Shandur Pass : World’s ‘Rooftop’ readies for polo festival

People watch a polo match at Shandur Pass, also called ‘the roof of the world’ as it is situated at an altitude of about 3,700 metres (12,100 feet). The Shandur Polo Festival opens a door step to the people of the world to enjoy their selves. Many of the people from entire world come here to watch polo match played between Chitral and Ghizer.  At first it was a training game for cavalry units for the King’s Guards or other Elite troops. To the warlike tribesmen who played polo with as many as 100 players to a side, it was a miniature battle. It became a Persian national game in the 6th century AD. From Persia, the game spread to Arabia, then to Tibet, China and Japan. In China, in the year 910, death of a favourite relative in a game prompted Emperor Apaochi to order beheading of all players. Ali Sher Khan Anchan Maqpoun used to play Polo at Shandoor when Chitral was part of Maqpoun empire. Historically, polo being the king of games was played between small kingdoms, villages and rival groups of Gilgit Agency. From 1936 onwards polo tournaments were held annually at Shandur at the patronage of the British. The three-day Shandur Polo Festival has developed steadily in recent years into the massive celebration of mountain polo that it is today.
Source : Wikipedia

پی ایس ایل : غیرملکی پلیئرز نے محبت کے پھولوں سے دامن بھر لیا

پاکستان آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں نے محبت کے پھولوں سے دامن بھر لیا جب کہ شین واٹسن نے دورے کو یادگار قرار دے دیا۔ پاکستان میں کھیلے گئے پی ایس ایل کے میچز کو دلچسپ بنانے اور یہاں کے شائقین کو کھیل کے سنسنی خیز لمحات سے لطف اندوز کرنے والے غیرملکی کھلاڑیوں نے بھی اپنے دامن محبت کے پھولوں سے بھر لیے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک اور ٹیم مینجمنٹ کی کوششوں سے یہاں آنے پر راضی ہونے والے سابق آسٹریلوی کرکٹرشین واٹسن نے اپنے دورہ پاکستان کو یادگار قرار دے دیا۔ واٹسن پی ایس ایل فور میں سب زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی قرار پائے انھوں نے کئی میچز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی فتح کو اپنی بیٹنگ سے یقینی بنایا۔

پشاور زلمی کے کپتان اور لگاتار تیسری مرتبہ پی ایس ایل کیلیے پاکستان کا رخ کرنے والے ڈیرن سیمی نے بھی ایونٹ کے دوران مداحوں کے پیار اور سپورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا ٹویٹر پرکہنا تھا کہ ’’پاکستان، میں واپس آؤں گا، پیار اور سپورٹ کا شکریہ‘‘ ۔ سیمی نے کراچی کے شائقین کرکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کرکٹ کا ماحول بہترین ہے اور یہ کرکٹ کھیلنے کے لیے شاندار جگہ ہے۔ ویسٹ انڈیز کے سابق عظیم کرکٹر اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مینٹور ویوین رچرڈز نے مداحوں، پاکستان کے کرکٹ شائقین اور کراچی کے عوام کا بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ ٹویٹر پر ویڈیو پیغام میں ویوین رچرڈز نے ٹیم کوئٹہ کے ہر ممبر کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

ایشین گیمز کے نتائج : کیا ہمیں 34ویں پوزیشن پر کوئی شرمندگی نہیں

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا تجویز کردہ 358 کھلاڑیوں اور آفیشنلز پر مشتمل دستہ نگران حکومت کی آشیرباد لیکر انڈونیشیا میں 18ویں ایشیائی کھیلوں میں اپنی کارکردگی مکمل کر چکا ہے ۔ میڈل ٹیبل پر پاکستان پیتل کے ساڑھے تین میڈلز کے ساتھ 34 ویں پوزیشن پر آیا ہے یوں ایشیائی کھیلوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے دستہ نے اپنی تاریخ کی سب سے شرمناک پرفارمنس دی ہے کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے 40 سے 50 کھلاڑیوں اور آفیشلز کی تجویز دی گئی تھی جن میں ہاکی، کبڈی، سکوائش کے علاوہ پانچ کھلاڑی انفرادی کھیلوں کے 5 آفیشلز کے ساتھ حصہ لینے کے اہل قرار دیئے گئے تھے ۔ لیکن پاکستان اولمپک ایسوسی اپنی ضد پر قائم رہی۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب عمران خان قوم کو بچت کا سبق دے رہے تھے اور اس وقت نگران حکومت 358 افراد کو سیر و سیاحت پر بھیج کر کروڑوں کا ٹیکہ لگا رہی تھی۔

دستہ روانگی کے ساتھ ہی ہمیشہ کی طرح کھلاڑیوں اور آفیشلز کی طرف سے اخبارات اور ٹیلیویژن چینلز پر بیانات اور دعوئوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ہر ایک نے ان کھیلوں میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا مژدہ سنایا۔ بیانات کے سلسلہ میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کھیلوں میں ان کی ترجیح تمغے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کا تجربہ اور تربیت ہے۔
موصوف جب 2004 میں پاکستان اولمپک میں نافذ کئے گئے تو انہوں نے پہلے بیان میں فرمایا تھا کہ ان کا ٹارگٹ اولمپک 2008 بیجنگ میں گولڈ میڈل کا حصول ہے۔ اس کے بعد اولمپک گولڈ میڈل گول ہو گیا جو کہ ابھی تک گول ہے۔

کھلاڑیوں کی تربیت کا سبق دینے والے یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ایشیائی کھیل دنیا کے سب سے بڑے براعظم کے کھیل ہیں اور کوئی تعلیم بالغاں پروگرام کا حصہ نہیں۔ یہاں کھلاڑی سال ہا سال کی محنت کر کے میڈل لینے آتے ہیں۔ ان کے کھیلوں کی تنظیموں میں منتظمین چور دروازوں اور سفارشوں سے نہیں بلکہ میرٹ پر منتخب ہوتے ہیں ہارنے کے بعد ان کے کھلاڑی اور آفیشلز الٹے سیدھے اور گمراہ کن بیانات دینے کی بجائے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جاتے ہیں۔ اولمپک کھیلوں میں برطانیہ کے زوال سے عروج کا سفر اور ایشیائی کھیلوں میں بھارت کے زوال و عروج کی مثال سب کے سامنے ہے۔

پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ دورے کرنے والے ملکوں میں شامل ہے حال ہی میں ہم نے بہت بڑے دستے اسلامک گیمز ، ایشین انڈور گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں لڈو کھیلنے کے لئے بھیجے تھے کیا ایشیائی کھیلوں میں ان کی تربیت باقی تھی۔ ہاکی چند ماہ پہلے ایک ماہ کے ہالینڈ میں کیمپ کے بعد چمپئین ٹرافی کھیلی، فٹ بال بحرین میں غیر ملکی کو چزکے زیر سایہ مہینے کے کیمپ کے بعد پریکٹس میچ کھیلی کبڈی ٹیم نے دبئی میں ٹورنامنٹ کھیلا۔ والی بال اور پہلوان بھی دوروں پر رہے کیا ابھی کوئی کمی باقی تھی ۔

کھلاڑیوں کی تربیت کا مشورہ دینے والے صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے خود تو 14 سال میں بیان دینا نہیں سیکھا تو کھلاڑیوں سے تربیت کی توقع رکھنا بالکل بے معنی لگتا ہے۔ پاکستان نے پہلی بار ایشیائی کھیلوں 1954 کے منیلا میں ہونے والے کھیلوں میں حصہ لیا تھا جہاں 46 کھلاڑیوں کے دستہ نے 5 گولڈ، 6 سلور، دو برانز ٹوٹل 13 تمغوں کے ساتھ جو تھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ 1962 کے جکارتہ میں ہونے والے چوتھے ایشیائی کھیلوں میں 8 گولڈ، 11 سلور، اور 9 برانز ٹوٹل 28 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے۔

ایتھلیٹکس کے برانز میڈل جیتنے پر سیکرٹری نے فرمایا ہے کہ برائز میڈل جیت کر ہمارے ایتھلسٹ نے قوم کا سر فخر سے اونچا کر دیا ہے یوں لگتا ہے کہ سات سال کی عمر کے پاکستان کے اتھلیٹوں نے منیلا میں 4 گولڈ جیتنے تھے ان میں قوم کا سر اونچا ہونے میں کوئی کمی رہ گئی تھی جو مبارک شاہ ، غلام رازق اور عمر یونس بھی گولڈ میڈل جیت کر پوری نہ کر سکے اور وہ اب ان کے اتھلیٹ نے برانز میڈل جیت کر پوری کر دی ہے۔ جکارتہ میں موجود پاکستانی جھنڈے لیکر اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے آتے رہے لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ آنا بند کر گئے ۔

53سالہ ٹیبل ٹینس کے کھلاڑی عاصم قریشی کا حشر ان کو تربیت کے لئے بھیجنے والے عارف حسن نے تو شاید نہیں دیکھا لیکن عوام نے گھر میں ٹیلی ویژن پر ضرور دیکھا ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک دکھ کی داستان ہے۔ جاپان سے درآمد شدہ شاہ حسین کا چند سیکنڈ میں چت ہونا اس بات کی دلیل ہے امپورٹڈ کھلاڑی کے لئے ہمارا کیا طریقہ کار ہے اس کا مستقبل میں کوئی حل نکلے گا۔
ٹینس کے کیمپ جس کی ٹریننگ کوئی اور کوچ کرواتے رہے اور عین وقت پر ہمیشہ کی طرح اپنے ووٹوں سے بلیک میلنگ کرنے والا خالد رحمانی جس نے کبھی ریکٹ نہیں پکڑا سب کو سائیڈ پر کر کے مردوں اور عورتوں کی دونوں ٹیموں کا آفیسر اعلیٰ اور کوچ بن کر چلا گیا۔

ہماری تنظیموں سے اکاس بیل کی طرح چمٹے ہوئے عہدیدار خود تو اکاس بیل کی طرح پھل پھول رہے ہیں اور انہوں نے ہماری کھیلوں کے تناور درخت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ بدقسمتی سے ان سے نجات حاصل کرنے والے انکا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کے ذریعہ وجود میں آنے والی حکومت کے ہوتے ہوئے اس سلسلہ کا جاری رہنا انتہائی افسوسناک ہو گا۔ جن لوگوں کے ہاتھوں قرضوں تلے دبے ملک کے کروڑوں لٹا کر ملک کو شرمناک شکستوں سے دو چار کیا جا رہا ہے اس ٹولے سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ ٹولہ گزشتہ حکومتوں کی طرح اس وقت کو بھی اپنے گاڈ فادر انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کی پابندی سے ڈرائے گا۔ انکے دوروں کو میرٹ سے منسلک کر کےان کی سیر و سیاحت بند کی جائے ۔

دوسرا ان کی نا اہلی کی تحقیقات کے بعد ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ اس میں آئی او سی کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اگر وہ دخل اندازی کرے تو ان سے بات چیت کے لئے اہل لوگوں کو بھیجا جائے نہ کہ ان سے سودا بازی کرنے والے لوگوں کو بھیج کر اس گروہ کو مزید طاقتور کیا جائے۔ آخر میں گزارش کرونگا کہ ہر کھیل سے ایک اہل نمائندہ لیکر ایک انکوائری کمیٹی بنائی جائے جو ان کھیلوں میں کروڑوں کے ضیاع اور ملک کی جگ ہنسائی کرانیوالوں کے خلاف رپورٹ دے جس کے نتیجہ میں اس گروہ کے خلاف ایکشن لیکر ان سے فوری نجات حاصل کر کے اہل افراد کو سامنے لائے جا سکیں۔

آصف ڈار

بشکریہ روزنامہ جنگ

نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی، تاریخ کے آئینے میں

پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان انٹرنیشنل کھیلوں کی دوری کی صورت میں برداشت کرنا پڑا، تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے ملکی گراؤنڈز انٹرنیشنل کرکٹ سے ویران ہی رہے، پی سی بی کی انتھک کوششوں سے 2008 میں بنگلہ دیش جبکہ اگلے برس سری لنکن ٹیم پاکستان کے دورے پر آ ہی گئی لیکن لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پاکستان غیر ملکی ٹیموں کے لئے ایک بار پھر نو گو ایریا بن گیا۔ سانحہ لبرٹی کے 6 سال کے بعد قذافی سٹیڈیم میں تو زمبابوے، کینیا اور ورلڈ الیون کی ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دے چکیں، پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل بھی ہو چکا تاہم نیشنل سٹیڈیم کراچی کو 9 سال کے طویل عرصے کے بعد پی ایس ایل کے فائنل کی شکل میں کرکٹ کے بڑے میلے کی میزبانی کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی کی تاریخ کی بات کی جائے تو اسی گراؤنڈ میں پہلا میچ 26 فروری تا یکم مارچ 1955 تک پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جبکہ آخری بار پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں 21 تا 25 فروری2009 میں ایک دوسرے کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیں، 1955 سے دسمبر 2000 تک ہونے والے 34 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے 17 میں فتح سمیٹی جبکہ اسے کسی ایک بھی مقابلے میں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ پہلا ایک روزہ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 21 نومبر 1980 جبکہ آخری میچ 21 جنوری 2009 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا۔

اسی گراؤنڈ پر پہلا اور آخری ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ 20 اپریل 2008 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، پاکستان نے میچ کا نتیجہ 102 رنز سے اپنے نام کیا۔ ملک کے سب سے بڑے سٹیڈیم کو اب تک ورلڈ کپ 1987 اور عالمی کپ 1996 کے 6 میچز کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اسی گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میں 765 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے اور آسٹریلیا کو 80 کے سب سے کم سکور پر پویلین کی راہ دکھانے سمیت متعدد ریکارڈز بنانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔

اسٹیڈیم میں 34228 افراد کے میچ دیکھنے کی گنجائش موجود ہے، کرکٹ کے دیوانوں کو شکوہ رہا ہے کہ 2 کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر میں یہ تعداد بہت کم ہے، پی سی بی نے متعدد بار وعدہ کیا ہے کہ یہ تعداد بڑھا کر 90 ہزار تک کر دی جائے گی تاہم ابھی تک یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا ہے۔ ایک عشرہ تک اس گراؤنڈ میں کرکٹ کی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکنے کی وجہ سے سٹیڈیم کا کوئی پرسان حال نہیں رہا تھا تاہم جب پی سی بی نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل کراچی میں کروانے کا فیصلہ کیا تو اس کے ساتھ ہی ڈیرھ ارب کی خطیر رقم سے سٹیڈیم کی تزئین وآرائش کا کام بھی شروع کروا دیا گیا.

میاں اصغر سلیمی

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو