محکمۂ پولیس روبہ زوال کیوں؟

انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مختلف ناموں سے پولیس فورس سماج سے جرائم کے خاتمے، قیامِ امن، اور قانون کی بالا دستی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس ڈیوٹی میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی نائن الیون کے بعد بڑھتی دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے پولیس کی روایتی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ موجودہ عالمی تناظر میں قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ماضی میں پولیس سروس آف پاکستان کے افسران بیرونِ ممالک بھی قانون کی عملداری کے فرائض بجا لاتے رہے ہیں۔ آج حکومتی و سیاسی دخل اندازی اور پولیس کو سیاسی و گروہی فائدے کیلئے استعمال کرنے کی روش کی بدولت یہ اہم ترین شعبہ روبہ زوال ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بدلتے تقاضوں کے ساتھ اس اہم ترین قومی سلامتی کے ادارے کو اقربا پروری، ملکی سیاست اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

نہ تو گزشتہ 74 برسوں میں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکی اور نہ ہی میرٹ کی بالا دستی، قوانین کی تبدیلی، تربیت کی مناسب سہولتیں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں اشرافیہ سمیت حکومتی و سیاسی طبقے کے شکنجے سے نجات مل سکی۔ ہمارا موجودہ پولیس کا نظام برطانوی راج کا تحفہ ہے؛ اگرچہ 1861ء ایکٹ کی جگہ2002ء پولیس آرڈر لایا گیا جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام، قومی، صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر پولیس کو خود مختاری ملی اور عوام کو بھی پولیس کے محاسبے کا اختیار تفویض ہوا تاکہ پولیس اور عوام کے مابین ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو سکے مگر چہ معنی دارد؟ پولیس کا مورال عوام کے نزدیک اس قدر گر چکا ہے کہ بالخصوص پنجاب پولیس کا تصور آتے ہی خوف کی ایک لہر سی پورے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کے بڑے شہروں کی نسبت جنوبی پنجاب سمیت دیگر پسماندہ و دور دراز علاقوں میں پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ وہاں کے پولیس سٹیشن عقوبت خانوں کا دوسرا روپ ہیں۔ آئے روز اخبارات ان کی زیادتیوں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کرپشن، رشوت ستانی، تشدد کی خبریں بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ پاک فوج کی طرح محکمہ پولیس کے ایک معمولی سپاہی سے لے کر افسرانِ بالا تک‘ سب میں مادرِ وطن کے تحفظ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، وہ الگ بات کہ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے کا پورا محکمہ بدنام ہو چکا ہے اور فرض شناس و ایماندار پولیس اہلکاروں اور افسروں کے اچھے کارنامے بھی یکساں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے کالم کے ذریعے چند گزارشات کرنا چاہوں گا کہ ‘ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ‘ اور متعلقہ اربابِ حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ مذکورہ ڈپارٹمنٹ میں بے جا سیا سی مداخلت نے قومی سلامتی کے ادارے پر مضر اثرات مرتب کئے ہیں اور پولیس کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ فرض کریں اگر کوئی ایماندار، فرض شناس سپاہی یا پولیس افسر اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے تو بدلے میں اسے کیا ملے گا؟ اس کا متعلقہ علاقے کے حکومتی و عوامی نمائندوں کے مفادات کے خلاف نعرۂ حق بلند کرنا اگلے ہی روز اس کے تبادلے کا سبب بن جائے گا؛ چنانچہ پولیس کے حالات موجودہ نہج تک پہنچانے میں حکومتی و سیاسی اراکین کا کردار اہم رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے گزشتہ حکومتی دور میں کے پی پولیس اصلاحات کا خوب چرچا کرتے رہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا۔ اسی مقصد کے پیش نظر پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ سابق آئی جی کے پی ناصر درانی مرحوم کو پنجاب میں بھی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی مگر افسوس تحریک انصاف حکومت بلند بانگ دعووں تک محدود رہی اورپولیس سے سیاسی اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے کسی طور آمادہ دکھائی نہیں دی؛ ناصر درانی کے استعفے کو بھی اسی سوچ کا شاخسانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ پنجاب پولیس ان کی خدمات سے استفادہ نہ کر سکی۔ ان حالات میں بھی راولپنڈی پولیس نے اعلیٰ کارکردگی میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کھلی کچہری میں 20 ہزار سے زائد افراد کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کرنا یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ میں کسی کی تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہا لیکن یہ سچ ہے کہ محکمہ پولیس میں چند انقلابی اقدامات نے محکمے میں اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ایسا سسٹم صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت پسماندہ علاقوں میں بھی اپنایا جائے۔ مجھے خود سی پی او راولپنڈی کی ایک کھلی کچہری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں سائلوں کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر بڑے احسن طریقے سے باری آنے پر ہر سائل کی شکایات سنی جاتی ہے اور اس کی داد رسی کیلئے فوری طور پر متعلقہ افسر و ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس کا آفیشل سوشل میڈیا پیج بھی کھلی کچہری کا انعقاد کرتا ہے اور یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکوں کی مانند انقلابی اقدامات محکمے کی نیک نامی میں اضافے کے ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان خلیج پاٹنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ شہر میں امن و امان کی بہتر صورتحال اور جرائم میں واضح کمی بالخصوص کار چوری کی وارداتیں کم ہونے پر پولیس افسران لائقِ ستائش ہیں۔ بلاشبہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز ہو چکا ہے۔

پنجاب پولیس جس کا نام سن کر ایک ظالم‘ جابر پولیس کا تصور ذہن میں آتا ہے اسے ایک خوشگوار تبدیلی کے ذریعے واقعی ‘ پولیس کا فرض مدد آپ کی ‘ کے سلوگن میں ڈھالا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس وسائل کا اغوا برائے تاوان اور ریپ کیسز میں استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ لاک ڈائون جیسی آزمائش کی گھڑی میں پولیس پر کئی اضافی ذمہ داریاں بھی آئیں جن سے پولیس بخوبی عہدبرآ ہوئی۔ دکانوں اور کاروبار کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ٹرانس جینڈرز، خواتین و بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت خواتین کیلئے ہراسمنٹ رپورٹنگ یونٹ کی تشکیل اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے شکایات کے ازالہ کیلئے مفید ریفارمز کی گئیں۔ پاک فوج کے علاوہ دیگر سکیورٹی اداروں اور پولیس کے جوانوں نے بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں شہادتیں پائی ہیں اور شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں۔

پولیس والوں کے برے کاموں کا تو خوب شوروغوغا کیا جاتا ہے‘ بدعنوانی، زیادتی اور اختیارات سے تجاوز کی خبریں تو بڑھ چڑھ کر نشر کی جاتی ہیں لیکن ان کی قربانیاں اور اچھے کاموں کی اس طرح کوریج نہیں کی جاتی جو ان کا حق بنتا ہے۔ پولیس کے شہدا و غازی ہنوز پذیرائی سے محروم ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ پولیس آفیسرز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے پولیس کے شہدا کی تصاویر شہر کی اہم شاہراہوں پر آویزاں کر کے ان کو عزت و رتبہ دیا جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کیلئے اس سے بہترخراجِ تحسین نہیں ہو سکتا۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے تاریخی اقدامات کرتے ہوئے ان کی چھٹیوں، میڈیکل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ بہتر پرفارمنس اور بہادری کے جوہر دکھانے والے پولیس اہلکاروں کے لیے نقد انعامات و تعریفی سرٹیفکیٹس اور ناقص کارکردگی کی صورت میں سخت تادیبی محکمانہ کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر حسنِ نیت ہو اور کچھ کرنے کی ٹھان لی جائے تو بہت بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے، جبکہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے اگر محکمانہ اصلاحات کی جائیں تو کم وقت میں یقینا بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آگیا کہ محکمہ پولیس سیاست سے مبریٰ کیا جائے تاکہ پولیس کا مورال بلند ہو اور عوام کی نظر میں پولیس والوں کا ایک بہتر امیج ابھرے جس سے اس ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو اور صحیح معنوں میں یہ قومی خدمتگار ادارہ بن سکے۔

محمد عبداللہ حمید گل

بشکریہ دنیا نیوز

محمد بخش بریڑو۔ لائق تقلید ۔ قابل تحسین

جب صدر۔ وزیر اعظم۔ وفاقی صوبائی وزراء۔ قائدین۔ روزانہ ہمارا سر ندامت سے جھکا رہے ہیں۔  جب یونیورسٹیاں۔ ادارے۔ دانشور۔ روزانہ تہذیب کو دفن کر رہے ہیں۔ تمدن کی خاک اڑارہے ہیں۔ جب نیکیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ بدی کی ریٹنگ بڑھ رہی ہے۔ سچ منہ چھپائے پھر رہا ہے۔ جھوٹ لینڈ روور۔ ڈبل کیبنوں میں فراٹے بھر رہا ہے۔ اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ حقائق کو بیانیوں کے غبار میں چھپایا جارہا ہے ۔ اعزاز اقربا میں بانٹے جارہے ہیں۔ حکمرانوں کے قصیدے پڑھے جارہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں۔عین اس وقت ایک دور افتادہ قصبے صرف 34 ہزار آبادی والی بستی۔ پنجاب۔ سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع کشمور میں محمد بخش بریڑو! تم نے ایک بروقت اور برمحل بہت ہی خطرناک فیصلہ کر کے پورے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔ تم پاکستان کا غرور بن گئے ہو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شعور ہو گئے ہو۔ باب الاسلام سندھ کی دہلیز پر محمد بخش بریڑو میں محمد بن قاسم کی جرأت اتار دی گئی ہے۔ تم سندھ ہو۔ تم پاکستان ہو۔

تمہارے اس بروقت اقدام نے سیاسی تقرریوں پر آنے والے نا اہل۔ رشوت خور۔ ظالم۔ سفاک پولیس والوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ تم نے ہم جیسے زبانی جمع خرچ کرنے والے بقراطوں کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ تم نے ثابت کر دیا ہے کہ پولیس والوں کے بھی ضمیر ہوتے ہیں۔ تم نے صورت حال کی نزاکت کا ادراک کیا۔ بڑے عہدے والوں کی طرح سوچ بچار اور مصلحتوں میں نہیں پڑے۔ یہ نہیں دیکھا کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے پیچھے کوئی وڈیرا تو نہیں۔ کوئی وزیر تو نہیں۔ کوئی بڑا فوجی افسر تو نہیں۔ تم نے صرف یہ دیکھا کہ ایک مظلوم بہن فریاد لے کر آئی ہے اور ایک بیٹی درندوں کے چنگل میں ہے۔ اس کو زندہ سلامت برآمد کرنا ہے۔ ضرورت تھی ایک اور بیٹی کی۔ جو ان درندوں کی شرط پوری کرنے کے بھیس میں ان کو گرفتار کروا سکے۔ تم نے اِدھر اُدھر نہیں دیکھا۔ اپنے گھر کی آبرو عزت سے بات کی۔ وہ تمہارا خون ہے۔ تمہاری تربیت ہے۔ وہ بھی ایک ایسے خطرناک مشن کے لیے تیار ہو گئی۔ جس کی اشرافیہ والے جرأت نہیں کرتے۔

سندھ ،پنجاب ، کے پی ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کی مائیں تیری بلائیں لے رہی ہیں۔ واہگہ سے گوادر تک پاکستان کی بیٹیاں اپنی بہن تمہاری صاحبزادی کے لیے پیار، محبت، خلوص کے گجرے بھیج رہی ہیں۔ پاکستان کے غیرت مند نوجوان محمد بخش بریڑو کو اپنا رول ماڈل قرار دے رہے ہیں۔ تیری یہ جرأت۔ یہ کارروائی ثابت کر رہی ہے کہ ابھی جہان تگ و دو میں غیرت باقی ہے۔ حمیت تیمور کے گھر سے گئی نہیں ہے۔ سندھو ندی کی لہروں کی قسم۔ بحیرۂ عرب کی موجوں کی سوگند۔ اجرک اور سندھی ٹوپی کی عظمت تم نے بلند کر دی ہے۔ یہ قوم تمہارا احسان کسی صورت اتار نہیں سکے گی۔ کوشش کریں گے کہ اخبارات کے سنڈے ایڈیشنوں کے سرورق پر تم جلوہ گر ہو۔ تمہاری صاحبزادی کی جراتوں کی داستانیں رقم ہوں۔ تفریحی ٹی وی چینل کشمور میں پھوٹنے والی ان کونپلوں پر ڈرامے بنائیں۔ پولیس والوں کا مضحکہ اڑانے والے اب پہلے بہت سوچیں گے کہ اب پولیس کی شناخت محمد بخش بریڑو بن گیا ہے۔

قوم نے وادیٔ نیلم سے۔ اسکردو سے وزیرستان سے گنڈا سنگھ والا سے دالبندین تک۔ طورخم تک کھوکھرا پار تک جس طرح اسے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قوم کے نزدیک ایک مثالی پولیس والے کے خدو خال اور کردار کیا ہونا چاہئے۔ اسے محمد بخش بریڑو کی طرح فرض کا شدت سے احساس۔ بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ قومی مفاد کے حصول کے لیے اپنے گھرانے کو خطرے میں ڈالنے سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ معاملے کی سنگین نوعیت دیکھ کر اس انداز سے فوری کارروائی کرنے کا راستہ تراشنا چاہئے آفریں ہے کشمور کے ایس ایس پی امجد شیخ پر۔ وہ بھی اپنے اے ایس آئی کے اس دلیرانہ اقدام پر فخر کر رہے ہیں۔ بہت پُر جوش ہیں۔ وہ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کی طرف سے سینٹرل پولیس آفس میں محمد بخش بریڑو اور اس کے اہل خانہ کی پذیرائی پر بھی والہانہ مسرت میں ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے آئوٹ آف ٹرن ترقیوں پر پابندی نہ ہوتی تو محمد بخش بریڑو کا درجہ بھی بڑھ جاتا۔

اس ترقی سے کہیں زیادہ وہ اعزاز ہے جو اسے مایوس، مسائل میں گھری، حکمرانوں کے بروقت فیصلے نہ کرنے سے پریشان قوم نے محمد بخش بریڑو کو بخشا ہے۔ ہم نے کتنے گارڈ آف آنر دیکھے ہیں جو ان سیاسی اور فوجی حکمرانوں کو دیے گئے جو ہرگز اس کے اہل نہیں تھے۔ لیکن سینٹرل پولیس آفس کراچی میں محمد بخش بریڑو کو دیے جانے والے گارڈ آف آنر نے ہمارا سیروں خون بڑھا دیا ہے۔ کاش ہمیں یہ منظر وہیں دیکھنے کو ملتا۔ اس پولیس ہیڈ کوارٹر میں نامعلوم کتنے غلط اور مصلحت کوشی کے مناظر دیکھے ہیں۔ ہم یہ جائز پذیرائی والا منظر بھی دیکھ لیتے۔ جہاں یہ اے ایس آئی سندھ پولیس کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ 2 دسمبر 1966 کو کندھ کوٹ میں پیرل بریڑو کے گھر آنکھ کھولنے والا محمد بخش میٹرک کے بعد 25 جنوری 1990 میں ایک کانسٹیبل کی حیثیت سے بھرتی ہوا۔ تربیت پوری دلجمعی سے حاصل کی۔ پہلے بھی وہ جراتمندی کے مظاہرے کر چکا ہے۔

اٹھارہ اپریل 1998 میں تھانہ ٹھل کی حدود میں گشت کے دوران کچھ مجرموں سے ٹکرائو میں اپنی بائیں ٹانگ میں پانچ گولیاں بھی کھا چکا ہے۔ پھر بھی اس نے جرأت سے منہ نہیں موڑا۔ 2001 میں ایک بدنام زمانہ ڈاکو ممتاز منگھن ہار کو بڑی بہادری سے گرفتار بھی کیا ہے۔ سندھ پولیس میں اب 10607881۔ ملازمت نمبر امر ہو گیا ہے۔ جتنے تھانوں میں اس کی تقرری ہوئی۔ ان کی حدود میں رہنے والے سب محمد بخش بریڑو کو پیار سے یاد کرتے ہیں۔ اللہ جسے چاہے عزت دے۔ 54 سالہ بریڑو 5 اگست 2009 میں ہیڈ کانسٹیبل اور 26 مارچ 2019 کو اے ایس آئی کے درجے پر فائز ہوا ہے۔ آئیے ہم سب قادر مطلق سے التجا کریں کہ اس فرض شناس پولیس افسر کو مزید کامرانیاں عطا کرے۔ اس کے خاندان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ پاکستان کے دوسرے پولیس آفیسروں اور سپاہیوں کو اس کی تقلید کی توفیق دے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ورکشاپ محلہ کندھ کوٹ سندھ۔ اس کے ذاتی پتے پر پھول بھیجیں۔ خط لکھیں۔ یہ آپ کا فخر ہے۔ ہم سب کی لاج اس نے رکھی ہے۔ اس کی فرض شناسی سے پاکستان کی ایک ماں۔ پاکستان کی ایک بیٹی درندوں کے چنگل سے نکل کر اب آزاد ہے۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

ایک باپ کی تڑپ اور مخصوص سیکولر طبقہ کی سرد مہری

ایک دکھی باپ کے پہلے مجھے وٹس ایپ پر پیغام موصول ہوئے پھر فون پر اُس سے گفتگو ہوئی تو اُس کی بات سن کر دل دہل گیا۔ اُس کے پانچ سالہ بیٹے عمر راٹھور کو 21 دسمبر 2019 کو بھارہ کہو اسلام آباد سے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا پھر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا لیکن وہ کہتا ہے کہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ پھول جیسا بچہ، جس کی تصویریں بھی مجھے بھیجی گئیں، کو زیادتی کا شکار بنا کر انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ باپ کہتا ہے کہ بچے کی ماں اور بہن، بھائیوں کی حالت بھی بہت خراب ہے، جب واقعہ ہوا تو حکمران آئے، میڈیا نے بھی خوب کوریج دی لیکن اب کیس ہے کہ چلتا ہی نہیں۔ اسلام آباد کی ماڈل کورٹ میں کیس بھیجا گیا کہ تین ماہ میں فیصلہ ہو لیکن ابھی تک ملزموں پر فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ اب نہ حکمران اور رہنما نظر آتے ہیں، نہ ہی میڈیا کو اب اس کیس میں کوئی دلچسپی ہے۔ اُس باپ، جس کا نام مختار راٹھور ہے، نے بتایا وہ بڑے کرب سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بہت بےقرار اور مایوس ہو چکا ہے۔

کہنے لگا کہ کہنے کو تو میرے بچے کا کیس ماڈل کورٹ میں اس لئے بھیجا گیا کہ جلد انصاف ملے لیکن وہاں سے بھی ہر ماہ نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ یہ بھی کہا کہ جب اپنے بیٹے کے بارے میں سوچتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ قاتل آرام سے جیل میں بیٹھے ہیں بلکہ اب عدالتوں میں اپنی ضمانتوں کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں تو میں برداشت سے باہر ہو جاتا ہوں۔ کہنے لگا، قاتلوں کو سرِعام پھانسی لگے دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہمارا دل اور کلیجہ بھی ٹھنڈا ہو لیکن اب مایوسی کی یہ حالت کہ سوچتا ہوں، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے سامنے جا کر خود سوزی کر لوں۔ میرے پوچھنے پر مختار راٹھور نے بتایا کہ پولیس نے چالان مکمل کر لیا، ملزموں کی ڈی این اے رپورٹس بھی آ چکیں، فنگر پرنٹس کی بھی تصدیق ہو چکی، پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موجود ہے لیکن کیس ہے کہ چلنے کا نام ہی نہیں لیتا، جس کے وجہ سے ہر گزرتا دن مایوسی کو بڑھائے چلا جارہا ہے۔

مختار کا کہنا تھا کہ بیٹا گنوا دیا، اپنا محلہ بھی چھوڑ دیا کیوںکہ ملزمان اُسی محلہ میں رہتے تھے لیکن انصاف ہے کہ سب ثبوتوں کے باوجود مل نہیں رہا۔ کہنے لگا کہ میرے ساتھ ظلمِ عظیم ہوا، بیٹے کو اغوا کر کے چار درندوں نے زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔ الماری میں بند ٹیپوں سے جکڑی ہوئی نعش ملی جسے دیکھ ہر آنکھ اشک بار ہوئی اور لوگوں کے سینے چھلنی ہوئے۔ قتل سے پہلے عمر کے پیٹ میں لاتیں بھی ماری گئیں ، اس کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا لیکن ہم ابھی تک انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ ایک نہیں بلکہ ہزاروں ماں باپ کی کہانی ہے۔ کوئی دو تین سال قبل قصور کی زینب کے ساتھ جو زیادتی ہوئی تو پورے ملک میں ایک بےچینی پھیل گئی۔ ہر کوئی قاتل کو پکڑ کر اُسے نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ اور دعائیں کرتا رہا لیکن اُس کے قاتل، جس نے کم از کم آٹھ بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اور اُنہیں قتل کیا، کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا۔

پھانسی دے دی گئی لیکن زینب کے باپ اور کروڑوں پاکستانیوں کے مطالبہ کے باوجود اُسے سرعام نہیں لٹکایا گیا۔ وہ نشانِ عبرت تو نہ بنا لیکن اُس واقعہ کے بعد کوئی دن نہیں گزرا جب کسی نہ کسی بچے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات سامنے نہ آئے ہوں۔ سینکڑوں یا شاید ہزاروں بچوں کو اس عرصہ میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا گیا لیکن مجھے زینب کے قاتل درندہ صفت عمران علی کے علاوہ کسی ایک ایسے درندے کا نام بتا دیں جسے پھانسی دی گئی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ چند ایک کو پھانسی دی بھی گئی ہو لیکن نہ اُس کا عوام کو کوئی علم نہ میڈیا کو اور یہ وہ بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر درندہ صفت روز بروز اپنی درندگی میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں جبکہ مظلوموں کی لسٹ ہے کہ اُس میں بےپناہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ موٹروے پر خاتوں کو اُس کے بچوں کے سامنے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لاہور موٹروے سانحہ کے ایک یا دو روز بعد ہی کوئی دس ریپ کے واقعات میڈیا کے ذریعے سامنے آئے جن کا شکار بچے اور عورتیں تھیں۔ نشانِ عبرت بنائیں تو دیکھیں کہ کیسے معاشرہ سدھرتا ہے۔ جنرل ضیاء مرحوم کے دور میں لاہور میں ایک کیس جسے شاید پپو کیس کے حوالے سے جانا جاتا ہے، میں بچے کے ساتھ زیادتی اور اُسے قتل کرنے والے کو سرعام پھانسی دی گئی۔ میری این جی اوز، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے ایک خاص طبقہ جو اسلامی سزائوں کا مخالف ہے، سے گزارش ہے کہ ذرا ڈیٹا نکالیں کہ اُس پھانسی کے بعد چار پانچ سال ایسے واقعات میں کتنی کمی ہوئی۔ میری اسلامی سزاؤں کے مخالفین سے یہ بھی درخواست ہے کہ ذرا سعوی عرب اور ایران کا امریکا اور برطانیہ سے بھی موازنہ کر کے دیکھ لیں۔ اگر بُرا نہ منائیں تو افغانستان میں طالبان دور میں کرائم ریٹ کا موازنہ اُن سے پہلے اور بعد کے ادوار سے بھی کر لیں۔ اپنے سیکولر نظریہ اور مغرب پسندی کی وجہ سے خدارا اس قوم کے بچوں اور خواتین کو مزید غیرمحفوظ نہ کریں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

خواب جنہیں پر نہ لگ سکے

پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر پاکپتن کے قریب ایک گاؤں میں محمد فیاض نے جب اپنے بنائے ہوئے جہاز کو آزمائشی پرواز کے لئے گھر سے باہر نکالا تو اس کے بچوں سمیت گاؤں کے سینکڑوں متجسس لوگ اسے دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو گئے۔ وہ اسےگاؤں کے باہر اس سڑک تک لایا جہاں بجلی کی تاریں اور کھمبے نہیں تھے۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اڑان بھرتا پولیس وہاں پہنچ گئی اور جہاز زمین پر ہی رہا۔ محمد فیاض کو بچپن ہی سے جہاز اڑانے کا شوق تھا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ائر فورس میں جانا چاہتا تھا۔ خاندان کے مسائل آڑے آئے اور وہ میٹرک بھی پاس نہ کر سکا۔

مگر نہ تو اس کی ہوائی جہازوں میں دلچسپی اور لگن کم ہوئی اور نہ ہی ہوائی جہاز اڑانے کا خواب۔ اور 30 سال کی عمر میں اس نے ایک ہوائی جہاز بنا ڈالا۔وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو کے دوران فیاض نے بتایا کہ ’’ابھی میں نے جہاز کے انجن کو سٹارٹ کیا ہی تھا کہ مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا اور میرے جہاز کو قبضے میں لے کر علاقے کے رنگ شاہ پولیس سٹیشن لے جا کر کھڑا کر دیا۔‘‘ پولیس کا کہنا تھا کہ فیاض نے نہ تو سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اجازت لی اور وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال رہا تھا۔ اس لئے اسے حراست میں لیا گیا۔ 

فیاض کا کہنا ہے کہ بچپن میں اس کے تمام کھلونے جہاز ہی ہوتے تھے۔ جہازوں کے بارے میں اتنا شوق تھا کہ وہ ’نیشنل جیوگرافک‘ کے پروگرام ’ائر کریش انویسٹی گیشن‘ دیکھا کرتا تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’لاہور میں میں نے ایک فوکر جہاز کو قریب سے دیکھا یا پھر ائر فورس کا وہ جنگی جہاز جسے ایم ایم عالم استعمال کرتے تھے اسے دیکھا۔‘‘ چند برس پہلے انہوں نے اپنا ذاتی جہاز بنانے کی ٹھانی، جس کے لئے معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کی اور پھر ڈیزائن پر کام شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ فیاض کو اپنی گھریلو ذمہ داریوں کا بھی احساس تھا، جس کے لئے وہ دن میں ریڑھی لگاتا اور رات میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا۔ اور جو تھوڑا بہت وقت بچتا وہ اپنے گھر میں جہاز کے پروجیکٹ پر لگا دیتا۔ 

پیسوں کی ضرورت پڑی تو زمین بیچ ڈالی اور بینک سے قرض بھی لے لیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے گھر ہی میں عام سے اوزاروں اور مشینوں کو استعمال کرتے ہوئے جہاز کا ڈھانچہ تیار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے عام استعمال کا پائپ لے کر جس سے چارپائیاں بھی بناتے ہیں، اس کا فریم بنایا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’پچھلے سال میں نے ایک تجرباتی پرواز کی تھی اور کئی فٹ تک جہاز ہوا میں بلند ہوا تھا مگر وہ انجن مناسب نہیں تھا۔ تو پھر میں اس کی جگہ روڈ کاٹنے والی مشین کا طاقتور انجن نصب کیا ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں چار بچوں کے والد فیاض کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز کو کسی حادثے کی صورت میں ان کی زندگی کو خطرہ تو تھا۔

وہ کہتا ہے ’’میری جان کو خطرہ تو مجھے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بھی ہوتا ہے، مگر زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر میں جہاز پر کام کرتے ہیں تو ان کے بیٹے ان کے کام میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں۔ بقول ان کے، ’’مجھے اس بات کا بہت احساس رہتا ہے کہ اگر میں تعلیم یافتہ ہوتا تو شائد میں بہت سے کام زیادہ بہتر کر سکتا۔‘‘ لیکن، ان کے کام سے لگتا ہے کہ انہوں نے اس کمی کو اپنے شوق اور لگن میں آڑے نہیں آنے دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ ہوا بازی سے متعلق تمام ضوابط مکمل کرنے کو تیار ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے پولیس سے فیاض کا ہوائی جہاز واپس دلوا دیا ہے اور ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ وہ طیارہ بنانے والے نوجوان کے جذبے اور مہارت کی قدر کرتے ہیں، اور ادارے کی ایک ٹیکنیکل ٹیم چھوٹے طیارے کا تفصیلی معائنہ کرکے اسے اُڑانے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی۔ فیاض کہتے ہیں کہ آزمائشی پرواز سے پہلے انہوں نے مقامی پولیس اور علاقے میں انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں کو اطلاع دی تھی۔ تاہم، انہوں نے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یقین تو کسی کو بھی نہیں آتا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں کسانوں کا ایک کم پڑھا لکھا بیٹا ہوائی جہاز بنا سکتا ہے۔ لیکن فیاض نے اپنے خوابوں کو پر لگا کر دکھا ہی دیا۔

ندیم یعقوب

بشکریہ وائس آف امریکہ

جس ملک میں کچھ نیا ایجاد کرنے پر سزا مل جائے وہاں بندہ کیا کرے؟

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر پاک پتن کے علاقے عارف والا کے رہائشی محمد فیاض نے آرمی چیف سے اپیل کی ہے کہ اُنھوں نے مقامی طور پر جو جہاز تیار کیا ہے وہ پولیس کی تحویل سے لے کر اسے واپس کیا جائے۔ فیاض نے کہا کہ اس ملک میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مقامی پولیس نے جہاز تیار کرنے اور اڑانے پر محمد فیاض کے خلاف مقدمہ درج کر کے اس کا جہاز قبضے میں لے لیا ہے اور مقامی عدالت نے ملزم کو 3 ہزار روپے کا جرمانہ کر کے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

نامعلوم مقام سے بی بی سی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے محمد فیاض نے کہا اس نے جہاز کی تیاری کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو اور پولیس حکام کے دفاتر کے چکر بھی لگائے لیکن اُنھوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جب میں نے جہاز تیار کر لیا اور اس کی آزمائشی پرواز کی اجازت لینے کے لیے بھی متعلقہ حکام سے رابطہ کیا تھا تاہم اسے اس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ فیاض نے کہا کہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اس نے نہ صرف اپنی زمین بیچی بلکہ بینک سے 50 ہزار روپے قرضہ بھی لیا ہے جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔ محمد فیاض ایک ریڑھی بان ہے صبح کے وقت وہ ریڑھی چلاتا ہے جبکہ گھر کے اخراجات چلانے کے لیے وہ رات کو ایک کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔

 محمد فیاض کے بقول وہ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور گھر کو چلانے کے لیے اسے ریڑھی چلانا پڑی۔ محمد فیاض انڈر میٹرک ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جہاز بنانے کا شوق اسے بچپن سے تھا اور اس نے اس ضمن میں کسی سے کوئی تربیت حاصل نہیں کی۔ محمد فیاض کا کہنا ہے کہ اسے اس جہاز کو بنانے میں 5 ماہ کا عرصہ لگا اور اس پر مجموعی طور پر اخراجات 90 ہزار کے قریب آئے ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ جہاز اب مقامی تھانے میں رکھا ہوا ہے اور جس انداز میں اس جہاز کو رکھا گیا ہے اور پولیس اہلکار مبینہ طور پر جس انداز میں اس کی حفاظت کر رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں چلی جائے گی۔

مقامی علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر نصر اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا مقامی عدالت محمد فیاض کو مجرم قرار دے چکی ہے اس لیے یہ جہاز مال مقدمہ کا حصہ ہے اس لیے اب اس جہاز کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم فیاض نے جہاز اڑا کر نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا بلکہ دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے سے دوچار کیا۔ ایس ڈی پی او کے مطابق فیاض اس سے قبل اسلام آباد میں جہاز اڑانے کا مظاہرہ کر چکا ہے جبکہ فیاض پولیس افسر کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ دوسری طرف ڈسٹرکٹ پولیس افسر ماریہ محمود کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ملزم فیاض نے جہاز کی تیاری اور پھر اس کو اڑانے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے این او سی حاصل نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اس جہاز کو اڑانے سے یہ تاثر بھی مل سکتا ہے کہ ایسے جہازوں کو جاسوسی اور دہشت گردی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ دنیا نیوز

جانتے نہیں میں کون ہوں؟

ایک صبح ٹی وی کھولا تو ایک بھولا بسرا مصرعہ یاد آ گیا۔ لگا کہ ہم کچھ حرکت تیز تر اور سفر آہستہ والی صورت حال کا شکار ہیں۔ نواز شریف جیل سے چھ ہفتے کی میڈیکل چھٹی پر باہر آ رہے تھے، بلاول بھٹو ٹرین پر سوار ہو کر لاڑکانہ جا رہے تھے احتجاج کرنے، شیخ رشید ٹی وی پر کسی تعلیمی ادارے سے خطاب کر رہے تھے اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ سمارٹ فونوں پر پابندی لگا دیں۔ اس کے بعد بچے کو لے کر حجام کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ وہاں زیادہ تر لوگ فواد چوہدری کے دیوانے ہیں اور ابو مارچ پر تبصرے کر رہے ہیں۔ بچے کو ہیئر کٹ پسند آ گیا اور میں نے خوش ہو کر حجام کی دکان کے سیاسی تجزیے ٹھنڈے دل سے سنے اور دل کو تسلی دی کہ عظیم قومیں ایسے ہی بنتی ہیں۔

شام کو ٹوئٹر کھولا تو اس قوم کے عظیم سپوت، کم از کم کراچی کے عظیم سپوت اور کبھی کبھی دھانسو صحافت کرنے والے فہیم زمان کچھ پولیس والوں کو ایسی گالیاں دے رہے تھے جو عموماً بچوں کے سامنے نہیں دی جاتیں۔ نوے کی دہائی میں فہیم زمان کراچی کے دو دفعہ ایڈمنسٹریٹر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کراچی کو نوجوان قیادت دینے اور ایم کیو ایم کا دف مارنے کے لیے میئر کا عہدہ ختم کر کے سارے اختیارات فہیم زمان کو دے دیے تھے۔ فہیم زمان اپنے زمانے میں متحرک مانے جاتے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ بارش میں انھیں لمبے بوٹ پہن کر گلیوں میں پھرتے دیکھا تھا۔ یہی فیشن بعد میں پنجاب کے خادم اعلیٰ نے اپنایا اور ہمارے محبوب صدر عارف علوی تو کراچی کی ایک بارش میں اتنے جوش میں آ گئے کہ لائف جیکٹ پہن کر کشتی میں چڑھ بیٹھے۔

راؤ انوار کی وجہ سے کراچی پولیس بدنام ہے اور صحیح بدنام ہے لیکن جس ویڈیو میں فہیم زمان صاحب پولیس کی ماں بہن ایک کر رہے تھے وہ کچھ ماٹھے سے لگے، ’آپ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں‘ ٹائپ بات کر کے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فہیم زمان کی تسلی نہیں ہوئی اور وہ فون پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ابھی تمہارے آئی جی صاحب کو فون کرتا ہوں اور اسے بھی یہی گالیاں دیتا ہوں۔ وہ تو آئی جی صاحب کی قسمت اچھی تھی کہ انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔ کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ فہیم زمان صاحب کو رینجرز نے روکا ہوتا تو پھر وہ کس کو فون کر کے اپنی گالیاں دہراتے۔

جو لوگ فہیم زمان کو جانتے ہیں انھیں پتہ ہے کہ وہ مرنجان مرنج قسم کے آدمی ہیں۔ کبھی ان کو اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا۔ شام کو ایک ٹی وی پروگرام میں انھوں نے پولیس والوں سے، اپنے گھر والوں سے، شہر والوں سے معافی بھی مانگی لیکن اس بات پر مصر رہے کہ ان کا غصہ بجا تھا، اظہار کا طریقہ غلط۔۔ لیکن میری سوئی اس بات پر اٹکی رہی کہ جب وہ پولیس والوں سے کہہ رہے تھے کہ میں کراچی کا دو دفعہ ایڈمنسٹریٹر رہا ہوں، مجھے نہیں پہچانتے تو تم کراچی میں (ایک بڑی سی گالی) پھر کس کو پہچانتے ہو؟ پولیس والے اگر اتنے سہمے نہ ہوتے تو شاید کہتے کہ جب آپ ایڈمنسٹریٹر تھے اس وقت تو ہم پرائمری سکول کے طالب علم تھے اور سندھ پولیس میں بھرتی ہو کر آپ سے گالیاں کھانے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ 

بات یہ نہیں کہ کراچی کے لوگ احسان فراموش ہیں اور فہیم زمان کے احسانات بھول گئے لیکن زیادہ تر لوگ اس وقت کراچی میں یا اس دنیا میں موجود ہی نہیں تھے۔ جب آپ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر تھے تو شہر کی آبادی نصف سے بھی کم تھی۔ شہر میں ایک ہی اوور ہیڈ برج تھا جس کی وجہ سے پل کے اُس پار والی کلاس ڈویژن وجود میں آئی تھی۔ الطاف بھائی ون ٹو تھری کہتے تھے تو پورا شہر خاموش ہو جاتا تھا۔ کسی شہری منصوبہ ساز نے نہیں سوچا تھا کہ اس شہر کو ڈیفنس فیز 8 کی ضرورت ہے۔

اُس وقت تو ریگل چوک پر ایدھی جھولی پھیلا کر کھڑا ہو جاتا تھا، جب تھر سے آئی ہوئی عورتیں ٹریفک کے اشاروں پر کھڑی ہو کر رسالہ تکبیر بیچا کرتی تھیں، جب پرانی سبزی منڈی ہی واحد سبزی منڈی تھی اور بچوں کا عسکری پارک نہیں بنا تھا، جب عبداللہ شاہ غازی کے مزار کو ایک حویلی نما عمارت میں قید نہیں کیا گیا تھا۔ اتنا وقت گزر گیا، بیچارے پولیس والے کیسے پہچانتے۔ اور اگرچہ ’جانتے نہیں میں کون ہوں‘ ہمارا قومی نعرہ ہے لیکن یہ شاہد آفریدی کہے تو سمجھ میں آتا ہے، شہر کے سابق خادمین کے منہ پر نہیں جچتا۔

محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو 

کیا پاکستان میں جعلی پولیس مقابلے کبھی ختم ہوں گے؟

کراچی کے رہائشی اشتیاق احمد کے لیے 13 جنوری 2018 کی رات قیامت بن کر آئی تھی۔ اس رات ان کے اکلوتے بیٹے انتظار احمد کو ڈیفنس کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ تحقیقات اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ فائرنگ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھے۔ ملائیشیا سے تعلیم یافتہ انتظار احمد اپنی ایک خاتون دوست کے ہمراہ کار میں سوار تھا۔ لیکن، حیرت انگیز طور پر فائرنگ کے دوران خاتون کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا مگر انتظار کے سینے میں پیوست گولیوں نے اس کی زندگی چھین لی۔ پولیس افسران اسے “مقابلہ” قرار دے رہے تھے، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیجز نے پولیس کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ لیکن ایک سال گزر جانے کے بعد بھی پولیس اب تک اس قتل کے تمام ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے اور اس وجہ سے ٹرائل بھی شروع نہیں ہو سکا۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ جس پولیس افسر کے خلاف کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی نے محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی تھی اسے چند ماہ کی معطلی کے بعد نئی پوسٹنگ دے دی گئی۔ انتظار کے والد اشتیاق احمد کو قاتلوں کے کیفرِ کردار تک پہنچنے کی کوئی خاص امید ہے اور نہ ہی وہ اب تک کی تحقیقات سے مطمئن ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کے بقول، “میری تو دنیا ہی اجڑ گئی۔ کوئی پولیس سے پوچھنے والا نہیں۔ دو چار کو سزا ملے تو ہی یہ سدھر سکتے ہیں۔ میں اسی وجہ سے کیس لڑ رہا ہوں کہ کسی اور کے انتظار کو بے گناہی کی سزا نہ بھگتنا پڑے۔”

پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے والا انتظار احمد بغیر کسی قصور کے سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی فہرست میں درج ہونے والا نہ پہلا نام ہے اور نہ شاید آخری۔ اپنے گھر کا واحد کفیل مقصود احمد ہو یا قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود، یا پھر نو سالہ ہنستی مسکراتی ایمل، گزشتہ سال یہ سب پولیس کے غیر پیشہ وارانہ رویے یا پھر ‘نمبر لے جانے’ کی غرض سے کی جانے والی کارروائیوں کی نذر ہو گئے۔ جنوری 2018 میں کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں قبائلی نوجوان اور سوشل میڈٰیا پر شہرت پانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کو چار دیگر افراد کے ہمراہ اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے ان تمام کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے قرار دیا تھا۔ تاہم، سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد حکومت سندھ نے واقعے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ واقعہ جھوٹا پولیس مقابلہ تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے معاملے پر از خود نوٹس لینے پر راؤ انوار پہلے روپوش ہو گیا تھا، لیکن پھر خود کو قانون کے حوالے کر دیا تھا۔ تاہم، عدالت سے دونوں مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد جولائی میں ان کی رہائی عمل لائی گئی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی۔ کراچی میں جون 2011ء میں سندھ رینجرز کے جوانوں کے ہاتھوں کیمرے کے سامنے ایک شخص کے قتل کی ویڈیو بھی ساری دنیا نے دیکھی۔ پھر جون 2013ء میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک ٹیکسی ڈرائیور مارا گیا۔ کراچی شہر کے علاوہ بھی ہمیں کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد اور ساہیوال جیسے ’پولیس مقابلوں‘ کی ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے۔

سابق گورنر اور وزیرِ داخلہ اور پاکستان کی بری فوج میں 35 سال خدمات انجام دینے والے لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے باقاعدہ قواعد و ضوابط موجود ہیں جن کے تحت یہ کارروائیاں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے آپریشنز میں پہلے سے یہ ریکی ہونی چاہیے کہ ملنے والی معلومات درست ہے یا نہیں، کم سے کم انسانی نقصان ہو، اگر مزاحمت نہیں کی جارہی تو زندہ گرفتاری ہی عمل میں لائی جائے۔ ایسے قواعد تو عام طور پر سبھی کو پتا ہیں مگر جس طرح دیگر قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، ویسے ہی ان کا بھی یہی حال ہے۔

معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ ادارے کمزور پڑ چکے ہیں، جس طرح ان کا احتساب ہونا چاہیے تھا ویسا نہیں ہو پا رہا۔ پولیس جن قوانین کے تحت کام کر رہی ہے وہ 1861ء کے قوانین ہیں۔ پولیس قوانین میں اصلاحات، جدید ٹریننگ، شواہد اکھٹا کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور پراسیکیوشن کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سابق گورنر کے مطابق حکمرانوں کو یہ سب حقائق معلوم تو ہیں مگر سیاسی عزم کی کمی صورتِ حال کی بہتری میں آڑے آتی ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں یہی چاہتی ہیں کہ پولیس انہی کی وفادار بن کر رہے۔ ایسے میں پیشہ وارانہ تربیت اور بہتری کیسے ممکن ہو گی؟

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں 2127 واقعات میں 3353 افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ ایچ آر سی پی کی شریک چیئرپرسن عظمیٰ نورانی کا کہنا ہے کہ پولیس مقابلوں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا معاملہ نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے ایسی اپروچ کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ہونے والے بلاوجہ کے نقصانات سے بچا جا سکے۔ ان کے بقول، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شفافیت اور انصاف کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ورنہ ایسے سانحات بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام داغدار کرتے رہیں گے۔

محمد ثاقب

بشکریہ وائس آف امریکہ

پاکستان پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ

پاکستان کو برطانوی راج سے پولیس کا سامراجی ڈھانچہ ورثے میں ملا، امن و امان کے فروغ، معاشرتی ہم آہنگی، سلامتی اور نفاذ قانون کے بجائے برطانوی حکمرانوں کی خدمت گزاری کے لیے جس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ 1861ء کے پولیس ایکٹ میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی بنیادی ترمیم نہیں کی گئی۔بلکہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے قوانین میں بھی برطانوی دور کے قانون کی روح کو کم و بیش برقرار رکھا گیا ہے۔ ہمارے موجودہ کلچر میں کم زوروں کو با اثر سیاسی اشرافیہ کا غلام بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی طاقت ور طبقات کی آلہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔

پولیس سے متعلق قوانین میں کبھی بھی اس سامراجی ورثے کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے جیسے جاگیردارانہ معاشرے میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے بغیر ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہو گا۔ 14 جنوری 2019ء کو پولیس ریفارم کمیٹی رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ’’ایک مؤثر فوج داری نظامِ انصاف کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اہم ترین ذمے داریوں میں شامل ہے۔ شفافیت کے ساتھ انصاف کے قیام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جیسے عنصر اثر انداز ہوتے ہیں.

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 میں قانون کے ہر کس و ناکس کے ساتھ یکساں سلوک کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ جرائم کے انسداد اور تفتیش کے ساتھ ساتھ ، پولیس شفاف عدالتی کارروائی اور از روئے ضابطہ قانونی عمل کے بنیادی حق کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جس کی ضمانت دستور کی شق 10 الف میں دی گئی ہے۔‘‘ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ عام شہری قانون کے مطابق اپنی شکایات کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کے بجائے اس سے گریز کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو حکمراں اشرافیہ کی خدمت گزاری سے محفوظ کرنے کے لیے، سپریم کورٹ نے ’’پولیس اصلاحات کمیٹی‘‘ تشکیل دی جس کا مقصد ٹھوس تجاویز ترتیب دینا تھا۔

اس کمیٹی نے اصلاحات کے لیے یہ نکات تجویز کیے۔ (الف) شکایت کے ازالے کا نظام (ب) شہری پولیسنگ (ج) انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مؤثر بنانا (د) پولیس کا احتساب اور (د) فوجداری نظام انصاف کا ادغام۔ ان تجاویز میں فوج کی ملٹری سیکریٹری ( ایم ایس) برانچ کی طرز پر ’’تعیناتی/ ترقی کے نظام‘‘ جیسے اہم ترین پہلو سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ میرٹ پر ترقی اور موزوں افراد کی تعیناتی کے لیے ایک جامع نظام کا نفاذ ہی اس کا واحد حل ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں پولیس اصلاحات پر دو درجن رپورٹس جاری ہو چکی ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں کسی کی بھی تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ اس کی فکر کی گئی۔ ’’2002ء فوکس گروپ برائے پولیس اصلاحات‘‘ میں شامل ہونا جمیل یوسف کے اور میرے لیے پریشان کُن تجربہ رہا۔

نیم دلی سے کیے گئے اقدامات سے دیانت دار افسران کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی نفاذِ قانون کا ہدف حاصل ہوتا ہے۔ اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس نے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیر نگرانی ان سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے پولیس آئی جیز پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی۔ پریزینٹیشنز میں آئی جی رینک کے سابق سینیئر افسران کی اصلاحات و تجاویز شامل کی گئی، ایک موجودہ آئی جی نے رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کا نقشہ وضع کیا۔ کسی بھی ملک کے نظام انصاف میں پولیس کی ناگزیریت کے پیش نظر ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس محکمے کو مکمل طور پر آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔ پولیس یا تو طاقتوروں کے سامنے کھڑے ہونے والے جرأت مند افسران کے انجام سے خوف زدہ ہے یا سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ان گنت بھرتیوں اور تقرری و معطلی کی وجہ سے پوری طرح سیاسی عناصر کے زیر دست ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ناقص تربیت، ناکافی ہتھیار اور عادی بدعنوانوں کے بوجھ تلے دبی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دیمک کی طرح اس کی بنیادیں چاٹ رہے ہیں۔ پولیس کو جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے، سندھ میں یہ حالات بدترین ہیں، کم سہی دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ دوسری جانب عزت مآب چیف جسٹس نے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پولیس نظام کی تباہ حالی کے باوجود، مقننہ اور حکومت ضروری اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سندھ کے سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کو جن حالات کا سامنا رہا وہ اس کی بڑی واضح مثال ہے، اپنی دیانت داری اور میرٹ کے باوجود ان کی ترقی نہ ہونا اس نظام کی تذلیل کے مترادف ہے۔

پولیس بہتر کارکردگی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے محکمے کو حکومت اور بڑی سیاسی جماعتوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پر سے ہر طرح کے دباؤ کا خاتمہ ہونا چاہے۔ بدقسمتی سے پولیس حکام اکثر ایسے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں جن کی روک تھام ان کا فرض ہے، دوسری جانب جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت سے بچ نکلے ہیں کیوں کہ انھیں پولیس کے اندر سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے ہی انھوں نے پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے درکار سب سے ضروری تبدیلی میں پیش رفت کو ممکن بنایا۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں۔ اس تحریر کے لیے 14جنوری 2019ء کو پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر کیے گئے چیف جسٹس کے اقتباسات سے مدد لی گئی۔)

اکرام سہگل

شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے لیے چینیوں نے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا

کراچی میں قائم چینی قونصل خانے میں اپنی جان کا نذرانہ دینے والے پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے لیے چینی عوام نے فنڈز جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں چین کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جین ژؤ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کیا اور چین میں پاکستان کے شہید اہلکاروں کے لیے فنڈنگ سے متعلق آگاہ کیا۔ اپنے ٹوئٹ میں چینی سفارتکار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی چینیوں کے ساتھ دوستی بہت گہری ہے، اور انہوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان بھی گنوا دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں بڑی جوش و خروش کے ساتھ شہید پاکستانی اہلکاروں کے لیے فنڈز جمع کیے جارہے ہیں جو دل کو چھونے والا عمل ہے۔

اپنے ایک پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینیوں کی پاکستانی اہلکاروں کے لیے فنڈنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاک چین دوستی پربت سے اونچی اور ساغر سے گہری ہے۔ لی جین ژؤ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں سیکیورٹی گارڈ کی جان بچ جانے پر خوش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قونصل خانے میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے دوران سیکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گیا تھا، دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں۔ کراچی کے علاقے کلفٹن میں دہشت گردوں نے چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ اس حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید، جبکہ چینی قونصل خانے میں ویزا کی غرض سے آنے والے باپ اور بیٹے نے بھی جان گنوا دی تھی۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے بروقت کارروائی کی گئی اور حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

افغانستان میں شہید ہونیوالے ایس پی پشاور طاہر داوڑ کون تھے؟

دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ایس پی رورل پشاور طاہر داوڑ نے 23 سال تک پولیس میں خدمات انجام دیں، اے ایس آئی بھرتی ہونے کے بعد اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ ترقی کر کے ایس پی کے عہدے تک پہنچے۔ طاہر داوڑ 4 دسمبر 1968ء کو شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی میں پیدا ہوئے، 1982 ءمیں میٹرک، 1984 ء میں بی اے اور 1989 ء میں پشتو ادب میں ایم اے پاس کیا۔
پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی کے بعد اے ایس آئی کی حیثیت سے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی، 1998ء میں ایس ایچ او ٹاؤن بنوں، 2002 ء میں سب انسپکٹر اور 2007 ء میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پائی۔

انہیں قائد اعظم پولیس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، 2009 ء سے 2012 ء تک ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا، 2014ء میں ڈی ایس پی کرائمز پشاور سرکل اور ڈی ایس پی فقیر آباد رہے۔ طاہر داوڑ 2003ء میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر مراکش اور 2005 ء میں سوڈان میں تعینات رہے، 2005 ء میں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں ان کی بائیں ٹانگ اور بازو میں گولیاں لگی تھیں۔ دو ماہ قبل انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی دے کر رورل پشاور میں تعینات کیا گیا۔ ان کے ساتھی پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ ایک فرض شناس افسر کے علاوہ بااخلاق اور بہادر انسان بھی تھے۔ قریبی حلقوں کے مطابق طاہر داوڑ ادبی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتے تھے اور پشتو زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔