غدار سازی کی قانونی فیکٹری

وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بدترین قوانین بھی بہترین نیت سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ریاست بھلے جمہوری ہو کہ فسطائی کہ سامراجی کہ آمرانہ کہ نظریاتی۔ جب بھی کوئی تادیبی قانون نافذ کرتی ہے تو ایک جملہ ضرور کہا جاتا ہے ’’ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے‘‘۔ اور پھر یہی قانون ہر گدھے گھوڑے کو قطار میں رکھنے کے کام آتا ہے۔ بس انھی پر لاگو نہیں ہوتا جن کی سرکوبی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ خوف سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ جب انگریز نے انڈین پینل کوڈ میں اب سے ایک سو اکسٹھ برس پہلے غداری سے نپٹنے کے نام پر آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کا ٹیکہ لگایا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو انگریز سرکار کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جائے۔ انگریز تو چلا گیا، خود برطانیہ میں بھی ایسے قانون کا وجود نہیں مگر انڈیا اور پاکستان کے سانولے آقاؤں نے گورے کے مرتب کردہ لگ بھگ پونے دو سو برس پرانے نوآبادیاتی پینل کوڈ کے اندر سے تادیبی ضوابط کو چن چن کر اماں کے جہیز میں ملے منقش لوٹے کی طرح آج بھی سینے سے لگا رکھا ہے۔

مثلاً نوآبادیاتی دور کی یادگار پینل کوڈ کا آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کسی بھی شہری کو غدار قرار دے سکتا ہے، اگر حکومت ِ وقت کی نظر میں اس شہری نے اپنی زبان یا تحریر سے، براہ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں کنایوں میں یا کسی اور طریقے سے سرکار کی توہین کرنے یا اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہو۔ ایسے غدار کو تین برس سے عمر قید تک سزا ہو سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت قانون کے دائرے میں آزادیِ اظہار کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے مگر پینل کوڈ کے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے، اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے ایکٹ اور اسی کے دیگر چچیرے ممیرے قوانین کے تحت دونوں ملکوں میں اس آئینی آزادی کو بیڑیاں پہنانے کا بھی تسلی بخش انتظام رکھا گیا ہے۔ تادیبی قوانین کو کیسے موم کی ناک بنا کر انھی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے کہ جن کے تحفظ کے نام پر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ایمرجنسی کے تحت ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) کا قانون تھا۔ جسے نہ صرف ایوبی و یحییٰ آمریت بلکہ بھٹو دور میں بھی سیاسی مخالفین کی تواضع کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ایمرجنسی قانون کا حکمران کو سب سے بڑا اور فوری فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کسی بھی منہ پھٹ کی زباں بندی کے لیے اسے بنا کسی فردِ جرم نوے دن کے لیے جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ ضیا دور میں نفاذِ شریعت کے نام پر جو تعزیری قوانین بنائے گئے اور پینل کوڈ میں جو ترامیم کی گئیں ان کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا کہ عوام ایک نوآبادیاتی قانونی شکنجے سے آزاد ہو کر اس نظام کے تحت محفوظ زندگی بسر کر سکیں جس کے نفاذ کے لیے دراصل یہ ملک بنایا گیا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ شرعی تعزیری قوانین کو بھی سیاسی مخالفین کو لگام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس کی چاندی ہو گئی۔ اگر مٹھی گرم ہو گئی تو ملزم کے خلاف اینگلو سیکسن قانون کے تحت پرچہ کٹ گیا۔ نہ بات بنی تو ایف آئی آر میں تعزیری دفعات شامل کر دی گئیں۔ اب یہ ملزم کا کام ہے کہ وہ کبھی اس عدالت میں تو کبھی اس عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں جوتے گھساتا رہے۔

سرحد پار بھارت میں آرٹیکل دو سو چوبیس اے کے تحت کیسے کیسے غدار اور دہشت گرد پکڑے گئے۔  بال گنگا دھرتلک، گاندھی جی نوآبادیاتی دور میں اس آرٹیکل کے جال میں پھنسے۔ دورِ مودی میں کانگریسی رہنما ششہی تھرور، گجرات کے کسان رہنما ہاردک پٹیل، نامور ادیبہ اور سیاسی نقاد ارودن دھتی رائے، طالبِ علم رہنما کنہیا کمار ، معروف اداکارہ کنگنا رناوت ، سرکردہ صحافی راج دیپ سر ڈیسائی، ونود دعا، مرنال پانڈے، ظفر آغا ، کارٹونسٹ اسیم ترویدی وغیرہ وغیرہ۔ دو ہزار دس سے دو ہزار بیس تک کے دس برس میں انڈیا میں غداری کے آٹھ سو سولہ مقدمے درج کیے گئے۔ ان میں سے پینسٹھ فیصد پرچے مئی دو ہزار چودہ میں مودی سرکار بننے کے بعد کاٹے گئے۔ ایسے ایسے غدار گرفتار ہوئے کہ اصل غداروں نے بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ مثلاً گجرات کے ایک صحافی پر اس لیے غداری کا پرچہ کاٹ دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی کہ جلد ہی گجرات کی ریاستی قیادت بدلنے والی ہے۔ یو پی میں جب ایک صحافی نے ریپ ہونے والی ایک لڑکی کے گھر جا کر حقیقت جانے کی کوشش کی تو وہ بھی آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے تحت دھر لیا گیا۔

ریاست منی پور میں ایک رپورٹر نے جب سوشل میڈیا پر بی جے پی کے ایک صوبائی رہنما کی بیوی کی پوسٹ کا جواب دیا تو وہ بھی غداری میں پکڑا گیا۔ ایک شہری نے فیس بک پر ایک مودی مخالف کارٹون شئیر کیا تو اس کے ساتھ بھی یہی بیتی۔ ماحولیاتی تحریک سے وابستہ بائیس سالہ کارکن دیشا روی گریٹا تھون برگ کا ٹویٹ شئیر کرنے پر پولیس کے ہاتھوں پرچہ کٹوا بیٹھی۔ ریاست کرناٹک کے ایک اسکول میں جب بچوں نے شہریت کے نئے قانون سے متعلق ڈرامہ پیش کیا تو ایک دس سالہ بچی کے منہ سے ادا ہونے والے ایک جملے کے جرم میں اس کی ماں کو پکڑ لیا گیا اور اسکول کی پرنسپل اور عملے پر غداری کا پرچہ ہو گیا۔ پاکستان میں ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو اور سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی سمیت چوہتر برس میں متعدد سیاسی رہنما ، سماجی و سیاسی کارکن ، صحافی ، ادیب اور دانشور آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے غدار بنے۔ چند ماہ قبل مسلم لیگ نون کی لاہور میں نکلنے والی ایک ریلی کے بعد لگ بھگ ڈھائی سو لوگوں پر یہ قانون ٹھوک دیا گیا۔

سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سہولتوں کی کمی پر وائس چانسلر دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے طلبا اور لاہور میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے جلوس نکالنے والے بیسیوں نوجوان بھی غداری کے پرچے میں پھنس گئے۔ گویا قانون نہ ہوا اندھے کی لاٹھی ہو گئی جیسے چاہے گھما دی۔ اس برس جنوری میں پاکستانی سینیٹ کی قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کو قانون کی کتابوں سے نکالنے کا پیش کردہ بل منظور کیا جانا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ انڈین سپریم کورٹ کا جانے مانے صحافی ونود دعا کو غداری کے الزام سے بری کرنا بھی خوشی کی خبر ہے۔ ونود دعا پر گزشتہ برس مارچ میں اس وقت غداری کا پرچہ کاٹا گیا جب انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کوویڈ لاک ڈاؤن کے سبب بھارت کے مختلف علاقوں میں پھنس جانے والے لاکھوں مزدوروں کی تکلیف کا ذمے دار سرکاری پالیسیوں کو قرار دیا۔

انھیں بری کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک بار پھر یہ اصول دھرایا گیا ہے کہ سرکاری پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر کڑی سے کڑی تنقید بھی غداری کے دائرے میں نہیں آتی۔ ایسی تنقید جو سدھار کی نیت سے کی جائے ایک صحت مند سماج کی نشانی ہے۔ حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ ایسے قانون پھٹیچر ہو چکے ہیں۔کوئی بھی اعلیٰ عدالت ان کے تحت بنائے گئے زیادہ تر مقدمات ایک سماعت میں ہی خارج کر دے گی۔ مگر ضمانت ہوتے ہوتے ملزم کو کم ازکم دباؤ میں تو رکھا ہی جا سکتا ہے۔ اس کی ناک تو رگڑی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ایسے قوانین کتابوں سے خارج کرنے کا کسی بھی سرکار کا دل نہیں چاہتا۔ دل بس تب چاہتا ہے جب سرکاری پارٹی اپوزیشن کی بنچوں پر جا بیٹھتی ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

میڈیا آرڈیننس

شہری، سول سوسائٹی اور میڈیا ہوشیار! آزادی اظہار پہ مارشل لائی طرز کی میڈیا پابندیاں لاگو کرنے کے لیے کرم خوردہ بندشوں کے پرانے نسخوں کو اکٹھا کر کے ایک مجوزہ آرڈیننس کے بم کی رونمائی کر دی گئی ہے اور وجہ نزول کے لیے ایک خیالی پیپر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق سہارا بھی لیا گیا ہے تو یورپین یونین، برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے کمیونیکیشن کے ریگولیشنز کا ، جہاں آزادی اظہار پہ کسی طرح کی بندش گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس میں بظاہر دسیوں اداروں اور ایجنسیوں کو یکجا کر کے تمام طرح کے میڈیا کو ہر ’’سہولت‘‘ فراہم کرنے کی آڑ میں ایک بڑے ہی طاقتور اور جابرانہ ادارے کو ہر طرح کا اختیار تفویض کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ آزادی اظہار کی تسلی کے لیے آرڈیننس کے ابتدائیہ میں شاعرانہ فصاحت سے کام لے کر طفلانہ تسلی دینے کے بعد آرڈیننس کے متن میں تمام طرح طرح کی بندشوں، سزائوں ، کلی اختیارات اور ذہنی شکنجے کسنے کے مکمل ترین انتظامات کر دئیے گئے ہیں۔ بچا کوئی نہیں اور بچنے کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا گیا۔

اس میڈیا اتھارٹی کا دائرہ ہمہ گیر اور ہمہ طرف ہے۔ کیا اخبارات، کیا ٹیلی وژن، کیا ریڈیو، کیا سوشل میڈیا، کیا شہری آن لائن صحافت اور اظہار کی کوئی بھی صورت ‘ دم توڑ جائے گی۔ میڈیا اور شہری میڈیا سے متعلق تمام تر ادارے ایک چھت تلے جمع کر دئیے گئے ہیں اور ان کے تمام اختیارات اب ایک آہنی ہاتھ میں ہوں گے۔ اسی طرح تمام مروجہ قوانین اور ضوابط کی جگہ ایک ہی آرڈیننس کے آہنی ہاتھ میں ہوںگے۔ مختلف طرح کے میڈیاز کو کنٹرول کرنے کے لیے اس ہشت پا کے مختلف بازو ہوں گے۔ اس کی بنیاد اس گمراہ کن مفروضے پہ رکھی گئی ہے کہ میڈیا ریاست کا ایک ستون ہے اور میڈیا کے لیے اس کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے بعد آزادی اظہار کے پلے کچھ نہیں بچتا۔ اس اتھارٹی کے قیام سے‘ جو حکومتی پالیسیوں اور احکامات کی پابند ہو گی کے ہاتھوں آزاد میڈیا کی تو گویا تدفین ہو جائے گی۔ تمام تر میڈیا کے لیے اس واحد میڈیا اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ 21/22 کا افسر وفاقی حکومت مقرر کرے گی دیگر 5 اراکین بطور سرکاری اہلکار اس کے اراکین ہوں گے جن میں ایف بی آر، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری پر مشتمل ہوں گے اور باقی چھ اراکین بھی وزیراعظم کے نامزد کردہ ہوں گے۔

گویا یہ اتھارٹی وزیراعظم کی حکومت کی نامزد کردہ ہو گی جس پر پبلک سرونٹس ہونے کے ضوابط لاگو ہوں گے۔ اس اتھارٹی کے اراکین الیکشن کمیشن کے اراکین کی طرح پارلیمنٹ میں دو طرفہ اتفاق رائے سے نامزد نہیں ہوں گے تاکہ یہ انتظامیہ سے آزاد نہ رہ سکیں۔ اس نوآبادیاتی طرز کی نوکر شاہی اتھارٹی جو انتظامیہ کا بڑا ہتھیار ہو گی کو ہر طرح کے اختیارات بھی تفویض کر دئیے گئے ہیں۔ یہ اتھارٹی اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، آن لائن میڈیا، سوشل میڈیا اور بلاگرز کو لائسنس اور این او سی دینے کی مجاز ہو گی جس کی کہ پہلے سکیورٹی کلیئرنس ہو گی جو قومی سلامتی کے ادارے کریں گے۔ ہر برس لائسنسز کی تجدید ہو گی اور پندرہ برس کے بعد از سر نو اجرا ہو گا۔ یہی لائسنس نیلام کرے گی، فیس لے گی، جرمانے کرے گی، سزائیں دے گی، سرکولیشن کا تعین کرے گی، ریٹنگ کا جائزہ پیش کرے گی، مواد کو چھانے گی اور رد کرے گی اور شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان کے کمپیوٹرز اور کمیونیکیشن کے آلات برآمد کرے گی اور جانے کیا کچھ۔ اب اتنا سارا کام ایک چیئرمین تو کرنے سے رہا۔

اتھارٹی، ایک کمیشن نامزد کرے گی۔ مختلف میڈیاز کے لیے ونگز بنائے گی، شکایات کونسلز تشکیل دے گی اور خود ہی اپنا عدالتی نظام یعنی میڈیا ٹربیونلز تشکیل دے گی جس کے فیصلوں کے خلاف ہائیکورٹس کو اپیل سننے کا حق نہ ہو گا۔ مختلف طرح کی خلاف ورزیوں پر اس کے ٹربیونلز تین سال تک سزائیں اور اڑھائی کروڑ تک جرمانہ بھی کر سکیں گے۔ ادارے کے کرتا دھرتا بیوروکریٹس ہوں گے جن کی نکیل وزیراعظم اور ان کے وزیر اطلاعات کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس اتھارٹی کا تصور ایک طرح سے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے مرکزی آمرانہ اختیارات سے مستعار لیا گیا دکھائی دیتا ہے۔ ہر طرح کا لیوریج اور آلہ ء کنٹرول اس اتھارٹی کو دے دیا گیا ہے۔ لائسنس ہو یا سرکولیشن، ریٹنگ ہو یا مواد، پالیسی ہو یا ضابطہ اخلاق، اشتہارات ہوں یا مراعات سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ معاملہ فقط مصلوب شدہ روایتی اور غیرروایتی میڈیا کا نہیں، شہریوں کے حقِ اظہار اور حقِ جانکاری کا ہے۔ اب کوئی شہری اپنا بلاگ، وی لاگ یا سوشل میڈیا پہ اپنا کھاتہ کھولے گا تو اسے بھی لائسنس درکار ہو گا او راس کی سکیورٹی کلیئرنس بھی۔

قومی سلامتی کی ریاست میں شہریوں کا حق خود ارادیت یا حق رائے دہی ہی نہیں چھینا گیا، بلکہ اب حق اظہار بھی چھیننے کے بھاری بھرکم انتظامات کیے جانے ہیں۔ خوش بختی ہے کہ میڈیا کی تمام تنظیموں نے اسے متفقہ طور پر مکمل طو رپر مسترد کر دیا ہے اور بار ایسوسی ایشنز، پی ایف یو جے اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے آزادی اظہار پہ ایک قومی کنونشن اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔ ملک کی بڑی جماعتوں نے بھی اسے سختی سے رد کر دیا ہے لیکن حکومت اور مقتدرہ اسے ایک آرڈیننس کے ذریعہ لاگو کرنے پہ تلی بیٹھی ہیں۔ پاکستان میں آزادی اظہار اور حق جانکاری، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک ہمہ گیر مزاحمت اور جدوجہد کا تقاضہ ہے کہ تمام سول سوسائٹی، میڈیا کی تنظیمیں، وکلا اور محنت کشوں کی انجمنیں اور جمہوری عناصر متحد ہو کر اس نئے جابرانہ کنٹرول کے نظام کو بروئے کار لانے کی تمام تر کوششوں کا سدباب کریں۔ حق اظہار کے بغیر، شہری آزاد نہیں اور آزاد شہری کے بغیر جمہوریت نہیں، جمہوریت کے بغیر جمہوریہ نہیں اور جمہوریہ کے بغیر اقتدار اعلیٰ کے حامل رائے دہندگان نہیں اور آزاد و مقتدر عوام کے بنا کوئی ریاست نہیں۔

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے
لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

امتیاز عالم

بشکریہ روزنامہ جنگ

جھوٹے میڈیا کے جھوٹے لوگ

میرے والد مجھے وکیل بنانا چاہتے تھے یا پھر سی ایس پی دیکھنا چاہتے تھے لیکن میں صحافی بننا چاہتا تھا‘ میں نے لاء کی تعلیم درمیان میں چھوڑی‘ پنجاب یونیورسٹی سے بھاگا اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جرنلزم میں داخلہ لے لیا‘ یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی‘ گولڈ میڈل لیا اور 1992 میں نوائے وقت لاہور میں جاب کر لی‘ میری تنخواہ 14 سو روپے تھی اور کام چپڑاسی کا تھا‘ میں سینئرز کے لیے چائے لاتا تھا‘ کولر سے پانی لا کر دیتا تھا اور ان کے کندھے بھی دباتا تھا‘ میری کل صحافت سلگ رجسٹر اور پروف ریڈنگ تک محدود تھی‘ والد خوش حال تھے لیکن وہ مجھ سے ناراض تھے چناں چہ میرا کل اثاثہ 14 سو روپے تھے‘ میں ہزار مرتبہ تسلیم کر چکا ہوں میرے پاس سائیکل بھی نہیں تھی‘ میں روز چھ کلو میٹر پیدل چل کر دفتر پہنچتا تھا‘ کمرے کا کرایہ 18 سو روپے تھا‘ چار سو روپے کا ڈیفسٹ تھا‘ کھانا پینا اس کے علاوہ تھا۔

لہٰذا میں خسارہ پورا کرنے کے لیے دوسری نوکری پر مجبور ہو گیا‘ میں دن کے وقت نوائے وقت میں کام کرتا تھا اور شام کے وقت مون ڈائجسٹ میں ادیب جاودانی مرحوم کے لیے فیچرز لکھتا تھا‘ وہ مجھے ہزار روپے دیتے تھے اور یوں میں کھانے‘ پینے اور رہائش کے قابل ہو جاتا تھا‘ مجھے اس مشقت نے سبق دیا باعزت اور خوش حال زندگی کے لیے انسان کے پاس کام‘ کام اور کام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا لہٰذا وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں نے کسی بھی زمانے میں تین سے کم کام نہیں کیے‘ آپ میرے 28 سال پرانے کولیگز سے پوچھ لیں یہ میرے نظریات‘ میرے لائف اسٹائل اور میرے مزاج پر اعتراض کر سکتے ہیں لیکن میں نے پیدل زندگی سے لگژری لائف تک جتنی محنت کی یا میں آج بھی جتنی مشقت کرتا ہوں ان میں سے ہر شخص اس کی گواہی دے گا‘ لوگ مجھ سے ٹائم مینجمنٹ اور وقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال سیکھتے ہیں۔

میں اعتراف کرتا ہوں میرے پاس ﷲ اور محنت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا‘ میرے پاس آج بھی ﷲ اور محنت کے سوا کچھ نہیں لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے مجھے جتنی ایڑیاں رگڑنا پڑیں‘ مجھے زندگی کے توے پر جتنا بیٹھنا پڑا یہ بھی میں جانتا ہوں یا پھر میرا ﷲ تاہم مجھے کوئی ملال‘ کوئی تاسف نہیں کیوں کہ باعزت‘ خوش حال زندگی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ قیمت ہر انسان کو دینی پڑتی ہے‘ میں نے یہ دی مگر ﷲ نے مجھ پر اس قیمت سے زیادہ رحم فرمایا‘ یہ ہے اس جھوٹے میڈیا کے ایک جھوٹے ورکر کی جھوٹی داستان‘ اس جھوٹے ورکر کی داستان جو 15 سال فرش پر سوتا رہا‘ جو 30 سال سے روز لکھ رہا ہے اور جس کی زندگی میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جس میں اس نے کمر سیدھی کرنے سے پہلے کام ختم نہ کیا ہو اور اگلے دن کے کام کا میز پر ڈھیر نہ لگایا ہو۔میں میڈیا کا وکیل نہیں ہوں‘ آپ اسے کوئی بھی گالی دے دیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ یہ ضرور یاد رکھیں اس میڈیا میں چند ایسے ضرور ہوں گے جنہوں نے مجھ سے بھی زیادہ محنت کی۔

جنہوں نے تنکا تنکا جوڑ کر گھونسلا بنایا اور جو مرنے تک اس گھونسلے میں تنکے جوڑتے رہیں گے ‘مجھے خطرہ ہے آپ کہیں گالی دیتے ہوئے ان لوگوں کی دل آزاری نہ کر بیٹھیں‘ آپ کہیں ان کی بد دعا نہ لے بیٹھیں‘ دعویٰ صرف ﷲ کی ذات اور پھر ہمارے علماء کرام کی منہ پر سجتا ہے لیکن ڈرتے ڈرتے‘ ﷲ سے معافی مانگتے ہوئے ایک دعویٰ میں بھی کرنا چاہتا ہوں‘ دنیا میں میڈیا کے تین ورژن ہیں‘ پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا‘ میں شاید گنتی کے چند میڈیا ورکرز میں شامل ہوں جو تینوں میڈیم میں کام کر رہے ہیں‘ میں ہفتے میں چار کالم لکھتا ہوں‘ چار سیاسی پروگرام کرتا ہوں اور سوشل میڈیا کی تین کمپنیوں کا نگران بھی ہوں‘ آپ گوگل کر کے دیکھ لیں آپ کو دنیا بھر کی میڈیا انڈسٹری میں ایسے پاگل نہیں ملیں گے‘ میڈیا کی تین گیندیں اور چار بزنسز کی چار گیندیں کل سات گیندیں ہوا میں اچھالنا اور پکڑنا آسان کام نہیں ہوتا‘ اس کے لیے ’’سپر جھوٹا‘‘ ہونا پڑتا ہے لہٰذا میں تجربے کی بنیاد پر میڈیا کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور میں وہ عرض کر رہا ہوں۔

میڈیا کی تین قسمیں ہیں‘ پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل‘ یہ تینوں مزید تین حصوں میں تقسیم ہیں‘ مشینری‘ سپورٹنگ اسٹاف اور چہرے‘ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے مشینیں جھوٹی نہیں ہوتیں‘ پرنٹنگ پریس‘ مائیک‘ کیمرے‘ اسٹوڈیو‘ لائیٹس اور فیس بک‘ ٹویٹر اور یوٹیوب یہ صرف مشینیں ہیں‘ یہ جھوٹ یا سچ دونوں نہیں بول سکتیں‘ دوسرے نمبر پر سپورٹنگ اسٹاف آتا ہے‘ یہ لوگ چوکی دار سے ایڈیٹر اور ریسپشنسٹ سے سینئر پروڈیوسر تک ہوتے ہیں‘ یہ میڈیا کا نوے فیصد ہیں‘ یہ بھی سچ اور جھوٹ نہیں بول سکتے کیوں کہ ان کا کام صرف خبروں اور مٹیریل کو پراسیس کرنا ہوتا ہے اور تیسرے نمبر پر میڈیا کے فیس آتے ہیں۔
یہ وہ رپورٹر ہوتے ہیں عوام جن کے نام اور چہرے دیکھتے اور پڑھتے ہیں‘ یہ کالم نگار‘ رپورٹرز‘ نیوز اینکرز اور پروگراموں کے میزبان ہوتے ہیں‘ میں رپورٹرز اور نیوز اینکرز کو بھی سائیڈ پر کر دیتا ہوں کیوں کہ رپورٹر کی خبر اگر غلط ثابت ہو جائے تو وہ نوکری سے فارغ ہو جاتا ہے‘ نیوز اینکرز صرف خبریں پڑھتے ہیں‘ یہ ایک لفظ بھی اپنی طرف سے نہیں بولتے لہٰذا یہ بھی بے گناہ ہیں‘ پیچھے رہ جاتے ہیں کالم نگار اور پروگراموں کے میزبان‘ یہ گنتی کے چند لوگ ہیں‘ملک میں دس بڑے اینکرز ہوں گے اور اتنے ہی کالم نگار ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو سچ اور جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن یہ لوگ کل میڈیا کا ایک فیصد بھی نہیں بنتے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں 99 فیصد میڈیا بے قصور ہے۔

صرف ایک فیصد گندی مچھلیاں ہیں‘ آپ بے شک ان گندی مچھلیوں کو الگ کریں اور ان کی مرمت شروع کر دیں لیکن آپ مرمت سے پہلے کم از کم گناہ گار اور جھوٹے کا فیصلہ تو کر لیں‘ ﷲ تعالیٰ بھی حشر کے دن فرشتوں کی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرے گا‘ وہ بھی ہم اور ہمارے اعضاء سے پوچھے گا اور ہم باقاعدہ اپنا مقدمہ لڑیں گے لیکن آپ (نعوذ باللہ) ﷲ تعالیٰ سے بھی بڑے ہیں کہ آپ گناہ گاروں اور بے گناہوں کو الگ کیے بغیر سب کی مرمت کر رہے ہیں‘ آپ ہیں کون؟ آپ کے سامنے دس بیس پچاس اینکرز اور کالم نگار موجود ہیں‘ آپ بتائیں کس نے کب جھوٹ بولا اور اس جھوٹے کو میڈیا کے کسی شخص نے سپورٹ کیا‘ ڈاکٹر شاہد مسعود ہمارے کولیگ تھے‘ یہ جنوری 2018 میں زینب کے قاتل عمران علی کے 37 فارن بینک اکاؤنٹس کا غلط دعویٰ کر بیٹھے‘ان کے پروگرام پر تین ماہ کے لیے پابندی لگ گئی۔

پورے میڈیا میں کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا‘ یہ پی ٹی وی کرپشن کیس میں گرفتار ہوئے‘ جیل گئے‘ کسی نے اس وقت بھی ان کی مدد نہیں کی‘ میڈیا کا کوئی کارکن آج بھی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا تاہم یہ درست ہے میڈیا سے متعلق چند لوگوں نے حکومتیں جوائن کیں مگر وہ لوگ آج کہاں ہیں؟ میڈیا نے ان کو ’’ڈس اون‘‘ کر دیا‘ وہ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں الیکٹرانک میڈیا میں دو قسم کے اینکرز ہیں‘ جرنلسٹ اینکرز اور نان جرنلسٹ اینکرز‘ آپ کسی جرنلسٹ اینکر پر انگلی رکھ کر بتائیں اس نے فلاں وقت فلاں جھوٹ بولا تھا یا اس نے مائیک اور کیمرے کے ذریعے فلاں کو بلیک میل کیا تھا؟آپ کوئی نام لیں میڈیا انڈسٹری آ پ کا ساتھ دے گی تاہم یہ سچ ہے نان جرنلسٹ اینکرز کی وجہ سے میڈیا کو کئی بار سبکی اٹھانی پڑی لیکن کسی صحافی نے ان لوگوں کا ساتھ نہیں دیا۔

باقی رہ گیا میڈیا کا کنٹری بیوشن تو تازہ ترین تاریخ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا سکینڈل ہو‘ پاناما سکینڈل ہو‘ فارن فنڈنگ کیس ہو یا پھر آٹا اور چینی سکینڈل کی رپورٹ ہو‘ قوم‘ حکومت اور عدالتوں کو یہ تمام کیچ میڈیا سے ملے تھے‘ کورونا کے بارے میں بھی میڈیا نے حکومتوں کو بتایا تھا‘ آپ آج دن میں دس دس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہیں یا لوگوں سے دور رہتے ہیں تو یہ اس جھوٹے میڈیا کی مہربانی ہے جب کہ علماء کرام تو آج بھی کورونا کو یہودونصاریٰ کی سازش قرار دے رہے ہیں‘ یہ آج سوا دو لاکھ ہلاکتوں کے باوجود اسے نہیں مان رہے‘ یہ تو تفتان اور رائے ونڈ کے ذریعے اسے پورے ملک میں پھیلاتے رہے تھے چناں چہ میڈیا پر نظر آنے والے تیس چالیس پچاس لوگ جھوٹے ہوں گے لیکن آپ کم از کم قوم کو ان کے جھوٹ تو بتا دیں‘ ان کا جرم تو دنیا کے سامنے رکھ دیں‘ آپ میں اور چنگیز خان میں کوئی فرق توہونا چاہیے‘ وہ بھی لوگوں کو لٹکاتا پہلے تھا اور جرم بعد میں بتاتا تھا اور آپ نے بھی یہ کام شروع کر دیا۔

باقی رہ گیا سائیکل سے فائیو اسٹار لگژری زندگی تک کا سفر تو یہ حقیقت ہے میڈیا کے ایک فیصد لوگ خوش حال ہوئے لیکن اس خوش حالی کے لیے انھیں تیس سال لگے اور تیس سال کتنا بڑا عرصہ ہوتا ہے آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ تیس برسوں میں ریڑھیاں لگانے والے کھرب پتی بن گئے‘ ٹھیکے دار اور بیوپاری بزنس ٹائی کون ہو گئے اور اے ایس پی‘ اسسٹنٹ کمشنر اور وکیل ملک میںآئی جی‘ فیڈرل سیکریٹری اور چیف جسٹس بن گئے‘ بیس پچیس تیس سال اتنا بڑا عرصہ ہوتا ہے کہ اس میں ایک ریٹائر کرکٹر ملک کا وزیراعظم بن جاتا ہے اور کالج کا ڈراپ آؤٹ اسٹوڈنٹ مولانا طارق جمیل‘ وقت اور محنت کیڑوں کو بھی نواز دیتی ہے۔ یہ مٹی اور گوبر کا مقدر بھی بدل دیتی ہے جب کہ ہم تو انسان ہیں‘ لوگ ہم سے زیادہ محنت کریںگے یہ ہم سے بھی آگے نکل جائیں گے تاہم نئے کام یاب ہونے والے یہ ضرور یاد رکھیں یہ بھی جب کام یاب ہوں گے تو لوگ ان کو بھی جھوٹا‘ درباری اور لفافہ ضرور کہیں گے‘ یہ ان کی کام یابی کی قیمت ہو گی اور ناکام اور چھوٹے معاشروں میں کام یاب لوگوں کو یہ قیمت ہر صورت چکانا پڑتی ہے‘ آپ اگر یہ چکا سکتے ہیں تو آگے بڑھیں ورنہ پتھر اٹھائیں اور اپنے سے آگے چلنے والوں کو مار مار کر زندگی گزار دیں‘ آپ کو کوئی برا نہیں کہے گا‘ لوگ آپ کے لیے تالی بجائیں گے۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ہمارے جذبات سے کوئی بھی کھیل سکتا ہے

چند روز پہلے ہم نے یہ تجربہ بھی کر لیا کہ فرضی کردار ہمارے اعصاب پر جیتے جاگتے کرداروں سے زیادہ سوار ہو گئے۔ ہماری آنکھیں، کان، دست و بازو اسکرپٹ اور ہدایت کار کے یر غمال بن گئے۔ ایک طرف تو یہ شوبز ٹیکنالوجی کا کمال بھی ہے اور ہم سب کے لئے ایک اچھا سبق بھی کہ حرف، صوت اور کیمرے کا ماہرانہ استعمال اپنی بات لاکھوں کے دلوں میں اُتارنے میں کتنا موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ ہم ایک سماجی خلا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے جذبات سے کوئی بھی کھیل سکتا ہے۔ حکمران، سیاستدان، کھلاڑی، غیرملکی ایجنٹ، ڈرامہ نگار، سونا بیچنے والے، سگریٹ بنانے والے، بیکری والے، گھی فروخت کرنے والے، زمینوں پر قبضہ کرنے والے، ہم اِن بہروپیوں کے ساتھ ہنسنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اِن کی فرضی موت پر زار و قطار روتے ہیں۔ ہمارے اپنے اعضا ہمارے قابو میں نہیں رہتے۔ 

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کبھی مغل ہم پر غالب آجاتے ہیں، کبھی انگریز، کبھی امریکی امداد، کبھی عظیم دوست چین۔ ہم میں وارفتگی بھی موجود ہے خود سپردگی بھی۔ ہم عاشق مزاج نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ صرف محبت کے بھوکے ہیں۔ ہمارا معاشرہ مکمل نہیں ہے۔ ہم خلا میں جی رہے ہیں۔ اپنی حماقتوں پر جشن منانے لگتے ہیں۔ میں تو اس پر ایک عرصے سے غور کر رہا ہوں کہ پاکستان بنا کر ہم نے ایک بڑا چیلنج قبول کیا تھا۔ قائداعظم کا پاکستان اور اس خطّے میں رہنے والوں کی آرزوئوں کا ملک بنانے میں اب تک ہم ناکام کیوں ہیں۔ ایک بڑا سماجی، سیاسی، عمرانی اور تہذیبی خلا کیوں موجود رہتا ہے۔ کوئی بھی نیا وائرس ہو ہم اس کے شکار ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون والے اس سے اربوں روپے کماتے ہیں۔ تعلیم کی تجارت والے، زمینوں کی خرید و فروخت والے، کثیر القومی کمپنیاں اپنی مصنوعات بڑے دھڑلے سے مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں۔ 

قوم کو بنیادی اشیا مہنگی ہونے کی شکایت ہے لیکن صارفین کی مزاحمت کبھی نہیں ہوتی۔ غمی خوشی کی تقریبات قرضے لے کر دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں۔یہ خلا کیوں ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ جب ہم نے پارلیمانی نظام اپنایا ہے تو اس کے تقاضے پورے کرنا چاہئیں۔ اس کے لئے جیسا سماج ہونا چاہئے وہ ہم کیوں نہیں بنا پاتے۔ عام طور پر آسانی سے الزام غیر سیاسی قوتوں پر عائد کر دیا جاتا ہے لیکن اس کے حقیقی اسباب نہیں جانے جاتے غیرسیاسی قوتوں کے ہاں جس سماج کی ضرورت ہے وہ انہوں نے اپنے قواعد و ضوابط سے بنا رکھا ہے، وہاں خلا نہیں ہوتا۔ اس لئے اس میں کوئی باہر سے نہیں اتر پاتا۔ پارلیمانی نظام میں معاشرے کی تشکیل، لوگوں میں نظم و ضبط، سوچ کے زاویے اور عمل کی سمت متعین کرنے کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں کی ہوتی ہے۔ جو معاشرے میں ایک گلی محلّے سے لے کر پورے شہر، صوبے، ملک میں اپنی شاخیں رکھتی ہیں۔ 

بیسویں صدی اور اب اکیسویں صدی میں بھی سیاسی جماعتیں ہی قوموں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتی ہیں۔ مملکت اور فرد کے درمیان عمرانی معاہدے یعنی آئین کا شعور بھی وہی پھیلاتی ہیں۔ لوگوں کو بھرپور عمل کے ذریعے اپنی امنگوں، تمنّائوں، خواہشوں کو حقیقت میں ڈھالنے کے راستے بتاتی ہیں۔ پوری قوم کو ایک سمت میں سوچنے۔ آگے بڑھنے کا عملی تجربہ بھی کرتی ہیں۔ قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے ذریعے یہ کلچر پیدا کیا تو پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ اب تو سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں، اپنی شاخوں سے تیز ترین رابطے کے زیادہ مواقع میسر ہیں۔ یہ رابطے کی صدی ہے۔ اسمارٹ فون ہے۔ واٹس ایپ، ٹویٹر، ای میل، انسٹا گرام اور بہت سے عوامل۔ یوٹیوب چینل ہیں۔ ان دنوں میڈیا معاشرے پر چھایا ہوا ہے۔ اس کا تجربہ ہر روز ہوتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ سماج کو جو کچھ دکھانا چاہئے۔ اور جدھر لے جانا چاہئے اس کے برعکس دکھایا جاتا ہے۔ 

قوم وہ کچھ دیکھنے پر مجبور ہے۔ قومی سیاسی جماعتوں کی بےعملی، عدم تنظیم کے باعث سمت کے تعین کی ذمہ داری میڈیا نے لے لی ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی مربوط فکر نہیں ہے۔ صرف مقبولیت اور ریٹنگ کی ہوس ہے۔ کسی موضوع پر وہ ماہرین نہیں بلائے جاتے۔ جو برسوں سے اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ہزاروں اسکالرز ہیں۔ دینی مدارس کے علماء ہیں جن کی نظریں 15 صدیوں کے ارتقا اور نشیب و فراز پر ہیں۔ یونیورسٹیوں کے محققین ہیں ان کی گفتگو نہیں سنوائی جاتی۔ سیاسی جماعتوں کا اپنا نظام ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام اور اچھی قیادت کے حوالے سے دو ہی اسلامی ممالک ملائیشیا اور ترکی ہمارے سامنے ہیں۔ ان کا سماج دیکھ لیں۔ وہاں خلا پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی سیاسی پارٹیاں بہت منظّم ہیں۔ شاخیں بہت فعال۔ قوم کو سوچنے اور عمل کے زاویے دیئے جاتے ہیں۔ ایک بھرپور سیاسی عمل ہر وقت جاری رہتا ہے۔ 

طاقت کا سر چشمہ سیاسی جماعت کی تنظیم ہوتی ہے۔ سیاسی جماعت کے عہدے ہوتے ہیں۔ سرکاری عہدے نہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں حکمراں ہوں یا اپوزیشن، وہ صرف اشرافیہ بن کر رہ گئی ہیں۔ بنی گالہ، بلاول ہائوس، جاتی امرا، چوہدری ہائوسز۔ بہادر آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف تو اب صرف اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتی ہے۔ سیاسی سائنسی سوچ، سیاسی تجزیاتی فکر ناپید ہے۔ عمل کہیں نہیں ہے۔ دونوں طرف ردّ عمل ہے۔ ٹویٹر استعمال ہو رہا ہے۔ واٹس ایپ، ٹیلی وژن، یوٹیوب اور اسٹریمنگ لیکن صرف جواب آں غزل کے لئے۔ خود غزل لکھی نہیں جارہی۔ کوئی پیغام کوئی فلسفہ نہیں ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کیسا سیاسی معاشی نظام چاہتی ہے۔ اسی طرح پی پی پی کی فکر کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سوچ کیا ہے۔ اسی لئے خلا موجود ہے۔ اس خلا کو کبھی کسی کھیل سے پُر کیا جاتا ہے۔ کبھی کسی ڈرامے سے، کسی فرقہ وارانہ تنازع سے۔ ہمارے جذبات سے کوئی بھی کھیل سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں یونیورسٹیوں کی مدد حاصل کریں۔ سیاسی فکری عمل شروع کریں۔ اس خلا کو پُر کریں۔ تاکہ فرضی کرداروں کی جگہ حقیقی کردار معاشرے پر غلبہ حاصل کریں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

پی ٹی وی کے 55 سال : پاکستان کے شاندار اداروں میں سرفہرست

پی ٹی وی ایک ریاستی ادارہ ہے جو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت وجود میں آیا۔ پی ٹی وی کی کہانی چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ پی ٹی وی نے 30 سال سے زائد عرصے تک ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا ء الحق اور پرویز مشرف کے آمرانہ دور اور باقی عرصہ نام نہاد جمہوری دور کے تابع گزرا۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پاکستان کے ان شاندار اداروں میں سرفہرست ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد جنم لیا۔ یعنی یہ وہ ادارہ ہے جو نوآبادیاتی میراث نہیں رکھتا ، اس کو نئی قوم نے اپنے شاندار آغاز کے بعد جنم دیا…لیکن آمرانہ اور حاکمانہ مفادات کے ذریعے اس کے چہرے کومسخ کر دیا گیا۔

پی ٹی وی ایک ایسا قومی ادارہ ہے جسے پاکستان میں ٹیلی ویژن کی ’’ماں‘‘کہا جاتا ہے۔ آج ملک میں جتنے بھی نجی ٹی وی چینلز چل رہے ہیں، ان کے لیے ابتدائی افرادی قوت، تیکنیکی صلاحیت اور پیشہ وارانہ رہنمائی پاکستان ٹیلی ویژن کے پروفیشنلز نے ہی فراہم کی ہے اور اس وقت بھی اکثر نجی چینلز کا انتظام و انصرام چلانے میں بھی پی ٹی وی کے پرانے اور تجربہ کار لوگ معاونت کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ جو 1964 میں ریڈیو پاکستان کے ایک گوشے (کینٹین کو پہلا ٹی وی اسٹوڈیو بنایا گیا) سے شروع ہوا، اب یہ ادارہ پھیل کر ایک سلطنت بن چکا ہے۔ کھرب ہا روپے کے عمارتی اثاثے، ارب ہا روپے کے تیکنیکی آثاثے اورکثیر تعداد میں پیشہ وارانہ مہارت کی حامل افرادی قوت نے اس ادارے کو ملک بھر میں ایک منفرد حیثیت کا حامل بنا دیا۔

پی ٹی وی کے پہلے ایم ڈی موسیٰ احمد کا تعلق پولیس سروس سے تھا۔ پی ٹی وی کے اندر سے صرف پانچ ڈائریکٹرز کو ایم ڈی بنایا گیا، ان میں اسلم اظہر، آغا ناصر، اختر وقار عظیم ، اشرف عظیم اور مصطفی کمال قاضی شامل ہیں۔ تیرہ ایم ڈی بیوروکریسی سے لیے گئے ،ان میں موسیٰ احمد ، روائیداد خان، سید منیر حسین، مسعود بنی نور، اجلال حیدر زیدی، ضیاء نثار احمد، انور زاہد، حمید قریشی، احمد حسن شیخ، شاہد رفیع، احسان الحق خلجی اعجاز رحیم اور احمد نواز سکھیرا ہیں۔ جب کچھ ایم ڈیز کا تعلق نہ تو بیورکریسی اور نہ ہی پی ٹی وی سے تھا۔ ان میں ہارون بخاری، فرہاد زیدی، ڈاکٹر شاہد مسعود، ارشد خان، یوسف بیگ مرزا اور عطا الحق قاسمی شامل ہیں۔

پی ٹی وی کی پہلی دہائی ہنی مون کا گولڈن پیریڈ تھا۔ دوسری دہائی میں پروفیشنل ازم اور ٹیکنالوجی متعارف ہوئی، تیسری دہائی میں گلیمر اور اشتہارات کی رہی۔ چوتھی دہائی میں اس کی مناپلی ختم ہوئی اور مسابقت کا دور آیا جو اب بھی ہے۔آج کے دور میں بھی پی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا نشریاتی نیٹ ورک ہے۔ اس کے پاس سب سے بہتر تیکنیکی سہولتیں ہونے کے ساتھ ساتھ تجربہ کار، تربیت یافتہ پروفیشنلز کا گروپ موجود ہے۔ یہ ادارہ اب بھی ایک متحرک نیٹ ورک ہونے کی وجہ سے ملک کے سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سب کام تب ہی ہو سکتے ہیں جب حکومتی سطح پر پی ٹی وی کی اس صلاحیت کا ادراک ہو اور اسے ایک حکومتی کی بجائے قومی ادارے کے طور پر چلانا چاہیں ۔

پی ٹی وی ہی وہ ادارہ ہے جو میری پہچان بنا ،جس نے مجھے قومی افق پر متعارف کرایا، صحافی بننے کا ڈھب سکھایا، حکمرانوں کی قربت اور ان کے رویوں کو سمجھنے کا شعور دیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے میری وابستگی تین دہائیوں سے بھی زیادہ رہی ہے۔ میں نے پی ٹی وی کا وہ دور بھی دیکھا جب پی ٹی وی کا سگنل قومی نشریاتی رابطے پر نہ تھا ۔ لاہور ، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی/اسلام آباد کی نشریات صرف ان ہی علاقوں تک محدود تھیں۔ ماضی میں پی ٹی وی کی شہرت اور اہمیت ہوتی تھی ، اب ویسی نہیں رہی۔ نجی چینلز آنے کے باعث صورتحال خاصی تبدیل ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پی ٹی وی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں یہ ادارہ مالی مشکلات کا شکار ہے لیکن محنت کی جائے تو اس پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ پی ٹی وی کی صورت حال تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ریٹائرڈ افراد کو پنشن کے حصول میں بھی دقت کا سامنا ہے۔ پی ٹی وی اسپورٹس کو “کماو پوت” کا ٹائٹل دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پی ٹی وی کو ٹی وی لائسنس فیس کی مد سے سالانہ ارب ہا روپے حاصل ہوتے ہیں جب کہ کمرشل اشتہارات سے بھی اچھی خاصی سالانہ آمدنی ہوتی ہے اس کے باوجود پی ٹی وی کا خسارے میں جانا نہ صرف قابل توجہ ہی نہیں بلکہ قابل تحقیق بھی ہے۔پی ٹی وی جیسے ادارے میں ابتداء سے قائم ٹیلی ویژن ٹریننگ اکیڈیمی کو بھی غیر موثر کر دیا گیا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں سرکاری سطح پر کوئی ٹیلی ویژن اکیڈیمی نہیں مجبوراً ہر چینل محدود وسائل اور حالات کی بناء پر جزو وقتی تربیت کا اہتمام کرتا ہے اسی بناء پر اکثر ٹی وی چینلز میں معیاری پروگرامنگ اور صحافتی اخلاقیات کے عمل میں کمی کا احساس ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت اس امر کا بھی نوٹس لے کہ ٹیلی ویژن اکیڈیمی جیسے اہم شعبے کو غیر متحرک کیوں کیا گیا ۔

سرور منیر راؤ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

آزادیٔ صحافت

جب بھی کوئی نیا حکمران برسراقتدار آتا ہے تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ملک کا میڈیا اس کی مدح سرائی میں دن رات ایک کر دے ۔ حکمران کو پسند کرنے والے صحافی بھی اپنے پسندیدہ لیڈر کی جانب سے حکومت سنبھالنے پر بغلیں بجاتے نظر آتے ہیں لیکن ہوتا یوں ہے کہ حکومت سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد جب حکمران پر میڈیا میں تنقید شروع ہوتی ہے تو وہی میڈیا جو دن رات تعریفوں کے ڈونگرے برساتا تھا اس کی تنقید طبیعت کو ناگوار گزرنے لگ جاتی ہے اور ایک وقت یہ آجاتا ہے جب حکمران یہ سوچنے لگتا ہے کہ کسی طرح میڈیا کی آزادی کو لگام دے دی جائے اور کوئی ایسا قانون نافذ کر دیا جائے جس سے میڈیا اگر گستاخی کرے تو اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

کچھ عرصہ پہلے تک کے حکمران مزے میں تھے کہ ان کا واسطہ صرف چند اخبارات اور ان کے مالکان سے تھا لیکن وقت اور زمانے کی تبدیلی کے ساتھ الیکڑانک میڈیا نے عوام میں مقبولیت حاصل کر لی اور حکمرانوں کی کارستانیوں کو عوام تک پہنچانے کے باعث یہ مقبولیت الیکڑانک میڈیا کے حصے میں آئی۔ صحافیوں اور صحافتی اداروں پر پابندی کا پہلا قانون صدر ایوب خان کے دور حکومت میں بنایا گیا جو پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کے نام سے مشہور ہوا۔ ایوب خان کے بعد بھٹو صاحب اقتدار میں آئے تو اخبارات ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے اس لیے اخبارات پر پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر ضیاء الحق کا مارشل لاء آگیا اور مارشل لاء تو سرتاپا پریس آرڈیننس ہوتا ہے۔ جونیجو صاحب کے زمانے میں ان سخت قوانین سے جان چھوٹی ۔

اخبارات اور نیوز چینلز کی آزادی اگرچہ مالکان کی آزادی ہوا کرتی ہے اور کارکن صحافی کبھی آزاد نہیں ہوتا لیکن پھر بھی اگر میڈیا کو آزادی حاصل ہو تو آزادی کی یہ روشنی کچھ نہ کچھ چھن چھنا کر کارکن صحافیوں تک پہنچ ہی جاتی ہے لیکن جب پابندیاں ہوتی ہیں تو پھر کارکن صحافی دہری پابندیوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ ان دنوں ہمارا میڈیا بڑی حد تک آزاد ہے اور خبروں، کالموں اور پروگراموں میں بعض اوقات ایسی باتیں بھی چھپ اور نشر ہو جاتی ہیں جو حکمرانوں کی کتاب میں گستاخی کے باب میں درج کی جاتی ہیں۔

ہماری موجودہ حکومت جو عوام کے بھر پور جمہوری مینڈیٹ سے نہال ہے اب اپنی پالیسیوں کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی نڈھال ہوتی جارہی ہے اور میڈیا کی بعض خبریں اسے ناگوار گزر رہی ہیں۔ حکومتی حلقوں میں یہ خیال پیدا کیا جا رہا کہ میڈیا حکومت کے خلاف جارہا ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے بلکہ اس میں خود حکومتی پالیسیوں کا اپنا حصہ زیادہ ہے۔ میڈیا کے مختلف اداروں میں جو صحافی موجودہ حکومت کے غیر مشروط حامی تھے انھوں نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شروع کر رکھی ہے جس سے یہ تاثر بن رہا ہے کہ میڈیا حکومت کے خلاف جارہا ہے۔

حکومت کے یہ غیر مشروط حامی زور شور سے حکومت کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے لیکن جب عملاً حکومت کا کام شروع ہوا تو ان کو بھی یہ سمجھ آگئی کہ وہ جن کے عاشق تھے ان کے معشوق ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہے تو انھوں نے حقیقت حال کا اظہار کرنا شروع کر دیا کیونکہ جو صحافی اپنا اعتبار کھو دے اس کے پاس سوائے کاغذ اور قلم کے اور رہ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کی صفوں میں حامی صحافیوں کی تعداد مزید کم ہو گئی۔ رہے دوسرے اخبار نویس تو ان میں سے شاید ہی کوئی جناب عمران خان کا ذاتی مخالف یا ذاتی دوست ہو بلکہ وہ اخبار نویس ہیں جو خبر کے متلاشی اور پجاری ہیں جیسی خبر ہو گی اس میں وہ کیا تبدیلی کر سکتے ہیں ۔

حکمران تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے چاہے وہ مثبت تنقید ہی کیوں نہ ہو ۔ جہاں تک میرا خیال ہے اس وقت میڈیا کا ایک بڑا حصہ عمران خان کی حکومت کے حق میں ہے اور ان کی حکومت کی کامیابی کا خواہشمند ہے کیونکہ اسے دوسری طرف فی الوقت کچھ نظر نہیں آرہا اور جو نظر آرہا ہے اس کو عوام اور مقتدر حلقے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ عمران خان کامیاب ہوں اور ملک کو سنوارنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ویسے اس وقت لگتا یوں ہے کہ ملک کو سنوارنے کی نہیں بچانے کی ضرورت ہے جب بچ جائے گا تو خود بخود سنور بھی جائے گا۔

شاعر نے سچ ہی کہا ہے کہ ؎
خدا جب حسن دیتا ہے ، نزاکت آہی جاتی ہے حکومت کو اپنا ایجنڈا اور اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کا سہارا ہی درکار ہے اور یہ سہارا حکومت کے ہاتھ میں ہے حکومت کو اپنے اس سہارے کو مضبوط کرنا چاہیے تا کہ وہ موثر طور پر اپنا پیغام عوام تک پہنچا سکے ۔ صحافیوں سے گلے شکوے ہر حکومت کو رہتے ہیں یہ چولی دامن کا کھیل ہے جو جاری رہتا ہے اور رہے گا ۔ بصیرت اس میں ہے کہ اس چولی دامن کے کھیل کو خوبصورتی سے کھیلا جائے اور دونوں فریق اپنے اپنے دامن کو بچا کر رکھیں اور اپنی اپنی آزادی کا لطف اٹھائیں۔میڈیا کو کسی معقول اور جمہوری ڈسپلن میں ضرور لائیں لیکن انھیں قابو کرنے کا شوق چھوڑ دیں۔ یہ شوق بہت زیادہ مہنگا ہے۔ ان کی استطاعت سے بھی زیادہ۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہو گیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔ 2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔ تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں 18 سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔ اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہو جاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو
 

سہیل وڑائچ کچھ لکھنے ہی نہیں دیتے

تحریکِ لبیک کے ساتھ ریاست کے کچھ اہم اداروں نے 2017ء میں کیسا معاملہ کیا تھا اور وہی ادارے 2018ء میں تحریکِ لبیک کے ساتھ کیسے نمٹ رہے ہیں، کل کے Tweets کیسے تھے اور آج کے ٹویٹس کیا کہہ رہے ہیں، گزشتہ سال عمران خان کے تحریک لبیک کے دھرنوں پر کیا خیالات تھے اور آج اُن کی اپنی حکومت میں‘ جب ماضی اپنے آپ کو دہرا رہا ہے تو خان صاحب کیا کہتے ہیں؟؟ دل چاہ رہا تھا کہ ان معاملات پر لکھوں لیکن ڈر تھا کہ لکھا تو شائع ہی نہیں ہو گا۔ وزیراعظم کے متعلق لکھنا تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اداروں کے معاملہ میں نجانے کیوں ہمارے دوست سہیل وڑائچ صاحب کچھ زیادہ ہی حساس ہو گئے ہیں۔ 

وڑائچ صاحب جنگ اخبار کے ادارتی صفحہ اور اخبار میں شائع ہونے والے کالمز کے ذمہ دار ہیں لیکن نجانے اُنہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اب کچھ لکھنے ہی نہیں دیتے۔ حکومت سے پوچھیں یا اداروں کے نمائندوں کی بات سنیں تو وہ کہتے ہیں کوئی مسئلہ نہیں، میڈیا آزاد ہے، کوئی بندش نہیں لیکن سہیل وڑائچ کو نجانے کیا مسئلہ ہے کہ کالم روکتے ہیں، بلاوجہ کی کانٹ چھانٹ کرتے ہیں۔ بات کریں تو ڈرے ڈرے، سہمے سہمے ہوں ہاں کرتے رہتے ہیں۔ زیادہ کریدیں تو کہتے ہیں بس سمجھیں نا۔ بھئی کیا سمجھیں، اب تو کالم لکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا!!! 

میرا سہیل وڑائچ سے اچھا تعلق ہے جس کی ابتدا 2003ء میں ہوئی۔ ہم ایک ساتھ ایک ماہ کے لیے امریکا میں بھی رہے جس کی وجہ سے ہمارے درمیان ایک بے تکلفی بھی پائی جاتی ہے لیکن اب سہیل وڑائچ بدلے بدلے لگ رہے ہیں، اب نہ وہ کسی تعلق کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی دلیل مانتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ سہیل وڑائچ کا یہ سلوک میرے ساتھ ہی ہے، کئی دوسرے بھی وڑائچ صاحب کے بارے کچھ ایسی ہی شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ جنگ اخبار سے منسلک کچھ کالم نگار تو اکثر اپنے وہ کالم‘ جو وڑائچ صاحب سنسر کر دیتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا دیتے ہیں۔ اپنے تعلق کے لحاظ کی وجہ سے میں تو ایسا بھی نہیں کرتا لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!! آخر اصول بھی تو کوئی چیز ہوتے ہیں!!! 

اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سہیل وڑائچ تو آزاد صحافت کے دشمن بن چکے ہیں۔ اداروں پر تو بلاوجہ الزام لگایا جاتا ہے، حکومت تو ہے ہی معصوم۔ سارا قصور سہیل وڑائچ کا ہے۔ اس لیے اب میں نے سوچا کیوں نہ اصل مرض کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ یقیناً تمام میڈیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، صحافیوں کو جو نکالا جا رہا ہے، میڈیا انڈسٹری کوجو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ کمزور کیا جا رہا ہے، اُس کے پیچھے بھی میرے دوست سہیل وڑائچ ہی ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کالم کو پڑھنے والے اس سب کو ایک مذاق قرار دیں گے یا پھر سمجھیں گے کہ میں بلاوجہ اپنا غصہ ایک ایسے صحافی پر نکال رہا ہوں جو خود مجبور ہے، جو بیچارا اپنی مرضی سے اپنا کالم بھی نہیں لکھ سکتا.

لیکن مجھے بتائیں جب صحافت اتنی کنٹرولڈ ہو گی کہ یہ نہ لکھو، وہ نہ لکھو، یہ نہ بولو، وہ نہ بولو تو پھر غصہ کسی نہ کسی پر تو نکلے گا۔ جو سچ ہے‘ وہ چاہے میں ہوں یا سہیل وڑائچ، بول نہیں سکتے۔ جہاں تک سچ کی بات اور آزادیٔ صحافت کا تعلق ہے تو میں ذاتی طور پر ذمہ دارانہ صحافت اور مثبت تنقید کا قائل ہوں لیکن اب تو اس کی بھی اجازت نہیں۔ کون کیا کر رہا ہے، کس نے ہماری سیاست اور صحافت کو ایسے قابو کر لیا کہ جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ،اس بارے میں سب جانتے ہیں لیکن کیا کریں! سہیل وڑائچ بات ہی نہیں کرنے دیتے اس لیے میں نے تو غصہ سہیل وڑائچ پر ہی نکالنا ہے۔

انصار عباسی
 

خواتین اینکرز کو حجاب سے روکنے والا پاکستانی میڈیا

ماضی قریب میں مجھے دو مختلف اہم ٹی وی چینلز سے تعلق رکھنے والی دو نامور خواتین ٹی وی اینکر پرسنز نے الگ الگ ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سکارف پہننا چاہتی ہیں لیکن متعلقہ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے ٹاک شوز کے دوران نہ سر ڈھانپ سکتی ہیں اور نہ ہی سکارف لے کر پروگرام کر سکتی ہیں۔ یعنی اگر نوکری کرنی ہے اور ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرنی ہے تو حجاب، سکارف یا دوپٹہ نہیں چلے گا۔ ان میں سے ایک خاتون اینکر بہت پریشان دکھائی دیں اور کہنے لگیں میں تو اب میڈیا میں نوکری ہی نہیں کرنا چاہتی اور کوشش ہے کہ درس و تدریس کے شعبہ کو جوائن کر لوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ نوکری اُن کی مجبوری ہے کیونکہ انہیں اپنے گھر اور بچوں کے اخراجات کے لیے پیسے کی ضرورت ہے اس لیے جب تک کوئی دوسری نوکری نہیں ملتی مجبوراً میڈیا کی نوکری کرنی پڑے گی۔

نجانے اور کتنی خواتین کو میڈیا اور دوسرے کئی شعبوں میں ان حالات کا سامنا ایک ایسے ملک میں ہے جو اسلام کے نام پر بنا لیکن وہاں اسلامی لباس پہننے پر نوکری پیشہ خواتین کو روکا جاتا ہے۔ ایسا فرانس یا مغرب کے کسی دوسرے ملک میں ہو تو دنیا بھر میں شور مچتا ہے لیکن افسوس کہ اگر پاکستان کے میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کو بھی ان حالات کا سامنا ہے تو پھر اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اس غیر قانونی، غیر آئینی اور سب سے اہم غیر اسلامی اقدام کے خلاف کون آواز اُٹھائے گا۔ ایسا نہیں کہ میڈیا میں کام کرنے والی ہر خاتون کو ان حالات کا سامنا ہے۔ عموماً میڈیا میں خواتین کو ماڈلز، فیشن اور دیکھنے والوں کو attract کرنے کے لیے شو پیس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو میری نظر میں خواتین کا بدترین استحصال ہے، اُن کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اُن کی یہ توہین ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

ایسا بھی نہیں کہ میڈیا میں ہر کسی کی ایسی سوچ ہو۔ یہاں ایسی اینکر پرسنز ہیں جنہوں نے خالص اسلامی وجوہات کی بنا پر سر ڈھانپنا شروع کیا اور اُنہیں اُن کی مینجمنٹ نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ مثال کے طور پر نامور اینکر پرسن مہر عباسی نے جب اپنے شو میں دوپٹہ لینا شروع کیا تو اُنہیں کسی ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مہر عباسی نے اس تبدیلی پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا یہ پیغام دیا: ’’لوگ پوچھ رہے ہیں میں نے دوپٹہ کیوں لینا شروع کر دیا۔ بہت پڑھنے اور سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، یہ ایک لمبا سفر تھا، مجھ پر کسی نے دوپٹہ مسلط نہیں کیا یہ میری اپنی مرضی ہے، سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ عورتیں مجھے کہتی ہیں کہ آپ ہمارے لیے فیشن آئیکن ہیں مجھے اس پر الٹا شرمندگی ہوتی تھی۔‘‘

مہر عباسی نے بہت خوبصورت بات کی ’’سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے‘‘۔ اب جو اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا چاہیں اُسے ایسا کرنے سے میڈیا ہی اگر روکے گا تو پھر ایسی خواتین کے حق کے لیے کون آواز اٹھائے گا۔ ایک اور خاتون اینکر پرسن نادیہ مرزا جو سکارف لے کر اپنا ٹاک شو کرتی ہیں اُنہوں نے اپنے ایک حالیہ ٹیوٹ میں لکھا: ــ’’میرا حجاب لینے کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جیسے نماز آپ کو برائیوں سے روکتی ہے ایسے ہی حجاب آپ کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی عزت اور حرمت آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘ میں پہلے بھی یہ بات اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ ایک بار ایک ٹی وی وہ چینل نے مجھے ایک ٹاک شو دینے کی بات کی تو مجھے کہا کہ آپ کے ساتھ ایک خاتون میزبان کو بھی پروگرام میں رکھا جائے گا۔ میں نے وجہ پوچھی کہ خاتون کیوں تو مجھ سے کہا گیا اس لیے کہ اس سے ریٹنگ بہتر آتی ہے یعنی زیادہ لوگ دیکھتے ہیں۔

میں تو ٹی وی کا صحافی نہیں نہ ہی کبھی مجھے ٹی وی اینکر بننے کا شوق رہا لیکن مجھے یہ بات سن کر بہت دکھ ہوا ۔ ایک بڑے ٹی وی چینل کے اہم ذمہ دار سے میں نے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے چینل میں کوئی ایک بھی خاتون اینکر پرسن یا نیوز ریڈر ایسی نہیں جو سرڈھانپتی ہو، پردہ کرتی ہو یا حجاب لیتی ہو۔ میں نے سوال کیا کہ سر ڈھانپنے والی، پردہ کرنے والی اور حجاب لینے والی کسی خاتون میں اُنہوں نے قابلیت نہیں دیکھی کہ وہ خبریں پڑھے یا کسی پروگرام کی میزبانی کرے۔ ٹی وی چینل کے ذمہ دار نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک بات کر رہے ہیں اور وعدہ بھی کیا کہ تبدیلی لائی جائے گی لیکن اس بات کو کئی ماہ گزر گئے لیکن اُس چینل میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

پردہ کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے، ہمارے آئین کا کیا منشاء ہے اس کے بارے میں تو کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے لیکن میرا سوال اُس نام نہاد سیکولر اور لبرل میڈیا سے ہے جو بے پردگی اور فحاشی کو پھیلانے اور ایسا کرنے والوں کی مرضی اور اُن کے حق کو تسلیم کرنے پر تو زور دیتا ہے اور بنیادی حق سے جوڑتا ہے لیکن اُن خواتین اینکر پرسنز کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق حجاب لیں اورسر ڈھانپیں۔ اس معاملہ کو پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن، صحافتی تنظیموں، حکومت اور پارلیمنٹ کو اُٹھانا چاہیے تاکہ جو نوکری پیشہ خاتون چاہے اُس کا کسی بھی شعبہ سے تعلق ہو اگر وہ پردہ کرنا چاہتی ہے، سر ڈھانپنا یا حجاب کرنا چاہتی ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

انصار عباسی