پاکستان میں پانی کا بحران : سنگین قومی چیلنج

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے جن ملکوں کو پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا ہے پاکستان اُن میں سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول آنے والے برسوں میں اس بحران کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔ اس صورت حال کی بناء پر مسئلے سے نمٹنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز عالمی یومِ ماحولیات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ پاکستان کو 80 فیصد پانی گلیشیروں سے ملتا ہے جو زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو انسانیت کی بقا کے لئے ضرورت کے مطابق مالیاتی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی جانب سے کاربن کا اخراج کم کیے جانے پر زور دیا۔

اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030ء تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دیں گے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہوں گے اور موسمی تبدیلیاں ختم ہوں گی، آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی اور حیوانی حیات کو تحفظ ملے گا۔ اس موقع پرچینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یومِ ماحولیات کی کامیاب میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ماحولیات کے شعبے کی ترقی میں پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صراحت کی کہ کوئی ایک ملک مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

بلاشبہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری انسانی دنیا کا ایسا مسئلہ ہیں جن کے حل کی کوششوں میں لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک کر چکی ہے اور اب اس سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ کاوشوں کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم ہم اہلِ پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری کی طرف دیکھتے رہنے کے بجائے اپنے حصے کا کام انجام دینے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات کم سے کم ممکنہ مدت میں مکمل کر لینے چاہئیں کیونکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ گلیشیروں سے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کا ازالہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر انتظامات سے ممکن ہے جس کا کم و بیش 90 فیصد حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہی ضروری نہیں یہ کام مقامی سطح پر ملک بھر میں چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیں بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بارش کا زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی اور ٹیوب ویلوں وغیرہ کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اسی طرح پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو رواج دنیا بھی ضروری ہے۔ زرعی فصلوں کی آبیاری کے لئے اب ایسے طریقے دنیا کے مختلف ملکوں میں مروج ہیں جن میں فصلوں کو دیے جانے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کی معمولی مقدار بھی ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔ ہمارے ہاں بھی یہ طریقے ہنگامی بنیادوں پر متعارف کرائے جانے چاہئیں۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں کا بھی کم سے کم وقت میں مکمل کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگرہمارے قومی وجود کا برقرار رہنا غیریقینی ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

جہانگیر ترین کا گروپ

جہانگیر خان ترین کے گروپ نے تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس گروپ نے اتنی تیزی سے اتنی اہمیت کیسے اختیار کی؟ جہانگیر ترین تاحیات نااہل ہو کر عملی سیاست سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ ہاں اگر آرٹیکل 62، 63 مستقبل میں کبھی آئین سے نکال دیا جائے اور ثاقب نثار جیسے کوئی منصف کسی آئینی شق کو استعمال کر کے ان کو یہ حق واپس دلوا دیں تو علیحدہ بات ہے۔ مگر فی الحال جہانگیر خان ترین سیاسی میدان سے باہر ہیں اور ان کی تمام تر دولت اپنے حلقے میں ایک یونین کونسل کا الیکشن جتوانے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ایسے میں کائیاں سیاست دانوں کا ان کے ساتھ چپک جانا، ان کے حق میں کھڑے ہو جانا اور عمران خان پر ایسی تنقید کرنا کہ دشمن بھی کانوں کو ہاتھ لگائے یقیناً ایک پہیلی سے کم نہیں۔ جہانگیر خان ترین گروپ کے بننے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کچھ اہم اور مرکزی، کچھ ضمنی اور نسبتاً کم اہم۔

مگر سب نے مل کر نتیجہ ایک ہی نکالا ہے اور وہ یہ کہ وزیر اعظم عمران خان جیسے سخت گیر کپتان جو اپنی قیادت کے سائے میں اپنی مرضی کے بغیر گھاس بھی نہیں اگنے دیتے، اپنے سامنے اپنے کھلاڑیوں کی بغاوت اور ان کے پرانے دوست اور مہربان کے ہاتھ پر بعیت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عثمان بزدار کو پنجاب میں رکھا اس لیے گیا تھا کہ ان جیسا وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے بڑے صوبے کو مرکز کی ہدایت، مرضی اور حکم کے بغیر نہ چلا سکے اور اس طرح پنجاب سے پارٹی کے اندر مرکزی قیادت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اگر کوئی پنجاب صحیح چلانے لگے تو اسلام آباد کو سنبھالنا کون سا مشکل کام ہو گا۔ لہٰذا پنجاب میں کمزور وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں مضبوط اور بااعتماد وزیر اعظم کی ضمانت ہے۔ یہ فارمولہ لاگو کرنے والے یہ بھول گئے کہ پنجاب کی کمزوری اس سیاسی بنیاد کو ہی ہلا سکتی ہے جس پر پارٹی طاقت میں رہنے کے لیے تکیہ کرتی ہے۔

اگر ممبران صوبائی اسمبلی اپنے چیف منسٹر کو اپنی سیاست کے لیے ایک بحران کے طور پر دیکھیں تو ان کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی راستہ موجود نہیں۔ اسلام آباد میں قد آور سینیٹرز اور وزرا کو سفارشیں کر کے وقت ملتا ہے۔ دور دراز کے صوبائی اسمبلی کے نمائندگان کو کون پوچھے گا؟ جہانگیر خان ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے بیشتر لوگ وہ ہیں جو پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے جڑی ہوئی حکمرانی کے بکھرے ہوئے شیرازے میں بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ عثمان بزدار پنجاب جیسے مشکل اور حساس صوبے کے سیاسی جذبات کو کسی طور سنبھال نہیں پائے۔ اوپر سے عوامی جذبات ہر گاؤں، قصبے اور حلقے میں ابل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترین گروپ کے اکثر ممبران ٹی وی پروگراموں میں اپنے سیاسی مستقبل کا رونا روتے سنے گئے۔ ان کی سیاست داؤ پر لگی ہے۔

تین سال میں پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو کر انہوں نے جو قربانی دی اب وہ رائیگاں جاتی نظر آ رہی ہے۔ دو سال بعد انتخابات ہیں۔ وہ ووٹر کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ حکومتی جماعت ہونے کے باوجود وہ اپنی ناقص کارکردگی کو ن لیگ یا پیپلز پارٹی سے نہیں جوڑ سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ ووٹر اس قسم کی فضول وضاحتیں سن کر تنگ آ گیا ہے۔ پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹہرانا اپنے سر پر سیاسی جوتے برسوانے کے مترادف ہے۔ اب یہ تمام لوگ جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی حکومت کو کوستے ہوئے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس دباؤ کی وجہ سے عثمان بزدار کی نیند بھی کھل گئی ہے اور اس طرح یہ گروپ اپنے لیے کچھ خصوصی مراعات بھی حاصل کر پائے گا۔ اس گروپ کے بننے کی دوسری وجہ پنجاب کے حلقوں میں یہ پھیلتا ہوا تصور ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگلے انتخابات میں طاقت حاصل نہیں کر پائے گی۔

یہ تصور حقیقی ہے یا فرضی اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ مگر یہ موجود ضرور ہے۔ حلقوں کے سیاست دان چوراہوں اور چوپالوں میں ہونے والی بحث کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کو یہی فکر لاحق ہے کہ اگلا الیکشن کیسے جیتا جائے۔ اگر وہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں تو ان کے پاس یا ن لیگ کی آپشن موجود ہے اور یا پھر پیپلز پارٹی۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا مستقبل پی ٹی آئی سے بھی زیادہ مشکوک ہے۔ ن لیگ کے اپنے حلقے بھرے ہوئے ہیں۔ آپشنز کی تلاش میں مصروف حلقے کے سیاست دان جہانگیر ترین کے ساتھ نتھی ہو کر خود کو یہ اعتماد دینا چاہتے ہیں کہ برا وقت آنے پر وہ کسی ایسے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو پائیں گے جہاں سے حکومت کی ناکامیوں کا ریلا ان کو بہا نہ لے جا سکے۔ مگر یہ سب عوامل اپنی جگہ، حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ گروپ جہانگیر ترین کی اپنی کاوش اور مقتدر حلقوں کی مدد کے بغیر جنم نہ لے پاتا۔

جہانگیر ترین نے اپنی سر توڑ کوشش سے وہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کیا ہے جو سیاست سے نااہلی کی وجہ سے بے دخلی کا بہترین متبادل ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ ان سیاست دانوں کو ملا کر ایک ایسا دھڑا بنا دیا ہے جس سے سینگ لڑا کر حکومت اور عمران خان صرف نقصان ہی اٹھا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے جہانگیر ترین نے یہ سب کچھ دھڑے کے ممبران کے لیے نہیں کیا۔ ان کو معلوم ہے کہ اگر مخصوص قسم کا احتساب ایسے ہی چلتا رہا تو تحریک انصاف میں ان کے خون کے پیاسے ان کا کاروبار اور مستقبل مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ اس گروپ کی طاقت جہانگیر ترین کی طاقت ہے۔ اگر اس گروپ کے ذریعے جہانگیر خان کے پرانے دوست اس حکومت کی مشکیں کس سکتے ہیں تو سونے پر سہاگہ۔ جہانگیر ترین ایک مالدار شخص ہیں مگر اس وقت ان کا سب سے قیمتی اثاثہ یہ گروپ ہے جو ان کے قریبی ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات تک پھلتا پھولتا رہے گا۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

رنگ روڈ ۔ دوسرا پاناما اسکینڈل

راولپنڈی رنگ روڈ کی کہانی وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے شروع ہوئی‘ وزیراعظم کو کسی دوست نے بتایا آپ کے خلاف بھی پاناما اسکینڈل بن چکا ہے۔ آج آپ کی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو آپ کے لیے راولپنڈی رنگ روڈ کافی ہو گی‘ آپ باقی زندگی فائلیں اٹھا کر ایک عدالت سے دوسری عدالت دھکے کھاتے رہیں گے‘ وزیراعظم کے لیے یہ انکشاف پریشان کن تھا‘ وزیراعظم کو دوست نے چند اکاؤنٹ نمبرز‘ چند فون نمبرز‘ چار اعلیٰ سرکاری افسروں کے عہدے اور 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام دیے اور وزیراعظم کو کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود سے چند سوال پوچھنے کا مشورہ دیا۔ وزیراعظم نے خفیہ تحقیقات کرائیں‘ الزام سچ نکلا‘ وزیراعظم نے کمشنر راولپنڈی کیپٹن محمود کو بلایا اور ان سے صرف ایک سوال پوچھا ’’آپ کو راولپنڈی رنگ روڈ کا روٹ بدلنے اور اٹک لوپ کو اس میں شامل کرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا‘‘ کیپٹن محمود نے فوراً جواب دیا ’’مجھے کسی نے نہیں کہا تھا‘‘ وزیراعظم نے دوبارہ پوچھا ’’کیا آپ کو کسی وفاقی وزیر یا اسپیشل ایڈوائزر ٹو پی ایم نے سفارش نہیں کی؟‘‘ کمشنر نے صاف انکار کر دیا۔

یہ انکار وزیراعظم کو برا لگا‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم کے پاس سارا ریکارڈ موجود تھا‘ یہ جانتے تھے وفاقی وزیر غلام سرور خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کمشنر راولپنڈی پر اثرانداز ہوئے تھے اور اس اثرورسوخ کی وجہ سے 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے چند ماہ میں اربوں روپے کمائے تھے۔ کمشنر کے انکار نے وزیراعظم کے خدشات کو مضبوط بنا دیا اور انھوں نے راولپنڈی کی ساری انتظامیہ کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود‘ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد انوار الحق‘ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیوکیپٹن (ر) شعیب علی اور اسسٹنٹ کمشنر صدر غلام عباس کو عہدوں سے ہٹا دیا اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم گلزارحسین شاہ کو کمشنر راولپنڈی لگایا اور انھیں راولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری کا حکم دے دیا‘ کمشنر گلزار حسین شاہ نے کام شروع کیا اور 11 مئی کو انکوائری رپورٹ آ گئی۔ بیورو کریسی میں گلزار حسین شاہ کی شہرت اچھی نہیں‘ یہ ڈسکہ میں این اے 75 کے الیکشن کے دوران کمشنر گوجرانوالہ تھے اور ان پر الیکشن میں اثرانداز ہونے کا الزام لگا تھا مگر اس کے باوجود گلزار حسین کی انکوائری رپورٹ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ میں نے اپنے 28 سال کے صحافتی کیریئر میں کسی سرکاری افسر کی تیار کردہ اتنی تگڑی اور جامع رپورٹ نہیں دیکھی‘ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا اگر سرکاری افسر کام کرنا چاہے تو یہ ایک ہفتے میں تمام تحقیقاتی اداروں اور جے آئی ٹیز کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

یہ رپورٹ ہمارے پورے سسٹم کا نوحہ بھی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے سیاست دان‘ بیوروکریٹس اور طاقتور اداروں کے ریٹائرڈ افسر کس طرح مل کر پورے نظام کو توڑ مروڑ کر ایک ایک رات میں عوام کی جیب سے کھربوں روپے نکال لیتے ہیں‘ میں عمران خان کا ناقد ہوں‘ میں چھ سال سے ان پر تنقید کر رہا ہوں لیکن یہ رپورٹ پڑھ کر پہلی مرتبہ مجھے ان پر ترس آیا‘ یہ شخص واقعی ہر طرف سے مفاد پرستوں میں گھرا ہوا ہے‘ سرکاری افسر‘ وزیراعظم کے دوست اورحکمران پارٹی کے عہدیدار ملک کو لوٹ رہے ہیں اور یہ ملک اور اپنے آپ کو ان سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے یہ کس کس سے بچے گا؟ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا پنجاب حکومت نے 2017 میں راولپنڈی پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے 40 کلومیٹر کی رنگ روڈ بنانے کا فیصلہ کیا‘ پلان بھی بن گیا اور بینک آف چائنہ سے 400 ملین ڈالر لون بھی منظور ہو گیا لیکن منصوبہ شروع ہونے سے پہلے میاں شہباز شریف کی حکومت ختم ہو گئی اوریہ منصوبہ بھی دوسرے بے شمار منصوبوں کی طرح ٹھپ ہو گیا لیکن پھر یہ اچانک نہ صرف ایکٹو ہو گیا بلکہ اس میں 26 کلومیٹر کا اضافہ بھی ہو گیا‘ اس میں اٹک لوپ بھی شامل ہو گئی۔

اسلام آباد کے دو سیکٹر بھی اس میں ڈال دیے گئے اور حکومت کو یہ تاثر بھی دیا جانے لگا ہمیں غیرملکی قرضوں کی ضرورت نہیں‘ ہمارے پاس ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو اپنی جیب سے 66 کلو میٹر لمبی سڑک بنائیں گی اور ٹول ٹیکس شیئرنگ کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری واپس لے لیں گی‘ یہ منصوبہ بظاہر شان دار لگتا تھا لیکن اس کامقصد رنگ روڈ بنانا نہیں تھا‘ اس کے ذریعے 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان نے لوگوں سے کھربوں روپے جمع کرنا تھے‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ کے مطابق نوا سٹی کے نام سے راتوں رات ایک ہاؤسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ ہوئی۔ سوسائٹی کے پاس 970 کنال زمین تھی لیکن سوسائٹی کے مالک جنید چوہدری نے 20 ہزار فائلیں بنائیں اور مارکیٹ میں ایک ماہ میں یہ ساری فائلیں بیچ دیں‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ کے بعد مزید تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا فائلیں صرف 20 ہزار نہیں تھیں ان کی تعداد 30 ہزار ہے اور اس میں ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کے صاحب زادے منصور خان پارٹنر ہیں‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ نے سول ایوی ایشن کی طرف سے نوا سٹی کے فوری این او سی پر بھی سوال اٹھایا‘ یہ این او سی حیران کن اسپیڈ سے جاری ہوا تھا‘ جنید چوہدری نے یہ فائلیں رئیل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلک میں دیں‘ پراپرٹی ڈیلروں نے سوشل میڈیا پر اشتہارات دیے اور ایک ماہ میں 20 ہزار فائلیں بیچ دیں۔

تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کیں تو پتا چلا صرف ایک ایجنٹ نے ایک ماہ میں 34 کروڑ روپے کمائے‘ آپ باقی کا اندازہ خود لگا لیجیے‘ یہ بھی پتا چلا نیو ائیرپورٹ سوسائٹی کے مالک راجہ سجاد حسین نے بھی رنگ روڈ کے نام پر اندھا دھند سرمایہ کمایا‘ اس کی کمپنی کا نام الآصف ڈویلپر ہے جب کہ لائف اسٹائل کے نام سے جنوری 2020 میں جنید چوہدری نے ایک دوسری کمپنی بھی بنائی اور اس کمپنی نے کمشنر آفس کی معلومات پر تھوڑی سی زمینیں خریدیں اور ہاؤسنگ اسکیموں نے اس زمین کی بنیاد پر دھڑا دھڑ فائلیں بیچنا شروع کر دیں۔ حبیب رفیق گروپ نے رنگ روڈ میں مورت انٹرچینج ڈال کر اسمارٹ سٹی کو بوسٹ دیا اور اپنی سیل میں اضافہ کر لیا‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں کمشنر کیپٹن محمود بے نامی حصے دار ہیں‘ رنگ روڈ سے اس کو بھی بوسٹ ملا اور اس کے مالکان بھی اربوں روپے کھا گئے‘ بلیو ورلڈ سوسائٹی نے بھی بوسٹ لی اور اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (ICHS) بھی پیچھے نہ رہی‘ رپورٹ میں میجر جنرل ریٹائرڈ سلیم اسحاق‘ کرنل ریٹائرڈ عاصم ابراہیم پراچہ اور کرنل ریٹائرڈ مسعود کا نام بھی شامل ہے‘ اتحاد ہاؤسنگ سوسائٹی‘ میاں شہباز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کے رشتے داروں کی زمینوں کا ذکر بھی ہے۔

یہ لوگ پسوال زگ زیگ کے بینی فشریز ہیں‘ یہ انکشاف بھی کیا گیا کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود نے گریڈ 17 کے افسر وسیم علی تابش کو غیرقانونی طور پر اٹک میں پوسٹ کیا‘ اسے رنگ روڈ کے لیے زمینیں خریدنے کی ذمے داری سونپ دی اور اس نے پانچ ارب روپے کی لینڈ ایکوزیشن کر دی۔ رپورٹ میں قرطبہ سٹی اور کمشنر کیپٹن محمود کے دو بھائیوں کا ذکر بھی ہے‘ یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پارٹنر بھی تھے اور بے نامی دار بھی‘ وسیم علی تابش بھی ٹاپ سٹی کے مالک کے دوست اور رشتے دار ہیں‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی رنگ روڈ میں تبدیلی کا سب سے بڑا ’’بینی فشری‘‘ تھا‘ کمشنر نے رپورٹ کے آخر میں درخواست کی نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے نوا سٹی‘ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی‘ بلیو ورلڈ سٹی‘ اتحاد سٹی‘ میاں رشیدہ گاؤں میں موجود 300 بے نامی زمینوں‘ گاؤں تھالیاں میں 200 کنال بے نامی زمین‘ جاندو اور چھوکر گاؤں میں ملٹی پروفیشنل ہاؤسنگ اسکیم کی زمین‘ گاؤں راما میں لائف ریزیڈینشیا‘ اڈیالہ روڈ پر موجود روڈن انکلیو‘ ایس اے ایس ڈویلپرز‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی اور ٹاپ سٹی کے خلاف تحقیقات کی جائیں جب کہ کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود سمیت اسکینڈل میں ملوث تمام سرکاری افسروں کو نوکری سے فارغ کیا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

مجھے کل دوپہر پتا چلا ملزمان کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع ہو چکی ہیں‘ نوا سٹی کے مالک جنید چوہدری کے دو وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ سے روابط بھی نکل آئے ہیں‘ تحائف کی تفصیلات کا علم بھی ہو چکا ہے‘ نوا سٹی کے ایجنٹوں کے اکاؤنٹس‘ فون ڈیٹا‘ جائیدادوں اور بے نامی پراپرٹیز کی فہرستیں بھی بن رہی ہیں‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی‘ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی‘ بلیو ورلڈ‘ اتحاد سٹی اور روڈن کے خلاف بھی ثبوت جمع ہو رہے ہیں اور وزیراعظم نے تمام ملزموں کو گرفتار کرنے اور عوام کی رقم واپس دلوانے کا حکم بھی دے دیا ہے‘ وزیراعظم اور ذلفی بخاری کے تعلقات میں بھی دراڑ آ چکی ہے‘ وزیراعظم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے‘ ان کی وزارت کے اندر بھی چند فائلیں کھل رہی ہیں اور وہ انکشافات بھی حیران کن ہوں گے۔ یہ ملک کس طرح چل رہا ہے؟ آپ صرف گلزار حسین کی رپورٹ پڑھ لیں‘ آپ کو مزید کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ آپ ظلم دیکھیے‘ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر کس طرح فضا بناتے ہیں‘ پورے پورے شہر کاغذوں میں بناتے اور پلاٹوں کی فائلیں بنا کر مہینے میں اربوں روپے جمع کر لیتے ہیں اور عوام سستے پلاٹوں اور گھروں کے لالچ میں اپنی عمر بھر کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں‘ یہ کیسے لوگ ہیں؟ کیا ان کے دل رحم سے بالکل خالی ہو چکے ہیں؟ عمران خان سچ کہتے ہیں اس ملک میں مافیاز کی حکومت ہے اور یہ مافیاز ہر حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

صرف ایماندار ہونا اچھا نہیں ہے

جیسے ہی خان صاحب نے کہا کہ شروع کے ڈیڑھ برس توکاروبارِ حکومت سمجھنے میں ہی لگ گئے۔ اب کارکردگی دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ہر ہما شما ان کے پیچھے لگ گیا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے اس بندے کو کچھ نہیں پتہ اور ملک اس کے حوالے کر دیا گیا۔ تب ہی کوئی پالیسی سیدھی نہیں ہے اور ملک یوں چل رہا ہے جیسے بنا لنگر کا جہاز سمندر میں ڈول رہا ہو۔ ملک چلانا نہیں آتا تو اقتدار میں آنے کا اتنا شوق کیوں تھا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اب معاملات خان صاحب کی سمجھ میں آ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے خان صاحب کو داد نہیں دی کہ بندے نے کم ازکم ایمانداری سے اعتراف تو کر لیا اور ہر خدا ترس حکمران کو اتنی بنیادی ایمانداری تو دکھانی ہی چاہیے کہ جو شے سمجھ میں نہیں آئی یا سمجھنے میں دیر لگی اسے صاف صاف قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ کوئی بھی اچھے خان ہو، پیدا ہوتے ہی تو سب نہیں جان سکتا۔ زندگی کی اونچ نیچ اور غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔

مگر اس کا اعتراف کرنے کے لیے چوڑا سینہ بھی تو چاہیے۔ جو حکمران بغیر اعتراف کے غلطی پر غلطی کرتے جاتے ہیں اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور پھر ملک کو لاوارث چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے دوسروں پر اپنی نااہلی کا بوجھ ڈال کر چلے جاتے ہیں وہ بہتر ہوتے ہیں یا اپنی کمی بیشی کو ماننے والا حکمران بہتر ہوتا ہے ؟ ویسے بھی خان صاحب نے خود اعتراف کیا ہے۔ کسی نے کنپٹی پر پستول رکھ کے تو نہیں قبولوایا۔ شکر ہے کہ ڈھائی برس میں ہی بتا دیا کہ شروع کا ڈیڑھ برس کیسا گذرا۔ اگر پانچ برس بعد یہی اعتراف ہوتا یا نہ بھی ہوتا تو کوئی کیا بگاڑ لیتا۔ یہ خان صاحب کی بڑائی اور ظرف ہے۔ اور جو اسے ان کی کمزوری کے طور پر لے رہے ہیں یہ ان کا ظرف ہے۔ حکمران توآتے جاتے رہتے ہیں۔ ریاست کا کاروبار ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ چلاتی ہے۔ اب یہ حکمران کی ذاتی صلاحیت ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے منہ زور گھوڑے کو اپنی مرضی کی سمت میں دوڑانے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے یا پھر خود اسٹیبلشمنٹ کی سواری بن جاتا ہے۔ یہ وہ کلیہ ہے جس سے امریکا سے لے کر گنی بساؤ تک کسی ریاست کو مفر نہیں۔

امریکا میں جب بھی کوئی نیا صدر آتا ہے تو اسے بھی حکومتی فیصلہ سازی کی سائنس پر گرفت کرنے اور الف بے سمجھنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ محکمہ خارجہ و دفاع سمیت ہر اہم و غیر اہم محکمے کے کھانپڑ اس کو بار بار تفصیلی بریفنگ دیتے ہیں۔ اقتصادی تھنک ٹینک آسان انگریزی میں ٹکنیکل چیزیں سمجھاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا عملہ اسے صدارتی ادب آداب سے واقف کرواتا ہے۔ریاستی پالیسی کے دائرے میں تقاریر لکھتا اور رٹواتا ہے۔ ہر فیصلہ لینے سے پہلے صدر نہ صرف اپنے قریبی مشیروں بلکہ سبجیکٹ کمیٹیوں اور چنندہ ارکانِ کانگریس سے مشورہ کرتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر کی بھی تربیت و تعلیم ہوتی ہے اور پھر اس کے نام سے فیصلے اور احکامات جاری ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ سپر پاور کا حکمران داخلہ و خارجہ امور سے کس قدر باخبر ہے اور کرہِ ارض کی نبض پر اس کا کتنا مضبوط ہاتھ ہے۔

اب رہی یہ بات کہ آیا محض ایک حکمران کی ایمانداری پیچیدہ ریاستی نظام کو سمجھ کر چلا سکتی ہے یا پھر یہ سارا کھیل ایک ہی طرح کے جذبے سے سرشار مگر باصلاحیت افراد کے ٹیم ورک کا مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ شرط ہے جس کے پورا ہوئے بغیر ایک جمہوری کیا فاشسٹ حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ اس کے لیے مردم شناسی اولین شرط ہے۔ ضروری نہیں کہ آنکھ بند وفاداروں کی ٹیم باصلاحیت بھی ہو۔ لیڈر کا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح باصلاحیت لوگوں کو ایک وفادار ٹیم میں بدل سکتا ہے۔ ایسی ٹیم ایک ایک موتی چن کے لڑی میں پرونے جیسا ہے۔ یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ جتنی لیڈر میں صلاحیت ہو گی اتنی ہی ٹیم بھی اچھی یا بری بنے گی۔ ادھار میں ملنے والے ماہرین سے روزمرہ تو چل سکتا ہے مگر ادھاریوں یا اجرتیوں کے بل پر ریاست کو اپنے خوابوں کی تعبیر میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔

ہمارے ہاں اب تک جتنے بھی باوردی یا بلا وردی حکمران آئے ان کا احساسِ عدم تحفظ بھی ان کے ساتھ صدارتی محل یا ایوانِ وزیرِ اعظم میں در آتا ہے اور سائے کی طرح چپکا رہتا ہے۔ چنانچہ صلاحیت کو وفاداری کے مقابلے میں ہمیشہ پچھلی رو میں جگہ ملتی ہے۔ آدھا وقت تو آگا پیچھا بچانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ کب کیا ہو جائے، کون کس کے ساتھ مل کے کیا گل کھلا جائے ؟ بس یہی سوچ ہر فیصلے کی پشت پر ہوتی ہے۔ ایسے میں افلاطون بھی کرسی پر بیٹھا ہو تو اپنی بقا کے علاوہ کسی بھی قومی مسئلے پر کتنا اعلیٰ یا دوررس سوچ لے گا ؟ جو ڈنڈے کے زور پر آتا ہے اسے یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ ڈنڈہ ٹوٹ نہ جائے یا چھن نہ جائے۔جو ووٹ کے زور پر آتا ہے اسے بھی آڑھتیوں ( پاور بروکرز ) کو اختیاراتی بھتہ دیے بغیر محل میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔ محل کے صدر دروازے پر پچھلی حکومتیں ڈکارنے والے پیشہ ور استقبالی خوشامدی جادوگر فرشی سلام کرتے ہوئے نووارد پنچھی کو گھیر لیتے ہیں اور اپنی لچھے داریوں سے بڑے بڑے انقلابی دماغ کو جکڑ کر دولے شاہ کی کھوپڑی سے بدل دیتے ہیں۔

اور پھر فیصلے کوئی اور کرتا ہے مگر نام بدنام ہز ہائی نیس کا ہوتا ہے۔ اور ہزہائی نیس بھی اس عالیشان ذلت کو یہ سوچ سوچ کر سہتے رہتے ہیں کہ اور کچھ نہیں تو پروٹوکول تو مل ہی رہا ہے ، ہٹو بچو تو ہو ہی رہی ہے ، آگے پیچھے سائرن تو بج ہی رہے ہیں ، سلام پر سلام تو پڑ ہی رہے ہیں۔ پہلے بھی خجل تھے ، آیندہ بھی خجل خواری ہی کا زیادہ امکان ہے لہٰذا چار دن کی چاندنی کے مزے ہی لے لو۔ رہی فیصلہ سازی اور خود کو سب سے منوانے کی دھن اور اقتداری خود مختاری۔ جنھوں نے پہلے اس طرح کی مہم جوئی کا خطرہ مول لیا انھوں نے کسی کا کیا اکھاڑ لیا۔ الٹا اپنے جان و مال و خاندان کا نقصان کیا۔ چنانچہ جس حد تک بھی ممکن ہو ایمانداری و وضع داری کے ساتھ اپنا وقت کاٹو اور وہ گائے مت بنو جس کا خیال ہے کہ دنیا اسی کے سینگوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس کوشش میں دنیا کا توکچھ نہیں بگڑتا اکثر اپنے ہی سینگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر ایمان داری کا بھی کیا کریں۔ وہ بھی پر ہیزگار حکمران کا تب تک ساتھ دیتی ہے جب تک بے ایمانی کے اژدھے کی دم پر پاؤں نہ پڑے۔ چھوٹے موٹے جانور کچلنے میں البتہ کوئی حرج نہیں۔ اور کچلنے بھی چاہئیں تاکہ کچھ دیر تلک تھوڑا بہت دبدبہ تو قائم رہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ملک کو کیسے چلایا جائے؟

کورونا سے کیسے بچا جائے؟ یہ وبا کب ختم ہو گی؟ ان سوالات پر تو دنیا بھر کے دانشور، سائنسدان، ڈاکٹر، محقق اور حکمران سوچ بچار کر کے تھک گئے ہیں۔ اب تو دنیا کا ہر انسان اس تشویش میں مبتلا ہے کہ وہ اس وبا کے ہوتے ہوئے اپنے عوام اور ملک کو کس طرح چلائے۔ اس وبا کی تباہ کاری کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑا ہے۔ کورونا کی وبا نے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی ’’اوورہالنگ‘‘ کا بگل بجا دیا ہے۔ عالمی معیشت ہو یا کسی ایک ملک کا معاشی نظام اس کی اوورہالنگ کیے بغیر کسی بھی عالمی یا علاقائی مالیاتی نظام کی بقا مشکل ہے۔ کورونا کی وبا نے گلوبلائزیشن کے مغربی تصور پر کاری ضرب لگا دی ہے۔ ایک طرف تو اس وبا نے ہر ملک کی معیشت پر دبا بڑھایا ہے تو دوسری طرف عالمی گروتھ سسک رہی ہے۔ معیشت سکڑنے کی وجہ سے ایک طرف تو پیداواری انڈیکس گھٹ رہا ہے اور دوسری طرف لوگوں کے روزگار ختم ہو رہے ہیں۔ کورونا نے عالمی معاشی نظام اور ورلڈ آرڈر کو یہ کھلا پیغام دے دیا ہے کہ اب دنیا کے کسی ملک یا چند ممالک کے گروپ کو واحد پیداواری یونٹ یا فیکٹری نہیں بننے دیا جائے گا۔

امریکا یورپ یا چین کوئی اور ملک پوری دنیا کا معاشی ٹھیکیدار نہیں بن سکے گا۔ ہر ملک کو اپنے ملک کی غذائی اور دوسری اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے وسائل کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہو گا۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ اب چند ایک ممالک مل کر باقی دنیا کو بطور منڈی استعمال نہ کر سکیں گے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران فضائی اور بحری تجارت کو جو بین الاقوامی نقصان پہنچا ہے، اسے فوری طور پر یا مستقبل قریب میں درست کرنا کسی بھی ایک ملک کے بس میں نہیں۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے سبھی ممالک سیاسی انتظامی اور معاشی کنفیوژن اور قیاس آرائیوں کے نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔ اس طرح کی کیفیت میں کسی کو ’’رسی کا سرا‘‘ نہیں مل رہا بس ’’ ٹامک ٹوئیوں‘‘ کے ذریعے اپنی اپنی حکومتوں کے بھرم قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ کورونا کی وبا کے اثرات سے امریکا جیسی ترقی یافتہ معیشت کو کو بھی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ امریکا میں اب تک تین کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ یہ افراد گزشتہ سوشل سیکیورٹی کی رقم پر گزارا کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی معیشت بھی یہ بوجھ کب تک برداشت کرتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کا غیر مستحکم سیاسی اور معاشی نظام بھی انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستانی اشیا کی بیرون ملک تجارت بھی تقریبا رک گئی ہے، ملک میں گورننس کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید زوال پذیر اور پیچیدگی کی طرف جا رہی ہے۔ ضد اور عاقبت نااندیشی کا خمیازہ عوام الناس بھگت رہی ہے۔ وبا کے پھیلاؤ نے ملک کے صحت کے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ شوگر سکینڈل، پیٹرول مافیا اور روزمرہ اشیا کی مہنگائی نے تو عوام کی کمر توڑ دی، ٹڈی دل کے حملوں اور آیندہ آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرے نے ایسے الارم بجا دیے ہیں کہ ہر درد مند شخص کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ ادھراس موقع پر قومی قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے بجائے نیب کے ذریعے مخالفین کی درگت بنانے کا عمل بدستور جاری ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف وبا کی عفریت اور مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی ہنڈیا ’’چوک میں پھوڑنے‘‘پر تلے ہوئے ہیں اور اپنے اس عمل کو عظیم کامیابی تصور کرتے ہیں۔

دنیا کا ہر باشعور حکمران اپنے وطن کی معیشت اس کے سیاسی اور سماجی نظام کو بچانے کے جتن میں مصروف ہیں لیکن ایک ہم ہیں کہ اپنی ہی کشتی میں سوراخ کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمارے سیاسی عمائدین اور ان کو ’’کھلانے والے‘‘ والے حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے عظیم تر قومی مفاد میں مل بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں اور حالات کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ یہ امر کس قدر تشویش ناک ہے کہ نہ تو وزیر اعظم صاحب کھلے دل و دماغ سے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی پی ڈی ایم کی قیادت عمران خان سے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس صورتحال میں راستہ کیا ہے؟ ملک کے سیاسی نظام کو اس بند گلی سے نکالنے کے لیے سپریم کورٹ ہی رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی اور راستہ ہے تو’’صلاح عام ہے یاران نقطہ داں کے لیے‘‘۔

سرور منیر راؤ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے سب کو ’اَن فالو‘ کر دیا

سوشل میڈیا باالخصوص ٹوئٹر پر فعال اور مقبول سیاستدانوں میں شمار کیے جانے والے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر تمام افراد کو ’اَن فالو‘ کر دیا ہے۔ عمران خان اس سے قبل ایک درجن سے زائد ٹوئٹر اکاؤنٹس کو فالو کرتے تھے۔ ان میں زیادہ تر افراد ان کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما ہی تھے۔ ٹوئٹر پر کسی کو بھی فالو نہ کر کے پاکستانی وزیراعظم ان سربراہان مملکت کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم افراد کو فالو کرتے ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی ٹوئٹر پر 17 افراد کو فالو کرتے ہیں۔

انڈین وزیراعظم نریندرا مودی دو ہزار 346، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو 942 جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 57 افراد یا اداروں کے نمائندہ اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کی سوشل میڈیا سرگرمی معمول سے ہٹ کر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ماضی میں ٹیلی ویژن میزبان حامد میر کو ٹوئٹر پر اَن فالو کرنے اور اس پر ان کے ردعمل سمیت متعدد مواقع پر عمران خان کی ٹویٹس بحث کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر فالو کیے جانے والے افراد کو اَن فالو کرنے کا معاملہ قدرے نمایاں ہوا تو سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنے اپنے انداز میں تبصرے کیے۔

بشکریہ اردو نیوز

ہم جو متلاشیٔ رہبر رہے

کاروان بہت گزرے اور اُن سے ہماری امیدیں جڑی رہیں، کبھی ایک سے پھر کسی اور سے۔ ہر بار سمجھتے تھے کہ بہتری ہو گی اورقوم کی تقدیر بدل جائے گی‘ لیکن اُمیدیں کبھی بارآور ثابت نہ ہوئیں۔ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ اُمیدیں باندھنا چھوڑ دیا۔ البتہ ایک بات جان چکے کہ لیڈری ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں لیڈری کرنے کیلئے کچھ لوازمات ہیں جو پورے ہونے چاہئیں۔ ایک تو نام کا ہونا ضروری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور ایک وجہ اُن کی کامیابی کی یہ تھی کہ وہ اپنا نام پاکستان کے منظرنامے پہ بنا چکے تھے۔ اُن کی پہچان تھی‘ اور عوام اُن کے نام سے واقف تھے۔ شخصیت بھی کرشماتی تھی ، اسی لیے جب پارٹی کی بنیاد ڈالنے نکلے تو ایک ہجوم اُن کے گرد جمع ہو گیا۔ مختلف الخیال لوگ تھے اور اُن کا پسِ منظر بھی الگ الگ تھا۔ اُس وقت قومی سیاست میں پیپلزپارٹی جیسی جماعت کی ضرورت تھی۔ بھٹو کو پارٹی چاہیے تھی اور لوگوں کو ایک لیڈر کی تلاش تھی۔ لیڈر اورجماعت کا ملاپ ہوا تو گویا ایک دھماکہ خیز صورتحال سامنے آ گئی۔

نواز شریف نے قومی سیاست میں بطور لیڈر قدم رکھا تو اُن کا نام بھی بن چکا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی نظرِ عنایت اُن پہ پڑی اور وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ خاندانی پسِ منظر بھی تھا، وسائل بھی تھے۔ اُن کے والد صاحب کی رہنمائی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ والد صاحب زیرک آدمی تھے اور لوگوں کی پہچان رکھتے تھے۔ مطلب یہ کہ نواز شریف نے سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں اُٹھائیں تو وہ اکیلے نہ تھے بلکہ اُن کے پیچھے ایک پورا خاندانی ماحول تھا۔ اس لحاظ سے عمران خان اپنے سیاسی سفر پہ اکیلے ہی نکلے۔ اُن کا لمبا چوڑا خاندان نہ تھا لیکن ایک نام تو تھا اور شخصیت بھی کرشماتی تھی۔ شروع میں مشکلات بہت دیکھیں لیکن ہمت نہ ہاری۔ اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سیاست کے میدان سے کب کا بھاگ چکا ہوتا۔ لیکن اُن کی شخصیت میں استقامت ہے اور ٹھوکروں کے باوجود چلتے رہے۔ آخر کار کامیابی نے اُن کے قدم چومے۔

مسئلہ یہ ہے کہ نظریاتی طور پہ تینوں جماعتیں تقریباً ایک ہی طرز کی ہیں۔ کوئی جماعت بھی موجودہ صورتحال یعنی اسٹیٹس کو کے خلاف نہیں۔ تینوں جماعتیں بنیادی تبدیلیوں کے حق میں نہیں۔ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ ضرور لگایا لیکن اُن کا تصورِ تبدیلی بڑا سطحی قسم کا تھا کہ کرپشن ختم کریں گے اور لٹیروں کو نہیں بخشا جائے گا‘ لیکن معاشرے اور نظام میں اُس قسم کی تبدیلی جو انقلاب کے نام سے منسوب کی جاتی ہے‘ ایسا تصور عمران خان کے ذہن میں کبھی نہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں بنیادی قسم کی تبدیلیوں کی سوچ رکھنا فضول کا کام ہے۔ نہ عوام نہ معاشرے میں ریڈیکل سوچ کا فقدان ہے۔ ہمارا معاشرہ رجعت پسند معاشرہ ہے ۔ جو جائز امید لگائی جا سکتی ہے وہ بہتر حکمرانی کی ہے‘ یعنی مسندِ اقتدار پہ ڈھنگ کے لوگ بیٹھیں جو روزمرّہ کا کام کسی اسلوب سے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیاں خاندانی لمیٹڈ کمپنیوں کے بجائے جمہوری اصولوں پہ چلنے والی جماعتیں بنیں‘ لیکن یہاں تسلط خاندانوں کا ہے اور اُس سے باہر جماعتیں نکلتی نہیں‘ اس لیے میرٹ وغیرہ کا دور سے کوئی شائبہ جماعتوں میں نہیں ملتا۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں۔ باصلاحیت لوگوں کی چونکہ سیاسی جماعتوں میں کمی ہوتی ہے اس لئے انحصار افسر شاہی پہ کرنا پڑتا ہے۔ نون لیگ عوامی جماعت ہے لیکن جب بھی اقتدار میں آئی کلید ی اثرورسوخ افسر شاہی کے لوگوں کا رہا۔ اسٹیٹس کو کے سب سے بڑے علمبردار بیوروکریٹ ہی ہوتے ہیں۔ حکومت اُن کے ہاتھوں میں دینا ہے تو جس سوچ کی وسعت کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئے گی؟ تحریک انصاف کا اور بھی برا حال ہے۔ نون لیگ میں بہرحال چند ایک تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ تحریک انصاف میں وہ بھی نہیں۔ نتیجتاً پی ٹی آئی کا انحصار بیوروکریٹوں پہ نون لیگ سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال تبدیل ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں ہی رہنا ہے اور پی ٹی آئی کا انحصار غیر منتخب لوگوں پہ ہی رہے گا۔ جسے ہم بہتر حکمرانی یا گڈ گورننس کہتے ہیں وہ پھر کہاں سے آئے گی۔ اگر حفیظ شیخوں سے گزارا چلانا ہے تو پھر الیکشن جیسے ڈھونگ کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ الیکشنوں کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر الیکشن کے ساتھ نئے لوگ آئیں اور نئے خیالات جنم لیں۔

یہاں پہ انتخابات میں جو کچھ ہو جسے آپ دائمی یا مستقل حکومت کہہ سکتے ہیں وہی فیصلہ سازی کا اختیار رکھتی ہے‘ لہٰذا پے در پے انتخابات کے باوجود حالات جوں کے توں رہتے ہیں اور کوئی بنیادی تبدیلی معرضِ وجود میں نہیں آتی۔ کہنے کو تو پھر ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ ایک نظریاتی خلا ہے جو پُر ہونا چاہیے لیکن کون پُر کرے گا۔ جو جماعت سازی کے روایتی لوازمات ہیں وہ کیسے پورے ہوں گے؟ انہی وجوہات کی بناء پہ ہماری جنریشن کے لوگ‘ جنہوں نے اُمیدیں باندھیں اور پھر اُمیدوں کو بکھرتے دیکھا‘ سیاست سے بیزار ہو چلے ہیں۔ آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ کیا ہوا کہ نون لیگ کی اُمیدیں اب مریم نواز پہ ہیں؟ پیپلزپارٹی کے حوالے سے ہمارے کئی دوست انتباہ کر رہے ہیں کہ آصفہ بھٹو پہ نظر رکھنی چاہیے کیونکہ وہ مستقبل کا ستارا ہو سکتی ہیں۔ یعنی فیملی لمیٹڈ کمپنیوں کے حصار سے ہم نہیں نکل پا رہے۔ جہاں ایسی کمپنیاں ہوں وہاں سیاست کے دستور بھی الگ ہوتے ہیں۔ حاضریاں دینا پڑتی ہیں اور خوشامد کے کچھ نہ کچھ گُر سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے ہُنر ہر ایک کی دسترس میں نہیں ہوتے۔

جب ہم پیپلزپارٹی میں ہوا کرتے تھے اور اُمیدیں بینظیر بھٹو پہ لگائی ہوئی تھیں‘ ہمارے مرحوم دوست سلمان تاثیر نے ایک دن مشورہ دیا کہ بی بی کراچی جا رہی ہیں وہاں ہمارا جانا بھی ضروری ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب جلا وطنی کے بعد 1986ء میں بینظیر بھٹو وطن واپس لوٹی تھیں۔ ہم کراچی گئے اور جہاں بی بی ہوتیں ہم حاضری دینے کی کوشش کرتے۔ کراچی سے انہوں نے کہیں اور جانا تھا تو ہمیں تلقین ہوئی کہ ہمارا بھی وہاں جانا ضروری بنتا ہے۔ میں نے جواباً سلمان تاثیر سے کہا کہ بی بی کی گاڑی کے پیچھے ایک دن کا دوڑنا ہو تو ہم ضرور نہ صرف کر لیں گے بلکہ بھرپور طریقے سے کریں گے‘ لیکن یہ روز روز کا دوڑنا طبیعت پہ گراں گزرتا ہے‘ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ اُس زمانے میں پارٹی میں بینظیر بھٹو کو بی بی صاحبہ کہا جاتا تھا۔ یہ الفاظ ہم کبھی ادا نہ کر سکے اور ہمیشہ مس بھٹو ہی کہتے تھے۔ نون لیگ میں جب گئے تو پارٹی میں روایت تھی کہ نواز شریف کو قائدِ محترم کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ یہ لقب ہمارے لبوں سے کبھی نہ ادا ہو سکا۔ہمارا مخمصہ پھر ملاحظہ ہو۔ سیاست کا چسکا بھی لگا ہوا ہے اور جو یہاں کی سیاست کے لوازمات ہیں ایک حد تک تو شاید پورے کیے ہوں لیکن صحیح انداز سے کبھی پورے نہیں کر پائے۔ خواب اب بھی ہے کہ ملک کے حالات بدلنے چاہئیں۔ بہتری کی طرف ہم جائیں اور فرسودہ خیالات اور رسوم و رواج سے کسی طریقے سے نجات پائیں‘ لیکن جہاں معاشرے کی یہ حالت ہو کہ ایک چھوٹے سے چڑیا گھر کو ہم ٹھیک طرح سے چلا نہ سکیں اور ایک اکیلے ہاتھی کے ساتھ ایسا ظلم روا رکھیں کہ دوسرے ملکوں سے لوگ آ کے ہمیں سمجھانے کی کوشش کریں تو دل پھر ٹوٹ جاتا ہے۔

ایاز امیر

بشکریہ دنیا نیوز

کورونا کا دوسرا خط

عظیم پاکستانیو 10 جون کو میں نے پہلا خط لکھا تھا جس میں، میں نے آپ کو اپنے سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ میں آپ سے زیادہ عرصے دور نہیں رہ سکتا۔ آپ کو کچھ احتیاطی تدابیر بھی بتادی تھیں۔ مگر آپ کی میزبانی کے چرچے دنیا بھر میں ہیں۔ مجھے پورا یقین تھا کہ آپ مجھے جانے نہیں دیں گے، اب تو میرے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور مجھے خاصے لوگوں کی طرف سے دعوت ملی ہے۔ بھلا ہو حکومت اور اپوزیشن کا، ایسا لگتا ہے مقابلہ ہو رہا ہے کہ کون زیادہ تیزی سے میری شہر شہر جانے میں مدد کرتا ہے۔ سچ پوچھیں اس وقت تو حزبِ اختلاف آگے نظر آرہی ہے۔ بہرحال میں نے بھی طے کیا ہے کہ پاکستان میں آنے کی اپنی پہلی سالگرہ 26؍ فروری کو یہیں منائوں۔ اب دیکھیں ایسا نہ ہو کہ آپ زیادہ احتیاط کرنی شروع کر دیں اور اپنے قومی مزاج کے خلاف صحت کو اہمیت دینے لگیں۔

دوستو، 26؍ فروری کے بعد کا پاکستان بڑا مختلف ہے۔ جس طرح 9/11 نے دنیا تبدیل کر دی، اسی طرح 26/2 نے اس ملک کو بدل دیا۔ شکر کریں اب بھی آپ کئی ممالک سے بہت پیچھے ہیں ’’میری وجہ‘‘ سے۔ مگر مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کوشش ضرور کر رہے ہیں آگے آنے کی جس کی ایک وجہ میرے یہ بتانے پر بھی کہ آپ مجھ سے کس طرح بچ سکتے ہیں، نہ آپ صحیح طرح ماسک پہنتے ہیں اور نہ سماجی فاصلہ رکھتے ہیں، گلوز کی عادت تو ڈالی ہی نہیں۔ غرض یہ کہ وہ کام جس سے مجھے آپ کے قریب آنے میں دشواری ہو، آپ نے نہیں کئے۔ شاید اسی وجہ سے یہ نئی لہر میرے لئے سودمند ثابت ہو رہی ہے، اس کے لئے عوام کا اور خاص طور پر عوامی رہنمائوں کا شکریہ۔ ساتھ میں ان خاندانوں سے خصوصی ہمدردی جن کو میری وجہ سے جانی نقصانات ہوئے۔

میں تو چاہتا ہوں کہ دنیا جلد سے جلد میرا توڑ نکالے کیونکہ اب میں بھی تھک گیا ہوں۔ چھ کروڑ لوگ مجھ سے اب تک متاثر ہو چکے ہیں۔ کئی لاکھ ہلاکتیں ہو گئی ہیں۔ میں اب بھی میکسیکو فلو کی وبا سے پیچھے ہوں جس سے دو کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ سنا ہے چین، روس، امریکہ میں ویکسین کی تیاری آخری مراحل میں ہے مگر یہ طے کرنے میں بھی ابھی چھ ماہ سے سال لگ سکتا ہے۔ آپ کے ملک میں بھی اس طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی تیار بیٹھے ہیں کہ جیسے ہی باہر کے کسی ملک میں قابل اعتبار ویکسین تیار ہو، درآمد کر لی جائے۔ مجھے تو آپ کے ملک میں پہلے چند ماہ میں خاصی مایوسی ہوئی تھی کہ مجھے لوگوں کا وہ رسپانس نہیں ملا جس کی توقع تھی۔ جس کے جسم میں داخل ہونے کی کوشش کرتا وہاں پہلے ہی اتنے وائرس ہوتے کہ میری اپنی قوت جواب دے جاتی پھر میں دوسرے کو یہ وبا کیسے لگاتا؟ اپنے پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہے۔

ہاں میں کہہ رہا تھا کہ میرا واپسی کا ارادہ تھا۔ صدر پاکستان اور کچھ وفاقی وزیروں نے تو اعلان تک کر دیا تھا کہ انہوں نے میرے خلاف جنگ جیت لی ہے مگر وہ دوسری لہر سے ناواقف تھے۔ پھر بھلا ہو حزبِ اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا کہ انہوں نے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا۔ جلسے شاندار تھے، کم از کم مجھے تو مزا آیا کیونکہ ماشاء اللہ سے کوئی بھی SOPs پر عمل نہیں کر رہا تھا۔ جواب میں حکومت نے بھی جلسے شروع کر دئیے۔ سرکاری فنکشن، بھرے بازار، شادیاں، کاروبار، اسکول، سماجی سرگرمیاں… بس پھر کیا تھا میں نے واپس جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ اب تو میں اسلام آباد لانگ مارچ کروا کے ہی دم لوں گا۔ خبریں تو آپ کو آرہی ہوں گی کہ اسپتالوں میں بیڈ نہیں مل رہے۔ ایک زمانے میں سینما ہالوں کے اوپر ’’ہائوس فل‘‘ کا بورڈ لگا ہوتا تھا۔ اب یہ حال اسپتالوں کا ہے۔

کچھ اسپتالوں نے تو یہاں بھی دو نمبری شروع کر دی۔ جس شخص کو ابھی میرا وائرس لگا نہیں اس کے بھی کم از کم دو ٹیسٹ تو مثبت آتے ہیں، جن کو داخل کیا جاتا ہے، ان کے بھی بل ہزاروں میں تو ہوتے ہی ہیں۔ بات ’’وینٹی لیٹر‘‘ تک پہنچ جائے تو اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے بڑی تعداد میں لوگ گھر میں ہی اپنے آپ کو ’’قرنطینہ‘‘ کر لیتے ہیں یا غریب آدمی تو بتاتا ہی نہیں ہے، کہتا ہے میں تو پہلے ہی مرا ہوا ہوں مزید کیا مروں گا۔ میں نے اپنے پہلے خط میں احتیاط کا کہا، آپ نے سیاست شروع کر دی۔ اب کیا میں تھانوں اور جیلوں میں نہیں آسکتا جو حکومت نے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف لگتا ہے مولانا نے میرا توڑ نکال لیا ہے جنہیں میری پروا ہی نہیں ہے اور اپنے اتحادیوں کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے حالانکہ میں شہباز شریف اور حمزہ کے پاس ہو کر آچکا ہوں اور اب بلاول بھٹو زرداری صاحب کا مہمان ہوں جن تک رسائی اپنے دوست جمیل سومرو کے ذریعہ حاصل ہوئی۔

ایک آخری مشورہ بھائی رانا ثناء اللّٰہ کے لئے، عوام کو اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے جلسے جلوسوں میں شرکت کی تلقین کے ساتھ کیا ہی اچھا ہو، کچھ لوگ لندن سے بھی آ جائیں۔ چلیں میاں صاحب نہیں صاحب زادے ہی عوام کے ساتھ جان و مال کے ساتھ شریک ہو جائیں اور کچھ نہیں تو اسحاق ڈار ہی ہمت کر لیں۔ رانا صاحب! بے نظیر بھٹو کو پتا تھا کہ 27؍ دسمبر کو کیا ہو سکتا ہے۔ وہ وڈیو لنک سے خطاب کر سکتی تھیں مگر جان دی تو عوام کے درمیان رہ کر۔ رہ گئی بات لوگوں کی تو ہم تو ویسے ہی ہجوم ہیں، قوم ہوتے تو کم از کم میرے خلاف یک زبان ہوتے۔ اللہ آپ کو مجھ سے محفوظ رکھے۔ اللہ حافظ۔ منجانب کورونا۔ دوستو:۔ یہ ایک تکلیف دہ تحریر ہے کیونکہ میں نے خود کورونا کو محسوس کیا ہے۔ میری اہلیہ بھی اس بیماری کا شکار ہوئیں۔ اسپتال میں بھی کئی دن رہیں۔ مگر ہم نے اس کو شکست دی جس میں ہزاروں لوگوں کی دعائیں شامل رہیں۔ ان سب کا شکریہ۔ اس بیماری نے بہت سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی زندگیاں لے لیں کیونکہ وہ دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔ ہمارے کئی صحافی اس بیماری میں مبتلا ہو کر دنیا سے چلے گئے جن میں جیو اور جنگ گروپ کے قیصر محمود اور ارشد وحید چوہدری بھی شامل ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان سب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔ آمین!

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

عرب ممالک کو ناراض کرنے کی مہم

نہ جانے کیوں ہمارے ایک طبقے کی کوشش ہے کہ ہمارے تعلقات عرب دنیا خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ خراب ہوں۔ جھوٹ، سچ بول کر کسی نہ کسی بہانے اب اُن ممالک پر تنقید کرنا ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ میڈیا کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی ایسے تبصرے کرنے سے گریز نہیں کرتے اور یہی وجہ تھی کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے متعلق ایک ایسی غیرذمہ دارانہ بات ایک ٹی وی ٹاک شو میں کر دی کہ حکومت کو ایک مصیبت پڑ گئی کہ کسی بھی طرح تعلقات کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز پر تو اُن ممالک کے بارے میں ایسی ایسی غیرذمہ دارانہ اور جھوٹی باتیں ہو رہی ہیں کہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی سازش کے تحت یہ سب کچھ کروایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اور اِن عرب ممالک کے آپس کے تعلقات کو خراب کیا جائے اور جو تعاون اور جس کا بےشمار ثمر پاکستان حاصل کرتا رہا اور کر بھی رہا ہے، اُس سے اِسے محروم کیا جائے۔

کسی اختلافی پالیسی معاملہ پر مہذب طریقے سے میڈیا میں بھی بات ہو سکتی ہے لیکن اِن ممالک اور اُن کے حکمرانوں کو حقارت اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور اُن کے خلاف کمپین چلانا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ پاکستان کے لئے خطرناک بھی ہے۔ ہمیں اِس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نہ صرف ہمیشہ ہماری بےپناہ مدد کی اور ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا بلکہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے لئے یہ دونوں ممالک سب سے زیادہ روزگارکے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جی سی سی ممالک میں اِس وقت چالیس لاکھ سے زیادہ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہی دیکھا جائے تو اِن ممالک نے 36 لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دی ہوئی ہیں جو پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

صرف اِن دو ممالک سے پاکستان کو سالانہ تقریباً آٹھ سے دس ارب ڈالر یعنی پندرہ سو ارب روپے سے زیادہ ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں۔ ہر سال کوئی چار پانچ لاکھ پاکستانیوں کو اِن دو ممالک میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف پاکستان ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا حصہ اِن ممالک سے حاصل کرتا ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ یا اُس سے بھی زیادہ پاکستانیوں کی معاش کا یہ دو ممالک ذریعہ ہیں۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے بظاہر کورونا کی وبا اور اُس کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر تقریباً بارہ ممالک کے ورک ویزا کی پابندی لگا دی ہے۔ اِس پابندی کا مطلب ہے کہ پاکستانیوں کے لئے کم از کم ایک ہزار نئی ملازمتوں کا روزانہ کا نقصان۔ کیا پاکستان یہ نقصان برداشت کر سکتا ہے؟ اگر ہمارے غیرذمہ دارانہ رویے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اِن ممالک کے خلاف جھوٹ، سچ پر مبنی ملامتی مہم کو نہ روکا گیا تو خدشہ ہے کہ اِن ممالک میں پاکستانیوں کے نئی ملازمتوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی نوکریاں بھی ہاتھ سے جا سکتی ہے جس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے اور بحرانی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہاں ہمیں یہ بھی ضرور سوچنا چاہئے کہ پاکستان کے مقابلے میں عرب ممالک کا بھارت کی طرف جھکاؤ کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ اُس کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہو گا، ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی کمیوں، کوتاہیوں پر نظر دوڑائیں تاکہ تعلقات کو نہ صرف خراب ہونے سے بچا سکیں بلکہ اُن کو مزید مضبوط بنائیں اور کوشش کریں کہ جی سی سی ممالک میں پاکستانیوں کے لئے ملازمتوں کے کوٹے کو ڈبل کیا جائے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہمارا میٖڈیا اور سوشل میڈیا، جس میں سیاستدان بھی پیش پیش تھے، سعودی عرب پر طعنے بازی کر رہے تھے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے گزشتہ منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں کشمیر ایشو کو شامل نہیں کیا گیا۔

آج (بروز اتوار) کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ اُس اجلاس میں کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف ایک پُرزور قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔ آئینِ پاکستان کے مطابق دوست ممالک کے خلاف میڈیا میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور بولا جا سکتا جس سے اُن ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئین کی باقی کئی شقوں کے کیساتھ ساتھ اِس شق کو بھی ریاست نے بھلا دیا ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیا اور یو ٹیوب کی بات ہے تو اُن پر تو کوئی قانون، قاعدہ لاگو ہی نہیں ہوتا، چاہے وہ جو مرضی بولیں، جو مرضی دکھائیں۔ اگر ایسے غیرذمہ دار میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بات کی جائے تو پھر ہم اُسے آزادیٔ اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ افسوس!

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

وزیراعظم صاحب ! آپ کے بہنوئی کو پلاٹ کا قبضہ اب تک نہیں ملا

وزیراعظم عمران خان کو شاید معلوم نہیں کہ لاہور میں ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ انہیں نہیں ملا۔ بھلا ہو ایک اور عدالتی حکم امتناع کا۔ عمران خان نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ ’’قبضہ مافیا‘‘ سے اپنے بہنوئی کا پلاٹ خالی نہیں کرا سکے یہی وجہ تھی کہ موجودہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو مقرر کیا گیا تھا۔  وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو سال سے پنجاب حکومت سے کہہ رہے ہیں لیکن پلاٹ پر قبضہ مافیا کا غیر قانونی قبضہ خالی نہیں کرا سکے۔ وزیراعظم کو علم ہے کہ جس پلاٹ کی وہ بات کہہ رہے ہیں وہ ان کے بہنوئی مسٹر عبدالاحد خان کو تازہ ترین عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے نہیں مل سکا۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے احد خان نے بتایا کہ ان کے والد نے پی آئی اے سوسائٹی میں یہ پلاٹ 1984ء میں خریدا تھا لیکن 2008ء میں ان کے انتقال کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ پلاٹ پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا ہے اور مختلف عدالتوں سے اپنے حق میں حکم امتناع لے لیا ہے۔

یہ وہ رجحان ہے جو قبضہ مافیا معمول کی کارروائی بن چکا ہے اور اس سے ملک کے تمام حصوں میں لاکھوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں۔ احد خان کہتے ہیں کہ برسوں کی مقدمہ بازی کی وجہ سے وہ رواں سال حکم امتناع ختم کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کے بعد پولیس، ہائوسنگ سوسائٹی انتظامیہ اور ایل ڈی اے نے قبضہ ختم کرا دیا لیکن دو دن بعد ہی انہیں ایک اور حکم امتناع ملا جو قبضہ مافیا کے حق میں تھا اور یہ کسی اور عدالت کا جاری کردہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب قانونی مالک ہونے کے باوجود وہ پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی فروخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ سوسائٹی اور قبضہ گروپ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں جبکہ ریونیو ڈپارٹمنٹ بھی جڑوں تک کرپٹ ہے۔

پولیس بھی کارروائی سے گریزاں تھی لیکن وزیراعظم کی مداخلت کی وجہ سے اور گزشتہ عدالتی حکم امتناع کے ختم ہونے کی وجہ سے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ احد خان نے کہا کہ پلاٹ کا قبضہ ملنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر چار دیواری تعمیر کرا دی لیکن دو دن بعد ہی انہیں پتہ چلا کہ سول کورٹ نے ’’قبضہ مافیا‘‘ کے حق میں ایک اور اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ کی کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زمین کی ’’انتقال‘‘ (میوٹیشن) سوسائٹی اور قبضہ مافیا کے نام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال اگست میں زمین کی میوٹیشن قبضہ مافیا کے نام سے ہٹا دی گئی جس کے بعد ان کے پلاٹ سے متصل پلاٹ کے مالک کو قبضہ مافیا نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جب وزیراعظم کو مافیا کے ہاتھوں ہونے والے اس قتل کے متعلق بتایا گیا۔

انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ متاثرہ فریقین کو قبضہ مافیا والے دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن پولیس کچھ نہیں کر رہی۔ اس پر عمران خان نے موجودہ سی سی پی او لاہور کو لانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے قاتلوں کو گرفتار کیا۔ احد خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ تمام تر مقدمات جیتنے کے باوجود اور اسٹے آرڈر ختم کرانے کے باوجود وہ اپنا پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے فروخت کر سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی اسی مصیبت میں مبتلا ہیں جس میں وہ تمام لاکھوں پاکستانی مبتلا ہیں جنہیں ان کی زمین جائیداد سے عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے اور روینیو ڈپارٹمنٹ اور پولیس کی کرپشن کی وجہ سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک سینئر سرکاری ملازم، جنہوں نے طویل عرصہ سے ریونیو سے جڑی ذمہ داریوں کو انجام دیا ہے، نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ اپنے بہنوئی کی جائز شکایت کے ازالے کیلئے پولیس پر دبائو ڈالنے کی بجائے مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر اسے ختم کریں کیونکہ اسی کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں سمیت لاکھوں افراد مشکلات میں مبتلا ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ مکمل طور پر کرپٹ ہے جس کی وجہ سے قبضہ مافیا کو طاقت ملتی ہے جبکہ عدالتوں کی جانب سے حکم امتناع جاری کرنا بھی قبضہ مافیا کے حق میں جاتا ہے۔ ایک عام شہری کیلئے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے زمین کی حد بندی کرانا بھی ناممکن بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حکم امتناع برسوں تک چلتا رہتا ہے اور جب یہ ختم ہوتا ہے تو نیا اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے۔ سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ان مسائل کو حل کر دے تو اس سے لاکھوں پاکستانیوں کو ریلیف ملے گا۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ