پاکستان کے پہاڑوں میں قدرت کا حسن… شمشال جھیل

دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کر کے ایک سڑک تعمیر کر لی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

خوبصورت جھیل خرفاق جو سیف الملوک جھیل سے کم نہیں

پاکستان خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے لیکن حکومتوں نے سیاحت کی طرف کم توجہ دی اور قدرتی نظاروں تک پہنچے کیلئے جو ذرائع آمد و رفت آپ کو یورپی ممالک میں ملتے ہیں وہ یہاں دستیاب نہیں ۔ یورپ میں یہی سہولت قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے اور جوق درجوق سیاح آتے ہیں جس سے مقامی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی شمالی علاقہ جات قدرتی مناظر سے بھرپور ہے لیکن وہ یا تو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ خوبصورتی کی ایسی ہی مثال” جھیل خرفاق ‘‘ ہے۔ شمال میں چین کی سرحد اور واخان کی پٹی سے ملحقہ پاکستان کے آخری ضلع گانچھے کی تحصیل خپلو میں واقع ہے جس تک پہنچنے کیلئے سخت ہائیکنگ کرنا پڑتی ہے۔ سکردو سے اگر خرفاق جائیں تو براہ تک پونے دو گھنٹے کا سفر ہے لیکن اگر خپلو سے جائیں تو پچیس سے تیس منٹ لگتے ہیں ۔

راستہ بہت زیادہ دشوار گزار ہے۔ جھیل سے پہلے ایک دریا آتا ہے جہاں سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔ فور بائی فور گاڑی ہی کارگر ہوتی ہے ، یہاں سفر کرنا عام گاڑی کے بس کی بات نہیں ۔ جو لوگ ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے دلدادہ ہیں وہ خرفاق جھیل تک پہنچنے میں آسانی محسوس کرینگے کیونکہ جھیل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ یہاں چٹانوں کے پہاڑ کھلے کھلے ہیں درمیان میں کافی جگہ ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جھیل تک پہنچنے کیلئے سڑک تعمیر کرے تاکہ سیاحت میں اضافہ ہو سکے ۔ جھیل کا پانی اوپر پہاڑوں سے آتا ہے جب برف پگھلتی ہے تو جھیل گہری ہو جاتی ہے اور اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے لیکن جب پانی خشک ہوتا ہے تو جھیل سکڑ جاتی ہے ۔ جھیل کا داہانہ یا بہائو زیر زمین ہے اور اس کا پانی ایک گائوں میں جاکر نکلتا ہے ۔

گھنٹوں کی ہائیکنگ کرتے کرتے جب سیاح تھک جاتے ہیں تو کسی مقامی رہائشی کا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں جو مقامی فرد خوشی سے دے دیتا ہے کیونکہ وہاں ٹھہرنا تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے ۔ مقامی آباد ی بہت ملنسار ہے۔ جھیل سے فاصلے پر کہیں کہیں آبادیاں ہیں، دریا کے ساتھ بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس جھیل تک پہنچ پاتے ہیں ۔ تھکے ہارے سیاح جب کئی میل کا سفر کر کے اس جھیل کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کا نیلگوں پانی دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جیسے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیں گے ۔ جھیل سے پہلے چٹانوں کے ٹوٹے پتھر آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا شفاف پانی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔ یہ ایک بہت خاموش اور دنیا سے ہٹ کر جگہ ہے جہاں آپ سکون محسوس کرینگے ، یہاں کوئی شور نہیں سوائے پانی کے گرنے کے یا پرندوں کے چہچہانے کے ۔

یہ جھیل خوبصورتی میں جھیل سیف الملوک سے کم نہیں لیکن چونکہ اس تک پہنچنا بہت دشوار ہے اس لئے سیاح عموماً یہاں کا رخ نہیں کرتے لیکن اگر حکومت توجہ دے تو اسے جھیل سیف الملوک کی طرح کا سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کا ٹھہرائو آپ کو کسی حسین دلربا پانی کے خوبصورت منظر کی طرف لے جاتا ہے جہاں آنے والے لوگ عجیب ہی تروتازگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جھیل اپنے اندر اک خوشنما احساس تو رکھتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کو غمزدہ بھی کرتی ہے کہ اتنی خوبصورت جھیل عوام کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔

زونیر کمبوہ

بشکریہ دنیا نیوز

چنیوٹ…. اک شہرِ بے مثال

سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کی رومان پرور موجوں کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ واقع ہے۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے کیا؟ اس حوالے سے مختلف آرأ پائی جاتی ہیں۔ تاہم، تاریخی روایت کے مطابق 712ء میں بنو امیّہ کی تسخیر سے پنجاب کے بہت سے علاقوں کے ساتھ چنیوٹ، جھنگ اور شورکوٹ بھی مسلمانوں کی عمل داری میں شامل ہو گئے۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم، حکومتی عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا، جس نے چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار تعمیر کروایا۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔

کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔ جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔ یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔ چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔

یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سائیں سُکھ اپنے دَور کی روحانی شخصیت تھے۔ کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ ایک بار دریائے چناب کے کنارے اپنے لائو لشکر سمیت جارہا تھا۔ اس نے دُور سے ایک بارات کو دریا پار جاتے دیکھا، تو قافلہ روک لیا، تاکہ کارروان شاہی، بارات کی روانگی میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔ اس پر ایک درویش نے کہا۔ ’’بادشاہ عادل، اہل کار دین دار، خلقِ خدا خوش حال۔‘‘ افسوس، اب نہ وہ بادشاہ رہا نہ درویش، لیکن سوکھتے ہوئے دریائے چناب کے کنارے یہ شہرِ بے مثال اسی آب و تاب سے جیے چلا جارہا ہے۔

مصباح طیّب
بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان ریلوے کا وجود ناگزیر ہے

پاکستان ریلوے میں ناگہانی حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ادارے کے ملازمین کے جسمانی، دماغی اور طبی سمیت جملہ ٹیسٹ کروانے اور تمام ڈرائیوروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے مانیٹرنگ کیمرے نصب کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ڈرائیور اور معاون ڈرائیورکو مانیٹرکیا جا سکے۔ جہاں انٹرنیٹ سہولیات ہیں وہاں براہ راست کوریج ہوگی جب کہ دور دراز علاقوں کی ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بتایا کہ اکثر حادثات میں سامنے آیا ہے کہ ڈرائیور سو گیا تھا۔ جب بسوں میں کیمرے لگ سکتے ہیں تو ٹرینوں میں کیوں نہیں لگ سکتے؟ ڈرائیوروں کو لازمی آرام کرنے کی پابندی پر بھی سختی سے عملدرآمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے حالیہ حادثے پر وزارت ریلوے سے ڈرائیور اور اسٹیشن ماسٹر کی میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ بھی طلب کر لی ہیں تاکہ نشے کے استعمال کا پتہ بھی چلایا جاسکے۔

مکمل فٹنس، مضبوط اعصاب، بیداریٔ مغز، قوت فیصلہ اور کسی ممکنہ خطرے سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ٹرین ڈرائیور کے پیشے کی بنیادی ضروریات ہیں، ان میں سے کسی ایک صلاحیت کی کمی بھی حادثات کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ دوران سفر ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں ہزاروں زندگیاں اور اربوں کی املاک ہوتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ سفارشات کی روشنی میں ہمیں جنوری 1990ء میں سانگی میں پیش آنیوالا ٹرین حادثہ یاد آگیا۔ جب ہم راولپنڈی سے کراچی کے لیے تیزگام میں سوار ہوئے اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر سانگی ٹرین حادثے سے متعلق چھپی تھی جسے مجھ سمیت دیگر مسافروں نے ایک عمومی سی خبر گردانتے ہوئے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ ٹرین روانہ ہوئی اور آہستہ آہستہ لیٹ ہوتی گئی ہر اسٹیشن پر حادثے سے متعلق خبریں اور تفصیلات موصول ہوتی رہیں یہاں تک کہ سندھ کے مختلف اسٹیشنوں پر رکتے رکاتے بالآخر گھوٹکی پر ٹرین نے مستقل ڈیرہ ڈال دیا۔

مسافروں کے کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی تھیں۔ ڈائننگ کار میں بھی کچھ موجود نہیں تھا۔ حتیٰ کہ شیر خوار بچوں کا دودھ تک ختم ہو چکا تھا۔ کچھ خدا ترس لوگ بچوں کے لیے دودھ لے کر،کچھ اچارکے ٹین اور ہاتھوں میں روٹیاں تھامے لوگوں کو روٹی پر اچار رکھ کر کھانے کے لیے دے رہے تھے۔ اس دوران ریلوے انتظامیہ کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا تھا نہ کوئی کوآرڈینیشن تھا نہ کوئی انفارمیشن کا سلسلہ صرف افواہیں، قیاس آرائیاں اور رائے زنی کی فضا قائم تھی کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ ذکریا ایکسپریس کے اس حادثے میں 700 کے قریب مسافر اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے ہزاروں زخمی تھے۔ حادثے کا شکار ٹرینوں کو دیکھ کر وحشت ہو رہی تھی تمام ریلوے نظام جام ہو چکا تھا۔ ریلوے ٹریک پر کئی گاڑیاں آگے پیچھے اور برابر برابر کھڑی ہوئی تھیں۔ ان کے ڈرائیور ریلوے لائنوں پر بیٹھے آپس میں بات چیت کر رہے تھے کچھ مسافر بھی ان کی گفتگو میں شریک تھے۔

ڈرائیور حضرات اپنی پریشانیاں اور مسائل بیان کر رہے تھے جو واقعی غور اور اصلاح طلب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے لمبی لمبی ڈیوٹیاں لی جاتی ہیں ٹرین لیٹ ہو جائے تو ذمے داری ڈرائیوروں پر ڈال دی جاتی ہے۔ ٹرین کا گارڈ بار بار ہارن بجانے کے باوجود ہری جھنڈی نہیں ہلاتا، سامان لوڈ کروانے کے چکر میں رہتا ہے۔ ٹرین کی تاخیر کو اس کی رفتار بڑھا کر کور کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ پٹریاں اس قابل نہیں ہوتیں کہ ان پر زیادہ تیز رفتاری سے چلا جائے۔ اگر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو ریلوے کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اپنی اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے آسان راستہ یہ اختیار کرتے ہیں کہ ساری ذمے داری ڈرائیور پر ڈال دی جائے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے۔

اگر کوئی واردات ہو جائے تو پولیس اہلکار سیٹوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے ڈرائیور سے دریافت کیا کہ آپ کی ٹرین میں وائرلیس یا کمیونی کیشن کا نظام تو ہو گا جس سے آپ اپنے کنٹرول روم یا آپریشن روم سے رابطے میں رہتے ہوں گے تو ہم پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا کہ ٹرین میں ایسا کوئی نظام نہیں ہوتا وہ صرف اللہ کے آسرے، سگنل کی بتی اورکیبن سے ہلائی جانیوالی لائٹوں کے اشارے پر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ ہم نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر آپ کی ٹرین درمیان میں خراب ہو جائے تو آپ کیسے رابطہ کرتے ہیں کیونکہ غلطی سے اس لائن پر دوسری ٹرین بھی آسکتی ہے تو اس نے بتایا کہ ریلوے انتظامیہ انھیں پٹاخے فراہم کرتا ہے اگر ٹرین خراب ہو جائے تو وہ دوڑتے ہوئے جاتے ہیں اور چند فرلانگ کے فاصلے پر ریلوے لائن پر ایک پٹاخہ باندھ دیتے ہیں

پھر کچھ فاصلے پر دوسرا اور اسی طرح تیسرا پٹاخہ بھی باندھ دیا جاتا ہے تاکہ غلطی سے کوئی ٹرین آجائے تو پہلا پٹاخہ بجنے سے ڈرائیور خبردار ہو جائے گا کہ آگے کوئی بریک ڈاؤن ہے اس طرح دوسرا اور تیسرا پٹاخہ اسے مزید خبردار کر دے گا تاکہ وہ ٹرین روک لے۔ جو ڈرائیور حضرات مسافروں سے بات چیت کر رہے تھے ان کی صحت کا معیار بھی اچھا نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم سب حیران و پریشان تھے کہ جدید سائنسی ترقی کے اس دور میں ہماری ٹرینوں میں کمیونی کیشن کا کوئی نظام ہے نہ ڈرائیوروں کی صحت اس کی دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کا عملی نظام ہے۔ 2012ء میں تو پاکستان ریلوے حکام کی نااہلیوں، بدعنوانیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ رقم کی عدم ادائیگیوں پر اسے PSO نے تیل کی ترسیل بند کر دی تھی۔ تیل، انجن اور اسپیئر پارٹس نہ ہونے کی وجہ سے ٹرینیں راستوں میں رکنے لگی تھیں۔

مختلف ٹرینوں کو ایک انجن سے چلایا جا رہا تھا ٹرینیں منسوخ کی جا رہی تھیں گھنٹوں کی تاخیر دنوں پر محیط ہو گئی تھی ٹرین روٹس بند کیے جا رہے تھے جس پر نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ان کی بندش رکوا دی۔ ملازمین کی تنخواہ اور پنشن تک کے لیے رقم نہیں تھی۔ مسافر پلیٹ فارموں پر سراپا احتجاج اور توڑ پھوڑ پر مجبور تھے۔ یونینز انتظامیہ پر کرپشن کے سنگین الزامات اور ان کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ وزیر ریلوے کی ذمے داری کا یہ عالم تھا کہ فرما رہے تھے کہ یہی حالت رہی تو انشا اللہ ریلوے بند ہو جائے گی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ریلوے نظام نہیں ہے۔ وہاں بھی تو لوگ سفر کرتے ہیں۔ وزیر موصوف کے اس بیان اور سوچ پر سر پیٹنے کو جی چاہتا تھا۔

ریلوے جس سے روزانہ لاکھوں اور سالانہ کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں جس سے سالانہ 6 ملین ٹن سے زائد سامان کی ترسیل ہوتی ہے، جس سے صرف مسافروں سے کرایہ کی مد میں 35 ملین روپے سالانہ کی آمدن ہوتی ہے سب سے بڑھ کر اس کی ایک دفاعی نوعیت بھی ہے کیا اس کا متبادل کوئی ٹرانسپورٹ نظام ہو سکتا ہے؟ ادارہ اس وقت مستحکم ہو سکتا ہے جب اس میں اہل و دیانت دار افسران کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ ادارے کے مسائل کو سمجھنے والے اہل، مخلص اور دیانت دار شخص کو بغیر کسی مداخلت کے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے تعینات کیا جائے جو اپنی صلاحیت و قابلیت کے ذریعے ادارے کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم کنار کر کے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر کے پاکستان ریلوے سے براہ راست لاکھوں افراد کا معاشی مفاد و مستقبل اور کروڑوں کا سفری مفاد وابستہ ہے یہ دفاعی اہمیت کا بھی حامل ہے جس کا متبادل کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے کئی عشرے قبل غیر ضروری اور غیر منافع بخش قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا لیکن آج اس کی بحالی کے لیے بیرونی ممالک سے قرضہ اور امداد لے کر دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پاکستان سیاحوں کے لیے جنت، 48 ممالک کو ویزا فری کر دیا

وزارت داخلہ نے نئی ویزا پالیسی جاری کر دی، جس کے تحت 48 ممالک کو ویزے میں نرمی دیتے ہوئے مخصوص وقت کے لیے ویزا فری کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایران، ملائیشیا، روس، ترکی، چین، سری لنکا، آسٹریلیا، ڈنمارک، برازیل، جرمنی سمیت دیگر ممالک کے لیے ویزا فری کیا گیا ہے، تاہم اس فہرست میں بھارت، امریکا، برطانیہ اور افغانستان شامل نہیں ہیں۔ اس نئی پالیسی کا اطلاع شروع کر دیا گیا ہے اور ان ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو مخصوص وقت کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہو گی اور ایئرپورٹ پر ہی ویزا میسر ہو گا۔

نئی پالیسی کے تحت 48 ممالک میں سے 12 ممالک کے سفارتکاروں، 31 ممالک کے سفارتکاروں اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں جبکہ 5 ممالک کے شہری عام پاسپورٹ پر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ابتدائی طور پر اس پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کو ایک سے 3 ماہ کا ویزا دیا جائے گا اور نئی پالیسی کے حوالے سے فارن مشن اور متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا تھا کہ پاکستان سیاحوں کے لیے جنت ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نئی ویزا پالیسی متعارف کروائی جائے گی، جس کے تحت 175 ممالک کو ای ویزا جبکہ 50 ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول کی سہولت ہو گی۔

شکیل قرار

بشکریہ ڈان نیوز

دودی پت سر جھیل : جس کی خوبصورتی دنگ کر دیتی ہے

پاکستان میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جن کی خوبصورتی دنگ کر دیتی ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع جھیلوں میں ایک عجب کشش پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کی سیاحت میں ترجیح جھیلیں ہوتی ہیں اور وہ صرف انہیں کو دیکھنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ دودی پت سر بھی ایسی ہی ایک جھیل ہے جو خیبرپختون خوا کے ضلع مانسہرہ میں وادیٔ کاغان کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ اس جھیل کے گرد چوٹیاں بالخصوص موسم سرما میں برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ مقامی زبان میں دودی کا مطلب سفید، پت کا مطلب پہاڑ اور سر کا جھیل ہے۔ اردگرد موجود چوٹیوں پر سفید برف کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ انہیں کا عکس اس کے پانیوں میں جھلکتا ہے۔ گرمیوں میں اس کا ٹھنڈا پانی بالکل شفاف دکھائی دیتا ہے۔ 

یہ سطح سمندر سے تقریباً 3800 میٹر بلند ہے۔ جھیل میں ٹراؤٹ مچھلی بھی پائی جاتی ہے۔ اس جھیل اور آس پاس کے علاقوں میں جون سے ستمبر کے درمیان جانا خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ موسم گرما کے شفاف پانیوں کا نظارہ کرنے کے لیے دور دور سے سیاح آتے ہیں۔ یہ جھیل ’’لالو سار دودی پت سر نیشنل پارک‘‘ کا حصہ ہے ۔ حیاتیات و نباتات کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ پارک 2003ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا نام دو جھیلوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ لالو سار بھی ایک جھیل ہے جو اس نیشنل پارک کا حصہ ہے۔ اس پارک میں پائی جانے والی جنگلی حیات میں برفانی چیتا، سیاہ ریچھ، مارموٹ، نیولا، جنگلی بِلا، ہمالیائی برفانی مرغ اور برفانی چکور شامل ہیں۔ نیز یہاں مختلف طرح کی مفید جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر جڑی بوٹیاں وہ ہیں جو صرف بالائی علاقوں میں پھلتی پھولتی ہیں۔  

محمد شاہد

کوہ کنیانگ : پاکستان کی آٹھویں اور دنیا کی اکیسویں بلند ترین چوٹی

کنیانگ چش پاکستان کی آٹھویں اور دنیا کی اکیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 7,823 میٹر ہے۔ یہ قراقرم کے بڑے گلیشئر ہسپر کے شمال میں واقع ہے۔ کنیانگ چش کی چوٹی سر کرنے کی پہلی کوشش 1962ء میں کی گئی۔ 18 جولائی کو تودہ گرنے سے دو کوہ پیما میجر جیمز مل اورکیپٹن ایم آر ایف جونز مارے گئے۔ ان کی نعش کا سراغ نہ مل سکا۔ ایک جاپانی ٹیم نے دوسری کوشش 1965ء میں کی جس کے زیادہ تر ارکان کا تعلق یونیورسٹی آف ٹوکیو سے تھا۔ انہوں نے کنیانگ چش کی جنوبی ڈھلوان سے چڑھنے کی کوشش کی۔ لیکن ایک کوہ پیما تاکیو ناکامورا 7,200 میٹر کی بلند ی پر حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

کنیانگ چش کو سر کرنے کی پہلی کامیاب کوشش 1971ء میں ہوئی۔ انڈزج زواڈا کی سربراہی میں پولینڈ کی ٹیم نے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ وہ جنوبی ڈھلوان سے چڑھے۔ ٹیم کا ایک ممبر برفانی شگاف سے ہونے والے حادثے کے نتیجے میں ہلاک بھی ہوا۔ اسے دوسری مرتبہ برطانوی کوہ پیما مارک لوئی اور کیتھ میلنے نے 11 جولائی 1988ء کو سر کیا۔ انہوں نے سر کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا اس پر پہلی کوشش 1980ء میں کی جا چکی تھی۔ اسے سر کرنے کی بیشتر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔  

محمد شاہد

جزیرہ استولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ استولا بلوچستان کے ضلع پسنی میں واقع ہے۔ ساحل سمندر سے اس کا فاصلہ 25 کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کی خاطر کیے گئے بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں پاکستان نے 2017ء میں اسے محفوظ سمندری علاقہ قرار دیا۔ تاریخ میں اس جزیرے کا اولین ذکر یونانی تاریخ دان، فلسفی اور فوجی کمانڈر اریان کے ہاں نیرکوس کے حوالے سے ملتا ہے جو سکندرِاعظم کی فوج میں جنگی کشتیوں کا قائد تھا۔ 325 ق م میں سکندرِاعظم کی فوج بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں محوِ سفر تھی۔ نیرکوس کی کشتیوں کے ملاحوں کو اس جزیرے کے بارے میں عجیب و غریب واقعات بتائے گئے تھے۔

اس جزیرے میں چھوٹی پہاڑیوں کے سات سلسلے ہیں جس کی وجہ سے مقامی بلوچی زبان میں اس جزیرے کو ہفت تلار یعنی سات پہاڑیاں کہا جاتا ہے۔ اس جزیرے کے پاس مختلف طرح کی سمندری حیات پائی جاتی ہے۔ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار سبز کچھوے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہاں سانپ کی ایک قسم بھی پائی جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندوں کی افزائش میں یہ جزیرہ معاون ہے۔ یہاں زیادہ تر گھاس اور جھاڑیاں ہیں اور کوئی درخت موجود نہیں۔ حکومت پاکستان نے یہاں 1982ء میں روشنی کا مینار تعمیر کیا تھا تاکہ آنے جانے والی کشتیوں اور بحری جہازوں کو رہنمائی مل سکے۔

ستمبر اور مئی میں یہاں ملاح جھینگے اور کستورا مچھلی پکڑنے کے لیے آتے ہیں۔ جون سے اگست تک یہاں ماہی گیری نہیں ہوتی اور سمندری لہریں بھی اونچی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ غیر آباد ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک مسجد بھی ہے۔ ایک قدیم مندرکے آثار بھی ملتے ہیں۔ یہاں سیاح آتے ہیں تاہم انہیں اپنی ضرورت کا سامان ساتھ لانا ہوتا ہے۔ لوگ یہاں مچھلیاں پکڑنے اور غوطہ خوری کرنے بھی آتے ہیں۔ سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جزیرے کے ماحول کا خیال رکھیں۔

محمد شاہد

جدید ٹیکنالوجی کے بغیر 1879ء میں قائم ہونے والا بلوچستان میں ریلوے کا نظام

برٹش دور حکومت میں بلوچستان میں 1400 کلومیٹر سے زائد ریلوے لائنوں کا جال بچھایا گیا۔ وسائل کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر انجئنیرز اور لیبر کی محنت کے بعد 30 سرنگیں اور 800 سے زائد خوبصورت پل تیار کیے گئے جو خوبصورتی اور پائیداری میں اپنی مثال آپ ہے۔ پہاڑوں، صحراؤں اور میدانوں کی سرزمین بلوچستان میں ریل کی پٹری بچھانے کا آغاز 16 اکتوبر 1879ء میں ہوا۔ بلوچستان کے سنگلاغ پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے یہاں ریلوے کا نظام بچھایا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب نہ ہی ٹیکنالوجی تھی اور نہ ہی جدید سہولیات، مشینری کے بغیر 20 سے 30 ہزار مزدوروں کے ہاتھوں کی محنت سے یہ پل اور سرنگیں تیار کی گئیں جو کسی شاہکار سے کم نہیں ہے۔ بلوچستان میں ریل کی پٹری کو پانچ حصوں میں مکمل کیا گیا جو ڈیرہ اللہ یار سے شروع ہو کر سبی، ہرنائی اور بوستان تک، بولان سیکشن میں مچھ، کولپور کوئٹہ تک جبکہ کوئٹہ سے افغانستان کے سرحدی شہر چمن اور ایران کے شہر زاہدان تک پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان میں نیرو گیج لائن بوستان سے ژوب تک پہنچا دی گئی۔ بلوچستان کے ریلوے نظام میں سرفہرست بولان سیکشن اور کوئٹہ سے چمن جاتے ہوئے خوجک ٹنل قابل ذکر ہیں۔

کوئٹہ تا سبی ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے بولان کے پتھریلے پہاڑوں میں 20 سرنگیں کھودنا پڑیں اور ندیوں پر 396 لوہے کے مضبوط پل تعمیر بنائے گئے جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے باوجود آج بھی اس ریلوے لائن کو سنبھالے ہوئے ہے جہاں دن میں کئی مال بردار اور مسافر ٹرینیں گزر کر اپنی منزل کو پہنچتی ہیں۔ بلوچستان کے بلند وبالا پہاڑوں اور سخت موسم میں ریل کی پٹری بچھانا ایک صدی قبل بلا شبہ انجئنئیرز اور لیبر کے لیےایک چیلینج رہا ہو گا جس میں موسم کی شدت اور سہولیات کی کمی کے باوجود بلوچستان میں ریل کا نظام لایا گیا جو آج تک صوبے کے عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

بشکریہ دنیا نیوز

نانگا پربت پر پھنسے دو غیرملکی کوہ پیما جان کی بازی ہار گئے

نانگا پربت ریسکیو ٹیم کے سربراہ، علی سد پارہ کا کہنا تھا کہ دونوں کوہ پیماؤں کی لاشیں کیمپ تھری کے پاس دکھائی دی ہیں اور ان کی لاشیں پہاڑ کے خطرناک حصے میں ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقے میں بلند پہاڑ نانگا پربت پر پھنسے دونوں غیرملکی کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق پاکستان میں اٹلی کے سفیر نے کی ہے۔ تیس سالہ برطانوی کوہ پیما ٹام بالارڈ اور 22 سالہ اطالوی کوہ پیما ڈینیئل ناردی کوہ ہمالیہ میں واقع نانگا پربت پر مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہوئے تھے جس کے بعد ان کی تلاش کا کام شروع کیا گیا تھا۔ گذشتہ ماہ 24 فروری کو ان کوہ پیماؤں کا اپنے بیس سٹیشن سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور ریسکیو کے لیے کوششوں کے باوجود دونوں کو پیماؤں کو نہیں بچایا جا سکا اور اب ان کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

پاکستان میں اٹلی کے سفیر اسٹیفانو پونتیکوروو نےٹوئٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں دونوں کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ فضائی تصاویر سے دونوں کوہ پیماؤں کی لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں یہ افسوس کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ دونوں کی تلاش باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہے۔ دونوں کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے والی ٹیم نے تصدیق کی کہ نانگا پربت میمری روٹ پر 5 ہزار 900 میٹر کی بلندی پر جو آثار ملے ہیں اور جو کچھ نظر آرہا ہے کہ وہ ڈینیئل اور ٹام کا ہی ہے اور اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں ہلاک ہو چکے ہیں”۔ نانگا پربت ریسکیو ٹیم کے سربراہ، علی سدپارہ کا کہنا تھا کہ دونوں کوہ پیماؤں کی لاشیں کیمپ تھری کے پاس دکھائی دی ہیں اور ان کی لاشیں پہاڑ کے خطرناک حصے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موسم میں لاشیں لینے کیلئے جانا انتہائی خطرناک ہے اور ریسکیو ٹیم لاشوں کی نشاندہی کے بعد واپس اسکردو پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کوہ پیما شدید سردی اور طوفانی ہوا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جب کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 4 غیر ملکی اور 3 پاکستانی کوہ پیماؤں نے حصہ لیا اور لاشوں کی نشاندہی جدید کیمروں کے ذریعے کی گئی۔ الپائن کلب کے سیکرٹری کرار حیدری نے دونوں کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، انہوں نے ریسکیو آپریشن کے دوران مدد پر اٹلی کی سفیر اور سرچ ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

نانگا پربت کا شمار خطرناک ترین پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی نویں اونچی ترین چوٹی ہے جس کی اونچائی 8 ہزار 125 میٹر ہے۔ ٹام بالارڈ اور ڈینیئل ناردی نے اپنی مہم کے لیے اس روٹ کا انتخاب کیا جو کبھی کامیابی سے مکمل نہیں ہو سکا۔ اس سے پہلے ایک روز قبل کہا گیا تھا کہ دونوں کوہ پیماؤں سے متعلق کچھ شواہد ملنے کے بعد ریسکیو ٹیم ہفتہ کو ان کی تلاش کی آخری کوشش کرے گی لیکن جدید کیمروں کی مدد سے لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ دونوں کوہ پیماؤں کے ریسکیو کے لیے پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے جارہے تھے۔ لیکن، پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان کی جانب سے فضائی حدود بند کر دی گئی تھی ،اس وجہ سے اس علاقہ میں کسی بھی ہیلی کاپٹر کی پرواز کی اجازت نہ تھی، جس کی وجہ سے سرچ آپریشن بھی تاخیر کا شکار ہوا۔ گذشتہ سال بھی کوہ ہمالیہ میں واقع پاکستان کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کے دوران پھنس جانے والی فرانسیسی خاتون کوہ پیما کو ریسکیو کیا گیا تھا، جبکہ پولینڈ کے کوہ پیما نہ مل سکے تھے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ