عرب ممالک کو ناراض کرنے کی مہم

نہ جانے کیوں ہمارے ایک طبقے کی کوشش ہے کہ ہمارے تعلقات عرب دنیا خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ خراب ہوں۔ جھوٹ، سچ بول کر کسی نہ کسی بہانے اب اُن ممالک پر تنقید کرنا ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ میڈیا کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی ایسے تبصرے کرنے سے گریز نہیں کرتے اور یہی وجہ تھی کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے متعلق ایک ایسی غیرذمہ دارانہ بات ایک ٹی وی ٹاک شو میں کر دی کہ حکومت کو ایک مصیبت پڑ گئی کہ کسی بھی طرح تعلقات کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز پر تو اُن ممالک کے بارے میں ایسی ایسی غیرذمہ دارانہ اور جھوٹی باتیں ہو رہی ہیں کہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی سازش کے تحت یہ سب کچھ کروایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اور اِن عرب ممالک کے آپس کے تعلقات کو خراب کیا جائے اور جو تعاون اور جس کا بےشمار ثمر پاکستان حاصل کرتا رہا اور کر بھی رہا ہے، اُس سے اِسے محروم کیا جائے۔

کسی اختلافی پالیسی معاملہ پر مہذب طریقے سے میڈیا میں بھی بات ہو سکتی ہے لیکن اِن ممالک اور اُن کے حکمرانوں کو حقارت اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور اُن کے خلاف کمپین چلانا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ پاکستان کے لئے خطرناک بھی ہے۔ ہمیں اِس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نہ صرف ہمیشہ ہماری بےپناہ مدد کی اور ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا بلکہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے لئے یہ دونوں ممالک سب سے زیادہ روزگارکے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جی سی سی ممالک میں اِس وقت چالیس لاکھ سے زیادہ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہی دیکھا جائے تو اِن ممالک نے 36 لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دی ہوئی ہیں جو پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

صرف اِن دو ممالک سے پاکستان کو سالانہ تقریباً آٹھ سے دس ارب ڈالر یعنی پندرہ سو ارب روپے سے زیادہ ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں۔ ہر سال کوئی چار پانچ لاکھ پاکستانیوں کو اِن دو ممالک میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف پاکستان ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا حصہ اِن ممالک سے حاصل کرتا ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ یا اُس سے بھی زیادہ پاکستانیوں کی معاش کا یہ دو ممالک ذریعہ ہیں۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے بظاہر کورونا کی وبا اور اُس کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر تقریباً بارہ ممالک کے ورک ویزا کی پابندی لگا دی ہے۔ اِس پابندی کا مطلب ہے کہ پاکستانیوں کے لئے کم از کم ایک ہزار نئی ملازمتوں کا روزانہ کا نقصان۔ کیا پاکستان یہ نقصان برداشت کر سکتا ہے؟ اگر ہمارے غیرذمہ دارانہ رویے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اِن ممالک کے خلاف جھوٹ، سچ پر مبنی ملامتی مہم کو نہ روکا گیا تو خدشہ ہے کہ اِن ممالک میں پاکستانیوں کے نئی ملازمتوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی نوکریاں بھی ہاتھ سے جا سکتی ہے جس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے اور بحرانی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہاں ہمیں یہ بھی ضرور سوچنا چاہئے کہ پاکستان کے مقابلے میں عرب ممالک کا بھارت کی طرف جھکاؤ کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ اُس کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہو گا، ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی کمیوں، کوتاہیوں پر نظر دوڑائیں تاکہ تعلقات کو نہ صرف خراب ہونے سے بچا سکیں بلکہ اُن کو مزید مضبوط بنائیں اور کوشش کریں کہ جی سی سی ممالک میں پاکستانیوں کے لئے ملازمتوں کے کوٹے کو ڈبل کیا جائے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہمارا میٖڈیا اور سوشل میڈیا، جس میں سیاستدان بھی پیش پیش تھے، سعودی عرب پر طعنے بازی کر رہے تھے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے گزشتہ منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں کشمیر ایشو کو شامل نہیں کیا گیا۔

آج (بروز اتوار) کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ اُس اجلاس میں کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف ایک پُرزور قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔ آئینِ پاکستان کے مطابق دوست ممالک کے خلاف میڈیا میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور بولا جا سکتا جس سے اُن ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئین کی باقی کئی شقوں کے کیساتھ ساتھ اِس شق کو بھی ریاست نے بھلا دیا ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیا اور یو ٹیوب کی بات ہے تو اُن پر تو کوئی قانون، قاعدہ لاگو ہی نہیں ہوتا، چاہے وہ جو مرضی بولیں، جو مرضی دکھائیں۔ اگر ایسے غیرذمہ دار میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بات کی جائے تو پھر ہم اُسے آزادیٔ اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ افسوس!

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

سعودی عرب کا غیرملکی ملازمین کیلئے رائج ‘اسپانسرشپ کا نظام’ ختم کرنے کا فیصلہ

سعودی عرب نے کفالہ کے نام سے مشہور غیر ملکی کارکنوں کی اسپانسرشپ کے نظام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی جگہ آجروں اور ملازمین کے مابین ایک نیا معاہدہ تشکیل دیا جائے گا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خبر رساں رساں ایجنسی رائٹرز نے عربی زبان کے آن لائن معاشی اخبار ‘معال’ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ریاست میں 7 دہائیوں سے رائج نظام کفالہ عام طور پر غیر ملکی کارکن کو ایک آجر کے ساتھ باندھتا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس نئے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے کارکن اور مزدور استحصال کا شکار ہوں گے، تاہم سعودی میڈیا نے کہا ہے کہ کفالہ کے قانون کا خاتمہ آجر اور غیر ملکی ملازمین کے مابین تعلقات کو روزگار کے ایک ایسے معاہدے تک محدود کر دے گا جو دونوں فریقوں کے حقوق اور فرائض کی وضاحت کرے گا۔

فروری میں سعودی گزیٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسپانسرشپ کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے کی جا رہی معاشی اصلاحات کا ایک حصہ ہے جو ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ویژن 2030 کے اجرا کے بعد منظرعام پر آیا ہے۔ منصوبے کے تحت اسپانسرشپ کے نظام کے خاتمے سے تارکین وطن مزدوروں کو ملک سے باہر جانے اور دوبارہ داخلے کے سلسلے میں ویزے کی آزادی میسر ہو گی جبکہ وہ خود سے آخری اخراج کی مہر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کسی پابندی یا منظوری کے بغیر ملازمت اختیار کر سکیں گے۔ ملازمت کے معاہدے میں طے شدہ قانون کے مطابق تارکین وطن مزدوروں کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ سعودی عرب میں 7 دہائیوں سے نافذ اسپانسر شپ کا نظام غیر ملکی کارکن اور آجر کے مابین تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے، نظام کے تحت مزدور ریاست میں پہنچنے کے بعد معاہدے کی شرائط کے مطابق اپنے کفیل کے لیے کام کرنے کا پابند ہو جاتا ہے اور وہ اپنی کفالت کی منتقلی کے بغیر دوسروں کے ساتھ کام کرنے کا حقدار نہیں۔

اخبار نے کہا کہ اس دوران کفالت کے نظام میں متعدد تبدیلیاں آئیں جس کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے طرز عمل اور مالی حقوق کی حفاظت کرنا تھا، اخبار نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں مالکان نے اس سسٹم کی بہت سی شقوں کا غلط استعمال کیا جس کے نتیجے میں بین الاقوامی تنظیموں نے اس نظام کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اسپانسر شپ کے نظام کی بہت زیادہ نفی کی گئی اور اس نے بیرونی طور پر ریاست کے تشخص کو برا اثر ڈالا بلکہ ریاست میں ملازت کے مواقعوں پر بھی بری طرح اثرانداز ہوا کیونکہ کچھ اسپانسرز نے اپنے ذاتی فوائد کے لیے اس کا غلط استعمال ہوا ہے، کفالت کے نظام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس نے تجارتی ویزا کے لیے بلیک مارکیٹ کو پھلنے پھولنے کا راستہ فراہم کیا۔ دوسری طرف توقع کی جاتی ہے کہ کفالت کے نظام کے خاتمے سے سعودی لیبر مارکیٹ میں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے جبکہ شہریوں کی جانب سے تارکین وطن محنت کشوں کے مابین مسابقت کی حمایت کی جائے گی، دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ باصلاحیت افرادی قوت کے لیے کام کرنے کے ماحول کو بہتر بنانے کے علاوہ مختلف ممالک سے انتہائی قابل اور بہترین صلاحیت کے حامل تارکین وطن کو ملازمت کے لیے راغب کیا جا سکے گا۔

سن 2019 میں ، سعودی عرب نے کچھ غیرملکیوں کے لیے اپنا پہلا مستقل رہائشی پروگرام پریمیم ریذیڈنسی کارڈ (پی آر سی) شروع کیا تھا تاکہ وہ سعودی کفیل کے بغیر اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس ملک میں رہ سکیں، اس کا اعلان سب سے پہلے 2016 میں محمد بن سلمان نے کیا تھا لیکن مئی 2019 میں شوریٰ کونسل نے اس کی منظوری دی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کفالت کے نظام کے خاتمے کا مقصد بھی مضبوط معاشی نمو کے پہلو کو مزید آگے بڑھانا اور تجارتی سرگرمیوں کو توسیع دینا ہے کیونکہ نیا رہائشی نظام غیر ملکیوں کو نقل و حرکت کی آزادی، رہائش کے اجرا کے حقوق اور اپنے رشتہ داروں کے لیے ویزا کے حصول کے مواقع فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں ریاست میں مزید سرمایہ آئے گا۔

بشکریہ ڈان نیوز

اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے

 پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اُس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ اس سوال پر کہ متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی کو پاکستان کیسے دیکھ رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس معاملے پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ ہمارا موقف قائداعظم نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو کہ فلسطینوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو ان کی پوری ریاست ملے۔۔۔’ وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ‘اگر ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر ایسی ہی صورتحال کشمیر کی بھی ہے تو ہمیں تو اسے بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ لہذا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم اسرائیل اور فلسطین کی بات کرتے ہیں تو کیا ہم خدا کو جواب دیں گے کہ ہم ان لوگوں کو جن پر ہر قسم کی زیادتیاں ہوئی ہیں، جن کے حقوق سلب کیے گئے ہیں، ان کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں، اس بات کو میرا ضمیر تو کبھی بھی تسلیم نہیں کرتا۔’ وزیر اعظم عمران خان نے مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کا کردار مسلم دنیا کو تقسیم نہیں اکٹھا کرنا ہے جو کہ آسان نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب اور ایران کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی کے مسائل ہیں۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہماری کوشش ہے سب کو ایک ساتھ لے کر چلیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں ہے؟

میرے ایک سینئر کالم نگار دوست کی پہچان ہی شدتِ احساس ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کے ”جرمِ ضعیفی‘‘ پر بہت دل گرفتہ ہیں۔ اسی دل گرفتگی کے ردعمل کے طور پر شاید وہ اپنی قوم سے پوچھتے ہیں کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں ہے؟ اس سوال کا میں جواب ضرور دوں گا مگر پہلے ذرا یہ سمجھ لیجئے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ”امن معاہدہ‘‘ ہے کیا ؟ متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ملتی نہ ہی اس کا اسرائیل کے ساتھ براہِ راست کوئی سرحدی‘ جغرافیائی یا تجارتی جھگڑا ہے۔ تو پھر متحدہ عرب امارت کو اسرائیل کے ساتھ ”امن معاہدہ‘‘ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل ہو جائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ آپ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ”ابنارمل‘‘ کب تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی فارمولے کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنا چاہتی ہے تو یہ بتایا جائے کہ اُن کے ذمے یہ مشن لگایا کس نے ہے؟ یہ مشن نہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے متحدہ عرب امارات کے ذمہ لگایا ہے نہ ہی غزہ کی حکمران تنظیم حماس نے لگایا ہے اور نہ ہی یہ مشن اس کے سپرد عرب لیگ نے کیا ہے۔ محمود عباس فلسطینیوں میں اپنے لقب ابو مازن کے نام سے زیادہ جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اگرچہ فلسطینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن کی ”صلح جویانہ‘‘ پالیسیوں کی بنا پر انہیں زیادہ پسند نہیں کرتی اور انہیں ایک مغرب نواز لیڈر سمجھتی ہے‘ مگر مغرب میں وہ ایک مدبر و معتدل فلسطینی لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

تاہم یہی ابو مازن امریکہ و برطانیہ کی انصاف کش دوغلی پالیسیوں سے اب بہت دل برداشتہ ہیں۔ چند ماہ پہلے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کھول دیا تو فلسطینی صدر نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔ اور اب اسی محمود عباس نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کو بدترین غداری قرار دیا ہے۔ 1986ء تک فلسطینی الفتح سے بڑی حد تک مایوس ہو چکے تھے اور بے مقصد مذاکرات سے ناامید ہو چکے تھے۔ اس وقت 1987ء میں شیخ احمد یاسین نے عبدالعزیز الرنتیسی کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی قیادت کے لیے ”حماس‘‘ نامی تنظیم قائم کر لی۔ حماس کا مطلب ہے جوش و جذبہ۔ حماس کے دو شعبے ہیں‘ ایک رفاہ و فلاح اور دوسرا جہاد۔ چشمِ فلک نے ایسا فلاحی کام فلسطین میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ علی الصباح ضرورت مند خاندان گھر کا دروازہ کھولتے ہیں تو دہلیز پر مہینہ کا راشن‘ بچوں کا کتابوں سمیت بستہ اور ضرورت کی دیگر اشیا رکھی ہوتی ہیں۔

سنہ 2006ء کے انتخابات میں حماس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ جون 2007ء میں محمود عباس نے غیرجمہوری طریقے سے حماس سے اپنے رستے الگ کر لیے۔ اب محمود عباس کا دارالحکومت مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ہے جبکہ حماس غزہ میں برسرِ اقتدار ہے۔ اسی حماس نے بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والے ”امن معاہدے‘‘ کو فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے عربوں‘ فلسطینیوں اور عالمِ اسلام کے جذبات کو یکسر نظرانداز کر کے یہ معاہدہ کیوں کیا؟ تیل کی دولت سے مالا مال بادشاہتوں کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دلی جذبات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر وہ انہیں دفاعی سپورٹ نہ دیں تو وہ دو ہفتے بھی نہیں نکال سکتے۔ اس لیے یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تین چار مقاصد کی خاطر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے ذریعے کروایا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔ وہاں کے انتہائی بااثر یہودیوں سے نوٹ اور ووٹ لینے کے لیے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کھولا اور اب ایک اور دولت مند عرب ملک کو فلسطینیوں کی مدد سے دست بردار کروا کے اسرائیل کے ساتھ ”امن معاہدے‘‘ کی مجبوریوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے اتحاد سے ایران پر دبائو بڑھایا جائے گا اور عرب و عجم میں افتراق پیدا کر کے اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کو کمزور کیا جائے گا۔ گزشتہ برس وائٹ ہائوس میں ایک ملاقات کے دوران جب بائی دا وے کشمیر کا ذکر آگیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی اپنے مہمان کو خوش کرنے کے لیے کہہ دیا کہ وہ کشمیر پر ثالثی کروانے کو تیار ہیں۔

یہ سن کر ہمارے وزیراعظم اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے اسلام آباد پہنچ کر کہا کہ مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں۔ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کر کے بھارت ایک سال سے اُن پر بدترین مظالم توڑ رہا ہے مگر ثالثی کروانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی سے مودی کو روکا اور نہ ہی ”ورلڈ کپ‘‘ جیتنے والوں نے مڑ کر کشمیریوں کی خبر لی۔ جناب عمران خان نے اپنے امریکی دوست سے اب تک یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے نریندر مودی کی ساری غیر انسانی اور ظالمانہ کارروائیوں پرخاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ اب یہی بات متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدے سے اسرائیل مغربی کنارے کو صیہونی ریاست میں ضم نہیں کرے گا۔

تاہم اُسی روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اماراتی ولی عہد کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کا پروگرام اسی طرح ٹیبل پر موجود ہے۔ وقتی طور پر چند روز کے لیے اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے مگر وہ ”اپنی زمین‘‘ پر ملکیت کے حقوق سے کبھی دست بردار نہ ہوں گے کیونکہ مغربی کنارا یہودیوں کا تاریخی مسکن ہے۔ اسے کہتے ہیں آگ لینے آئی اور گھر کی مالکن بن بیٹھی۔ اسرائیل کے اپنے اندر امن بھی ہے‘ خوش حالی بھی ہے اور خود احتسابی بھی‘ جبکہ آس پاس کے اکثر عرب ملکوں کو اسرائیلی سازشوں نے یا تو مکمل تباہی سے دوچار کر دیا ہے یا انہیں باہمی آویزشوں میں الجھا دیا ہے۔ ذرا عراق‘ شام‘ لبنان اور پھر تھوڑا دور لیبیا کا حشر دیکھئے۔ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے خلاف متعدد سرد وگرم محاذوں پر برسر پیکار ہیں‘ جبکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان محدود جنگ جاری ہے۔

اس معاہدے کے بعد بھی اسرائیل غزہ پر بمباری کر رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے ساتھ براہِ راست ٹیلی فونی رابطے بحال کر رہے ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ ہمارے عرب بھائی مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار ہیں اور قیادت کا یہ حق کسی دوسرے کو دینے پر آمادہ بھی نہیں مگر فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو ظالموں کے سپرد کر دینے میں کوئی خفت بھی محسوس نہیں کرتے۔ جہاں تک میرے سینئر کالم نگار دوست کے سوال کا تعلق ہے کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل ِپاکستان کو دوقومی نظریہ کی بنا پر اچھی طرح معلوم ہے کہ امت ِمسلمہ رنگ و نسل یا زبان و جغرافیائی حدود سے نہیں عقیدے سے بنتی ہے اور اس عقیدے کا تقاضا ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی کونے میں بستا ہو اس کا دکھ درد مشترک ہوتا ہے۔

علامہ اقبال بہت بیمار تھے مگر اس کے باوجود 20 جولائی 1937ء کو رائل کمیشن برائے فلسطین کی طرف سے دی گئی تقسیم ِفلسطین کی تجویز کو انہوں نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کیخلاف شدید احتجاج کرینگے چاہے اس کیلئے انہیں جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اسی طرح اُن دنوں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ جس ”دردِ جگر‘‘ نے ہمارے قائدین کو مضطرب و پریشان کر رکھا تھا وہی دردِ جگر ساری پاکستانی قوم کیلئے سرمایۂ افتخار ہے۔

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

بشکریہ دنیا نیوز

اسرائیل، یواے ای سفارتی تعلقات کس شرط پر قائم ہوئے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایک ‘تاریخی’معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل اپنے تعلقات کو رسمی طور پر معمول پر لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اسرائیل اس مقبوضہ زمین کو اپنا حصہ نہیں بنائے گا جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس اعلان سے متحدہ عرب امارات ایسا کرنے والا پہلا خلیجی اور صرف تیسرا عرب ملک بن گیا ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہوں گے۔ اس سے پہلے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ فعال سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ اس بات پر فلسطینی رہنما حماس نے غصے کا اظہار کیا تھا۔ حماس ایک عسکریت پسند گروپ ہے جس کی غزہ پر حکومت ہے۔ اس نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے’تاریخی پیش رفت’ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں امن کو فروغ ملے گا۔ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ’ تعاون کو تیز کرنا اور وسیع کرنا شروع کر دے گا۔’

انہوں نے کہا : ‘اب جب کہ برف ٹوٹ چکی ہے مجھے امید ہے کہ مزید عرب اور مسلمان ملک متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے۔’ اماراتی رہنما شیخ محمد بن زید نے بھی خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ‘اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ ایک فون کال کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت مزید فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنا روک دیا جائے گا۔’ انہوں نے مزید کہا: ‘متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے تعاون اور دو طرفہ تعلقات کے قیام کے لیے ایک روڈمیپ تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔’ ایک خلیجی ریاست کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے نومبرمیں ہونے والے ایک صدارتی انتخاب سے پہلے ٹرمپ کو ایک منفرد اور ممکنہ طورپر طاقت ور سفارتی فتح حاصل ہو گئی ہے۔ یہ فتح اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ کروانے کی ان کوششوں کے بعد ملی ہے جو مسائل کا شکار ہونے کے بعد ختم ہو گئی تھیں۔ فلسطینی قیادت نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مؤثر انداز میں منقطع کر لیے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ‘تاریخی دن’ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے قوم سے خطاب کریں گے۔  معاہدے سے اسرائیلی وزیراعظم کی بنیامین نتن یاہو کے لیے حمایت میں اضافہ ہو گا جو طویل عرصے سے فخر کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلیجی ممالک کے ساتھ پس پردہ قریبی تعلقات قائم ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اپنے ان حامیوں کو جواب دینا ہو گا جنہوں نے ان پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کیا جائے حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیرقانونی ہے۔ حالیہ انتخابات سے پہلےاسرائیلی وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے اسرائیل میں شامل کرنے کا کام فوری طور پر آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا جس کے تحت وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک تہائی حصے پر حاکمیت کا اعلان کر سکیں گے۔ ان حصوں میں مشرقی بیت المقدس اور غزہ شامل ہیں، جن کے حوالے سے فلسطینیوں کو امید ہے کہ وہ ان کی مستقبل کی ریاست کا حصہ ہوں گے۔ فلسطینی قیادت نے غصے میں آ کر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے اورایک موقعے پر اسرائیل کے ساتھ سلامتی میں تعاون بند کر دیا تھا۔

بل ٹریو

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

شامی مہاجرین کا المیہ، ترکی کا یورپ کو انتباہ

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے اگر انھوں نے شام کے تنازعے کے پیش نظر ترکی کی امداد میں مناسب اضافہ نہ کیا تو شامی مہاجرین کا سیلاب یورپی ممالک کی طرف جانا شروع کر دیں گے۔ صدر اردوان نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد اس تنازعے کے بارے میں کوئی امن معاہدہ یا کم از کم فائر بندی کا سمجھوتہ ضرور ہو جائے گا کیونکہ ادلب میں باغیوں کے ساتھ سرتوڑ لڑائی جاری ہے تا کہ اس علاقے پر ان کا قبضہ چھڑایا جا سکے۔ صدر اردوان نے یورپ کو انتباہ کیا کہ انھیں شامی مہاجرین کے حوالے سے اپنی ذمے داری کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں تشدد کے واقعات کی بنا پر بے گھر ہونے والوں کا بہت بڑا ہجوم اکیلے ترکی نہیں سنبھال سکے گا چنانچہ اس مقصد کے لیے یورپ والوں کی بڑی امداد اور حمایت درکار ہو گی۔ ترکی کے صدر اردوان نے کہا جب ہم نے اپنے دروازے کھولے تو شور شروع ہو گیا کہ ترکی کو اپنا دروازہ بند کرنا پڑے گا تاہم اب دروازہ کھل چکا ہے لہٰذا مغربی ملک کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس بھاری بھر کم بوجھ کو نمٹانے کے لیے پیش قدمی کرنا ہو گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین جن میں افغان، شامی اور عراقی شامل ہیں ترکی کی سرحد پر جمع ہیں۔ ترکی کا یہ بارڈر یونان کے ساتھ ملتا ہے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے لیکن انھیں یورپ میں داخل نہ ہونے دے۔ صدر اردوان نے کہا جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، مہاجرین کی تعداد میں لاکھوں کروڑوں کا اضافہ ہوتا جائے گا لہٰذا وہ وقت آنے سے قبل صورتحال کا تدارک کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کے باعث پناہ گزینوں کی ہلاکتیں شروع ہو چکی ہیں جن میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ یونان نے کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر اس آنے والے طوفان سے تحفظ کی راہ تلاش کر رہا ہے لیکن کسی اکیلے ملک کے لیے یہ ممکن نہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سعودی عرب میں بہت جلد ’کفالہ نظام‘ ختم کر دیا جائے گا : رپورٹ

سعودی عرب میں کفالہ کا نظام بہت جلد ختم کر دیا جائے گا۔ اس بات کا انکشاف سعودی گزٹ نے بے نامی ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ کفالہ کے موجودہ نظام کے تحت تارکینِ وطن ورکر اپنے آجروں یا کفیلوں کی وضع کردہ ملازمت کی شرائط کے پابند ہوتے ہیں۔ آجر ہی ایسے ملازمین کے ویزے اور قانونی حیثیت کا ذمے دار ہوتا ہے۔ نئے قانون کے تحت آجروں اور ایسے غیرملکی تارکین وطن ورکروں کے درمیان تعلق داری محدود ہو کر رہ جائے گی جو تعمیرات کے شعبے میں کام کر رہے ہیں یا گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا یہ نیا اقدام ویژن 2030ء کے تحت رو بہ عمل لائی جانے والی اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس ویژن کے تحت سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے دور رس نتائج کی حامل متنوع اصلاحات کی جارہی ہیں۔

کفالہ نظام کے خاتمےسے تارکین وطن ورکروں کو داخلی اور خارجی ویزے کے حصول میں آزادی حاصل ہو جائے گی۔ وہ کسی کفیل کے بغیر اپنے پاسپورٹ پر سعودی عرب سے خروج کے لیے مہر لگوا سکیں گے۔ نیز کسی کفیل کی منظوری کے بغیر ملازمت حاصل کر سکیں گے۔ اس وقت کفالہ کے تحت کام کرنے والے تارکینِ وطن ورکروں کو اس نظام کے خاتمے سے نقل وحرکت کی بھی آزادی حاصل ہو گی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں عشروں سے کفالہ نظام نافذ العمل ہے۔ اس نظام کے تحت کوئی بھی تارکِ وطن ورکر اپنے کفیل ہی کے ہاں کام کرنے کا پابند ہے اور کفالت کی باضابطہ تحریری طریقے سے منتقلی کے بغیر کسی دوسرے آجر کے ہاں ملازمت نہیں کر سکتا ہے۔ اس نظام کو اکثر بے لچک ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

سعودی گزٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’کفالہ نظام کے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ویزے کی تجارت کی بلیک مارکیٹ پھلتی پھولی ہے۔‘‘
خلیجی عرب ممالک میں 1950ء کے عشرے میں تیل دریافت ہونے کے بعد غیرملکی تارکین وطن کو مختلف شعبوں میں ملازمتیں دینے کی راہیں کھلی تھیں تاکہ وہ ان ممالک کی ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان ممالک نے تب کفالہ کا نظام متعارف کرایا تھا۔ اس وقت سعودی عرب کے علاوہ بحرین ، کویت ، عُمان ، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی کفالہ کا نظام مروج ہے۔عُمان ، بحرین اور قطر نے ماضی قریب میں اس نظام کے بعض حصوں کی تنسیخ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ خلیجی عرب ممالک سے باہر اردن اور لبنان میں بھی گھریلو ملازمین کے لیے کفالہ ایسا ہی نظام رائج ہے۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکہ، ایران جنگ کا خطرہ اور پاکستان

دنیا کی موجود مجموعی سیاسی صورتحال نے ایک بڑا سوال تو پہلے ہی پیدا کیا ہوا ہے کہ عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑیوں کو واقعی عالمی امن مطلوب بھی ہے یا فقط اس کا چیمپئن بنے رہنا اور اپنے ہی ’’قومی مفادات‘‘ کی آڑ میں اسے (عالمی امن) کسی صورت قائم نہ ہونے دینا ہی مقصد ہے؟ یا یہ اندازِ عالمی سیاست ہی انکی خارجی سیاست کا لازمہ بن گیا ہے؟ گزشتہ چند روز میں ایرانی عسکری قائد کے بذریعہ امریکی ڈرون حملہ قتل اور بھارت کے نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی پاکستان کو سلامتی کے حوالے سے دھمکیوں اور اسکے عالمی اور پاکستانی ردعمل سے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا پہ ہولناک جنگ کے بادل چھا گئے ہیں۔ اس صورت نے ہر دو خطوں میں خصوصاً اور پوری دنیا میں امن عالم کو سنگین خطرے کا جو چیلنج پیدا کیا ہے، اسے بلاتاخیر ایڈریس کر کے عالمی برادری اس سے نمٹنے کی طرف فوراً نہیں آتی تو بہت ہولناک نتائج کا حامل کوئی بھی واقعہ، ان دونوں خطوں (مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا) میں کسی بھی وقت کہیں بھی ہو سکتا ہے۔

اللّٰہ خیر! متذکرہ اٹھائے گئے سوالات کے سچے جوابات اور ان کے مطابق مطلوب عملی اقدامات کی شدت تو پہلے ہی بڑھ رہی تھی لیکن ایرانی جنرل کے قتل نے اس میں کئی سو گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اگر چین، روس، فرانس اور برطانیہ نے سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن کی اپنی عالمی ذمہ دارانہ حیثیت کا احساس کرتے ہوئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس نہ بلایا یا بلانے پر پانچوں مستقل ارکان نے عالمی فورم میں روایتی عالمی سیاسی دھڑے بندی میں مبتلا ہو کر خطے میں خوفناک جنگ کے خطرے کو نہ ٹالا تو شاید کسی اور ڈپلومیٹک چینل سے یہ مقصد عظیم حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔ گویا منڈلاتی جنگ کے واضح امکانات کو ختم کرنے کا چیلنج یہ بھی ہے کہ سیکورٹی کونسل اپنے اصل کردار کی ادائیگی کے لئے بہت تیزی سے مطلوب درجے پر اپنے موجود رویےّ (آزادی سے محرومی پر خاموشی) کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی تو یقین کر لیا جائے کہ تیسری جنگ عظیم تیار ہے۔

سیکورٹی کونسل میں امریکہ کو تنہا کر کے اور ٹرمپ انتظامیہ کے انتہائی جارحانہ اقدام کے خلاف چاروں مستقل اراکین کے کسی مشترکہ حل اور اسے تسلیم کرانے کے لئے امریکہ پر عالمی دبائو سے ہی وہ صورت پیدا کی جا سکتی ہے جو جنگ کے خطرے کو ٹال سکتی ہے، یوں یہ بوجھ فرانس اور برطانیہ کو اٹھانا ہو گا۔ دوسری جانب امریکی ایوان ہائے نمائندگان سے سول سوسائٹی کے جنگ مخالف اور امریکی عوام کے سچے خیر خواہوں کی طرف سے بھی بڑی حقیقت پسندی سے اپنے ہی صدر کے اقدام کو قتل کہا جا رہا ہے اور دہائی دی جا رہی کہ جنگ کو روکنے کا کوئی انتظام کیا جائے۔ اس پر روس اور چین کے ردعمل اور سب سے بڑھ کر انتقام کے ایرانی سرکاری اعلان کو خاطر میں نہ لانا بہت بڑی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔

مقبوضہ عراق کی پارلیمنٹ اور حکومتی ردعمل نے عراق پر قابض امریکیوں کی زندگی کو جنگ نہ ہوتے ہوئے بھی مسلسل خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ نہ صرف امریکہ میں، دیگر کئی خطوں اور ممالک میں بھی عام امریکی شہری ایسے ہی خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کا مداوا اب خود امریکی اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی نے مل کر کرنا ہے۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عراق پر امریکی قبضے سے قبل صدام دور پر ملک میں وسیع تر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈیز) کے پوشیدہ ذخائر کا الزام لگا کر جو حملہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سویڈش انسپکٹر کی جانب سے ان کی عدم موجودگی کے سرٹیفکیٹ، اقوام متحدہ کی تائید اور امریکی اور یورپی درجن سے زائد شہروں میں عراق پر حملہ رکوانے کے لئے حقیقی معنوں میں میلینز کی احتجاجی ریلیوں کے باوجود بش انتظامیہ نے خفیہ اداروں کی غلط ثابت ہونے والی رپورٹس کو وزن دیتے ہوئے عراق پر حملہ کر کے اسے اپنا مقبوضہ بنا کر ایک پُرامن ملک میں جو وسیع تر تباہی کا شیطانی کھیل کھیلا۔

اسے صدر بش نے فقط یہ کہہ کر اپنی خفت اور جرم کی حد تک غلطی کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ ’’عراق پر حملہ جن اطلاعات کی بنیاد پر کیا وہ غلط تھیں‘‘ لیکن لاکھوں ہلاکتوں کے بعد بھی آج یہ قبضہ جاری ہے۔ اب بھی جو ایرانی جنگی تیاریوں کے غیر ثابت شدہ الزام پر ایرانی اور عراقی فوجی سربراہوں کا قتل کیا گیا ہے۔ کیا وہ بش انتظامیہ کی بڑی غلطی سے بھی زیادہ بڑی اور مہلک غلطی نہیں؟ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وزیراعظم عمران خان نے انتخابات جیتنے کے فوراً بعد یہ واضح کر دیا تھا کہ ’’اب پاکستان کسی بھی جنگ میں اتحادی بننے کی بجائے صرف امن اقدامات اور عمل کا ہی پارٹنر بنے گا‘‘۔ بھارتی جنگی جنون ہی نہیں بلکہ فضائی جنگ کے مقابل کامیاب ترین دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے، گرفتار پائلٹ کی فوراً واپسی، کرتارپور کوریڈور، امریکہ، طالبان امن مذاکرات کو کامیاب کرانے میں بھرپور تعاون، یمن جنگ پر ایران، سعودی کے حوالے سے دونوں دوست ممالک میں مصالحت کی سفارتی کوشش، ایک ہی سال کے وہ امن اقدامات ہیں جن سے وزیراعظم کا متذکرہ عزم عمل میں ڈھلا۔

گزشتہ روز بھی پاک افواج کے ترجمان نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا کہ ’’کسی بھی جنگ میں کسی بھی فریق کو پاک سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ ایران، امریکہ کشیدگی کے تناظر میں یہ وضاحت بھی حکومتی پالیسی کی ہی عکاس ہے۔ پاکستان کو آنے والے دنوں میں اپنی اسی پوزیشن کو ہی جاری رکھنا ہے اور دوست اسلامی ممالک کے تعاون و اشتراک سے اسلامی دنیا کے حساس ترین حصے کو مزید جنگ و جدل سے بچانے اور یہاں امن کے قیام۔ ہمسایوں میں غلط فہمیاں دور کرنے اور غیر ملکی عسکری موجودگی کو کم اور ختم کر کے علاقے میں استحکام لانے اور یہاں سلامتی و امن کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششوں میں ہی اپنا کردار ادا کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہے، یہ ہی بہترین سفارتی راہ ہو گی۔

ڈاکٹر مجاہد منصوری

بشکریہ روزنامہ جنگ

سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے رہائشی اسکیم متعارف کروا دی

سعودی عرب نے نئی خصوصی رہائشی اسکیم پیش کر دی جس کا مقصد پیٹرولیم ریاست کے تیل کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فروغ دینے کےلیے امیر ترین افراد کو راغب کرنا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اسکیم کے آن لائن رجسٹریشن کے تحت 8 لاکھ ریال (2 لاکھ 13 ہزار ڈالر) ادا کر کے مستقل رہائش جبکہ ایک لاکھ ریال (27 ہزار ڈالر) ادا کر کے قابلِ تجدید رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد سعودی کفیل کے بغیر بزنس کر سکیں گے اس کے ساتھ انہیں جائیداد خریدنے اور رشتہ داروں کے ویزا اسپانسر کرنے کی سہولت بھی مل جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے ان عرب شہریوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا جو سعودی عرب میں سالوں سے بغیر مستقل رہائش کے مقیم ہیں یا وہ کثیرالملکی (ملٹی نیشنل) کمپنیاں جو سعودی عرب میں طویل عرصے تک بزنس کرنا چاہتی ہیں۔ یہ اقدام ملک کی جانب سے معیشت کو متنوع کرنے کے لیے تیل کے علاوہ دیگر ذرائع سے آمدنی بڑھانے کی کوششوں کے تحت متعارف کروایا گیا۔ مذکورہ اسکیم کو گزشتہ ماہ سعودی کابینہ نے منظور کیا تھا تاہم اس سلسلے میں سعودی عرب میں اس وقت ایک کروڑ غیر ملکی کارکنان موجود ہیں جس میں سے اکثریت کو مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق انتہائی سخت رہائشی اصولوں کا سامنا ہے۔

ان کارکنان کو زیادہ تر سعودی آجر اسپانسر کرتے ہیں اور ان کے لیے لازم ہوتا ہے کہ ملک میں داخل ہونے اور واپس جانے کے لیے ویزا لیں۔ خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنان کو نکالا ہے اس کے ساتھ حکومت نے ملازمین کے اہلِ خانہ کے لیے بھاری فیس عائد اور کچھ شعبہ جات میں انہیں کام کرنے سے روک بھی دیا گیا۔ علاوہ ازیں سعودی عرب میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے جس کے تحت سینکڑوں ہزاروں کارکنان کو گزشتہ 2 سال کے عرصے میں ملک بدر بھی کیا گیا ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز