ورلڈ بینک، ایف بی آر اور پاکستانی معیشت

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو چلانے کے قرضوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت معیشت کی کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی غیر ملکی قرض ہی ہیں۔ حکمران قرض لے کر عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ابھی ملک کے پاس اتنے اثاثے موجود ہیں جن کی بنا پر قرض مل سکتے ہیں۔ افسوس کہ آمدن میں اضافے کی بنیاد پر ملک چلانا حکمران طبقات کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ قرض لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ یاد رکھیے کہ قرضوں کی بنیاد پر ملک چلانا معاشی کمزوری کا آخری درجہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پچھلے تین سالوں سے اسی درجے پر فائز ہیں۔ ملکی اثاثے گروی رکھوانے کے بعد قرض لینے کا آخری آپشن عوام کو گروی رکھوانا ہے۔ جب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک یا آئی ایم ایف قرض دینے سے پہلے اس کی ادائیگی سے متعلق گارنٹی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ عوام پر ٹیکس بڑھا کر آپ کا پیٹ بھرا جائے گا، یعنی قرض کے حصول کے لیے ایک طرح سے عوام کو ہی گروی رکھوا دیا جاتا ہے ۔

ٹیکسز بڑھانے سے نہ صرف قرض بڑھتے رہتے ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے حسبِ روایت ڈالر ذخائر بڑھانے کے لیے ورلڈ بینک سے قرض مانگ رکھا تھا۔ ورلڈ بینک نے پہلے شرائط رکھیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مخصوص شرح سے اضافہ کیا جائے، سبسڈی ختم کی جائے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ میں پرائیویٹ ممبرزکو شامل کیا جائے اور قومی بجلی پالیسی کی منظوری دی جائے۔ وزارتِ خزانہ نے ہامی بھر لی اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔ جب عمل درآمد کا وقت آیا تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا جس پر ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالرز قرض کی قسط روک لی۔ 28 جون کو ورلڈ بینک نے دو سکیموں کے تحت 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کیا تھا۔ 400 ملین ڈالرز پاکستان پروگرام فار افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی‘ جسے پی ای اے سی ای بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوئے ہیں جبکہ مزید 400 ملین ڈالرز سکیورنگ ہیومین انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسفومیشن‘ جسے شفٹ ٹو بھی کہا جاتا ہے‘ کے تحت منظور ہوا۔

ورلڈ بینک نے شفٹ ٹو کے تحت منظور ہونے والے قرض کے 400 ملین ڈالرز تو فوری جاری کر دیے تھے لیکن پی ای اے سی ای کے تحت منظور ہونے والے 400 ملین ڈالرز معاہدے کی پاسداری کے بعد جاری کیے جانے تھے۔ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں ورلڈ بینک نے تین ماہ کا وقت دیا ہے جس کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور بقیہ رقم جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ ماہرین اس امر پر حیران تھے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھٹی جائزہ رپورٹ جاری ہونے میں تاخیر اور ایک ارب ڈالر کی قسط رک جانے کے بعد ورلڈ بینک نے کیسے 800 ملین ڈالرز کا قرض منظور کر لیا اور 400 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی کر دی گئی؟ ممکن ہے کہ بقیہ 400 ملین ڈالرز آئی ایم ایف سے تعلقات بہتر نہ ہونے تک منجمد رہیں۔ قرض کے کاغذات کے مطابق‘ ورلڈ بینک نے پانچ لاکھ ڈالرز بطور فیس چارج کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جب تک حکومت شرائط پوری کر کے قرض کی بقیہ رقم وصول نہیں کر لیتی اس پر صفر اعشاریہ پچیس فیصد اضافی سود چارج کیا جائے گا۔ قرض لینے کے لیے حکومت تیز رفتاری سے اقدامات کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن آمدن بڑھانے اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے اعداد و شمار مایوس کن ہیں۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن فنانس میں ایف بی آر کے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے پچھلے تین سالوں میں نان فائلرز کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے ہیں۔ اگر ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی بات کی جائے تو تقریباً تیرہ لاکھ نئے لوگ فائلرز بنے ہیں جو کل فائلرز کا تقریباً دس اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ نوٹسز میں چونسٹھ اعشاریہ تین ارب روپے کا ٹیکس واجب الادا تھا جس میں سے صرف دو اعشاریہ چھ ارب وصولیاں ہوئی ہیں جو محض چار فیصد بنتا ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی میں جے یو آئی (ایف) کے ممبر سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹسز بھیج کر عام شہریوں کو پریشان کرنا معمول بن گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معصوم لوگوں کو ڈرانے کے لیے نوٹسز بھیجے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے محکمے کے ملازمین کی بدنیتی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کے دستخطوں سے غلط نوٹسز بھیجے گئے ہیں‘ انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔

میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ دن پہلے قومی اسمبلی نے ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے مطابق نان فائلرز کی صورت میں اڑھائی کروڑ اور فائلرز کی صورت میں دس کروڑ روپوں کے ٹیکس نادہندگان کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ جس کی منظوری وزارتِ خزانہ کی کمیٹی سے لی جائے گی اور اس کے سربراہ وزیر خزانہ ہوں گے۔ ایک طرف ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے محکمے کو لامحدود اختیارات دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی صاحب نے بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں اعتراض اٹھایا ہے کہ محکمے کے ملازمین معصوم لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے نوٹسز بھیج رہے ہیں تاکہ ماحول کا فائدہ اٹھا کر جیبیں گرم کی جا سکیں، ایسے افسران کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے پہلے مالی سال 18ء تا 19ء میں تقریباً اکیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے تھے جن میں سے ایک لاکھ تہتر ہزار ریٹرنز جمع ہوئیں۔

نو ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار ہوئی جس میں سے صرف پچیس کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔ مالی سال 19ء تا 20ء میں تریسٹھ لاکھ ٹیکس نوٹسز جاری ہوئے اور دو لاکھ ستانوے ہزار دو سو بیاسی ریٹرنز جمع ہوئیں۔ بارہ ارب ستر کروڑ روپوں کی ٹیکس ڈیمانڈ بنائی گئی جس میں سے تقریباً ستاسٹھ کروڑ روپے اکٹھا ہوا۔ مالی سال 20ء تا 21ء میں تقریباً تینتالیس لاکھ ٹیکس نوٹسز بھجوائے گئے۔ آٹھ لاکھ چھیالس ہزار دو سو چھیانوے لوگوں نے ریٹرنز جمع کروائیں۔ ساڑھے بیالیس ارب کی ٹیکس ڈیمانڈ بھجوائی گئیں اور تقریباً پونے دو ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا۔ تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ نوٹسز کے جواب موصول نہیں ہوئے۔ ان اعداد و شمار کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے سسٹم میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔ افسران جان چھڑانے کے لیے ماتحت ملازمین کو غیر حقیقی اہداف دیتے ہیں جو ایک طرف ہدف سے کئی گنا کم ٹیکس وصولی کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف مبینہ طور پر کرپشن کے نئے راستے کھولتے ہیں۔

محکمے کے ان لینڈ ریونیو سروس آپریشن کے نمائندے نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں کو ٹیکس نوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کا کوئی بھی ٹیکس واجب الادا نہیں تھا۔ اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ میں کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کی بنا پر پورے ڈیپارٹمنٹ پر سوالیہ نشان نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ اور انسان ہیں‘ کوئی فرشتے نہیں، محکمے نے نوٹسز بھلے ضرورت سے زیادہ بھیجے ہیں لیکن گرفتاریاں نہیں کیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے افسران کے پاس گرفتاری کے اختیارات موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ان اختیارات پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں ممبر ایف بی آر کا جواب تسلی بخش دکھائی نہیں دیتا۔ اگر وہ اقرار کر رہے ہیں کہ افسران غلط نوٹسز بھیج کر مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں۔ جن ممالک میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے‘ ان کے افسران عوام کو غلط نوٹسز نہیں بھجواتے بلکہ معاملات کو حل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

میاں عمران احمد

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان کا مستقبل : ایک مضبوط علمی معیشت

پاکستان کا مستقبل اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جدّت طرازی اور کاروباری صلاحیتوں پر مبنی مضبوط علمی معیشت کی ترقی میں مضمر ہے۔ ضروری ہے کہ غیر معیاری زرعی معیشت کے جال سے نکل کر ایک مضبوط علمی معیشت کی طرف گامزن ہوا جائے۔ اس کیلئے ہمیں ایک انتہائی ہنر مند افرادی قوت تشکیل دینےاور ایسی حکمتِ عملی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس سے اس افرادی قوت کی صلاحیتوں کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات کی تیاری اور برآمد کے لئے بڑی صنعتوں کے قیام کے لئے بروئے کار لا یا جا سکے۔ یہی سنگاپور، کوریا اور چین جیسے ممالک کی تیز رفتار ترقی کا راز ہے۔ ہمیں انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، بائیو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی کے اسٹوریج سسٹم، جدید دھات کاری، پریسیشن مینو فیکچرنگ، مائیکرو الیکٹرونکس، دفاعی مصنوعات، جہاز سازی، آٹو موبائل مینو فیکچرنگ اور اس طرح کی معیاری مصنوعات کی تیاری کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ پاکستان نے ہمیشہ کم آمدنی والے شعبوں پر ہی توجہ مرکوز کی ہے جس نے ہمیں فی کس آمدنی کے لحاظ سے بہت نچلے درجے پر پہنچا دیا ہے۔

علمی معیشت کے لئے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے، بین الضابطہ شعبوں میں کام کرنے اور تقریباً ہر شعبے میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کو تیزی سے اپنانے کی صلاحیتوں کے ساتھ بہترین تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کی مہارتیں جو آج کے نئے ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کاروبار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں، خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک علمی معیشت کو چلانے کے لئے چار بنیادی ستونوں کی ضرورت ہوتی ہے، پہلا ستون، ایک ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی دستیابی، ملازمین کا اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نئے چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کا اہل ہونا ضروری ہے۔ دوسرا ستون جدید معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنا لوجی ذرائع تک رسائی ہے تاکہ تازہ ترین معلومات، نئی پیش رفتوں اور موثر طریقے سے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔

تیسرا ستون تجارتی اداروں اور صنعتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک موثر جدت طرازی کا نظام ہے تاکہ دانشور جو اثاثہ ہوتے ہیں کو محفوظ رکھا جا سکے اور نئے خیالات کو جدید مصنوعات اور عمل میں تبدیل کرنے کے لئے نظام فراہم ہو۔ چوتھا ستون قومی ماحولیاتی نظام کا قیام ہے جس میں جدت طرازی پروان چڑھ سکے۔ اس کے لئے اچھی قیادت، یعنی ماہر وفاقی وزرا ء اور سیکرٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ ادراک رکھتے ہوں کہ کس طرح علمی معیشت کی طرف بڑھا جا سکتا ہے تاکہ ایک قابل ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ ایک مضبوط علمی معیشت کی ترقی کی شروعات صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی تھی جب سال 2000 میں وفاقی وزیر سائنس کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد میں نے انہیں سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے پر راضی کیا بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد، بہت بڑی تبدیلیاں رُونما ہوئیں جنہیں اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بے حد سراہا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پروگراموں کا جائزہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کے چیئرمین پروفیسرمائیکل روڈ نے لیا۔

 انہوں نے متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا اور 2008 میں پاکستان کے ایک اخبار میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جس میں میری پالیسیوں کی تعریف کی، ایچ ای سی کی قیادت کے طور پر میرا یہ رویہ تھا کہ’’معیار مقدار سے کہیں زیادہ اہم ہے‘‘۔ نیچر، دُنیا کا معروف سائنسی جریدہ ہے، اِس نے چار اداریے تحریر کئے جن میں پاکستان کے اس شعبے میں کئے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا۔ دُنیا کی سب سے مشہور سائنسی سوسائٹی، دِی رائل سو سائٹی (لندن) نے ’’اے نیو گولڈن ایج‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کی پالیسیوں کودوسرے ترقی پذیر ممالک کے لئے بہترین مثال قرار دیا۔ ہم نے سائنسدانوں کی تنخواہوں کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ ایک نئے ٹینور ٹریک نظام کے تحت پروفیسروں کی تنخواہوں میں 4 سے 5 گنا اضافہ کیا گیا جو وفاقی وزرا کی تنخواہوں سے چار گنا زیادہ تھا، جامعہ فیکلٹی ممبروں کے گریڈ میں اضافہ کیا گیا اور جامعہ کے اساتذہ کو 75 فیصد ٹیکس میں چھوٹ بھی دی گئی۔ ادبی سرقہ کو روکنے کے لئے ایک سوفٹ وئیر متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے تمام تحقیقی مقالوں کی جانچ پڑتال کی جانے لگی۔

 اس طرح کے دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستانی جامعات کی تحقیقی پیداوار میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ جہاں ہم 2000 میں بین الاقوامی جرائد میں ریسرچ کی اشاعت کے معاملے میں ہندوستان سے 400 فیصد پیچھے تھے، ہم نے 2017 میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا اور 2019 تک ہم ہندوستان سے تقریباً 25 فیصد آگے ہو گئے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم کو 22 جولائی 2006 کو میرے اور HEC کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بارے میں27 جولائی 2006 کو ہندوستان کے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی جس کی سُرخی تھی ’’ہندوستان کو پاکستان کی سائنس میں ترقی سے خطرہ‘‘۔ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم کی زیر صدارت علمی معیشت پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جس کا، میں وائس چیئرمین ہوں، ایک علمی معیشت کی طرف گامزن سفر جو 2000 میں شروع ہوا تھا دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن
کالم نگار سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اورسابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہیں

بشکریہ روزنامہ جنگ

قومی اداروں کے ملازمین کی حالت زار

قیام پاکستان کے وقت اور اس کے بعد صنعتکاروں نے اس نوزائیدہ ملک کے مستقبل اور اس کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے گراں قدر ، بیش بہا قربانیاں اور خدمات سرانجام دیں جس سے لگتا تھا کہ پاکستان بہت جلد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نظر آئے گا۔ لیکن پھر بدقسمتی سے سیاسی نا اہلی، بے جا دخل اندازی، غلط پالیسیوں،کرپشن اور سیاسی لوٹ مارکی وجہ سے ترقی سے تنزلی کا سفر شروع ہو گیا جس کی طویل داستان ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آج حکومتی ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں، ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشی اور دیگر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ نو ماہ میں یہ ادارے مزید 294 ارب روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔

ریلوے، پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے عوامی اور دفاعی نوعیت کے ادارے ختم ہونے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں، دوسری جانب سیاسی اشرافیہ کی اپنی ایئرلائنز اور اسٹیل ملیں ترقی کی منزلیں چھو رہی ہیں۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی دن دگنی رات چو گنی ترقی کر رہی ہے مگرریلوے کو بند کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی لوٹ مار، کرپشن و نااہلی کی بنا پر خسارے سے دوچار ہونے والے اداروں کو منافع بخش بنانے کے بجائے ان کی نجکاری کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے، حکمران، سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے افراد اپنے اپنے مفادات اور عزائم کے ساتھ شریک ہیں۔ ایک فضائی حادثے کے بعد پاکستانی پائلیٹس کے جعلی لائسنسوں کا انکشاف کر کے نہ صرف دنیا بھر کی ایئرلائنوں میں ملازم پاکستانی پائلیٹس کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں گئیں بلکہ پاکستانی ایئرلائنوں کو بھی مسائل سے دوچار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ غیر ضروری جانچ پڑتال اور پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں جن میں مزید توسیع ہوتی جا رہی ہے جس سے انھیں اربوں روپے کا خسارہ پہنچ چکا ہے، ہر حکومت اور حکمران کی طرح موجودہ حکومت بھی اقتدار میں آنے سے قبل قومی اداروں اور اسی سے وابستہ افراد کی خیر خواہی کا دم بھرتے نہیں تھکتی تھی اور ان اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کے دعوے کرتی تھی۔

ملائیشیا کے رول ماڈل کی مثالیں پیش کی جاتی تھیں لیکن عملی طور پر اب تک کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسٹیل ملز کو تو تقریباً ختم کردیا گیا ہے گوکہ یہ کام آمر پرویز مشرف بھی نہیں کر سکا تھا اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے و دیگر اداروں کو بھی ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چند ماہ پیشتر اسد عمر نے یہ نوید سنائی تھی کہ وہ حکومتی اداروں کی اصلاح احوال کے لیے نیا قانون لا رہے ہیں لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ اسٹیل ملز کو پرائیویٹ کرنے کے لیے کاؤنسل آف کامن انٹرسٹ میں پالیسی وضع کرنے کے بجائے وزیر اعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ میں اس کی نجکاری کی منظوری لے لی گئی۔ قانونی ماہرین اس اقدام کو غیر آئینی اور معاشی ماہرین اسٹیل ملزکی بندش کو معاشی غلامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی نظریں اسٹیل ملز کی اراضی پر ہیں تو وفاق کی نظریں اس کے اثاثوں پر ہیں، سیاسی اشرافیہ اور بیورو کریسی کے بھی اپنے عزائم و مفادات ہیں۔

سنہ 2013 سے اسٹیل ملزکے ریٹائرہو جانے یا مر جانے والے ملازمین کی واجبات کی ادائیگی تاحال نہیں ہو پائی ہے نہ اس دوران ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے ملازمین کو تنخواہیں بھی تین یا چار ماہ بعد ادا کی جاتی ہیں۔ اب عدالت عالیہ کی کاوشوں کے نتیجے میں ریٹائر ہو جانے والے اور وفات پا جانے والے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وصولی کے لیے ملازمین اور ان کے لواحقین کا جمگھٹا عدالتوں میں نظر آتا ہے ان سات سالوں میں وفات پا جانے والے ملازمین کو واجبات کی وصولی کے لیے عدالتوں میں وراثت کے لیے کیسز داخل کرنا پڑ رہے ہیں جن میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر بروقت ادائیگیاں کر دی جاتیں تو یہ لوگ مالی مشکلات اور ان غیر ضروری قباحتوں سے بچ جاتے۔ اب بیک جنبش قلم 5 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جو سراسر زیادتی و ظلم ہے۔

ملز ملازمین کا موقف ہے کہ اسٹیل ملز کا معاملہ دیگر صنعتوں سے قدرے مختلف ہے یہاں ہیٹ، ڈسٹ، ہیزرڈ اور مضر صحت ماحول اور گیسوں کی موجودگی میں کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی جگہوں پر محنت کشوں سے چند سال سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا ہے ان کی صحت اور طبی ضروریات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں ان معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا ہے دوسرے یہ کہ مخصوص ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے باہر کے صنعتی اداروں میں ان ملازمین کو ملازمت کے مواقع بھی میسر نہیں آتے ہیں ہزاروں ملازمین کو جبری بے روزگار کرنے پر ملازمین سراپا احتجاج اور نوحہ خواں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کام فوجی ڈکٹیٹر نہیں کر پایا وہ کام عوامی حکومت کر رہی ہے۔ اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے سامنے مظاہرہ اور نعرے بازی کی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی تھی۔

ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس مسئلے پر ازخود نوٹس لینے کے لیے تحریری درخواست جمع کرائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جبری برطرفیوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب اسٹیل ملز کو 20 ارب روپے کے عوض فروخت کرنے کی کوششیں کی گئیں تو سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے اس کی نجکاری رکوائی تھی اور اس کی نج کاری کی صورت میں اس کے قانونی طریقہ کار کو بھی واضح کیا تھا اس مرتبہ بھی اسٹیل ملز کے ملازمین اور عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سندھ نے ایک آفیشل کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے کنوینر ناصر حسین شاہ جب کہ صوبائی وزیر سعید غنی، وقار مہدی اور مرتضیٰ وہاب اس کے ممبر ہوں گے جو ادارے کی مجوزہ نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیوں سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کرے گی۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی زبانی کلامی ہمدردی اور بیان بازی کا سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے آیندہ چند ماہ میں صورتحال سامنے آجائے گی کہ پاکستان اسٹیل اور اس کے ملازمین کا مستقبل کیا بنے گا۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا کی نئی لہر اور عوام

کورونا وائرس کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے اس دوران اس نے خوب تباہی مچائی، پوری دنیا کو 95 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، سول ایوی ایشن انڈسٹری کی کمر ٹوٹ چکی ہے، کروڑوں افراد بے روزگار ہو گئے، 13 لاکھ 50 ہزار افراد کورونا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 لاکھ نئے مریض سامنے آرہے ہیں، روز 8 سے 10 ہزار افراد موت کے منہ میں جا رہے ہیں چنانچہ پوری دنیا کورونا کو وحشت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ اس نے دنیا بھر کی معیشتوں کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ آپ پاکستان کو لے لیجئے ملک کو ساڑھے 3 بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، تعمیراتی شعبے مکمل طور پر مفلوج ہو چکے، پہلے ہی بیروزگاری کا راج تھا، کورونا کی وجہ سے اس میں دو سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ بچوں کا پورا تعلیمی سال کورونا کی نذر ہو گیا ۔ پاکستان ہو امریکہ ہو یا پھر پوری دنیا کورونا کے ہاتھوں پٹ رہی ہے۔ اب کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہے چنانچہ دنیا اس مرتبہ پہلے سے زیادہ محتاط ہے، یہ فوراً لاک ڈاؤن کی طرف جارہی ہے، عوام حکومتوں کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی کورونا کی دوسری لہر شروع ہوتے ہی کیسز کی تعداد 5 گنا بڑھ گئی ہے، روزانہ 2 سے 3 ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں، 8400 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دوسری لہر شروع ہوتے ہی دنیا محتاط ہو گئی مگر ہم اب تک کورونا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آدھے سے زیادہ ملک اسے ابھی تک ’’سازش‘‘ قرار دے رہا ہے، کوئی اسے یہودی لابی کے کھاتے میں ڈال رہا ہے اور کوئی اسے بل گیٹس کا کارنامہ سرانجام دے رہا ہے، کچھ ماہرین اسے پاکستانی میڈیا اور حکومت کا گٹھ جوڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے حکومت امداد کے چکر میں کورونا کا ڈرامہ رچا رہی ہے، کوئی ان سے پوچھے’’جناب چند ملین ڈالر کی امداد کے لئے کوئی ٹریلینز میں اپنا نقصان کیوں کروائے گا؟‘‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا، ہم بھی پوری دنیا کی طرح کورونا کی پہلی لہر سے سیکھتے مگر جسے تسلیم ہی نہیں کیا اس سے سیکھنا کیا؟ پوری دنیا کورونا کی دوسری لہر سے آگاہ تھی، یہ بات ہماری حکومت اور اپوزیشن سے بھی ڈھکی چھپی نہ تھی لیکن جب باقی دنیا دوسری لہر سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف تھی ہم جلسے جلوس نکال رہے تھے۔ کورونا کی ویکسین تیار ہو چکی ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2021 کے وسط تک یہ’’ڈسٹری بیوشن‘‘کے لیے بھی تیار ہو گی۔

اب دوسری لہر نے اپنا پاور شو دکھانا شروع کر دیا ہے، یہ کب تک رہتی ہے، کتنی تباہی مچاتی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں ہمارا ہیلتھ سسٹم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کورونا پر قابو پانے کا کریڈٹ لینے والے لوگوں کی نااہلی پوری دنیا کے سامنے ہے مگر اس کے باوجود ہم سدھرنے کیلئے تیار نہیں۔ ملک میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ انسان کانپ اٹھتا ہے، مان لیا کہ حکومت نااہل ہے، عوام نے کونسی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے؟ کورونا کے پھیلاؤ میں ہم عوام کا سب سے زیادہ قصور ہے۔ آپ حکومت کو جی بھر کر گالیاں دیں مگر خود کی بھی خبر لیں، لیکن کیوں؟ جب ہم نے کچھ کیا ہی نہیں، سارا کیا دھرا حکومت کا ہی ہے تو ہم کس لیے سدھریں؟ ہمیں کورونا سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ ہمارا امیون سسٹم ہی بہت شاندار ہے، مرنے والے تو بزدل تھے، کمزور تھے، حکمران تو حکمران، عوام ان سے بھی بڑھ کر ہیں، یہ حقیقت کو حقیقت تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں ۔

پی ڈی ایم کورونا کی اس نئی لہر میں بھی اپنے جلسے روکنے کا نام نہیں لے رہی ، پہلے پشاور پھر ملتان اور اب لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے ۔ حکومت بار بار ان کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے مگر وہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔عوام بھی بھرپور طریقے سے جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں ان کو بھی اپنی جان کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ پی ڈی ایم مینار پاکستان پر جلسہ کر نا چاہ رہی ہے، مگر ملتان کی طرح لاہور میں بھی حکومت ہٹ دھرمی پر اتری ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسے میں عمران خان کیلئے سلیکٹڈ اور سلیکٹر کے الفاظ زیادہ دہرائے جاتے رہے ۔ سلیکٹڈ کے حوالے سے تو صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو سلیکٹر کا سلیکشن ہے کہ جس کو چاہے سلیکٹ کرے ویسے جو پارٹیاں اب سلیکٹڈ کہہ رہی ہیں کیا وہ خود کسی زمانے میں سلیکٹڈ نہیں تھیں ، کیا انہیں جمہور نے منتخب کیا تھا؟۔ پاکستان کی سا لمیت ، اقتصادی صورتحال اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے اگر عملی اقدامات کئے جائیں تو شاید عوام دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں ورنہ تو حکمرانوں اور اپوزیشن والوں نے عوام کا وہ حال کر دیا ہے کہ وہ نعروں پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ یہ سب کھیل صرف کرسی اقتدار کیلئے ہے جس کیلئے ہرکوئی نئے سے نیا نعرہ لگاتا ہے۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

ملک کا واحد فولاد ساز ادارہ پاکستان اسٹیل ملز مکمل بند ہو گیا

ملک کی واحد فولاد ساز ادارہ پاکستان اسٹیل مکمل طور پر بند ہو گیا، واضح رہے جب ذوالفقار بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے. اس وقت انہوں نے پاکستان اسٹیل کی بنیاد رکھتے ہوئے ’’ مہمانوں کی کتاب میں اپنے ریمارکس لکھے تھے کہ پاکستان اسٹیل ملک فولاد کی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ملکی دفاعی ضرورت بھی پوری کرے گی۔ لیکن پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے یہ کتاب ہی گم کر دی، پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے 4 ہزار سے زائد ملازمین کی برطرفی پر عوام میں شدید منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ملکی سیاست دانوں ، سماجی ورکرز اور مزدور یونین کے عہدے داروں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ہفتہ کو ملازمین کی جانب سے کئے جانے والا احتجاج اور دھرنا ختم کر دیا، اور مرحوم ملازم کی تدفین بھی کر دی ہے، پاکستان اسٹیل 10 جون 2015 سے مالی مشکلات کا شکار ہوا جس کی وجہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹیل کا کنکش کاٹ دینا ہے۔

لیکن 2015 سے پاکستان اسٹیل مالی بحران کاشکار ہوا جس کی وجہ نا اہل انتظامیہ کی تقرری ہے، اور ن لیگ حکومت اور پی ٹی آئی کی حکومت نے کبھی پاکستان اسٹیل کے لئے بحالی پیکج تیار نہیں کیا، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ گمراہ کن اعداد و شمار پیش کئے۔ پاکستان اسٹیل کو 212 ارب روپے نقصان ہوا ہے جبکہ حقیقت میں 190 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، پاکستان اسٹیل کے بند ہونے پر گزشتہ 5 سال کے دوران حکومت کو 12 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا، کیونکہ پاکستان اسٹیل ملکی 40 فیصد ضرورت پوری کرتا تھا۔ اب ملک سو فیصد درآمد پر انحصار کر رہا ہے، پاکستان اسٹیل نے شعبہ ایڈ من اور پرسنل، قانون، سیکورٹی ، تعلیم ختم کر کے اسکول اور کالج بند کر دئیے، اسطرح فائر برگیڈ کا شعبہ بھی ختم کر دیا ہے ، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے برطرف کئے گئے ملازمین کے گھروں پر انفرادی طور خطوط جاری کر دئیے ، ہفتہ کو سینکڑوں کو ملازمین کو برطرفی کے خطوط موصول ہوئے۔

جاری کردہ خط میں تحریر ہے کہ پاکستان اسٹیل کئی سالوں سے نقصان کا شکار ہے ، اور پاکستان اسٹیل کو 30 جون 2020 تک دو سو 12 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ پیدواری صفر ہے، اور 2015 سے پلانٹ مکمل طور پر بند ہیں۔ مالی مشکلات کے باوجود برطرف کئے جانے والے ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ادا کی جائے گی، جبکہ قانونی واجبات پاکستان اسٹیل کی جانب سے ادا کئے جائیں گے، خط میں لکھا ہے کہ انتظامیہ کو ملاز مین کی برطرفی پر بہت دکھ ہے۔ لیکن ادارے کے حالات کے پیش نظر برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے، خط میں برطرف ملازم کے لئے انتظامیہ کی جانب سے بہتر صحت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ آپ اپنے واجبات کی وصولی کے لئے شعبہ انتظامیہ سے رابطہ کر لیں۔

رفیق بشیر
بشکریہ روزنامہ جنگ

سی پیک کے تحفظ کے لیے چین و پاکستان متحد ہیں

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نریندر مودی کی حاسد‘ تنگ دل اور متعصب حکومت کی نگاہوں میں پہلے دن سے کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے جس کا اظہار آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے یہ بےبنیاد دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیم کی دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے اِس بےثبوت الزام کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی دہشت گردی میں ملوث قرار دیا جس سے حکومت پاکستان کے اِس اندیشے کو تقویت ملی کہ مودی حکومت دہشت گردی کی کسی جعلی کارروائی کا ناٹک رچا کر اُس کا الزام پاکستان پر عائد کرنے اور اُسے پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا کر سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بڑی کارروائی کے لئے زمین ہموار کر رہی ہے۔

بھارتی قیادت کے ارادوں کی سنگینی کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر مودی سرکار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نوٹس لینا ضروری سمجھا اور اُس کے ترجمان نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتا ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان نے واضح کیا کہ چین دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی معاونت کرتا رہے گا اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ہر موسم کے ساتھی دونوں ملک مل کر ناکام بنائیں گے۔ چین کے اِس بیان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صراحت کی کہ پاکستان سی پیک منصوبے کی حفاظت کیلئے پوری طرح مستعد اور پُرعزم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے کوشاں ہے جبکہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان اور سی پیک کے منصوبوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے مودی سرکار نے 80 ارب روپے کے لگ بھگ رقم مختص کی ہے اور یہ رقم سی پیک منصوبوں کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جانی ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہر صورت سی پیک منصوبے کی حفاظت کا عزم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین مل کر اس منصوبے کی حفاظت کریں گے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اِن حقائق کی نشاندہی کی کہ سی پیک منصوبہ پورے خطے کیلئے فائدہ مند ہے، اِن فلیگ شپ پراجیکٹس کے ساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، چین بھارتی سازش سے اچھی طرح واقف ہے، سی پیک منصوبے پر چین کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہے اور اُس کے انجینئر اور کارکن یہاں کام کر رہے ہیں، اگر اُن منصوبوں کو کسی طور بھی نشانہ بنایا جاتا ہے تو چین اور پاکستان ہرگز خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں بھی پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو اٹھایا جائے گا اور بھارت خطے میں جو خطرناک کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے پوری دنیا کو اس سے خبردار کیا جائے گا۔

نریندر مودی کے الزامات پر چین اور پاکستان کے اس فوری اور بھرپور ردِعمل سے صورت حال کی سنگینی پوری طرح عیاں ہے۔ چینی قیادت کا ون بیلٹ ون روڈ کا انقلابی تصور اگرچہ بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور خود بھارت کیلئے اس میں شمولیت کی راہ کھلی رکھی گئی ہے لیکن ہمسایہ دشمنی کے چانکیائی فلسفے پر استوار مودی حکومت اس عظیم منصوبے کے پاک چین جزو یعنی سی پیک کو تباہ کرنے کی مجنونانہ کوششوں میں مصروف ہے تاہم انہیں ناکام بنانے کیلئے چین و پاکستان پوری طرح متحد ہیں جس کی بناء پر مودی سرکار کی رسوا کن ناکامی دیوار پہ لکھی نظر آتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہم کب تک مقروض نسلیں پیدا کریں گے

غالب یاد آرہے ہیں
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ درپہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بار منتِ درباں کیے ہوئے

اسٹیبلشمنٹ بھی کیا ظالم حسینہ ہے۔ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے۔ سب اسی زلف کے اسیر ہوئے۔ انتخاب عوام کا ہوتا ہے مگر حسن انتخاب اسٹیبلشمنٹ کا۔ میری مدد کیجئے۔ میں آئین میں آرٹیکل تلاش کر رہا ہوں، جس کے تحت سیاستدان فوج سے مذاکرات کر سکتے ہیں اور یہ سول امور میں مداخلت بھی نہ کہلائے۔ آج اتوار ہے۔ ملک کی ایک اکائی میں فیصلے کا دن۔ کیا آپ نے اپنی اولادوں اور ان کی اولادوں کو گلگت بلتستان کے غیور لوگوں کی جرأت اور بے خوفی کی کہانیاں سنائیں۔ انہوں نے کتنی قربانیاں دے کر اپنے علاقے کو آزاد کروایا۔ کس طرح ایک بڑی طاقت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ پہاڑوں کے بیٹے پہاڑوں کی طرح توانا اور ناقابل تسخیر۔ اس لیے انتخابی مہم میں وزیر اعظم، وفاقی وزراء دونوں بڑی قومی سیاسی پارٹیوں کے سربراہ گلگت بلتستان کے دلوں پر دستک دینے پر مجبور۔ مگر کورونا کی عالمگیر وبا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا۔

ماسک نہیں پہنے گئے۔ سماجی فاصلہ نہیں رکھا گیا۔ صاحبانِ اقتدار کے پیروکار بھی غیر ذمہ دار۔ عاشقا ن اقتدار کے جیالے متوالے بھی۔ اللہ اپنا کرم کرے۔ یہ اس پروردگار کا پاکستان پر فضل ہے کہ امریکہ ،بھارت، ایران، برازیل کی طرح کورونا نے ہزاروں لاکھوں کو لقمہ اجل نہیں بنایا۔ لیکن پھر بھی بڑے بڑے لوگ ۔ سینئر ڈاکٹر۔ چیف جسٹس ۔ سیاستدان اس کی نذر ہو گئے۔ ریٹائرڈ صوبیدار اکرام نے آزاد جموں کشمیر کے ایک قصبے سے فون کیا۔ ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ ایک طرف پیرانہ سالی دوسری طرف مہنگائی۔ اپنی طویل عمر میں اتنی گرانی انہوں نے پہلے نہیں دیکھی۔ دونوں پارٹیوں کی باریوں اور لوٹ مار سے تنگ آ کر انہوں نے بھی عمران خان کو اپنی تمنّائوں کا مرکز بنایا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں عمران خان اپنا کردار ادا کر سکے۔ مگر اس صبح وہ بہت ہی مایوس لگ رہے تھے۔ اور ڈر رہے تھے کہ اس کی حکومت تو جارہی ہے۔ پھر وہی لوگ آجائیں گے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کسی شخصیت سے جتنی توقعات باندھی جاتی ہیں اگر وہ پوری نہ ہوں تو اتنی ہی شدید مایوسی ہوتی ہے۔ آج کل یہی صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ مہنگائی ختم کرنے کے دعوے اور وعدے کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ کم بخت اوپر ہی جارہی ہے۔ ملک کی بڑی اکثریت کی آمدنی اور ضروری اخراجات میں فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ نوید دی جارہی ہے کہ معیشت کے اشاریے مثبت ہیں۔ آبادی کی اکثریت تک اگر مثبت اشاریوں کے ثمرات نہ پہنچیں تو حکمرانوں کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ مجھے تو اپنے ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی وحشت میں ڈال رہا ہے۔ 70 کی دہائی سے قرضوں کا سلسلہ رکنے میں ہی نہیں آرہا ہے۔ میں کوئی ماہرِمعاشیات نہیں ہوں لیکن اعداد و شُمار میرے ارد گرد سانپوں کی طرح پھن اٹھائے کھڑے ہیں۔ ان سے کیسے نظر ہٹائوں۔ بتایا جارہا ہے کہ لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیے گئے ملک پر 36 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔

تحریک انصاف نے اپنے پہلے دو سال میں گیارہ ہزار ارب کا اضافہ کیا ہے۔ مشرف حکومت نے 6½ہزار ارب روپے کا بوجھ چھوڑا تھا۔ پی پی پی جاتے وقت اسے 13½  ہزار تک پہنچا گئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس کو 25 ہزار ارب تک لے گئی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ مقروض افراد یا قومیں کبھی بھی سر اٹھاکر نہیں چل سکتیں۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ انہیں اپنی پوری زندگی یہ قرضے اتارتے ہی گزارنی پڑتی ہے۔ بلکہ یوں سمجھ لیں کہ وہ اپنے یا اپنے بچوں کے لیے نہیں کماتے بلکہ قرضے اتارنے کے لیے شب و روز محنت کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کا اپنا گزارہ کس مشکل سے ہوتا ہے۔ وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے۔ وہ قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لے کر شادیانے بجاتی ہے۔

اسے اپنا کارنامہ سمجھتی ہے۔ آج کل آئی ایم ایف کا دبائو بڑھ رہا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مالیاتی ادارہ غریبوں کو کسی قسم کی رعایت دینے کے خلاف ہے۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ کوئی سیاسی رہنما کوئی ذمہ دار ایک حتمی عرصہ تو طے کرے کہ پاکستان کب قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے یا ہم یہ سمجھ لیں کہ ہر نسل مقروض پیدا ہو گی۔ اور مرتے دم تک مقروض ہی رہے گی۔ لوگوں کو خبردار کر دیا جائے کہ وہ بچے پیدا کریں گے تو قرض ادا کرنے کے لیے۔ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہم تو اس وقت قوم کی حیثیت سے بھی اور فرد کے طور پر بھی صرف قرض لینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اعداد و شُمار بھی بتاتے ہیں کہ صرف 2004 ایسا سال ہے۔

جب سب سے کم قرضہ 33172 ملین ڈالر لیا گیا۔ 2002 سے 2020 کے درمیان 60642 ملین ڈالر قرضے۔ اور 2020 کی دوسری سہ ماہی میں 112858 ڈالر۔ جو اب تک کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ اب قرضوں پر چڑھے سود کی ادائیگی ہمارے بجٹ کا سب سے بڑا حصّہ کھاتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر قرضہ بڑھانے کے الزامات عائد کر کے خیال کرتی ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا۔ کسی پارٹی کے پاس قرضہ فری پاکستان کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اپنی ڈائمنڈ جوبلی پر ہم اور زیادہ مقروض ہوں گے۔ جس ملک میں 60 فی صد نوجوان آبادی ہو ۔ لوگ جفاکش اور صابر ہوں۔ جہاں سمندر۔ پہاڑوں اور ریگ زاروں میں تیل۔ سونا۔ تانبا۔ قیمتی پتھر چھپے ہوں۔ جہاں موسم سازگار ہو۔ جہاں زمین زرخیز ہو۔ وہ قوم پہلے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرضے لے۔ مقروض نسلیں پیدا کرتی رہے۔ اس کی سیاسی فوجی قیادت، اقتصادی ماہرین، بینکاروں، یونیورسٹیوں کے لیے مورخ کیا الفاظ استعمال کرے گا۔ کوئی شرم ،کوئی حیا۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کا روس کے ساتھ دو ارب ڈالر کا گیس پائپ لائن معاہدہ آخری مراحل میں

حکام کے مطابق اگلے ہفتے روسی وفد کے متوقع دورے میں پاکستان اور روس دو ارب ڈالر کے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ (این ایس جی پی پی) پر کام شروع کرنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دے دیں گے۔ پاکستان اور روس کے درمیان کئی معاہدوں کے بعد گیس پائپ لائن پر کام کا معاہدہ تازہ ترین ہو گا۔
نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان کے ساحلی علاقوں سے شمال میں صنعتی علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے میں معاوضے کے تنازعات اور روسی کمپنی روسٹیک پرامریکی پابندیوں کی وجہ سے کام روک دیا گیا تھا۔ پاکسان کی وزارت توانائی کے ترجمان ساجد محمود قاضی نے عرب نیوز کو بتایا : ‘روس کے ساتھ بات چیت سنجیدہ مراحل میں ہے اور وفد عنقریب پاکستان آ رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والے اتفاق رائے کے بعد معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔’ ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے ٹیلی فون پر گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ روس کا تکنیکی وفد 16 سے 18 نومبر تک پاکستان میں ہو گا اور پاکستانی حکام کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر بات چیت کرے گا۔

گیارہ سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن کے منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ دو ارب ڈالرلگایا گیا تھا۔ پائپ لائن کے ذریعے سالانہ 12.4 ارب مکعب فٹ گیس کراچی سے لاہور پہنچانے کی گنجائش ہے۔ وزارت توانائی کے ترجمان نے منصوبے کی درست لاگت بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن کا ڈیزائن تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وزارت توانائی کے ترجمان ساجد محمود قاضی نے کہا: ‘وہ پائپ لائن جو ابتدا میں ڈیزائن کی گئی تھی، اس کا قطر 42 انچ تھا۔ اب یہ 48 یا 56 انچ قطر والی ہو گی اور اس کے کمپریسر کے سائز اور تکنیکی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے منصوبے کی لاگت کا نیا تخمینہ دو سے تین ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتا ہے لیکن اس مرحلے پر میں درست اخراجات کے بارے میں نہیں بتا سکتا۔’ وزارت توانائی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اگلے سال سے پہلے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں پیشرفت چاہتی ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو