ایم کیو ایم کی سیاسی غلطیاں

میری کراچی میں پرورش اسی محلے میں ہوئی جہاں قائد تحریک الطاف حسین کی رہائش تھی۔ اسے عرف عام میں نائن زیرو کہا جاتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس پارٹی کو بنتے دیکھا۔ ایم کیو ایم کئی لحاظ سے ایک امتیازی سیاسی پارٹی ہے۔ اگرچہ اس کی پہچان یہ ہے کہ آزادی کے بعد جو لوگ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آئے یہ ان کی نمائندہ جماعت ہے۔ مگر یہ واحد امتیاز نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کافی عرصہ تک کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے پڑھے لکھے متوسط طبقے کی نمائندہ رہی۔ اس جماعت میں کسی حد تک جمہوری روایات بھی ہیں اور اس کے ٹکٹ میرٹ کی بنیاد پر پارٹی کارکنوں کو دیئے جاتے رہے اور موروثی سیاست کی چھاپ ان پر کبھی نہیں لگی۔ آج بھی رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت سی مثبت خصوصیات ایم کیو ایم میں ہیں لیکن اسی کے ساتھ کچھ منفی رجحانات بھی ان میں نظر آئے۔ پارٹی مخالفین اور کارکن جنہوں نے بانی قائد سے اختلاف کیا ان کی بوری بند لاشیں ملتی رہیں۔ کراچی کو انہوں نے سونے کی چڑیا جانا اور بھتہ اور چائینہ کٹنگ کو ان کے دور میں فروغ ملا۔

کسی زمانے میں کراچی اپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے سب سے آگے تھا مگر آج بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ اس کی ذمہ داری بھی کسی حد تک ایم کیو ایم پر ہی ہے۔ لیکن سب سے اہم تصور ان کے بارے میں یہ ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا دائیاں بازو ہیں۔  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضیا الحق نے انہیں بنایا اور مشرف نے انہیں بڑھایا۔ جب بھی اسٹیمبلشمنٹ کو کسی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پڑی ایم کیو ایم حاضر رہی اور کراچی شہر کو بند کرتی رہی۔ اس سے اس شہر کی اقتصادی ترقی کو بےانتہا نقصان پہنچا۔ بہت سی صنعتیں اسی وجہ سے کراچی سے فیصل آباد اور لاہور منتقل ہو گئیں۔ اس کا الزام ایم کیو ایم کسی اور کو نہیں دے سکتی۔ آج وہ صورت حال ہے جو 2008 میں تھی جب عدلیہ بحالی کی تحریک میں ایم کیو ایم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ فوجی آمر جنرل مشرف کی حمایت کریں گے۔ 2008 مئی میں کراچی میں جو قتل و غارت ہوا اس کا الزام بھی ایم کیو ایم کو دیا جاتا ہے۔ ان تمام سیاسی غلط فیصلوں کا نتیجہ یہ نکلا کے آج متوسط طبقہ کی ایک ہم سیاسی جماعت بستر مرگ پر ہے۔

میں نے ایم کیو ایم کی قیادت سے کئی مرتبہ رابطہ کیا اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ قومی سیاسی مذاکرات میں کراچی کے مسائل کا دیرپا حل تلاش کیا جائے گا۔ مگر ایسا لگتا ہے پارٹی کسی اشارے کی منتظر ہے۔ اگر مسلم لیگ ق اشاروں کا انتظار کرے تو سمجھ میں آتا ہے اس لیے کہ یہ سیاسی پارٹی ہی نہیں ہے بلکہ دو چوہدریوں کی سیاست ہے۔ ان کا کردار سیاسی بارگینر کا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ جبکہ ایم کیو ایم ایک سیاسی پارٹی ہے اگر وہ قومی سیاسی مزاکرات نہ کر سکے اور ایک ناکام حکومت کو سہارا دینے کے لیے کھڑے رہے تو یہ اس پارٹی کی سیاسی موت کا سبب بنے گا۔ کراچی کے لوگ آئندہ الیکشن میں انہیں مکمل رد کر دیں گے۔ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور پی ڈی ایم کی دیگر پارٹیوں سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ قومی سیاسی مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہو۔ اس میں مزید دیر ملک کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ اسٹیبلشمنٹ کو کسی طور سیاسی معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ فوج کا کام ملکی دفاع ہے جمہوریت کی سیاسی کشمکش میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

عبدالقیوم کنڈی

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

بلدیاتی اداروں کی کارکردگی اور گھوسٹ ملازمین

دنیا بھر کے ممالک میں شہروں میں واٹر سپلائی ، نکاسی اور صفائی ستھرائی سمیت تمام بنیادی سہولیات کی ذمے داری بلدیاتی اداروں کے ذمے ہوتی ہے ۔ چونکہ بلدیاتی اداروں کا نیٹ ورک انتہائی نچلی سطح تک پھیلا ہوتا ہے اور عوام کی آسان رسائی میں ہوتا ہے ، اس لیے یہ ادارے بہتر طور پر پہنچانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ پھر ان اداروں کو چلانے کے لیے منتخب افراد بھی مقامی سطح کے اور عوام کی دسترس میں ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف علاقے کے زمینی حقائق اور مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں اور اُن کے رویوں اور ضروریات سے بھی بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔ عوام اپنے کام اور مسائل آسانی سے اُن تک پہنچا سکتے ہیں اُن سے اپنے مسائل اور پریشانیوں کے مداوے کا مطالبہ بھی بلا توقف اور بلا جھجک کر سکتے ہیں ۔ اس لیے یہ نہایت مؤثر اور عوامی پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی لیے جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور انھیں مرکزی اہمیت ہوتی ہے ۔ ان اداروں کے ذریعے ہی شہروں کی ترقی اور عوام کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس لیے بلدیاتی اداروں کو فعال و بااختیار اور سیاسی مفادات سے پاک حقیقی جمہوری قیادت میں ہونا چاہیے ۔

اس کے برعکس ہمارے ملک میں ان اداروں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ۔انھیں صرف کرپشن کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل کرنے اور لوگوں کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے قائم شدہ بلدیاتی کونسلز، میونسپل اداروں کے ساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے کی گئی 18ویں ترمیم کی طویل عرصہ سے وکالت بھی ہوتی رہی ہے ۔ لیکن ملک کے قیام کو تقریباً پون صدی گذر چکی ہے مگر اب تک ملک کے لیے کسی ایک نظام کا انتخاب نہیں ہو سکا ہے ۔ چار سال قبل نواز شریف دور میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونیوالے انتخابات کے تحت منتخب بلدیاتی نمایندوں کی مدت گذشتہ ماہ پوری ہو گئی ۔ صوبہ بھر میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیا گیا ہے ، جب کہ صوبہ کے دارالحکومت کراچی میں سیکریٹری بلدیات کو کراچی ڈویژن کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ گذشتہ چار برس کے دوران حیدرآباد ، سکھر اور لاڑکانہ میونسپل کارپوریشنز کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے 15 ارب 21 کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست رقوم کے ساتھ صوبہ کے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے چار سال میں 27 ارب 55 کروڑ روپے سے زیادہ رقم بلدیاتی نمایندوں کو جاری کی گئی مگر صوبہ بھر میں کہیں کوئی ترقیاتی کام ، بنیادی سہولیات کی فراہمی یا صفائی ستھرائی ہوتی دکھائی نہیں دی۔ ان چار سالوں میں صوبہ کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح بلدیاتی نمایندوں کو عوام کی خدمت کے لیے ہر ماہ ٹاؤن کمیٹیز کو 82 کروڑ روپے ، یونین کونسلز کو 57 کروڑ روپے اور یونین کمیٹیز کو 18 کروڑ روپے مسلسل فراہم کیے جاتے رہے، صرف کے ایم سی کو ہر ماہ 64 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی جاری کی جاتی رہی ہے۔ لیکن یہ بلدیاتی نمایندے عوام کی خدمت میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔ بلدیاتی نظام کے عوام کے لیے بے فائدہ بننے کا ایک سبب بھی ملک میں بیورو کریسی کی اجارہ داری ہے۔ بیوروکریسی کا ہاتھ اس نظام کی نبض پر اس قدر مضبوط ہے ملک میں کسی بھی پالیسی کے نفاذ یا کسی بھی کام کی فائل یا سمری پر منتخب نمایندے صرف ریفرنس نوٹ لگانے کے اختیارات ہی رکھتے ہیں اور پھر وہ نوٹ لگی سمری بھی کبھی اس دفتر سے اُس دفتر تو کبھی اس ٹیبل سے اُس ٹیبل گھومتی رہتی ہے مگر کام نہیں ہوتا ، جس سے حکومت کی رٹ قائم نہیں رہ پاتی اور یوں عوام کی سہولت اور خدمت کا کوئی کام نہیں ہو پاتا جس سے پھر بھی بدنامی منتخب نمایندوں یا سرکار کی ہوتی ہے۔

دیکھا جائے تو سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اور بھٹو کی اس پارٹی کو اس بیوروکریسی کی اجارہ داری اور تکنیکی برتری کے ساتھ حکومت کرنے کا کم از کم 50 سالہ تجربہ بھی حاصل ہے وہ اگر چاہے تو اسمبلی فلور سے بیوروکریسی کے غیرضروری اختیارات والے اس نظام کو تبدیل بھی کر سکتی ہے ، اور شاید وہ چاہتی بھی ہے ۔ اسی لیے وہ سرکاری ملازمین کی درست مانیٹرنگ کے لیے تنخواہیں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے ذریعے دینے پر کام طویل کرتی آرہی ہے ۔ پہلے محکمہ تعلیم ، پھر صحت اور اوقاف سے ہوتے ہوئے اب محکمہ بلدیات کے ملازمین کی تنخواہوں کو اے جی سندھ سے ریگیولرائیز کرانے پر کام ہو رہا ہے ۔ اس سے ایک طرف اداروں میں موجود گھوسٹ ملازمین اور اُن کی آڑ میں بیوروکریسی کی جانب سے ہونے والی کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے تو دوسری طرف اداروں کی کارکردگی میں بھی اضافے کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اصل ضرورت حکومتی ول کی ہے جو صوبائی سرکار کھو چکی ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت بلدیاتی ادارے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ جس میں کافی حد تک ترمیم کی ضرورت ہے۔

کہا جارہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ترمیمی بلدیاتی قانون لانے کا امکان ہے ۔ جس میں بلدیاتی نمایندوں کو مزید اختیار دینے اور سندھ کی صوبائی حکومت کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے قانون سازی پر غور ہو رہا ہے ۔ بلدیاتی نمایندوں کی مدت ختم ہونے کے بعد گذشتہ ایک ماہ سے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات سرکاری ملازمین کی بطور ایڈمنسٹریٹرز تقرری سے براہ راست وزارت بلدیات ، حکومت ِ سندھ کے ہاتھ میں آچکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک طرف وہ آئین کیمطابق 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کا بندوبست کرے، کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حتمی فہرستیں 4 اکتوبر سے جاری کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کیمطابق صوبہ سندھ میں 30 اکتوبر کو حتمی لسٹ جاری کی جائیں گی۔ دوسری طرف ان تین مہینوں کے دوران ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے عوامی خدمت و بنیادی سہولیات کے اُمور کی بہتر سرانجامی کو یقینی بنانے کے لیے سخت سے سخت مانیٹرنگ کے ذریعے شہروں میں موجود مسائل خصوصاً صفائی ستھرائی ، واٹر سپلائی اور نکاسی و گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر کرے۔ ان اداروں کی ناکامی کا ایک سبب ان اداروں میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین کی موجودگی بھی ہے۔

ایک طویل عرصہ سے یونین کونسل سطح سے میونسپل سطح تک صوبہ بھر بالخصوص کراچی کے شہری اداروں کے ڈی اے ، کے ایم سی اور اُس کے ماتحت اداروں خاص طور پر واٹر بورڈ میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے ۔ سیاسی بنیادوں پر کی گئی بھرتیوں اور اُس کے بعد بھی ان گھوسٹ ملازمین کی سرپرستی نے ان اداروں کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی اور اُن کے خلاف قرار واجب اقدامات پر گذشتہ 12 سال سے کام ہو رہا ہے مگر اب تک کوئی واضح کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ ابھی کچھ روز قبل ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز ، ادارے کے اعلیٰ حکام ، وزیر بلدیات، وزیر قانون اور دیگر متعلقہ ذمے داران کا اجلاس بلا کر صوبہ بھر بالخصوص کراچی میں صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹنگ، پارکس و سڑکوں کی حالت بہتر کرنے ، واٹر سپلائی اور نکاسی کے نظام سے متعلق واضح تبدیلی لانے کے لیے لازمی اقدامات اور سخت محنت کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو ایک رپورٹ پیش کی گئی ، جس کے مطابق ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے ایک ماہ کے اندر یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کے ایم سی اور اُس کے ماتحت اداروں میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین بھی باقاعدہ ریگیولر تنخواہیں اور دیگر مراعات لے رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ان اداروں میں سیاسی لوگ بھرتی کیے گئے ہیں اور اُن کو غیر قانونی پروموشن ، انکریمنٹس وغیرہ دی گئی ہیں ، حد تو یہ ہے کہ ڈسپیچر سطح کے ملازمین ڈی ایم سی میں ایکسین کی رینک کی تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ان گھوسٹ ملازمین کی سرکوبی پر سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ جس پر قانونی ماہرین کی اس پر رائے ہے کہ تمام گھوسٹ ملازمین کوایس آر او 2000 کے تحت ملازمت سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے اور گھوسٹ ملازمین کے خلاف ہدایات جیسے تمام اقدامات بھی فی الحال کراچی تک محدود ہیں، نہ جانے سندھ کے دیگر شہروں اور دیہی علاقوں میں موجود بلدیاتی اداروں کی ان کالی بھیڑوں کی باری کب آئے گی ۔۔۔؟؟؟

عبدالرحمان منگریو

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سانحہ بلدیہ ٹاؤن، عوام کیا سوچ رہے ہیں

سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے کا فیصلہ آ چکا ہے۔ عدالت نے دو ملزمان کو سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا ہے جب کہ سیاسی پس منظر رکھنے والے ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ بہرحال عدالت نے شواہد اور ثبوتوں کو دیکھ کر قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب یہ مقدمہ عوام کی عدالت میں آگیا ہے۔ یوں سمجھ لیں قانون کی عدالت کا یہ فیصلہ عوام کی عدالت میں بھی زیر بحث ہے۔ محض عام شہری ہی نہیں بلکہ اہل علم ودانش اور طبقہ خواص بھی اس فیصلہ پر باتیں اور مباحث میں مصروف ہیں۔ میڈیا میں بھی بات ہو رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا عوام اس فیصلہ کو انصاف کے مطابق سمجھ رہے ہیں؟ کیا عام آدمی کو انصاف ہوتا نظر آگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عام آدمی اور میں خود بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ سانحہ بلدیہ اتنا سادہ یا معمولی تھا جتنا سادہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مرکزی ملزمان بھولا اور چریا کو 264 بار سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جب کہ سیاسی پس منظر رکھنے والے ملزمان جن میں رؤف صدیقی اور دیگر شامل ہیں، انھیں بری کر دیا گیا ہے۔

میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھیں غلط بری کیا گیا ہے، وہ یقیناً بے گناہ ہیں کیونکہ عدالتی فیصلہ یہی کہتا ہے۔ لیکن عوام کے ذہن میں سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ یہ درست ہے کہ بھولا اور چریا نے ہی فیکٹری کو آگ لگائی ہو اور وہی 264 افراد کی موت کے براہ راست ذمے دار ہوں۔ لیکن کیا وہ اتنا گھناؤنا اوربڑا جرم اپنے بل بوتے پر کر سکتے ہیں؟ کیا وہ اکیلے ہی اس سفاکانہ جرم کے ذمے دار ہیں؟ یہ بھی درست ہے کہ حماد صدیقی مفرور ہیں۔ لیکن شاید یہ ماننا بھی مشکل ہے کہ وہی اصل ماسٹر مائنڈ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پوری کہانی نہ تو عدالت کے سامنے آسکی ہے اور نہ ہی پورا سچ عوام کے سامنے آسکا ہے۔ ادھورے سچ نے عوام کو شکوک و شبہات کے اظہارکا موقع دے دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورا سچ سامنے لانا عدالت کا کام نہیں ہے۔ ادھر کراچی کی نمایندہ ہونے کی دعویدار سیاسی جماعتیں سانحہ بلدیہ کو ایک حادثہ سمجھتی ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا فیصلہ ہے جس نے سب کو کلین چٹ دے دی ہے۔

حکومت فیکٹری مالکان کو مقدمہ کی پیروی کے لیے واپس پاکستان آنے پر قائل نہیں کر سکی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت انھیں جان و مال کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکی یا پھر انھوں نے حکومت پر اعتبار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران انھوں نے ویڈیو لنک سے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ میں سمجھتا ہوں ان کا پاکستان نہ آنا ہی شکوک وشبہات جنم دے رہا ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ مافیاز نے فیکٹری مالکان کو ہی ملزم بنانے کی کوشش کی۔ یہ سازش بھی کی گئی کہ اسے ایک حادثہ قرار دیکر تمام قتل ان کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں۔ حالات کی سنگینی کو دیکھ کر وہ ملک سے چلے گئے اور عدالت میں پیش ہونے کے لیے بھی نہیں آئے۔ اس طرح ایک نہیں، بہت سے سرمایہ کار پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر بیرون ممالک چلے گئے ہیں۔ ان کے جانے کے ساتھ کاروبار بھی گیا اور سرمایہ بھی گیا ہے۔ روزگار کے مواقعے بھی گئے ہیں۔ لیکن ہم نے آج تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

کراچی میں بھتا مانگنے کا کلچر زبان زد عام رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہر کاروباری بھتہ دینے پر مجبور رہا ہے۔ بھتے کی پرچیوں کا کلچر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اسی لیے عوام کو بھتہ مانگنے والی بات حقیقت کے قریب لگتی ہے۔ کراچی کے ہر شہری کو اس بھتہ کلچر کا علم ہے۔ عدالت اس بات کا تعین نہیں کر سکی کہ کون بھتہ مانگ رہا تھا۔ بھتہ کی کہانی کیا تھی۔ اس لیے عوام کی عدالت فیصلے کو ادھورا مان رہی ہے۔ عوام بھتہ کی کہانی جاننا چاہتے ہیں۔ قانون کی عدالت سے ان کو سزا ملتے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ آیندہ کسی کو بھتہ مانگنے کی جرات نہ ہو۔ اس پہلو میں تشنگی کراچی کے لیے خوش آیند نہیں ہے۔ جب تک بھتہ مانگنے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سزائیں نہیں ملیں گی، تب تک کراچی کے حالات ٹھیک ہونا ممکن نہیں ہیں۔

مقدمے کا فیصلہ سنانے میں جو تاخیر ہوئی ہے۔ اسے بھی عوام کی عدالت میں پسند نہیں کیا گیا بلکہ عوام جذباتی حالت میں ہیں۔ فیصلے میں آٹھ سال کا عرصہ لگنے کو کیا نام دیا جائے؟ میں مانتا ہوں کہ عدالت کے پاس فیصلے میں تاخیر کی قانونی وجوہات موجود ہیں۔ لیکن عوام اس تاخیر کو شاید قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ذمے داران کو ماتحت عدلیہ میں تاریخ پر تاریخ کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا چاہیے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ماڈل کورٹس بنائیں اور ان کی کامیابی کے بہت جھنڈے گاڑے گئے۔ بتایا گیا کہ ماڈل کورٹس کی وجہ سے فوجداری مقدمات کے جلد فیصلے ہو رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ سوال جائز نہیں کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا مقدمہ کسی ماڈل کورٹ میں کیوں نہیں چل سکا ہے؟ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں دہشت گردی کے خصوصی مقدمات کو جلد نبٹانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔

اگر ان عدالتوں میں بھی مقدمات نے آٹھ آٹھ سال زیر التوا ہی رہنا ہے تو پھر ان میں اور عام عدالتوں میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ لوگ یہ سوال کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کیا مانیٹرنگ جج صرف سیاسی اہمیت کے حامل مقدمات میں لگائے جا سکتے ہیں؟ کیا ایسے مقدمات جہاں بے گناہ ورکرز کو بے رحمی اور سفاکی سے جلا دیا گیا، وہاں مانیٹرنگ جج نہیں لگایا جا سکتا۔ کیا 264 افراد کا قتل خصوصی اہمیت اور خصوصی اقدامات کا متقاضی نہیں تھا؟ کہا جاتا ہے کہ ان دیکھے مافیاز نے تفتیش کو درست سمت میں نہیں جانے دیا۔ شاید عوام کی عدالت یہ بھی نہ مانے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ مافیاز ریاست سے بھی طاقتور ہیں۔ شاید عوام اسی لیے سمجھ رہے ہیں کہ اصل ملزمان سزا سے بچ گئے ہیں۔ اس لیے عوام کی عدالت کے سوالات کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مزمل سہروردی

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سارے شہر پیکیج کے مستحق ہیں

منتخب سندھ حکومت یقیناً خوش ہو گی کہ شہروں سے منتخب حکومتوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ہر میونسپل وحدت میں ایک ایڈمنسٹریٹر بیٹھا ہے اور ہمیں ضرورت بھی اچھے ایڈمنسٹریٹروں کی ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اگر اچھے ایڈمنسٹریٹر ہوں، ایڈمنسٹریشن کی باقاعدہ تربیت حاصل کریں، یہ خبط نہ ہو کہ ہم تو پیدائشی ایڈمنسٹریٹر ہیں تو ہماری بدحالی ایسی نہ ہو۔ وزیراعظم صاحب ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز میں آئے۔ جہاں ان کی پارٹی کے 14 ایم این اے ہیں، جس شہر نے ان کو وزیراعظم بننے میں سب سے زیادہ مدد دی، اس کے لئے ان کے پاس اتنا ہی مختصر سا وقت تھا۔ شہرِ قائد کے لئے 1100 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے لیکن کسی کو یقین نہیں آرہا ہے کیونکہ اب لوگ وفاقی حکومت پر اعتبار کرتے ہیں نہ صوبائی پر اور شہری حکومتیں تو ہیں ہی نہیں۔ پھر فنڈز پر وفاق اور صوبے کے درمیان بیان بازی بھی شروع ہو گئی۔

کراچی کو ایک کتاب دوست ایڈمنسٹریٹر نصیب ہوا ہے۔ افتخار علی شلوانی۔ ان سے ہماری ملاقات نہیں ہے لیکن شہر میں اسٹریٹ لائبریریاں قائم کرنے اور دوسری لائبریریوں میں بہتری کا ہم سلطان خلیل کے ذریعے سنتے آئے ہیں۔ اس لئے سمجھتے ہیں کہ کتاب دوست ہے تو اچھا ہی ہو گا۔ کتاب دوست انسان دوست بھی ہوتے ہیں۔ یہاں شہر قائد میں 2½کروڑ انسانوں کو ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو پریشان حالی و درماندگی میں ان کا ہاتھ تھامے۔ ملک کے دوسرے شہروں کو بھی انسان دوست افتخار شلوانیوں کی ضرورت ہے۔ کراچی سی بدحالی دوسرے سب بڑے شہروں میں بھی ہے۔ عوام اور خاص طور پر شہروں میں رہتے لوگ ریاست کو جو ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں زندگی کی ساری آسانیاں میسر آنی چاہئیں۔ وہ اور ان کے گھر محفوظ ہوں۔ انہیں گھر سے دفتر، کارخانے جانے کے لئے اچھی سڑکیں اور آرام دہ ٹرانسپورٹ ملے۔

انہیں مہرباں سرکاری و غیرسرکاری اسپتال ملیں۔ تفریح کے لیے باغات، کھیل کے میدان دستیاب ہوں۔ آئندہ نسلوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے معیاری درسگاہیں موجود ہوں۔ مسلم اکثریت کے لئے اچھی مساجد، اقلیتوں کی اپنی اپنی عبادت گاہیں۔ بارشیں ہوں تو پانی نکلتا رہے، کہیں محفوظ ہوتا رہے۔ گندے پانی کی نکاسی کے لئے سیوریج کے مستحکم انتظامات۔ شہر کیوں بسائے جاتے ہیں۔ انسان جنگل کے بجائے شہر میں رہنا کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے تنظیم، ترتیب، تحفظ، تمدن، تہذیب، تربیت، تعلیم، تدریس، تحقیق، تندرستی، تفریح کی سہولتیں ریاست کی طرف سے میسر ہوتی ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی آسانی سے گزر سکے۔ ہمارے اور آپ کے بیٹے بیٹیاں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں، آپ کا بھی جانا ہوتا ہے۔ وہ محفوظ اور مامون بستیاں انسانوں نے ہی بسائی ہیں، ہم بھی ایسی بستیاں بسا سکتے ہیں بلکہ ہمارے شہروں میں پہلے یہ آسانیاں میسر ہوتی تھیں۔

انگریز نے بڑی منصوبہ بندی سے یہ شہر بسائے تھے۔ ایک سسٹم تھا۔ سردیاں شروع ہوں تو اس سے پہلے کیا کیا کرنا ہے۔ گرمیوں سے پہلے کیا اقدامات ہوں۔ برسات سے بہت پہلے نالے صاف کئے جائیں۔ نہروں اور دریائوں سے مٹی نکالی جائے۔ ہم نے پہلے دس بارہ سال میں ہی انگریز کے سسٹم کو بتدریج ختم کر دیا۔ 1970 کے بعد شہروں کی بدحالی، لاوارثی شروع ہوئی۔ جو منتخب سیاسی اور غیر منتخب فوجی حکومتوں کے دوران بڑھتی ہی رہی ہے۔ اب یہ حال ہے کہ گلی کی صفائی کے لئے خاکروب کو سفارشیں کروانا پڑتی ہیں یا بھتّہ دینا ہوتا ہے۔ گٹر ابلنے لگیں تو محلّے والے چندہ اکٹھے کر کے ان میونسپل ملازمین کو بلاتے ہیں جن کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں۔ پارکوں میں صفائی نہیں ہوتی۔ نئے درخت نہیں لگتے۔ سارے شہر کچرے کے ایک سے ڈھیر دکھاتے ہیں۔

پہلے شہروں کی اپنی محصول چنگیاں ہوتی تھیں۔ ان سے کافی آمدنی ہو جاتی تھی۔ شہر کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔ سرمایہ داروں نے یہ ناکے ختم کر کے اپنی آمدنی بڑھالی۔ شہر کو غریب کر دیا۔ مہذب ملکوں میں ہر شہر میں اپنے تحقیقی ادارے ہوتے ہیں جو شہر کی سہولتوں پر روزانہ تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ کہاں ٹریفک کا مسئلہ ہے، کہاں علاج معالجے کا۔ ہمارے ہاں جب تک لوگ پریس کلب کے سامنے احتجاج نہ کریں یا سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل نہ ہوں ہمارے ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ وہاں شہری مستقبل پر تحقیق ہو رہی ہے۔ زمین کے استعمال کے منصوبے بنتے ہیں۔ شہر کو آفات سے کیسے بچانا ہے۔ لوگوں پر دماغی دبائو کیسے کم کرنا ہے۔ یہاں ایک شہری گھر سے نکلتا ہے۔ سڑکیں، ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس، مافیا، اس کے دفتر پہنچنے تک ہزار پریشانیوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ایسا ذہنی تنائو کام میں رکاوٹ بنتا ہے۔

کراچی ہی نہیں باقی سب شہروں میں بھی کچرا بکھرا رہتا ہے۔ گٹر کا پانی پھیلا رہتا ہے۔ سب جگہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ہیں۔ میونسپل اداروں کے کمشنر ہیں لیکن از خود کچھ نہیں ہوتا ہے۔ پہلے کنٹونمنٹ ایریاز کو بڑا مثالی کہا جاتا تھا اب یہ بھی غریب سول علاقوں کی طرح ہی بد حال ہو گئے ہیں۔ شہر شہر اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کا بنیادی فرض ہے کہ یہ اپنے اپنے شہر کے ماضی، حال اور مستقبل پر تحقیق کریں۔ بہتری کے لئے تجاویز دیں۔ اقوامِ متحدہ، جرمنی، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک سے فنڈز لینے والی بےشُمار این جی اوز موجود ہیں جو شہری سہولتوں کے لئے ہی وجود میں آئی ہیں، اس کے لیے فنڈز ملتے ہیں۔

آپ اپنے اپنے شہر میں ایسی این جی اوز کو تلاش کریں۔ پوچھیں کہ انہوں نے ان مہربان ملکوں کے شہریوں کے ٹیکسوں سے ارسال کی گئی رقوم کا کیا استعمال کیا۔ آپ کے شہر میں انسانی زندگی کو کیا آسانیاں فراہم کی ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق 1۔ شہری معاملات میں، فیصلوں میں عوام کو شریک کیا جائے۔ 2۔ علاج معالجے کے سلسلے میں بھی شہریوں کو منصوبوں تک رسائی ہو۔ 3۔ شہری اپنے اہل خانہ، احباب کی صحت اور تحفظ کے سلسلے میں مطمئن ہوں۔ 4۔ تعلیم، ملازمت اور تفریح کی سہولتیں۔ 5۔ ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی میں عوام کی بھرپور شرکت۔ 6۔ زندگی کو آسان اور معیاری بنانے کے لئے تمام مالی وسائل۔ 7۔ سارے شہروں میں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایک سی سہولتیں، امتیاز نہ رکھا جائے۔ اس کے لئے تمام شہروں میں رہنے والوں کو خود بھی متحرک اور سرگرم ہونا ہو گا۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کا سب سے پسماندہ ضلع

یہ ایک تاریخی دن تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی قسمت بدلنے کے لئے پانچ ستمبر کو گیارہ کھرب 13 ارب روپے کے ایک تاریخی پیکیج کا اعلان کیا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس شہر کے لئے جتنا بھی کیا جائے کم ہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم نے کراچی کے لئے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اُمید ہے کہ گیارہ کھرب 13 ارب روپے کا نصف بھی کراچی پر خرچ ہو گیا تو اس شہر کے بڑے بڑے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہفتہ کے دن جب وزیراعظم عمران خان کراچی میں تاریخی پیکیج کا اعلان کر رہے تھے تو میں پاکستان کے سب سے پسماندہ اور غریب علاقے آواران کے لوگوں سے اُن کی محرومیوں کی داستانیں سُن رہا تھا۔ آواران بلوچستان کے جنوب میں واقع ہے۔ 1992ء میں اسے ضلع کا درجہ ملا تھا۔ قبل ازیں یہ خضدار کا سب ڈویژن تھا۔ آواران کا علاقہ گوادر، لسبیلہ، کیچ، پنجگور، خضدار اور خاران کے درمیان واقع ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کا تعلق اسی علاقے سے ہے لیکن آواران شہر کو جانے والی سڑکوں کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے کے مکینوں کا کوئی والی وارث نہیں۔ آپ کو یہ سُن کر حیرانی ہو گی کہ صرف آواران نہیں بلکہ ابھی تک تربت اور گوادر سمیت جنوبی بلوچستان کے کئی علاقے واپڈا کی بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ ان علاقوں کے لئے ایران سے بجلی آتی ہے۔ ان علاقوں میں آپ کو پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت کسی پرائیویٹ کمپنی کا پٹرول پمپ نظر نہیں آئے گا۔ یہاں پر اسمگل شدہ ایرانی تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں کو گیس بھی نہیں ملتی۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔ اسکولوں کی عمارتیں موجود ہیں اور طلبہ و طالبات پڑھنے کے لئے تیار ہیں لیکن اسکولوں میں تربیت یافتہ اُستاد نہیں۔ آواران شہر میں ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے جو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے تعمیر کیا گیا۔ اس ہسپتال میں ایک ماڈرن آپریشن تھیٹر اور لیبر روم کے علاوہ چلڈرن وارڈ بھی موجود ہے لیکن ہسپتال کے میڈیکل سپرنڈنٹ نے بتایا کہ لیبر روم استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اُن کے پاس لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔

آپریشن تھیٹر کو چلانے کے لئے پاکستان آرمی نے کچھ سرجن دیئے ہیں لیکن یہاں مزید ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت جب کسی ڈاکٹر کی اس ہسپتال میں تعیناتی کرتی ہے تو وہ یہاں آنے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ یہاں بجلی اور گیس کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔ آواران کے لوگوں نے مجھے کہا کہ اگر آواران اور بیلہ کے درمیان سڑک کی مرمت کر دی جائے تو اُن کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر کھجور کے علاوہ پیاز کی کاشت کی جاتی ہے۔ مقامی لوگ اپنی پیداوار کراچی تو دور کی بات تربت، گوادر اور خضدار تک بڑی مشکل سے پہنچاتے ہیں۔ ڈیڑھ سو کلو میٹر کی ایک سڑک اُنہیں پاکستان کے ساتھ جوڑ سکتی ہے۔ آواران کے مرکزی بازار میں گھومتے ہوئے مجھے محکمہ جنگلات کا دفتر نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہاں تو کوئی جنگل ہی نہیں تو محکمہ جنگلات کے دفتر میں لوگ کیا کام کرتے ہیں؟ پتہ چلا کہ یہاں کئی سرکاری محکموں کے دفاتر تو ہیں اور وہاں لوگوں نے اپنی تعیناتیاں بھی کرا رکھی ہیں لیکن نہ کوئی دفتر آتا ہے نہ کام کرتا ہے البتہ تنخواہیں وصول کرنے کے لئے لوگ باقاعدگی سے آتے ہیں۔

آواران کے آس پاس کوئی سمندر ہے نہ دریا لیکن یہاں فشریز ڈیپارٹمنٹ کا دفتر بھی موجود ہے۔ مختلف سرکاری محکموں میں دو ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین تعینات ہیں اور ان میں سے صرف ڈیڑھ سو ملازمین فنکشنل ہیں۔ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہونے والی رقم سڑکیں بنانے پر خرچ کی جائے تو آواران والوں کا بہت بھلا ہو سکتا ہے۔ آواران سمیت جنوبی بلوچستان کے دیگر پسماندہ علاقوں کی محرومیوں نے یہاں کے نوجوانوں میں وہ غصہ اور بے چینی پیدا کی ہے، جسے پاکستان کے دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو اسلحہ، بارود اور پیسہ اُسی راستے سے ملتا ہے جس راستے سے کلبھوشن یادیو پاکستان آیا۔ آواران میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایف سی والوں نے ایک اسکول بنایا ہے اور وہاں آرمی ایجوکیشن کور کے اساتذہ کو پڑھانے کے لئے لایا گیا ہے۔

عجیب بات تھی کہ ہسپتال کو ڈاکٹر بھی فوج دے اور اسکولوں کو اساتذہ بھی فوج دے تو پھر صوبائی حکومت کیا کرتی ہے؟ اگر کسی نے پاکستان میں سیاسی اشرافیہ اور سول ایڈمنسٹریشن کی ناکامی کی وجوہات کو سمجھنا ہے تو اُسے آواران ضرور آنا چاہئے۔ یہاں ایف سی سائوتھ بلوچستان کے افسران سے بات چیت ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن ہم نے اپنے محدود وسائل میں مقامی لوگوں کو صرف اسکول اور دستکاری سینٹر نہیں بلکہ دکانیں بھی بنا کر دی ہیں۔ یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ مقامی نوجوانوں کو ایف سی میں بھرتی کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے مقامی نوجوانوں کو کئی رعائتیں دی جا رہی ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لئے ایف سی میں بھرتی کے لئے کم از کم ایف اے پاس ہونا ضروری ہے لیکن ایف سی سائوتھ بلوچستان نے مقامی نوجوانوں کے لئے مڈل پاس ہونے کا معیار مقرر کیا ہے اور قد کے معاملے میں بھی سہولت دی ہے۔

گزشتہ دنوں تربت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایف سی کے ایک اہلکار کے ہاتھوں حیات بلوچ نامی نوجوان قتل ہو گیا تھا۔ اس قتل پر پورے بلوچستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ میں آواران سے تربت پہنچا تو ایف سی سائوتھ بلوچستان کے ہیڈ کوارٹر میں ایک ایسے افسر سے ملاقات کا موقع ملا جس نے خود اس واقعہ کی انکوائری کی تھی۔ اس افسر نے بتایا کہ ہم نے وقوعہ کے دو گھنٹے بعد ہی اپنے جوان کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ جوان کچھ عرصہ قبل ایک حملے میں زخمی ہوا تھا لیکن ہماری انکوائری میں وہ گناہ گار نکلا لہٰذا ہم نا صرف پولیس کے کام میں مداخلت نہیں کر رہے بلکہ اُس کا کورٹ مارشل بھی کریں گے اور آئی جی ایف نے حیات بلوچ کے والد سے جا کر تعزیت بھی کی اور انصاف دلانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ میں اس واقعہ کا مجید اچکزئی کے باعزت بری ہونے کے واقع سے کوئی تقابل نہیں کرنا چاہتا۔

حیات بلوچ کے والد کو انصاف مل گیا تو یہ بلوچستان میں اُمید کی ایک نئی کرن بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ حیات بلوچ کے والد کو تو انصاف مل جائے گا لیکن پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے آواران کو انصاف کون دے گا؟ بلوچستان میں تو تحریک انصاف، اُس کے اتحادیوں کی حکومت ہے۔ آواران میں گیارہ کھرب نہیں گیارہ ارب روپے سے بھی کام چل سکتا ہے۔

حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ

نوے روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں؟

میرے بعض ہم وطنوں کو پھر گھر چھوڑنے پڑ گئے۔ پھر امدادی کیمپ قائم کیے جارہے ہیں۔ خیمہ بستیاں بس رہی ہیں۔ اس خطے میں ہجرتیں ختم ہی نہیں ہوتی ہیں۔ مجھے پھر مہاجر کیمپ یاد آرہے ہیں۔ رضا کار۔ اپنے بہن بھائیوں کو راشن پہنچانے والے میزبان۔ جانے ہم میں وقتی فائدوں کے لیے دائمی فائدے نظر انداز کرنے کا رجحان کب ختم ہو گا۔ سندھ کے بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ 30 اگست سے صوبائی حکومت کو بلدیاتی حکومتوں سے آزادی مل گئی ہے۔ اب یہاں منتخب میئر، چیئرمینوں کی جگہ ایڈمنسٹریٹر بٹھائے جائیں گے۔ تحلیل کا وقت اور طریق کار تو طے ہے۔ لیکن اس قانون میں شاید نئے انتخابات کے انعقاد کی مدت طے نہیں ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹری کی مدت میں اضافہ کیا جائے۔ 2013 میں مقامی حکومتوں کے قانون میں ترامیم کر کے سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بہت سے اختیارات سے محروم کر دیا۔ 

ایک فنانس کمیشن بنایا گیا۔ اضلاع کے لیے۔ لیکن وسائل کی تقسیم کے لیے کوئی معتبر ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے محتاج بن کر رہ گئے۔ ان کے اختیارات بھی محدود کر دیے گئے اور مالی طور پر انہیں بہت کمزور کر دیا گیا۔ یہ ادارے ہر چند تھے نہیں تھے۔ کراچی کے میئر تو چار سال شور مچاتے رہے۔ ہمیں یاد ہے کہ 2016 میں انہوں نے بڑے عزائم کے ساتھ پولو گرائونڈ میں جیل سے آکر حلف اٹھایا تھا۔ اور کم اختیارات کے باوجود دستیاب وسائل میں کچھ کرنے کے ارادے ظاہر کیے تھے۔ کم اختیارات اور محدود مالی وسائل کے ساتھ ان مقامی حکومتوں کی کارکردگی ہم نے دیکھ لی۔ صوبے وفاق سے تو خود مختاری مانگتے ہیں۔ لیکن اضلاع کو خود مختاری نہیں دیتے۔ ہمارے ایم این اے، ایم پی اے نہ جانے شہری حکومتوں کے با اختیار ہونے سے کیوں گھبراتے ہیں۔ بلا شبہ صوبائی اور قومی اسمبلیاں مقامی حکومتوں سے بالاتر ہیں۔ ملک اور صوبوں کے لیے قوانین بنانا ان کے اختیار میں ہے۔

طوفانی بارشوں نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ ہمارے یہ مقامی ادارے با اختیار ہوتے، ان کے پاس فنڈز بھی ہوتے تو پینے کے پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے وہ خود انتظامات کرتے۔ یہ ان کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ ہزار تحقیق کر لیں۔ آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ خود مختار بلدیاتی اداروں کی تشکیل میں سب سے بڑی رُکاوٹ صرف اور صرف ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ہوس زر ہے۔ پرویز مشرف نے تقسیم اختیارات کے تحت بہت معقول بلدیاتی نظام قائم کیا۔ پہلے ان کے الیکشن کروائے۔ ان کو اختیارات بھی دیے اور فنڈز بھی۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کراچی کو مشرف نے ایم کیو ایم کی وجہ سے فنڈز دیے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے بلدیاتی انتخابات میں تو ایم کیو ایم نے حصہ بھی نہیں لیا تھا۔ جماعت اسلامی کامیاب ہوئی تھی اور کراچی کے پہلے ناظم بہت ہی فرض شناس، ایماندار اور مشفق نعمت اللہ ایڈووکیٹ تھے۔ 

انہوں نے انتہائی لگن اور خلوص دل سے کام کیے۔ ان کو صدر مشرف کی حکومت نے پورے فنڈز دیے۔ صرف کراچی ہی نہیں پاکستان کے سب شہروں کو پہلی بار فنڈز ملے۔ سارے شہروں میں بہت دیرینہ مسائل حل ہوئے۔ یہ تو اس آمر کی ضد اور صوابدید تھی کہ یہ بلدیاتی ادارے پورے ملک میں کامیابی سے چلتے رہے۔ ورنہ مشرف کی اپنی قومی اسمبلی کے 150 ارکان نے خط لکھ کر اس نظام کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ ایم این اے، ایم پی اے خواتین و حضرات کی نظریں ان فنڈز پر تھیں جو پہلی بار شہروں کو براہ راست مل رہے تھے۔ ان میں عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے اداروں کی گرانٹس بھی تھیں۔ اتنے اختیارات تھے اور فنڈز کہ بہت سے صوبائی اور مرکزی وزراء اپنی وزارتیں چھوڑ کر اگلے بلدیاتی الیکشن میں سٹی ناظم بن گئے تھے۔ مقامی حکومتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔ گرائونڈ فلور ہیں۔ صوبائی اسمبلی پہلی منزل۔ 

قومی اسمبلی دوسری منزل اور سینٹ ایوان بالا۔ آپ بتائیے اگر بنیاد اور گرائونڈ فلور نہ ہو تو اوپر کی منزلیں کیسے مضبوط ہوں گی اور نچلے طبقے سے لیڈر شپ کیسے آئے گی۔ سیاستدانوں نے اختیارات اپنے ہاتھوں میں مرکوز رکھنے کے لیے یہ راگ الاپنا شروع کیا ہوا ہے کہ بلدیاتی ادارے آمریت کی مضبوطی اور طوالت کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک بہانہ ہے۔ دنیا بھر کے مہذب ممالک میں جہاں آمریت کی کوئی روایت نہیں ہے۔ وہاں تو یہ ادارے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ میں بھی اکثر ترقی یافتہ ملکوں میں جاتا رہتا ہوں۔ آپ بھی جاتے رہتے ہیں۔ آپ کے بیٹے بیٹیاں عزیز و اقارب ایسے شہروں میں رہتے ہیں۔ جہاں کی صفائی ، شہری سہولتوں کی فراہمی کی ہر وقت تعریف کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ سہولتیں آپ کے دروازے پر میسر ہوتی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو کسی دفتر میں جانا نہیں پڑتا۔ یہ صرف اس لیے کہ وہاں کے یہ بلدیاتی ادارے بہت با اختیار ہیں۔ منظم ہیں۔ ان کے بروقت انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ تحقیق ہوتی رہتی ہے۔ 

سہولتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ وہاں بھی صوبائی اسمبلیاں ہیں۔ قومی اسمبلیاں ہیں۔ وہاں کے ایم این اے۔ ایم پی اے تو کبھی مقامی حکومتوں کو اپنا حریف نہیں سمجھتے۔ سٹی کونسلروں، سٹی سربراہوں کی اپنی تنظیمیں ہیں جو سالانہ بنیادوں پر ملتی ہیں۔ اکثر مقامات پر سٹی میئر کے اختیارات میں وہاں کی پولیس بھی ہے۔ شہری ادارے ایسا ماحول اور مفاہمت کی فضا فراہم کرتے ہیں کہ کمیونٹی کے مسائل اپنے طور پر حل ہوتے رہتے ہیں۔ پولیس کو مداخلت کی ضرورت بہت کم پڑتی ہے۔ ہمارے ہاں بلدیاتی اداروں کی زبوں حالی۔ کمزوری میں جاگیرداروں۔ زمینداروں۔ سرمایہ داروں اور سرداروں کا بھی دخل ہے۔ ان اداروں کی وجہ سے ان خاندانوں کی اجارہ داری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ موجودہ نظام میں ہر خاندان اپنے علاقے کے لیے ایک ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹر نکال ہی لیتا ہے۔ تین چار بچے تو ہوتے ہی ہیں۔ با اختیار بلدیاتی نظام میں اپنے علاقے پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے دس سے پندرہ افراد کی ضرورت تھی۔ 

اس لیے ان خاندانوں کو اپنے منیجرز، ملازموں اور مزارعوں کو بھی میدان میں اتارنا پڑا۔ لیکن وہ جب کامیاب ہو کر ان کے ساتھ ہی میز پربیٹھنے لگے تو ان کی انا خطرے میں پڑ گئی۔ یہ خاندان اپنی خواتین کو بھی پہلی بار باہر لائے۔ لیکن جب مرکزی حکومت دوبارہ ان کے پاس آئی تو انہوں نے اس بلدیاتی نظام کی ہیئت ہی تبدیل کر دی۔ اب چاروں صوبوں میں کمزور بلدیاتی ادارے ہیں۔ ان کے الیکشن بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتے ہیں۔ قومی اور صوبائی انتخابات کے لیے تو سیاسی جماعتیں 90 روز کے اندر الیکشن پر زور دیتی ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات جہاں تک ممکن ہو کسی نہ کسی بہانے ملتوی کیے جاتے ہیں۔ اب اکیسویں صدی ہے آزاد میڈیا اور مضبوط سوشل میڈیا کا دَور۔ شہروں میں رہنے والے با شعور افراد کو چاہئے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔ اب سندھ میں زور دیا جائے کہ 90 روز کے اندر اندر تمام میونسپل اداروں، یونینوں کے انتخابات مکمل ہوں۔ دوسرے صوبوں میں بھی بااختیار بلدیاتی اداروں کے لیے تحریکیں چلائی جائیں۔ جمہوریت کی بنیاد نہیں ہوگی تو جمہوریت کی عمارت کیسے کھڑی رہے گی۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

عوام کو اوپر لائیں

کے ایم سی کے پاس فنڈز نہیں، صوبائی حکومت کے پاس وقت نہیں۔ نتیجہ شہری لاوارث، کوئی مصیبت ایسی نہیں جسے وقت سے پہلے روکا جاسکے۔ کچرا، گندگی، یہ انسانوں کی اپنی نالائقی ہے لیکن بارشیں خدا کی پناہ بس جھانک جھانک کر آسمان کی طرف دیکھتے جائیے اور خوف سے آنکھیں بند کرتے جائیے۔ دو دن وہ بارش الامان و الحفیظ گھر کے باہر پانی، گھر کے اندر پانی جس طرف نظر اٹھائیے پانی ہی پانی۔ پکی چھتیں گر رہی ہیں، پکی دیواریں گر رہی ہیں۔ دفاتر اور فیکٹریوں کو جانے والے پھنس رہے ہیں، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، سامنے ندیاں بہہ رہی ہیں۔ حکومت کو معلوم ہے کہ یہ بارش کا موسم ہے، بارش کا کوئی سر پیر نہیں، محکمہ موسمیات جو پیش گوئیاں کرتا ہے وہ مذاق سے کم نہیں، سرکاری ادارے (متعلقہ) کی کارکردگی اللہ اللہ۔ عوام بس اللہ توکل ہیں، کراچی سمیت ملک بھر میں بارشوں کا جو سلسلہ جاری ہے کہا جا رہا ہے کہ پچھلے عشروں میں ایسی بارشیں نہیں دیکھیں، ہمارا انتظامی سیٹ اپ اتنا نامعقول کہ بارش کی لائی ہوئی تباہیوں کے بعد عوام کے آنسو پوچھنے آ جا تا ہے۔

دنیا کے مہذب ملکوں میں اول تو بارش سے بچاؤ کے ایسے مستحکم سسٹم موجود ہیں کہ بڑی سے بڑی بارش شہریوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس کے علاوہ ایک فعال ایمرجنسی نظام موجود ہوتا ہے جو ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی بھرپور مدد کرتا ہے اس کے برخلاف ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ معمولی سی بارش سے سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں۔ اطلاع ہے کہ اس بار پوش علاقوں میں بھی بارشوں نے گڑبڑ کر دی، پوش علاقوں میں ایسی آفات کے معقول انتظامات ہوتے ہیں نہ ان علاقوں میں کچرا کوڑا ہوتا ہے نہ گلیوں میں گندا پانی بہتا ہے ایسے علاقے جب پانی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں تو پانی کی تباہی کا اندازہ مشکل نہیں۔ ہمارا محکمہ بلدیہ مفت خوروں سے بھرا ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملازمین مہینوں نہیں آتے اور حاضریاں لگتی ہیں جہاں صورتحال یہ ہو وہاں کی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ 

انگریزوں کو ہم گالیاں دیتے ہیں لیکن انگریز ملازمین کے کام کے حوالے سے بہت سخت تھے، یہی وجہ ہے کہ اس پرانے دور میں بلدیہ سمیت سارے ادارے فعال رہتے تھے۔ آزادی ملی تو ہم انگریز سے تو آزاد ہو گئے لیکن اپنے غلام بن کر رہ گئے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے، اس سیزن کی بارشوں نے ملک کا جو حال کر رکھا ہے وہ سرکار کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے لیکن سرکار نے بے حسی کا ایسا لبادہ اوڑھ رکھا ہے کہ اس پر کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ اوپر کی کارکردگی صفر ہو تو صفر نیچے تک آ جاتا ہے۔ بلاشبہ اس سال بارشیں گزشتہ سالوں سے زیادہ ہوئی ہیں لیکن حکومتیں وقت کے ساتھ ساتھ، انتظام کر رکھتی ہیں، یہی وجہ ہوتی ہے کہ ان کا انفرااسٹرکچر بڑی سے بڑی بارشوں کو بھی برداشت کر لیتا ہے جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ذرا سی بارش میں سارا سسٹم اوندھا ہو جاتا ہے۔

ہماری بلدیاتی سرکار نے طے کر لیا ہے کہ بارش کے پانی کو کھلی آزادی دے دیں گے وہ جہاں چاہے بہتا جائے، نقصان کرے، سرکار آنکھیں بند ہی رکھے گی۔ یہ صورت حال بلدیاتی افسروں اور عملے کے لیے سوالیہ نشان نہیں بلکہ عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنے سرکاری محکموں پر نظر کیوں نہیں رکھتے، حالانکہ سرکاری ملازمین اورافسروں کو ہنگامی حالات کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں لیکن وہ سب ’’ہذا من فضل ربی‘‘ کی نذر ہو جاتے ہیں، جب تک کھانے پینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا بارشیں تباہی مچاتی رہیں گی۔ عوام رلتے رہیں گے، اس صورتحال کے خاتمے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ہمارے ملک کے مختلف محکموں میں سرکاری ملازمین نہیں نوابین کام کرتے ہیں اور یہ لوگ عادت کے اتنے پکے ہو گئے ہیں کہ اب انھیں غیر معمولی سختی اور سزاؤں سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص یعنی ہر سرکاری ملازم کھاؤ پیو اور ٹرخاؤ کے فارمولے پر عمل پیرا ہے اور جہاں یہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، وہاں بھلائی کی امید فضول ہے، سرکاری ملازمین تو ملازمین ہی ہیں لیکن ہمارے عوام کس مرض کی دوا ہیں۔ ہمارا ملک جمہوری کہلاتا ہے اور جمہوریت میں عوام بااختیار ہوتے ہیں لیکن ہماری جمہوریت میں عوام کو غلام بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس ملک میں یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، ایسے ملک کبھی سدھر نہیں سکتے اور عادی مجرموں کی خرابیاں اپنا لیتے ہیں۔ ہم نے اب تک اس نئی حکومت کی حمایت اس لیے کی کہ اس میں پرانے پاپی نظر نہیں آئے لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نئے کے روپ میں وہی پرانے ’’فنکار‘‘ عوام کے سروں پر سوار ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عمران خان ایک فعال انسان ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ماحول نے انھیں بھی پرانا بنا دیا ہے، اب وہ اپنا زیادہ وقت کابینہ کی میٹنگز میں گزارتے ہیں۔

وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور 72 سال بعد ایک ایسی مڈل کلاس حکومت برسر اقتدار آئی ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں اور 3 سال پہلے عمران خان عوام میں ہوتے تھے، اس لیے عوام ان کے ساتھ ہوتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان عوام سے خواص میں تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ تبدیلی عمران خان کے لیے فائدہ مند ہو لیکن عوام کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے۔ عمران خان نے بار بار کہا ہے کہ میں اس پسماندہ ملک کو اوپر لاؤں گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی حوالوں سے ملک اوپر آ رہا ہے لیکن اصل مسئلہ عوام کے اوپر آنے کا ہے۔ اگر عوام اوپر نہ آئے تو نئے پاکستان کا نعرہ سوائے نعرے کے کچھ نہیں رہے گا، اب بھی وقت ہے کہ عمران خان حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور عوام کو اوپر لانے کے لیے ٹھوس پلاننگ کریں۔

ظہیر اختر بیدری  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Torrential rain floods Karachi, shatters records

Torrential rain lashed Karachi, causing widespread flooding, as downpours in August shattered 89-year-old records for the city, meteorological officials said. Thursday marked the third day of heavy rain this week, during which more than a dozen people have died while residents have been forced to abandon their homes. Provincial authorities were moving displaced families into school buildings as the military carried out rescue and relief operations. “It has never rained so much in the month of August, according to our data,” the country’s chief meteorological officer, Sardar Sarfaraz, told Reuters, adding that the data went back to 1931.

Karachi still crying for help four days after rain disaster

Karachi residents began cleaning ruined homes and businesses after catastrophic flooding sent rivers of filthy water cascading through the country’s financial and commercial hub, even as authorities’ efforts to mitigate the crisis-like situation seemed not enough. Four days after record-breaking rainfall wreaked havoc on the city, parts of it remained waterlogged and without power. Frustrated by the lack of action by departments concerned, residents of DHA and Clifton gathered outside the Cantonment Board Clifton (CBC) office to protest against the post-rain situation in the two localities.
Source : Dawn News
The 2020 Karachi floods caused due to heavy rain and killed at least 41 people. Pakistan experiences monsoon during July and August, but has never experienced such heavy rainfall since records began.
The rainfall for a single day that totaled as much as 345 mm  rivaled that of a recorded rainfall of 298.4 in 1984. Since the city started keeping meteorological records in 1931, this is considered the worst flooding Karachi has suffered in its history As of August 28, 2020, 760 mm of rainfall was recorded in a single week that forced the authorities to employ boats to rescue people stranded in the streets across the city. Fallen power lines, out of service cell phone towers, and widespread fuel shortages due to heavy reliance on alternative power sources created a vicious mix of miseries for the estimated 15 million residents of the city.
Source : Wikipedia

کُھلا ہے جھوٹ کا بازار

اِس برسات کے موسم نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ساتھ جو کیا اُسے دیکھ کر قتیل شفائی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

یہ وہ بارش تھی جو رحمت سے زحمت بن گئی۔ غریبوں کی بستیاں اجڑ گئیں اور امیروں کے بنگلے بھی محفوظ نہ رہے۔ بھری برسات میں لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے کیونکہ بارش کے پانی نے شہر کو کچرے اور گندگی کا سمندر بنا دیا۔ ایک بارش آسماں سے برسی دوسری بارش مجبور اور لاچار لوگوں کی آنکھوں سے برس رہی تھی۔ اس بارش نے بے اختیار اور با اختیار کی تمیز ختم کر دی۔ بے اختیار بھی شہر کی سڑکوں پر کشتیوں کے منتظر تھے اور بااختیار لوگوں کی بھی بڑی بڑی گاڑیاں بارش کے پانی میں بہہ گئیں۔ میڈیا نے بارشوں سے پہلے ہی شور مچا دیا کہ ابھی کورونا وائرس کا عذاب ختم نہیں ہوا اور برسات کا موسم آنے والا ہے اس برسات میں شہر کو تباہی سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ میڈیا کی اس وارننگ پر سیاست شروع ہو گئی۔ شہر کے میئر نے کہا کہ میرے پاس وسائل کی کمی ہے، میں بے اختیار ہوں۔ صوبائی حکومت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں مناسب فنڈز نہیں دیئے اور وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ہم نے تو بہت فنڈز دیئے ہیں لیکن صوبے کی حکومت کرپٹ اور نا اہل ہے۔

بیان بازی کا ایک مقابلہ شروع ہو گیا اور اس مقابلے میں وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا کہ کراچی کے گندے نالے صاف کئے جائیں۔ نالوں کی صفائی شروع ہو گئی۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانے کے لئے ایک کوارڈی نیشن کمیٹی بھی بنائی گئی لیکن بارش اتنی زیادہ ہوئی کہ اس میں سب کمیٹیاں بہہ گئیں۔ اس بارش نے سرجانی ٹائون، ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی اور بحریہ ٹائون کا فرق مٹا دیا۔ سارے محمودوں اور ایازوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا اور یہ صف تھی نا اہلی اور نا اتفاقی کی۔ نا اہل لوگ کسی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے اتفاق اور اتحاد قائم کر لیں تو نقصان کو کم ضرور کر سکتے ہیں لیکن ہمارے محمود تو یہ فرما رہے تھے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا اور سب ایاز دل ہی دل میں اپنے سلطان کی ناکامی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

تو جناب کراچی میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومت سمیت سب سلطان ناکام ہو گئے۔ ناکامیوں کی یہ داستان صرف کراچی تک محدود نہیں۔ سندھ کے کئی شہروں اور دیہاتی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے بہت سے علاقے، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعض شہروں میں بھی ریاست اپنے شہریوں کی بروقت مدد نہیں کر سکی۔ میں نے کچھ صاحبان اختیار کو یہ بڑبڑاتے سنا کہ لوگ ٹیکس تو دیتے نہیں اور حکومت سے ہر قسم کی سہولت بھی مانگتے ہیں۔ آپ نے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کو سیاسی انتقام کے لئے ایک دوسرا نیب بنا دیا ہے۔ دو سال میں ایف بی آر کے چار سربراہ تبدیل کئے گئے تاکہ ایک جج پر لگائے جانے والے الزامات کو سچ ثابت کیا جا سکے۔ جس ادارے پر کوئی جج اعتبار نہ کرے اُس پر عام آدمی کیا اعتبار کرے گا؟۔ یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔ جب بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے اور یہ پانی حکمرانوں کے سب وعدوں اور دعوئوں کو بہا لے جاتا ہے۔ حکمرانوں کے وعدے عبدالحمید عدم کی غزل نہیں ہوتے جنہوں نے فرمایا تھا۔

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدم
بارش کے سب حروف کو اُلٹا کے پی گیا

بارش کے حروف کو اُلٹا پڑھیں تو یہ شراب بن جاتی ہے۔ ان حروف کو اُلٹا کر شاعر تو یہ شراب پی سکتا ہے لیکن عام آدمی ایسی چیزیں نہیں پی سکتا۔ اُسے تو وہ چاہئے جس کا وعدہ اُس کے ساتھ الیکشن کے جلسوں اور منشوروں میں کیا گیا تھا۔ عام آدمی سے کہا گیا تھا کہ میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں گا، میں پٹرول اور بجلی مہنگی نہیں کروں گا، میں مہنگائی کم کر دوں گا، میں آپ کی زندگی آسان کر دوں گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ جب کوئی وعدہ پورا نہ ہوا تو اُن وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے نئے وعدے کئے جانے لگے۔ نیا وعدہ یہ ہے کہ میں نواز شریف کو پاکستان واپس لائوں گا۔ سوال یہ ہے کہ آپ تو اسحاق ڈار کو پاکستان واپس نہ لا سکے تو نواز شریف کو واپس کیسے لائیں گے؟ ایک سفارتکار نے مجھ سے پوچھا کہ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف پاکستان میں قتل اور دہشت گردی کے درجنوں مقدمات درج ہیں، اُنہیں کئی مقدمات میں سزائیں ہو چکیں وہ اشتہاری قرار دیئے جا چکے اگر اُنہیں واپس نہیں لایا جا سکا تو نواز شریف کو کیسے واپس لایا جائے گا؟

میرے پاس مسکرا کر یہ سوال ٹالنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا لیکن جب سفارتکار نے یہ سوال دہرایا تو میرے صبر کا پیمانہ کچھ لبریز ہو گیا اور میں نے قدرے گستاخانہ انداز میں کہا کہ آپ کو یہ سوال وزیراعظم سے پوچھنا چاہئے؟ سفارتکار نے میرے گستاخانہ لہجے کو اپنی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا نواز شریف بھی اپنے بھائی شہباز شریف کی طرح خود ہی واپس آ جائیں گے؟ میں نے اپنی غیرت و حمیت کو جیب میں ڈالا اور ہاتھ جوڑ کر ان صاحب کے سامنے کہا…’’سر، مجھے معاف کر دیں، مجھے کچھ پتہ نہیں‘‘۔ افسوس کہ ایک بارش سچ اور جھوٹ کا فرق ختم کر دیتی ہے۔ سیاسی وعدوں اور دعوئوں کی بارش حکومت اور اپوزیشن کا فرق بھی ختم کر دیتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ حکومت سچی ہے یا اپوزیشن؟ یہ معاملہ صرف اہل سیاست تک محدود نہیں۔

اہل صحافت بھی سچ کے نام پر جھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان میں سے کوئی بھی اس ملک میں رہ کر سچ بولنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ جب تک اس ریاست کے شہریوں کو آئین کے مطابق سچ بولنے کا اختیار نہیں ملے گا اس ریاست پر جھوٹ کی حکمرانی رہے گی اور ہر بارش حکمرانوں کے وعدوں کو بہاتی رہے گی۔ قتیل شفائی سو مرتبہ کہتا رہے کہ

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آئو سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آئو سچ بولیں

لیکن آج کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہاں سچ کے نام پر بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔

حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ