فردوس عاشق چیمپئن ہیں

ہماری محبوب رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق جدھر جاتی ہیں کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہیں۔ کیا بیوروکریسی، کیا سیاست دان، انہوں نے سب کو آگے لگا رکھا ہے۔  سیالکوٹ فروٹ منڈی میں بیوروکریسی کی خبر لی تو اسلام آباد کے ایک ٹاک شو میں قادر مندو خیل کو تھپڑ مار ڈالا، بات یہیں تک محدود نہیں۔ وہ اس سے پہلے اینٹیں توڑنے، موٹر سائیکل چلانے اور کرکٹ کھیلنے کے مظاہرے بھی کر چکی ہیں موصوفہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، سو وہ ٹیکے لگانے کی بھی ماہر ہیں جسے چاہیں مریض بنا کر ویکسین کا ٹیکہ لگا دیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی جملہ خصوصیات اور سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر شعبے کی چیمپئن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی رفتار چھلاوے جیسی ہے، آج ادھر ہیں تو کل اسلام آباد میں ہوں گی، دوپہر سیالکوٹ میں ہیں تو شام فیصل آباد میں ہوں گی۔ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں فاصلہ ان کی صرف ایک چھلانگ کے برابر ہے۔ رفتار ان کی تیزگام جیسی ہے۔

اِدھر فیصل آباد پریس کلب میں ویکسین سینٹر کا افتتاح کیا، اُدھر شام کو اسلام آباد کے ٹاک شو میں براجمان ہو گئیں۔ ان کی رفتار کو پکڑنا کسی عام آدمی کے بس میں نہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا بیانیہ بڑا واضح ہے۔ (ن) لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، کسی کے لئے ان کے پاس رحم کی گنجائش نہیں۔ (ن) لیگ کی خواتین قیادت بالخصوص ان کا نشانہ ہے۔ وہ اُنہیں راجکماری اور کنیزوں کے لقب سے پکارتی ہیں۔ ان کا موضوع سخن بالخصوص مریم نواز اور مریم اورنگزیب ہیں ڈر اس دن سے لگ رہا ہے جب چیمپئن فردوس عاشق کا مقابلہ نہتی اور اکیلی مریم اورنگزیب سے ہو گیا تو کیا ہو گا؟ اور اگر خدانخواستہ ہاتھا پائی تک نوبت آ گئی جس کا چیمپئن کی موجودگی میں بہت زیادہ امکان ہے تو پھر کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق تو چاہیں گی کہ تمام سیاسی فیصلے آمنے سامنے کے مقابلے کے ذریعے ہی کئے جائیں، یہ الگ بات ہے کہ ن لیگی خواتین اس مقابلے سے ہی گریز کریں۔ گو پاکستان کا سیاسی میدان کافی وسیع ہے، اس میں طرح طرح کی لڑائیاں جاری رہتی ہیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ وہ ان لڑائیوں میں سے ہمیشہ خود کو توجہ کا مرکز بنائے رکھتی ہیں۔

ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ان کا کردار اہم تھا، ابھی مسلم لیگ ن کے ایم پی اے خوش اختر سبحانی کی وفات کے بعد جو نشست خالی ہوئی ہے وہاں پھر ضمنی انتخاب ہو گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق نے ابھی سے وہاں مضبوط اور دولتمند امیدوار کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پچھلی بار 40 ہزار ووٹ لینے والا سعید بھلی پریشان بیٹھا ہے جبکہ ڈاکٹر صاحبہ پہلے سیالکوٹ کے چیموں کے دروازے پر دستک دیتی رہیں، وہ تیار نہ ہوئے تو اب قیصر بریار کو ٹکٹ دلوا دیا گیا، یوں جاٹ گوجر مقابلہ ہوگا۔ بریار اور ڈاکٹر فردوس عاشق زور تو لگائیں گے، نتیجہ دیکھیں کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق وفاق سے پنجاب میں آ تو گئی ہیں مگر وفاق کو نہیں بھولیں۔ ایک زمانے میں جب سینیٹر شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات تھے تو ڈاکٹر فردوس عاشق پنجاب میں ہوتے ہوئے بھی پورے ملک پر چھا گئی تھیں۔ چودھری فواد کے آنے کے بعد سے اب معاملات معمول کے مطابق چل پڑے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں، اسپورٹس، سیاست اور سماجی حالات سب پر وہ اتھارٹی ہیں، انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا، اس لئے سیاست تو ان کی نس نس میں بھری ہے۔ حلقے کی سیاست ہو، ضلع سیالکوٹ کی سیاست یا پنجاب یا وفاق کی سیاست، ان کا ہر ایک میں کردار ہے۔ ہر جگہ ان کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا دخل بھی نظر آتا ہے۔ سیالکوٹ میں ڈار برادران سے ان کے معاملات میں اونچ نیچ کا تو ہر ایک کو علم ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی دلیری اور بہادری ہے، وہ اپنے سیاسی بیانیے اور اپنے سیاسی دھڑے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس موقف کے لئے انہیں ہاتھ پائوں کا استعمال بھی کرنا پڑ جائے تو وہ دریغ نہیں کرتیں جہاں زبان سے کام نہ چلے وہ تھپڑ سے بھی کام چلا لیتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کی منفرد بات یہ ہے کہ وہ مردوں میں مرد اور عورتوں میں عورت بن جاتی ہیں، ان کی میک اپ اور ڈریس پر توجہ بتاتی ہے کہ وہ اندر سے پوری عورت ہیں لیکن کرکٹ میں چوکے چھکے لگانے ہوں، جوڈو کراٹے میں اینٹیں توڑنی ہو، موٹر سائیکل چلانی ہو تو وہ مردوں سے پیچھے نہیں رہتیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق کو پنجاب میں اطلاعات کا خصوصی مشیر اس لئے بنا کر بھیجا گیا کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار صاحب کے کارناموں کو عوام کے سامنے اجاگر کریں چنانچہ جس دن سے وہ پنجاب میں آئی ہیں اس دن سے بزدار کی گڈی چڑھ گئی ہے اور اپوزیشن کی پتنگ کٹ گئی ہے۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا جب ڈاکٹر فردوس اپوزیشن کی راج کماریوں اور کنیزوں پر نہیں برستیں اور کوئی دن خال نہیں جاتا جس روز ڈاکٹر فردوس عاشق بزدار کی تعریف میں ڈونگرے نہ برسائیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اس قدر سرگرم ہو گئی ہیں کہ بعض اوقات ان کی سرگرمیاں، یعنی کسی کے ساتھ سردی اور کسی کے ساتھ گرمی، اس قدر شہرت اختیار کر لیتی ہیں کہ بزدار اور پی ٹی آئی کی سیاست پیچھے رہ جاتی ہے۔

میں ذاتی طور پر ڈاکٹر فردوس عاشق کا خیر خواہ ہوں لیکن آج کل ان کے لئے پریشان بھی ہوں کیونکہ انہوں نے ہر طرف جھنڈے تو گاڑ دیے ہیں لیکن ان کی بےپناہ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مقابلے میں ان کے پاس اختیارات بہت کم ہیں۔ ان جیسی باصلاحیت رہنما کے پاس کئی محکمے اور کئی شعبے ہونے چاہئیں۔ صرف اطلاعات کا شعبہ بلکہ چھوٹی سی محکمی انہیں دینا ان کی بےپناہ صلاحیتوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وزیراعلیٰ پنجاب لا اینڈ آرڈر کا شعبہ ان کے حوالے کر دیں وہ ایسا ڈنڈا پھیریں گی کہ صوبے سے چوروں، ڈاکوئوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اپوزیشن اس کا تو کوئی نام لیوا تک نہیں رہے گا۔ ہر شخصیت کے بارے ستارہ شناس یہ قیافہ لگاتے ہیں کہ وہ دس سال بعد کہاں ہو گی؟ ڈاکٹر فردوس کے بارے میں علمِ نجوم کے ماہرین جو بھی کہیں، علمِ سیاست کے ماہر ببانگ دہل یہ کہیں گے کہ ڈاکٹر فردوس دس سال بعد میدانِ سیاست میں چمک رہی ہو گی۔

حکومت کوئی بھی ہو گی لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ اس میں عروج پر ہو گا۔ ڈاکٹر صاحبہ ایسی خصوصیات کی حامل ہیں کہ حکومتوں کے زوال سے انہیں فرق نہیں پڑتا۔ وہ کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ نکال کر گہرے بادلوں سے نکل کر پھر سے چمکنا شروع کر دیتی ہیں۔ خصوصیات کے علاوہ انہیں روحانی دعائوں کی آشیرباد بھی حاصل ہے، خاص کر ان کی بیمار اور بوڑھی والدہ کی دعائیں اور پھر روحانی شخصیتوں کی سپورٹ بھی موجود ہے۔ میری دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا شروع کریں یہ نہ ہو کہ کسی دن کوئی پہلوان مدِمقابل آجائے اور پھر ڈاکٹر صاحبہ کی طاقت کا بھرم کھل جائے۔ ویسے بھی سخت زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔

سہیل وڑائچ

بشکریہ روزنامہ جنگ

سیاسی قائدین سے گزارش

مقاصدِ شرعیہ میں ایک ”سَدِّ ذرائع‘‘ ہے، یعنی ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنا کہ برائی کا راستہ رک جائے۔ شریعت میں اس کی متعدد مثالیں ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور (اے مسلمانو!) تم مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ نادانی اور سرکشی سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے‘‘ (الانعام: 108)۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا کہنے سے اس لیے منع نہیں فرمایا کہ وہ تعظیم کے لائق ہیں بلکہ اس لیے منع فرمایا کہ مبادا ان کے پجاری ضد میں آکر اللہ کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ کہہ دیں۔ جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو جنت میں داخل کیا گیا تو انہیں حکم ہوا: ”اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائو گے‘‘ (الاعراف: 19)۔ اس میں براہِ راست درخت کا پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ قریب جانے سے منع فرمایا کیونکہ جب قریب جائیں گے تو پھل کھانے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی ایسی ہدایات موجود ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ امور سے بچا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو بچا لیا اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو گیا، وہ اس چرواہے کی طرح ہے، جو ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد اپنے مویشی چَراتا ہے، اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ اس کے مویشی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائیں گے۔ خبردار! ہر بادشاہ کی کچھ ممنوعہ حدود ہوتی ہیں اور اس زمین میں اللہ کی ممنوعہ حدود اس کے محرّمات ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب اس میں خرابی پیدا ہو تو پورا جسم فاسد ہو جاتا ہے، سنو! وہ (گوشت کا لوتھڑا) دل ہے‘‘ (بخاری: 52)۔ پس مشتبہات اور ممنوعہ امور سے بچنا ہی دانش مندی ہے اور اسی میں عزت و آبرو اور دین و دنیا کی فلاح ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! کیا کوئی ایسا (بدبخت) شخص بھی ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! وہ دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ دوسرے شخص کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کی ماں کو گالی دیتا ہے‘‘ (مسلم: 90)۔ الغرض دوسرے کے ماں باپ کو گالی دینے والا دراصل اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا سبب بنتا ہے، دوسرے کے ماں باپ کی بے عزتی کرنے والا اپنے ماں باپ کی بے توقیری کا سبب بنتا ہے، اگر اس کے ہاتھوں دوسرے کے ماں باپ کی عزت و آبرو پامال نہ ہو تو اس کے ماں باپ کی آبرو بھی سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (1) ”یہ اللہ کی (ممنوعہ) حدود ہیں، پس ان کے قریب بھی نہ جائو، اللہ اسی طرح لوگوں کے لیے اپنی نشانیاں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں‘‘ (البقرہ:187)، (2) ”اور عَلانیہ اور پوشیدہ بے حیائیوں کے قریب نہ جائو‘‘ (الانعام: 151)، (3) ”اور بدکاری کے تو قریب بھی نہ جائو، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے‘‘ (الاسراء: 32)۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، جسے وہ لازماً پائے گا، پس آنکھ کا زنا (ہوس بھری نظروں سے) دیکھنا ہے اور جب مرد کی نامَحرم پر نظر پڑتی ہے، تو (نامَحرم سے) منہ پھیر لینے سے (اس کی پاکبازی کی) تصدیق ہوتی ہے اور زبان کا زنا (شہوت انگیز) باتیں کرنا ہے اور دل میں (زنا کی) تحریک پیدا ہوتی ہے اور شرم گاہ (گناہ میں مبتلا ہو کر) کبھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور کبھی (گناہ سے بچ کر) اس کی تکذیب کرتی ہے‘‘ (مسند احمد: 8215)، (2) ”جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ (کوشریعت کے تابع رکھنے) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ (بخاری: 6474)۔ اعلانِ نبوت سے پہلے سیلاب کے سبب کعبۃ اللہ کے منہدم ہونے کے بعد قریش نے از سرِ نو اس کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا، رسول اللہﷺ کی عمرِ مبارک اُس وقت پینتیس برس تھی، آپﷺ نے بھی تعمیرِ کعبہ میں حصہ لیا، پھر جب حجرِ اسود کو اپنے مقام پر نصب کرنے کا وقت آیا تو قریش کے سرداروں میں جھگڑا ہونے لگا، وہ کسی ایک کو یہ اعزاز دینے پر آمادہ نہ ہوئے، چنانچہ آپﷺ کو منصف بنایا گیا۔ آپﷺ نے ایک چادر بچھائی، اُس پر حجرِ اسود کو رکھا اور قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں سے فرمایا: اس کا ایک ایک کونا پکڑ کر اسے اٹھائیں اور جب وہ اپنے مقام تک بلند ہو گیا تو آپﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اُسے اٹھا کر اس کے مقام پر نصب فرما دیا، اس طرح آپﷺ کی قائدانہ بصیرت سے یہ مسئلہ حل ہوا۔

قریش نے یہ طے کیا تھا کہ بیت اللہ کی تعمیر پر صرف حلال مال لگایا جائے گا، مگر حلال مال اس قدر جمع نہ ہو سکا تھا کہ بِنائے ابراہیمی کے مطابق بیت اللہ کی عمارت کو مکمل کیا جا سکے، تو انہوں نے شمال کی جانب کم و بیش تین میٹر کا حصہ موجودہ عمارت سے باہر رکھا، اسی کو ”حطیمِ کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنا۔ رسول اللہﷺ کی دلی خواہش تھی کہ کعبۃ اللہ کو دوبارہ بنائے ابراہیمی پر تعمیر کیا جائے، لیکن آپﷺ نے وسائل ہونے کے باوجود دینی حکمت کے تحت اپنی خواہش پر عمل نہیں فرمایا، آپﷺ نے فرمایا: عائشہؓ! اگر تمہاری قوم کا زمانۂ شرک تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں کعبۃ اللہ کو منہدم کر کے زمین سے ملا دیتا اور پھر اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب اور اس میں حِجر (حطیم) کی جانب تقریباً تین گز کا اضافہ کرتا، کیونکہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو عمارت کے رقبے میں کچھ کمی کر دی تھی‘‘ (مسلم: 401)۔

قرآن و حدیث اور سیرتِ مصطفیﷺ سے ہم نے یہ مثالیں اس لیے بیان کی ہیں کہ ہمارے سیاسی قائدین ان سے سبق حاصل کریں، کئی سالوں سے ہمارے قائدین کا وتیرہ بن گیا ہے: حزبِ اقتدار والے اپنے مخالفین کو چور، ڈاکو، خائن، غدار اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں، اس کے جواب میں اپوزیشن والے اُن پر نااہل، نالائق، کشمیر کا سودا کرنے والے، چینی چور، آٹا چور، پیٹرول، میڈیسن مافیا اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سب کچھ سن کر کہتے ہیں: ”یہ دونوں سچے ہیں، یہ ایک دوسرے کے بارے میں جو فتوے صادر کرتے ہیں، وہی سچ ہے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ کہا جا رہا ہے‘‘۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ عربی کا مقولہ ہے:”جس نے دوسروں کی عزت کی، اُس نے خود اپنے لیے عزت کمائی‘‘۔ احتساب کے لیے گالی گلوچ ضروری نہیں ہے، شفاف، بے لاگ، غیر جانبدار اور نظر آنے والا انصاف ضروری ہے، اس کے لیے ادارے قائم ہیں، اُن کو بیرونی جبر سے آزاد ماحول میں اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اس شور وغوغا میں ان اداروں کی حرمت بھی پامال ہو رہی ہے، ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ حکومتِ وقت کے دبائو میں ہیں اور احتساب یک طرفہ ہو رہا ہے۔

ہمارے ہاں گالی گلوچ کے لیے باقاعدہ فوجِ ظفر موج رکھی گئی ہے، جو میڈیا کے سامنے، ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی توہین، تذلیل اور تحقیر میں مصروف ہے۔ نئی نسل کے ذہنوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ اب یہ اندازِ گفتار اور لب و لہجہ ہمارے نوجوانوں کے روز مرہ کا حصہ بن رہا ہے، اس کا ثبوت سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ وہ لوگ جو قیادت کے منصب پر فائز ہیں، انہیں مدبّر، متین اور بردبار ہونا چاہیے تاکہ لوگ انہیں ان کی خوبیوں سے پہچانیں۔ اندازِ کلام کسی بھی معاشرے کے آداب اور اقدار کا ترجمان ہوتا ہے، انسان اپنی گفتار سے پہچانا جاتا ہے، شرافت اور متانت انسانیت کے محاسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ”اُس کی نشانیوں میں سے تمہاری بولیوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے‘‘ (الروم: 22) نیز فرمایا: ”اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت بنا دیتا مگر لوگ برابر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اُس کے کہ جن پر تمہارا رب رحم فرمائے‘‘ (ہود: 118)۔

ایک دور تھا کہ ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین میں وضع داری اور رواداری قائم تھی، اختلاف کے باوجود وہ مشترکات کے لیے مل بیٹھتے تھے، ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ نہیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے موقف اور پالیسیوں سے اپنے دلائل کی روشنی میں اختلاف کرتے تھے، مگر اب آغاز ہی ذاتیات سے ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ”مومن لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا‘‘ (ترمذی: 1977)، (2) ”ایک انسان سوچے سمجھے بغیر کوئی ایسا کلمہ زبان سے کہہ دیتا ہے، وہ کلمہ اس کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے‘‘ (بخاری: 6477)، (3) ”جو کسی مسلمان کی ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اللہ تعالیٰ اُسے اُس وقت تک ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ میں رکھے گا جب تک کہ اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہو جائے‘‘ (ابودائود: 3597)۔ ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ جہنم کی اُس وادی کو کہتے ہیں جس میں جہنمیوں کا پیپ اور خون جمع ہوتا ہے۔

معراج النبی کے موقع پررسول اللہﷺ کا گزر ایک چھوٹے پتھر کے پاس سے ہوا جس سے روشنی نکل رہی تھی، آپﷺ نے دیکھا: اُس سے ایک بیل نکلا، پھر وہ اُسی سوراخ میں واپس داخل ہونا چاہتا ہے مگر داخل نہیں ہو پاتا۔ آپﷺ نے جبریل سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اُس شخص کی مثال ہے جو سوچے سمجھے بغیر بات کر لیتا ہے، پھر اس پر نادم ہوتا ہے اور اُسے واپس لینا چاہتا ہے، مگر ایسا کر نہیں سکتا‘‘ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِیْ، ج: 2، ص: 397)۔ پس سیاسی قائدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے فریقِ مخالف کی نہیں تو اپنی عزت کا پاس رکھیں، ایسا شعار، اندازِ گفتار اور رویہ اختیار نہ کریں کہ ردِّعمل میں ان کی اپنی عزت پامال ہو اور دنیا کو یہ تاثر ملے کہ ہمارے قانون ساز ادارے بے وقعت ہیں، بے توقیر ہیں، باہمی نفرتوں کا مرکز ہیں۔ یہ جس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اُس کو چھوڑ کر غیر ضروری باتوں میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ سطور ہم نے خیر خواہی کے طور پر لکھی ہیں، نہ کسی کی حمایت مقصود ہے اور نہ مخالفت، کیونکہ لوگ پسند کریں یا ناپسند، یہ قوم کے رہنما بنے بیٹھے ہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن

بشکریہ دنیا نیوز

رنگ روڈ ۔ دوسرا پاناما اسکینڈل

راولپنڈی رنگ روڈ کی کہانی وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے شروع ہوئی‘ وزیراعظم کو کسی دوست نے بتایا آپ کے خلاف بھی پاناما اسکینڈل بن چکا ہے۔ آج آپ کی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو آپ کے لیے راولپنڈی رنگ روڈ کافی ہو گی‘ آپ باقی زندگی فائلیں اٹھا کر ایک عدالت سے دوسری عدالت دھکے کھاتے رہیں گے‘ وزیراعظم کے لیے یہ انکشاف پریشان کن تھا‘ وزیراعظم کو دوست نے چند اکاؤنٹ نمبرز‘ چند فون نمبرز‘ چار اعلیٰ سرکاری افسروں کے عہدے اور 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام دیے اور وزیراعظم کو کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود سے چند سوال پوچھنے کا مشورہ دیا۔ وزیراعظم نے خفیہ تحقیقات کرائیں‘ الزام سچ نکلا‘ وزیراعظم نے کمشنر راولپنڈی کیپٹن محمود کو بلایا اور ان سے صرف ایک سوال پوچھا ’’آپ کو راولپنڈی رنگ روڈ کا روٹ بدلنے اور اٹک لوپ کو اس میں شامل کرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا‘‘ کیپٹن محمود نے فوراً جواب دیا ’’مجھے کسی نے نہیں کہا تھا‘‘ وزیراعظم نے دوبارہ پوچھا ’’کیا آپ کو کسی وفاقی وزیر یا اسپیشل ایڈوائزر ٹو پی ایم نے سفارش نہیں کی؟‘‘ کمشنر نے صاف انکار کر دیا۔

یہ انکار وزیراعظم کو برا لگا‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم کے پاس سارا ریکارڈ موجود تھا‘ یہ جانتے تھے وفاقی وزیر غلام سرور خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کمشنر راولپنڈی پر اثرانداز ہوئے تھے اور اس اثرورسوخ کی وجہ سے 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے چند ماہ میں اربوں روپے کمائے تھے۔ کمشنر کے انکار نے وزیراعظم کے خدشات کو مضبوط بنا دیا اور انھوں نے راولپنڈی کی ساری انتظامیہ کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود‘ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد انوار الحق‘ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیوکیپٹن (ر) شعیب علی اور اسسٹنٹ کمشنر صدر غلام عباس کو عہدوں سے ہٹا دیا اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم گلزارحسین شاہ کو کمشنر راولپنڈی لگایا اور انھیں راولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری کا حکم دے دیا‘ کمشنر گلزار حسین شاہ نے کام شروع کیا اور 11 مئی کو انکوائری رپورٹ آ گئی۔ بیورو کریسی میں گلزار حسین شاہ کی شہرت اچھی نہیں‘ یہ ڈسکہ میں این اے 75 کے الیکشن کے دوران کمشنر گوجرانوالہ تھے اور ان پر الیکشن میں اثرانداز ہونے کا الزام لگا تھا مگر اس کے باوجود گلزار حسین کی انکوائری رپورٹ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ میں نے اپنے 28 سال کے صحافتی کیریئر میں کسی سرکاری افسر کی تیار کردہ اتنی تگڑی اور جامع رپورٹ نہیں دیکھی‘ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا اگر سرکاری افسر کام کرنا چاہے تو یہ ایک ہفتے میں تمام تحقیقاتی اداروں اور جے آئی ٹیز کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

یہ رپورٹ ہمارے پورے سسٹم کا نوحہ بھی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے سیاست دان‘ بیوروکریٹس اور طاقتور اداروں کے ریٹائرڈ افسر کس طرح مل کر پورے نظام کو توڑ مروڑ کر ایک ایک رات میں عوام کی جیب سے کھربوں روپے نکال لیتے ہیں‘ میں عمران خان کا ناقد ہوں‘ میں چھ سال سے ان پر تنقید کر رہا ہوں لیکن یہ رپورٹ پڑھ کر پہلی مرتبہ مجھے ان پر ترس آیا‘ یہ شخص واقعی ہر طرف سے مفاد پرستوں میں گھرا ہوا ہے‘ سرکاری افسر‘ وزیراعظم کے دوست اورحکمران پارٹی کے عہدیدار ملک کو لوٹ رہے ہیں اور یہ ملک اور اپنے آپ کو ان سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے یہ کس کس سے بچے گا؟ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا پنجاب حکومت نے 2017 میں راولپنڈی پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے 40 کلومیٹر کی رنگ روڈ بنانے کا فیصلہ کیا‘ پلان بھی بن گیا اور بینک آف چائنہ سے 400 ملین ڈالر لون بھی منظور ہو گیا لیکن منصوبہ شروع ہونے سے پہلے میاں شہباز شریف کی حکومت ختم ہو گئی اوریہ منصوبہ بھی دوسرے بے شمار منصوبوں کی طرح ٹھپ ہو گیا لیکن پھر یہ اچانک نہ صرف ایکٹو ہو گیا بلکہ اس میں 26 کلومیٹر کا اضافہ بھی ہو گیا‘ اس میں اٹک لوپ بھی شامل ہو گئی۔

اسلام آباد کے دو سیکٹر بھی اس میں ڈال دیے گئے اور حکومت کو یہ تاثر بھی دیا جانے لگا ہمیں غیرملکی قرضوں کی ضرورت نہیں‘ ہمارے پاس ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو اپنی جیب سے 66 کلو میٹر لمبی سڑک بنائیں گی اور ٹول ٹیکس شیئرنگ کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری واپس لے لیں گی‘ یہ منصوبہ بظاہر شان دار لگتا تھا لیکن اس کامقصد رنگ روڈ بنانا نہیں تھا‘ اس کے ذریعے 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان نے لوگوں سے کھربوں روپے جمع کرنا تھے‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ کے مطابق نوا سٹی کے نام سے راتوں رات ایک ہاؤسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ ہوئی۔ سوسائٹی کے پاس 970 کنال زمین تھی لیکن سوسائٹی کے مالک جنید چوہدری نے 20 ہزار فائلیں بنائیں اور مارکیٹ میں ایک ماہ میں یہ ساری فائلیں بیچ دیں‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ کے بعد مزید تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا فائلیں صرف 20 ہزار نہیں تھیں ان کی تعداد 30 ہزار ہے اور اس میں ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کے صاحب زادے منصور خان پارٹنر ہیں‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ نے سول ایوی ایشن کی طرف سے نوا سٹی کے فوری این او سی پر بھی سوال اٹھایا‘ یہ این او سی حیران کن اسپیڈ سے جاری ہوا تھا‘ جنید چوہدری نے یہ فائلیں رئیل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلک میں دیں‘ پراپرٹی ڈیلروں نے سوشل میڈیا پر اشتہارات دیے اور ایک ماہ میں 20 ہزار فائلیں بیچ دیں۔

تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کیں تو پتا چلا صرف ایک ایجنٹ نے ایک ماہ میں 34 کروڑ روپے کمائے‘ آپ باقی کا اندازہ خود لگا لیجیے‘ یہ بھی پتا چلا نیو ائیرپورٹ سوسائٹی کے مالک راجہ سجاد حسین نے بھی رنگ روڈ کے نام پر اندھا دھند سرمایہ کمایا‘ اس کی کمپنی کا نام الآصف ڈویلپر ہے جب کہ لائف اسٹائل کے نام سے جنوری 2020 میں جنید چوہدری نے ایک دوسری کمپنی بھی بنائی اور اس کمپنی نے کمشنر آفس کی معلومات پر تھوڑی سی زمینیں خریدیں اور ہاؤسنگ اسکیموں نے اس زمین کی بنیاد پر دھڑا دھڑ فائلیں بیچنا شروع کر دیں۔ حبیب رفیق گروپ نے رنگ روڈ میں مورت انٹرچینج ڈال کر اسمارٹ سٹی کو بوسٹ دیا اور اپنی سیل میں اضافہ کر لیا‘ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں کمشنر کیپٹن محمود بے نامی حصے دار ہیں‘ رنگ روڈ سے اس کو بھی بوسٹ ملا اور اس کے مالکان بھی اربوں روپے کھا گئے‘ بلیو ورلڈ سوسائٹی نے بھی بوسٹ لی اور اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (ICHS) بھی پیچھے نہ رہی‘ رپورٹ میں میجر جنرل ریٹائرڈ سلیم اسحاق‘ کرنل ریٹائرڈ عاصم ابراہیم پراچہ اور کرنل ریٹائرڈ مسعود کا نام بھی شامل ہے‘ اتحاد ہاؤسنگ سوسائٹی‘ میاں شہباز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کے رشتے داروں کی زمینوں کا ذکر بھی ہے۔

یہ لوگ پسوال زگ زیگ کے بینی فشریز ہیں‘ یہ انکشاف بھی کیا گیا کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود نے گریڈ 17 کے افسر وسیم علی تابش کو غیرقانونی طور پر اٹک میں پوسٹ کیا‘ اسے رنگ روڈ کے لیے زمینیں خریدنے کی ذمے داری سونپ دی اور اس نے پانچ ارب روپے کی لینڈ ایکوزیشن کر دی۔ رپورٹ میں قرطبہ سٹی اور کمشنر کیپٹن محمود کے دو بھائیوں کا ذکر بھی ہے‘ یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پارٹنر بھی تھے اور بے نامی دار بھی‘ وسیم علی تابش بھی ٹاپ سٹی کے مالک کے دوست اور رشتے دار ہیں‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی رنگ روڈ میں تبدیلی کا سب سے بڑا ’’بینی فشری‘‘ تھا‘ کمشنر نے رپورٹ کے آخر میں درخواست کی نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے نوا سٹی‘ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی‘ بلیو ورلڈ سٹی‘ اتحاد سٹی‘ میاں رشیدہ گاؤں میں موجود 300 بے نامی زمینوں‘ گاؤں تھالیاں میں 200 کنال بے نامی زمین‘ جاندو اور چھوکر گاؤں میں ملٹی پروفیشنل ہاؤسنگ اسکیم کی زمین‘ گاؤں راما میں لائف ریزیڈینشیا‘ اڈیالہ روڈ پر موجود روڈن انکلیو‘ ایس اے ایس ڈویلپرز‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی اور ٹاپ سٹی کے خلاف تحقیقات کی جائیں جب کہ کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود سمیت اسکینڈل میں ملوث تمام سرکاری افسروں کو نوکری سے فارغ کیا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

مجھے کل دوپہر پتا چلا ملزمان کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع ہو چکی ہیں‘ نوا سٹی کے مالک جنید چوہدری کے دو وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ سے روابط بھی نکل آئے ہیں‘ تحائف کی تفصیلات کا علم بھی ہو چکا ہے‘ نوا سٹی کے ایجنٹوں کے اکاؤنٹس‘ فون ڈیٹا‘ جائیدادوں اور بے نامی پراپرٹیز کی فہرستیں بھی بن رہی ہیں‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی‘ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی‘ بلیو ورلڈ‘ اتحاد سٹی اور روڈن کے خلاف بھی ثبوت جمع ہو رہے ہیں اور وزیراعظم نے تمام ملزموں کو گرفتار کرنے اور عوام کی رقم واپس دلوانے کا حکم بھی دے دیا ہے‘ وزیراعظم اور ذلفی بخاری کے تعلقات میں بھی دراڑ آ چکی ہے‘ وزیراعظم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے‘ ان کی وزارت کے اندر بھی چند فائلیں کھل رہی ہیں اور وہ انکشافات بھی حیران کن ہوں گے۔ یہ ملک کس طرح چل رہا ہے؟ آپ صرف گلزار حسین کی رپورٹ پڑھ لیں‘ آپ کو مزید کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ آپ ظلم دیکھیے‘ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر کس طرح فضا بناتے ہیں‘ پورے پورے شہر کاغذوں میں بناتے اور پلاٹوں کی فائلیں بنا کر مہینے میں اربوں روپے جمع کر لیتے ہیں اور عوام سستے پلاٹوں اور گھروں کے لالچ میں اپنی عمر بھر کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں‘ یہ کیسے لوگ ہیں؟ کیا ان کے دل رحم سے بالکل خالی ہو چکے ہیں؟ عمران خان سچ کہتے ہیں اس ملک میں مافیاز کی حکومت ہے اور یہ مافیاز ہر حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

صرف ایماندار ہونا اچھا نہیں ہے

جیسے ہی خان صاحب نے کہا کہ شروع کے ڈیڑھ برس توکاروبارِ حکومت سمجھنے میں ہی لگ گئے۔ اب کارکردگی دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ہر ہما شما ان کے پیچھے لگ گیا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے اس بندے کو کچھ نہیں پتہ اور ملک اس کے حوالے کر دیا گیا۔ تب ہی کوئی پالیسی سیدھی نہیں ہے اور ملک یوں چل رہا ہے جیسے بنا لنگر کا جہاز سمندر میں ڈول رہا ہو۔ ملک چلانا نہیں آتا تو اقتدار میں آنے کا اتنا شوق کیوں تھا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اب معاملات خان صاحب کی سمجھ میں آ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے خان صاحب کو داد نہیں دی کہ بندے نے کم ازکم ایمانداری سے اعتراف تو کر لیا اور ہر خدا ترس حکمران کو اتنی بنیادی ایمانداری تو دکھانی ہی چاہیے کہ جو شے سمجھ میں نہیں آئی یا سمجھنے میں دیر لگی اسے صاف صاف قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ کوئی بھی اچھے خان ہو، پیدا ہوتے ہی تو سب نہیں جان سکتا۔ زندگی کی اونچ نیچ اور غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔

مگر اس کا اعتراف کرنے کے لیے چوڑا سینہ بھی تو چاہیے۔ جو حکمران بغیر اعتراف کے غلطی پر غلطی کرتے جاتے ہیں اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور پھر ملک کو لاوارث چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے دوسروں پر اپنی نااہلی کا بوجھ ڈال کر چلے جاتے ہیں وہ بہتر ہوتے ہیں یا اپنی کمی بیشی کو ماننے والا حکمران بہتر ہوتا ہے ؟ ویسے بھی خان صاحب نے خود اعتراف کیا ہے۔ کسی نے کنپٹی پر پستول رکھ کے تو نہیں قبولوایا۔ شکر ہے کہ ڈھائی برس میں ہی بتا دیا کہ شروع کا ڈیڑھ برس کیسا گذرا۔ اگر پانچ برس بعد یہی اعتراف ہوتا یا نہ بھی ہوتا تو کوئی کیا بگاڑ لیتا۔ یہ خان صاحب کی بڑائی اور ظرف ہے۔ اور جو اسے ان کی کمزوری کے طور پر لے رہے ہیں یہ ان کا ظرف ہے۔ حکمران توآتے جاتے رہتے ہیں۔ ریاست کا کاروبار ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ چلاتی ہے۔ اب یہ حکمران کی ذاتی صلاحیت ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے منہ زور گھوڑے کو اپنی مرضی کی سمت میں دوڑانے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے یا پھر خود اسٹیبلشمنٹ کی سواری بن جاتا ہے۔ یہ وہ کلیہ ہے جس سے امریکا سے لے کر گنی بساؤ تک کسی ریاست کو مفر نہیں۔

امریکا میں جب بھی کوئی نیا صدر آتا ہے تو اسے بھی حکومتی فیصلہ سازی کی سائنس پر گرفت کرنے اور الف بے سمجھنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ محکمہ خارجہ و دفاع سمیت ہر اہم و غیر اہم محکمے کے کھانپڑ اس کو بار بار تفصیلی بریفنگ دیتے ہیں۔ اقتصادی تھنک ٹینک آسان انگریزی میں ٹکنیکل چیزیں سمجھاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا عملہ اسے صدارتی ادب آداب سے واقف کرواتا ہے۔ریاستی پالیسی کے دائرے میں تقاریر لکھتا اور رٹواتا ہے۔ ہر فیصلہ لینے سے پہلے صدر نہ صرف اپنے قریبی مشیروں بلکہ سبجیکٹ کمیٹیوں اور چنندہ ارکانِ کانگریس سے مشورہ کرتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر کی بھی تربیت و تعلیم ہوتی ہے اور پھر اس کے نام سے فیصلے اور احکامات جاری ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ سپر پاور کا حکمران داخلہ و خارجہ امور سے کس قدر باخبر ہے اور کرہِ ارض کی نبض پر اس کا کتنا مضبوط ہاتھ ہے۔

اب رہی یہ بات کہ آیا محض ایک حکمران کی ایمانداری پیچیدہ ریاستی نظام کو سمجھ کر چلا سکتی ہے یا پھر یہ سارا کھیل ایک ہی طرح کے جذبے سے سرشار مگر باصلاحیت افراد کے ٹیم ورک کا مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ شرط ہے جس کے پورا ہوئے بغیر ایک جمہوری کیا فاشسٹ حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ اس کے لیے مردم شناسی اولین شرط ہے۔ ضروری نہیں کہ آنکھ بند وفاداروں کی ٹیم باصلاحیت بھی ہو۔ لیڈر کا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح باصلاحیت لوگوں کو ایک وفادار ٹیم میں بدل سکتا ہے۔ ایسی ٹیم ایک ایک موتی چن کے لڑی میں پرونے جیسا ہے۔ یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ جتنی لیڈر میں صلاحیت ہو گی اتنی ہی ٹیم بھی اچھی یا بری بنے گی۔ ادھار میں ملنے والے ماہرین سے روزمرہ تو چل سکتا ہے مگر ادھاریوں یا اجرتیوں کے بل پر ریاست کو اپنے خوابوں کی تعبیر میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔

ہمارے ہاں اب تک جتنے بھی باوردی یا بلا وردی حکمران آئے ان کا احساسِ عدم تحفظ بھی ان کے ساتھ صدارتی محل یا ایوانِ وزیرِ اعظم میں در آتا ہے اور سائے کی طرح چپکا رہتا ہے۔ چنانچہ صلاحیت کو وفاداری کے مقابلے میں ہمیشہ پچھلی رو میں جگہ ملتی ہے۔ آدھا وقت تو آگا پیچھا بچانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ کب کیا ہو جائے، کون کس کے ساتھ مل کے کیا گل کھلا جائے ؟ بس یہی سوچ ہر فیصلے کی پشت پر ہوتی ہے۔ ایسے میں افلاطون بھی کرسی پر بیٹھا ہو تو اپنی بقا کے علاوہ کسی بھی قومی مسئلے پر کتنا اعلیٰ یا دوررس سوچ لے گا ؟ جو ڈنڈے کے زور پر آتا ہے اسے یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ ڈنڈہ ٹوٹ نہ جائے یا چھن نہ جائے۔جو ووٹ کے زور پر آتا ہے اسے بھی آڑھتیوں ( پاور بروکرز ) کو اختیاراتی بھتہ دیے بغیر محل میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔ محل کے صدر دروازے پر پچھلی حکومتیں ڈکارنے والے پیشہ ور استقبالی خوشامدی جادوگر فرشی سلام کرتے ہوئے نووارد پنچھی کو گھیر لیتے ہیں اور اپنی لچھے داریوں سے بڑے بڑے انقلابی دماغ کو جکڑ کر دولے شاہ کی کھوپڑی سے بدل دیتے ہیں۔

اور پھر فیصلے کوئی اور کرتا ہے مگر نام بدنام ہز ہائی نیس کا ہوتا ہے۔ اور ہزہائی نیس بھی اس عالیشان ذلت کو یہ سوچ سوچ کر سہتے رہتے ہیں کہ اور کچھ نہیں تو پروٹوکول تو مل ہی رہا ہے ، ہٹو بچو تو ہو ہی رہی ہے ، آگے پیچھے سائرن تو بج ہی رہے ہیں ، سلام پر سلام تو پڑ ہی رہے ہیں۔ پہلے بھی خجل تھے ، آیندہ بھی خجل خواری ہی کا زیادہ امکان ہے لہٰذا چار دن کی چاندنی کے مزے ہی لے لو۔ رہی فیصلہ سازی اور خود کو سب سے منوانے کی دھن اور اقتداری خود مختاری۔ جنھوں نے پہلے اس طرح کی مہم جوئی کا خطرہ مول لیا انھوں نے کسی کا کیا اکھاڑ لیا۔ الٹا اپنے جان و مال و خاندان کا نقصان کیا۔ چنانچہ جس حد تک بھی ممکن ہو ایمانداری و وضع داری کے ساتھ اپنا وقت کاٹو اور وہ گائے مت بنو جس کا خیال ہے کہ دنیا اسی کے سینگوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس کوشش میں دنیا کا توکچھ نہیں بگڑتا اکثر اپنے ہی سینگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر ایمان داری کا بھی کیا کریں۔ وہ بھی پر ہیزگار حکمران کا تب تک ساتھ دیتی ہے جب تک بے ایمانی کے اژدھے کی دم پر پاؤں نہ پڑے۔ چھوٹے موٹے جانور کچلنے میں البتہ کوئی حرج نہیں۔ اور کچلنے بھی چاہئیں تاکہ کچھ دیر تلک تھوڑا بہت دبدبہ تو قائم رہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اپوزیشن بمقابلہ اپوزیشن

اُمید ایسا رشتہ ہے جو حال کو مستقبل سے جوڑ دیتا ہے اور وقت کو حالات سے بے خبر حوصلہ دیتا ہے۔ یہ اُمید ہی ہے جو ان دیکھے خوابوں کو راہ اور تعبیر کا سامان فراہم کرتی ہے۔ میرے لیے آج کل سب سے بڑا سوال ہی یہ ہے کہ کیا عوام نا اُمید ہو رہے ہیں؟ نظام کب مرتے ہیں جب عوام کو معاشی، سیاسی اور عدالتی انصاف پر یقین ختم ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب ٹھیک ہوتا ہے، لوگ ہر طرح سے شریک ہوتے ہیں لیکن بے یقینی کے ساتھ، متحرک ہوتے ہیں مگر بغیر تحریک کے۔ ہائبرڈ نظام شہریوں کو ایک روبوٹ بنا دیتا ہے جو چلتے پھرتے ہیں مگر سوچ سمجھ سے عاری۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک تحریک کے تمام جزئیات بدرجہ اَتم موجود ہیں لیکن کیا حزب اختلاف کی تحریک اپنے اثرات مرتب کر پا رہی ہے۔ بیس ستمبر کو حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس کے بعد سے اب تک اپوزیشن کس حد تک اپنا بیانیہ عوام تک پہنچا پائی ہے؟ اور کیا یہ بیانیہ عوام میں پذیرائی حاصل کر پایا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سیاست کے طالبعلم کے طور پر پوچھے جاتے ہیں۔

یوں سمجھیے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی نے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کو وہ تمام لوازمات فراہم کر دیے جو ایک کامیاب عوامی تحریک کا موجب بن سکتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بجائے حکومت کو دفاعی صورت حال سے دوچار کرنے کے خود مدافعانہ حیثیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ میڈیا اور عوامی محاذ پر غیر روایتی جنگ کا روایتی انداز سے دفاع ہے۔ تحریک انصاف کی خراب معاشی کارکردگی، اسٹیل مل، پی آئی اے، ریلویز جیسے بڑے اداروں کی زمین بوسی، چینی، ادویات، گندم، پٹرول اور ایل این جی جیسے بڑے اسکینڈلز، روٹی، اشیائے خورد و نوش میں افراط زر اور روز بروز بڑھتی مہنگائی جیسی تیار ڈشوں کے باوجود اپوزیشن حکومتی دیگوں کا چڑھاوا بن رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے ترجمان یا تو عدم دستیاب ہیں یا بیانیہ کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں۔ شام سات سے رات گیارہ بجے ٹی وی چینلوں پر حکومت کو رگڑا لگانے کی بجائے کسی حکومتی ترجمان کی چھوٹی سی اڑنگی پر لڑکھڑا کر گر پڑتے ہیں۔

بظاہر جیتے ہوئے مناظروں کو حکومتی ترجمان یوں چیلنج کرتے ہیں کہ اپوزیشن منھ چھپا کر نکل لیتی ہے۔ یا تو اپوزیشن جماعتوں کے ترجمانوں میں ایک صفحے پر ہونے کے باوجود رابطے کا فقدان ہے یا وہ اس ’بدتہذیب ڈبے‘ اور ہتھیلی میں موجود ڈبیا سے آلے کے سامنے بظاہر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ مانا کہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے جس کا اظہار وزیراعظم بارہا کر چکے ہیں، عدالتیں بھی کوئی زیادہ مسئلہ نہیں جیسا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں دیکھنے میں آتا رہا۔ تاہم عوامی تحریک کے چند لوازمات پر اپوزیشن کو ضرور غور کرنا ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں کا بیانیہ سازی کے لیے کیا لائحہ عمل ہے اور جلسوں کے علاوہ اپوزیشن عوام کی ذہن سازی میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق نظر سے گزری جس میں عوام کو متوجہ کرنے کے لیے لفاظی نہیں ’انگیجمینٹس‘ پر زور دیا گیا یعنی بڑے گروپس کے بجائے چھوٹے اور موثر گروپس کے ذریعے کس طرح رائے سازی کی جاتی ہے جو تحریکوں کا اہم خاصہ ہوتا ہے۔

کیا اپوزیشن نے کسانوں، مزدور یونینوں، طالب علموں اور سیاسی ورکروں کی مستقل شمولیت کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہے؟ جلسے جلوس، ریلیاں کسی حد تک عوامی جذبات کی عکاس ہوتی ہیں تاہم تحریکوں کو آگے بڑھانے کے لیے بیانیے کا موثر انداز سے پرچار بھی ضروری ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ لے کر سڑکوں پر آئی ہیں۔ بلوچستان سے گلگت بلتستان اور کراچی سے خیبر تک سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے مگر کیا پھر بھی اپوزیشن لانگ مارچ تک مطلوبہ عوامی حمائت حاصل کر پائے گی؟ دوسری جانب بڑی کامیابی سے خود اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے استعفوں کے معاملے کا رخ پیپلز پارٹی اور سندھ اسمبلی سے استعفوں کی جانب موڑ دیا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی استعفے نہ دے کر لفاظی نہیں انگیجمینٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پیپلز پارٹی پر ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کا بڑھتا دباؤ سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی یک طرفہ جیت کی صورت نکل سکتا ہے اور پارلیمان میں اپوزیشن جماعتیں اپنی حیثیت کھو سکتی ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن کو پیپلز پارٹی کی بات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ تو طے ہے کہ کپتان کی حکومت کی میڈیا اسٹریٹجی کامیاب ہے۔ اپوزیشن کا مقابلہ غیر روایتی حریف سے ہے جو حکومت میں رہ کر بھی جارحانہ سٹروک کھیل رہی ہے جبکہ اپوزیشن مدافعانہ۔ اب سب نگاہیں اپوزیشن کے لانگ مارچ کی جانب ہیں، اپوزیشن مایوس عوام کی امیدوں کا محور نہ بن سکی تو سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

عاصمہ شیرازی

بشکریہ بی بی سی اردو

ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے سب کو ’اَن فالو‘ کر دیا

سوشل میڈیا باالخصوص ٹوئٹر پر فعال اور مقبول سیاستدانوں میں شمار کیے جانے والے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر تمام افراد کو ’اَن فالو‘ کر دیا ہے۔ عمران خان اس سے قبل ایک درجن سے زائد ٹوئٹر اکاؤنٹس کو فالو کرتے تھے۔ ان میں زیادہ تر افراد ان کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما ہی تھے۔ ٹوئٹر پر کسی کو بھی فالو نہ کر کے پاکستانی وزیراعظم ان سربراہان مملکت کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم افراد کو فالو کرتے ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی ٹوئٹر پر 17 افراد کو فالو کرتے ہیں۔

انڈین وزیراعظم نریندرا مودی دو ہزار 346، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو 942 جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 57 افراد یا اداروں کے نمائندہ اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کی سوشل میڈیا سرگرمی معمول سے ہٹ کر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ماضی میں ٹیلی ویژن میزبان حامد میر کو ٹوئٹر پر اَن فالو کرنے اور اس پر ان کے ردعمل سمیت متعدد مواقع پر عمران خان کی ٹویٹس بحث کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر فالو کیے جانے والے افراد کو اَن فالو کرنے کا معاملہ قدرے نمایاں ہوا تو سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنے اپنے انداز میں تبصرے کیے۔

بشکریہ اردو نیوز

گلگت بلتستان توقعات پر پورا اترا

وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ یعنی جو پارٹی اسلام آباد میں حکمران ہو گی وہی گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی کامیاب ہو گی۔ اس بار یہ اعزاز تحریک انصاف نے حاصل کیا۔ دو ہزار نو کے بعد مجلس قانون ساز کے یہ تیسرے انتخابات تھے۔ تینتیس ارکان پر مشتمل اسمبلی میں چوبیس نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہوتا ہے۔ چھ اضافی نشستیں خواتین کے لیے اور تین ٹیکنو کریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نو مخصوص نشستیں چوبیس عام نشستوں پر کامیابی کے تناسب سے آپس میں بٹ جاتی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کے پاس تینتیس میں سے سترہ نشستیں ہونی چاہئیں۔ اس بار ووٹروں کی کل تعداد سات لاکھ پینتالیس ہزار تین سو اکسٹھ تھی۔ ان میں ایک لاکھ ستائیس ہزار نئے ووٹر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دو انتخابات میں ساٹھ فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ اس بار بھی اسی اوسط کی توقع ہے۔

سن دو ہزار نو میں جب گلگت بلتستان آئینی اصلاحات کا پیکیج نافذ ہوا تو اس وقت مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ چنانچہ جب بارہ نومبر دو ہزار نو میں پہلی گلگت بلتستان لیجسلیٹو اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کے ابھری اور اس نے تینتیس کے ایوان میں بیس نشستیں حاصل کر لیں اور مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے بلامقابلہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئے (موجودہ انتخابات میں مہدی شاہ ہار گئے)۔ مسلم لیگ نواز کو دو ہزار نو میں دو نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس الیکشن میں ایم کیو ایم کو بھی ایک نشست ملی۔ تحریک انصاف کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ جب آٹھ جون دو ہزار پندرہ کو دوسری لیجسلیٹو اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو اس وقت اسلام آباد میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ چنانچہ جس مسلم لیگ ن نے دو ہزار نو میں صرف دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ اسی مسلم لیگ نے دو ہزار پندرہ میں تینتیس میں سے بائیس نشستیں اپنے بیگ میں ڈال لیں اور جس پیپلز پارٹی نے دو ہزار نو میں بیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی وہ اسلامی تحریک اور مجلسِ وحدت المسلمین کے بعد چوتھے نمبر پر آئی اور اس کے ہاتھ صرف ایک نشست لگی۔ تحریک انصاف نے پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور اس نے بھی ایک نشست جیتی۔ چنانچہ مسلم لیگ کے حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کے دوسرے وزیرِ اعلی منتخب ہو گئے۔

اب آئیے پندرہ نومبر دو ہزار بیس کے انتخابی نتائج کی طرف۔ ایک بار پھر وہی چمتکار ہوا جس کے گلگت بلتستان کے ووٹر عادی ہیں (ایک جنرل سیٹ پر ایک امیدوار کے انتقال کے سبب چوبیس میں سے تئیس نشستوں پر انتخاب ہوا) غیر سرکاری نتائج کے مطابق اسلام آباد میں حکمراں تحریک انصاف جس نے گزشتہ انتخابات میں ایک سیٹ جیتی تھی اس بار نو نشستیں جیت لی ہیں۔ مسلم لیگ ن جسے گزشتہ انتخابات میں چوبیس میں سے سولہ عام نشستیں ملی تھیں اس بار دو سیٹیں ہی نکال پائی ہے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان بھی ہار گئے ہیں۔ جب کہ پیپلز پارٹی جس نے گزشتہ بار ایک نشست نکالی تھی اس بار تین نشستوں پر کامیاب قرار دی گئی ہے۔ مگر موجودہ انتخابات میں ایک نئے عنصر کا بھی اضافہ ہوا یعنی آزاد امیدوار۔ گزشتہ انتخابات میں ایک بھی آزاد امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا تھا مگر اس بار آزاد امیدوار سات نشستیں جیت کر پی ٹی آئی کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے 10 ارکان اور سات آزاد ارکان اور پی ٹی آئی کی اتحادی مجلس وحدت المسلمین کے ایک رکن پر مشتمل اٹھارہ ارکان کی سادہ اکثریت کا اگلا وزیرِ اعلیٰ پی ٹی آئی سے ہو گا۔

جیسا کہ توقع تھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے الیکشن چوری کرنے کا الزام لگا دیا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر کیا فرق پڑتا ہے جب ہمیشہ یہی اصول انتخابی نتائج پر حکمرانی کرتا ہے کہ جو اسلام آباد کے تخت پر ہو گا وہی مظفر آباد اور گلگت پر بھی حکمرانی کرے گا۔ مگر یہ اصول صرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہی کیوں موثر ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایسا کیوں نہیں۔ اس کی کوئی بھی ممکنہ تاویل ڈھونڈی جا سکتی ہے مثلاً یہی کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ووٹرز بہت موقع شناس ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ ترقیاتی فنڈز اسلام آباد سے ہی آتے ہیں اور اختیارات بھی اسلام آباد کے لاکر روم سے ہی جاری ہوتے ہیں لہٰذا کسی ایک جماعت کے بجائے اسلام آباد کو خوش رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ دوسری تاویل یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جغرافیائی طور پر نہایت حساس علاقے ہیں لہٰذا ان میں کسی ایسی جماعت کی حکومت سازی افورڈ نہیں کی جا سکتی جس کا اسلام آباد سے چھتیس کا آنکڑا ہو۔ بہتر یہی ہے کہ جسے پیا چاہے وہی سہاگن تاکہ اسٹرٹیجک پالیسیوں میں تسلسل قائم رہے۔

گزشتہ دو انتخابات کی نسبت گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابی نتائج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس خطے کو اگلے چند ماہ میں پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ چونکہ علاقے کے ووٹروں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے لہٰذا زندگی سہل کرنے اور صوبے کے امکان کو روشن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جس حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے اسے ہی گلگت بلتستان میں بھی مینڈیٹ دے دیا جائے۔ جنھیں پہلے مینڈیٹ دیا گیا انھوں نے کیا ایسی توپ چلا لی جو نئی حکمران پارٹی نہیں چلا پائے گی۔ البتہ صوبائی حیثیت حاصل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نہ صرف آج کے مقابلے میں زیادہ بااختیار ہوں گے بلکہ وہ شائد اس نفسیات سے بھی رفتہ رفتہ چھٹکارا پالیں گے جو شدھ پھوٹھوہاری لہجے کے مالک ہمارے ریٹائرڈ بیورو کریٹ دوست راجہ گشتاسپ خان انجان کی زندگی کا منشور ہے۔ فرماتے ہیں ’’ سنگیا، حکومت وقوت دی فل تابعداری کرو ، افسراں دے چھوٹے موٹے کم وی کری چھوڑو، نا! کو حرج اے

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کسان کو کب تک غصہ نہیں آئے گا ؟

میں ایک کسان ہوں اور میں نے آنکھ کھولتے ہی یہ سنا تھا کہ کسان کو غصہ نہیں آتا۔ کسان کا دل بھینس کی طرح فراغ ہوتا ہے۔ صدیوں سے پنجاب کا کسان اور بھینس ساتھ رہ رہے ہیں۔ صدیوں کے اس ساتھ میں کسان نے بھینس سے پر امن اور پر سکون رہنا سیکھ لیا۔ اس قدر لحیم شحیم بھینس ایک ذرا سے کھونٹے سے اس لئے بندھی رہتی ہے کیونکہ یہ اس کی مرضی ہے، ورنہ نہ کھونٹے میں اتنی طاقت ہے اور نہ ہی انسان کی اتنی مجال کہ بھینس کو کھونٹے سے باندھ کے رکھے۔ جس شخص کو یہ مالک تصور کر لیتی ہے پھر وہ کم چارہ دے، سوکھا کھلائے، پانی نہ پلائے، صفائی ستھرائی کا دھیان نہ رکھے، علاج معالجے پر توجہ نہ دے یہ اللہ لوک اسی طرح کھڑی رہتی ہے۔ بلکہ مورکھ مالک جب قصاب کے ہاتھ بیچنے جا رہا ہو تو اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتی بھی جاتی ہے اور موقع ملنے پر مارے محبت کے چاٹ بھی لیتی ہے۔

پنجاب کا کسان بھی اپنی بھینس کی طرح باظرف ہے۔ صدیوں سے، کہاں کہاں سے بھوکے، اجڈ، گنوار، جنھیں اناج اگانے کا فن نہیں آتا تھا اٹھ اٹھ کے اس کے دستر خوان پر لوٹ مار مچاتے رہے۔ کھا کھا کے جب یہ حملہ آور اپھر جاتے تھے تو کسان پر حکومت کرتے تھے، زرعی اصلاحات کرتے تھے اور اسی کی اگائی فصل سے اسے فقط چند ٹکے دے کر ٹرخا دیا کرتے تھے۔ کسان کو کبھی غصہ نہ آیا ورنہ کیا درانتی چلانے والے ہاتھ تلوار چلانے والی کلائی کاٹ کر نہیں پھینک سکتے تھے؟ نوآبادیاتی دور میں بھی یہ کسان ہی تھا جسے لوٹ لوٹ کر اپنے کارخانے چلائے گئے اور اجرت میں، قحط، فاقہ، غربت اور عسرت ملی۔ آزادی کے نعروں اور دل نشیں خوابوں میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد ہمارا خام مال کوڑیوں کے مول لے کر اپنے کارخانوں کا مال مہنگے داموں ہمیں نہیں بیچا جائے گا۔ مگر صاحبو! یہ خواب فقط خواب تھا۔ آزادی کے پہلے ہی برسوں میں ہم سے ہمارے دریا چھین لئے گئے، ہمیں ٹیوب ویل کی صورت میں مسلسل بجلی کے بلوں کے بوجھ کے نیچے دبا دیا گیا، کیمیائی کھادوں، ہائبرڈ بیج اور کیڑے مار ادویات کی منڈی بنا دیا گیا۔ کسان کو اب بھی غصہ نہ آیا۔

جاگیر دارانہ نظام کے خاتمے کا جھنجھنا بجا کے کسانوں کی زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئی جبکہ جاگیر دار وہیں کے وہیں ہیں بلکہ نت نئے جاگیر دار پیدا ہو رہے ہیں۔اصلاحات کے نام پر کسان کے دل میں جو بد اعتمادی پیدا کی گئی اس نے ہاؤسنگ کالونی نامی بیماری کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور ہماری قیمتی زرعی زمینیں پراپرٹی ڈیلر کھا گئے۔ کسانوں کو تب بھی غصہ نہیں آیا۔ انگریز نے مقامی کپڑے کی صنعت کو تباہ کرنے کے لئے جو قوانین وضع کیے تھے قریبا سب کے سب وہیں موجود ہیں۔ شوگر مل مالکان کسان کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں سب ہی کو معلوم ہے اور اس پر تیار چینی کس قدر مہنگی بیچی جاتی ہے یہ بھی کوئی راز نہیں۔ فصل کاشت ہونے سے پہلے نہ اس کی قیمت مقرر کی جاتی ہے اور نہ ہی فصل کی فروخت کا کوئی نظام ہے۔ آڑھت کے نظام کو کسی نے کبھی آنکھ بھر کے نہیں دیکھا، صدیوں سے یہ نظام اسی طرح چلا آرہا ہے۔ فصل اچھی ہوتی ہے دام گر جاتے ہیں۔

ملک میں اچھی پیداوار ہونے کے باوجود اچانک دساور سے وہی فصل دگنے داموں منگائی جانے لگتی ہے۔ کسان کو فصل یا تو کوڑیوں کے مول بیچنا پڑتی ہے یا یوں ہی سڑک پر پھینک کے کھلیان خالی کرنا پڑتے ہیں مگر کسان کو غصہ نہیں آتا۔ موجودہ حکومت نے آٹے اور چینی کے معاملے میں جو گڑ بڑ کی ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ سندھ حکومت گندم کی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کر چکی ہے لیکن جب یہی مطالبہ پنجاب حکومت سے کیا گیا تو کسانوں کے پرامن جلوس پر تشدد کیا گیا۔ ملک اشفاق لنگڑیال زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ پنجاب کے وزیر زراعت کے نزدیک گندم کی قیمت دو ہزار روپے مقرر کرنا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ ایسی باتیں سن کے چرچل یاد آجاتا ہے۔ گندم کی قیمت کسان کے سوا کسی اور کو مقرر کرنے کا حق کس نے دیا؟ کسان کا خام مال کوڑیوں کے مول خریدنے کی یہ ظالمانہ روایت اب ختم کرنی ہو گی۔ کسان شاید مزید احتجاج بھی نہ کریں، آپ ان کی گندم سستی خرید کے مہنگی روٹی بیچ کے کمائیں گے کیا؟ چند ٹکے؟ حیف ہے اس عہد پر جو یہ سوچ لے کر چلے اور تف ہے اس حکومت پر جہاں کسانوں کا خون پسینہ کھیت میں بھی بے مول بہے اور آپ کی راجدھانی لاہور کی سڑکوں پر بھی ارزاں ہو۔ کسانوں کو شاید اب بھی غصہ نہیں آیا ہو گا مگر قوم ثمود کی راہ پر چلنے والوں پر اگر قدرت کو غصہ آ گیا تو کیا ہو گا۔

آمنہ مفتی

بشکریہ بی بی سی اردو

ریاست ماں کیوں نہیں بنتی؟

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب عدلیہ بحالی کی تحریک پورے ملک میں چلی تھی تو تحریک کے ایک رہنما ایک نظم سنایا کرتے تھے کہ ریاست ہو گی ماں کے جیسی، مگر اس تحریک کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے بعد پی ٹی آئی کی تیسری حکومت آگئی جس نے اپنے سوا دو سال بھی مکمل کر لیے۔ اس دوران تین نگران حکومتیں بھی آئیں مگر کوئی بھی حکومت ماں تو کیا بنتی سوتیلی ماں بھی بن کر نہ دکھا سکی اور تین تین بار باریاں مکمل کرنے والی سابق حکومتوں کے بعد پی ٹی آئی کی پہلی بار قائم ہونے والی موجودہ حکومت سے عوام کو بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ اپنے بلند و بانگ دعوؤں کے باعث واقعی ماں بن کر دکھائے گی اور عوام دوستی کا پہلا ریکارڈ قائم کرے گی کیونکہ پی ٹی آئی چیئرمین کی شہرت ایماندار رہنما کی تھی جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ سربراہ دیانت دار اور عوام کا خیرخواہ ہو گا تو ہی ملک میں تبدیلی اور خوشحالی آئے گی۔

ملک میں سوا دو سال قبل نئی حکومت تو آگئی تھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ تبدیلی کے لیے آئی ہے اور تبدیلی آگئی ہے مگر تبدیلی صرف یہ آئی کہ حکومتی سطح پر چہرے بدل گئے اور ایک ایسا وزیراعظم منتخب ہوا جسے صادق و امین قرار دیا گیا تھا۔ عمران خان کو صادق و امین قرار دے کر نئی حکومت کا حامی خود تو مدت مکمل کر کے ایسا گیا کہ کہیں ڈیم پر پہرا دیتا بھی نظر نہ آیا مگر پی ٹی آئی والوں کے پاس صادق و امین وزیر اعظم ہونے کا سرٹیفکیٹ ضرور آگیا تھا۔ نئے وزیر اعظم نے عوام کو بتایا تھا کہ ریاست کا سربراہ ایماندار اور ٹھیک ہو گا تو اوپر کرپشن نہیں ہو گی اور نچلی سطح تک کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حکمران اگر کرپشن کے خلاف ہو گا تو کرپشن کی نذر ہونے والی بہت بڑی رقم بچے گی جو خزانے میں جمع ہو گی تو خزانہ بھرے گا جس سے ملک اور عوام خوشحال ہوں گے اور ملک بھی ترقی کرے گا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ بتاتے تھے کہ جب حکمران کرپشن کر کے اپنے خاندانوں کو نہایت دولت مند بنا لیتے ہیں تو عوام غریب رہ جاتے ہیں۔ ملک اور عوام پیچھے چلے جاتے ہیں اور کرپٹ حکمران کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں وہ بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنا لیتے ہیں اور اپنی کرپشن سے ملک و قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں اور ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہی ملک اور عوام ترقی کرسکے نہ خوشحالی لائی جا سکی جس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں اس لیے باریاں لینے والے کرپٹ حکمرانوں کو ہٹانا ضروری ہے اور پھر اگست 2018 میں مبینہ کرپٹ حکمرانوں کی جگہ اچھی شہرت کا حامل حکمران آگیا جس کا شدت سے انتظار تھا۔ عوام کو امید تھی کہ وزیر اعظم کی ایمانداری سے تبدیلی آئے گی۔ قومی خزانہ بھرے گا۔

اقربا پروری نہیں ہو گی ملک کی کابینہ چھوٹی ہو گی۔ دوست نوازی کا سلسلہ رک جائے گا۔ سابق حکمرانوں کے شاہی اخراجات ختم ہو جائیں گے۔ حکمرانوں کا پروٹوکول ختم اور ان کی سادگی کا دور دورہ ہو گا۔ ملکی خزانے کی بندر بانٹ ختم ہو گی اور قومی خزانے کا صرف قانونی اور سوچ سمجھ کر استعمال ہو گا۔ غیر ترقیاتی اخراجات کے خاتمے سے ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو گا تو ملک و قوم کی کایا پلٹ جائے گی۔ سوا دو سال گزر گئے مگر ریاست ماں بنی نظر نہ آئی۔ وہی وسیع کابینہ، منصوبوں میں جاری کرپشن، اقربا پروری، جی حضوروں اور خوشامدیوں کی سرکاری عہدوں پر تعیناتی، بیرونی دوستوں کے لیے اہم سرکاری عہدے، ترجمانوں کی فوج کا نیا ریکارڈ، غیر ترقیاتی اخراجات کی بھرمار اور ملک میں پہلی بار مہنگائی اور بے روزگاری کے نئے ریکارڈ سے عوام کو یہ سبق ضرور مل گیا کہ کوئی ریاست ماں جیسی نہیں ہو سکتی۔

کیونکہ ریاست کا سربراہ باپ ہوتا ہے اور اگر باپ ہی نہ چاہے تو ریاست ماں کیوں بنے گی کیونکہ ماں نے گھر چلانا ہوتا ہے جب کہ باپ کو اپنے دوستوں اور پارٹی رہنماؤں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ باپ کو تو کسی وجہ سے کسی ریٹائرڈ کو 35 لاکھ ماہانہ دینے کا اختیار ہے مگر ماں کو تو دو لاکھ روپے میں گھر چلانا ہوتا ہے ۔ ماں خود بھوکی اور نئے کپڑوں کے بغیر بھی رہ کر بچوں پال لیتی ہے۔ بچوں کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے کر ہی ماں بچوں کو خوش رکھ سکتی ہے کیونکہ وہ ماں ہوتی ہے۔ ریاست تب ہی ماں کا کردار ادا کر سکتی ہے جب وہ اپنے اخراجات پر قابو پانے کی صلاحیت کی حامل اور عوام دوست ہو۔ صرف مہنگائی و بے روزگاری کا احساس کرلینے سے ریاست ماں نہیں بن سکتی۔ ماں بننے کے لیے ریاست کو زبانی نہیں عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں تو باپ کے نوٹس لینے پر مہنگائی بڑھ اور اشیا غائب ہو جاتی ہیں جن کے مارکیٹ میں لانے کے لیے ریاست خود مہنگائی نہیں کرتی بلکہ پٹرول، بجلی و گیس کی قیمتوں میں ازخود کمی لا کر ہی ریاست ماں بن سکتی ہے۔ عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف سے محروم رکھنے والی ریاست کبھی ماں کا کردار ادا نہیں کرسکے گی۔

محمد سعید آرائیں

بشکریہ ایکسپریس نیوز

آگ بھڑکانے والے نا سمجھ

بہتر تھا سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ن لیگ کے رہنما ایاز صادق قومی اسمبلی میں دیے گئے اپنے متنازعہ بیان پر معافی مانگ لیتے لیکن یہاں تو باقی لیگی رہنما بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو بھی اِس بیان پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ایاز صادق اِس بیان پر ڈٹے رہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن تو ایاز صادق کے گھر پہنچ گئے، جہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وہ کس بات پر معافی مانگیں؟ دوسری طرف پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ ن لیگ کو بالخصوص بھارت کے ساتھ جوڑا جائے اور ایک کے بعد ایک رہنماء سے یہ بات کروائی جائے کہ ن لیگ کا سارا بیانیہ دراصل پاکستان کی فوج کے خلاف ہے اور یہ بات اتنی تواتر سے کی جائے کہ اِس پر سب کا یقین ہو جائے، ورنہ کم از کم یہ تو ضرور ہو کہ فوج اور ن لیگ آمنے سامنے آ جائیں۔

ن لیگ کے رہنماؤں کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اِس کوشش میں ہیں کہ پی ٹی آئی کی بات کو سچ ثابت کیا جائے۔ دوسری طرف سابق جرنیلوں کی ٹی وی ٹاک شوز میں بات سنیں تو وہ بھی ایک پوری کہانی سناتے ہیں تاکہ ثابت کریں کہ نواز شریف واقعی پاکستان اور فوج مخالف ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ عوامی سطح پر بھی یہی بحث اور تقسیم پائی جاتی ہے۔ آدھے اِدھر اور آدھے اُدھر۔ لاہور میں تو ایاز صادق کے ساتھ ساتھ فواد چوہدری کی تصویروں والے پوسٹر انڈین ایجنٹس کے طور پر مختلف مقامات پر لگا دیے گئے ہیں۔ یہ بہت خطرناک کھیل ہے جسے ہوا دینے کے بجائے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اِس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے سب سے اہم ذمہ داری تو حکومت یعنی پی ٹی آئی کی بنتی ہے لیکن وہ تو اپنے سیاسی فائدے کے لئے آگ بھڑکا رہی ہے اور اُس کی کوشش ہے کہ اپنے سیاسی مخالف یعنی ن لیگ کو فوج کا دشمن ثابت کرکے اُسے کچل دیا جائے۔

وزیراعظم اور حکومت تو گھر کے بڑے کا کردار ادا کرتی ہے جو ہر قسم کی شورش، لڑائی، جھگڑے کو ختم کرنے کی خواہاں ہوتی ہے کیونکہ اگر لڑائی جھگڑے ہوں گے، فتنہ فساد بڑھے گا تو گھر کیسے چلے گا ؟ افسوس کہ ن لیگ بھی ٹکراؤ کے ایسے موڈ میں ہے کہ بلاسوچے سمجھے اُسی رستے پر چل پڑی ہے جس پر اُسے حکمران جماعت چلانا چاہتی ہے۔ ورنہ جو کچھ ایاز صادق نے کہا، اُس کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بعض لیگی رہنما تو دفاع سے آگے بڑھ گئے اور اُس متنازعہ بیان کو سپورٹ کرنے لگے جس نے میری دانست میں پاکستان کے لئے شرمندگی کا سامان پیدا کیا۔ ن لیگ اگر اِس غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے اُس پر ڈٹ رہی ہے تو ایک تیسرا فریق یعنی سابق جرنیل، جن کی رائے کو عمومی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی رائے سمجھا جاتا ہے، وہ بھی ایک انتہائی نقطئہ نظر لئے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ نواز شریف ایک انڈین ایجنٹ ہیں۔

جس طرف دیکھیں غصہ اور جذبات نظر آ رہے ہیں اور کوئی ایک لمحے کے لئے بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ سیاسی تفریق کی بنیاد پر اگر حب الوطنی اور غداری کا فیصلہ کیا جائے گا تو پھر نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہی ہو گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، بلاول بھٹو ہوں یا کوئی دوسرا ہو، موجودہ سیاسی تفریق اتنی گہری ہو چکی کہ یہ سیاسی رہنما جو مرضی کریں، اُن کے ووٹرز اور سپورٹرز اپنے اپنے رہنما کی ہر جائز و ناجائز بات کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ عناصر جو بڑے شوق سے نواز شریف، مریم نواز وغیرہ کو انڈین ایجنٹ ثابت کرنے کے خواہاں ہیں، اُنہیں معلوم ہونا چاہئے یہ وہ آگ ہے جو اگر پھیل گئی تو سب کو جھلسا دے گی اور اِس کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اِس لئے میری سب فریقین سے گزارش ہے کہ ایک ایک قدم پیچھے ہٹیں، اپنی اپنی حکمتِ عملی کے بارے میں غور کریں اور ایسی صورتحال پیدا کرنے سے اجتناب کریں جس سے ملک میں ہر کسی کا نقصان اور فائدہ صرف دشمن کا ہو۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ