بی بی سی زندہ باد کا نعرہ

حضور، اجازت ہو تو تھوڑی ’’ہارڈ ٹاک‘‘ ہو جائے؟ آپ کی مرضی جواب دیں یا نہ دیں، بس مجھے سوال کی اجازت دے دیں۔ آپ نے تو وعدہ کیا تھا پی ٹی وی  کو بی بی سی بنانے کا، پھر ایسا کیا ہوا کہ قومی ٹی وی سرکاری ہو گیا اور اِس بات پر فخر کیا جارہا ہے کہ اب اِس پر اپوزیشن کی کوریج نہیں ہو گی۔ سچ بات ہے، تنقید صرف وہی اچھی لگتی ہے جو دوسروں پر کی جائے۔ 1970 سے بی بی سی سن رہے ہیں۔ بی بی سی ریڈیو، پاکستان میں ہمیشہ سے سنا جاتا ہے مگر جو زور اُس کا 1977 کی پاکستان قومی اتحاد اور 1983 کی تحریک بحالی جمہوریت کے زمانے میں تھا، وہ اب کسی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ اِس کالم کا عنوان ’’بی بی سی زندہ باد‘‘ دراصل اُسی زمانے کا نعرہ تھا۔

پرانے لوگوں کو آج بھی رات کا بی بی سی کا مشہور پروگرام ’’سیربین‘‘ یاد ہو گا۔ یہاں 8:15 ہوئے وہاں دکان ہو یا بازار یا آپ گھر میں ہوں، لوگ خبروں اور تبصروں کے لئے بی بی سی سنتے۔ وقت کے ساتھ ہم نے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ 1988 میں انتخابات ہوئے تو محترمہ بےنظیر بھٹو، جناب اسلم اظہر مرحوم کو دوبارہ پی ٹی وی کا چیئرمین لے آئیں۔ اسلم صاحب پی ٹی وی کے بانیوں میں سے تھے۔ ایک بار کہنے لگے ’’جب محترمہ نے مجھے دوبارہ نامزد کیا تو میں نے اُن سے یہ شرط رکھی کہ سرکاری مداخلت نہیں ہو گی۔ میں رات کو دفتر گیا اور نو بجے کا خبرنامہ سننے کے بعد نیوز انچارج کو بلایا اور پوچھا اس میں اپوزیشن کی کوریج کیوں نہیں ہے؟ اُس نے جواب دیا۔ سر، پی ٹی وی  ہے؟‘‘۔ کچھ مہینے تو ہمیں یہ کوریج نظر آئی پھر وہی ہوا جو آج تک ہو رہا ہے۔ مداخلت بڑھی تو اسلم صاحب استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے اور ’’سب اچھا‘‘ کی خبریں آنے لگیں۔

میں نے ایک بار محترمہ سے پوچھا، ’’بی بی، کیا آپ پی ٹی وی دیکھتی ہیں‘‘ بولیں، ’’نہیں، وہ تو اپنا ہی ہے‘‘۔ یہی حال اِس ادارے کا میاں صاحب کے دور میں بھی رہا۔ عمران خان صاحب کے سیاست میں آنے کی ایک وجہ پی ٹی وی بھی ہے۔ یہ 1995 کی بات ہے۔ خان صاحب شوکت خانم اسپتال کے سلسلے میں ٹائم چاہتے تھے۔ جواب ملا ’’اوپر سے منع ہے‘‘۔ وہ وزیراعظم سے ملنے گئے۔ محترمہ سے تو ملاقات نہیں ہوئی البتہ آصف زرداری سے ملنا پڑا۔ بس پھر کیا تھا، خان صاحب نے فیصلہ کر لیا کہ سیاست میں آئیں گے اور پی ٹی وی کو بی بی سی بنائیں گے۔ اب وہ وزیراعظم ہیں اور پی ٹی وی  ’’سب اچھا‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ رہ گئی بات سابق وزیر خزانہ کی تو ملک کے اندر تو ان کی جے آئی ٹی نہ ہو سکی اور وہ فرار ہو گئے مگر جو کچھ بی بی سی کے ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں ہو گیا، وہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ صحافت میں انٹرویو لینے سے پہلے اچھا اینکر پوری طرح تیار ہوتا ہے اپنے مہمان کے بارے میں۔ اسی طرح جواب دینے والے کو بھی پتا ہونا چاہئے کہ ممکنہ سوالات کیا ہو سکتے ہیں۔ ڈار صاحب کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ ’’ایمپائر‘‘ صرف یہاں ہوتے ہیں وہاں تو صرف کرکٹ میں ایمپائر کا تصور ہے، سیاست میں نہیں۔

حال ہی میں وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز صاحب کا فون آیا۔ بات صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے قانون پر ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ صحافی کی صحیح تعریف معلوم کریں کیونکہ ان کے بقول یہاں تو ہر شخص ’’صحافی‘‘ بن گیا ہے۔ میں نے کہا، ’’شبلی صاحب، پی آئی ڈی اور صوبائی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی لسٹ منگوا لیں، ڈمی اخبارات اور وزارت کے ماتحت چلنے والے اداروں کا جائزہ لے لیں کیونکہ بہتری گھر سے شروع کرنی چاہئے‘‘۔ بہرحال صحافی اور میڈیا ورکرز کے حوالے سے ڈرافٹ پر خاصی حد تک اتفاق ہے مگر صحافیوں کا تحفظ پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ یہاں کچھ ادارے قانون سے بالاتر ہیں۔ ڈار صاحب کے ساتھ ایک ’’ہارڈ ٹاک‘‘ کیا ہوئی، بی بی سی ہمارے پی ٹی آئی دوستوں کے لئے صحافت کا اعلیٰ معیار قرار پایا۔ ہم تو ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ پی ٹی وی کو بی بی سی بنائو۔ اب ان دوستوں کو کون بتائے کہ یہ پاکستان کے صحافی ہیں جنہوں نے 80 اور 90 کی دہائی میں سب سے پہلے حکمرانوں کی کرپشن کو بے نقاب کیا جو بنیاد بنا عمران خان کے کرپشن مخالف بیانیہ کی۔

مگر اب تھوڑی ’’ہارڈ ٹاک‘‘ موجودہ دور کے اسکینڈل پر کی جارہی ہے تو اچھے اور برے صحافیوں کی فہرست جاری ہو رہی ہے۔ خیر ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یہاں جب ’’ہارڈ ٹاک‘‘ ہوتی ہے تو صحافی یا تو لاپتا ہو جاتا ہے اور واپسی پر ’’ٹاک‘‘ کے قابل بھی نہیں رہتا یا مار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 125 صحافی 9/11 کے بعد سے مارے گئے ہیں۔ ہمیں تو اسحاق ڈار کا ٹاک شو دکھانے کی بھی اجازت نہیں۔ ہاں البتہ صولت مرزا کا ویڈیو بیان پھانسی گھاٹ سے نہ صرف دکھانے کی اجازت تھی بلکہ اصرار بھی تھا، کہا گیا یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔ اب اجازت ہو تو ہارڈ ٹاک نہ سہی کچھ ’’سوفٹ ٹاک‘‘ ہو جائے۔ سیاست دان اور حکمران تو اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں اور جو ملک سے بھاگ جائے اس کا بیانیہ کمزور ہو جاتا ہے۔

مگر یہ تو مجھے پوچھنے کا حق ہے کہ 1971 میں اس ملک کے حکمران کو قومی اعزاز کے ساتھ کیوں دفنایا گیا؟ ’’ملک توڑنا‘‘ کیا اعزاز کی بات تھی؟ اس سوال کا جواب میں کس سے لوں کہ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث احسان اللہ احسان کیسے سخت ترین حصار سے فرار ہو گیا؟ دو مئی 2011 کو امریکی فوجی آئے اور آپریشن کر گئے اور ہمیں آج تک اس کمیشن کی رپورٹ کا اسی طرح انتظار ہے جس طرح اوجڑی کیمپ کی رپورٹ کا۔ ہر چیز ملکی اور قومی مفاد کے نام پر ’’بند‘‘ کر دی جاتی ہے۔ سچ ہے تنقید برداشت نہیں ہوتی۔ جس ملک میں یا تو اعلیٰ عدلیہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت فیصلے دیتی رہی ہو یا دو چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کو اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ ہو وہاں کیا ’’ہارڈ ٹاک‘‘ ہو گی؟

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

کورونا وائرس؛ قوم کو امید دلائیں

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے جاری اعصاب شکن جنگ کے مضمرات واثرات کا گرداب بھی پھیل رہا ہے۔ عوام پر کورونا اور معیشت کی دو طرفہ مار پڑ رہی ہے ایک طرف سعودیہ اور روس کے درمیان تیل کی جنگ کے باعث دنیا کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کو شکست دینے کے لیے عالمی اسٹریٹجی اور موثر میکنزم کی تیاری کا سوال شدت سے اٹھ رہا ہے، تاہم مختلف ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے کورونا سے نمٹنے کی فالٹ فری حکمت عملی میں شدید مسائل سے دو چار ہیں۔ سندھ میں کورونا کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے جس کے سدباب اور قرنطینہ کے لیے مناسب عمارتوں کی تلاش جاری ہے، صحت کے ضمن میں انفراسٹرکچر کے فقدان اور ترقی پذیر سمیت غریب ملکوں میں گورننس کے گرتے ہوئے معیار نے ارباب حکومت کو امتحان والجھن میں ڈال رکھا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم گھبرائے نہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ سندھ یا کسی جگہ ممکنہ لاک ڈاؤن کی صورت میں متاثرین کی امداد کے لیے ڈیٹا تیار رکھنا ناگزیر ہے، حقیقت یہ ہے کہ کورونا نے پورے نظام زندگی کو چیلنج کیا ہے اور دنیا اس وبال سے نکلنے اور کورونا کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، خطیر سرمایہ کی فراہمی اور بین الااقوامیت پر مبنی اشتراک عمل اور بریک تھرو کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ خطے میں ایک ذہنی اور سفارتی تبدیلی کے امکانات اور کشمیر کے لاک ڈاؤن کی طرف بھی دنیا کی توجہ مبذول ہوئی ہے، چنانچہ کورونا کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تجویز پر سارک ممالک کی ایک اعلیٰ سطح کی ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی ، جس میں پاکستان نے وزیرمملکت کی سطح پر ویڈیو کانفرنس میں شرکت پر رضا مندی ظاہر کی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے اس میں بطور خاص شرکت کی۔ 

انھوں نے کہا کہ تمام سارک ممالک میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز موجود ہیں، پاکستان کورونا سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ انھوں نے اس وباء سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر سارک کو با اختیار بنانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے خطے میں مسافروں کی اسکریننگ کے عمل کو ادارہ جاتی بنانے کی تجویز دی۔ اس کے علاوہ تنظیم کے آبزرور ملک چین کے اقدامات سے سیکھنے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے سارک وزرائے صحت کی جلد از جلد کانفرنس کے لیے پاکستان کی طرف سے میزبانی کی پیشکش بھی کی۔ کانفرنس میں شریک سربراہان نے وبا سے نمٹنے کے لیے مل کر چلنے پر اتفاق کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا وائرس سے گھبرانے کی نہیں، احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ متحد ہو کر اس وبائی مرض سے نمٹا جا سکتا ہے۔ 

انھوں نے وبا سے نمٹنے کے لیے سارک ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر اور ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے اس کے لیے ایک کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ ادھر کانفرنس میں سری لنکا کے صدرگوٹا بایا راجا پاکسے ، مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح ، نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی ، بھوٹانی وزیر اعظم لوٹے شیرنگ ، بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ، افغان صدر اشرف غنی شریک ہوئے۔ دریں اثناء ترجمان دفترخارجہ نے کانفرنس کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان کی طرف سے اس وبا کے حوالے سے اب تک کے اقدامات اور ریسپانس سے سارک سربراہان کو آگاہ کیا ہے، دنیا آج کشمیریوں کے لاک ڈاؤن کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

سری لنکن صدر اور وزیر اعظم بھوٹان کا کہنا تھا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہی کورونا وائرس سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ کورونا کی آزمائش نے قوم کو ایک عملی راستے پر ڈال دیا ہے، قوم کی نظریں ارباب اختیار پر جمی ہوئی ہیں، اسے رہنمائی کی ضرورت ہے، دنیا سے جدید ترین سائنی معلومات لینی ہیں، ایک ایسی ویکسن کے انتظار میں دنیا بلک رہی ہے جو دکھی انسانیت کو اس عذاب اور اذیت سے نجات دلائے، لیکن کورونا ایک چشم کشا واقعہ بھی ہے جس نے عالم بشریت کو ایک فکری سوچ بھی دی ہے، نوع انسانی اس سوچ میں پڑ گئی ہے کہ دنیا کی دولت چند سفاک ہاتھوں میں مرتکز ہو گئی ہے۔

سرمائے کی حکمرانی ہے، ادویات کا سمندر موجزن ہے مگر کیمسٹوں کی دکانوں میں کورونا نام کے مرض کی کوئی دوائی موجود نہیں، کوئی ایسی انٹرنیشنل کانفرنس ابھی نہیں بلائی گئی جہاں دنیا کے آٹھ دس بڑے ملکوں کے ’’عظیم دماغ ‘‘ سر جوڑ کر نوبیل انعام یافتہ سائنسدانوں سے التجا کریں کہ ان کی لیبارٹریز میں کورونا کے لیے کوئی نسخہ کیمیا ہے یا نہیں؟ اگر ملکی معاملات اور عوام کو درپیش مسائل اور کاروبار کی کیفیت کا جائزہ لیا جائے توعجیب سی صورت حال سامنے آتی ہے، اداروں نے اگرچہ ہیلتھ ایڈوائرزی جاری کر دی ہے مگر اخبارات زبان حال سے تلخ حقائق بیان کر رہے ہیں کہ ٹیسٹ کے لیے نجی لیباریٹریز میں آنے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، سرکاری لیباریٹریز میں رش لگا ہوا ہے۔

زیادہ مریضوں کو ٹیسٹ کی سہولتیں فوری طور پر دستیاب نہیں ، ملک دشمن افواہیں پھیلا رہے ہیں ، خصوصی فیس ماسک کی مبینہ اسمگلنگ کے قصے سنائے جاتے ہیں، عام شہری سڑکوں پر گھوم پھر کر لنڈے کے کپڑے فروخت کرنے والوں سے مقامی طور پر تیارکردہ غیر معیاری اور گھٹیا ماسک خرید رہا ہے، کوئی ادارہ، پولیس اور طبی شعبہ اس بات کی تحقیق نہیں کرتا کہ کس قسم کے کپڑوں سے ماسک درزی سے تیار کروائے جا رہے ہیں، وہ کتنے ہائی جینک ہیں، پولیس اپنی صوابدید پر ہوٹلوں اور ریستورانوں پر چھاپے مارتی ہے، سینہ گزٹ چل رہا کہ کہ فلاں بیکری بند ہونے والی ہے، فلاں مارکیٹ میں رش کورونا کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ 

غرض یہ کہ ایک انارکی ہے، خلفشار ہے، بے یقینی کا عالم ہے، ادھر معاشی افق پر دھند چھائی ہوئی ہے، اجرتی مزدوروں پر بیروزگاری کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ہزاروں ، لاکھوں مزدوروں کو رش اور ہجوم کے بہانے ملازمتوں سے فارغ ہونے کا ڈر لگا رہتا ہے، ملازمین کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب ان سے کہا جائے کہ کام پر نہ آئیں، گھر پر رہیں، آپ کو بلا لیا جائے گا۔ حکومت بلا تاخیر تجارت، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کی طرف توجہ دے، panic نہیں پھیلنا چاہیے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی معیشت پر کورونا کے منفی اثرات ہوں گے۔ پاکستان کی تمام اسٹاک مارکیٹس کو بحران اور مندی کا سامنا ہے، ان کے اشاریے سرمایہ کاری کے لیے نیک شگوں نہیں ہیں۔ کورونا کا نقصان کثیر جہتی ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ صرف انسان نہیں کاروبار پر بھی موت کا سناٹا طاری ہے، تجارت گھٹ گئی ہے، اشیائے خورونوش کو ذخیرہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، فوڈ سیکیورٹی کے خطرات کا عندیہ معاشی مبصرین دے رہے ہیں، لہذا اس طرف حکومت کو مکمل توجہ دینی چاہیے۔

عوام میں خوف وہراس ہے، انھیں تحفظ کا ریاستی اطمینان ملنا شرط ہے، معاشی نظام کورونا کی دسترس سے زیادہ دور نہیں، معاشی ماہرین کے مطابق اگر عوام کورونا کے سامنے سرینڈر کرنے پر مجبور ہو گئے تو اس کا لامحالہ ملبہ ملکی معیشت پر گر سکتا ہے۔ ایشیائی بینک نے انتباہ کیا ہے کہ پاک بھارت تجارت نہ ہونے سے خطہ شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی ایوی ایشن انڈسٹری بحران میں مبتلا ہے، گلوبل ولیج میں کہرام برپا ہے۔ کسی دانا کا صائب مشورہ ہے کہ حکومت ساری باتیں چھوڑ دے بس عالمی اداہ صحت کی اس تلقین پر غور کرے کہ کورونا کے پیش نظر تحقیق کار مہارت دکھائیں ، ویکسین بنائیں۔ اس امر میں کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ عالمی معیشت کو ہزار ارب ڈالرکا نقصان ہو چکا ہے۔لیکن لازم ہے کہ 22 کروڑ اہل وطن خود کو کورونا کے سامنے بے بس ولاچار تو نہ سمجھیں۔ مایوسی نہ پھیلائیں، حکمراں قوم میں امید کے چراغ جلائیں، ان کی ڈھارس بندھائیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز 

سوشل میڈیا پر گمراہ کن خبریں کون پھیلاتا ہے ؟

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول کے طریق کو بدل دیا ہے۔ گزشتہ برس پیو (Pew) تحقیقی مرکز کے جائزے کے مطابق دو تہائی امریکیوں نے کہا کہ وہ خبریں سوشل میڈیا سے حاصل کرتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ شاید جانتے ہیں کہ یہ دو دھاری تلوار ہے۔ بلاشبہ خبر کے مختلف ذرائع کا ہونا اچھی بات ہے، اور سوشل میڈیا سے خبریں و معلومات ٹیلی ویژن اور اخبار جیسے روایتی میڈیا کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر خبروں اور معلومات کا جائزہ نہیں لیا جاتا، تحقیق یا تصدیق نہیں کی جاتی۔ اسی لیے یہ بے بنیاد اور گمراہ کن افواہوں کا سبب بنتی ہیں جو جنگل کی آگ کی طرح آن لائن پھیل جاتی ہیں۔ 

گزشتہ چند برسوں میں آن لائن جھوٹی خبروں کا ایک نظام قائم ہو چکا ہے۔ یہ اطلاعات کہیں سے نقل کرتا ہے، من مرضی کے نتائج اخذ کرتا ہے اور معلومات میں جعل سازی کرتا ہے۔ اس نظام میں مختلف افراد اور تنظیمیں شامل ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بہت بڑی تعداد فالو کرتی ہے۔ شیئرنگ اور ایک کے بعد دوسرے کے آگے بڑھانے سے خبر کا اثر بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ خبر ان کے مخصوص تصورات سے مطابقت رکھتی ہے، اور اس کی سچائی جاننے کی کوشش نہیں کی گئی ہوتی۔ وہ عناصر جو اس قسم کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں وہ گمراہ کن خبروں کا ایک غیر مرکزی اور وسیع جال بناتے ہیں۔ انہیں دبانا روایتی میڈیا کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ 

ایک حالیہ مقالے میں میں نے ٹویٹر پر زِکا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات کی جانچ پڑتال کی۔ جھوٹی خبروں کی بنیاد پر یہ سازشی نظریات لاطینی امریکا میں 2015-16ء میں مقبول ہوئے جب یہ بیماری پھیلی۔ ان میں زیادہ تر الزام لگایا گیا کہ زِکا وائرس کی وجہ سے چھوٹے سر کے بچوں کی پیدائش کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔ حکومت، غیرسرکاری ادارے اور ادویات کی صنعت اصل سبب چھپانے میں مصروف ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان نظریات میں ویکسین، کیڑے مار زہر اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بانجھ مچھروں وغیرہ کو وجہ بتایا گیا تھا۔ جبکہ یہی مچھر سے پھیلنے والے زِکا وائرس کے خلاف اہم ہتھیار ہیں۔ یہ صرف افواہیں نہیں بلکہ نقصان دہ اورگمراہ کن معلومات ہیں۔

 (ترجمہ: رضوان عطا)
 

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہو گیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔ 2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔ تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں 18 سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔ اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہو جاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو