پاکستان کے پہاڑوں میں قدرت کا حسن… شمشال جھیل

دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کر کے ایک سڑک تعمیر کر لی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

خوبصورت جھیل خرفاق جو سیف الملوک جھیل سے کم نہیں

پاکستان خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے لیکن حکومتوں نے سیاحت کی طرف کم توجہ دی اور قدرتی نظاروں تک پہنچے کیلئے جو ذرائع آمد و رفت آپ کو یورپی ممالک میں ملتے ہیں وہ یہاں دستیاب نہیں ۔ یورپ میں یہی سہولت قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے اور جوق درجوق سیاح آتے ہیں جس سے مقامی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی شمالی علاقہ جات قدرتی مناظر سے بھرپور ہے لیکن وہ یا تو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ خوبصورتی کی ایسی ہی مثال” جھیل خرفاق ‘‘ ہے۔ شمال میں چین کی سرحد اور واخان کی پٹی سے ملحقہ پاکستان کے آخری ضلع گانچھے کی تحصیل خپلو میں واقع ہے جس تک پہنچنے کیلئے سخت ہائیکنگ کرنا پڑتی ہے۔ سکردو سے اگر خرفاق جائیں تو براہ تک پونے دو گھنٹے کا سفر ہے لیکن اگر خپلو سے جائیں تو پچیس سے تیس منٹ لگتے ہیں ۔

راستہ بہت زیادہ دشوار گزار ہے۔ جھیل سے پہلے ایک دریا آتا ہے جہاں سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔ فور بائی فور گاڑی ہی کارگر ہوتی ہے ، یہاں سفر کرنا عام گاڑی کے بس کی بات نہیں ۔ جو لوگ ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے دلدادہ ہیں وہ خرفاق جھیل تک پہنچنے میں آسانی محسوس کرینگے کیونکہ جھیل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ یہاں چٹانوں کے پہاڑ کھلے کھلے ہیں درمیان میں کافی جگہ ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جھیل تک پہنچنے کیلئے سڑک تعمیر کرے تاکہ سیاحت میں اضافہ ہو سکے ۔ جھیل کا پانی اوپر پہاڑوں سے آتا ہے جب برف پگھلتی ہے تو جھیل گہری ہو جاتی ہے اور اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے لیکن جب پانی خشک ہوتا ہے تو جھیل سکڑ جاتی ہے ۔ جھیل کا داہانہ یا بہائو زیر زمین ہے اور اس کا پانی ایک گائوں میں جاکر نکلتا ہے ۔

گھنٹوں کی ہائیکنگ کرتے کرتے جب سیاح تھک جاتے ہیں تو کسی مقامی رہائشی کا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں جو مقامی فرد خوشی سے دے دیتا ہے کیونکہ وہاں ٹھہرنا تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے ۔ مقامی آباد ی بہت ملنسار ہے۔ جھیل سے فاصلے پر کہیں کہیں آبادیاں ہیں، دریا کے ساتھ بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس جھیل تک پہنچ پاتے ہیں ۔ تھکے ہارے سیاح جب کئی میل کا سفر کر کے اس جھیل کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کا نیلگوں پانی دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جیسے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیں گے ۔ جھیل سے پہلے چٹانوں کے ٹوٹے پتھر آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا شفاف پانی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔ یہ ایک بہت خاموش اور دنیا سے ہٹ کر جگہ ہے جہاں آپ سکون محسوس کرینگے ، یہاں کوئی شور نہیں سوائے پانی کے گرنے کے یا پرندوں کے چہچہانے کے ۔

یہ جھیل خوبصورتی میں جھیل سیف الملوک سے کم نہیں لیکن چونکہ اس تک پہنچنا بہت دشوار ہے اس لئے سیاح عموماً یہاں کا رخ نہیں کرتے لیکن اگر حکومت توجہ دے تو اسے جھیل سیف الملوک کی طرح کا سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کا ٹھہرائو آپ کو کسی حسین دلربا پانی کے خوبصورت منظر کی طرف لے جاتا ہے جہاں آنے والے لوگ عجیب ہی تروتازگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جھیل اپنے اندر اک خوشنما احساس تو رکھتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کو غمزدہ بھی کرتی ہے کہ اتنی خوبصورت جھیل عوام کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔

زونیر کمبوہ

بشکریہ دنیا نیوز

چنیوٹ…. اک شہرِ بے مثال

سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کی رومان پرور موجوں کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ واقع ہے۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے کیا؟ اس حوالے سے مختلف آرأ پائی جاتی ہیں۔ تاہم، تاریخی روایت کے مطابق 712ء میں بنو امیّہ کی تسخیر سے پنجاب کے بہت سے علاقوں کے ساتھ چنیوٹ، جھنگ اور شورکوٹ بھی مسلمانوں کی عمل داری میں شامل ہو گئے۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم، حکومتی عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا، جس نے چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار تعمیر کروایا۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔

کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔ جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔ یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔ چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔

یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سائیں سُکھ اپنے دَور کی روحانی شخصیت تھے۔ کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ ایک بار دریائے چناب کے کنارے اپنے لائو لشکر سمیت جارہا تھا۔ اس نے دُور سے ایک بارات کو دریا پار جاتے دیکھا، تو قافلہ روک لیا، تاکہ کارروان شاہی، بارات کی روانگی میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔ اس پر ایک درویش نے کہا۔ ’’بادشاہ عادل، اہل کار دین دار، خلقِ خدا خوش حال۔‘‘ افسوس، اب نہ وہ بادشاہ رہا نہ درویش، لیکن سوکھتے ہوئے دریائے چناب کے کنارے یہ شہرِ بے مثال اسی آب و تاب سے جیے چلا جارہا ہے۔

مصباح طیّب
بشکریہ روزنامہ جنگ

کیا عمران خان، اردوان کی پیروی کر سکتے ہیں؟

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس، نے پاکستان کے چار روزہ دَورے میں دو باتیں بڑی اہم کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ’’دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیاں مثالی اور غیر معمولی ہیں‘‘ اور دوسری یہ کہ ’’پاکستان کا دہشتگردی کے عفریت سے نجات حاصل کر کے سیاحت کی طرف سفر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسلام آباد جو چند سال قبل کسی قلعے کی مانند لگتا تھا، آج اِسے اقوامِ متحدہ کے اسٹاف کے لیے فیملی اسٹیشن قرار دے دیا گیا ہے ۔‘‘ پاکستان کے حق میں جناب انتونیو گوتریس کے ان الفاظ کی بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ یقیناً اس کے مثبت نتائج بھی نکلیں گے۔ پُر امن پاکستان عالمی سیاحوں کے لیے حقیقی جنت ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے (سی این ٹریولر) نے پاکستان کو 2020 کا بہترین عالمی سیاحتی مقام قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کی بھی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ عالمی سیاحوں کی توجہ پاکستان کی طرف موڑی جا سکے ۔ ہر عالمی فورم پر عمران خان صاحب پاکستانی سیاحت کی تبلیغ کرتے سنائی دیتے ہیں ۔

وزیر اعظم کے دوست اور سیاحت کے لیے اہم صوبے (خیبرپختوخوا) کے سنیئر صوبائی وزیر بھی کہہ چکے ہیں : ’’حکومت کی اولین ترجیحات میں سیکیورٹی ، ویزے کے مسائل حل کرنا اور سیاحت کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کا قیام ہیں۔ سیاحوں کو ملک میں آمد پر ویزے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو صرف حساس سرحدی علاقوں میں جانے کے لیے این او سی درکار ہوتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں 14 نئے سیاحتی مقامات کے قیام کی منظوری دی ہے۔ چار نئے سیاحتی زونز بھی بنائے جا رہے ہیں۔‘‘ ہمارے دشمن بھی مگر تاک میں ہیں کہ پاکستان کو عالمی سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز نہ بننے دیا جائے ۔ پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں جب برطانوی شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ ، کیٹ میڈلٹن ، پانچ روز کے لیے پاکستان کی سیاحت پر آئے اور اُن کا جس شاندار انداز میں سواگت کیا گیا، اس نے بھی دُنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں خاصی معاونت کی ۔

اس برطانوی شاہی جوڑی نے اسلام آباد ، لاہور اور چترال میں گز ارے ایام سے جس اسلوب میں لطف اُٹھایا ، اس کا پیغام بھی دُنیا بھر میں پہنچا ۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن کا یہ دَورہ اس لیے بھی ہمارے لیے اہم ترین تھا کہ ٹھیک 13 سال بعد کسی برطانوی شاہی جوڑے نے پاکستان میں قدم رکھا تھا ۔ اس سے پہلے شہزادہ چارلس اور اُن کی اہلیہ ، کمیلا پارکر، نے 2006 میں پاکستان کا دَورہ کیا تھا۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن نے اپنے انٹرویوز میں بھی کھلے دل سے تسلیم کیا کہ پاکستان پُر امن ملک ہے اور یہ کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات تو عالمی سیاحوں کے لیے بانہیں کھولے ہُوئے ہیں ۔ اب فروری 2020 کے وسط میں جس والہانہ اندازمیں برطانوی شہزادی بیٹرس ، اسپین کے سابق وزیر اعظم جوز ماریا آزنر اور اٹلی کے سابق وزیر اعظم میٹیو رینزی پاکستان کی سیر کو آئے ہیں تو یہ دراصل برطانوی شہزداہ ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے دَورئہ پاکستان کے حق میں دیے گئے پیغامات کا نتیجہ ہے۔

اچھا ہُوا کہ ان تینوں معزز عالمی سیاحوں کا استقبال وزیر اعظم کے مشیرِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز، سید ذوالفقار بخاری ، نے کیا ۔ جناب وزیر اعظم نے اُن کے ساتھ چائے بھی پی ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں عالمی شہرت کے حامل سیاح درحقیقت پاکستان میں اسکائی ٹرپ پر آئے تھے ۔ معروف امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کے بھتیجے، جعفر جیکسن، نے بھی پاکستان کی مہمان نوازی کی خوب تعریف کی ہے ۔ بھارت اگر 2019 میں صرف ’’تاج محل‘‘ دیکھنے والے غیر ملکی 70 لاکھ سیاحوں سے 200 کروڑ روپے کما سکتا ہے تو پاکستان ایسا کارنامہ کیوں انجام نہیں دے سکتا؟ خدا کا شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے دربارکرتار پور صاحب کو ایک بے نظیر شکل دی گئی ہے ۔ اس کا شہرہ دُنیا میں سنائی دے رہا ہے۔ عالمی سکھ کمیونٹی پاکستان کی ستائش کر رہی ہے ۔

گزشتہ روز یو این سیکریٹری جنرل ، انتونیو گوتریس، بھی وہاں گئے اور پاکستان کی تعریف کی۔ اِسی پیمانے پر اگر صدیوں پرانے کٹاس راج کے مندروں کی طرف بھی توجہ دی جائے تو دُنیا بھر کے ہندو سیاحوں کو ہم اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ دربار کرتار پور صاحب اور کٹاس راج کے منادر کے بارے میں سلیم بیگ صاحب (جب وہ ’’ڈیمپ‘‘ کے ڈی جی تھے) کی بنائی گئی بے مثل ویڈیوز کو اگر دُنیا بھر میں بروئے کار پاکستانی سفارتخانوں کے توسط سے متعارف کروایا جائے تو یہ اقدام بھی عالمی سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں اور سندھ کے صحرائی علاقوں میں موجود سیکڑوں سالہ پرانے مندروں کی اگر از سرِ نَو تزئین کی جائے اور وہاں پہنچنے کے لیے اچھی ٹرانسپورٹ و رہائش کے لیے مناسب ہوٹلوں کا بندوبست ہو جائے تو وطنِ عزیز میں لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھ سکتا ہے۔ یہ مہمات مگر انجام دے کون؟

سیاحت کے میدان میں ہمارے کئی مسلمان برادر ملک جس طرح اربوں ڈالر کما رہے ہیں، ہم ان سے بھی سبق لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر : ترکی!! پچھلے دنوں عظیم ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کا دو روزہ دَورہ کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اُنکی موجودگی میں خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’ہم ترقی کے لیے ترکی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ بہت کچھ تو چھوڑئیے ، اگر ہم ترکی سے سیاحت کے میدان ہی میں سبق سیکھ لیں تو بڑی بات ہو گی۔ 9 فروری2020 کو ترک نیوز ایجنسی ’’اناطولیہ‘‘ نے یہ حیرت انگیز خبر دی کہ پچھلے سال (2019میں) 5 کروڑ عالمی سیاح ترکی آئے تھے اور ترکی نے ان سے 35 ارب ڈالر کمائے ۔ معروف ترک اخبار ’’حریت‘‘ کا کہنا ہے کہ جناب طیب اردوان کی حکومت کا ٹارگٹ یہ ہے کہ 2020 میں ترکی میں 5 کروڑ 70 لاکھ عالمی سیاحوں کو سہولت دی جائے گی ۔ کیا جناب عمران خان اس میدان میں طیب اردوان کے نقشِ قدم پر چل سکتے ہیں؟؟

تنویر قیصر شاہد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان سیاحت کیلئے آنیوالی کینیڈا کی سیاح نے اسلام قبول کر لیا

موٹرسائیکل پر سوار ہو کر دنیا کے سفر پر نکلنے والی کینیڈا کی سیاح روزی گیبریل نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ روزی نے گذشتہ سال پاکستان کے مختلف صوبوں کی سیاحت کی تھی۔ وہ پاکستان کی ثقافت اور خوبصورت مقامات سے کافی متاثر دکھائی دیتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ روزی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’ ’میری قسمت مجھے پاکستان لے کر آئی نہ صرف اس لیے کہ میں خود کو چیلنج کر سکوں بلکہ اس لیے بھی کہ اپنی تکلیف اور انا سے چھٹکارا پا سکوں اور سیدھے راستے پہ چل سکوں۔ ان کے مطابق کہ انہوں نے اپنا مذہب چار برس پہلے چھوڑا تھا اور وہ روحانیت کے سفر پر نکلی تھی اور کائنات ان کو پاکستان لے آئی۔

کینیڈین بائیکر نے مزید لکھا کہ ’میں دس سے زائد برس مسلم ملک میں رہی ہوں اور وہاں ایک منفرد چیز کے بارے میں جان پائی ہوں جو کہ مجھے کہیں نہیں ملا، وہ ہے سکون کا وہ درجہ جسے حاصل کرنا بہت سے لوگوں کا خواب ہے۔‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دنیا میں اسلام سے متعلق نظریوں کی نفی کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تنقید کا شکار اور غلط سمجھا جانے والا مذہب ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام کا اصل امن، محبت اور واحدانیت ہے۔

روزی گیبریل جب پاکستان کے لیے سفر پر نکلی تھیں تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے منع تھا کہ وہ پاکستان نہ جائیں کیونکہ یہ ان کے لیے خطرناک ہے لیکن انہیں پاکستان میں کہیں بھی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ کینیڈین بائیکر نے نہ صرف پاکستان کی خوبصورتی کی تعریف کی تھی بلکہ انہیں مقامی لوگوں کی خوش اخلاقی نے بھی کافی متاثر تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

سیاحوں کو پاکستان کا رخ ضرور کرنا چاہیے

سی این ٹریولر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سر سبز میدانوں کے دامن میں   پہاڑی سلسلے ہیں اور سیاحوں کو یہاں کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔ اب پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیاحت کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے۔‘ رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہا گیا ہے اور یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ  پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ ’قدیم وادیاں، ویزے کی پابندیوں میں نرمی اور شاہی دورے سے اس ملک کو وہ توجہ مل رہی ہے جس کا یہ مستحق ہے۔

 

وزیر آباد : آج تک یہ شہر ویران نہیں ہوا

ضلع گوجرانوالہ کا تاریخی شہر اور تحصیل وزیر آباد، لاہور سے 93 کلومیٹر اور گوجرانوالہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ پر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ اس کے پڑوسی شہر ہیں۔ وزیر آباد کی بنیاد نواب وزیر خاں نے رکھی تھی جو عہد شاہجہاں میں لاہور کا صوبے دار تھا۔ اس نے اسے آباد کر کے اپنے نام پر اس کا نام وزیر آباد رکھا اور ایک جامع مسجد عالیشان لاہور میں تعمیر کرائی جو مسجد وزیر خاں کے نام سے مشہور ہے۔ وزیر خاں چنیوٹ کا رہنے والا تھا اور اصل نام علیم الدین تھا۔ طبیب اور حاذق تھا۔ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں کا کامیاب علاج کر کے دربار شاہی میں مقام حاصل کیا تھا۔

اپنی آبادی سے لے کر آج تک یہ شہر ویران نہیں ہوا۔ البتہ اس پر بہت سی آفتیں وارد ہوتی رہیں جب افغان حملہ آور پنجاب پر حملہ کرتے تو لاہور سے پہلے اس شہر کو لوٹا جاتا۔ 1651ء میں شدید بارشوں کے باعث پورا پنجاب سیلاب کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ بادشاہ شاہجہاں کشمیر جا رہا تھا جب اُس نے صورتِ حال دیکھی تو اپنے وزیر اعظم سعداللہ خاں کو معاملات کی درستگی کے لیے وزیر آباد میں چھوڑا۔ نواب سعداللہ خاں نے یہاں کچھ ماہ قیام کر کے کسانوں کے نقصان کی تحقیق کی۔ ان کا ازالہ کرنے کی پوری سعی کی اور مالیہ کے معاملات کو درست کیا۔ رنجیت سنگھ تین بار اس شہر پر حملہ آور ہوا ۔ فقیر عزیز الدین ایک بڑی فوج لے کر رنجیت سنگھ کے حکم سے اس پر حملہ آور ہوا۔ سردار مغلوب ہوئے اور اس شہر پر رنجیت سنگھ کی عملداری ہو گئی۔ 

نواب وزیر خاں نے اس شہر کے گرد ایک فصیل بنوائی تھی جس کے مختلف دروازے تھے۔ گجراتی دروازہ، رسولنگری دروازہ اور لاہوری دروازہ وغیرہ۔ رنجیت سنگھ کے ایک مقرب دیوان حکمت رائے نے وزیر آباد میں ایک شیش محل بنوایا تھا جس پر اس دور میں 80 لاکھ کے لگ بھگ خرچ آیا تھا۔ اس عمارت کے لیے شیشے باہر سے منگوائے گئے تھے۔ اس کے ساتھ پائیں باغ اور بارہ دریاں بھی تھیں۔ آج اس عظیم الشان باغ کے محض آثار دکھائی دیتے ہیں۔ فرانسیسی جنرل ابو طویلہ نے اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس نے چوپڑ کا بازار اور شہر پناہ تیار کروائی۔ پلکھو نالہ کے کنارے ثمن برج نامی رہائش تعمیر کی۔ اس کے پاس ایک باغ اور بارہ دری بھی تعمیر ہوئی۔ 

رنجیت سنگھ کے زمانے میں کئی اور اہم لوگوں نے بھی وزیر آباد کے نواح میں شاندار باغات بنوائے۔ اس سلسلے میں دیوان کرپا رام، جمعدار خوشحال سنگھ اور اُتم سنگھ کے باغات کا خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان دنوں یہ شہر اسلحہ سازی کا مرکز بن چکا تھا اور یہاں توپیں تک بنتی تھیں۔ حالات میں تبدیلی کے سبب آہستہ آہستہ یہ صنعت بالکل ختم ہو گئی۔ انگریزوں کے قبضے کے بعد یہاں مسٹر جان انگلسن نے ایک سرائے اور چاہ بنوایا۔ برطانوی عہدِ حکومت کے ابتدائی دور میں وزیر آباد میں ایک بہت بڑی فوجی چھائونی بھی قائم کی گئی تھی۔ اس کا ثبوت وزیر آباد میں یورپی باشندوں کے دو قبرستانوں سے ملتا ہے جو آج بھی موجود ہیں۔ دریائے چناب پر لوہے کا پل بنایا گیا جس پر سے ریل گزرتی ہے۔ 

انگلستان کے ولی عہد نے خود یہاں آ کر اس پُل پر چاندی کی ایک میخ گاڑی تھی۔ 1904ء میں یہاں شفاخانہ، ڈاک خانہ، سرائے اور پادریوں کا مدرسہ تھے۔ ایک اسلامیہ سکول تھا جسے قاضیوں کا مدرسہ کہتے تھے۔ شروع شروع میں وزیر آباد ضلع مقام قرار پایا تھا پھر 1851ء میں سیالکوٹ مقرر ہوا اور یہ قصبہ اس کی ایک تحصیل مقرر ہوا۔ پھر 1852ء میں یہ تحصیل ضلع گوجرانوالہ میں شامل کر دی گئی۔ سانحہ جلیانوالہ باغ امرتسر کے بعد جب 1919ء میں پورے پنجاب میں ہنگامے ہوئے تو وزیر آباد میں بھی لوگوں نے ہڑتال کی اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ریل کی پٹڑی کو نقصان پہنچایا اور انگریز پادری بیلی رام کے گھر پر دھاوا بول کر اس کے علمی خزانے کو جلا ڈالا۔ نتیجتاً گرفتاریاں ہوئیں۔ 

ڈاکٹر دولت رام اور سردار جمعیت سنگھ بھی گرفتار ہوئے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے وزیرآباد میں کوہستانی لکڑی کی بہت بڑی منڈی تھی۔ 1881ء میں اس شہر کی آبادی 16464 افراد پر مشتمل تھی۔ جبکہ 1931ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 27079 نفوس تھی۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق تحصیل وزیرآباد کی آبادی 830,396 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں کے بنے ہوئے چاقو، چھریاں، کٹلری کا سامان مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ امریکہ اور یورپ برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پریشر کُکر بنانے کا آغاز اسی شہر سے ہوا۔ چاول چھڑنے کا ایک بڑا کارخانہ وزیر آباد ہی میں ہے۔ ایک ربڑ فیکٹری بھی اہم ہے جس کا تیار کردہ ربڑ کا سامان ملک اور بیرون ملک اپنے معیار کی وجہ سے معروف ہے۔ 

پاکستان آرمی کے نئے ٹینک ’’الخالد‘‘ میں ربڑ کے تمام سپیئر پارٹس اسی فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں کا تھانہ 1851ء میں بنا تھا۔ 1935ء میں یہ دوحصوں یعنی تھانہ صدر اور تھانہ سٹی میں تقسیم ہو گئے۔ یہاں کی تاریخی عمارات میں ثمن برج، شیش محل، بشر شاہ کی چوکی، بائولی اور گورو دا کوٹھا قابلِ ذکر ہیں۔ ثمن بُرج کی عمارت فرانسیسی جرنیل ابوطویلہ نے اپنی رہائش کے لیے نالہ پلکھو کے کنارے تعمیر کی تھی۔ اس عمارت کے گرد ایک وسیع باغ تھا جسے طرح طرح کے درختوں اور پھولدار پودوں کے ساتھ ساتھ خوبصورت رَوشوں اور ان کے بیچوں بیچ دن رات جلترنگ بجاتے ہوئے فواروں سے سجایا گیا تھا لیکن رنجیت سنگھ کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی اس عمارت کی یہ حیثیت ختم ہو گئی۔ 

ان دنوں یہ عمارت پانچ حویلیوں اور چھ ایکڑ باغ پر مشتمل تھی جو راجہ رحیم اللہ کے چھوٹے بھائی راجہ فقیر اللہ نے 1855ء میں چھ ہزار روپے میں خریدی تھی۔ نسل در نسل تقسیم نے اس کی صورت بگاڑ کر رکھ دی ہے البتہ کچھ عمارتوں کا ڈھانچہ ابھی تک اصل شکل میں موجود ہے۔ وہ کمرہ جو رنجیت سنگھ کے قیام کے لیے مخصوص تھا ایک اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی دیواروں پر سِکھ مصوّری کے بعض خوبصورت نمونے آج بھی موجود ہیں۔ شیش محل نامی عمارت رنجیت سنگھ کے ایک درباری دیوان حکمت رائے نے اپنی رہائش کے لیے تعمیر کی تھی۔ اب یہ خستہ حال ہو چکی ہے۔ تقسیمِ ملک کے وقت مہاجرین اس محل کے مختلف حصوں پر قابض ہو گئے انہوں نے اس کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ گورو دے کوٹھے کا علاقہ محکمہ اوقاف کی ملکیت ہے تاہم اس کی تقدیس اور شان و شوکت قِصّہ پارینہ بن چکی ہے۔ 

ملک کی کئی نامور سیاسی، سماجی، علمی اور اَدبی شخصیات کا تعلق وزیر آباد سے رہا ہے۔ خود اس شہر کے بانی نواب وزیر خاں ایک بڑے طبیب اورعالم فاضل تھے۔ سیّد احمد شہید کی تحریک کے آخری امیر مولوی فضل الٰہی، تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما اور نامور صحافی مولانا ظفر علی خاں، مولانا حامد علی خاں، جسٹس ایس اے رحمن، کرشن چندر، مولوی محمد عابد وزیر آبادی، پنجابی شاعر نذر مولا، محمد رمضان وزیر آبادی، ناول نگار رضیہ بٹ، قائد اعظمؒ کے پولیٹکل سیکرٹری محمد شریف طُوسی، جسٹس جواد ایس خواجہ، منو بھائی اور سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کا تعلق سرزمین وزیر آباد سے ہے۔

اسد سلیم شیخ

بشکریہ دنیا نیوز

ہنہ جھیل : بلوچستان کا خوبصورت تفریحی مقام

بلوچستان کے جغرافیے اور موسم میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ صوبے کا ایک بڑا حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے بعض سنگلاخ اور سبزے کے بغیر ہیں جبکہ بعض درختوں سے لدے ہوئے ہیں۔ یہاں آبشاریں اور جھیلیں بھی ہیں۔ ان میں سے ایک جھیل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بلند پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت جھیل ہے۔ اسے ہنّہ جھیل کہا جاتا ہے۔ کوئٹہ سے شمال کی طرف واقع سنگلاخ چٹانوں میں 1894ء میں تاج برطانیہ کے دور میں زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے ہنہ جھیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہنہ جھیل موسم سرما میں مہاجر پرندوں کی آماجگاہ رہی۔

سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں جن میں بڑی تعداد میں مرغابیاں ہوتی ہیں، موسم سرما میں پہنچتے اور موسم بہار کی آمد تک یہیں رہتے اور افزائش نسل بھی کرتے تھے۔ 1818 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس جھیل میں 32 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 43 فٹ ہے بارشوں اور برفباری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا جھیل تک پہنچتا ہے۔ کوئٹہ اور آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ سیاحوں کے لیے ایک دلکش مقام ہے۔ یہاں ہر موسم میں سیاحوں آتے ہیں۔ چاروں جانب پہاڑوں کی موجودگی میں ہنہ جھیل ایک بہت بڑے پیالے کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ بارش اور برف باری کے باعث یہ پانی سے بھری رہتی ہے۔ جھیل کا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 

اسے اطراف میں پھیلے ہوئے کھیتوں اور پھلوں کے باغات تک پہنچایا جاتا ہے اس طرح اس جھیل کو سیاحت کے ساتھ ساتھ زراعت اور باغبانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ جھیل سیف الملوک پاکستان کی بہت مشہور جھیل ہے۔ ہنہ اپنی نوعیت اور شکل و صورت کے لحاظ سے شمالی علاقے کی مشہور جھیل سیف الملوک سے ملتی جلتی ہے لیکن اسے جھیل سیف الملوک کی طرح خوبصورت درختوں اور سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں والا ماحول میسر نہیں، اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے بھورے اور مٹیالے پہاڑ، درختوں اور سبزے سے محروم ہیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہنہ جھیل کے کنارے شجرکاری بھی کی گئی۔ وہاں کافی تعداد میں پائن، چنار اور ایش کے درختوں کے علاوہ پھلدار درخت بھی لگا دیئے گئے جس کی بدولت ماحول خوبصورت ہو گیا۔ مقامی اور بیرونی سیاحوں کے لیے اس کی دلکشی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فرزانہ خان

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان نے میرا دل چرا لیا : چینی سفارت کار لیجیان ژاؤ

سابق جرمن سفیرمارٹن کوبلر کے بعد چینی سفارتکار لیجیان ژاؤ بھی پاکستان کے مداح نکلے۔ لیجیان ژاؤ گذشتہ چار سال سے پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے میں بطور ڈپٹی چیف آف مشن تعینات تھے۔ اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر انہوں نے پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ پاکستان سے واپس جانے پر افسردہ ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لیجیان ژاؤ نے لکھا کہ وہ پاکستان چھوڑ کر تو جارہے ہیں لیکن ان کا دل بہت بھاری ہے کیونکہ اس ملک نے انکا ‘دل چرا لیا ہے‘۔ لیجان نے اپنے الوداعی کلمات کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہترین وقت گزارا جو ہمیشہ یاد رہے گا، پاکستان چین کا آئرن برادر ہے۔ لیجیان نے مزید بتایا کہ اب ان کی جگہ چینی منسٹر کاؤنسل چانگ شنزؤئی فرائض نبھائیں گے۔

لیجیان ژاؤ سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے، انہوں نے پاک-چین دوستی اور اس کے مںصوبوں پر بے جا تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا جس پر پاکستانیوں نے انہیں خوب سراہا تھا۔ چینی سفارتکار کے پاکستان سے جانے کی خبر پر پاکستانی صارفین کے دل بھی اداس ہو گئے ہیں۔ مراد شعیب خان نامی پاکستانی صارف نے لکھا کہ گو وہ کبھی لیجیان سے ملے نہیں ہیں مگر ان کے دل میں ہمیشہ ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ ’پاکستان آپ سے ہمیشہ جڑا رہے گا۔‘ ایک اور صارف مشرف عباس نے لکھا ’لیجیان اب تک پاکستان میں فائض سفیروں میں سے سب سے بہترین ثابت ہوئے ہیں، پاکستان اور چین کے عوام کو قریب لانے میں ان کی محنت قابلِ ستائش ہے۔‘ عتیق احمد خان نامی صارف نے لکھا ’ہم آپ کو اور دونوں ممالک کے لیے آپ کی خدمات کو یاد کریں گے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے۔‘ واضح رہے کہ لیجیان پہلے سفیر نہیں جن کے جانے پر پاکستانی غمگین ہیں بلکہ سابق جرمن سفیر مارٹن کوبلر کے پاکستان سے جانے پر لوگوں کے ایسے ہی جذبات تھے۔ مارٹن نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

Shandur Pass : World’s ‘Rooftop’ readies for polo festival

People watch a polo match at Shandur Pass, also called ‘the roof of the world’ as it is situated at an altitude of about 3,700 metres (12,100 feet). The Shandur Polo Festival opens a door step to the people of the world to enjoy their selves. Many of the people from entire world come here to watch polo match played between Chitral and Ghizer.  At first it was a training game for cavalry units for the King’s Guards or other Elite troops. To the warlike tribesmen who played polo with as many as 100 players to a side, it was a miniature battle. It became a Persian national game in the 6th century AD. From Persia, the game spread to Arabia, then to Tibet, China and Japan. In China, in the year 910, death of a favourite relative in a game prompted Emperor Apaochi to order beheading of all players. Ali Sher Khan Anchan Maqpoun used to play Polo at Shandoor when Chitral was part of Maqpoun empire. Historically, polo being the king of games was played between small kingdoms, villages and rival groups of Gilgit Agency. From 1936 onwards polo tournaments were held annually at Shandur at the patronage of the British. The three-day Shandur Polo Festival has developed steadily in recent years into the massive celebration of mountain polo that it is today.
Source : Wikipedia