یہ مدرسے کی ناموس کا سوال ہے

لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ‘ کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔ 17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی‘ مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھا کہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔ لوگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے‘ ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم ‘رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں‘ اس کے اخلاق‘ کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔

معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔ مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہو جائے‘ اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔ یہ اسی وقت ہو گا جب مہتمم کو یہ معلوم ہو کہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔

اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتا کہ جب دوسرے یہ کام کر رہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان‘ کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے‘ اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔

ممکن ہے ایسا ہوا ہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے‘ اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔

مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبر لائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔ برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں‘ انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہا ہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اور ایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے‘ مولانا زاہد الراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کر ہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے‘ اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔

اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔ یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں‘ مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بنا ہے‘ اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے‘ وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔

خورشید ندیم

بشکریہ دنیا نیوز

مسجد میں رقص ۔ توبہ توبہ

ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی حدیں پار کی جا رہی ہیں لیکن ریاستِ پاکستان سو رہی ہے۔ لڑکی کی شادی لڑکی کے ساتھ ہوئی اور یہ اُسی پاکستان میں ہوا جو اسلام کے نام پر بنا۔ مسجد جس کو کورونا کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا اور جو اللہ کا گھر ہے اُس کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ناچنے گانے والوں کے لئے کھول دیا گیا۔
یہ بھی اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ہی ہوا۔ شادی کرنے والی ایک لڑکی کو دارلامان بھیج دیا گیا دوسری کے عدالت میں عدم پیشی کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ واقعہ بالکل اُسی طرح کا ہوا جس کا مغرب میں رواج پیدا کیا جا رہا ہے۔ یعنی عورت کی عورت سے اور مرد کی مرد سے شادی ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ کتنا بڑا جرم ہے، اگر اس بات کا ریاستِ پاکستان کو احساس ہوتا تو ان دونوں لڑکیوں کے خلاف بہت سخت کارروائی ہوتی۔ اب تک اُنہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈالا جا چکا ہوتا اور اُنہیں ایسی مثال بنایا جاتا کہ کوئی ایسی حرکت دوبارہ کرنے کی جرات نہ کرتا۔

مسجد اللہ کا گھر ہے جہاں مسلمان اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ مسجد کا اپنا ایک تقدس ہے جس کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے ساتھ ساتھ کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن لاہور کی ایک تاریخی مسجد کو ایک پروڈکشن ہاؤس کیلئے گانے کو پیکچرائز کرنے کیلئے کھول دیا گیا۔ ویسے تو کوئی بھی مسلمان مسجد میں نماز کے لئے جا سکتا ہے چاہے ایک گانے والا ہو یا ایک ناچنے والی لیکن رقص اور گانے کی عکس بندی کے لئے اللہ کے گھر کو کھولنا نہ صرف گناہ کا کام ہے بلکہ خلافِ قانون اور آئین کے منافی بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اِس واقعہ پر ریاست حرکت میں آتی اور متعلقہ ناچنے گانے والوں، پروڈکشن ہاؤس کے ذمہ داروں اور اس سب کی اجازت دینے والوں کو گرفتار کیا جاتا، اُنہیں جیل میں ڈالا جاتا لیکن یہاں بھی سوشل میڈیا کی طرف سے اس واقعہ پر شور مچانے پر پنجاب حکومت نے بس اِس واقعہ کا نوٹس لے لیا جبکہ ناچنے اور گانے والوں نے میڈیا کے ذریعے لوگوں کی دل آزاری پر معافی مانگ لی۔

نہ ریاست کی طرف سے کوئی مقدمہ درج ہوا، نہ کسی کی گرفتاری ہوئی۔ ہاں شاید انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مٹی پائو۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر شور نہ مچتا تو حکومت نوٹس لینے والا تکلف بھی نہ کرتی۔ کچھ عرصہ قبل لاہور کی بادشاہی مسجد کے بالکل سامنے کسی پنجابی گانے پر ایک اداکارہ کا انتہائی فحش ڈانس فلمایا گیا جو سوشل میڈیا پر شیئر ہوا لیکن وہ بیہودگی بھی ہماری حکومت اور ریاست کی نظر سے اوجھل رہی۔ اگر کسی جج، جنرل یا کسی اہم حکومتی فرد کے خلاف کوئی نازیبا بات سوشل میڈیا تک میں سامنے آ جائے تو عدالت فوری نوٹس لے کر سخت ایکشن لیتی ہے، حکومت بغیر وقت ضائع کیے ایف آئی اے اور دوسری ایجنسیوں کے ذریعے ایسے افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیتی ہے۔ یعنی ایکشن ایسے انداز میں لیا جاتا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی ایسی حرکت دوبارہ نہ کرے لیکن اگر کوئی اسلامی شعار اور شرعی احکامات کا مذاق اُڑاتا ہے، جیسا کے اوپر بیان کیے گئے دو واقعات سے ظاہر ہوتا ہے، تو نہ حکومت اور نہ ہی عدالت اُس انداز میں ایکشن میں نظر آتی ہے جیسے وہ اپنے ذات کی عزت کے تحفظ کے لئے کارروائی کرتے ہیں۔ ہماری ریاست، عدالت، حکومت اور دوسرے متعلقہ اداروں کا یہ رویہ نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے اور یہی ریاست کا وہ رویہ ہے جس سے اسلامی احکامات اور اسلامی شعار کا مذاق اڑانے والوں کو اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں روزانہ نئی نئی حدیں پار کرنے کی شہہ ملتی ہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہم اگر آج بھی نہیں جاگتے

جیمز وکس برطانیہ میں پیدا ہوا‘ بچپن سے مارشل آرٹس کا شوقین تھا‘ جوڈو کراٹے‘ باکسنگ اور باڈی بلڈنگ سیکھی اور ایوارڈز پر ایوارڈز حاصل کرتا چلا گیا‘ یہ مکس مارشل آرٹس کا ایکسپرٹ بن گیا‘ 2000 میں برطانیہ سے امریکا چلا گیا‘ اپنا جم بنایا اور امریکی نیوی اور فوج کو مارشل آرٹس کی ٹریننگ دینے لگا۔ زندگی شان دار گزر رہی تھی‘ بیوی بھی تھی‘گھر بھی تھا‘ نام بھی تھا اور روزگار بھی لیکن پھر یہ 2012 میں انٹرنل انجریز کا شکار ہو گیا اور چھ ماہ کے لیے دونوں گھٹنوں سے معذور ہو گیا‘ ڈاکٹروں نے اسے ایکسرسائز اور ٹریننگ سے روک دیا۔ یہ پابندی اور یہ حادثہ شروع میں اس کے لیے بیڈ لک تھا لیکن پھر یہ بیماری پوری دنیا کے لیے گڈ لک ثابت ہو گئی‘ جیمز وکس کا حادثہ ایک نئی ریسرچ‘ ایک نئے انکشاف کا ذریعہ بن گیا‘ آج جیمز وکس اپنے حادثے کو معجزہ اور اپنے ’’بیڈریسٹ‘‘ کو دنیا کے لیے عظیم تحفہ قرار دیتا ہے‘ یہ تحفہ کیا تھا ؟ یہ تحفہ خوراک تھی‘ جیمز وکس نے گھر میں بیٹھ کر خوراک پر تحقیق شروع کر دی‘ تحقیق کے دوران پتا چلا انسان کے لیے پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک بہترین ہوتی ہے‘ انسان اصل میں ویجی ٹیرین (سبزی خور) ہے۔

یہ جب تک سبزی اور پودوں تک محدود تھا تو یہ اس وقت تک صحت مند بھی رہتا تھا‘ خوش بھی اور ایکٹو بھی‘ اس کی عمر بھی اس وقت تک زیادہ ہوتی تھی اور صحت بھی‘ انسان نے جب گوشت کھانا شروع کیا تو اس کی عمر بھی کم ہو گئی اور یہ بیماریوں کا شکار بھی ہونے لگا‘ جیمزوکس کو پتا چلا انسان کو زیادہ تر بیماریاں گوشت اور انڈوں سے لگتی ہیں‘ یہ جتنی ریسرچ کرتا گیا اسے پتا چلتا گیا دنیا کے تمام بڑے جنگجو سبزی خور تھے‘روم کے گلیڈی ایٹرز پوری زندگی سبزیاں کھاتے تھے‘ ماہرین نے 68 گلیڈی ایٹرز کی ہڈیوں کا معائنہ کیا‘ یہ عام لوگوں سے کئی گنا طاقتور ہڈیوں کے مالک تھے اور یہ تمام سبزیاں کھاتے تھے‘جیمزوکس کو یہ بھی معلوم ہوا اسپورٹس میں ورلڈ ریکارڈز قائم کرنے والے 95 فیصد کھلاڑی بھی ویجی ٹیرین تھے۔

اسے پتا چلا دنیا کے طاقتور ترین شخص پیٹرک بابو مین نے پوری زندگی انڈہ‘ دودھ اور گوشت نہیں کھایا‘ یہ صرف سبزیاں اور دالیں کھاتا ہے‘ امریکا کا سب سے بڑا ویٹ لفٹر اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ کنڈرک جیمز فیرس بھی سبزی خور ہے‘ سائیکل میں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والی خاتون ڈوٹسی بوسچ ‘ چار سو میٹر کی ریس دو مرتبہ جیتنے والی آسٹریلین ایتھلیٹ مارن مچل‘ نو گولڈ میڈل حاصل کرنے والا ایتھلیٹ کارل لیوس‘ چار گولڈ میڈل لینے والا موری روز اور ڈیوی نورمی اور 100 میل کی میراتھن ریس کا ریکارڈ قائم کرنے والا اسکاٹ جورک بھی سبزی خور ہیں‘ جورک 24 گھنٹوں میں 266 کلو میٹر دوڑنے والا چوتھا امریکی ایتھلیٹ ہے۔

اس نے 135 کلو میٹر لمبی ڈیتھ ویلی بھی دوڑ کر عبور کی‘ یہ بھی گوشت اور انڈے نہیں کھاتا تھا‘ جیمز وکس تحقیق کرتا چلا گیا اور اس تحقیق کے دوران اسے پتا چلتا گیا سبزی خور لوگوں میں گوشت خوروں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے‘ یہ ان سے زیادہ تیز اور صحت مند بھی ہوتے ہیں‘ اسے یہ بھی پتا چلا سبزیوں اور دالوں میں ریکوری اور صحت کی بحالی کے عناصر بھی زیادہ ہوتے ہیں‘ مریض اگر سبزیوں کا سوپ پئیں تو یہ جلدی صحت یاب ہو جاتے ہیں‘ جیمز وکس کی تحقیق نے دنیا کو حیران کر دیا‘ اس نے بعد ازاں دی گیم چینجر کے نام سے ڈاکو منٹری فلم بنائی اور پوری دنیا میں تہلکا مچا دیا‘ ڈاکومنٹری کا خلاصہ یہ تھا ہم جو کھاتے ہیں ہم ویسے بن جاتے ہیں‘ انسان صرف سبزی خور جانوروں کا گوشت کھا سکتا ہے‘ یہ گوشت خور جانوروں کا گوشت ہضم نہیں کر سکتا چناں چہ پھر ہم وہ چیزیں (سبزیاں اور پودے) کیوں نہ کھائیں جنھیں کھا کر بیل بیل‘ گائے گائے اور بکری بکری بنتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہم کیا ہیں اور ہمارے رویے کیا ہیں؟ یہ فیصلہ ہماری چند عادتیں کرتی ہیں اور ان عادتوں میں پہلی عادت خوراک ہوتی ہے‘ گڈ فوڈ گڈ لائف ‘بیڈ فوڈ بیڈ لائف‘ ہم اگر اچھی اور صحت مند خوراک کھائیں گے تو ہماری جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی صحت اچھی ہو گی‘ہم کیا ہیں اس کا دوسرا فیصلہ پانی اور ہوا کرتے ہیں‘ پانی میں اگر جراثیم‘ فضلا اور کیمیکل ہوں گے اور ہوا میں اگر آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ نائیٹروجن اور سیسہ زیادہ ہو گا تو ہمارا دماغ بے قابو ہو جائے گا‘ ہمارے اعصاب کم زور پڑ جائیں گے‘تیسرا فیصلہ ماحول اور میڈیا کرتا ہے‘چوتھا فیصلہ معاشی دباؤ‘ روزگار اور ضروریات زندگی کرتی ہیں۔

پانچواں فیصلہ رشتے داروں کے رویے‘ توقعات‘ دوست اور لوگ کرتے ہیں اور آخری فیصلہ نیند ہماری زندگی میں بے انتہا اہم ہوتی ہے‘ ہم اگر آٹھ سے نو گھنٹے نہ سوئیں تو بھی ہم جذباتی عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ وہ حقیقتیں ہیں جن پر ہم نے آج تک غور نہیں کیا‘ ہماری خوراک غیر متوازن اور جعلی ہے‘ ہمارا پانی گندا‘ فضا میں آلودگی‘ معاشرے میں شور اور افراتفری‘ میڈیا بری اور خوف ناک خبروں کا بازار‘ روزگار غیر مستحکم‘ بڑھتا ہوا معاشی دباؤ‘ ضروریات زندگی میں مسلسل اضافہ‘ رشتے دار‘ دوست احباب اور دائیں بائیں موجود لوگ انتہائی ناشائستہ اور بے اعتبار اور ان کے ساتھ ساتھ ہم میں سے ہر شخص نیند کی کمی کا شکار بھی ہے‘ آپ کسی دن صرف اپنی زندگی دیکھ لیں آپ کو اس میں بھی کوئی چیز سیدھی نظر نہیں آئے گی۔

آپ کسی دن جیب میں ٹیپ ریکارڈر رکھیں‘ سارا دن اپنی گفتگو ریکارڈ کریں اور رات کو سنیں آپ کو اپنا آپ بھی برا لگے گا لہٰذا ہمیں ماننا ہو گا ہم اوپر سے لے کر نیچے تک ایک بیمار قوم ہیں‘ ہم میں سے ہر شخص کوئی نہ کوئی دوا کھا رہا ہے‘ آپ کو ہر گھر میں دوائی بھی ملے گی اور آپ لوگوں کو رات کے وقت ادویات کے لفافے لے کر گھر جاتے بھی دیکھیں گے‘ آپ کو ڈاکٹر بھی ادویات کھاتے نظر آئیں گے اور ان سب سے بڑھ کر آپ کسی دن اپنے ہیروز کے بارے میں بھی ریسرچ کر لیں‘ آپ یہ جان کر حیران رہ جایں گے ہمارے سارے ہیروز لڑنے والے ہیں۔ یہ غازی ہیں یا پھر شہید ہیں‘ ہم نے آج تک کسی ادیب‘ شاعر‘ مفکر‘ سائنس دان‘ سوشل ورکر‘ استاد‘ موسیقار‘ فلم ساز اور بزنس مین کو ہیرو نہیں بننے دیا‘ یہ لوگ ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے‘ اس حد سے آگے صرف اور صرف لڑنے‘ مرنے اور مارنے والے جاتے ہیں چناں چہ غلط عادتوں‘ رویوں اور خرابیوں کے ساتھ ساتھ ذوق لڑائی بھی ہماری سوچ‘ ہماری فکر کا حصہ بن چکا ہے لہٰذا ہم ذہنی‘ جسمانی اور روحانی تینوں سطحوں پر بیمار قوم بن چکے ہیں اور یہ بیماری ایوان صدر سے لے کر بشیرے کے کھوکھے تک کامن ہے‘ بشیرا بھی بیمار ہے اور ایوان صدر بھی۔

ہمارے ملک میں اگر کوئی پالیسی ساز‘ اگر کوئی منصوبہ ساز ہے تو پھر اسے اسپتال پر وکلاء کے حملے کو نان سیریس نہیں لینا چاہیے‘ یہ واقعہ ہماری قومی سوچ‘ ہمارے مجموعی رویوں کا اظہار ہے‘ ہم من حیث القوم ایسے ہی ہیں‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ مسجدوں کا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو نمازی وضو خانوں سے لے کر صفوں تک لڑتے نظر آئیں گے‘ ملک میں رمضان کے ہر دن لڑائی ہوتی ہے‘ حکومت چند سال پہلے تک محرم اور بارہ ربیع الاول کے جلوسوں کی نگرانی پولیس کے حوالے کرتی تھی لیکن ہم اب اپنے شہروں میں فوج تعینات کرتے ہیں۔ آپ کو اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی طالب علم ایک دوسرے سے لڑتے اور فائرنگ کرتے ملتے ہیں‘ بیٹے کے ہاتھوں باپ کی موت اور باپ کے ہاتھوں بچوں کا قتل بھی عام ہو چکا ہے‘ مائیں بھی اپنے سارے بچوں کے ساتھ خودکشی کر لیتی ہیں‘ وکیل مکوں‘ ٹھڈوں اور گالیوں کے ذریعے دلائل دیتے ہیں اور جہاں ضرورت پڑ جائے یہ جج صاحب کو قائل کرنے کے لیے اسے پھینٹا بھی لگا دیتے ہیں‘ ہڑتالیں اور سڑکوں کی بندش بھی ہماری زندگی کا معمول بن چکا ہے ‘ ہمارے ڈاکٹر بھی معمولی معمولی باتوں پر ایمرجنسی‘ آپریشن تھیٹر اور مریض چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور لواحقین بھی ڈاکٹروں پر پستول تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں‘ کیا یہ رویے نارمل ہیں؟ جی نہیں!‘ ہم لوگ واقعی ابنارمل ہو چکے ہیں اور پی آئی سی کا واقعہ اس ابنارمیلٹی‘ اس قومی بیماری کی علامت ہے۔

انسان کی فطرت ہے یہ جب ڈپریشن اور غصے کی انتہا کو چھوتا ہے تو یہ اپنے آپ کو آگ لگا لیتا ہے‘ یہ اپنے گھر‘ اپنی دکان اور اپنی گاڑی کو بھی تباہ کر دیتا ہے اور ہمیں ماننا ہو گا ہم غصے اور ڈپریشن کی اس حد سے بھی آگے نکل چکے ہیں‘ ہم مسجدوں‘ امام بارگاہوں اور قبرستانوں پر حملے کرتے کرتے اب اسپتالوں تک پہنچ گئے ہیں‘ اس سے اگلی اسٹیج مسافروں سمیت ٹرینوں اور بسوں کو آگ لگانا اور بچوں کو کلاس رومز میں بند کر کے اسکولوں کو نذر آتش کر دینا ہے چناں چہ ہمیں جاگنا ہو گا‘ حکومت کو اب کوئی نہ کوئی معاشرتی پالیسی بنانا ہو گی‘ ہمیں خوراک‘ پانی‘ ہوا‘ بجلی‘ گیس‘ روزگار‘ تعلیم‘ صحت‘ انصاف اور لوگوں کی عزت کے پیرا میٹرز طے کرنا ہوں گے‘ ہمیں قوم سازی کا کام شروع کرنا ہو گا ورنہ دوسری صورت میں اس ملک کے کتے بھی دوسرے کتوں سے کہتے نظر آئیں گے آؤ بھاگ چلتے ہیں ورنہ ہم بھی انسانوں کی موت مارے جائیں گے۔ ہم اگر آج بھی نہیں جاگتے‘ ہم اگر آج بھی قوم کو قوم نہیں بناتے تو پھر لکھ لیجیے یہ ملک اگلی نسل نہیں دیکھ سکے گا‘ ہم میں سے آدھے آدھوں کو مار دیں گے اور جو باقی بچ جائیں گے وہ خودکشی کر لیں گے اور بات ختم چناں چہ ہمیں قدرت کی وِسل سننا ہو گی‘ ہمیں اب جاگنا ہو گا‘ اس سے پہلے کہ قدرت ہم سے مکمل مایوس ہو جائے ۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

جھوٹ سچ اور حق ناحق کا ڈرامہ

مجھے واقعی اندازہ نہیں کہ باکرداری اور بد کرداری میں کیا فرق ہے۔ سچائی جانچنے کی کسوٹی کیا ہے اور جھوٹ ناپنے کا کیا پیمانہ ہے۔ غیرت کہاں سے شروع ہو کر کب بے غیرتی کی حدود میں داخل ہوتی ہے۔ جرم کیا ہے اور بے گناہی کس جانور کا نام ہے۔ واقعی مجھے اندازہ نہیں۔ مثلاً تمام تر ویڈیو فوٹیج کے باوجود پچھلے پانچ دن سے رضا ربانی، اعتزاز احسن، لطیف کھوسہ، حامد خان اور جلیلہ حیدر جیسے محترم وکلا بھی طے نہیں کر پا رہے کہ قانون کے پیشے کی عزت کو واقعی داغ لگ چکا ہے یا اب بھی کسر باقی ہے؟ کسی بھی قانون دان کا کوئی بھی مذمتی بیان ’اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، البتہ‘ کی ملاوٹ سے پاک نہیں۔

انسانی حقوق سے لے کر سیاسی تنزلی تک دنیا کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں یہ وکیل رہنما قطعی، بے لاگ اور غیر جانبدارنہ رائے دینے سے نہیں ہچکچاتے مگر جب اپنے ہم کوٹ و ہم ٹائی بھائیوں بہنوں کے رویے کو سیاہ و سفید کے ترازو میں تولنے کا مقام ہو تو یہ سینیئرز خود بھی ترازو کے پلڑے میں بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ وہ بار کونسل کی سیاست سے بظاہر بلند ہو چکے ہیں۔ یہی حال ڈاکٹروں کا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز بالخصوص جو بھی بدتمیزی کر لیں، مریضوں کو جب جب بھی انسانی خام مال سمجھ لیں، جس پر چاہیں ہاتھ چھوڑ دیں یا گریبان پر ہاتھ ڈال دیں۔ مجال ہے ان کے سفید کوٹ پر کبھی کوئی داغ کسی بھی سینیئر کو نظر آ جائے۔

میں نے آج تک کسی ہم پیشہ ساتھی کی زبان سے کسی بھی وکیل یا ڈاکٹر کو گناہ گار یا قصور وار نہیں پایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے وکالت یا طبابت کی حرمت مقدس تھی، اب وکیل اور طبیب کی حرمت زیادہ اہم ہے۔ اور جب میں اور اوپر دیکھتا ہوں تو وکیل اور ڈاکٹر کے سات خون بھی معاف کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ مثلاً تمام تر عدالتی تحقیقات اور ٹھوس گواہیوں کے باوجود 48 برس بعد بھی اسکول کے نصاب میں بچہ یہی پڑھ رہا ہے کہ 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ ہمارے عسکری و سیاسی گناہوں کے سبب وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ مشرقی پاکستان کے کروڑوں سادہ لوح محبِ وطن بنگالیوں کو مٹھی بھر شرپسند ہندو اساتذہ نے گمراہ کیا اور انڈیا نے حالات کا فائدہ اٹھا کر ہمیں دو لخت کر دیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

مثلاً پرویز مشرف جو آج بھی کسی کو منہ پر جھوٹا یا سچا کہنے سے نہیں ہچکچاتے، انھوں نے بطور صدر درجنوں مجرموں کی سزاِ موت کی توثیق بھی کی ہو گی، مگر جب آرٹیکل چھ کے تحت خود ان پر آئین توڑنے کا الزام لگتا ہے تو وہ اس پورے عدالتی عمل کو ہی فراڈ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو بے گناہ ڈکلئیر کر دیتے ہیں، اور عدالت سے بچنے کے لیے وہ تمام حیلے بہانے برتتے ہیں جو پہلی جماعت کا بچہ اسکول نہ جانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مگر وہ بہرحال پرویز مشرف ہیں۔ اور پرویز مشرف کا کیا رونا روئیں۔ یہاں تو معطل پولیس افسر راؤ انوار بھی انسانی حقوق کی پامالیوں کی بین الاقوامی امریکی فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کو مسئلہِ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی بین الاقوامی سازش بتاتے ہوئے اپنی ’کردار کشی‘ پر امریکی حکومت کو عدالت میں گھسیٹنے کی وارننگ دے رہا ہے۔

اور راؤ انوار بھی کس کھیت کی مولی ہے جب آسمان یہ منظر بھی دیکھنے کو زندہ ہو کہ ہمارے دور کی جمہوری اور انسانی حقوق کی ہیروئن نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی عالمی عدالتِ انصاف میں روہنگیا نسل کشی پر اپنے ملک کے انہی جرنیلوں کی پالیسی کا پرجوش دفاع کر رہی ہیں جنھیں وہ کل تک انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا دشمن کہتی تھیں۔ یہ مناظر دیکھنے کے بعد مجھے تو حق و ناحق، سیاہ و سفید، جھوٹ و سچ اور اصول و بے اصولی کا سب کاروبار ہی فراڈ لگ رہا ہے۔ شاید اصل گیم طاقت و نا طاقتی کا ہے جسے ہم آج بھی انصاف اور اصول کے ترازو میں تولنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

پی آئی سی حملہ : یہ نیا پاکستان ہے یا دیوانوں کی دنیا ؟

وہ ویڈیو واقعی دنگ کر دینے والی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں وکلا کے ایک مشتعل گروہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں لمبے بالوں والا ایک شخص کسی کے کاندھوں پر سوار ہوکر ارد گرد جمع لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے داد وصول کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ شخص اس ہجوم کو سلیوٹ کرتا ہے، وہ اپنا ہاتھ کچھ اس طرح سینے پر رکھتا ہے جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہا ہو، وہ پھر سے انہیں اس انداز میں سلیوٹ کرتا ہے جیسے انہیں مخاطب کر رہا ہو کہ ’آپ کا تہہ دل سے شکریہ‘، جواباً ہجوم ہاتھ اوپر اٹھا کر زبردست نعرے بازی کرنے لگتے ہیں۔ ان کے پس منظر میں پی آئی سی عمارت واضح نظر آ رہی ہے، جس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ ویڈیو واقعے کے فوراً بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔

واقعے سے کچھ دیر پہلے بھی ایک ویڈیو محفوظ کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو پی آئی سی کی طرف بڑھنے والوں میں سے ایک نے بظاہر براہِ راست نشر کی تھی۔ اس ویڈیو میں ہاتھ میں کیمرا تھامے شخص کو یہ شور مچاتے سنا جا سکتا ہے کہ، ’ہم آ رہے ہیں! ہم آ رہے ہیں ڈاکٹروں!‘ اس شخص کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا، جن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں اور پوری طرح سے مشتعل تھے، سڑک پر رواں دواں یہ لوگ خوش مزاج اور مار پیٹ کے لیے پوری طرح سے تیار نظر آرہے تھے۔

نوجوان وکیل کیمرا اوپر اٹھاتا ہے اور اپنے پیچھے آنے والے کالے کوٹوں میں ملبوس وکلا کے ہجوم کی قوت دکھاتا ہے۔ ’لوگوں کا سمندر دیکھو ڈاکٹر!‘ ہجوم میں سے ایک شخص چیختا ہے۔ ایک اور شخص زور دار آواز میں کہتا ہے کہ، ’گھس کر ماریں گے، گھس کر!‘ ویڈیو ریکارڈ کرنے والا شخص کیمرے میں دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے اپنی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج ہو گا بائی باس! آج تمہیں اسٹنٹ ڈلیں گے!‘ وہ شخص ایک بار پھر کیمرا اوپر اٹھا کر اس بڑے ہجوم کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج تو تم گئے! یہ دیکھو ہمارا لشکر!‘۔ ’آج تم دیکھو گے کہ پتھر کیسے روتے ہیں۔

ویڈیو کی یہ آخری لائن دراصل اس ویڈیو میں شامل چھوٹی نظم کی ہے جس نے بظاہر اس پورے معاملے کو ہوا دی۔ کچھ دن پہلے منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں ایک پُراعتماد نوجوان بڑے ہی پُرسکون انداز میں ہجوم سے مخاطب ہے۔ نوجوان ڈاکٹر بینچ پر کھڑا ہوکر اپنے سامنے موجود مجمعے کو لطیفے سناتے اور وکلا کی آواز اور لہجے کی نقل اتارتے ہوئے وہ کہانی بتا رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کا آغاز ہوا تھا۔ اس کہانی میں وہ بتاتا ہے کہ کس طرح وکلا اس کے خلاف مقدمہ داخل کروانے کے لیے ایک سے دوسرے دفتر گئے لیکن ناکام رہے۔

وہ کہتا ہے کہ ایک کیس کے دوران ’لمبے بالوں والا وکیل کہتا ہے کہ براہِ مہربانی مقدمہ دائر کریں تاکہ ہمارا چہرہ بچ جائے‘، لیکن جس پولیس افسر سے یہ درخواست کی گئی تھی انہوں نے مقدمہ دائر کرنے سے انکار کر دیا۔ ویڈیو میں نوجوان ڈاکٹر کو پوری لطف اندوزی کے ساتھ کہانی سناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ مجمعے کو بتاتا ہے کہ جب اس نے وکلا کی جانب سے افسر کو دباؤ میں لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوتے دیکھیں تب وہ ’دل ہی دل میں ہنس رہا تھا‘۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ’اور جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ ہنستے ہنستے مجھے شعر یاد آجاتا ہے‘۔

اس کے بعد وہ یہ شعر سناتا ہے
سنا ہے اس کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی
جو کہتا تها کہ پتھر ہوں، مجھے رونا نہیں آتا

تو جناب یہ تھا سارا ماجرہ۔ ایک ہسپتال میں چند وکلا اور چند ڈاکٹرز کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا۔ وکلا نے معاملے کو بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اور پھر انہوں نے ساکھ بچانے کے لیے معاملے کو ختم کر دینا چاہا۔ بظاہر، بقول حکومتِ پنجاب، دونوں گروہوں میں کچھ دن پہلے صلح ہو گئی تھی اور معاملہ ختم ہو گیا تھا۔ پھر ایک نوجوان ڈاکٹر کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ اپنے شوخ لہجے اور جاذب نظر انداز میں اس تنازع سے جڑے واقعات سناتا ہے اور اس دوران وہ اس شعر کا تڑکا بھی لگا دیتا ہے۔ ویڈیو دیکھ کر وکلا طیش میں آگئے، خاص طور پر اس ’لمبے بالوں والے‘ وکیل کو شدید غصہ آیا جس کا نام نوجوان ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں عدیل بتایا ہے۔

واقعے کے بعد پنجاب بار کونسل نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وکلا کا مذاق اڑایا گیا ہے لہٰذا انہوں نے پُرامن طریقے سے ہسپتال کا رخ کیا، لیکن اس پریس ریلیز میں کہیں بھی تشدد کا ذکر نہیں ملتا۔ کس طرح ان چبھتی باتوں نے اس بدترین حملے کی راہ ہموار کی اس حوالے سے اب بہت سی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ مشتعل ہجوم جبراً ہسپتال میں داخل ہوا اور وہاں دھاوا بول دیا، ان کے راستے میں مریض سمیت جو بھی آیا اسے پیٹا گیا۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار دیے گئے، ان کی رگوں میں پیوست سوئیاں اکھاڑ دی گئیں، ان کے تیمارداروں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آئی سی یو خالی کروا دیا گیا، یہاں تک کہ آپریشن تھیٹر کو بھی نہیں بخشا گیا۔

ڈاکٹر اور نرسز ہسپتال کی حدود سے غائب ہو گئے جبکہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے انہیں وہیل چیئرز پر ہسپتال سے باہر لایا گیا۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ اس واقعے کے نتیجے میں تشویشناک حالت سے دوچار 4 مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔ دراصل اس واقعے کی بنیادی وجہ انا ہے۔ آج میں نے اپنے بھائی کی یاد میں بستر کے ایک طرف موم بتی جلائی ہے۔ میرے بھائی نے قریب ڈیڑھ دہائی پہلے اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں تقریباً 2 ہفتے گزارے تھے، جہاں ان کا پیچیدہ آپریشن ہوا تھا۔ جب میں نے خالی آئی سی یو اور ان مریضوں کے ورثا کی ویڈیو دیکھی جو طبیعت کی خرابی کے باوجود آئی سی یو خالی کرنے پر مجبور ہوئے تو مجھے اس واقعے کی شدت اور جرم کی سنگینی کا خوب اندازہ ہوا۔

بدھ کے روز پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہ ہماری انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر کسی دھبے سے کم نہیں ہے۔ ساہیوال واقعے کے بعد بھی عوامی حلقوں میں ایسا غم و غصہ دکھائی دیا تھا اور خود وزیرِاعظم نے بھی ’تیز ترین انصاف‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا۔ تاہم اکتوبر کے آتے آتے اس واقعے میں ملوث 6 کے 6 پولیس اہلکار مقدمے سے بری ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اپیل دائر کرنے کا وعدہ کیا، مگر اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے بھی اس کیس پر لب کشائی نہیں کی۔ اس واقعے کو خاموشی سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور بھلایا جاچکا ہے۔ اگر یہی سب اس واقعے کے ساتھ ہوتا ہے تو ہماری انسانیت کے ضمیر پر لگا یہ داغ کبھی بھی نہیں دھل سکے گا۔ بار کونسل کے رہنما تو حکومت سے ٹکرانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ چند وزرا اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فیصل واؤڈا کی ٹوئیٹ ہی پڑھ لیجیے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ مسلم لیگ (ن) کے اشاروں پر چلنے والے مجرمان تھے‘۔

کیا ہم نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں یا پھر دیوانوں کی دنیا میں؟

خرم حسین

بشکریہ ڈان نیوز

یہ مضمون 12 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی : تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہیں

وزیراعظم عمران خان نے اچھا کیا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں رونما ہونے والے واقعات کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں سرکاری افسران کے علاوہ وفاقی کابینہ کے اہم ارکان بھی شامل ہوں گے جو کچھ ہوا، اس کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نوٹس تو لینا تھا مگر لاہور کے شہریوں بالخصوص امراض قلب کے اسپتال میں موجود طبی و نیم طبی عملے، مریضوں، ان کے لواحقین، رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں، راہگیروں کو جن کیفیات سے گزرنا پڑا اور ملک بھر کے لوگ جس کرب سے دوچار ہوئے اس کا تقاضا ہے کہ کمیٹیوں کی تشکیل اور نوٹس لینے کے اعلانات سے آگے بڑھ کر وہ کچھ کیا جائے جو انسانی، سماجی اور تہذیبی اقدار کی دیواروں کو سنبھالا دینے کے لئے کیا جا سکتا ہے۔ جو واقعات سامنے آئے انہیں انتباہ سمجھا جانا چاہئے اس بات کا کہ پانی سر سے گزر رہا ہے۔ 

کابینہ اور حکام کے اجلاس ضرور بلائیں مگر صاحبانِ فکر، ماہرین نفسیات، سماجی سائنسدانوں، اربابِ حکومت و سیاست اور علماء کے سر جوڑ کر بیٹھنے کا بھی اہتمام کریں تاکہ خود پیدا کردہ اسبابِ تباہی سے بچنے کی تدابیر کی جا سکیں۔ عشروں سے جاری انتہا پسندانہ طرزِ عمل سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی، جلسوں میں استعمال ہونے والی ناروا زبان، سیاست و صحافت سمیت ہر شعبے کے ہر فرد کو زد میں لیتے شکوک کے سایوں، خود احتسابی سے گریز، دوسروں کو بہر صورت گنہگار قرار دینے کے رجحان اور اپنی زبان سے ادا ہونے والی گالی کو گالی نہ سمجھنے کے کلچر کی صورت میں ایسے مقام پر نظر آرہا ہے کہ جن بچوں کی تجربے کی آنکھ بھی نہیں کھلی، وہ پختہ کار بزرگوں کی داڑھی پر ہاتھ مار رہے ہیں۔ 

یہ افسوسناک کیفیت فوری اصلاح کی متقاضی ہے۔ لاہور میں امراض قلب کے اسپتال کے اندر اور باہر جو کچھ نظر آیا اس کا ردعمل کم کرنے کے لئے کتنے ہی نرم الفاظ استعمال کئے جائیں، حقیقت یہ ہے کہ دشمن ممالک بھی جب ایک دوسرے کی حدود میں تباہی پھیلانے کے ہر جتن پر تلے ہوئے ہوں تو بھی اسپتالوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ واقعہ چند روز قبل سے جاری کشیدگی کی ایک کڑی تھا۔ اس کشیدگی کی توجیہہ و تشریح فریقین جو کچھ بھی کریں، معاملہ فہمی اور تحمل سے کام لیا جاتا اور وقتی ضروریات کے تحت بعض نعروں کو ہوا نہ دی جاتی تو ایک ایسے المیے سے بچا جا سکتا تھا جو انسانی جانوں کے اتلاف، توڑ پھوڑ، مریضوں اور لواحقین کے لئے قیامت صغریٰ اور ملک کی بدنامی کا باعث بنا۔ 

کالا کوٹ، جسے قائداعظم محمد علی جناح کی عظمتِ کردار اور لیاقت و اہلیت نے دنیا بھر کے لئے تقدس کی علامت بنایا اس سے 11 دسمبر 2019ء کی تکلیف دہ یادیں وابستہ کر دی گئیں جن میں مظفر گڑھ میں عدالتی عملے پر تشدد بھی شامل ہے۔ اگرچہ طبی و نیم طبی عملے کے افراد اور ان کے مریض یلغار کا نشانہ بنے مگر کئی برسوں سے سفید کوٹ نے بھی احتجاج و مطالبات کے نام پر مریضوں اور خود اپنے سینئرز سے جو طرزِ عمل روا رکھا ہوا ہے، اس پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کیا جانا چاہئے۔ جبکہ پی آئی سی کے واقعہ پر صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی بے بسی کا منظر نامہ بھی قابل توجہ ہے۔ پی آئی سی میں جو کچھ ہوا، وہ افسوسناک ہے۔ مگر اس نکتے کو اگر اداروں اور افراد کی سطح پر اپنے اپنے گریبانوں کا جائزہ لینے اور اصلاح احوال کا ذریعہ بنا لیا جائے تو معاشرے اور ملک کے نئے دور کو زیادہ درخشاں بنایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں پہلا قدم پی آئی سی پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہونا چاہئے تاکہ معاشرے کا کوئی فرد خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

وکلا اور ڈاکٹرز کا ایک دوسرے کیخلاف احتجاج، عوام پس گئے

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے افسوس ناک واقعے کے بعد وکلا اور ڈاکٹرز دونوں اپنی اپنی انا پر اڑ گئے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پنجاب بار کونسل اور خیبر پختونخوا بار کونسل کی اپیل پر پی آئی سی حملے میں ملوث 39 وکلا کی گرفتاری، پولیس تشدد اور ڈاکٹرز کے رویے کے خلاف دونوں صوبوں میں وکلا ہڑتال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور مقدمات کی سماعت کے لیے پیش نہیں ہوئے۔ وکلا نے عدالتوں اور کچہریوں کے دروازے بند کر دیئے جس کے نتیجے میں ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہو گئے اور ہزاروں سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی وکلا برادری کالے کوٹ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور پولیس کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر وکلا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے وکلا پر تشدد میں ملوث ڈاکٹروں کی گرفتاری اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ڈاکٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ امراض قلب کا اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بند ہے اور ڈاکٹرز و طبی عملہ غیر حاضر ہے۔ دیگر شہروں کے سرکاری اسپتالوں میں بھی یوم سیاہ منایا جا رہا ہے اور ینگ ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں۔ مختلف ڈاکٹرز تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور وکلا گردی کے خلاف نعرے لگائے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کالی پٹیاں باندھ کر کام کریں گے۔ انہوں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار،وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت،وزیر صحت یاسمین راشد سے مستعفی ہونے اور 24 گھنٹوں میں سیکورٹی بل آرڈیننس لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ڈاکٹرز کے احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زندگی کے 2 اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کے اس افسوس ناک رویے کی قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا : 30 سال میں ایسے مناظر نہیں دیکھے

لاہور میں واقع پنجاب کے دل کے سب سے بڑے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا کے پرتشدد احتجاج کی خبرسنی تو گاڑی کو فین روڈ سے ہی موڑ لیا لیکن ٹریفک جام میں پھنسنے کے بعد جب پی آئی سی پہنچا تو لگا جیسے کوئی جنگ ہو گزری ہے۔ فضا میں آنسو گیس کے اثرات موجود تھے۔ ایمرجنسی کا دروازہ چکنا چور تھا، ریسپشن سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف مڑا تو منظر بالکل ایسا تھا جیسے کسی پناہ گزین کیمپ میں آ گیا ہوں۔ الٹے پلٹے، آڑھے ترچھے بیڈز پر بیٹھے دل کے مریض دل تھامے بیٹھے تھے، اور خالی نظروں سے ان ڈرپس کو دیکھ رہے تھے جو کب کی ختم ہو چکی تھیں لیکن انہیں برنولے سے نکالنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہر ایک بیڈ پر الگ ہی داستان تھی۔ بیڈ نمبر تیس پر بیٹھے ایک ادھیڑ عمر مریض عباس نے آنسو گیس کی وجہ سے آنکھوں سے بہنے والا پانی صاف کرتے ہوئے بتایا، ’ادھر سے مار پیٹ کر کے توڑ پھوڑ کر کے جب وکیل نکلے تو ہمیں لگا مشکل ٹل گئی ہے، لیکن ایسا نہیں تھا۔ تین بار وہ آئے گروپوں کی شکل میں اور ہر بار وہ جس کو دیکھتے مارنا شروع ہو جاتے۔

’یہاں ہمارے سانس بند ہونے شروع ہو گئے، مریض ایک دوسرے کو سہارا دے کر یہاں سے نکلنے لگے، ایک دوسرے کو پانی دیا، کسی کو ڈرپ لگی تھی، کسی سے اٹھا نہیں جا رہا تھا، اور کوئی صدمے سے بے ہوش ہو چکا تھا۔ پتا نہیں اس زہریلی گیس سے ہم کیسے بچ نکلے مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔‘ ہسپتال کے ایک سینٹری ورکر نے بتایا ’ایک بوڑھی مریضہ سٹریچر پر لائی گئیں، وہ دل کے دورے کی کیفیت میں تھیں۔ جس کا بعد میں پتا چلا کہ نام گلشن بی بی اور مغلپورہ کی رہائشی تھیں۔ دو ڈاکٹر ان کو طبی امداد دے رہے تھے کہ وکیلوں نے ہلہ بول دیا اور ڈاکٹروں کو مارنا شروع کر دیا، وہ اس مریضہ کو چھوڑ کر بھاگے تو تھوڑی دیر میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہ ان کے جوان بیٹے کو بھی مار رہے تھے، میں واش روم کے دروازے پر تھا میں نے جلدی اندر گھس کے کنڈی لگا لی۔

پی آئی سی واقعے پر ہر آنکھ اشک بار تھی، میں ایمرجنسی سے آؤٹ ڈور کی طرف بڑھا تو ہر دروازہ ٹوٹا پڑا تھا۔ ایک کمرے میں دل کی مشین سے ٹوں ٹوں کی آواز لگاتار آ رہی تھی، کمرا الٹا پلٹا تھا اور بیڈ خالی، لیکن شیٹ پر خون کے دھبے پوری داستان سنا رہے تھے۔ ایک خاتون لنگڑا کے چل رہی تھیں، مجھے اپنے ساتھ جاتے دیکھ کر اچانک بولیں ’میں نے تیس سال یہاں گزارے ہیں آج تک ایسے مناظر نہیں دیکھے۔‘ میں رکا اور ان کا تعارف پوچھا، انہوں نے بتایا ’میرا نام ڈاکٹر شگفتہ ہے اور میں دل کی ڈاکٹر ہوں، ٹی وی پر مناظر دیکھ کے مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں گھر سے نکل آئی اور اب جو دیکھ رہی ہوں، ٹی وی پر تو ایسا کچھ بھی نہیں دکھا رہے، کوئی انسان یہ کیسے کر سکتا ہے۔‘ آئی سی یو یعنی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تباہی دوسرے مقامات سے مختلف نہ تھی، اور یہ ذہن میں رکھیں کہ آئی سی یو میں صرف وہ مریض رکھے جاتے ہیں جن کے آپریشن یا تو ہونے والے ہوتے ہیں یا ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتے ہیں۔

دو آئی سی یو خالی تھے اور ان کے بیڈ تتر بتر تھے۔ آؤٹ ڈور کے حصے میں بھی پہنچنے پر کم و بیش یہی مناظر تھے۔ آؤٹ ڈور کا دروازہ مکمل تباہ ہو چکا تھا اور اس کے کونے میں پڑے کرسمس ٹری کی بتیاں جل رہیں تھیں، اس کے اوپر اور نیچے شیشوں کی کرچیاں بکھری پڑی تھیں۔ آؤٹ ڈور سے باہر نکل کے دیکھا تو لمبی راہداری میں ایک خالی سٹریچر پڑا تھا جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ اس پر کسی مریض کو لایا جا رہا تھا لیکن کیا وہ اندر پہنچ سکا تھا؟ اس ساری صورتحال کے بعد وکیل رہنما اور ممبر پاکستان بار کونسل اعظم نظیر تارڑ کو فون کیا اور میرا پہلا جملہ تھا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ اور ساتھ ہی بولا آپ کا بولا ہوا ایک ایک لفظ میں لکھوں گا انہوں نے ایک گہری سانس لی اور گویا ہوئے ’یہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے جس کی کوئی توجیح نہیں دی جاسکتی لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اس میں مجرم صرف وکیلوں کو تصور نہ کیا جائے ہر اس شخص کو کٹہرے میں لایا جائے جو ذمہ دار ہے اور میرے نزدیک پہلی ذمہ داری وکیلوں پر دوسری ینگ ڈاکٹرز اور تیسری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اس ہسپتال میں نومبر میں ہونے والا واقعہ جس میں تین وکیلوں کو مارا گیا اسی وقت حل کر لیا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ ’پولیس کو جب پتا تھا کہ تین سو کے لگ بھگ وکیل احتجاج کرنے پی آئی سی آرہے ہیں تو کیوں نہ سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے۔ لاہور بار میں 20 ہزار وکیل رجسٹرڈ ہے صرف تین سو نے یہ حرکت کی کیا انتظامیہ اتنی نااہل ہے کہ تین سو بندوں سے ہسپتال تباہ کروا لیا؟ اور آخری بات یہ کہ وکلا کے الیکشن اگلے مہینے ہیں اس لیے تمام دھڑے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو اخلاقا نہیں کرنے چاہیے لیکن یہ ہوتا ہے انتظامیہ کو اس نفسیات کا بھی پتہ ہے پھر بھی آنکھ بند کرنا سمجھ سے باہر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جن وکیلوں نے بھی یہ حرکت کی ہے کمیونٹی میں ان کی پذیرائی نہیں ہے۔

رائے شاہنواز

بشکریہ اردو نیوز

انجام گلستاں کیا ہو گا ؟؟

یہ 18 جنوری 2019 کی بات ہے۔ کئی دن سے بھوکی ملازمہ نے اپنی مالکن کی بیٹی کو ناشتہ لا کر دیا۔ ناشتے میں قیمہ بھی موجود تھا۔ ملازمہ نے حسرت سے مالکن کی بیٹی منتہا کی پلیٹ پر نظر ڈالی اور اس کی بھوک مزید بھڑک اٹھی۔ منتہا کی نظر اپنی پلیٹ سے چُوکی وہ کسی اور کام یا بات میں لگ گئی اور اس طرح ملازمہ نے منتہا کی پلیٹ سے قیمہ کا ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا ۔ منتہا تو اس “کریہہ منظر” کو نہ دیکھ سکی کہ ایک  دو ٹکے کی ملازمہ نے اس کی پلیٹ میں سے قیمے کا ایک نوالہ اٹھا لیا ہے لیکن منتہا کی ماں ماہ رخ نے اپنی بیٹی کے کھانے کو جھوٹا کرتے دیکھ لیا تھا۔ ماہ رخ سے یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوسکی اور اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چائے کی پتیلی اپنی 16 سالہ ملازمہ کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سر گدی کے پاس سے لہولہان ہو گیا ۔

اتنی نازک جگہ سے خون کا فوارہ نکلنے کے باوجود ماں بیٹیوں نے اسے اسپتال لے جانے کی زحمت بھی نہ کی اور گھریلو ٹوٹکوں سے خون روکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ خون تو رک گیا لیکن زخم اتنا شدید تھا کہ اگلے دن رات میں ہی 16 سالہ عظمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ سفاکیت کی یہ داستان صرف اتنی ہی نہیں تھی بلکہ ماہ رخ نے اپنی نند رٰیحانہ اور اپنی اداکارہ بیٹی کی مدد سے رات میں لاش گاڑی کی ڈگی میں ڈالی، اقبال ٹاؤن، نیلم بلاک کے نالے کے راستے میں ایک ریسٹورینٹ سے لاش کی گاڑی میں موجودگی کے باوجود سکون سے برگر کھایا اور رات 2:30 بجے لاش کو نالے میں ڈال دیا۔ صبح پولیس کو فون کر کے ماہ رخ نے بتایا کہ ان کی ملازمہ گھر کا قیمتی سامان اٹھا کر فرار ہو گئی ہے۔ پانچ بہن بھائیوں میں سے 16 سال کی عظمی کی ماں کا انتقال تو بچپن میں ہی ہو چکا تھا۔

کہتے ہیں کہ اگر باپ مر جائے تو ماں، باپ بن کر بچوں کو پال لیتی ہے لیکن اگر ماں مر جائے تو پھر باپ بھی باپ نہیں رہتا ہے۔ سیکورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کرنے والے عظمی کے باپ نے چار پیسوں کی لالچ میں اس معصوم بچی کو لاہور اقبال ٹاؤن کے “مذبح خانے” میں صرف 4500 روپے کے عوض گروی رکھوا دیا۔ آٹھ مہینے اس بچی نے وہاں کام کیا لیکن پچھلے تین مہینوں میں ایک بھی دفعہ اس کی مالکن نے باپ سمیت کسی کو بھی نہ بچی سے ملنے دیا اور نہ ہی فون پر بات کرنے دی۔ جب بھی مہینے کے شروع میں عظمی کا باپ جاتا تو بالکونی سے ماہ رخ 2500 روپے نیچے پھینک دیتی اور بے حس باپ یہ پیسے لے کر خاموشی سے واپس گھر آجاتا۔ ان آٹھ مہینوں میں اس بچی پر نہ جانے کیا کچھ گذری ہو گی اور ظلم کی انتہا یہ تھی کہ سخت گرمی اور یخ سردی میں بھی رات گذارنے کے لئیے عظمی کو باتھ روم کے اندر جگہ دی ہوئی تھی جہاں ڈبلیو – سی کے ساتھ ہی وہ سوتی تھی۔

آپ دوسری کہانی بھی ملاحظہ کر لیں۔ 19 جنوری 2019 کو پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹ نے اپنے بیوی بچوں اور دوست کے ساتھ اپنے بھائی کی شادی میں جانے والے محمد خلیل کی گاڑی کو روکا، پوچھ گچھ کی اور پھر اچھی طرح سے یہ جاننے اور پہچاننے کے بعد کہ اس سوزوکی آلٹو میں 4 بچے اور میاں بیوی موجود ہیں پوری حیوانیت کے ساتھ فائر کھول دئیے۔ فائرنگ اتنی قریب سے کی گئی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جسم کے جن حصوں پر گولیاں لگی ہیں وہ جل گئے ہیں اور گولی لگنے والی جگہ صرف اسی صورت میں جل سکتی ہے جبکہ گولی صرف 1 فٹ سے بھی کم فاصلے سے ماری گئی ہو۔ دریائے فرات کے اس پار کتا مرنے کا قصہ اور ذہنی معذور بچوں کے دماغوں کی تصاویر دکھانے والے وزیر اعظم صاحب کو کوئی بتائے کے بچے ذہنی معذور کیوں ہوتے ہیں یا پتا نہیں وزیر اعظم صاحب کو ٹی وی کے ذریعے معلوم بھی ہو سکا یا نہیں لیکن بےحسی کمال کی ہے۔

ریاست ماں ہوتی ہے لیکن جب ماں بھیڑئیے کا روپ دھار لے اور تو رعایا کہاں جائے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمھارے اعمال ہی تمھارے حکمران ہیں ” اور کہتے ہیں کہ پانی تو ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری عوام جتنی بے حس اور سفاک ہے حکمران اس سے دس گنا زیادہ سفاک اور بے حس ہیں۔ ایک شخص کفن چوری کیا کرتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا دیکھو بیٹا ! میں نے ساری زندگی کفن چوری کئیے ہیں میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد تم کچھ ایسا کام کرو کہ لوگ مجھے اچھے الفاظ سے یاد کریں۔ یہ کہنے کے بعد باپ کا دم نکل گیا۔ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے نے نہ صرف کفن چوری کرنا شروع کر دئیے بلکہ مردوں کی بے حرمتی بھی شروع کر دی۔ باالآخر تنگ آکر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ” ارے او بے غیرت! تجھ سے زیادہ شریف تو تیرا باپ تھا” اور اس طرح بیٹے نے اپنے باپ کی وصیت پوری کر دی۔

ہماری اس حکومت نے بھی کفن چوری کے ساتھ جس طرح مردوں کی بےحرمتی شروع کی ہے لوگ چیخ اٹھے ہیں کہ آپ سے اچھی تو پہلی حکومت تھی۔ انسانی زندگی کا وہ کونسا پہلو اور حصہ ہے جس کو ہماری حکومت اور “مدینہ ثانی” کے سربراہ نے مکمل طور پر تہہ و بالا نہ کر کے نہ رکھ دیا ہو۔ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا”خلیفہ! مجھے حج پر جانا ہے کچھ امداد کر دیں۔ خلیفہ نے جواب دیا “حج پر جانے کے لئے پہلی شرط استطاعت ہے، جب تمھاری استطاعت ہی نہیں ہے تو حج پر کیوں جانا چاہتے ہو؟ اس سوالی نے جواب دیا “امیر المومنین! میں نے امداد مانگی ہے مشورہ نہیں”۔ جس ریاست میں پیٹرول پر 59 پیسے کم ہوتے ہوں اور حج پر 1 لاکھ 59 ہزار روپے بڑھائے جاتے ہوں تو اس ریاست کو شریعت اور فقہ سے دلائل دیتے ہوئے تھوڑی سی شرم تو آنی چاہئیے۔

دنیا بھر میں پہلے تعمیر ہوتی ہے، پہلے لوگوں کو سہولت دی جاتی ہے ۔ کاروبار کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں، بہت سارے معاملات میں ریلیف دیا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بگاڑ کو سدھار کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ یہ کونسی تبدیلی ، کونسا سدھار اور کونسی تعمیر ہے کہ لوگ آپ سے پہلے والے کفن چور کو دعائیں دینے اور یاد کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ہم پاکستانی عوام بھی عجیب مخلوق ہیں۔ ہم جس کو ووٹ دیتے ہیں ہمیں اس کا ظلم بھی احسان لگنے لگتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے سوچنے کے زاویے تک بدل جاتے ہیں۔ وہی بے رحمی، وہی مہنگائی، وہی قرضے، وہی بے حسی، وہی انصاف کی عدم فراہمی، وہی پروٹوکول اور وہی غریب کا استحصال لیکن جو کام سات مہینے پہلے ناجائز اور حرام تھا اب وہی عین عبادت ٹہرا ہے۔

پہلے ان کاموں کی مخالفت عین جہاد تھا اب ان کا دفاع جہاد قرار پایا ہے۔آپ یقین کریں اگر آج اللہ تعالی جنید بغدادی اور ابراہیم بن ادھم کو بھی ہم پر حکمران بنا دے تو وہ بھی کل یہ حکومت آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان کے حوالے کر کے چلے جائینگے۔ اللہ منافقوں، ظالموں اور بے حسوں پر منافق، ظالم اور بے حس ہی مسلط کرتا ہے اپنے ولیوں کو نہیں بٹھاتا ہے اور یہی اللہ کا قانون ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا : کفر کا معاشرہ زندہ رہ سکتا ہے لیکن ظلم کا معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا اور آقائے دو جہانﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ “مظلوم کی بد دعا سے ڈرو یہ سیدھا اللہ تعالی کے عرش تک جاتی ہے”۔ جہاں ہر دوسرے گھر میں کوئی عظمی موجود ہو ، ہر دوسرے شہر کے ہر دوسری گلی میں تھانے کا ایس ایچ  او اور عام سپاہی تک سی ٹی  ڈی کا کردار ادا کر رہا ہو اور عوام سے لے کر ریاست تک مظلوموں کی بددعاؤں کا شکار ہو اس ملک پر اللہ کیسے اپنا رحم کر سکتا ہے؟ شاعر نے کہا تھا:

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟؟

جہانزیب راضی

طیبہ بچ گئی، عظمیٰ نہیں بچ پائی

پچھلے ہفتے لاہور کی آبادی اقبال ٹاؤن میں ایک خاتون نے اپنی گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پر قتل کر کے اس کی لاش گندے نالے میں پھینک دی۔ ایک نجی ٹی وی کے انوسٹیگیٹو رپورٹر نے اس سانحے کو مہم میں بدلنے کی کوشش کی لیکن ایک ہفتے کے اندر اندر ہی معاملہ سرد پڑ گیا۔ بچی کی عمر اس کے باپ کے بقول 15، 16 سال تھی۔ محلے کی خواتین نے اس پر مبینہ تشدد کا ذکر کیا، جسے علاقے کے ایس ایچ او نے بیک جنبشِ سر مسترد کر دیا۔ عظمیٰ کی موت سے ایک روز قبل کی مبینہ ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مدت سے ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار تھی، جس کے باعث اس کا ذہنی توازن بھی درست نہیں لگ رہا۔

عظمیٰ کی مبینہ قاتلہ کا کہنا ہے کہ اس نے بیٹی کی پلیٹ میں سے قیمہ چکھا تھا اور کھانا جھوٹا کر دیا تھا اس لیے میں نے دودھ کے پوے سے اس کے سر پر ضرب لگائی جس سے وہ پہلے بے ہوش ہوئی پھر دوا دینے سے ٹھیک ہو گئی۔ رپورٹر کے مطابق اسے گھر میں بجلی کے جھٹکے دے کر ہوش میں لایا گیا۔ طیبہ ڈھیٹ تھی، بچ گئی۔ عظمیٰ نہیں بچ پائی۔ کچھ روز میں سب بھول جائیں گے۔ بہت ہو گا تو چائلڈ لیبر کے لیے دو ایک دھانسو مضمون لکھ لیے جائیں گے، کچھ سیمینار، چند واکس اور مظاہرے، مسئلے کا دائمی حل کیا ہے؟

پاکستان کی مڈل کلاس ایک ایسا طبقہ ہے جو امرا کی طرح مہنگے ملازم رکھنے کی پسلی نہیں رکھتے لیکن چونکہ معاشرے میں ملازمین کا چلن بے تحاشا بڑھ چکا ہے اس لیے بچت کی یہ ترکیب نکالی جاتی ہے کہ چھوٹے بچوں کو کم پیسوں پر گھر میں رکھ لیا جاتا ہے۔ ماں باپ کو یہ لالچ ہوتا ہے کہ سارا دن گلیوں میں رلنے اور جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے چڑھنے کی بجائے یہ بچے کسی امیر گھر میں رہیں گے۔ کام کاج کا یہ ہے کہ یہ بچے اپنے گھروں میں سب طرح کا کام کرتے ہیں۔ ایک سات آٹھ سال کی بچی، برتن بھی دھو لیتی ہے، آٹا بھی گوندھ لیتی ہے اور چھوٹے بہن یا بھائی کو سارا دن گود میں بھی سوار رکھتی ہے۔ یہ بچے یہ ہی کام اگر کسی اور کے گھر میں کرتے ہیں اور اس کے بدلے ماں باپ کو پانچ چھ ہزار مہینہ بھی مل جاتا ہے، پرانا کپڑا لتا اور علاج معالجے کو زکوۃ کے پیسے بھی تو کیا مضائقہ ہے؟

اکثر اوقات یہ انتظام بہت اچھا چلتا ہے۔ بچے، گھروں میں محفوظ رہتے ہیں، انھیں اچھا کھانے پہننے کو ملتا ہے، اچھی تربیت اور کئی لوگ انھیں پڑھا لکھا بھی دیتے ہیں۔ اس طرح وہ بچے جو جھونپڑیوں اور غریب آبادیوں میں رہ کر بیماریوں اور سماجی برائیوں کا شکار ہو سکتے تھے، معاشرے کے فعال رکن بن جاتے ہیں۔ مگر سب بچے خوش نصیب نہیں ہوتے۔ کچھ بچے ایسے گھروں میں چلے جاتے ہیں جہاں خاتونِ خانہ یا گھر کا کوئی فرد بد فطرت ہوتا ہے۔ ایسے بچے بہت برے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ عظمیٰ کی عمر اگر 15 سال مان لی جائے تو یہ کیس چائلڈ لیبر کا معاملہ نہیں رہتا لیکن کیا صرف اس بنا پہ اس سانحے کو فراموش کیا جا سکتا ہے؟

یہ بچے جو اپنی رضا کے بغیر ایک ایسی دنیا میں آ گئے جہاں ان کے لیے بنیادی ضروریات بھی موجود نہیں ان کا مقدمہ کون لڑے گا ؟ چائلڈ لیبر پر پابندی لگا دینے سے کیا ان کی صحت، خوراک اور تربیت کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ عظمیٰ اور طیبہ جیسے واقعات کو لاکھوں میں ایک قرار دے کے صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے سے کیا ہم رات کو سکون کی نیند سو سکیں گے؟ یہ بھوکے ننگے، مفلوک الحال بچے، جو زندہ رہنے کے جرم میں مارے جارہے ہیں، ان کے مسائل پر اپنے سماجی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے، زمینی حقائق کی روشنی میں حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حل کمیونٹی کی سطح پر بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں اور سرکاری طور پر بھی۔

بات تو تلخ ہے لیکن ایک سچائی یہ بھی ہے کہ ان کے مسائل کا حل اتنا آسان نہیں۔ سماجی ڈھانچے کی صدیوں کی شکست و ریخت کے بعد، آج ہمارے سامنے شہری غربت کی جو شکل دانت نکوسے کھڑی ہے وہ اتنی بھیانک ہے کہ اس سے نظریں چرانے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک مکمل نیا سماجی ڈھانچہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے بات تصویریں کھنچوانے اور فیتے کاٹنے سے کہیں آ گے جا چکی ہے، جاگیے اور سوچیئے، اگرعظمیٰ آپ کی بیٹی ہوتی تو کیا ہوتا؟

آمنہ مفتی
مصنفہ و کالم نگار

بشکریہ بی بی سی اردو