خوبصورت جھیل خرفاق جو سیف الملوک جھیل سے کم نہیں

پاکستان خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے لیکن حکومتوں نے سیاحت کی طرف کم توجہ دی اور قدرتی نظاروں تک پہنچے کیلئے جو ذرائع آمد و رفت آپ کو یورپی ممالک میں ملتے ہیں وہ یہاں دستیاب نہیں ۔ یورپ میں یہی سہولت قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے اور جوق درجوق سیاح آتے ہیں جس سے مقامی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی شمالی علاقہ جات قدرتی مناظر سے بھرپور ہے لیکن وہ یا تو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ خوبصورتی کی ایسی ہی مثال” جھیل خرفاق ‘‘ ہے۔ شمال میں چین کی سرحد اور واخان کی پٹی سے ملحقہ پاکستان کے آخری ضلع گانچھے کی تحصیل خپلو میں واقع ہے جس تک پہنچنے کیلئے سخت ہائیکنگ کرنا پڑتی ہے۔ سکردو سے اگر خرفاق جائیں تو براہ تک پونے دو گھنٹے کا سفر ہے لیکن اگر خپلو سے جائیں تو پچیس سے تیس منٹ لگتے ہیں ۔

راستہ بہت زیادہ دشوار گزار ہے۔ جھیل سے پہلے ایک دریا آتا ہے جہاں سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔ فور بائی فور گاڑی ہی کارگر ہوتی ہے ، یہاں سفر کرنا عام گاڑی کے بس کی بات نہیں ۔ جو لوگ ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے دلدادہ ہیں وہ خرفاق جھیل تک پہنچنے میں آسانی محسوس کرینگے کیونکہ جھیل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ یہاں چٹانوں کے پہاڑ کھلے کھلے ہیں درمیان میں کافی جگہ ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جھیل تک پہنچنے کیلئے سڑک تعمیر کرے تاکہ سیاحت میں اضافہ ہو سکے ۔ جھیل کا پانی اوپر پہاڑوں سے آتا ہے جب برف پگھلتی ہے تو جھیل گہری ہو جاتی ہے اور اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے لیکن جب پانی خشک ہوتا ہے تو جھیل سکڑ جاتی ہے ۔ جھیل کا داہانہ یا بہائو زیر زمین ہے اور اس کا پانی ایک گائوں میں جاکر نکلتا ہے ۔

گھنٹوں کی ہائیکنگ کرتے کرتے جب سیاح تھک جاتے ہیں تو کسی مقامی رہائشی کا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں جو مقامی فرد خوشی سے دے دیتا ہے کیونکہ وہاں ٹھہرنا تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے ۔ مقامی آباد ی بہت ملنسار ہے۔ جھیل سے فاصلے پر کہیں کہیں آبادیاں ہیں، دریا کے ساتھ بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس جھیل تک پہنچ پاتے ہیں ۔ تھکے ہارے سیاح جب کئی میل کا سفر کر کے اس جھیل کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کا نیلگوں پانی دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جیسے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیں گے ۔ جھیل سے پہلے چٹانوں کے ٹوٹے پتھر آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا شفاف پانی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔ یہ ایک بہت خاموش اور دنیا سے ہٹ کر جگہ ہے جہاں آپ سکون محسوس کرینگے ، یہاں کوئی شور نہیں سوائے پانی کے گرنے کے یا پرندوں کے چہچہانے کے ۔

یہ جھیل خوبصورتی میں جھیل سیف الملوک سے کم نہیں لیکن چونکہ اس تک پہنچنا بہت دشوار ہے اس لئے سیاح عموماً یہاں کا رخ نہیں کرتے لیکن اگر حکومت توجہ دے تو اسے جھیل سیف الملوک کی طرح کا سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کا ٹھہرائو آپ کو کسی حسین دلربا پانی کے خوبصورت منظر کی طرف لے جاتا ہے جہاں آنے والے لوگ عجیب ہی تروتازگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جھیل اپنے اندر اک خوشنما احساس تو رکھتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کو غمزدہ بھی کرتی ہے کہ اتنی خوبصورت جھیل عوام کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔

زونیر کمبوہ

بشکریہ دنیا نیوز

کیا عمران خان، اردوان کی پیروی کر سکتے ہیں؟

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس، نے پاکستان کے چار روزہ دَورے میں دو باتیں بڑی اہم کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ’’دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیاں مثالی اور غیر معمولی ہیں‘‘ اور دوسری یہ کہ ’’پاکستان کا دہشتگردی کے عفریت سے نجات حاصل کر کے سیاحت کی طرف سفر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسلام آباد جو چند سال قبل کسی قلعے کی مانند لگتا تھا، آج اِسے اقوامِ متحدہ کے اسٹاف کے لیے فیملی اسٹیشن قرار دے دیا گیا ہے ۔‘‘ پاکستان کے حق میں جناب انتونیو گوتریس کے ان الفاظ کی بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ یقیناً اس کے مثبت نتائج بھی نکلیں گے۔ پُر امن پاکستان عالمی سیاحوں کے لیے حقیقی جنت ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے (سی این ٹریولر) نے پاکستان کو 2020 کا بہترین عالمی سیاحتی مقام قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کی بھی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ عالمی سیاحوں کی توجہ پاکستان کی طرف موڑی جا سکے ۔ ہر عالمی فورم پر عمران خان صاحب پاکستانی سیاحت کی تبلیغ کرتے سنائی دیتے ہیں ۔

وزیر اعظم کے دوست اور سیاحت کے لیے اہم صوبے (خیبرپختوخوا) کے سنیئر صوبائی وزیر بھی کہہ چکے ہیں : ’’حکومت کی اولین ترجیحات میں سیکیورٹی ، ویزے کے مسائل حل کرنا اور سیاحت کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کا قیام ہیں۔ سیاحوں کو ملک میں آمد پر ویزے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو صرف حساس سرحدی علاقوں میں جانے کے لیے این او سی درکار ہوتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں 14 نئے سیاحتی مقامات کے قیام کی منظوری دی ہے۔ چار نئے سیاحتی زونز بھی بنائے جا رہے ہیں۔‘‘ ہمارے دشمن بھی مگر تاک میں ہیں کہ پاکستان کو عالمی سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز نہ بننے دیا جائے ۔ پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں جب برطانوی شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ ، کیٹ میڈلٹن ، پانچ روز کے لیے پاکستان کی سیاحت پر آئے اور اُن کا جس شاندار انداز میں سواگت کیا گیا، اس نے بھی دُنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں خاصی معاونت کی ۔

اس برطانوی شاہی جوڑی نے اسلام آباد ، لاہور اور چترال میں گز ارے ایام سے جس اسلوب میں لطف اُٹھایا ، اس کا پیغام بھی دُنیا بھر میں پہنچا ۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن کا یہ دَورہ اس لیے بھی ہمارے لیے اہم ترین تھا کہ ٹھیک 13 سال بعد کسی برطانوی شاہی جوڑے نے پاکستان میں قدم رکھا تھا ۔ اس سے پہلے شہزادہ چارلس اور اُن کی اہلیہ ، کمیلا پارکر، نے 2006 میں پاکستان کا دَورہ کیا تھا۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن نے اپنے انٹرویوز میں بھی کھلے دل سے تسلیم کیا کہ پاکستان پُر امن ملک ہے اور یہ کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات تو عالمی سیاحوں کے لیے بانہیں کھولے ہُوئے ہیں ۔ اب فروری 2020 کے وسط میں جس والہانہ اندازمیں برطانوی شہزادی بیٹرس ، اسپین کے سابق وزیر اعظم جوز ماریا آزنر اور اٹلی کے سابق وزیر اعظم میٹیو رینزی پاکستان کی سیر کو آئے ہیں تو یہ دراصل برطانوی شہزداہ ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے دَورئہ پاکستان کے حق میں دیے گئے پیغامات کا نتیجہ ہے۔

اچھا ہُوا کہ ان تینوں معزز عالمی سیاحوں کا استقبال وزیر اعظم کے مشیرِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز، سید ذوالفقار بخاری ، نے کیا ۔ جناب وزیر اعظم نے اُن کے ساتھ چائے بھی پی ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں عالمی شہرت کے حامل سیاح درحقیقت پاکستان میں اسکائی ٹرپ پر آئے تھے ۔ معروف امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کے بھتیجے، جعفر جیکسن، نے بھی پاکستان کی مہمان نوازی کی خوب تعریف کی ہے ۔ بھارت اگر 2019 میں صرف ’’تاج محل‘‘ دیکھنے والے غیر ملکی 70 لاکھ سیاحوں سے 200 کروڑ روپے کما سکتا ہے تو پاکستان ایسا کارنامہ کیوں انجام نہیں دے سکتا؟ خدا کا شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے دربارکرتار پور صاحب کو ایک بے نظیر شکل دی گئی ہے ۔ اس کا شہرہ دُنیا میں سنائی دے رہا ہے۔ عالمی سکھ کمیونٹی پاکستان کی ستائش کر رہی ہے ۔

گزشتہ روز یو این سیکریٹری جنرل ، انتونیو گوتریس، بھی وہاں گئے اور پاکستان کی تعریف کی۔ اِسی پیمانے پر اگر صدیوں پرانے کٹاس راج کے مندروں کی طرف بھی توجہ دی جائے تو دُنیا بھر کے ہندو سیاحوں کو ہم اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ دربار کرتار پور صاحب اور کٹاس راج کے منادر کے بارے میں سلیم بیگ صاحب (جب وہ ’’ڈیمپ‘‘ کے ڈی جی تھے) کی بنائی گئی بے مثل ویڈیوز کو اگر دُنیا بھر میں بروئے کار پاکستانی سفارتخانوں کے توسط سے متعارف کروایا جائے تو یہ اقدام بھی عالمی سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں اور سندھ کے صحرائی علاقوں میں موجود سیکڑوں سالہ پرانے مندروں کی اگر از سرِ نَو تزئین کی جائے اور وہاں پہنچنے کے لیے اچھی ٹرانسپورٹ و رہائش کے لیے مناسب ہوٹلوں کا بندوبست ہو جائے تو وطنِ عزیز میں لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھ سکتا ہے۔ یہ مہمات مگر انجام دے کون؟

سیاحت کے میدان میں ہمارے کئی مسلمان برادر ملک جس طرح اربوں ڈالر کما رہے ہیں، ہم ان سے بھی سبق لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر : ترکی!! پچھلے دنوں عظیم ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کا دو روزہ دَورہ کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اُنکی موجودگی میں خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’ہم ترقی کے لیے ترکی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ بہت کچھ تو چھوڑئیے ، اگر ہم ترکی سے سیاحت کے میدان ہی میں سبق سیکھ لیں تو بڑی بات ہو گی۔ 9 فروری2020 کو ترک نیوز ایجنسی ’’اناطولیہ‘‘ نے یہ حیرت انگیز خبر دی کہ پچھلے سال (2019میں) 5 کروڑ عالمی سیاح ترکی آئے تھے اور ترکی نے ان سے 35 ارب ڈالر کمائے ۔ معروف ترک اخبار ’’حریت‘‘ کا کہنا ہے کہ جناب طیب اردوان کی حکومت کا ٹارگٹ یہ ہے کہ 2020 میں ترکی میں 5 کروڑ 70 لاکھ عالمی سیاحوں کو سہولت دی جائے گی ۔ کیا جناب عمران خان اس میدان میں طیب اردوان کے نقشِ قدم پر چل سکتے ہیں؟؟

تنویر قیصر شاہد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سیاحت کے لیے بے مثال پاکستان

سطح سمندر سے صرف چند فٹ اونچائی سے لے کر دنیا کی بلند ترین سرزمینوں تک بچھے اور پھیلے ہوئے میرے وطن عزیز کا ذرہ ذرہ بے مثال ہے، اس کی سر بلند چوٹیوں کے نظارے انسانی عقل کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ شمالی پاکستان کے دروں اور وادیوں میں سے ابھرتی ہوئی ان چوٹیوں میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں سے طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے والے سوچتے ہیں کہ کیا جنت کا کوئی منظر اس سے بھی دلفریب ہو گا۔ طلوع آفتاب کے وقت یوں لگتا ہے جیسے کسی نے رنگ رنگ کے کروڑوں ہیرے جواہرات یکایک فضا میں اچھال دیے ہیں اور آتشبازی کے لاتعداد رنگوں نے زمین کے ان بلند ترین نظاروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس منظر کو جو چند ثانئے برقرار رہتا ہے بیان کرنے کے لیے انسان الفاظ تلاش نہیں کر سکا۔

دنیا میں کوئی دوسرا مقام ایسا نہیں جہاں سے طلوع آفتاب کی ایسی سج دھج دیکھی جا سکے ۔ یہ منفرد ہے، صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔ قدرتی جغرافیہ نے یہ زاویہ صرف اسی مقام کو عطا کیا ہے جو شمالی پاکستان کی اس پہاڑی پر واقع ہے اور انسانی دسترس میں بھی ہے۔ مگر ان خوش نصیبوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں جنھوں نے کسی سرد صبح کو قدرت کے اس پاکستانی عطیہ کو دیکھا ہو ۔ جنھوں نے دیکھا وہ پہروں گم سم رہے اور پھر کئی صبحوں تک مطلع صاف ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ ان چوٹیوں پر جمی رہنے والی برف اور آسمانوں کو دیکھتے رہنے والے درختوں میں سے بہتے پانیوں کے ساتھ ساتھ نیچے اتر کر کوئی مسافر جب ان صحرائوں تک جو چولستان سندھ اور بلوچستان میں بچھے ہوئے ہیں، پہنچتا ہے تو وہ بالکل ایک دوسرا منظر دیکھتا ہے، ایک ایسا منظر جو بہت کم صحرائوں کے نصیب میں ہے ۔ صحرائی عرب اپنے ریگستانوں کو چھوڑ کر پاکستان کے ان صحرائوں میں آتے ہیں اور یہاں ایسے نظارے دیکھتے ہیں کہ یہاں ڈیرے لگا اور بنا لیتے ہیں۔

ہزارہا برسوں سے نسل در نسل بادیہ نشین عربوں کا پاکستانی صحرائوں کو یہ خراج تحسین ہے ۔ یہ صحرا دیکھ کر ان عربوں کو اپنے سب سے بڑے شاعر امراء القیس کے قصیدے کا وہ منظر ضرور یاد آتا ہو گا جو اس نے اپنی محبوبہ کے فراق میں اس کی خیمہ گاہ کو دیکھ کر یوں کھینچا تھا کہ اس کے قبیلے نے دخول اور حومل نامی دو ٹیلوں کے درمیان خیمے ڈال دیے تھے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں شمال اور جنوب دونوں طرف سے چلنے والی ہوائیں رواں ریت کو سوئی دھاگے کی طرح پروتی اور بُنتی رہتی ہیں۔ میرے دوستو ذرا ٹھہرو اور مجھے اس منظر کی یاد میں آنسو بہا نے دو۔ پاکستان کے سر کشیدہ پہاڑوں پر دنیا کے کوہ دامن رشک کرتے ہیں اور اس کے صحرائوں پر عربوں کے صحرا۔ یہ میرا پاکستان ہے ۔ یہاں کے انسانوں کے لیے قدرت کا انعام۔ ان دنوں سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان کے تاریخی شہروں، تاریخ کے کھنڈروں، تاریخ کے زندہ نمونوں اور قدرت کے عطا کردہ فرواں نظاروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کا اتنا کچھ رکھنے کے باوجود ہم سیاحت کے صنعت سے محروم کیوں رہیں ۔ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے پاکستان میں امن و امان کو بگاڑ رکھا جس کی وجہ سے سیاحوں نے ہم سے منہ موڑ لیا۔

پاکستان میں سیاست کا خزانہ خالی نہیں ہے، اس کی دلکشی کو کسی ساہوکار کی ضرورت نہیں صرف ہمیں خود اس شعبے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ شروع دن سے ایک محکمہ موجود ہے مگر شجر کاری والے محکمے کی طرح وہ بھی کام نہیں کرتا اور شاید اس محکمے کے کارپردازوں کو بھی پوری طرح علم نہ ہو کہ ان کا خزانہ عامرہ کن حیران کُن اشیاء سے بھر پور ہے۔ عرض کرتا ہوں کہ ایک دن ایک باتصویر کتاب دیکھ رہا تھا جس میں لاہور کی مسجد وزیر خان کی عقبی دیوار کی تصویر تھی اور لکھا تھا کہ اس سے خوبصورت تاریخی دیوار دنیا میں کوئی اور نہیں ۔ دنیا کے تاریخی عجائبات پر کسی غیر ملک کی چھپی یہ کتاب ہمیں بتا رہی تھی کہ جس دیوار کو ہم نے اوپلوں سے بھر رکھا ہے اور بھینسیں جس سے سینگ رگڑتی رہتی ہیں وہ کیا ہے۔ مرحوم عبداللہ چغتائی کی طرح چند سر پھرے لوگوں نے کچھ کام کیا تھا مگر وہ لوگ ان پرانی دیواروں پراپنے ذوق شوق کا لہو چھڑک کر گزر گئے اور ان کے بعد ہم ان در و دیوار میں شادیاں رچانے میں مصروف ہیں ۔ اپنے آثار قدیمہ کا تحفظ کرنے کے بجائے ان کو ختم کرنے پر لگ گئے ہیں ۔

سیاحوں کی دلچسپی کے لیے ہمیں آثار قدیمہ کے تحفظ سے آغاز کرنا ہو گا ان کی از سر نو مرمت کرنا ہو گی ان کے ماحول کو خوشگوار بنانا ہو گا کیونکہ ان کا متبادل کوئی نہیں ہے ۔ یہ کوئی کارخانے یا فیکٹریاں نہیں جو نئی مشینری کے ساتھ آسانی سے بدلتی رہتی ہیں۔ جہاں تک بات ہے سیاحت کے فروغ کی تو اس کے لیے ہمیں ایک مخصوص ثقافت کی ضرورت ہے جن ممالک نے اس صنعت کو ترقی دی ہے انھوں نے اس کے مطابق کلچر بھی بنایا ہے ۔ مسلمان ملکوں میں اس وقت ترکی سر فہرست ہے جہاں اس صنعت سے وہ بہت مال کما رہے ہیں ۔ حکومت بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان لائیں جس کے لیے سیاحت کے متعلق لکھنے اور فضا ہموار کرنے والوں کو پاکستان بلایا جا رہا ہے جن کی وجہ سے پاکستان کے متعلق غیر ملکیوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

خاص طور پر برطانیہ کے شاہی جوڑے کی شمالی علاقہ جات آمد نے پاکستان کے سیاحتی تشخص کو دنیا میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں عرض کروں پاکستان کے دامن میں بہت کچھ ہے جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے، بھارت کے پاس مسلمانوں کی چند عمارتیں ہیں، پاکستان کے مقابلے میں کم دلکش پہاڑ ہیں اور ایسا کوئی منظر نہیں جو پاکستان سے بہتر ہو لیکن وہاں محنت کر کے سیاحوں کی دلکشی کا سامان پیدا کیا گیا ہے ۔ پاکستان کا ذہن بہت کچھ سوچ سکتا ہے، نئی راہیں نکالی جا سکتی ہیں ۔ سیاحت کی ترقی کی چند تجاویز میرے پاس ہیں لیکن مجھے بہت ڈر لگتا ہے خصوصاً علمائے کرام کی ناراضی سے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

برطانیہ نے سیاحت کے لیے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دیدیا

برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر کرنے کے لیے سفری ہدایات میں ترمیم کر دی ہیں جس پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سے پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی۔ ایسا ان کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں برٹش ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں امن و امان کی بہتری کی جانب گامزن صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج برطانیہ نے پاکستان کے لیے اپنی سفری ہدایات (یوکے ٹریول ایڈوائس) میں تبدیلیاں جاری کی ہیں۔

یہ برطانیہ کی جانب سے 2015 کے بعد سفری ہدایات میں کی جانے والی پہلی واضح تبدیلی ہے۔ سفری ہدایات میں تبدیلی کے بعد اب برطانوی شہریوں کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بموریت جیسے علاقوں کو بذریعہ سڑک سفر کرنے کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’میں نے دسمبر 2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کے تجزیے کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امن و امان کی صورتحال میں بہتری حکومت پاکستان کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ’مجھے خوشی ہے کہ برطانوی شہری اب پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے۔‘ اس سے قبل جون 2019 میں برٹش ایئرویز نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا تھا جبکہ گذشتہ سال اکتوبر میں ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

پاکستان سیاحت کیلئے آنیوالی کینیڈا کی سیاح نے اسلام قبول کر لیا

موٹرسائیکل پر سوار ہو کر دنیا کے سفر پر نکلنے والی کینیڈا کی سیاح روزی گیبریل نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ روزی نے گذشتہ سال پاکستان کے مختلف صوبوں کی سیاحت کی تھی۔ وہ پاکستان کی ثقافت اور خوبصورت مقامات سے کافی متاثر دکھائی دیتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ روزی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’ ’میری قسمت مجھے پاکستان لے کر آئی نہ صرف اس لیے کہ میں خود کو چیلنج کر سکوں بلکہ اس لیے بھی کہ اپنی تکلیف اور انا سے چھٹکارا پا سکوں اور سیدھے راستے پہ چل سکوں۔ ان کے مطابق کہ انہوں نے اپنا مذہب چار برس پہلے چھوڑا تھا اور وہ روحانیت کے سفر پر نکلی تھی اور کائنات ان کو پاکستان لے آئی۔

کینیڈین بائیکر نے مزید لکھا کہ ’میں دس سے زائد برس مسلم ملک میں رہی ہوں اور وہاں ایک منفرد چیز کے بارے میں جان پائی ہوں جو کہ مجھے کہیں نہیں ملا، وہ ہے سکون کا وہ درجہ جسے حاصل کرنا بہت سے لوگوں کا خواب ہے۔‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دنیا میں اسلام سے متعلق نظریوں کی نفی کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تنقید کا شکار اور غلط سمجھا جانے والا مذہب ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام کا اصل امن، محبت اور واحدانیت ہے۔

روزی گیبریل جب پاکستان کے لیے سفر پر نکلی تھیں تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے منع تھا کہ وہ پاکستان نہ جائیں کیونکہ یہ ان کے لیے خطرناک ہے لیکن انہیں پاکستان میں کہیں بھی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ کینیڈین بائیکر نے نہ صرف پاکستان کی خوبصورتی کی تعریف کی تھی بلکہ انہیں مقامی لوگوں کی خوش اخلاقی نے بھی کافی متاثر تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

سیاحوں کو پاکستان کا رخ ضرور کرنا چاہیے

سی این ٹریولر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سر سبز میدانوں کے دامن میں   پہاڑی سلسلے ہیں اور سیاحوں کو یہاں کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔ اب پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیاحت کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے۔‘ رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہا گیا ہے اور یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ  پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ ’قدیم وادیاں، ویزے کی پابندیوں میں نرمی اور شاہی دورے سے اس ملک کو وہ توجہ مل رہی ہے جس کا یہ مستحق ہے۔

 

ہنہ جھیل : بلوچستان کا خوبصورت تفریحی مقام

بلوچستان کے جغرافیے اور موسم میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ صوبے کا ایک بڑا حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے بعض سنگلاخ اور سبزے کے بغیر ہیں جبکہ بعض درختوں سے لدے ہوئے ہیں۔ یہاں آبشاریں اور جھیلیں بھی ہیں۔ ان میں سے ایک جھیل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بلند پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت جھیل ہے۔ اسے ہنّہ جھیل کہا جاتا ہے۔ کوئٹہ سے شمال کی طرف واقع سنگلاخ چٹانوں میں 1894ء میں تاج برطانیہ کے دور میں زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے ہنہ جھیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہنہ جھیل موسم سرما میں مہاجر پرندوں کی آماجگاہ رہی۔

سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں جن میں بڑی تعداد میں مرغابیاں ہوتی ہیں، موسم سرما میں پہنچتے اور موسم بہار کی آمد تک یہیں رہتے اور افزائش نسل بھی کرتے تھے۔ 1818 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس جھیل میں 32 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 43 فٹ ہے بارشوں اور برفباری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا جھیل تک پہنچتا ہے۔ کوئٹہ اور آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ سیاحوں کے لیے ایک دلکش مقام ہے۔ یہاں ہر موسم میں سیاحوں آتے ہیں۔ چاروں جانب پہاڑوں کی موجودگی میں ہنہ جھیل ایک بہت بڑے پیالے کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ بارش اور برف باری کے باعث یہ پانی سے بھری رہتی ہے۔ جھیل کا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 

اسے اطراف میں پھیلے ہوئے کھیتوں اور پھلوں کے باغات تک پہنچایا جاتا ہے اس طرح اس جھیل کو سیاحت کے ساتھ ساتھ زراعت اور باغبانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ جھیل سیف الملوک پاکستان کی بہت مشہور جھیل ہے۔ ہنہ اپنی نوعیت اور شکل و صورت کے لحاظ سے شمالی علاقے کی مشہور جھیل سیف الملوک سے ملتی جلتی ہے لیکن اسے جھیل سیف الملوک کی طرح خوبصورت درختوں اور سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں والا ماحول میسر نہیں، اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے بھورے اور مٹیالے پہاڑ، درختوں اور سبزے سے محروم ہیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہنہ جھیل کے کنارے شجرکاری بھی کی گئی۔ وہاں کافی تعداد میں پائن، چنار اور ایش کے درختوں کے علاوہ پھلدار درخت بھی لگا دیئے گئے جس کی بدولت ماحول خوبصورت ہو گیا۔ مقامی اور بیرونی سیاحوں کے لیے اس کی دلکشی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فرزانہ خان

بشکریہ دنیا نیوز

حسین و جمیل وادیٔ کونش : شاہراہ قراقرم یہاں سے گزرتی ہے

پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی حسین وادیاں، سرسبز و شاداب پہاڑ، بہتے دریا، صحرا اور جنگل دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے جن پرکشش مقامات سے نوازا ہے ان کی ایک مثال خیبرپختون خوا کی وادیٔ کونش ہے۔ یہاں کے نظارے دل کو موہ لیتے ہیں۔ یہاں کے دل کش مرغزار، جنگلات اور پہاڑ طلسماتی حسن لیے ہوئے ہیں۔ یہ وادی ضلع مانسہرہ کے شمال مغربی میں واقع ہے۔ شاہراہ قراقرم یہاں سے گزرتی ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وادیٔ کونش کے مشرق میں درہ بھوگڑمنگ ہے۔ مغرب میں وادیٔ اگرور واقع ہے۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ کی بستیاں ہیں۔ 

خوبصورت وادی کونش کا مرکزی شہر یا ہیڈ کوارٹر بٹل ہے۔ بٹل کو اردگرد کے خوبصورت پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ بٹل کے قریب اس وادی کا ایک صحت افزا اور حسین مقام چھترپلین آتا ہے۔ اس وادی میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ مختلف انواع کے پھولوں کے کھلنے سے مختلف رنگ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ یہاں کی سڑکیں بل کھاتی ہوئی مسافروں کو قدرت کے نظارے کا پورا موقع دیتی ہیں۔ یہاں کے بہتے چشموں کا صاف اور ٹھنڈا پانی روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ بٹل سے صاف اور شفاف پانی کا ایک دریا گزر کر جاتا ہے۔ وادی میں لوگوں کی گزر بسر کا ذریعہ مویشی، زراعت، باغات اور جنگل ہیں۔

محمد ریاض

پاکستان سیاحوں کے لیے جنت، 48 ممالک کو ویزا فری کر دیا

وزارت داخلہ نے نئی ویزا پالیسی جاری کر دی، جس کے تحت 48 ممالک کو ویزے میں نرمی دیتے ہوئے مخصوص وقت کے لیے ویزا فری کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایران، ملائیشیا، روس، ترکی، چین، سری لنکا، آسٹریلیا، ڈنمارک، برازیل، جرمنی سمیت دیگر ممالک کے لیے ویزا فری کیا گیا ہے، تاہم اس فہرست میں بھارت، امریکا، برطانیہ اور افغانستان شامل نہیں ہیں۔ اس نئی پالیسی کا اطلاع شروع کر دیا گیا ہے اور ان ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو مخصوص وقت کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہو گی اور ایئرپورٹ پر ہی ویزا میسر ہو گا۔

نئی پالیسی کے تحت 48 ممالک میں سے 12 ممالک کے سفارتکاروں، 31 ممالک کے سفارتکاروں اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں جبکہ 5 ممالک کے شہری عام پاسپورٹ پر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ابتدائی طور پر اس پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کو ایک سے 3 ماہ کا ویزا دیا جائے گا اور نئی پالیسی کے حوالے سے فارن مشن اور متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا تھا کہ پاکستان سیاحوں کے لیے جنت ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نئی ویزا پالیسی متعارف کروائی جائے گی، جس کے تحت 175 ممالک کو ای ویزا جبکہ 50 ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول کی سہولت ہو گی۔

شکیل قرار

بشکریہ ڈان نیوز

Pakistan’s Kund Malir featured among top 50 Asian beaches

An untouched beach in southwestern Pakistan has made it to the list of Top 50 Asian Beaches. According to Flight Network’s ‘The World’s Best Beaches For 2018’ list, the Kund Malir Beach is one of the most exotic beaches and definitely one of the top tourist attractions in the country. Located at the bottom edge of Hingol National Park, this untouched shoreline rests between the desert, mountain and sea, making for some breathtaking views.

Offering unparalleled serenity, and so much more, this golden beach is a must-see destination on your trip to Pakistan. Venture off the coastal highway to relax on the smooth sands by the Arabian Sea. Gaze at the mesmerising waves as you escape from civilisation on this remote stretch of paradise. The Flight Network’s most in-depth list of Asian beaches provides a complete look into the stunning shores of Asia – a continent with countless countries rimmed by aquatic wonders so extraordinary travelers must see to believe.
The Asia’s Top 50 Beaches list was prepared by collecting the insider knowledge of over 600 journalists, editors, bloggers, and agencies, who have made travel their life. The resulting expert guidance ensured the list of Asian beaches offers those that have a taste for adventure, balanced by ultimate relaxation, all the needed insight to plan an unforgettable beach-side journey.