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 1950 سے لے کر 1990 تک کی تین دہائیوں میں انڈس ریور سسٹم سے قابل ذکر پانی حاصل کیا گیا۔ اس وجہ سے پاکستان خوراک میں خود کفیل ہو گیا لیکن ماضی میں جو کوششیں کی گئیں وہ خطرے سے دوچار ہیں۔

اس چارٹر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق پاکستان موسمی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے ممالک میں شامل ہے۔ ’اگر گلیشیئر کے پگھلنے میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو آنے والے دنوں میں ہم شدید سیلابوں کا سامنا کریں گے، جس سے دریاؤں کے سالانہ بہاؤ میں کمی آئے گی۔ یہ تمام عوامل سے بارشوں کی طرز میں تبدیلی ہو گی جس سے زراعت اور غزائی ضروریات کا نظام تباہ ہو جائے گا۔‘
چارٹر میں بتایا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے تازہ پانی کی طلب اور فراہمی میں فقدان پیدا ہو رہا ہے۔

چاروں صوبوں اور وفاق نے زراعت کے پائیدار اور متبادل ذرائع اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ نے اتفاق کیا ہے کہ انڈس ریور سسٹم میں شامل کرنے کے لیے مزید پانی دستیاب نہیں، لہٰذا پاکستان کو پانی کے مزید ذخائر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مون سون میں پانی سمندر میں جا کر ضائع نہ ہو لیکن اس حوالے سے سمندری کی سطح بلند ہونے اور ماحولیاتی نظام کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان واٹر چارٹر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بیماریوں کی وجہ آلودہ پانی ہے۔ اس دستاویز کے مطابق ان بیماریوں کی وجہ سے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے طے کیا ہے کہ پانی کے شعبے کو اولیت دی جائے گی اور اس کے علاوہ قدرتی آفات کے انتظام اور گندے پانی کی نکاسی وغیرہ کے لیے رقوم میں اضافہ کیا جائے گا۔ ’ایک فریق سے دوسرے فریق کی طرف اقتدار کی منتقلی اس شعبے کو متاثر نہیں کرے گی۔ منظورہ شدہ منصوبے مقررہ لاگت اور مدت تک جاری رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مخلصانہ کوششوں سے پاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔‘

ریاض سہیل
بی بی سی اردو، کراچی

موسمياتی تبديليوں سے بچنے کے ليے سب سے نااہل پاکستان

ايچ ايس بی سی بينک کی ايک تازہ رپورٹ کے مطابق موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملکوں کی فہرست ميں بھارت پہلے نمبر پر ہے جب کہ فہرست ميں دوسرا نمبر پاکستان کا ہے۔ ايچ ايس بی سی کے مطابق موسمياتی تبديليوں کے اثرات سے بچنے يا نمٹنے کے ليے تمام ملکوں ميں پاکستان سب سے کم صلاحيت کا حامل ہے۔ پاکستان، بنگلہ ديش اور فلپائن ميں غير معمولی موسمی حالات اور سيلابوں کا خطرہ سب سے زيادہ ہے۔ يہ انکشافات ايچ ايس بی سی بينک کی پير انيس مارچ کو جاری کردہ رپورٹ ميں کيے گئے ہيں۔
رپورٹ کے ليے بينک نے سڑسٹھ ملکوں سے اعداد وشمار جمع کیے ہیں۔ نتائج تک پہنچنے کے ليے موسمی حالات ميں تبديلیوں، درجہ حرارت ميں اتار چڑھاؤ اور ديگر عوامل کا جائزہ ليا گيا۔

فلپائن اور بنگلہ ديش بھی سب سے زيادہ متاثر ہونے والے ملکوں ميں شامل ہيں۔ بھارت ميں زراعت کا شعبہ سب سے زيادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ درجہ حرارت ميں اضافے اور بارشوں کی کمی سے سب سے زيادہ متاثر وہ بھارتی ديہی علاقے ہوں گے، جہاں آب پاشی کا مناسب نظام موجود نہيں۔ ايچ ايس بی سی کی اس رپورٹ کے مطابق موسمياتی تبديليوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار دس سر فہرست ملکوں ميں نصف سے زائد جنوبی ايشيا ميں ہيں۔ اس گروپ ميں عمان، کولمبيا، ميکسيکو، کينيا اور جنوبی افريقہ بھی شامل ہيں۔ دوسری جانب موسمياتی تبديليوں سے سب سے کم متاثر ہونے والے ملک فن لينڈ، سويڈن، ناروے، ايسٹونيا اور نيوزی لينڈ ہيں۔