محکمۂ پولیس روبہ زوال کیوں؟

انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مختلف ناموں سے پولیس فورس سماج سے جرائم کے خاتمے، قیامِ امن، اور قانون کی بالا دستی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس ڈیوٹی میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی نائن الیون کے بعد بڑھتی دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے پولیس کی روایتی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ موجودہ عالمی تناظر میں قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ماضی میں پولیس سروس آف پاکستان کے افسران بیرونِ ممالک بھی قانون کی عملداری کے فرائض بجا لاتے رہے ہیں۔ آج حکومتی و سیاسی دخل اندازی اور پولیس کو سیاسی و گروہی فائدے کیلئے استعمال کرنے کی روش کی بدولت یہ اہم ترین شعبہ روبہ زوال ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بدلتے تقاضوں کے ساتھ اس اہم ترین قومی سلامتی کے ادارے کو اقربا پروری، ملکی سیاست اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

نہ تو گزشتہ 74 برسوں میں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکی اور نہ ہی میرٹ کی بالا دستی، قوانین کی تبدیلی، تربیت کی مناسب سہولتیں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں اشرافیہ سمیت حکومتی و سیاسی طبقے کے شکنجے سے نجات مل سکی۔ ہمارا موجودہ پولیس کا نظام برطانوی راج کا تحفہ ہے؛ اگرچہ 1861ء ایکٹ کی جگہ2002ء پولیس آرڈر لایا گیا جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام، قومی، صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر پولیس کو خود مختاری ملی اور عوام کو بھی پولیس کے محاسبے کا اختیار تفویض ہوا تاکہ پولیس اور عوام کے مابین ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو سکے مگر چہ معنی دارد؟ پولیس کا مورال عوام کے نزدیک اس قدر گر چکا ہے کہ بالخصوص پنجاب پولیس کا تصور آتے ہی خوف کی ایک لہر سی پورے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کے بڑے شہروں کی نسبت جنوبی پنجاب سمیت دیگر پسماندہ و دور دراز علاقوں میں پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ وہاں کے پولیس سٹیشن عقوبت خانوں کا دوسرا روپ ہیں۔ آئے روز اخبارات ان کی زیادتیوں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کرپشن، رشوت ستانی، تشدد کی خبریں بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ پاک فوج کی طرح محکمہ پولیس کے ایک معمولی سپاہی سے لے کر افسرانِ بالا تک‘ سب میں مادرِ وطن کے تحفظ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، وہ الگ بات کہ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے کا پورا محکمہ بدنام ہو چکا ہے اور فرض شناس و ایماندار پولیس اہلکاروں اور افسروں کے اچھے کارنامے بھی یکساں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے کالم کے ذریعے چند گزارشات کرنا چاہوں گا کہ ‘ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ‘ اور متعلقہ اربابِ حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ مذکورہ ڈپارٹمنٹ میں بے جا سیا سی مداخلت نے قومی سلامتی کے ادارے پر مضر اثرات مرتب کئے ہیں اور پولیس کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ فرض کریں اگر کوئی ایماندار، فرض شناس سپاہی یا پولیس افسر اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے تو بدلے میں اسے کیا ملے گا؟ اس کا متعلقہ علاقے کے حکومتی و عوامی نمائندوں کے مفادات کے خلاف نعرۂ حق بلند کرنا اگلے ہی روز اس کے تبادلے کا سبب بن جائے گا؛ چنانچہ پولیس کے حالات موجودہ نہج تک پہنچانے میں حکومتی و سیاسی اراکین کا کردار اہم رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے گزشتہ حکومتی دور میں کے پی پولیس اصلاحات کا خوب چرچا کرتے رہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا۔ اسی مقصد کے پیش نظر پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ سابق آئی جی کے پی ناصر درانی مرحوم کو پنجاب میں بھی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی مگر افسوس تحریک انصاف حکومت بلند بانگ دعووں تک محدود رہی اورپولیس سے سیاسی اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے کسی طور آمادہ دکھائی نہیں دی؛ ناصر درانی کے استعفے کو بھی اسی سوچ کا شاخسانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ پنجاب پولیس ان کی خدمات سے استفادہ نہ کر سکی۔ ان حالات میں بھی راولپنڈی پولیس نے اعلیٰ کارکردگی میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کھلی کچہری میں 20 ہزار سے زائد افراد کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کرنا یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ میں کسی کی تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہا لیکن یہ سچ ہے کہ محکمہ پولیس میں چند انقلابی اقدامات نے محکمے میں اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ایسا سسٹم صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت پسماندہ علاقوں میں بھی اپنایا جائے۔ مجھے خود سی پی او راولپنڈی کی ایک کھلی کچہری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں سائلوں کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر بڑے احسن طریقے سے باری آنے پر ہر سائل کی شکایات سنی جاتی ہے اور اس کی داد رسی کیلئے فوری طور پر متعلقہ افسر و ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس کا آفیشل سوشل میڈیا پیج بھی کھلی کچہری کا انعقاد کرتا ہے اور یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکوں کی مانند انقلابی اقدامات محکمے کی نیک نامی میں اضافے کے ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان خلیج پاٹنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ شہر میں امن و امان کی بہتر صورتحال اور جرائم میں واضح کمی بالخصوص کار چوری کی وارداتیں کم ہونے پر پولیس افسران لائقِ ستائش ہیں۔ بلاشبہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز ہو چکا ہے۔

پنجاب پولیس جس کا نام سن کر ایک ظالم‘ جابر پولیس کا تصور ذہن میں آتا ہے اسے ایک خوشگوار تبدیلی کے ذریعے واقعی ‘ پولیس کا فرض مدد آپ کی ‘ کے سلوگن میں ڈھالا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس وسائل کا اغوا برائے تاوان اور ریپ کیسز میں استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ لاک ڈائون جیسی آزمائش کی گھڑی میں پولیس پر کئی اضافی ذمہ داریاں بھی آئیں جن سے پولیس بخوبی عہدبرآ ہوئی۔ دکانوں اور کاروبار کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ٹرانس جینڈرز، خواتین و بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت خواتین کیلئے ہراسمنٹ رپورٹنگ یونٹ کی تشکیل اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے شکایات کے ازالہ کیلئے مفید ریفارمز کی گئیں۔ پاک فوج کے علاوہ دیگر سکیورٹی اداروں اور پولیس کے جوانوں نے بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں شہادتیں پائی ہیں اور شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں۔

پولیس والوں کے برے کاموں کا تو خوب شوروغوغا کیا جاتا ہے‘ بدعنوانی، زیادتی اور اختیارات سے تجاوز کی خبریں تو بڑھ چڑھ کر نشر کی جاتی ہیں لیکن ان کی قربانیاں اور اچھے کاموں کی اس طرح کوریج نہیں کی جاتی جو ان کا حق بنتا ہے۔ پولیس کے شہدا و غازی ہنوز پذیرائی سے محروم ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ پولیس آفیسرز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے پولیس کے شہدا کی تصاویر شہر کی اہم شاہراہوں پر آویزاں کر کے ان کو عزت و رتبہ دیا جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کیلئے اس سے بہترخراجِ تحسین نہیں ہو سکتا۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے تاریخی اقدامات کرتے ہوئے ان کی چھٹیوں، میڈیکل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ بہتر پرفارمنس اور بہادری کے جوہر دکھانے والے پولیس اہلکاروں کے لیے نقد انعامات و تعریفی سرٹیفکیٹس اور ناقص کارکردگی کی صورت میں سخت تادیبی محکمانہ کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر حسنِ نیت ہو اور کچھ کرنے کی ٹھان لی جائے تو بہت بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے، جبکہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے اگر محکمانہ اصلاحات کی جائیں تو کم وقت میں یقینا بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آگیا کہ محکمہ پولیس سیاست سے مبریٰ کیا جائے تاکہ پولیس کا مورال بلند ہو اور عوام کی نظر میں پولیس والوں کا ایک بہتر امیج ابھرے جس سے اس ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو اور صحیح معنوں میں یہ قومی خدمتگار ادارہ بن سکے۔

محمد عبداللہ حمید گل

بشکریہ دنیا نیوز

اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے

ہمیں وزیر اعظم عمران خان کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی والا بیان اب سمجھ میں آیا ہے۔ محترم وزیر اعظم اس بیان کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے ذہن میں حوالہ شاید اس بےلگام گفتگو کا تھا جو ان کے تحت چلنے والے نظام میں ان کے پیارے اور چہیتے کسی بھی موضوع پر کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اس گفتگو سے واضح ہوئی جو اس افسر نے موٹر وے پر ریپ ہونے والی خاتون کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کی۔ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔ بیان میں اپنے اندر کی جذباتی کیفیت کو چھپائے بغیر نیم سوالیہ نشان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو شام کے وقت اس طرح باہر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک نام نہاد وضاحتی بیان میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون چونکہ فرانس سے آئی تھیں لہذا ان کے ذہن میں اس معاشرے کا معیار اور ماحول تھا جو پاکستان کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس طرح کے تجزیے ایک ایسے پولیس افسر کی طرف سے، جو تفتیش پر بھی مامور ہو، جرم کا شکار ہونے والے خاندان پر بجلی کی طرح گرے ہوں گے۔ اس بات پر اصرار کہ یہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین واقعے کی بالواسطہ طور پر خود ذمہ دار ہیں، جرم میں شراکت داری کے الزام کے مترادف ہے۔ جرم کا شکار ہونے والوں کو ذہنی اذیت دینا، تفتیش سے پہلے مفروضوں کی بنیاد پر الٹے سیدھے نتائج اخذ کرنا جرم کی نوعیت اور سنجیدگی کو متاثر کرنے کی ایک مذموم کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر کسی بھی معاشرے میں افسر کو تفتیش اور عہدے سے ہٹا کر باضابطہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سی سی پی او خاص آدمی ہیں اور ان کو لانے کے لیے ایک آئی جی کی باقاعدہ قربانی دی گئی ہے لہٰذا ان کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو فارغ کیے گئے آئی جی شعیب دستگیر سے پوچھ لیں یا سلیکشن بورڈ کی اس رپورٹ کو پڑھ لیں جو ان کے تمام کیریئر کا احاطہ کرتی ہے۔

اسی آزادی کا فائدہ شہزاد اکبر نے بھی اٹھایا اور سی سی پی او کے دفاع میں لمبی چوڑی وضاحتیں دیں۔ قوم کو یہ بتایا کہ عمر شیخ کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے۔ ستم طریفی یہ ہے کہ عمر شیخ خود اپنے بیان پر مکمل استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہزاد اکبر کی وضاحتوں کے برعکس بار بار ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ اسد عمر کو بھی اظہار آزادی رائے سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ دانش مندی کے نئے دروازے کھولتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں عمر شیخ کے بیان کو بار بار’غیر ضروری‘ قرار دیتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان کے اس بیان میں کوئی پہلو غیرقانونی نہیں ہے لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بےجا ہے۔  اسی موضوع پر چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کو ایک ڈھیلے ڈھالے اور انتہائی دوستانہ انٹرویو میں سی سی پی او عمر شیخ کے بیانات کی مذمت کرنے کے اتنے ہی مواقع دیے گئے جتنے نقلی ریسلنگ کے مقابلوں میں ایک ریفری اپنے پسندیدہ پہلوان کو بار بار جتوانے کے لیے دیتا ہے۔ مگر ہر مرتبہ عثمان بزدار وہی کہہ سکے جو ان کو رٹوایا گیا تھا یعنی وہ مجرموں تک پہنچ جائیں گے اور کمیٹی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ان کے اظہار رائے پر پابندی صرف ان کی اپنی مجبوریاں ہیں جن کے تحت وہ اس پولیس افسر کو کسی طور غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ اگر اس کو بچانے کے لیے ایک آئی جی گرایا جا سکتا ہے تو چیف منسٹر کے آفس کے اندر بھی ہنگامہ مچ سکتا ہے، لہذا کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سر چھپا کر بیٹھے رہو، دامن پر کسی اصول کا دھبہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ خواہ مخواہ داغ نمایاں نظر آئے گا۔ کیا فائدہ۔ سوشل میڈیا پر ایک چیتے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون ایک بلیک میلر بھی ہو سکتی ہیں اور یہ واقعہ ن لیگ کا سی سی پی او اور حکومت کے خلاف ایک سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس موصوف کے 42 ہزار کے لگ بھگ فالورز ہیں اور یہ اپنے آپ کو ایک قابل فخر جماعت کے کارکن کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔

سی سی پی او عمر شیخ کی قوم کی ماؤں بہنوں کو جاری کردہ ہدایت کہ وہ آئندہ احتیاط کریں، بھی حق اظہار رائے کی ایک قسم ہے۔ اس طرح کی ہدایات ان جیسے افسران سے اٹی ہوئی ریاست اپنے مجبور شہریوں کی مدد کے لیے وقفے وقفے سے جاری کرتی رہتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب قصور میں زینب کے قتل اور زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تو اس ریاست کے طاقتور ترین، محفوظ قلعوں میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے قائدین نے قوم کو کیا مشورہ دیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ ماں باپ کو اپنی بچیوں کی خود حفاظت کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ بےنظیر بھٹو جب دہشت گردی کے ہاتھوں دن دہاڑے لیاقت باغ کے باہر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ایک انگریزی اخبار میں آرٹیکل کے ذریعے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بےنظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ جنرل مشرف، ان کے تمام وزرا اور مشیر (جن سے اس وقت 70 فیصد حکومت بنی ہوئی ہے) طویل عرصے تک بےنظیر بھٹو کی مبینہ بےاحتیاطی کو بیان کر کے اس سانحے کی وضاحت کرتے رہے۔

اخبارات میں آئے روز چھپنے والے بچوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات سے متعلق اکثر پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان بھی ایسا ہی ہوتا ہے جس میں والدین کو اولاد سے نظر ہٹانے پر سرزنش کی جاتی ہے۔ اپنی طرف سے یہ تمام لوگ ایسے بیانات دے کر اپنے فرائض کی انجام دہی کے ریکارڈ کو بہترین انداز سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، مگر اصل میں وہ گھناؤنے جرائم کے وکیل کے طور پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر احتیاط والی توجیہہ کو مان لیا جائے تو پھر ریاست اور حکومت کے کرنے کا کوئی کام نہیں رہ جاتا۔ اے پی ایس پشاور کے بچوں کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دن ان کو سکول سے چھٹی کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔ اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو ان کو وہ دن اپنی تمام تر بدنصیبیوں کے ساتھ نہ دیکھنا پڑتا۔ اسی سوچ کے تحت آپ مجید اچکزئی کی گاڑی کے نیچے آنے والے ٹریفک پولیس والے کے خاندان کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کے آگے سے ہٹ کیوں نہیں گیا۔

قصور گاڑی چلانے والے کا نہیں کانسٹیبل کا تھا جس نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔ ساہیوال کے واقعے میں تلف ہونے والی جانوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا الزام دیا جا سکتا ہے۔ نقیب اللہ مسحود کو بھی موت کا خود ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں جل جانے والے اگر وہاں کام نہ کر رہے ہوتے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جانیں بچ جاتیں۔ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی مکمل ہے۔ وزیر اعظم صحیح کہتے ہیں۔ یہاں پر رائے دینے کے لیے اپنے حواسوں میں ہونا ضروری نہیں۔ ہر مخبوط الحواس خود کو منبع عقل سمجھ کر کچھ بھی بول سکتا ہے۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

شہریوں کی محافظ پولیس

میں اگر یہ عرض کیا کرتا ہوں ہمارا ملک نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ ہی پرانے والا پاکستان ہے۔ یہ کوئی اور ملک ہے جو ہمارے ان سیاستدانوں نے بنایا تھا جو اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے آزاد ملک کی سرزمین پر ہر روز ایسے کئی ظلم ہوتے ہیں جو کہیں رپورٹ نہیں ہوتے یعنی ان کی کوئی شکایت کہیں درج نہیں کرائی جاتی کیونکہ ان مظلوموں کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان کی داد رسی نہیں ہو گی، اس لیے وہ صبر شکر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا فیصلہ ﷲ تبارک و تعالیٰ کی عدالت میں درج کرا دیتے ہیں۔ عوام کے ساتھ زیادتی کرنیوالوں میں کوئی سرکاری محکمہ بھی کسی دوسرے محکمہ سے پیچھے نہیں ہے۔ جہاں جائیں وہاں عوام کو تنگ کرنے والوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور چند منٹوں کا کام دو تین دن کی تاریخ دے کر بڑھا دیا جاتا ہے۔ 

بغیر کسی لالچ کے کام کرنیوالا کوئی دکھائی نہیں دیتا لیکن اکثر محکمے ایسے ہیں جن سے عوام کا واسطہ زیادہ نہیں یا بہت کم پڑتا ہے مگر پولیس کا محکمہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ دن رات کا واسطہ پڑتا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھیں تو پولیس دکھائی دے جاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی چوک تک دور ہوتی ہے ۔ اگر آپ کسی چیز پر سوار ہیں تو پھر پولیس کی اجازت اور مہربانی سے یہ سواری استعمال کر رہے ہیں۔ اگر پیدل ہیں تو آوارہ گردی میں پکڑے جا سکتے ہیں اور   کام پڑ جائے جو پڑ ہی جاتا ہے تو پھر تھانے کے اندر وہی ہوتا ہے جو منکر نکیر آپ کے ساتھ کریں گے۔ اس لیے پولیس کے ساتھ عوام کا واسطہ چونکہ زیادہ پڑتا ہے، اس لیے پولیس دوسرے سرکاری محکموں سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور پولیس کے ساتھ ناراضگی بھی دوسرے محکموں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

ادھر پولیس کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہیں اتنے زیادہ کہ وہ کسی بھی خواہ وہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اسے کسی نہ کسی قانونی دفعہ کے تحت گرفتار کر سکتی ہے اور اسے عدالت کے سپرد کر سکتی ہے جو خود کسی تھانے سے کم نہیں ہے۔ جو خبریں ہم پڑھتے ہیں کہ جیل سے ایک ایسا شخص رہا ہوا ہے جو برسوں تک بلاوجہ جیل میں سڑ رہا تھا تو اس شخص کی مصیبت کا آغاز پولیس سے ہوا تھا۔ سچ یہ ہے کہ پولیس کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہے کیونکہ اس کے اختیارات سے کوئی بھی فرد باہر نہیں ہے۔ پولیس اور عوام کا یہی تعلق اور رابطہ ہے جس کی وجہ سے پولیس ہر کسی کی نظروں میں کھٹکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ پولیس کے اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ان تما م اختیارات کے باوجود گمراہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ فرشتوں کی طرح دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایسے تو کئی ہیں جو قتل کے مقدمے میں کسی بے گناہ کا چالان نہیں کرتے کیونکہ انسان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ میں ایک ایسے علاقے کا باشندہ ہوں جہاں کبھی جرائم بہت ہوا کرتے تھے۔ اب تعلیم کی وجہ سے لوگ عقل مند ہو گئے ہیں اس لیے مجھے پولیس والوں کے بہت قصے کہانیاں یاد ہیں۔ دیہی علاقوں میں چونکہ باہم رابطے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مجرم اور بے گناہ عوام سے چھپے نہیں رہ سکتے اس لیے پولیس بھی زیادہ سنبھل کر چلتی ہے لیکن شہروں میں اسے کھلی چھٹی ہوتی ہے۔ جہاں پر میں روز ٹھنڈی گاڑیوں میں پولیس والوں کو سڑک کنارے آرام کرتے دیکھتا ہوں جو اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی پٹرول کی صورت میں پھونک رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹھنڈی گاڑیوں میں آرام کرنے والوں کے افسران یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ رات گئے گاڑی کا پٹرول چیک کیے بغیر خاتون کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایسے دلخراش سانحے پر بیان داغنا کسی پولیس والے کا ہی کام ہے، عوا م کا کوئی ہمدرد افسر اگر ہو تو وہ ایسے کیس میں عوام کی بات کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان باتوں کا تعین بعد میں ہوتا ہے کہ واقعہ سے پہلے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے یہ وقوعہ پیش آیا۔ لیکن لاہور کے اعلیٰ پولیس افسر نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کے بعد نہ جانے کس زعم میں زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بیان داغ دیا جس کی ہر طبقہ فکر جن میں عوام کے ساتھ حکومت بھی شامل ہے سب نے شدید مذمت کی ہے۔ لاہور میں سڑک کنارے ہونے والے اکیلی خاتون کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ جس نے بھی سنا اس کی زبان سے یہ فریاد نکلی کہ اتنے بڑے ظلم کے ملزموں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہر طبقہ فکر کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مجرموں کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے۔

موٹر وے لنک روڈکے ساتھ واقع گائوں کے مردوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ کی خطیر رقم جاری کر دی گئی ہے تا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعین کیا جاسکے۔ بھلا ہو میڈیا کا جو اس طرح کے عوامی کیس حکومت تک پہنچا کر ارباب اختیار کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ تحقیقات تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ عوامی حفاظت کا وہ کون سا محکمہ ہے جو اس لنک روڈ پرعوام کی حفاطت کا ذمے دار ہے۔ موٹر وے پولیس ہے یا ہائی وے پولیس، لنک روڈ کے لیے کوئی خصوصی پولیس فورس ہے یا ڈولفن پولیس کے دندناتے موٹر سائیکل سوار ہیں ان ذمے داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دینی چاہیے۔ لنک روڈ پرسفر کریں یا موٹر وے پر عوام کو بھاری ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ موٹر وے پر عوام کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  

جو جرم ہوا اس کے ملزمان تو حکومت ڈھونڈ لے گی لیکن جن کی غفلت اس جرم کا باعث بنی ان کو سزا دینا بھی ضروری ہے۔ بعد از خرابی بسیار سیکیورٹی کے لیے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی ٹیمیں تعینات کی گئیں ہے۔ موٹروے پر پیش آنے والے اس دلخراش سانحے کے اگلے ہی روز لاہور اسلام آباد موٹروے پر شیخو پورہ انٹر چینج سے دو کلو میٹر دوردن دہاڑے لوٹ مار کی گئی جس سے مجرموں کی دیدہ دلیری اور پولیس کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ عوام موٹروے پر سفر کو سب سے محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ موٹر وے بھی سفر کے لیے محفوظ نہیں رہے۔ بہر کیف یہ بحث بہت طویل ہے اور نازک بھی کہ میں بھی ایک عام شہری ہوں اور کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقیم رہتا ہوں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ پولیس یاد رکھے کہ عام شہریوں کی حفاظت بھی اس کی ذمے داری ہے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پولیس کی ایسی تیسی

بہتر طرز حکمرانی، سول سروس اور پولیس میں اصلاحات اور انسٹیٹیوشن بلڈنگ کے موضوعات پر بولتے ہوئے میں نے عمران خان کو تمام سیاستدانوں سے آگے پایا۔ اُنہیں جب بھی میں نے سنا ہمیشہ ایسا لگا کہ اُنہیں پاکستان میں گورننس کی خرابی کی وجوہات، سول سروس اور پولیس کے سیاست زدہ ہونے اور سرکاری اداروں کی نالائقی کا سب کا ادراک ہے، اسی لئے وہ ہر بار کہتے رہے، حتیٰ کہ اپنے پارٹی منشور میں بھی اس بات کو شامل کیا کہ وہ سول سروس خصوصاً پولیس کو غیرسیاسی کریں گے۔ افسران کو اُن کی معیاد پوری کئے بغیر تبدیل نہیں کیا جائے گا، سول سروس اور پولیس میں اصلاحا ت لائی جائیں گی، اچھے اور ایماندار افسروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، کرپٹ افسران کا احتساب کیا جائے گا اور سرکاری افسران کے کام میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن افسوس گزشتہ دو برسوں میں جو کچھ وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی میں پوری دنیا نے دیکھا وہ بالکل اُن تصورات اور اُن خیالات کے برعکس تھا، جو خان صاحب ماضی میں پیش کرتے رہے۔

خان صاحب نے بیوروکریسی اور پولیس کو اتنا سیاست زدہ اور کمزور کر دیا کہ اب تو کوئی سرکاری افسر کسی عہدہ پر ایک سال بھی گزار دے تو سمجھا جاتا ہے کہ کمال ہو گیا۔ وفاقی و صوبائی سیکریٹریوں، چیف سیکرٹریز اور آئی جی کا اتنا بُرا حال ہو چکا کہ محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے ساتھ میوزیکل چئیر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور سب سے بدتر صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی ہے جہاں کسی کو کہیں ٹکنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پانچ آئی جی پولیس اور شاید چھ چیف سیکریٹری ان دو برسوں میں پنجاب میں بدل چکے۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کے تعریفیں کر کر کے خان صاحب نہیں تھکتے تھے لیکن خان صاحب کی حکومت جو پولیس اور سول سروس کے ساتھ کر رہی ہے اُسے دیکھ کر ناصر درانی صاحب نے وزیراعظم صاحب سے معذرت کر لی کہ وہ پنجاب میں پولیس ریفارمز کا کام نہیں کر سکتے بلکہ اُنہوں نے یہ ذمہ داری دیے جانے کے چند ہی ہفتوں میں احتجاجاً ایک آئی جی کے غلط طریقہ سے تبدیل ہونے پر استعفا دے دیا تھا۔

اُن کے بعد تو آئی جیز کا پنجاب میں آنا جانا معمول بن گیا اور پولیس مزید سیاست زدہ ہو گئی لیکن گزشتہ روز جو کچھ ہوا اُس نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا بہتر ہو گا کہ پولیس کی اصلاحات کے بجائے ایسی تیسی کر دی گئی۔ آئی جی کے خلاف اُس کے ماتحت کمانڈ افسر نے لاہور پولیس کے افسران کے سامنے سخت باتیں کیں جس پر اُس ماتحت افسر کے بجائے وزیراعظم عمران خان نے آئی جی ہی کو بدل دیا۔ ماتحت افسر بھی وہ جس کو خان صاحب نے خود ہی دو ماہ قبل اس لئے گریڈ 21 میں پروموٹ نہیں کیا کہ خان صاحب نے اُس افسر کی کارکردگی اور ریپوٹیشن کو خراب پایا۔ وزیراعظم کو اس افسر کے بارے میں جو انٹیلی جنس رپورٹ ملی وہ بھی بہت سنگین تھی جبکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات اور بورڈ کی اس افسر کے بارے میں رائے بھی بہت منفی تھی، جس کو منظور کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس افسر کو ترقی نہیں دی جس کے لئے دو ماہ کے بعد ہی پنجاب کے آئی جی کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جن سفارشات کو منظور کیا اُس کے مطابق ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوایشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔ بورڈ نے اپنے مشترکہ فیصلے، جس کو وزیراعظم نے منظور کیا، میں کہا کہ مذکورہ افسر سی کیٹگری کا ہے اور اس کی ترقی کا معاملہ سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ترقی کیلئے مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتا۔ دو مہینوں میں ایسا کیا معجزہ ہوا کہ وہ افسر جسے وزیراعظم نے ترقی دینے سے انکار کیا اور سی کٹیگری ڈکلیئر کیا وہ اے کیٹیگری ہو گیا اور اُسے لاہور جیسے اہم ترین شہر کا نہ صرف پولیس سربراہ لگا دیا بلکہ اُس کی اپنے آئی جی کے خلاف پولیس کے افسروں اور جوانوں کے سامنے تقریر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے آئی جی کو ہی بدل ڈالا۔ عمران خان نے جو کیا اُسے میں تو سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس اور سول سروس کو مکمل تباہ کر کے خان صاحب نئے سرے سے دوبارہ کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر واقعی پولیس و سول سروس کو وہ تباہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

پنجاب پولیس نے ڈکیتی کے ملزم کے گھر کا کرایہ کیوں ادا کیا ؟

عام طور پر جب پولیس کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں چھاپے، گرفتاریاں، تفتیش اوربکتر بند گاڑی آتی ہے۔ لیکن تھوڑا اپنے دل میں نرمی پیدا کیجیے کیونکہ تصورات کے برعکس آپ کی ملاقات پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے سول لائن پولیس اہلکاروں سے ہونے جا رہی ہے جنھوں نے ڈکیتی کے ملزم کی مشکلات کم کرنے میں اس کے خاندان کی مدد کی۔ وبا کے دنوں میں اگر کوئی آپ کے مکان کے کرائے کی ادائیگی اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے مالی مدد کر دے تو یہ کسی معجزے سے کم تو نہیں مگر یہاں معاملہ ایک منفرد ڈکیتی اور پولیس تحقیقات کا ہے۔

جب اندھی ڈکیتی کی تفتیش نے پولیس کی آنکھیں کھول دیں
سول لائن تھانے کی پولیس نے بتایا کہ چند روز قبل انھوں نے ایک اندھی ڈکیتی کا ناصرف سراغ لگا لیا تھا بلکہ لوٹی ہوئی رقم بھی برآمد کر لی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں انھوں نے اس ڈکیتی سے جڑے تمام ٹھوس شواہد اکھٹے کر لیے تھے جنھیں عدالت میں جھٹلانا تقریباً ناممکن ہو گا۔ پولیس مزید تفتیش سے متعلق اپنی فائل بند کرنے ہی والی تھی کہ ایک خاتون اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ تھانے کے اندر داخل ہوئیں اور فرش پر بیٹھتے ہی کہا کہ وہ ملزم کی اہلیہ ہیں اور یہ ان کے پانچ بچے ہیں۔ پولیس اس وقت ششدر رہ گئی جب خاتون نے کہا کہ ہم ملزم کو چھڑانے نہیں آئے بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ ہمیں بھی تھانے میں رکھا جائے۔ اس سے پہلے کہ پولیس کچھ کہتی خاتون نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے پولیس کو کہا کہ ان کے ساتھ ہمیں بھی جیل بھج دیں، کم از کم ان پانچ بچوں کو کھانا تو مل جائے گا۔ پولیس کے مطابق تھوڑا توقف سے خاتون نے انھیں بتایا کہ ’ہمارے گھر میں کئی دن سے فاقے ہیں، تین ماہ کا کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اب مالک مکان نے بھی آخری وارننگ دے دی ہے، جس کے بعد چھت بھی نہیں رہے گا۔ جیل میں کم از کم چھت تو ہو گی۔’ یہ سننے کے بعد پولیس نے جو کیا اس کی تفصیل ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے، لیکن پہلے اس واقعے سے متعلق کچھ اہم حقائق پر نظر دوڑاتے ہیں۔

ملزم نے ڈکیتی کیوں کی؟
ڈی ایس پی سول لائن ایریا گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ ملزم گوجرانوالہ میں غیر معروف نہیں ہے۔ ملزم شہر میں کافی عرصے سے دہی بھلے کی ریڑھی لگا رہا تھا مگر جب سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی تو اس کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ جب سے لاک ڈاؤن ہوا تو رش نہ بننے کے خدشے کے باعث انھیں مرکزی مقامات پر ریڑھی لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ ملزم نے بتایا کہ انھوں نے چھپ کر گلی کوچوں میں محنت مزدوری کرنے کی کوشش بھی کی مگر اس سے روزانہ صرف سو، دو سو روپیہ ہی بچ پاتے تھے، جس سے مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے ہونا مشکل ہو گئے تھے۔

پولیس نے ملزم کے گھرانے کی مالی مدد کیسے کی؟
ملزم کی اہلیہ کے تھانے میں آ کر بیان دینے کے بعد پولیس نے علاقے کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو انھیں معلوم ہوا کہ ان خاتون کی باتوں میں سچائی ہے۔
پولیس نے ملزم کے گھر والوں کی مالی مدد کے لیے تھانے میں ایک فنڈ قائم کیا جس میں سب پولیس والوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔ پولیس نے تین ماہ کے کرائے کے علاوہ ملزم کی اہلیہ کی کچھ مالی اعانت بھی کی۔ ملزم کی اہلیہ نے صحافی زبیر خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاوند نے ان سے کہا تھا کہ ’میرے پیچھے تھانے، عدالت اور جیل میں نہ آئیں، یہ اچھی جگہیں نہیں ہیں۔‘ ملزم کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی تسلیوں کے بعد وہ گھر آگئیں لیکن ’دوسرے دن پولیس پھر آئی تو مجھے لگا کہ لوگ ٹھیک کہتے تھے کہ پولیس ہم سب کو گرفتار کرے گی۔ لیکن ہمیں گرفتاری کا ڈر نہیں تھا۔‘ ’اس سے پہلے کے وہ ہمیں کہتے کہ تھانے چلو انھوں نے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ یہ مکان کا کرایہ اور یہ کچھ پیسے جس سے گھر والے کچھ دن سکون سے گزر بسر کر سکیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مجھے شدید حیرت ہوئی اور میں پولیس کا یہ رویہ دیکھ کر رو پڑی۔

کورونا وائرس بے روزگاری میں اضافے کا سبب
پائیدار ترقی سے متعلق تحقیقاتی ادارے (سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ) کے مطابق لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دوران نقد رقم کی کمی بھی بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوا ہے۔ پاکستان میں کئی چھوٹے کاروبار اپنے قرض لوٹانے کے علاوہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے ان ملازمین کو فارغ کرنا پڑا ہے۔ تحقیق کے مطابق نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے دس لاکھ کے قریب چھوٹے کاروبار بند ہو گئے ہیں اور اپریل میں ان کی آمدنی میں 50 فیصد کمی نظر آئی۔ پاکستان میں محنت کشوں پر تحقیق کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار لیبر ریسرچ کے مطابق ملک میں روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد تقریباً 26 ملین ہے۔ ان میں سے تقریباً پانچ ملین کو معاوضہ روزانہ کی بنیاد پر جبکہ چار ملین کو ہفتہ وار معاوضہ ملتا ہے۔

حال ہی میں گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان نے اپنے سروے میں بتایا ہے کہ کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران گذشتہ ایک ہفتے میں پاکستان کے 21 لاکھ خاندانوں کو گھر کا سامان بیچ کر ضرورتیں پوری کرنا پڑیں۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں کسی ملزم نے اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قانون توڑا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا روزگار کے ذرائع کم ہونے سے ہو رہا ہے۔ حال ہی میں سٹیٹ بینک نے قرض لینے کی شرائط میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق اپنے ملازمین کو فارغ نہ کرنے والے چھوٹے کاروبار، مالی اداروں سے قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔

محمد زبیر خان
بشکریہ بی بی سی اردو

عمیر، منیبہ اور ہادیہ کیا کریں گے ؟

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو محمد عمیر ولد محمد خلیل کا تحریری بیان کچھ یوں ہے کہ انیس جنوری کو میں، ماں نبیلہ ، پاپا خلیل ، بڑی بہن اریبہ اور دو چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ صبح تقریباً آٹھ بجے سفید آلٹو گاڑی میں نکلے جسے ہمارے ہمسائے انکل ذیشان چلا رہے تھے۔ جب ہماری گاڑی ساہیوال قادر آباد کے قریب پہنچی تو پیچھے سے اچانک کسی نے ہماری گاڑی پر فائرنگ کی اور گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کے رک گئی۔ پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے ۔ ان میں سے چند نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے فوری فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔ پھر فائرنگ رکی اور ایک پولیس اہلکار نے کسی کو فون ملا کر بات کرنا شروع کر دی ۔ اتنے میں پاپا نے انہیں کہا ہمیں نہ مارو ، ہمیں معاف کر دو ، ہم سے پیسے لے لو ، تلاشی لے لو ہمیں مت مارو۔ فون پر بات کرنے والے پولیس اہلکار نے فون بند کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے دوبارہ گاڑی پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔

میرے پاپا خلیل، ماما نبیلہ، بڑی بہن اریبہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ میری ٹانگ اور منیبہ کے ہاتھ پر گولی لگی ۔ پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو ایک دم سیٹ کے نیچے اپنے پاؤں میں لٹا لیا اور خود ہمارے اوپر آ گئیں۔ یوں ہماری جان بچ گئی ۔ کچھ دیر فائرنگ کرنے کے بعد پولیس والوں نے مجھے اور میری دو چھوٹی بہنوں منیبہ اور ہادیہ کو گاڑی میں سے باہر نکالا پولیس ڈالے میں ڈالا اور گاڑی پر پھر فائرنگ کی۔ ہم تینوں رو رہے تھے اور سخت خوفزدہ تھے۔ پولیس والے ہمیں ڈالے میں ڈال کر جائے وقوعہ سے چل پڑے اور تین چار کلو میٹر آگے ایک ویرانے میں اتار دیا۔ میں اور منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے کراہتے رہے۔

کچھ دیر بعد ایک انکل نے اپنی گاڑی میں قریبی پٹرول پمپ پر لا کے چھوڑ دیا۔ وہاں پھر وہی پولیس والے دوبارہ آ گئے اور ہمیں ڈالے میں بٹھا کر ہسپتال چھوڑ دیا۔ کچھ دیر بعد وہاں میرے چاچو اور تایا جلیل اور جمیل آ گئے جنہیں میں نے سب بتا دیا۔ عمیر کی عمر لگ بھگ دس برس اور اس کی دو چھوٹی بہنوں منیبہ اور ہادیہ کی عمر سات برس اور تقریباً پانچ برس بتائی جا رہی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ابھی ان بچوں کو اور کس کس کے روبرو یہ کہانی کتنی بار سنانا پڑے گی۔ان بچوں سے کون کون کیا کیا سوال کرے گا ؟ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ اس سانحے کے کس کس ذمہ دار سے کیا قانونی سلوک ہوگا یا نہیں ہو گا۔

ممکن ہے تمام زمہ دار کیفرِ کردار تک پہنچ جائیں یا پھر بری ہو جائیں، ممکن ہے جھوٹ سچ پر غالب آ جائے یا سچ کا بول بالا ہو جائے۔ ممکن ہے ریاستی ادارے خود کو بچانے کے لیے ان بچوں کے سامنے ڈٹے رہیں یا پھر بچوں کو انصاف دلانے کے لیے ڈٹ جائیں۔ فی الحال کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ انکل ذیشان دھشت گرد تھے کہ نہیں۔ ممکن ہے انکل ذیشان کی سینیٹ میں گواہی کے لیے پیش ہونے والی والدہ کو ایک دن صبر آ ہی جائے ۔ نقیب اللہ محسود یا اس جیسے بیسیوں کو انصاف نہ بھی ملا تب بھی ان کے ورثا کو ضرور معلوم ہو گا کہ کیوں نہیں ملا۔
مگر عمیر، منیبہ اور ہادیہ کی زندگی تو ابھی شروع ہو رہی ہے ۔ کوئی نہیں جانتا اس زندگی نے ان تینوں کی قسمت میں کیا کیا ہونا لکھا ہے۔ ابھی وہ سکول جائیں گے ، زرا بڑے ہوں گے تو اخبار اور چینل پر نشر ہونے والی خبریں اور تجزیے سمجھنا شروع کریں گے۔

جب انہیں پتہ چلے گا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیکورٹی اہلکار کیا کرتے ہیں، جب وہ فلسطینیوں اور مسلح اسرائیلی اہلکاروں کے حاکم و محکوم والے تعلق کی خبر پڑھیں گے اور جب انہیں کلاس ٹیچر یہ بتائے گی کہ پاکستان بنانے والوں نے یہ ملک کیا سوچ کر بنایا تھا ۔ اور جب وہ بھانت بھانت کے سیاستدانوں، دانشوروں ، ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں ،جنرلوں اور مولویوں سے قانون ، اخلاق ، انسانیت ، حب الوطنی اور رسول اللہ کی تعلیمات پر مسلسل روشنی پڑتے دیکھیں گے تو عمیر ، منیبہ اور ہادیہ ان مثالوں اور اپنے چشم دید تجربات کو کس طرح جوڑ کر کیا تصویر بنائیں گے ۔ کون جانے ؟ ابھی تو عمیر منیبہ اور ہادیہ کو بہت جینا ہو گا ۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

ایک ماں جو رات کو سوتے ہوئے ڈرتی ہے

’’میں دہشت گرد کی ماں نہیں ہوں‘‘، ’’اگر میرا بیٹا دہشت گرد تھا تو مارا کیوں؟ اسے زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا ؟ انڈیا کے جاسوس کو زندہ گرفتار کر لیا، تو کیا میرے بیٹے کو زندہ نہیں پکڑ سکتے تھے؟‘‘، ’’میرے گھر جا کر دیکھیں ہمارا حال کیا ہوا ہے؟‘‘، ’’ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، روتے ہیں، ہماری ایک بچی ہے، اُسے لوگ کیا کہیں گے کہ تم دہشت گرد کی بیٹی ہو؟ مجھے کہیں گے کہ تم دہشت گرد کی ماں ہو، برائے مہربانی آپ نے جو یہ (دہشت گرد کا) لیبل لگایا ہے، اسے ہٹا دیں، ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، میں رات کو سوتی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے‘‘، یہ دہائی ساہیوال پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ذیشان جاوید کی ضعیف اور معذور والدہ نے اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے دی تو وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔

قارئین غور کریں تو یہ ماں اپنے بیٹے کے قتل کیے جانے پر کچھ اور نہیں مانگ رہی، وہ یہ بھی شکایت نہیں کر رہی کہ اُس کے بیٹے کو کیوں مارا گیا وہ تو رو رو کر بس اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ اُس کے مارے جانے والے بیٹے کو کم از کم دہشت گرد تو نہ کہیں۔ جو سوال اس ماں نے اٹھایا، وہ ہر دوسرا شخص پوچھتا ہے کہ اگر ذیشان دہشت گرد تھا تو زندہ کیوں نہ پکڑا ؟ اگر کلبھوشن کو زندہ پکڑا جا سکتا تھا تو اس کے بیٹے کو دہشت گرد قرار دے کر‘ بغیر کسی عدالتی فیصلے کے کیوں دن دہاڑے قتل کر دیا گیا ؟ اِس ماں کو، اس کی بیوہ بہو اور پوتی کو ذیشان کے مرنے پر صبر تو آ ہی جائے گا لیکن ایک دہشت گرد کی ماں، ایک دہشت گرد کی بیوہ اور ایک دہشت گرد کی بیٹی کے لیبل کے ساتھ وہ معاشرے میں کیسے زندہ رہ سکتی ہیں؟

نہ سینیٹ کی کمیٹی کے پاس اس ماں کے سوالات کے جواب تھے اور نہ ہی حکومت ان سوالات کا ابھی تک کوئی جواب دے پائی ہے۔ یہ کیسا دہشت گرد تھا جو لاہور کے ایک محلے میں گزشتہ تین دہائیوں سے رہائش پذیر تھا جس کے ہمسائے اور رشتہ دار اُس کے اچھے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ کیسا آپریشن تھا جس میں ذیشان کو دہشت گرد قرار دے کر سب سے پہلے اُسے مارنے کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی تکمیل میں تین معصوم جانوں کو بھی اس لیے بے دردی سے قتل کر دیا گیا کہ وہ اُس گاڑی میں سوار تھیں جسے ذیشان چلا رہا تھا۔ مرنے والی تیرہ سالہ اریبہ کو پہلے گاڑی سے باہر نکالا گیا لیکن پھر اندر دھکیل کر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اُس کو اُس کے ماں باپ کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گولیاں تو اس ظالمانہ کارروائی میں بچ جانے والے اریبہ کے چھوٹے بھائی اور بہنوں کو بھی لگیں۔

کوئی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس رپورٹ دینے والوں کو پوچھنے والا ہے کہ اگر ذیشان دہشت گرد تھا یا اُس کا دہشت گردوں سے تعلق تھا تو اُسے پکڑا کیوں نہ گیا، اُس کے خلاف کوئی ایف آئی آر کیوں نہ کاٹی گئی۔ وہ تو سب کے سامنے گزشتہ تین دہائیوں سے ایک ہی محلے میں رہتا تھا، نہ افغانستان میں چھپا تھا اور نہ ہی کہیں اور غائب ہوا۔ اُسے بڑے آرام سے پکڑ کر پوچھ گچھ کی جا سکتی تھی۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ کسی فرد کو دہشت گرد قرار دے کر پہلے جان سے مار دو اور پھر ثبوت ڈھونڈو۔ ذیشان کی فیملی کا تو کیا حال ہو گا، جب اُس کے ساتھ قتل کیے گئے خلیل، اُس کی بیوی اور بیٹی (جن کے بارے میں حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ وہ بے قصور تھے اور ناحق مارے گئے) کے ورثاء اور اُن کے وکیل تک یہ شکایت کرتے ہیں کہ اُن کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

ذیشان کی والدہ نے تو پارلیمانی کمیٹی سے کہا کہ وہ پچیس سال سے اس علاقے کے رہائشی ہیں لیکن کبھی ان کے بیٹے ذیشان کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ اگر یہ ماں سچائی پر نہیں تو پھر حکومت اور اس کے اداروں کو اتنے دن گزرنے کے باوجود ذیشان کے خلاف کوئی ثبوت کیوں نہ ملا ؟ جو بات ذیشان کی والدہ نے کی، اُس کی گواہی تو تحریک انصاف کی خاتون ایم این اے عندلیب عباس نے بھی دی۔ عندلیب کا کہنا تھا کہ ذیشان کی والدہ کا اُن کے ہاں آنا جانا تھا، ذیشان اُن کے بچوں کی طرح تھا اور وہ ان کے بچوں کے ساتھ ہی کھیلتا تھا۔ عندلیب نے کہا کہ ایک تو آپ کا بچہ مارا جائے اور اوپر سے بغیر تحقیق کے یہ کہا جائے کہ وہ دہشت گرد تھا ۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے کسی کے بچے کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟ عندلیب نے یہ بھی کہا کہ وہ ذیشان کی فیملی کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی۔ معلوم نہیں وہ ایسا کر سکیں گی کہ نہیں لیکن میری اُن سے درخواست ہے کہ کم از کم حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس بات کا تو پابند بنا دیں کہ جب تک کوئی آزاد ادارہ ذیشان کے دہشت گردی کے ساتھ تعلق کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتا، اُسے دہشت گرد نہ کہا جائے۔ افسوس کہ حکومتی وزراء تو اب بھی وہی کہانی دہرا رہے اور اس بات پر بضد ہیں کہ ساہیوال آپریشن درست تھا۔ افسوس صد افسوس!

انصار عباسی

ہمیں کپتان واپس چاہیے

ہم بنیادی طور پر تماش بین ہیں۔ ڈگڈگی بجتی ہے، تماشا ہوتا ہے، تالیاں بجتی ہیں اور ہم گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ مداری کے اشاروں پر رقصاں یہ جسم سوال تک نہیں پوچھتے کہ ناچنا کب تک ہے اور رقص کیسا ہے۔ مداری جانتا ہے کہ یہ تماشا ختم ہوا تو اس کا روزگار بھی جاتا رہے گا اور اس کی ذات بھی توجہ کی محور نہیں رہے گی۔ احساس سے مبرا اس معاشرے میں ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن ہم بے حس، جذبات سے عاری دو لائنیں پڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں۔۔۔ اور آگے نکل جاتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے چائے کی پیالی میں طوفان تھا کہ سانحہ ساہیوال میں بے گناہوں کے قتل کا انصاف کب ملے گا ؟ واواکار تھی کہ خلیل، ذیشان، نبیلہ اور تیرہ سالہ اریبہ کے قاتل کب گرفتار ہوں گے؟

ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے لال رنگ کے بریکنگ نیوز کے پھٹے چیخ رہے تھے۔ پروگراموں کے میزبان گلو گیر لہجوں میں نقلی مکالمے ادا کر رہے تھے۔ ٹکر کی جنگ جاری تھی۔ لگتا تھا کہ کہیں اور نہ سہی، مگر ٹی وی پر تو انصاف ہو ہی جائے گا۔ پھر وہی ہوا۔ وزیراعظم نے وزیراعلی کو اسلام آباد طلب کر لیا، پولیس سے رپورٹس منگوا لی گئیں۔ انصاف جلد از جلد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں اور پھر فائل بند ۔ ایوان صدر کے دروازے پر لگی انصاف کی گھنٹی بھی بج اٹھی۔ خلیل اور ذیشان کے خاندانوں کو اسلام آباد بلا لیا گیا۔ شاہراہ دستور پر خوب گھمایا پھرایا گیا اور پھر معلوم ہوا کہ صدر صاحب کراچی میں ہیں۔ بلایا ایوان صدر نے نہیں بلکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تھا۔ یہ تماشا انصاف کی عدالتوں کے سامنے ہوا مگر صرف ایک ہفتے میں یہ عدالتیں کسی اور بریکنگ میں مصروف تھیں۔

انصاف کے پیمانے پر پورا اترنے والی حکومت کو یاد بھی نہیں کہ ان کے دور اقتدار کے پہلے چھہ ماہ میں ہی ان کی حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس سامنے آگیا۔ حیران کن بات ہے کہ تقریباً دو ہفتے گزر جانے کے باوجود تا حال نہ تو فورانزک رپورٹس سامنے آئی ہیں اور نہ ہی تحقیقات میں پیش رفت۔ جے آئی ٹی کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ جلد انصاف کے سارے نعرے دم توڑ چکے ہیں اور وزیروں کے تبدیلی بارے بے ہنگم شور میں کوئی آواز سنائی نہیں دے پا رہی۔ فرض کریں یہ واقعہ، جس میں چار نہتے افراد کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں، قتل کر دیا گیا ہو، کسی اور جماعت کے دور میں ہوتا۔ جیسا کہ گذشتہ دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، تو تحریک انصاف کا کیا رد عمل تھا۔۔۔ اور کیا ردعمل ہوتا۔

وزیراعظم، جو اُس وقت اپوزیشن میں تھے، ہر روز ایک پریس کانفرنس کرتے۔ ہر ٹی وی ٹاک شو پر نمودار ہوتے اور انصاف کا تقاضا کرتے مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ انھیں اقتدار مل چکا ہے اور کم از کم اتنے سے انصاف کے لئے اختیار بھی۔ ہمیں وہی والا کپتان واپس چاہئیے جو کم از کم مظلوموں کے لیے پریس کانفرنس تو کر لیتا تھا۔ اور خاتون اوّل بھی تو بہت حساس دل کی خاتون ہیں نا! خدارا خلیل اور ذیشان کے خاندان کو محض مخالف سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کی سزا نہ دیں۔ خدارا خلیل کے یتیم بچوں کو بے سہارا نہ کریں، ان معصوموں کے مستقبل کو بچائیں۔ اے کاش خاتون اوّل بس ایک بار ان بچوں کی خاطر کپتان کا کندھا ہلا کر کہیں کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے اپوزیشن میں ہی آ جائیں اور ایک پریس کانفرنس ان بچوں کے لئے ہی کر دیں۔۔۔ شاید انھیں انصاف مل جائے۔

عاصمہ شیرازی
بشکریہ بی بی سی اردو

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سُراغ

ساحر نے ٹھیک ہی تو کہا تھا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سُراغ

سازشیں لاکھ اُڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

ساہیوال کے قریب پولیس گردی کے ہاتھوں خلیل اور اُس کے خاندان کے خون سے کھیلی گئی ہولی کا پردہ تو سہمے ہوئے بچے کی گواہی نے چاک کر دیا تھا۔ اپنے باپ، ماں اور بہن کا خون معصوم بچے کے ذہن پر جم گیا تھا اور وہ بول اُٹھا کہ اُس کے بابا خلیل نے پولیس والوں کی منتیں کیں، لیکن سب کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ تیرہ سالہ بہن نے باہر نکلنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ بھی موت کی نیند سلا دی گئی کہ گواہی نہ دے پائے۔ ایک قومی شاہراہ پہ دن دیہاڑے نہتے شہریوں کے قتلِ عام کی شہریوں ہی نے جو ویڈیوز بنائیں وہ وائرل ہو گئیں۔ اور ہر کسی نے دیکھا کہ نہ فرار کی کوشش، نہ پولیس کی مزاحمت کی گئی، نہ مبینہ دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور وہ بے بسی سے ریاستی قاتلوں کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن گئے۔ خلیل، اُس کی بیوی اور بچی کو جس بے رحمی سے بھونا گیا، اُس نے ہر خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ یہ ہیں ہماری زندگیوں کے محافظ جو زندگیاں خون میں نہلانے پہ تُلے ہیں۔

سرکاری اداروں کے بے حس ترجمانوں کے بدلتے جھوٹے بیانات اور وزرا کی منافقانہ پردہ پوشیوں نے عوامی ردِّعمل کو اور بھڑکا دیا۔ کبھی کہا گیا کہ سوزوکی گاڑی میں داعش سے جُڑے دہشت گرد جا رہے تھے، دھماکہ خیز مواد اور خود کُش جیکٹس لے جائی جا رہی تھیں، بچے اغوا کیے جا رہے تھے۔ سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ اور وزیرِ داخلہ نے ایک مبینہ دہشت گرد کی نشاندہی کرتے ہوئے باقی مارے جانے والوں کو کولیٹرل ڈمیج قرار دے کر قصہ نمٹانے کی کوشش میں اپنی حکومت کی ساکھ گنوا دی۔ لے دے کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ فیصل اصغر نے پنجاب اسمبلی کو جو اِن کیمرہ بریفنگ دی اُس میں خون آشام کارروائی کا جواز ذیشان نامی شخص کے داعش کے ایک گروہ سے مبینہ تعلق سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ذیشان کا کسی دہشت گرد گروہ سے کوئی تعلق بھی تھا تو ذیشان، جلیل اور اُس کے خاندان کے سرنڈر کر دینے کے باوجود کس قانون، کس اختیار اور کس کے حکم پر چار لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس سب کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ کوئی وضاحت۔

ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ انٹیلی جنس کی بنیاد پہ کیے گئے نام نہاد پولیس مقابلوں کی صورت میں کب سے جاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی بولنے والا۔ گزشتہ برسوں میں ہزاروں لوگ اس طرح کی کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں، نہ کوئی تفتیش ہوئی نہ احتساب۔ دہشت گردی کے عفریت سے کڑے ہاتھوں سے نپٹنا جہاں ضروری تھا، وہیں بندوق بردار سرکاری اہلکاروں کو کسی قانونی ضابطے، جوابدہی اور ضابطۂ عمل کا پابند بنایا جانا بھی ضروری تھا۔ ہزاروں لاپتہ کر دیئے گئے اور اعلیٰ عدلیہ اور لاپتہ افراد کا کمیشن ان لوگوں کا سراغ لگانے میں بے بس پائے گئے۔ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ میں تو یہ کام بڑے پیمانے پہ ہوا اور پنجاب میں ماورائے عدالت کے واقعات پراسرار خاموشی کے پردوں میں چھپے رہے۔ تاآنکہ ساہیوال میں پولیس گردی نے خفیہ آپریشنز کی ہولناکی سے پردہ اُٹھا دیا۔

شہریوں کے حقِ زندگی پہ ڈاکہ ڈالنے کا اختیار ریاست اور اس کے کسی انتظامی ادارے کو نہیں۔ نہ ہی اپنے ہی شہریوں کو اغوا کر کے غائب کر دینے کا اختیار کسی کو حاصل ہے۔ نہ ہی ریاست کو حق ہے کہ وہ کسی شہری کے ساتھ وہ سلوک کرے جو ساہیوال میں ایک معصوم خاندان کے ریاستی قتل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس پر ہر شخص، ہر جماعت اور ہر ادارے کو غور کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی دہشت گردی کے جواز ڈھونڈے جائیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرتے کرتے ریاست ہی دہشت پسند ہو جائے۔ ایسے میں بے بس اور ہراساں شہری سیاستدانوں میں جاری بیہودہ الزام بازی پہ خون کے آنسو نہ روئیں تو کیا کریں۔ تحریکِ انصاف جو حکومت میں ہے اس پہ پردہ ڈالنے میں مصروف ہے اور مسلم لیگ نواز کو ماڈل ٹائون کا قتلِ عام یاد دلا رہی ہے اور مسلم لیگ نواز ہے کہ لاہور کے ایک خاندان کے قتل پہ عوام کی داد رسی کے لیے سڑکوں پہ احتجاج کے لیے تیار نہیں۔

نہ ہی پیپلز پارٹی والے کہیں عوام کے دُکھ سکھ میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ عدالتِ عظمی کراچی میں ہزاروں عمارتیں گرانے پہ تو مصر ہے، لیکن ریاستی بربریت پہ انسانی حقوق کے دفاع پہ خاموشی طاری ہے۔ نقیب اللہ محسود کے نام نہاد پولیس مقابلے کی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے اور مقتولین کو دہشت گردی کے الزامات سے تو بری کر دیا گیا ہے لیکن رائو انوار آزادانہ دندناتا پھر رہا ہے کہ وہ پولیس کا رول ماڈل ہے۔ ایسے میں پولیس اصلاحات کی باتیں لغو لگتی ہیں جب قانون کی پروانہ کرنے والے پولیس آفیسر دبنگ افسر کہلاتے ہیں۔ 100 ماڈل پولیس تھانوں کا قیام اور نیا پولیس قانون کیسے قانون نافذ کرنے والوں کے ذہن اور کیریکٹر کو بدل سکتا ہے؟

ریاستی جبر کے اداروں کا قیام برطانوی سامراج نے جنتا کو غلام بنانے اور دبانے کے لیے کیا تھا اور ان اداروں کا عوام دشمن کردار پاکستان کے خواص اور حکمرانوں کے لیے برقرار رکھا گیا۔ اس سے زیادہ المناک بات کیا ہو گی کہ جو خلیل اور اُس کے خاندان کے قاتل ہیں وہی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں ہیں۔ اس سے زیادہ مفادات کا ٹکرائو (Conflict of Interest) کیا ہو گا ؟ جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماضی میں ایسے واقعات پر قائم کیے گئے کمیشنوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی تو سامنے نہیں آئے۔ ایسے میں کوئی کسے وکیل کرے اور کس سے منصفی چاہے۔

امتیاز عالم

کمسن اریبہ لائق طالبہ اور بہترین نعت خوان تھیں

قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے خلیل، ان کی بیوی اور 13 سالہ بیٹی اریبہ خلیل کو حکومت نے تحقیقات کے بعد بے گناہ قرار دیا ہے۔ اس واقعہ میں ہلاک ہونے والی کمسن اریبہ کے بارے میں ان کے خاندان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایک لائق طالبہ تھیں اور ایک بہترین نعت خوان بھی جس نے چھٹی جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ اریبہ کی چچی صادقہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ شادی کے بعد اپنے سسرال آئیں تو اس وقت اربیہ پانچ سال کی ’بہت پیاری بچی تھی۔‘ وہ گھر کی پہلی اور بڑی بچی ہونے کی وجہ سے بہت لاڈلی بھی تھی، ہر کوئی اس کے ناز نخرے اٹھاتا اور اس پر جان نچھاور کرتا تھا، ’میں آپ کو کیا بتاؤں کہ اس کو کتنا پیار ملا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی وہ انتہائی خوش مزاج اور ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی۔ ’وہ مجھ سے بہت مانوس تھی اور میرے ساتھ اس کا بہت پیار تھا۔ وہ اکثر ہمارے کمرے میں آ کر بیٹھتی اور بہت پیاری پیاری باتیں کرتی تھی۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’اریبہ اپنے چچاذاد بہن اور بھائی کا خیال رکھتی، اکثر ایسا ہوتا کہ اگر ہمیں کہیں جانا پڑتا تو اریبہ سے کہتے تھے کہ وہ بچوں کو سنبھال لے اور تھوڑا گھر کا کام دیکھ لے اور وہ یہ سب خوشی خوشی کر لیتی تھی۔‘ ’اپنے کسی چچا اور چچی کی معمولی سے تکلیف پر تڑپ اٹھتی، جب اس کے چچا رات گئے گھر آتے تو وہ ان سے کھانے کا پوچھتی اور ان کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتی تھی۔‘

صادقہ کا کہنا تھا کہ اریبہ میں کچھ بننے کی لگن تھی اوراس کے والدین کا بھی اس کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا خواب تھا۔ اربیہ کو نہ صرف خود ڈاکٹر بننے کا شوق تھا بلکہ اس کی والدہ کو تو اریبہ کو ڈاکٹر بنانے کا جنون تھا۔ انھوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا ’اب بتائیے نا کہ اریبہ اور اس کےوالدین کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوا وہ اس کے حق دار تھے؟ وہ تو شادی کی خوشیاں منانے گئے تھے اور اریبہ تو گذشتہ ماہ سے شادی کی تیاریاں کر رہی تھی ۔ اریبہ کی والدہ نےاس کی خواہش کے مطابق اریبہ کی پسند کے کپڑے دلائے تھے۔` ’جس وقت وہ شادی پر جارہی تھی بہت خوش تھی اور گھر سے جاتے وقت اس نے پرانے کپڑے پہنے تاکہ نئے کپڑے شادی پر پہن سکے۔ مگر اس کو کپڑے پہنے کا موقع کیا ملتا پولیس تو اس کا اٹیچی بھی ساتھ لے گئی۔`

انھوں نے الزام لگایا کہ ’میں نے خود دیکھا تھا کہ اس کے کانوں سے بالیاں بھی کھینچی گئیں تھیں۔ میں نے ننھی اریبہ کے ساتھ کتنا ظلم دیکھا یہ میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی ہوں میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔` انھوں نے مزید کہا کہ ’اریبہ نے شادی پر جاتے ہوئے خصوصی طور پر مجھ سے ملاقات کی اور میری بیٹی مناہل کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ اریبہ کی والدہ نے بھی مجھ سے اریبہ کی خواہش پوری کرنے کی درخواست کی لیکن میں نے کہا کہ آپ جائیں ہم بعد میں آئیں گے جس پر اریبہ مسکراتے ہوئے رخصت ہوئی اور میں اس کا مسکراتا چہرہ کبھی نہیں بھول سکتی۔` اریبہ کی خالہ زاد بہن سعدیہ جو گیارہویں جماعت کی طالبہ ہیں کا کہنا تھا کہ اریبہ اس کی بہترین دوست تھی اور اریبہ کو دنیا میں کچھ کرنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا۔

’چھٹی کلاس میں اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور نتیجے والے دن وہ مجھے بھی سکول ساتھ لیکر گئی تھی جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو وہ زارو قطار رونے لگی اور میرے گلے لگ کر کہا دیکھیں آپی جان آپ نے مجھے جو سوالات کروائے تھے وہ ہی امتحان میں آئے اور میں نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔`سعدیہ نے مزید بتایا کہ شادی پر جانے سے پہلے وہ میرے گھر آئی اورمجھ سے کہا کہ ابھی تو وہ شادی پر جارہی ہے مگر جب وہ واپس لوٹے گی تو مجھے اس کو ساتویں جماعت کے امتحان کی تیاری کروانی ہے مگر افسوس ایسا نہ ہو پائے گا۔ اربیہ خلیل اپنے علاقے کے البراق پبلک سکول میں زیرِ تعلیم تھیں۔ ان کی کلاس میں اس کی تمام ہم جماعت طالبات حاضر تھیں۔ کلاس میں عموماً ایک بینچ پر تین طالبات بیٹھتی ہیں مگر ایک بینچ پر بیٹھی دو طالبات سے جب پوچھا گیا کہ ان کی تیسری ساتھی کہاں ہے تو اریبہ کی ساتھی طالبہ رومیسا نے بے ساختہ کہا کہ ’اریبہ اب اس دنیا میں نہیں رہی ہے۔`

رومیسا کا کہنا تھا کہ اریبہ بہت ہی اچھی تھی، گھر سے لایا ہوا لنچ بھی ہمارے ساتھ شیئر کرتی تھی۔ اگر دوستوں میں سے کوئی ناراض ہو جاتا تو وہ خود ان سے ‘سوری ‘ کر لیتی تھی۔ البراق پبلک سکول کے اُساتذہ بھی اپنی ذہین شاگرد کے دنیا سے چلے جانے پر بہت غم زدہ تھے۔ سکول کی استاد فضیلہ بیگم کہتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی اریبہ سے آخری ملاقات کو نہیں بھول پائیں گی۔ اریبہ کی استاد فضیلہ بیگم نے بتایا کہ ’سکول کے ایک فنکشن کی تیاری کے لیے ٹیبلو کی ریہرسل کرنی تھی۔ مگر ریہرسل والے دن اریبہ نے شادی میں شرکت کے لیے جانا تھا ۔ وہ شادی میں شرکت کے لیے خوش بھی تھی اور ٹیبلو ریہرسل میں شریک نہ ہونے پر پریشان بھی۔

جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو میں نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اطمینان سے شادی میں شرکت کرے، واپس آکر سالانہ امتحان دے جس کے بعد میں اس کو خصوصی طور پر ریہرسل کروا دوں گی۔ میں اب بھی انتظار میں ہوں کہ اریبہ آئے امتحان دے اور میں اس کو ڈرامے کی ریہرسل کرواؤں۔‘ اریبہ نے اپنے استاد شاہد علی سے دو سال تک کپمیوٹر اور حساب پڑھا تھا۔ شاہد علی نے اریبہ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر وہ زندہ ہوتی تو ایک شاندار مستقبل اس کا انتظار کر رہا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے چھٹی جماعت سے اریبہ کو پڑھا رہا ہوں اور وہ انتہائی ہونہار طالبہ تھی۔ ساتویں کلاس کی فرسٹ ٹرم میں اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ فرسٹ ٹرم میں جو کم نمبر آئے ہیں وہ اس کو بہتر بنائے گی اور وہ واقعی ان میں بہتری لائی تھی۔ جس پر مجھے اس پر فخر ہے۔‘

اس کے بعد اس نے پھر مجھ سے ایک اور وعدہ کیا کہ میں فائنل ٹرم کے امتحانات میں اور بہتر کارگردگی دکھاؤں گی اور چھٹی کلاس کی طرح پہلی پوزیشن حاصل کروں گی۔ مگر اس کو یہ امتحان دینے کا موقع نہیں ملا۔` انھوں نے مزید بتایا کہ نہ صرف انھیں بلکہ پورے سکول کو اس کی کمی بہت شدت سے محسوس ہو رہی ہے اور بروز بدھ سکول میں فائنل ٹرم کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں اگر وہ آج زندہ ہوتی تو وہ اپنا وعدہ پورا کرتی۔

محمد زبیر خان
صحافی

بشکریہ بی بی سی اردو