بلدیاتی اداروں کی کارکردگی اور گھوسٹ ملازمین

دنیا بھر کے ممالک میں شہروں میں واٹر سپلائی ، نکاسی اور صفائی ستھرائی سمیت تمام بنیادی سہولیات کی ذمے داری بلدیاتی اداروں کے ذمے ہوتی ہے ۔ چونکہ بلدیاتی اداروں کا نیٹ ورک انتہائی نچلی سطح تک پھیلا ہوتا ہے اور عوام کی آسان رسائی میں ہوتا ہے ، اس لیے یہ ادارے بہتر طور پر پہنچانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ پھر ان اداروں کو چلانے کے لیے منتخب افراد بھی مقامی سطح کے اور عوام کی دسترس میں ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف علاقے کے زمینی حقائق اور مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں اور اُن کے رویوں اور ضروریات سے بھی بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔ عوام اپنے کام اور مسائل آسانی سے اُن تک پہنچا سکتے ہیں اُن سے اپنے مسائل اور پریشانیوں کے مداوے کا مطالبہ بھی بلا توقف اور بلا جھجک کر سکتے ہیں ۔ اس لیے یہ نہایت مؤثر اور عوامی پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی لیے جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور انھیں مرکزی اہمیت ہوتی ہے ۔ ان اداروں کے ذریعے ہی شہروں کی ترقی اور عوام کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس لیے بلدیاتی اداروں کو فعال و بااختیار اور سیاسی مفادات سے پاک حقیقی جمہوری قیادت میں ہونا چاہیے ۔

اس کے برعکس ہمارے ملک میں ان اداروں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ۔انھیں صرف کرپشن کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل کرنے اور لوگوں کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے قائم شدہ بلدیاتی کونسلز، میونسپل اداروں کے ساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے کی گئی 18ویں ترمیم کی طویل عرصہ سے وکالت بھی ہوتی رہی ہے ۔ لیکن ملک کے قیام کو تقریباً پون صدی گذر چکی ہے مگر اب تک ملک کے لیے کسی ایک نظام کا انتخاب نہیں ہو سکا ہے ۔ چار سال قبل نواز شریف دور میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونیوالے انتخابات کے تحت منتخب بلدیاتی نمایندوں کی مدت گذشتہ ماہ پوری ہو گئی ۔ صوبہ بھر میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیا گیا ہے ، جب کہ صوبہ کے دارالحکومت کراچی میں سیکریٹری بلدیات کو کراچی ڈویژن کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ گذشتہ چار برس کے دوران حیدرآباد ، سکھر اور لاڑکانہ میونسپل کارپوریشنز کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے 15 ارب 21 کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست رقوم کے ساتھ صوبہ کے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے چار سال میں 27 ارب 55 کروڑ روپے سے زیادہ رقم بلدیاتی نمایندوں کو جاری کی گئی مگر صوبہ بھر میں کہیں کوئی ترقیاتی کام ، بنیادی سہولیات کی فراہمی یا صفائی ستھرائی ہوتی دکھائی نہیں دی۔ ان چار سالوں میں صوبہ کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح بلدیاتی نمایندوں کو عوام کی خدمت کے لیے ہر ماہ ٹاؤن کمیٹیز کو 82 کروڑ روپے ، یونین کونسلز کو 57 کروڑ روپے اور یونین کمیٹیز کو 18 کروڑ روپے مسلسل فراہم کیے جاتے رہے، صرف کے ایم سی کو ہر ماہ 64 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی جاری کی جاتی رہی ہے۔ لیکن یہ بلدیاتی نمایندے عوام کی خدمت میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔ بلدیاتی نظام کے عوام کے لیے بے فائدہ بننے کا ایک سبب بھی ملک میں بیورو کریسی کی اجارہ داری ہے۔ بیوروکریسی کا ہاتھ اس نظام کی نبض پر اس قدر مضبوط ہے ملک میں کسی بھی پالیسی کے نفاذ یا کسی بھی کام کی فائل یا سمری پر منتخب نمایندے صرف ریفرنس نوٹ لگانے کے اختیارات ہی رکھتے ہیں اور پھر وہ نوٹ لگی سمری بھی کبھی اس دفتر سے اُس دفتر تو کبھی اس ٹیبل سے اُس ٹیبل گھومتی رہتی ہے مگر کام نہیں ہوتا ، جس سے حکومت کی رٹ قائم نہیں رہ پاتی اور یوں عوام کی سہولت اور خدمت کا کوئی کام نہیں ہو پاتا جس سے پھر بھی بدنامی منتخب نمایندوں یا سرکار کی ہوتی ہے۔

دیکھا جائے تو سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اور بھٹو کی اس پارٹی کو اس بیوروکریسی کی اجارہ داری اور تکنیکی برتری کے ساتھ حکومت کرنے کا کم از کم 50 سالہ تجربہ بھی حاصل ہے وہ اگر چاہے تو اسمبلی فلور سے بیوروکریسی کے غیرضروری اختیارات والے اس نظام کو تبدیل بھی کر سکتی ہے ، اور شاید وہ چاہتی بھی ہے ۔ اسی لیے وہ سرکاری ملازمین کی درست مانیٹرنگ کے لیے تنخواہیں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے ذریعے دینے پر کام طویل کرتی آرہی ہے ۔ پہلے محکمہ تعلیم ، پھر صحت اور اوقاف سے ہوتے ہوئے اب محکمہ بلدیات کے ملازمین کی تنخواہوں کو اے جی سندھ سے ریگیولرائیز کرانے پر کام ہو رہا ہے ۔ اس سے ایک طرف اداروں میں موجود گھوسٹ ملازمین اور اُن کی آڑ میں بیوروکریسی کی جانب سے ہونے والی کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے تو دوسری طرف اداروں کی کارکردگی میں بھی اضافے کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اصل ضرورت حکومتی ول کی ہے جو صوبائی سرکار کھو چکی ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت بلدیاتی ادارے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ جس میں کافی حد تک ترمیم کی ضرورت ہے۔

کہا جارہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ترمیمی بلدیاتی قانون لانے کا امکان ہے ۔ جس میں بلدیاتی نمایندوں کو مزید اختیار دینے اور سندھ کی صوبائی حکومت کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے قانون سازی پر غور ہو رہا ہے ۔ بلدیاتی نمایندوں کی مدت ختم ہونے کے بعد گذشتہ ایک ماہ سے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات سرکاری ملازمین کی بطور ایڈمنسٹریٹرز تقرری سے براہ راست وزارت بلدیات ، حکومت ِ سندھ کے ہاتھ میں آچکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک طرف وہ آئین کیمطابق 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کا بندوبست کرے، کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حتمی فہرستیں 4 اکتوبر سے جاری کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کیمطابق صوبہ سندھ میں 30 اکتوبر کو حتمی لسٹ جاری کی جائیں گی۔ دوسری طرف ان تین مہینوں کے دوران ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے عوامی خدمت و بنیادی سہولیات کے اُمور کی بہتر سرانجامی کو یقینی بنانے کے لیے سخت سے سخت مانیٹرنگ کے ذریعے شہروں میں موجود مسائل خصوصاً صفائی ستھرائی ، واٹر سپلائی اور نکاسی و گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر کرے۔ ان اداروں کی ناکامی کا ایک سبب ان اداروں میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین کی موجودگی بھی ہے۔

ایک طویل عرصہ سے یونین کونسل سطح سے میونسپل سطح تک صوبہ بھر بالخصوص کراچی کے شہری اداروں کے ڈی اے ، کے ایم سی اور اُس کے ماتحت اداروں خاص طور پر واٹر بورڈ میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے ۔ سیاسی بنیادوں پر کی گئی بھرتیوں اور اُس کے بعد بھی ان گھوسٹ ملازمین کی سرپرستی نے ان اداروں کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی اور اُن کے خلاف قرار واجب اقدامات پر گذشتہ 12 سال سے کام ہو رہا ہے مگر اب تک کوئی واضح کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ ابھی کچھ روز قبل ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز ، ادارے کے اعلیٰ حکام ، وزیر بلدیات، وزیر قانون اور دیگر متعلقہ ذمے داران کا اجلاس بلا کر صوبہ بھر بالخصوص کراچی میں صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹنگ، پارکس و سڑکوں کی حالت بہتر کرنے ، واٹر سپلائی اور نکاسی کے نظام سے متعلق واضح تبدیلی لانے کے لیے لازمی اقدامات اور سخت محنت کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو ایک رپورٹ پیش کی گئی ، جس کے مطابق ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے ایک ماہ کے اندر یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کے ایم سی اور اُس کے ماتحت اداروں میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین بھی باقاعدہ ریگیولر تنخواہیں اور دیگر مراعات لے رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ان اداروں میں سیاسی لوگ بھرتی کیے گئے ہیں اور اُن کو غیر قانونی پروموشن ، انکریمنٹس وغیرہ دی گئی ہیں ، حد تو یہ ہے کہ ڈسپیچر سطح کے ملازمین ڈی ایم سی میں ایکسین کی رینک کی تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ان گھوسٹ ملازمین کی سرکوبی پر سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ جس پر قانونی ماہرین کی اس پر رائے ہے کہ تمام گھوسٹ ملازمین کوایس آر او 2000 کے تحت ملازمت سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے اور گھوسٹ ملازمین کے خلاف ہدایات جیسے تمام اقدامات بھی فی الحال کراچی تک محدود ہیں، نہ جانے سندھ کے دیگر شہروں اور دیہی علاقوں میں موجود بلدیاتی اداروں کی ان کالی بھیڑوں کی باری کب آئے گی ۔۔۔؟؟؟

عبدالرحمان منگریو

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سارے شہر پیکیج کے مستحق ہیں

منتخب سندھ حکومت یقیناً خوش ہو گی کہ شہروں سے منتخب حکومتوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ہر میونسپل وحدت میں ایک ایڈمنسٹریٹر بیٹھا ہے اور ہمیں ضرورت بھی اچھے ایڈمنسٹریٹروں کی ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اگر اچھے ایڈمنسٹریٹر ہوں، ایڈمنسٹریشن کی باقاعدہ تربیت حاصل کریں، یہ خبط نہ ہو کہ ہم تو پیدائشی ایڈمنسٹریٹر ہیں تو ہماری بدحالی ایسی نہ ہو۔ وزیراعظم صاحب ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز میں آئے۔ جہاں ان کی پارٹی کے 14 ایم این اے ہیں، جس شہر نے ان کو وزیراعظم بننے میں سب سے زیادہ مدد دی، اس کے لئے ان کے پاس اتنا ہی مختصر سا وقت تھا۔ شہرِ قائد کے لئے 1100 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے لیکن کسی کو یقین نہیں آرہا ہے کیونکہ اب لوگ وفاقی حکومت پر اعتبار کرتے ہیں نہ صوبائی پر اور شہری حکومتیں تو ہیں ہی نہیں۔ پھر فنڈز پر وفاق اور صوبے کے درمیان بیان بازی بھی شروع ہو گئی۔

کراچی کو ایک کتاب دوست ایڈمنسٹریٹر نصیب ہوا ہے۔ افتخار علی شلوانی۔ ان سے ہماری ملاقات نہیں ہے لیکن شہر میں اسٹریٹ لائبریریاں قائم کرنے اور دوسری لائبریریوں میں بہتری کا ہم سلطان خلیل کے ذریعے سنتے آئے ہیں۔ اس لئے سمجھتے ہیں کہ کتاب دوست ہے تو اچھا ہی ہو گا۔ کتاب دوست انسان دوست بھی ہوتے ہیں۔ یہاں شہر قائد میں 2½کروڑ انسانوں کو ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو پریشان حالی و درماندگی میں ان کا ہاتھ تھامے۔ ملک کے دوسرے شہروں کو بھی انسان دوست افتخار شلوانیوں کی ضرورت ہے۔ کراچی سی بدحالی دوسرے سب بڑے شہروں میں بھی ہے۔ عوام اور خاص طور پر شہروں میں رہتے لوگ ریاست کو جو ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں زندگی کی ساری آسانیاں میسر آنی چاہئیں۔ وہ اور ان کے گھر محفوظ ہوں۔ انہیں گھر سے دفتر، کارخانے جانے کے لئے اچھی سڑکیں اور آرام دہ ٹرانسپورٹ ملے۔

انہیں مہرباں سرکاری و غیرسرکاری اسپتال ملیں۔ تفریح کے لیے باغات، کھیل کے میدان دستیاب ہوں۔ آئندہ نسلوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے معیاری درسگاہیں موجود ہوں۔ مسلم اکثریت کے لئے اچھی مساجد، اقلیتوں کی اپنی اپنی عبادت گاہیں۔ بارشیں ہوں تو پانی نکلتا رہے، کہیں محفوظ ہوتا رہے۔ گندے پانی کی نکاسی کے لئے سیوریج کے مستحکم انتظامات۔ شہر کیوں بسائے جاتے ہیں۔ انسان جنگل کے بجائے شہر میں رہنا کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے تنظیم، ترتیب، تحفظ، تمدن، تہذیب، تربیت، تعلیم، تدریس، تحقیق، تندرستی، تفریح کی سہولتیں ریاست کی طرف سے میسر ہوتی ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی آسانی سے گزر سکے۔ ہمارے اور آپ کے بیٹے بیٹیاں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں، آپ کا بھی جانا ہوتا ہے۔ وہ محفوظ اور مامون بستیاں انسانوں نے ہی بسائی ہیں، ہم بھی ایسی بستیاں بسا سکتے ہیں بلکہ ہمارے شہروں میں پہلے یہ آسانیاں میسر ہوتی تھیں۔

انگریز نے بڑی منصوبہ بندی سے یہ شہر بسائے تھے۔ ایک سسٹم تھا۔ سردیاں شروع ہوں تو اس سے پہلے کیا کیا کرنا ہے۔ گرمیوں سے پہلے کیا اقدامات ہوں۔ برسات سے بہت پہلے نالے صاف کئے جائیں۔ نہروں اور دریائوں سے مٹی نکالی جائے۔ ہم نے پہلے دس بارہ سال میں ہی انگریز کے سسٹم کو بتدریج ختم کر دیا۔ 1970 کے بعد شہروں کی بدحالی، لاوارثی شروع ہوئی۔ جو منتخب سیاسی اور غیر منتخب فوجی حکومتوں کے دوران بڑھتی ہی رہی ہے۔ اب یہ حال ہے کہ گلی کی صفائی کے لئے خاکروب کو سفارشیں کروانا پڑتی ہیں یا بھتّہ دینا ہوتا ہے۔ گٹر ابلنے لگیں تو محلّے والے چندہ اکٹھے کر کے ان میونسپل ملازمین کو بلاتے ہیں جن کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں۔ پارکوں میں صفائی نہیں ہوتی۔ نئے درخت نہیں لگتے۔ سارے شہر کچرے کے ایک سے ڈھیر دکھاتے ہیں۔

پہلے شہروں کی اپنی محصول چنگیاں ہوتی تھیں۔ ان سے کافی آمدنی ہو جاتی تھی۔ شہر کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔ سرمایہ داروں نے یہ ناکے ختم کر کے اپنی آمدنی بڑھالی۔ شہر کو غریب کر دیا۔ مہذب ملکوں میں ہر شہر میں اپنے تحقیقی ادارے ہوتے ہیں جو شہر کی سہولتوں پر روزانہ تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ کہاں ٹریفک کا مسئلہ ہے، کہاں علاج معالجے کا۔ ہمارے ہاں جب تک لوگ پریس کلب کے سامنے احتجاج نہ کریں یا سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل نہ ہوں ہمارے ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ وہاں شہری مستقبل پر تحقیق ہو رہی ہے۔ زمین کے استعمال کے منصوبے بنتے ہیں۔ شہر کو آفات سے کیسے بچانا ہے۔ لوگوں پر دماغی دبائو کیسے کم کرنا ہے۔ یہاں ایک شہری گھر سے نکلتا ہے۔ سڑکیں، ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس، مافیا، اس کے دفتر پہنچنے تک ہزار پریشانیوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ایسا ذہنی تنائو کام میں رکاوٹ بنتا ہے۔

کراچی ہی نہیں باقی سب شہروں میں بھی کچرا بکھرا رہتا ہے۔ گٹر کا پانی پھیلا رہتا ہے۔ سب جگہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ہیں۔ میونسپل اداروں کے کمشنر ہیں لیکن از خود کچھ نہیں ہوتا ہے۔ پہلے کنٹونمنٹ ایریاز کو بڑا مثالی کہا جاتا تھا اب یہ بھی غریب سول علاقوں کی طرح ہی بد حال ہو گئے ہیں۔ شہر شہر اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کا بنیادی فرض ہے کہ یہ اپنے اپنے شہر کے ماضی، حال اور مستقبل پر تحقیق کریں۔ بہتری کے لئے تجاویز دیں۔ اقوامِ متحدہ، جرمنی، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک سے فنڈز لینے والی بےشُمار این جی اوز موجود ہیں جو شہری سہولتوں کے لئے ہی وجود میں آئی ہیں، اس کے لیے فنڈز ملتے ہیں۔

آپ اپنے اپنے شہر میں ایسی این جی اوز کو تلاش کریں۔ پوچھیں کہ انہوں نے ان مہربان ملکوں کے شہریوں کے ٹیکسوں سے ارسال کی گئی رقوم کا کیا استعمال کیا۔ آپ کے شہر میں انسانی زندگی کو کیا آسانیاں فراہم کی ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق 1۔ شہری معاملات میں، فیصلوں میں عوام کو شریک کیا جائے۔ 2۔ علاج معالجے کے سلسلے میں بھی شہریوں کو منصوبوں تک رسائی ہو۔ 3۔ شہری اپنے اہل خانہ، احباب کی صحت اور تحفظ کے سلسلے میں مطمئن ہوں۔ 4۔ تعلیم، ملازمت اور تفریح کی سہولتیں۔ 5۔ ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی میں عوام کی بھرپور شرکت۔ 6۔ زندگی کو آسان اور معیاری بنانے کے لئے تمام مالی وسائل۔ 7۔ سارے شہروں میں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایک سی سہولتیں، امتیاز نہ رکھا جائے۔ اس کے لئے تمام شہروں میں رہنے والوں کو خود بھی متحرک اور سرگرم ہونا ہو گا۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

سندھ کی سیاسی تقسیم

بات ’گجر نالہ‘ کی صفائی سے شروع ہوئی تھی اور اب شہر کی صفائی تک آن پہنچی ہے۔ دیکھیں آگے کیا کیا گند صاف ہو گا۔ اللہ بھلا کرے اِن تباہ کن بارشوں کا، سارا گند سامنے آ گیا۔ کیا نالے، کیا سڑکیں، کیا سرجانی اور کیا دیگر پوش علاقے، اب محمود وایاز ایک صف میں کھڑے نہ بھی ہوں تو ایک صفحہ پر ضرور نظر آئے احتجاج کی صورت میں۔ اب وزیراعظم نے 11 سو ارب روپے کا، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان، کا اعلان کر دیا ہے جس کی نگرانی وفاق اور سندھ پر مشتمل ایک کمیٹی کرے گی جس میں سویلین کے علاوہ فوج کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جن کو کچھ بنیادی کام دیے گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر اس پورے پلان پر تین سے پانچ سال میں مکمل عمل درآمد ہو جاتا ہے جس پر مجھے کچھ شک ہے تو کیا، کراچی بدلے گا۔ وزیراعظم عمران خان جب گورنر ہائوس میں پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر رہے تھے تو میں ٹی وی پر صرف وزیر اعلیٰ سندھ سید مرا دعلی شاہ کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر منہ پر ماسک اور چشمہ پہننے کی وجہ سے کچھ پڑھ نہ سکا۔ بعد میں بلاول بھٹو کے بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کھیل انکے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

ویسے میں بھی حیران ہوں کہ وزیراعظم نے کراچی کا دورہ کیا تھا یا گورنر ہائوس کا کیونکہ پلان کے اعلان سے پہلے تک تو انہوں نے خود جا کر شہر کی حالت نہیں دیکھی تھی۔ کم از کم اپنے حلقہ تک تو وہ ضرور جاتے۔ ناظم آباد نہیں تو نیا ناظم آباد ہی دیکھ آتے یہ بات میں اس لیے تحریر کر رہا ہوں کہ یہ پروجیکٹ ان لوگوں نے تعمیر کیا جن کو آپ نے کئی پروجیکٹ میں نمائندگی دے دی ہے۔ اللہ خیر کرے۔ پاکستان کے سیاسی معاملات اتنے پیچیدہ ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کب کونسا منصوبہ کامیاب اور کونسا ناکام ہو جائے۔ سندھ کے سیاسی معاملات دوسرے صوبوں کے مقابلے میں اس لیے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئے کہ یہاں دیہی اور شہری سندھ میں بڑی واضح سیاسی تفریق پائی جاتی ہے اور لگتا ہے یہ خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

بنیادی نکتہ اب بھی حل طلب ہے اور وہ ہے اختیارات کی جنگ کا جو وفاق سے صوبوں اور صوبوں سے نچلی سطح تک جانے تھے مگر یہ عمل راستے میں کہیں رک گیا۔ بدقسمتی سے جس ملک کی مردم شماری ہی شفاف نہ ہو وہاں بدگمانیاں جنم لیتی ہیں۔ بات دیہی اور شہری سے زیادہ انصاف کی ہے اگر کراچی کی آبادی ڈھائی سے تین کروڑ ہے تو یہاں کی نشستوں میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سندھ کی سیاسی تقسیم کا سب سے زیادہ نقصان خود سندھ کو ہوا۔ ذرا غور تو کریں کہ پچھلے پچاس سال میں یہ صوبہ تعلیم و صحت، امن و امان، گورننس، پولیس، پینے کے صاف پانی اور دیگر معاملات میں آگے گیا ہے یا پیچھے۔ انتہائی سیاسی شعور رکھنے والے لوگ بھی یہ بنیادی بات نہ سمجھ سکے کہ جمہوریت جمہور سے آتی ہے، شور سے نہیں۔ سندھ کی دو بڑی سیاسی اکائیاں آمنے سامنے آکرکھڑی ہو گئیں حکومت ملی تو حکومت نہ کر سکے، سیاسی میدان میں دلیل کا راستہ اختیار نہ کر سکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کرپشن کا کینسر‘ دونوں کو کھا گیا۔

سیاسی تقسیم بھی دلچسپ ہے۔ قومی سیاسی قیادت کراچی سے باہر سیاست نہیں کرتی اور پھر حیران ہوتی ہے کہ ہر بار اندرون سندھ سے پی پی پی کیوں جیت جاتی ہے۔ 1970 سے 2018 تک کے الیکشن نتائج اٹھا لیں۔ اندازہ ہو جائے گا کہ ماسوائے پی پی پی کے کس جماعت نے اندورن سندھ سیاست کی ہے مگر کمال ہے پی پی پی کا کہ پھر بھی سندھ کے ڈسٹرکٹ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کوئی چیلنجز نہیں ہیں تو لگے رہو منا بھائی۔ یہ بھی حیران کن بات ہے کہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں ایک پریشر گروپ سے زیادہ نہیں جن کا فائدہ بھی پی پی پی کو ہی جاتا ہے۔ لہٰذا اگر قومی جماعتیں سندھ میں سیاسی چیلنج دینے کے بجائے اسلام آباد یا پنڈی کی طرف دیکھتی رہیں گی تو مسئلہ حل نہیں ہو گا چاہے جتنی خراب حکومت ہو اور ناقص کارکردگی رہے۔ پی پی پی کی قیادت کے لئے بھی یہ سنجیدہ سوالات ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اس پارٹی کی پانچویں نسل کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جو پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں 1967 میں قائم کی تھی، اب اس شہر اور صوبہ میں امید وار ملنا مشکل ہو گئے ہیں۔

کراچی جیسے شہر اور لیاری جیسے حلقہ سے اگر ’بھٹو ہار جائے تو، زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کا نعرہ اچھا نہیں لگے گا۔ رہی بات شہری سندھ کی توان پچاس سال میں سیاسی رجحانات بدلتے رہے مگر ’لسانی رنگ‘ تبدیل نہیں ہوا۔ شاید پاکستان تحریک انصاف پہلی جماعت ہے جس نے کراچی میں بھی اکثریت لی 14 قومی اور 26 صوبائی اسمبلی کی نشستیں اورمرکز میں بھی حکومت بنائی۔ سندھ میں شروع میں بائیں بازو کی سیاست بھی مضبوط تھی۔ چاہے وہ طلبہ محاذ ہو یا مزدور اور پارٹی کمیٹیاں ہوتیں۔ 1970 کے بعد یا تو پی پی پی کا زور رہا یا مذہبی جماعتوں کا۔ جنرل ضیاء الحق نے اس سیاسی تفریق سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ شہری سندھ کی سیاست نے 1987 کے بعد نیا موڑ لیا۔ ’لسانی‘ معاملہ لے کر مہاجر قومی موومنٹ قائم ہوئی اور جو پذیرائی اس کو حاصل ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی مگر وہ اس کا درست استعمال نہ کر سکے اور ایک ایسی راہ پر چل پڑے جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ دہشت گردی سے لے کرچائنا کٹنگ تک شہری سندھ کو سوائے تباہی کے کچھ نہ مل سکا۔

اب پی ٹی آئی ایک مختلف انداز میں آئی مگر اس کی سیاست کا محور شہری سندھ اور وہ بھی کراچی نظر آرہا ہے۔ اگر آئندہ بلدیاتی الیکشن میں عمران خان اپنی جماعت کا مئیر لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو 2023 کا الیکشن سندھ کی حد تک پی پی پی اور پی ٹی آئی میں ہی ہو گا اب ایسے میں اگر کراچی میں سر کلر ریلوے چل پڑی، سرکاری بسیں آگئیں، نالے صاف ہو گئے بارشوں میں پانی کھڑا نہ ہوا اور بلدیہ کسی ایک باڈی کے اندر آگئی تو اس کا کریڈٹ کس کو جائے گا؟ یہ سارے کام پچھلے 12 سال میں 2013 کے بلدیاتی ایکٹ کے بعد سندھ حکومت کر سکتی تھی اور اس سے پہلے ایم کیو ایم مگر دیہی سندھ کو کون دیکھے گا، یہ پی پی پی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ خدارا اپنا طرز سیاست تبدیل کریں۔ اپنی ترجیحات تبدیل کریں۔ سندھ کی سیاسی تقسیم کو پی پی پی آج بھی ختم کر سکتی ہے صرف معاملات کودرست سمت میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

سندھ کا مسئلہ

بڑا انتظار تھا اس دن کا جب وفاق اور سندھ کے درمیان اختلافات ختم ہوں اور دونوں حکومتیں ساتھ مل کر صوبہ سندھ کی بھلائی اور عوام کی خوشحالی کے لیے کام کریں، انتظار ختم ہوا اور وفاق اور سندھ نے متحد ہو کر ایک چھ رکنی کمیٹی بنائی جو کراچی سمیت صوبائی مسائل حل کرنے کے لیے کام کرے گی۔ ہماری دیسی جمہوریت میں اس قسم کے اختلافات عام ہیں۔ یہ اتحاد اس وقت قابل مبارکباد ہے جب اتحاد برقرار رہے اور کسی طرف سے کسی حوالے سے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کی جائے۔ سیاست میں سیاسی اتحاد کے پیچھے ہمیشہ پیسہ ہوتا ہے خواہ اس کو کتنے پردوں کے پیچھے چھپائیں۔ یا سیاسی مفادات ہوتے ہیں جس کے پیچھے بھی کسی نہ کسی طرح مالی امور ہوتے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی پہچان ہیں خواہ اس قسم کے مسائل کسی حکومت میں کیوں نہ ہوں۔ پاکستان اگرچہ ایلیٹ کی چراگاہ ہے لیکن رکھ رکھاؤ کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جمہوریت ہمیشہ عوامی مفادات کی ترجمانی کرے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو سال سے سندھ اور وفاق کو اس یکجہتی کا خیال کیوں نہ آیا اگر یہ اتحاد دو سال پہلے ہوتا تو آج سندھ کا نقشہ بدل چکا ہوتا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری جمہوریت صرف اوپر سے نظر آنے والی جمہوریت ہے ورنہ اندر سے سخت قسم کی آمریت ہے جو دیدہ بینا کو نظر بھی آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 72 سالوں میں کبھی یہاں وہ جمہوریت نظر ہی نہیں آئی جو کتابوں میں لکھی ہوتی ہے۔ یہاں عام طور پر خاندانی حکمرانیوں کا دوسرا دور دورہ رہا ہے اس کو جمہوریت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہم جس نظام سے گزر کر یہاں تک آئے ہیں وہ جاگیردارانہ تھا اور اب بھی پاکستان کے دو صوبوں میں یہ وحشی نظام جزوی سہی باقی ہے اور اس کی تابانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جاگیردارانہ نظام ’’میں‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور ’’میں‘‘ پر ہی ختم ہوتا ہے۔

اس میں جمہوریت سما ہی نہیں سکتی ہے۔ پاکستان کو وجود میں آئے 72 سال ہو رہے ہیں اس عرصے میں جمہوریت نام کی چڑیا کبھی پاکستان کی فضاؤں میں دیکھی ہی نہیں گئی۔ بس چند خاندان ہیں جو عوام پر حکومت کر رہے ہیں۔ خاندان اور نام بدلے جاتے ہیں نظام وہی رہتا ہے سکہ شاہی۔ حکمرانوں کے خیر خواہ ایک ڈھونڈو ہزار مل جاتے ہیں جو سارا کام آنکھ بند کر کے کرتے ہیں۔ اصل میں ابتدا ہی سے اشرافیہ پردے کے اندر یا پردے کے باہر رہ کر نظام کو چلا رہی ہے اور جمہوریت چل رہی ہے۔ اس جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ’’عوام لیس‘‘ ہوتی ہے اشرافیہ کے کچھ کاریگر اس ہوشیاری سے گلشن کا کاروبار چلاتے ہیں کہ کسی کو شک نہیں ہوتا کہ گدھا ہے یا گھوڑا ہے۔ جمہوریت میں حکمران عام طور پر ہر ٹرم کے بعد بدل جاتے ہیں جب کہ ہماری جمہوریت میں اللہ کی پناہ صرف دو خاندان عشروں سے چلے آرہے ہیں۔

کیا جمہوریت میں خواہ لولی لنگڑی ہی کیوں نہ ہو انتخابات میں حکمران عام طور پر بدل جاتے ہیں اگر کوئی حکمران کوئی کارنامہ انجام دے تو اسے عوام دوبارہ منتخب کرتے ہیں۔ ورنہ باپ گیا بیٹا آیا کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کا مشاہدہ ہم پاکستان میں مدتوں سے کر رہے ہیں اور عوام کی بیداری کا یہی حال رہا تو مزید سالوں تک یہی جمہوریت چلتی رہے گی اور عوام کی کھال کھینچی جاتی رہے گی۔ اس کا انحصار عوام کی سمجھ بوجھ اور شعور پر ہے۔ بات چلی تھی سندھ اور وفاق میں ’’عوامی بھلائی‘‘ کے حوالے سے۔ وفاق اور سندھ میں قربت کی جسے ہم نے اتحاد کا نام دے دیا ہے۔ یہ اتحاد ہو یا انڈر اسٹینڈنگ اگر فریقین کی نیت نیک ہے تو چلے گا بھی اور عوام کو فائدہ بھی دے گا لیکن اگر اس کے پیچھے سیاسی مفادات ہیں تو پھر یہ چار دن کی چاندنی والا معاملہ ہو کر رہے گا۔ اس خبر سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں میں کوئی اتحاد نہیں ہوا بلکہ دونوں جماعتیں ’’یکجا‘‘ ہوئی ہیں۔

یہ یکجائی سلامت رہے لیکن ہر جماعت میں ہرجائی بھی ہوتے ہیں جن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ہرجائی اگر متحرک ہو گئے تو یکجائی کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ یہ باتیں ہم ازرائے احتیاط کر رہے ہیں کہ یہ تو یکجائی ہے پکے پکے اتحادوں کا جو حشر ہم نے دیکھا ہے اس کے پیش نظر یکجائی کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ بات نیت کی ہے اگر نیت نیک ہو گی تو منزل آسان والا معاملہ ہوتا ہے اگر دل میں کچھ زبان پر کچھ ہے تو دس بار کی یکجائی بھی مفید ثابت نہیں ہوتی۔ آج پاکستان سر سے پاؤں تک قرض میں جکڑا ہوا ہے ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں میں غیر ذمے داری اور ٹالو کریسی ملک کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ سرحد پر جب ایک انتہائی دشمن پڑوسی موجود ہو تو ایسے ناموافق حالات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان نااتفاقی بلکہ دشمنی انتہائی ناموافق حالات کا سبب بن سکتی ہے حالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی تحفظات کا شکار ہے اور اعتماد کے فقدان کا بھی شکار ہے جو آج کے پرخطر حالات میں بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

سندھ کو ایک متنازعہ صورتحال کا سامنا ہے مسئلہ بہت جذباتی ہے سیاسی پارٹیوں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ قومیت کا مسئلہ اندر سے بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ ایسے نازک مسئلے پر کھلی بحث کی جائے۔ سندھ میں اختلاف اصل میں اردو اور سندھی بولنے والوں کے درمیان ہے اور اختلاف اتنا شدید ہے کہ اس کو حل کرنے کے لیے بڑے وسیع ظرف کے گفتگو کاروں کی ضرورت ہے، مسئلہ بڑا نازک اور حساس ہے۔ مقامی سندھیوں میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں جو دونوں زبانیں بولنے والوں کے بہی خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ اردو اور سندھی اسپیکنگ بھائیوں کی طرح مل جل کر رہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے پیش آئیں۔ خاص طور پر ملازمتوں کے حوالے سے نوجوان طبقہ بہت جذباتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور کشادہ دل گفتگو کاروں کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے بدگمانیوں کو دور کرنے کے لیے سندھ خصوصاً کراچی کا سروے کیا جائے کہ کسی ادارے میں اردو اور سندھی اسپیکنگ کا تناسب کیا ہے؟ خاص طور پر انتظامی اداروں میں۔

ظہیر اختر بیدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سندھ حکومت کی لاپروائی، معیار تعلیم پست، سرکاری اسکولز تباہ، نتائج بدترین

سندھ حکومت کی لاپروائی، وزیرتعلیم کے نہ ہونے اور دُہرے چارج کے حامل سیکرٹری تعلیم کے باعث سندھ کے سرکاری اسکول تباہ ہو گئے ہیں اور صوبے میں معیار تعلیم انتہائی پست ہے، سرکاری اسکولوں کے نتائج اتنے بدترین آرہے کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت کراچی کے 7 ؍ سرفہرست سرکاری کالجوں میں سرکاری اسکولوں کے صرف 16 طلباء انٹرسال اوّل میں داخل ہو پائے جبکہ نجی اسکولوں کے 4100؍ طلبہ نے ان کالجوں میں داخلہ لیا۔ انٹر بورڈ کراچی سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق رواں سال 2019ء میں انٹر سال اول میں آدمجی سائنس کالج میں سرکاری اسکول سے میٹرک کرنے والا صرف ایک طالبعلم داخلہ لے پایا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 600 طلبہ کو یہاں داخلہ ملا۔

پی ای سی ایچ گرلز کالج میں سرکاری اسکول سے میٹرک کرنے والی ایک طالبہ کو داخلہ ملا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 700 طالبات کو داخلہ دیا گیا۔ ڈی جے سائنس کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 3 طلبہ داخلے کے اہل ہو گئے جبکہ 800 طلبہ کا تعلق نجی اسکولوں سے تھا۔ سینٹ لارنس گرلز کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 2؍ طالبات داخل ہو پائیں جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 500 طالبات کو داخلہ ملا۔
دہلی کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 4 طلبہ کو داخلہ دیا گیا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 70 طلبہ کو داخلہ مل سکا۔ ملیرکینٹ کالج میں داخلہ لینے والے ایک طالبعلم کا سرکاری اسکول سے تعلق تھا جبکہ 300 کا نجی اسکولوں سے تھا۔

ایس آر ای مجید اسٹیڈیم روڈ کالج میں انٹر سال اوّل میں صرف 4 طلبہ کا تعلق سرکاری اسکولوں سے تھا جبکہ 500 کا تعلق نجی اسکولوں سے تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ تعلیم اربوں روپے تعلیم پر خرچ کر رہا ہے، اسکولوں کے اقات کار بھی بڑھا دیئے ہیں جبکہ ہفتے کو بھی سرکاری اسکول کھلے رہتے ہیں تاہم اس کے باوجود سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم انتہائی پست ہے، جبکہ نجی اسکول سنیچر کو بند رہتے ہیں اور ان کا دورانیہ اب سرکاری اسکولوں سے کم ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ میں کوئی وزیر تعلیم نہیں اور سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احسن منگی دہرے چارج کے حامل ہیں اور عجیب و غریب فیصلے کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں ان کے پاس سیکرٹری سرمایہ کاری کا بھی چارج ہے۔ پہلے انہوں نے محکمہ تعلیم کے ملازمین پر عمرے اور زیارت پر جانے پر پابندی لگائی اور پھر خود خاموشی سے کسی افسر کو چارج دیئے بغیر محکمہ تعلیم کو لاوارث چھوڑ کر سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنے آسٹریلیا چلے گئے۔

سیّد محمد عسکری 

بشکریہ روزنامہ جنگ  

Thar : The Desert That Comes Alive after Rain

The Thar Desert, also known as the Great Indian Desert, is a large arid region in the northwestern part of the Indian subcontinent that covers an area of 200,000 km2 (77,000 sq mi) and forms a natural boundary between India and Pakistan. It is the world’s 17th largest desert, and the world’s 9th largest subtropical desert. About 85% of the Thar Desert is located within India, with the remaining 15% in Pakistan. In India, it covers about 170,000 km2 (66,000 sq mi), and the remaining 30,000 km2 (12,000 sq mi) of the desert is within Pakistan. The Thar desert forms approximately 5%(~4.56%) of the total geographic area of India. More than 60% of the desert lies in the state of Rajasthan, and extends into Sindh, Gujarat, Punjab, and Haryana. The desert comprises a very dry part, the Marusthali region in the west, and a semidesert region in the east with fewer sand dunes and slightly more precipitation. 
The Thar Desert extends between the Aravalli Hills in the north-east, the Great Rann of Kutch along the coast and the alluvial plains of the Indus River in the west and north-west. Most of the desert is covered by huge shifting sand dunes that receive sediments from the alluvial plains and the coast. The sand is highly mobile due to strong winds occurring before the onset of the monsoon. The Luni River is the only river integrated into the desert. Rainfall is limited to 100–500 mm (3.9–19.7 in) per year, mostly falling from July to September. Salt water lakes within the Thar Desert include the Sambhar, Kuchaman, Didwana, Pachpadra and Phalodi in Rajasthan and Kharaghoda in Gujarat. These lakes receive and collect rain water during monsoon and evaporate during the fat season. The salt is derived by the weathering of rocks in the region. Lithic tools belonging to the prehistoric Aterian culture of the Maghreb have been discovered in Middle Paleolithic deposits in the Thar Desert.

The soil of the Thar Desert remains dry for much of the year and is prone to wind erosion. High velocity winds blow soil from the desert, depositing some on neighboring fertile lands, and causing shifting sand dunes within the desert. Sand dunes are stabilised by erecting micro-windbreak barriers with scrub material and subsequent afforestation of the treated dunes with seedlings of shrubs such as phog, senna, castor oil plant and trees such as gum acacia, Prosopis juliflora and lebbek tree. The 649 km (403 mi) long Indira Gandhi Canal brings fresh water to the Thar Desert. It was conceived to halt spreading of the desert to fertile areas. There are few local tree species suitable for planting in the desert, which are slow growing. Therefore, exotic tree species were introduced for plantation. Many species of Eucalyptus, Acacia, Cassia and other genera from Israel, Australia, US, Russia, Zimbabwe, Chile, Peru and Sudan have been tried in Thar Desert. Acacia tortilis has proved to be the most promising species for desert afforestation and the jojoba is another promising species of economic value found suitable for planting in these areas.
The Thar Desert is the most widely populated desert in the world, with a population density of 83 people per km2.[8] In India, the inhabitants comprise Hindus, Muslims, and Sikhs. In Pakistan, inhabitants also include both Muslims and Hindus. About 40% of the total population of Rajasthan live in the Thar Desert. The main occupation of the people is agriculture and animal husbandry. A colourful culture rich in tradition prevails in this desert. The people have a great passion for folk music and folk poetry. Jodhpur, the largest city in the region, lies in the scrub forest zone. Bikaner and Jaisalmer are located in the desert proper. A large irrigation and power project has reclaimed areas of the northern and western desert for agriculture. The small population is mostly pastoral, and hide and wool industries are prominent. The desert’s part in Pakistan also has a rich multifaceted culture, heritage, traditions, folk tales, dances and music due to its inhabitants who belong to different religions, sects and castes. In the years 1965 and 1971, population exchanges took place in the Thar between India and Pakistan. 3,500 Muslim families shifted from the Indian section of the Thar to Pakistani Thar whilst thousands of Hindus also migrated from Pakistani Thar to the Indian section of the Thar.
The Thar is one of the most heavily populated desert areas in the world with the main occupations of its inhabitants being agriculture and animal husbandry. Agriculture is not a dependable proposition in this area because after the rainy season, at least one third of crops fail. Animal husbandry, trees and grasses, intercropped with vegetables or fruit trees, is the most viable model for arid, drought-prone regions. The region faces frequent droughts. Overgrazing due to high animal populations, wind and water erosion, mining and other industries have resulted in serious land degradation. Mustard fields in a village of Shri Ganganagar district (Rajasthan, India). Agricultural production is mainly from kharif crops, which are grown in the summer season and seeded in June and July. These are then harvested in September and October and include bajra, pulses such as guar, jowar (Sorghum vulgare), maize (zea mays), sesame and groundnuts. Over the past few decades the development of irrigation features including canals and tube wells have changed the crop pattern with desert districts in Rajasthan now producing rabi crops including wheat, mustard and cumin seed along with cash crops. The Thar region of Rajasthan is a major opium production and consumption area. The Indira Gandhi Canal irrigates northwestern Rajasthan while the Government of India has started a centrally sponsored Desert Development Program based on watershed management with the objective of preventing the spread of desert and improving the living conditions of people in the desert.
The Thar Desert provides recreational value in terms of desert festivals organized every year. Rajasthan desert festivals are celebrated with great zest and zeal. This festival is held once a year during winters. Dressed in brilliantly hued costumes, the people of the desert dance and sing haunting ballads of valor, romance and tragedy. The fair has snake charmers, puppeteers, acrobats and folk performers. Camels, of course, play a starring role in this festival, where the rich and colorful folk culture of Rajasthan can be seen. Camels are an integral part of the desert life and the camel events during the Desert Festival confirm this fact. Special efforts go into dressing the animal for entering the competition of the best-dressed camel. Other interesting competitions on the fringes are the moustache and turban tying competitions, which not only demonstrate tradition but also inspire its preservation. Both the turban and the moustache have been centuries old symbols of honor in Rajasthan. Evenings are meant for the main shows of music and dance. Continuing till late into the night, the number of spectators swells up each night and the grand finale, on the night of a full moon, takes place by sand dunes.

Courtesy : Wikipedia

استاد کو عزت دو

کراچی میں پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ، واٹرکینن کا استعمال اور لاٹھی چارج کر کے کئی خواتین و مرد اساتذہ زخمی کر دیے۔ حکومت سندھ نے 957 اساتذہ کو مستقل کرنے کے بجائے بیروزگار کرنے کا فیصلہ کیا تو اساتذہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے قوم کے معماروں کو حوالات میں بند کر دیا۔ شرم کا مقام ہے، جن کی بدولت قومیں ترقی کرتی ہیں ، اپنے جائز مطالبہ کے لیے احتجاج کی پاداش میں پولیس نے ان کو ہی لہو لہان کر دیا اور ان کے ساتھ مجرموں کی طرح سلوک کرنے لگی۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا ، بلکہ پہلے بھی اساتذہ کو اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

وہ قوم آخرکس طرح ترقی کر سکتی ہے، جو اپنے ہی محسنوں اور معماروں سے مجرموں کی طرح سلوک کرے۔ اساتذہ قوم کے محسن اور ملک وقوم کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں۔ کسی بھی اعلیٰ عہدے اور بلند مرتبہ و مقام تک پہنچنے والے ہر شخص اور ہر قوم کی ترقی ان کے اساتذہ کے مرہون منت ہوتی ہے، لیکن افسوس ہمارے ملک بھر میں حکومتی سطح پر اساتذہ کو ان کے جائز مقام سے محروم رکھا جاتا ہے۔ استاد کو قوم کا معمار کہا اور روحانی والدین کا درجہ دیا جاتا ہے۔ استاد ہی معاشرے کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھاتا، سوچ اور فکر کی راہ متعین کرتا اور زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے گر بتاتا ہے۔ عالمی یوم اساتذہ سلام ٹیچر ڈے کے عنوان سے ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

یہ دن منانے کا مقصد اساتذہ کی اہمیت کو اْجاگر کرنا اور یہ پیغام عام کرنا ہے کہ استاد کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اساتذہ کو وہ مقام حاصل نہیں جو ان کا حق ہے۔ اساتذہ کے مسائل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں، مگر پھر بھی وہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اپنا آپ وقف کیے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس اپنی وزارت میں بہت عمدہ کام کر رہے ہیں۔ وہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے کئی مثبت تبدیلیاں لاچکے ہیں، جس سے اسکولوں اور اساتذہ کو متعدد مسائل سے نجات ملی ہے۔ امید ہے آگے بھی شعبہ تعلیم میں مزید بہتر تبدیلیاں لاتے رہیں گے اور پنجاب کے اسکولوں اور اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے کمر بستہ رہیں گے۔

پنجاب کے اسکولوں میں اساتذہ کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جنھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے حوالے سے کچھ خامیاں پائی جاتی ہیں، لیکن ان کی بنیادی وجہ اساتذہ نہیں، بلکہ ہمارا نظام تعلیم ہے۔ پالیسی میکرز نہ تو اسکولوں اور اساتذہ کے مسائل سے واقف ہیں اور نہ ہی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ پنجاب حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں کو بلدیاتی اداروں کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے پر عمل درآمد سے سرکاری اسکولوں میں نظام تعلیم تباہ ہو جائے گا۔ سرکاری اسکولوں میں کونسلروں اور چیئرمینوں کی مکمل اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور اسکول تعلیمی ادارے نہیں رہیں گے، بلکہ سیاسی گڑھ بن جائیں گے۔ اس فیصلے کے بھیانک نتائج کا سامنا صرف تعلیمی اداروں کو ہی نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ بحیثیت مجموعی پوری قوم کے بچوں کو تعلیمی نقائص سے دوچار ہونا پڑے گا۔

لہٰذا اگر پنجاب حکومت تعلیم کے فروغ میں مخلص ہے تو اسے اپنا یہ فیصلہ فورا واپس لینا چاہیے۔ سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور مڈل کی سطح تک ہر بچے کو پاس کرنا ضروری ہے، چاہے بچہ کتنا ہی نکما، تعلیم کے معاملے میں غیر سنجیدہ اور لاپرواہ کیوں نہ ہو۔ یہ حکومتی پالیسی طلباء وطالبات کے مستقبل اور تعلیم کے لیے سم قاتل ہے اور اساتذہ سے زبردستی پاس کیے گئے ان نالائق بچوں کے نتائج بھی دیگر لائق بچوں کے برابر مانگے جاتے ہیں، جو سراسر اساتذہ سے ناانصافی ہے۔ ہر بچے میں ایک سی صلاحیت نہیں ہوتی، امتحان میں مطلوبہ نمبر حاصل نہ کرنے والے کم صلاحیت بچوں کو فیل کر دینا چاہیے، تاکہ اگلے سال مزید محنت کر کے کامیابی حاصل کر سکیں، انھیں بلاوجہ پاس کرتے چلے جانا ان کا مستقبل تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھانے اور حاضری پوری کرنے کی ذمے داری اساتذہ پر عائد کی جاتی ہے، حالانکہ اس حوالے سے تمام تر ذمے داری والدین پر عائد کی جانی چاہیے، اگر والدین بچے کو بلا ضرورت غیرحاضری کرواتے یا اسکول میں داخل نہیں کرواتے اور یا بچوں کی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے تو اس کی وجہ سے والدین کو جرمانہ کرنا چاہیے، نہ کہ اساتذہ زیر عتاب آئیں۔ اگر والدین غربت کی وجہ سے بچے کو پڑھانے سے قاصر ہیں تو ان بچوں کے لیے حکومت کو اسپیشل الاؤنس مقررکرنا چاہیے۔ سرکاری اسکولوں میں استاد کسی طالب علم کو کسی بھی وجہ سے خارج نہیں کر سکتا۔

بعض طلباء اسکول نہیں آتے، پڑھائی نہیں کرتے، اسکول کا کام نہیں کرتے، اسکول کے دیگر کوڈ آف کنڈکٹ کا خیال نہیں کرتے، اساتذہ سے بدتمیزی کرتے اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں، لیکن حکومتی پالیسیوں کے مطابق استاد ان کی سرزنش نہیں کر سکتا۔ بچے اسکول نہ آئیں توبھی استاد ذمے دار ہے، اگر وہ ان کو اسکول لانے کے لیے سرزنش کرے تو بھی استاد کو ہی معتوب ٹھہرایا جاتا ہے۔ کلاس رومز میں طلباء کی تعداد زیادہ ہو تو ہر طالب علم پر توجہ دینا ناممکن ہے، اس لیے ہائی اسکول ہو یا پرائمری و مڈل، کسی بھی کلاس میں 30 سے زیادہ طالب علم نہیں ہونے چاہیے۔

اساتذہ کی تکریم میں اضافے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانے چاہیے۔ تعلیم حاصل کرنے کا پہلا زینہ ہی استاد کو عزت دینا ہے۔ محکمہ تعلیم کے کسی افسر کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ اساتذہ کی عزت نفس مجروح کرے، مگر افسوس محکمہ تعلیم میں آفیسرز اپنی کارکردگی بہتر دکھانے اور انعام حاصل کرنے کے لیے اساتذہ پر بلاوجہ سختی کرتے ہیں اور اسا تذہ کو مختلف طریقوں سے ایسے تنگ کیا جاتا ہے، جیسے استاد قوم کا محسن نہیں، بلکہ مجرم ہے اور بچوں کو پڑھا کر وہ قوم کی تعمیر نہیں کر رہا، بلکہ تخریب کر رہا ہے۔

تعلیمی مسائل اور متعلقہ امور پر بات کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا جانا چاہیے، جہاں انھیں تعلیمی پالیسیوں پر آزادانہ تنقید کا حق حاصل ہو۔ اساتذہ کو اس سرکاری مشینری میں شامل کیا جانا چاہیے جو ان کے اور شعبہ تعلیم کے مستقبل کے فیصلے کرتی ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حیرت کی بات ہے جب تعلیم میں رینکنگ ڈاؤن ہوتی ہے، تب تو آفیسرز کی جانب سے اساتذہ پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، لیکن جب ضلع بھر میں بہترین کارکردگی پر انعام دیا جاتا ہے، تو یہ انعام آفیسرز لے لیتے ہیں، حالانکہ اس انعام کے حقدار اساتذہ ہیں۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مرکزی ، صوبائی اور ضلع سطح پر ان کی مکمل حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور سالانہ بنیادوں پر حسن کارکردگی ایوارڈز سے نوازا جانا چاہیے۔

اساتذہ کی حاضری ، سروس بک ، پہلی تنخواہ اور پنشن کا نظام کمپیوٹرائز کیا جانا چاہیے، تاکہ کلرکوں کے بدتمیز رویے ، سست روی اور رشوت خوری سے نجات حاصل کی جا سکے۔ بیشتر اساتذہ کے لیے اپنی پہلی تنخواہ اور بقایا جات کلرکوں کو رشوت دیے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ایم اے، ایم ایس سی، ایم فل ڈگری ہولڈر اساتذہ کو گریڈ 16 تا 17 دیا جانا چاہیے اور تنخواہ بھی دیگر محکموں کے 16 تا 17 گریڈ کے ملازمین کے برابر ہونی چاہیے۔ اساتذہ کی رخصت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، جسے فورا ختم ہونا چاہیے۔ کسی استاد کو کوئی بھی ضروری کام پیش آجائے یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو اسے رخصت ملنا بہت مشکل ہے، حالانکہ قوانین میں اساتذہ کے تمام حقوق لکھے ہوئے ہیں، لیکن لکھے ہوئے پر عمل نہیں کیا جاتا۔ استاد کے ساتھ محکمے اور آفیسرز کے رویے بہت افسوس ناک ہیں، جنھیں بدلنا چاہیے۔

عابد محمود عزام

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا سندھ پاکستان کا کرپٹ ترین صوبہ ہے ؟

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ سندھ کرپٹ ترین صوبہ ہے جہاں بجٹ کا ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوتا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہر لحاظ سے کرپٹ ترین صوبہ ہے، جس کا ہر محکمہ ہر شعبہ ہی کرپٹ ہے، بدقسمتی سے وہاں عوام کیلئے کچھ نہیں ہے اور صوبائی بجٹ کا ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوتا، لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کی صورتحال دیکھیں، دیکھتے دیکھتے پورا لاڑکانہ ایچ آئی وی پازیٹو ہو جائے گا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سکھر شہر میں بجلی ہے نہ پانی، شہریوں کے پاس پینے کیلئے پانی ہے نہ واش روم کیلئے، یہ گرم ترین شہر ہے لیکن عوام کثیر منزلہ عمارتوں میں رہتے ہیں

شہر کی ایسی تیسی کر دی گئی ہے، گرم شہروں میں کثیر منزلہ عمارتیں نہیں بن سکتیں، وہاں کے میئر صاحب کثیر منزلہ عمارتیں گراتے کیوں نہیں ہیں؟۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پارکوں میں کوئی بزنس یا کاروبار نہیں چلنے دینگے، ہمیں پارک ہر صورت خالی چاہئیں، کراچی میں ہم نے ایدھی اور چھیپا کی ایمبولنس بھی پارکوں سے ہٹوا دیں، پہلے کراچی سے نمٹ لیں پھر سکھر کی طرف آئیں گے، میڈیا عوام کی خبر لگائے تو اشتہار بند ہو جاتے ہیں، صحافی بھی عوام کے مسائل کی خبریں نہیں لگاتے، عوام کو بنیادی سہولیات نہ ملیں تو وہ پُرتشدد ہوجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سکھر پریس کلب کو شہر کے درمیان میں ہی جگہ دیں، پریس کلب انتظامیہ اور کمشنر سکھر ایک ہفتے میں متبادل جگہ کا انتخاب کریں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

فریال تالپور کون ہیں اور انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے ؟

فریال تالپور 26 اپریل 1958 کو پیدا ہوئیں۔ انھوں نے پہلا الیکشن 1997 میں نوابشاہ سے لڑا جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد فریال تالپور نے لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور جیت کر پہلی بار 2008 میں قومی اسمبلی کی ممبر بنیں۔ فریال تالپور کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کیس کا آغاز 2015 میں ہوا جب ایف آئی اے نے ایسے اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع کیں جن سے کئی ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں تھیں۔ یہ کیس کچھ عرصے سست روی کا شکار رہا اور سابق چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار کے سو موٹو نوٹس کے بعد سال 2018 جولائی میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں حسین لوائی، طحہ رضا اور دیگر کو گرفتار کر کے میگا کرپشن سکینڈل کا پہلا کیس رجسٹر کیا گیا۔ 

اس سے قبل فریال کی تعلیم سے متعلق بھی سوال اٹھے ہیں، جس میں ان کی ڈگریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت ان کی ڈگریوں کی تصدیق کی رپورٹ پیش کر کے الزامات مسترد کیے گئے تھے۔ انہوں نے 1997 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر حصہ لیا، لیکن جیت نہ سکیں۔ انہوں نے پاکستان کے ایک نجی تعلیمی ادارے کی بورڈ ممبر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ سیاست کی دنیا میں فریال نوے کی دیہائی سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے 1997 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر حصہ لیا، لیکن جیت نہ سکیں۔ تاہم انہوں نے سندھ کے ضلع شہید بینظیرآباد کے شہر نوبشاہ میں دو بار منتخب ہو کر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ پہلی بار انہوں نے نوابشاہ کی مئیر کے طور پر 2001 سے 2005 کے درمیان کام کیا اور دوسری بار دوبارہ 2005 سے 2009 تک کے لیے منتخب ہوئیں۔ لیکن وہ اپنا دوسرہ دور مکمل نہ کر سکیں اور 2008 میں اس عہدے سے دستبردار ہو گئیں۔ فریال پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رکن منور تالپر کی اہلیہ ہیں۔

بشکریہ اردو نیوز

دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کی آبادی میں 55 فیصد اضافہ

صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے چار روزہ انتھک سروے کے بعد قوم کو اچھی خبر دی ہے کہ معدومیت کے خطرے سے دوچار سندھ کی نابینا ڈولفن ’بھلن‘ کی تعداد میں 55 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے کئے گئے سروے میں 500 نئی ڈولفن شمار کی گئی ہیں یعنی 2019 میں ان کی کل تعداد 1419 ہو چکی ہے جبکہ 2011 میں ڈولفن کی تعداد 918 تھی۔ ماہرین نے اس کے لیے سکھر سے گدو بیراج تک 200 کلومیٹر کا پانیوں کا جائزہ لیا ہے۔ ’ ماضی میں کئے گئے سروے جون اور جولائی میں ہوئے جب دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور اطرافی نالوں اور آبی راستے بھی پانی سے بھرے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار اپریل میں کیا گیا ہے جبکہ پانی کا بہاؤ کم تھا لیکن بیراجوں کی اطراف میں پانی کی شدت تھی،‘ محکمہ وائلڈ لائف کے کنزرویٹر جاوید مہر نے بتایا۔

جاوید مہر نے اس سروے میں 58 شرکا کو خشکی پر تعینات کیا اور 22 اراکین کو دو کشتیوں میں سوار کر کے ڈیٹا جمع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نایاب سندھو ڈولفن سندھ ڈیلٹا سے لے کر پنجاب میں اٹک تک کے مقام پر دیکھی جاتی تھی۔ لیکن آج کوٹری بیراج سے آگے تک پانی کے بہاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اب اس کی آبادیاں ایک محدود علاقے تک رہ گئی ہیں جسے ’انڈس ڈولفن ریزرو‘ کے نام سے تحفظ گاہ کا مقام حاصل ہے۔ پاکستان میں دریائی ڈولفن کا پہلا باقاعدہ سروے 1974 میں سوئزرلینڈ کے پروفیسر جورجیو پیلری نے کیا تھا اور 150 ڈولفن شمار کی تھیں۔ اس کے بعد ڈولفن کے لیے آبی تحفظ گاہ قائم کی گئی تھی۔

جاوید مہر نے بتایا کہ میٹھے پانی میں چار اقسام کی ڈولفن پائی جاتی رہیں جن میں سے اب تین اقسام کی ڈولفن ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے چین کے دریائے یانگزی میں پائی جانے والی ڈولفن ناپید ہو چکی ہے۔ دریائے ایمیزون کی ڈولفن ابھی موجود ہے جبکہ پاکستانی ڈولفن دنیا کے کسی اور علاقے میں نہیں پائی جاتیں۔ جاوید مہر نے کہا کہ ایک قسم کی ہموار بالوں والی اودبلاؤ کے آثار کے متعلق بھی کہا جس کے فضلے اور قدموں کے نشانات کی بنا پر اس کی شناخت کی گئی ہے اور اس نسل کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ اس سروے میں دو خواتین ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر زیب النسا میمن اور ڈاکٹر کومل عارف ہنگورو نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ماہرین نے تمام مشکلات کے باوجود اس اہم تجربے کو بہت اہم قرار دیا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز