فردوس عاشق چیمپئن ہیں

ہماری محبوب رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق جدھر جاتی ہیں کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہیں۔ کیا بیوروکریسی، کیا سیاست دان، انہوں نے سب کو آگے لگا رکھا ہے۔  سیالکوٹ فروٹ منڈی میں بیوروکریسی کی خبر لی تو اسلام آباد کے ایک ٹاک شو میں قادر مندو خیل کو تھپڑ مار ڈالا، بات یہیں تک محدود نہیں۔ وہ اس سے پہلے اینٹیں توڑنے، موٹر سائیکل چلانے اور کرکٹ کھیلنے کے مظاہرے بھی کر چکی ہیں موصوفہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، سو وہ ٹیکے لگانے کی بھی ماہر ہیں جسے چاہیں مریض بنا کر ویکسین کا ٹیکہ لگا دیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی جملہ خصوصیات اور سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر شعبے کی چیمپئن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی رفتار چھلاوے جیسی ہے، آج ادھر ہیں تو کل اسلام آباد میں ہوں گی، دوپہر سیالکوٹ میں ہیں تو شام فیصل آباد میں ہوں گی۔ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں فاصلہ ان کی صرف ایک چھلانگ کے برابر ہے۔ رفتار ان کی تیزگام جیسی ہے۔

اِدھر فیصل آباد پریس کلب میں ویکسین سینٹر کا افتتاح کیا، اُدھر شام کو اسلام آباد کے ٹاک شو میں براجمان ہو گئیں۔ ان کی رفتار کو پکڑنا کسی عام آدمی کے بس میں نہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا بیانیہ بڑا واضح ہے۔ (ن) لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، کسی کے لئے ان کے پاس رحم کی گنجائش نہیں۔ (ن) لیگ کی خواتین قیادت بالخصوص ان کا نشانہ ہے۔ وہ اُنہیں راجکماری اور کنیزوں کے لقب سے پکارتی ہیں۔ ان کا موضوع سخن بالخصوص مریم نواز اور مریم اورنگزیب ہیں ڈر اس دن سے لگ رہا ہے جب چیمپئن فردوس عاشق کا مقابلہ نہتی اور اکیلی مریم اورنگزیب سے ہو گیا تو کیا ہو گا؟ اور اگر خدانخواستہ ہاتھا پائی تک نوبت آ گئی جس کا چیمپئن کی موجودگی میں بہت زیادہ امکان ہے تو پھر کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق تو چاہیں گی کہ تمام سیاسی فیصلے آمنے سامنے کے مقابلے کے ذریعے ہی کئے جائیں، یہ الگ بات ہے کہ ن لیگی خواتین اس مقابلے سے ہی گریز کریں۔ گو پاکستان کا سیاسی میدان کافی وسیع ہے، اس میں طرح طرح کی لڑائیاں جاری رہتی ہیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ وہ ان لڑائیوں میں سے ہمیشہ خود کو توجہ کا مرکز بنائے رکھتی ہیں۔

ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ان کا کردار اہم تھا، ابھی مسلم لیگ ن کے ایم پی اے خوش اختر سبحانی کی وفات کے بعد جو نشست خالی ہوئی ہے وہاں پھر ضمنی انتخاب ہو گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق نے ابھی سے وہاں مضبوط اور دولتمند امیدوار کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پچھلی بار 40 ہزار ووٹ لینے والا سعید بھلی پریشان بیٹھا ہے جبکہ ڈاکٹر صاحبہ پہلے سیالکوٹ کے چیموں کے دروازے پر دستک دیتی رہیں، وہ تیار نہ ہوئے تو اب قیصر بریار کو ٹکٹ دلوا دیا گیا، یوں جاٹ گوجر مقابلہ ہوگا۔ بریار اور ڈاکٹر فردوس عاشق زور تو لگائیں گے، نتیجہ دیکھیں کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق وفاق سے پنجاب میں آ تو گئی ہیں مگر وفاق کو نہیں بھولیں۔ ایک زمانے میں جب سینیٹر شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات تھے تو ڈاکٹر فردوس عاشق پنجاب میں ہوتے ہوئے بھی پورے ملک پر چھا گئی تھیں۔ چودھری فواد کے آنے کے بعد سے اب معاملات معمول کے مطابق چل پڑے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں، اسپورٹس، سیاست اور سماجی حالات سب پر وہ اتھارٹی ہیں، انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا، اس لئے سیاست تو ان کی نس نس میں بھری ہے۔ حلقے کی سیاست ہو، ضلع سیالکوٹ کی سیاست یا پنجاب یا وفاق کی سیاست، ان کا ہر ایک میں کردار ہے۔ ہر جگہ ان کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا دخل بھی نظر آتا ہے۔ سیالکوٹ میں ڈار برادران سے ان کے معاملات میں اونچ نیچ کا تو ہر ایک کو علم ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی دلیری اور بہادری ہے، وہ اپنے سیاسی بیانیے اور اپنے سیاسی دھڑے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس موقف کے لئے انہیں ہاتھ پائوں کا استعمال بھی کرنا پڑ جائے تو وہ دریغ نہیں کرتیں جہاں زبان سے کام نہ چلے وہ تھپڑ سے بھی کام چلا لیتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کی منفرد بات یہ ہے کہ وہ مردوں میں مرد اور عورتوں میں عورت بن جاتی ہیں، ان کی میک اپ اور ڈریس پر توجہ بتاتی ہے کہ وہ اندر سے پوری عورت ہیں لیکن کرکٹ میں چوکے چھکے لگانے ہوں، جوڈو کراٹے میں اینٹیں توڑنی ہو، موٹر سائیکل چلانی ہو تو وہ مردوں سے پیچھے نہیں رہتیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق کو پنجاب میں اطلاعات کا خصوصی مشیر اس لئے بنا کر بھیجا گیا کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار صاحب کے کارناموں کو عوام کے سامنے اجاگر کریں چنانچہ جس دن سے وہ پنجاب میں آئی ہیں اس دن سے بزدار کی گڈی چڑھ گئی ہے اور اپوزیشن کی پتنگ کٹ گئی ہے۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا جب ڈاکٹر فردوس اپوزیشن کی راج کماریوں اور کنیزوں پر نہیں برستیں اور کوئی دن خال نہیں جاتا جس روز ڈاکٹر فردوس عاشق بزدار کی تعریف میں ڈونگرے نہ برسائیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اس قدر سرگرم ہو گئی ہیں کہ بعض اوقات ان کی سرگرمیاں، یعنی کسی کے ساتھ سردی اور کسی کے ساتھ گرمی، اس قدر شہرت اختیار کر لیتی ہیں کہ بزدار اور پی ٹی آئی کی سیاست پیچھے رہ جاتی ہے۔

میں ذاتی طور پر ڈاکٹر فردوس عاشق کا خیر خواہ ہوں لیکن آج کل ان کے لئے پریشان بھی ہوں کیونکہ انہوں نے ہر طرف جھنڈے تو گاڑ دیے ہیں لیکن ان کی بےپناہ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مقابلے میں ان کے پاس اختیارات بہت کم ہیں۔ ان جیسی باصلاحیت رہنما کے پاس کئی محکمے اور کئی شعبے ہونے چاہئیں۔ صرف اطلاعات کا شعبہ بلکہ چھوٹی سی محکمی انہیں دینا ان کی بےپناہ صلاحیتوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وزیراعلیٰ پنجاب لا اینڈ آرڈر کا شعبہ ان کے حوالے کر دیں وہ ایسا ڈنڈا پھیریں گی کہ صوبے سے چوروں، ڈاکوئوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اپوزیشن اس کا تو کوئی نام لیوا تک نہیں رہے گا۔ ہر شخصیت کے بارے ستارہ شناس یہ قیافہ لگاتے ہیں کہ وہ دس سال بعد کہاں ہو گی؟ ڈاکٹر فردوس کے بارے میں علمِ نجوم کے ماہرین جو بھی کہیں، علمِ سیاست کے ماہر ببانگ دہل یہ کہیں گے کہ ڈاکٹر فردوس دس سال بعد میدانِ سیاست میں چمک رہی ہو گی۔

حکومت کوئی بھی ہو گی لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ اس میں عروج پر ہو گا۔ ڈاکٹر صاحبہ ایسی خصوصیات کی حامل ہیں کہ حکومتوں کے زوال سے انہیں فرق نہیں پڑتا۔ وہ کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ نکال کر گہرے بادلوں سے نکل کر پھر سے چمکنا شروع کر دیتی ہیں۔ خصوصیات کے علاوہ انہیں روحانی دعائوں کی آشیرباد بھی حاصل ہے، خاص کر ان کی بیمار اور بوڑھی والدہ کی دعائیں اور پھر روحانی شخصیتوں کی سپورٹ بھی موجود ہے۔ میری دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا شروع کریں یہ نہ ہو کہ کسی دن کوئی پہلوان مدِمقابل آجائے اور پھر ڈاکٹر صاحبہ کی طاقت کا بھرم کھل جائے۔ ویسے بھی سخت زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔

سہیل وڑائچ

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان میں پانی کا بحران : سنگین قومی چیلنج

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے جن ملکوں کو پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا ہے پاکستان اُن میں سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول آنے والے برسوں میں اس بحران کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔ اس صورت حال کی بناء پر مسئلے سے نمٹنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز عالمی یومِ ماحولیات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ پاکستان کو 80 فیصد پانی گلیشیروں سے ملتا ہے جو زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو انسانیت کی بقا کے لئے ضرورت کے مطابق مالیاتی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی جانب سے کاربن کا اخراج کم کیے جانے پر زور دیا۔

اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030ء تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دیں گے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہوں گے اور موسمی تبدیلیاں ختم ہوں گی، آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی اور حیوانی حیات کو تحفظ ملے گا۔ اس موقع پرچینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یومِ ماحولیات کی کامیاب میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ماحولیات کے شعبے کی ترقی میں پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صراحت کی کہ کوئی ایک ملک مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

بلاشبہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری انسانی دنیا کا ایسا مسئلہ ہیں جن کے حل کی کوششوں میں لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک کر چکی ہے اور اب اس سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ کاوشوں کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم ہم اہلِ پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری کی طرف دیکھتے رہنے کے بجائے اپنے حصے کا کام انجام دینے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات کم سے کم ممکنہ مدت میں مکمل کر لینے چاہئیں کیونکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ گلیشیروں سے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کا ازالہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر انتظامات سے ممکن ہے جس کا کم و بیش 90 فیصد حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہی ضروری نہیں یہ کام مقامی سطح پر ملک بھر میں چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیں بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بارش کا زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی اور ٹیوب ویلوں وغیرہ کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اسی طرح پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو رواج دنیا بھی ضروری ہے۔ زرعی فصلوں کی آبیاری کے لئے اب ایسے طریقے دنیا کے مختلف ملکوں میں مروج ہیں جن میں فصلوں کو دیے جانے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کی معمولی مقدار بھی ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔ ہمارے ہاں بھی یہ طریقے ہنگامی بنیادوں پر متعارف کرائے جانے چاہئیں۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں کا بھی کم سے کم وقت میں مکمل کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگرہمارے قومی وجود کا برقرار رہنا غیریقینی ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

میڈیا آرڈیننس

شہری، سول سوسائٹی اور میڈیا ہوشیار! آزادی اظہار پہ مارشل لائی طرز کی میڈیا پابندیاں لاگو کرنے کے لیے کرم خوردہ بندشوں کے پرانے نسخوں کو اکٹھا کر کے ایک مجوزہ آرڈیننس کے بم کی رونمائی کر دی گئی ہے اور وجہ نزول کے لیے ایک خیالی پیپر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق سہارا بھی لیا گیا ہے تو یورپین یونین، برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے کمیونیکیشن کے ریگولیشنز کا ، جہاں آزادی اظہار پہ کسی طرح کی بندش گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس میں بظاہر دسیوں اداروں اور ایجنسیوں کو یکجا کر کے تمام طرح کے میڈیا کو ہر ’’سہولت‘‘ فراہم کرنے کی آڑ میں ایک بڑے ہی طاقتور اور جابرانہ ادارے کو ہر طرح کا اختیار تفویض کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ آزادی اظہار کی تسلی کے لیے آرڈیننس کے ابتدائیہ میں شاعرانہ فصاحت سے کام لے کر طفلانہ تسلی دینے کے بعد آرڈیننس کے متن میں تمام طرح طرح کی بندشوں، سزائوں ، کلی اختیارات اور ذہنی شکنجے کسنے کے مکمل ترین انتظامات کر دئیے گئے ہیں۔ بچا کوئی نہیں اور بچنے کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا گیا۔

اس میڈیا اتھارٹی کا دائرہ ہمہ گیر اور ہمہ طرف ہے۔ کیا اخبارات، کیا ٹیلی وژن، کیا ریڈیو، کیا سوشل میڈیا، کیا شہری آن لائن صحافت اور اظہار کی کوئی بھی صورت ‘ دم توڑ جائے گی۔ میڈیا اور شہری میڈیا سے متعلق تمام تر ادارے ایک چھت تلے جمع کر دئیے گئے ہیں اور ان کے تمام اختیارات اب ایک آہنی ہاتھ میں ہوں گے۔ اسی طرح تمام مروجہ قوانین اور ضوابط کی جگہ ایک ہی آرڈیننس کے آہنی ہاتھ میں ہوںگے۔ مختلف طرح کے میڈیاز کو کنٹرول کرنے کے لیے اس ہشت پا کے مختلف بازو ہوں گے۔ اس کی بنیاد اس گمراہ کن مفروضے پہ رکھی گئی ہے کہ میڈیا ریاست کا ایک ستون ہے اور میڈیا کے لیے اس کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے بعد آزادی اظہار کے پلے کچھ نہیں بچتا۔ اس اتھارٹی کے قیام سے‘ جو حکومتی پالیسیوں اور احکامات کی پابند ہو گی کے ہاتھوں آزاد میڈیا کی تو گویا تدفین ہو جائے گی۔ تمام تر میڈیا کے لیے اس واحد میڈیا اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ 21/22 کا افسر وفاقی حکومت مقرر کرے گی دیگر 5 اراکین بطور سرکاری اہلکار اس کے اراکین ہوں گے جن میں ایف بی آر، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری پر مشتمل ہوں گے اور باقی چھ اراکین بھی وزیراعظم کے نامزد کردہ ہوں گے۔

گویا یہ اتھارٹی وزیراعظم کی حکومت کی نامزد کردہ ہو گی جس پر پبلک سرونٹس ہونے کے ضوابط لاگو ہوں گے۔ اس اتھارٹی کے اراکین الیکشن کمیشن کے اراکین کی طرح پارلیمنٹ میں دو طرفہ اتفاق رائے سے نامزد نہیں ہوں گے تاکہ یہ انتظامیہ سے آزاد نہ رہ سکیں۔ اس نوآبادیاتی طرز کی نوکر شاہی اتھارٹی جو انتظامیہ کا بڑا ہتھیار ہو گی کو ہر طرح کے اختیارات بھی تفویض کر دئیے گئے ہیں۔ یہ اتھارٹی اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، آن لائن میڈیا، سوشل میڈیا اور بلاگرز کو لائسنس اور این او سی دینے کی مجاز ہو گی جس کی کہ پہلے سکیورٹی کلیئرنس ہو گی جو قومی سلامتی کے ادارے کریں گے۔ ہر برس لائسنسز کی تجدید ہو گی اور پندرہ برس کے بعد از سر نو اجرا ہو گا۔ یہی لائسنس نیلام کرے گی، فیس لے گی، جرمانے کرے گی، سزائیں دے گی، سرکولیشن کا تعین کرے گی، ریٹنگ کا جائزہ پیش کرے گی، مواد کو چھانے گی اور رد کرے گی اور شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان کے کمپیوٹرز اور کمیونیکیشن کے آلات برآمد کرے گی اور جانے کیا کچھ۔ اب اتنا سارا کام ایک چیئرمین تو کرنے سے رہا۔

اتھارٹی، ایک کمیشن نامزد کرے گی۔ مختلف میڈیاز کے لیے ونگز بنائے گی، شکایات کونسلز تشکیل دے گی اور خود ہی اپنا عدالتی نظام یعنی میڈیا ٹربیونلز تشکیل دے گی جس کے فیصلوں کے خلاف ہائیکورٹس کو اپیل سننے کا حق نہ ہو گا۔ مختلف طرح کی خلاف ورزیوں پر اس کے ٹربیونلز تین سال تک سزائیں اور اڑھائی کروڑ تک جرمانہ بھی کر سکیں گے۔ ادارے کے کرتا دھرتا بیوروکریٹس ہوں گے جن کی نکیل وزیراعظم اور ان کے وزیر اطلاعات کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس اتھارٹی کا تصور ایک طرح سے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے مرکزی آمرانہ اختیارات سے مستعار لیا گیا دکھائی دیتا ہے۔ ہر طرح کا لیوریج اور آلہ ء کنٹرول اس اتھارٹی کو دے دیا گیا ہے۔ لائسنس ہو یا سرکولیشن، ریٹنگ ہو یا مواد، پالیسی ہو یا ضابطہ اخلاق، اشتہارات ہوں یا مراعات سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ معاملہ فقط مصلوب شدہ روایتی اور غیرروایتی میڈیا کا نہیں، شہریوں کے حقِ اظہار اور حقِ جانکاری کا ہے۔ اب کوئی شہری اپنا بلاگ، وی لاگ یا سوشل میڈیا پہ اپنا کھاتہ کھولے گا تو اسے بھی لائسنس درکار ہو گا او راس کی سکیورٹی کلیئرنس بھی۔

قومی سلامتی کی ریاست میں شہریوں کا حق خود ارادیت یا حق رائے دہی ہی نہیں چھینا گیا، بلکہ اب حق اظہار بھی چھیننے کے بھاری بھرکم انتظامات کیے جانے ہیں۔ خوش بختی ہے کہ میڈیا کی تمام تنظیموں نے اسے متفقہ طور پر مکمل طو رپر مسترد کر دیا ہے اور بار ایسوسی ایشنز، پی ایف یو جے اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے آزادی اظہار پہ ایک قومی کنونشن اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔ ملک کی بڑی جماعتوں نے بھی اسے سختی سے رد کر دیا ہے لیکن حکومت اور مقتدرہ اسے ایک آرڈیننس کے ذریعہ لاگو کرنے پہ تلی بیٹھی ہیں۔ پاکستان میں آزادی اظہار اور حق جانکاری، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک ہمہ گیر مزاحمت اور جدوجہد کا تقاضہ ہے کہ تمام سول سوسائٹی، میڈیا کی تنظیمیں، وکلا اور محنت کشوں کی انجمنیں اور جمہوری عناصر متحد ہو کر اس نئے جابرانہ کنٹرول کے نظام کو بروئے کار لانے کی تمام تر کوششوں کا سدباب کریں۔ حق اظہار کے بغیر، شہری آزاد نہیں اور آزاد شہری کے بغیر جمہوریت نہیں، جمہوریت کے بغیر جمہوریہ نہیں اور جمہوریہ کے بغیر اقتدار اعلیٰ کے حامل رائے دہندگان نہیں اور آزاد و مقتدر عوام کے بنا کوئی ریاست نہیں۔

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے
لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

امتیاز عالم

بشکریہ روزنامہ جنگ

جاپان میں مقیم سیکڑوں پاکستانی کورونا کی وجہ سے کروڑ پتی بن گئے

کورونا کی وباء کی وجہ سے جاپان میں مقیم سیکڑوں بیروز گار پاکستانی کروڑ پتی بن گئے ہیں، حکومت سے ہر جاپانی و غیر ملکی کو ایک لاکھ ین ملے جبکہ چھوٹے کاروبار والوں کو 20 لاکھ ین امداد اور 3؍ کروڑ کا بلا سود قرضہ بھی ملا، اس کے علاوہ درجنوں پاکستانی اپنے ریستوران جلدی بند کر کے 60 ہزار ین روزانہ بھی وصول کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وباء نے جہاں جاپان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو بیروزگاری سمیت دیگر معاشی مسائل میں مبتلا کیا وہیں جاپانی حکومت نے کورونا کی وباء سے متاثر ہونے والے ہر جاپانی اور غیر ملکی شہری کو ایک ایک لاکھ ین فی کس فراہم کیے جس کے بعد وہ کاروباری افراد جن کو کاروبار میں کورونا کی وباء کے سبب نقصان اُٹھانا پڑا تھا جاپانی حکومت نے ان افراد کو بیس لاکھ فی کس بیس لاکھ  ین تقریباً بیس ہزار ڈالر کی رقم ناقابل واپسی بطور امداد فراہم کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ درمیان درجے کا کاروبار کرنے والی افراد کو تین کروڑ ین یعنی تین لاکھ ڈالر تک کا بلا سود قرض بھی انتہائی آسان شرائط کے ساتھ فراہم کیا ۔

عرفان صدیقی

بشکریہ روزنامہ جنگ

ریاست مدینہ کا راستہ

ممتا بینر جی نے تیسری بار مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ بن کر ریکارڈ قائم کر دیا‘ یہ بھارت کی تاریخ میں 15 سال مسلسل سی ایم رہنے والی پہلی سیاست دان ہوں گی‘ ممتا جی انڈیا کی طاقتور ترین اور دنیا کی سو بااثر ترین خواتین میں بھی شامل ہیں اور یہ دنیا کی واحد سیاست دان بھی ہیں جو سیاست دان کے ساتھ ساتھ گیت نگار‘ موسیقار‘ ادیب اور مصورہ بھی ہیں۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ‘ سیکڑوں گیتوں کی شاعرہ اور تین سو بیسٹ سیلر پینٹنگز کی مصورہ بھی ہیں اور یہ ہندوستان کی پہلی سیاست دان بھی ہیں جس نے سادگی اور غریبانہ طرز رہائش کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی کو شکست دے دی ‘ یہ بنگال میں دیدی کہلاتی ہیں اور دنیا میں کامیاب سیاست کی بہت بڑی کیس اسٹڈی ہیں‘ ممتابینر جی نے کیا کیا اور یہ کیسے کیا؟ ہم اس طرف آئیں گے لیکن ہم پہلے اس خاتون کا بیک گراؤنڈ جان لیں۔ ممتا بینر جی 1955 میں کولکتہ میں پیدا ہوئیں‘ والد چھوٹے سے سیاسی ورکر تھے‘ والدہ ہاؤس وائف تھیں‘ یہ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں‘ والد فوت ہو گئے‘ خاندانی برہمن ہیں‘ چھوت چھات کے پابند ہیں‘ ممتا کالج پہنچیں تو اسلامی تاریخ سے متعارف ہوئیں اور آہستہ آہستہ اسلامی تعلیمات میں اترتی چلی گئیں۔

یہ اکثر اپنے آپ سے سوال کیا کرتی تھیں حجاز جیسے جاہل معاشرے میں ایک شخص نے انقلاب کیسے برپا کر دیا‘ یہ 53 سال کی عمر میں مکہ سے ہجرت کر گئے اور 10 سال بعد یہ نہ صرف پورے حجاز کے مالک تھے بلکہ یہ دنیا کی دونوں سپر پاورز کے دروازے پر دستک بھی دے رہے تھے‘ آخر ان لوگوں میں کیا کمال‘ کیا خوبی تھی؟ یہ جواب تلاش کرنا شروع کیا تو پتا چلا سادگی اور عاجزی نبی اکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کا سب سے بڑا ہتھیار تھا‘ یہ لوگ مال ومتاع‘ عیش وآرام اور نمودونمائش سے بالاتر تھے اور کردار کی یہ خوبیاں انسانوں اور لیڈرز دونوں کو عظیم بنا دیتی ہیں۔ ممتا بینرجی نے یہ فارمولا چیک کرنے کا فیصلہ کیا‘ اس نے سادگی کو اپنا ہتھیار اور زیور بنا لیا اور پھر کمال ہو گیا‘ یہ 15 سال کی عمر میں اسٹوڈنٹ لیڈر بنیں‘ اسلامک ہسٹری‘ ایجوکیشن اور قانون میں ڈگریاں لیں‘ سیاست میں آئیں اور 29 سال کی عمر میں سی پی آئی ایم پارٹی کے لیڈر سومناتھ چیٹر جی کو ہرا کر پورے انڈیا کو حیران کر دیا‘ یہ 1984 کی لوک سبھا کی کم عمر ترین ایم ایل اے تھیں‘ یہ چھ بار اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں‘ اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کی حکومت میں تین بار وفاقی وزیر بنیں اور پھر 2011 میں استعفیٰ دے کر صوبے کا الیکشن لڑا اور بنگال کی سی ایم بن گئیں اور پھر 2016 میں دوسری بار اور 2021 میں تیسری بار الیکٹ ہو گئیں۔

ممتا بینر جی نے 1998 میں اپنی سیاسی جماعت آل انڈیا ترینمول کانگریس بنائی تھی ‘ یہ جماعت ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے‘ پارٹی نے کُل 292 سیٹوں میں سے 2011 میں 184‘ 2016 میں 209 اور 2021 میں 213 سیٹیں حاصل کیں‘ یہ بھی انڈیا میں ریکارڈ ہے‘ ممتاجی سے پہلے مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی 34 سال حکمران رہی‘ ملک کی بڑی سے بڑی سیاسی جماعت بھی کمیونسٹ پارٹی کا مقابلہ نہ کر سکی لیکن یہ آئیں اوراسے ناک آؤٹ کرنا شروع کر دیا اور 2021 کے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک بھی امیدوار اسمبلی نہیں پہنچ سکا۔ یہ مسلمانوں اور خواتین دونوں میں بہت پاپولر ہیں‘ بنگال کے 30 فیصد ووٹرز مسلمان ہیں‘ یہ سب انھیں ووٹ دیتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ مسلمانوں کا احترام کرتی ہیں‘ نریندر مودی ان کی مسلم دوستی کو ’’دشمن سے محبت‘‘ قرار دیتے ہیں اور انھیں طنزاً بیگم کہتے ہیں‘ بی جے پی نے 2021 کے الیکشن میں ممتا بینر جی کو ہرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن اس کے باوجود صرف 77 سیٹیں حاصل کر سکی جب کہ ممتا بینرجی نے 213 سیٹیں لیں‘ کیا یہ کمال نہیں؟۔

ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں ممتا بینرجی نے یہ کمال کیا کیسے؟ اس کے پیچھے ان کی سادگی اور عاجزی ہے‘ یہ غیرشادی شدہ سنگل خاتون ہیں‘ گیارہ سال سے 10 کروڑ لوگوں کے صوبے کی سی ایم ہیں لیکن یہ آج تک چیف منسٹر ہاؤس میں نہیں رہیں‘ کولکتہ کی ہریش چیٹرجی اسٹریٹ میں ان کا دو کمرے کا مکان ہے‘ یہ اس میں رہتی ہیں اور گھر میں کوئی ملازم بھی نہیں‘ یہ تین بار وفاقی وزیر اور دو بار چیف منسٹر رہیں‘ اس حیثیت سے انھیں دو لاکھ روپے پنشن ملتی ہے‘ آج تک انھوں نے یہ پنشن نہیں لی‘ انھوں نے آج تک وزیراعلیٰ کی تنخواہ بھی وصول نہیں کی‘ اپنے سارے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کرتی ہیں اور چائے بھی سرکاری نہیں پیتیں لیکن سوال یہ ہے ان کی ذاتی جیب میں پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ یہ ان کی کتابوں اور کیسٹوں کی رائلٹی ہے۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں سے کئی کتابیں بیسٹ سیلر ہیں‘ان کی کیسٹس بھی بک جاتی ہیں یوں انھیں سالانہ پانچ سات لاکھ روپے مل جاتے ہیں اور یہ ان سے اپنے تمام اخراجات پورے کر لیتی ہیں‘ ان کی پینٹنگز بھی بکتی ہیں مگر یہ وہ رقم ڈونیشن میں دے دیتی ہیں‘ دوروں کے دوران ٹی اے ڈی اے بھی نہیں لیتیں اور ریسٹ ہاؤسز کے بل بھی اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں‘ اکانومی کلاس میں سفر کرتی ہیں‘ ہمیشہ سستی سی سفید ساڑھی اور ہوائی چپل پہنتی ہیں۔

کسی شخص نے آج تک انھیں رنگین قیمتی ساڑھی اور سینڈل میں نہیں دیکھا‘ میک اپ بالکل نہیں کرتیں‘ زیور کوئی ہے نہیں‘ سرکاری گاڑی بھی صرف سرکاری کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں‘ پانی بھی نلکے کا پیتی ہیں اور گھر میں فرنیچر بھی پرانا اور سستا ہے‘ یہ اگر سڑک پر چل رہی ہوں تو کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا ترکاری کا تھیلا اٹھا کر چلنے والی یہ خاتون 10 کروڑ لوگوں کی وزیراعلیٰ ہیں‘ دنیا نے انھیں موسٹ پاور فل وومن کی لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور یہ انڈیا کی آئرن لیڈی اور جمہوری ریکارڈ ہولڈر بھی ہیں‘ یہ چال ڈھال اور حلیے سے عام گھریلو ملازمہ دکھائی دیتی ہیں لیکن اس خاتون نے صوبے میں کمال کر دیا‘ صحت‘ تعلیم‘ انفراسٹرکچر‘ وومن ایمپاورمنٹ‘ روزگار‘ اسپورٹس اور مذہبی ہم آہنگی اس نے ہر شعبے میں نئی مثالیں قائم کر دیں‘ یہ مسلمانوں کو اسلام کی باتیں بتاتی ہیں اور ہندوؤں کو گیتا میں سے امن کے پیغام پڑھ پڑھ کر سناتی ہیں‘ یہ سب کی دیدی ہیں۔ ہم اگر ممتا بینرجی کی زندگی کا تجزیہ کریں تو ہم سادگی اور عاجزی کی طاقت کے قائل ہو جائیں گے‘ دنیا میں یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جن کا آج تک کوئی توڑ ایجاد نہیں ہو سکا‘

یہ دونوں موسٹ پاورفل ویپن ہیں‘ آپ زندگی میں ایک بار سادگی اور عاجزی اپنا کر دیکھ لیں آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ آپ کسی دن ریاست مدینہ کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو اس میں بھی عاجزی اور سادگی ملے گی‘ ریاست مدینہ میں سادگی کا یہ عالم تھا نبی رسالتؐ نے وصال سے قبل حضرت عائشہؓ سے پوچھا‘ میں نے آپ کو سات دینار دیے تھے‘ کیا وہ ابھی تک آپ کے پاس ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’جی میرے پاس ہیں‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’نکالیں اور ابھی خیرات کر دیں‘ مجھے شرم آتی ہے میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں اور میرے گھر میں مال موجود ہو‘‘ آپؐ کے بعد چاروں خلفاء راشدین کے وصال کے وقت بھی کسی کے گھر میں مال ودولت نہیں تھی‘ یہ لوگ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے‘ کچے گھروں میں رہتے تھے اور اینٹ پر سر رکھ کر سو جاتے تھے لیکن ان بوریا نشینوں کی ہیبت سے قیصر اور کسریٰ کے محل لرزتے تھے‘ حضرت عمرؓ فاتح شام حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔

یہ اس وقت دنیا کے مہذب ترین خطے کے گورنر تھے لیکن گھر میں ایک پیالے اور کھردری دری کے سوا کچھ نہیں تھا‘ یہ سادگی دیکھ کر حضرت عمرفاروقؓ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور پیچھے رہ گئی عاجزی تو نبی اکرمؐ کی حدیث کا مفہوم ہے ’’جو شخص بھی اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا رتبہ بلند کر دیتا ہے‘‘ اس سے آپ عاجزی کا رتبہ اور طاقت دیکھ لیجیے‘ یہ اتنے بڑے ہتھیار ہیں کہ انھیں اگر ایک برہمن خاتون بھی اپنا لے تو یہ حکومت کاری کا ریکارڈ قائم کر دیتی ہے اور لوگ حیرت سے منہ کھول کر دھان پان سی اس غریب خاتون کو دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا ممتا بینر جی مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ بنگال کو ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہیں لیکن انھوں نے ریاست مدینہ کے صرف دو اصول اپنا کر 58 اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مار دیا لہٰذا میری عمران خان‘ بلاول بھٹو اور مریم نواز سے درخواست ہے آپ اگر واقعی لیڈر بننا چاہتے ہیں اور ملک کو ریاست مدینہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ پلیز چند لمحوں کے لیے ممتا بینرجی کو دیکھ لیں‘ آپ بس ایسے بن جائیں‘ دنیا آخری سانس تک آپ کا نام نہیں بجھنے دے گی ورنہ آپ بھی اس جگنو ستان کے جگنو بن کر بجھ جائیں گے اور آپ کے بعد آپ کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سیاسی قائدین سے گزارش

مقاصدِ شرعیہ میں ایک ”سَدِّ ذرائع‘‘ ہے، یعنی ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنا کہ برائی کا راستہ رک جائے۔ شریعت میں اس کی متعدد مثالیں ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور (اے مسلمانو!) تم مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ نادانی اور سرکشی سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے‘‘ (الانعام: 108)۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا کہنے سے اس لیے منع نہیں فرمایا کہ وہ تعظیم کے لائق ہیں بلکہ اس لیے منع فرمایا کہ مبادا ان کے پجاری ضد میں آکر اللہ کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ کہہ دیں۔ جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو جنت میں داخل کیا گیا تو انہیں حکم ہوا: ”اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائو گے‘‘ (الاعراف: 19)۔ اس میں براہِ راست درخت کا پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ قریب جانے سے منع فرمایا کیونکہ جب قریب جائیں گے تو پھل کھانے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی ایسی ہدایات موجود ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ امور سے بچا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو بچا لیا اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو گیا، وہ اس چرواہے کی طرح ہے، جو ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد اپنے مویشی چَراتا ہے، اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ اس کے مویشی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائیں گے۔ خبردار! ہر بادشاہ کی کچھ ممنوعہ حدود ہوتی ہیں اور اس زمین میں اللہ کی ممنوعہ حدود اس کے محرّمات ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب اس میں خرابی پیدا ہو تو پورا جسم فاسد ہو جاتا ہے، سنو! وہ (گوشت کا لوتھڑا) دل ہے‘‘ (بخاری: 52)۔ پس مشتبہات اور ممنوعہ امور سے بچنا ہی دانش مندی ہے اور اسی میں عزت و آبرو اور دین و دنیا کی فلاح ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! کیا کوئی ایسا (بدبخت) شخص بھی ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! وہ دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ دوسرے شخص کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کی ماں کو گالی دیتا ہے‘‘ (مسلم: 90)۔ الغرض دوسرے کے ماں باپ کو گالی دینے والا دراصل اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا سبب بنتا ہے، دوسرے کے ماں باپ کی بے عزتی کرنے والا اپنے ماں باپ کی بے توقیری کا سبب بنتا ہے، اگر اس کے ہاتھوں دوسرے کے ماں باپ کی عزت و آبرو پامال نہ ہو تو اس کے ماں باپ کی آبرو بھی سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (1) ”یہ اللہ کی (ممنوعہ) حدود ہیں، پس ان کے قریب بھی نہ جائو، اللہ اسی طرح لوگوں کے لیے اپنی نشانیاں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں‘‘ (البقرہ:187)، (2) ”اور عَلانیہ اور پوشیدہ بے حیائیوں کے قریب نہ جائو‘‘ (الانعام: 151)، (3) ”اور بدکاری کے تو قریب بھی نہ جائو، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے‘‘ (الاسراء: 32)۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، جسے وہ لازماً پائے گا، پس آنکھ کا زنا (ہوس بھری نظروں سے) دیکھنا ہے اور جب مرد کی نامَحرم پر نظر پڑتی ہے، تو (نامَحرم سے) منہ پھیر لینے سے (اس کی پاکبازی کی) تصدیق ہوتی ہے اور زبان کا زنا (شہوت انگیز) باتیں کرنا ہے اور دل میں (زنا کی) تحریک پیدا ہوتی ہے اور شرم گاہ (گناہ میں مبتلا ہو کر) کبھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور کبھی (گناہ سے بچ کر) اس کی تکذیب کرتی ہے‘‘ (مسند احمد: 8215)، (2) ”جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ (کوشریعت کے تابع رکھنے) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ (بخاری: 6474)۔ اعلانِ نبوت سے پہلے سیلاب کے سبب کعبۃ اللہ کے منہدم ہونے کے بعد قریش نے از سرِ نو اس کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا، رسول اللہﷺ کی عمرِ مبارک اُس وقت پینتیس برس تھی، آپﷺ نے بھی تعمیرِ کعبہ میں حصہ لیا، پھر جب حجرِ اسود کو اپنے مقام پر نصب کرنے کا وقت آیا تو قریش کے سرداروں میں جھگڑا ہونے لگا، وہ کسی ایک کو یہ اعزاز دینے پر آمادہ نہ ہوئے، چنانچہ آپﷺ کو منصف بنایا گیا۔ آپﷺ نے ایک چادر بچھائی، اُس پر حجرِ اسود کو رکھا اور قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں سے فرمایا: اس کا ایک ایک کونا پکڑ کر اسے اٹھائیں اور جب وہ اپنے مقام تک بلند ہو گیا تو آپﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اُسے اٹھا کر اس کے مقام پر نصب فرما دیا، اس طرح آپﷺ کی قائدانہ بصیرت سے یہ مسئلہ حل ہوا۔

قریش نے یہ طے کیا تھا کہ بیت اللہ کی تعمیر پر صرف حلال مال لگایا جائے گا، مگر حلال مال اس قدر جمع نہ ہو سکا تھا کہ بِنائے ابراہیمی کے مطابق بیت اللہ کی عمارت کو مکمل کیا جا سکے، تو انہوں نے شمال کی جانب کم و بیش تین میٹر کا حصہ موجودہ عمارت سے باہر رکھا، اسی کو ”حطیمِ کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنا۔ رسول اللہﷺ کی دلی خواہش تھی کہ کعبۃ اللہ کو دوبارہ بنائے ابراہیمی پر تعمیر کیا جائے، لیکن آپﷺ نے وسائل ہونے کے باوجود دینی حکمت کے تحت اپنی خواہش پر عمل نہیں فرمایا، آپﷺ نے فرمایا: عائشہؓ! اگر تمہاری قوم کا زمانۂ شرک تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں کعبۃ اللہ کو منہدم کر کے زمین سے ملا دیتا اور پھر اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب اور اس میں حِجر (حطیم) کی جانب تقریباً تین گز کا اضافہ کرتا، کیونکہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو عمارت کے رقبے میں کچھ کمی کر دی تھی‘‘ (مسلم: 401)۔

قرآن و حدیث اور سیرتِ مصطفیﷺ سے ہم نے یہ مثالیں اس لیے بیان کی ہیں کہ ہمارے سیاسی قائدین ان سے سبق حاصل کریں، کئی سالوں سے ہمارے قائدین کا وتیرہ بن گیا ہے: حزبِ اقتدار والے اپنے مخالفین کو چور، ڈاکو، خائن، غدار اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں، اس کے جواب میں اپوزیشن والے اُن پر نااہل، نالائق، کشمیر کا سودا کرنے والے، چینی چور، آٹا چور، پیٹرول، میڈیسن مافیا اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سب کچھ سن کر کہتے ہیں: ”یہ دونوں سچے ہیں، یہ ایک دوسرے کے بارے میں جو فتوے صادر کرتے ہیں، وہی سچ ہے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ کہا جا رہا ہے‘‘۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ عربی کا مقولہ ہے:”جس نے دوسروں کی عزت کی، اُس نے خود اپنے لیے عزت کمائی‘‘۔ احتساب کے لیے گالی گلوچ ضروری نہیں ہے، شفاف، بے لاگ، غیر جانبدار اور نظر آنے والا انصاف ضروری ہے، اس کے لیے ادارے قائم ہیں، اُن کو بیرونی جبر سے آزاد ماحول میں اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اس شور وغوغا میں ان اداروں کی حرمت بھی پامال ہو رہی ہے، ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ حکومتِ وقت کے دبائو میں ہیں اور احتساب یک طرفہ ہو رہا ہے۔

ہمارے ہاں گالی گلوچ کے لیے باقاعدہ فوجِ ظفر موج رکھی گئی ہے، جو میڈیا کے سامنے، ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی توہین، تذلیل اور تحقیر میں مصروف ہے۔ نئی نسل کے ذہنوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ اب یہ اندازِ گفتار اور لب و لہجہ ہمارے نوجوانوں کے روز مرہ کا حصہ بن رہا ہے، اس کا ثبوت سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ وہ لوگ جو قیادت کے منصب پر فائز ہیں، انہیں مدبّر، متین اور بردبار ہونا چاہیے تاکہ لوگ انہیں ان کی خوبیوں سے پہچانیں۔ اندازِ کلام کسی بھی معاشرے کے آداب اور اقدار کا ترجمان ہوتا ہے، انسان اپنی گفتار سے پہچانا جاتا ہے، شرافت اور متانت انسانیت کے محاسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ”اُس کی نشانیوں میں سے تمہاری بولیوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے‘‘ (الروم: 22) نیز فرمایا: ”اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت بنا دیتا مگر لوگ برابر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اُس کے کہ جن پر تمہارا رب رحم فرمائے‘‘ (ہود: 118)۔

ایک دور تھا کہ ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین میں وضع داری اور رواداری قائم تھی، اختلاف کے باوجود وہ مشترکات کے لیے مل بیٹھتے تھے، ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ نہیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے موقف اور پالیسیوں سے اپنے دلائل کی روشنی میں اختلاف کرتے تھے، مگر اب آغاز ہی ذاتیات سے ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ”مومن لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا‘‘ (ترمذی: 1977)، (2) ”ایک انسان سوچے سمجھے بغیر کوئی ایسا کلمہ زبان سے کہہ دیتا ہے، وہ کلمہ اس کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے‘‘ (بخاری: 6477)، (3) ”جو کسی مسلمان کی ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اللہ تعالیٰ اُسے اُس وقت تک ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ میں رکھے گا جب تک کہ اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہو جائے‘‘ (ابودائود: 3597)۔ ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ جہنم کی اُس وادی کو کہتے ہیں جس میں جہنمیوں کا پیپ اور خون جمع ہوتا ہے۔

معراج النبی کے موقع پررسول اللہﷺ کا گزر ایک چھوٹے پتھر کے پاس سے ہوا جس سے روشنی نکل رہی تھی، آپﷺ نے دیکھا: اُس سے ایک بیل نکلا، پھر وہ اُسی سوراخ میں واپس داخل ہونا چاہتا ہے مگر داخل نہیں ہو پاتا۔ آپﷺ نے جبریل سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اُس شخص کی مثال ہے جو سوچے سمجھے بغیر بات کر لیتا ہے، پھر اس پر نادم ہوتا ہے اور اُسے واپس لینا چاہتا ہے، مگر ایسا کر نہیں سکتا‘‘ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِیْ، ج: 2، ص: 397)۔ پس سیاسی قائدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے فریقِ مخالف کی نہیں تو اپنی عزت کا پاس رکھیں، ایسا شعار، اندازِ گفتار اور رویہ اختیار نہ کریں کہ ردِّعمل میں ان کی اپنی عزت پامال ہو اور دنیا کو یہ تاثر ملے کہ ہمارے قانون ساز ادارے بے وقعت ہیں، بے توقیر ہیں، باہمی نفرتوں کا مرکز ہیں۔ یہ جس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اُس کو چھوڑ کر غیر ضروری باتوں میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ سطور ہم نے خیر خواہی کے طور پر لکھی ہیں، نہ کسی کی حمایت مقصود ہے اور نہ مخالفت، کیونکہ لوگ پسند کریں یا ناپسند، یہ قوم کے رہنما بنے بیٹھے ہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن

بشکریہ دنیا نیوز

’پاک ویک‘ ویکسین : پاکستان میں تیار کردہ کورونا ویکسین

قومی ادارہ صحت کی جانب سے دوست ملک چین کی مدد سے کورونا ویکسین مقامی طور پر تیار کئے جانے کی خبر نہایت حوصلہ افزا ہے اس سے جہاں مکمل تیار کورونا ویکسین کی درآمد پر آنے والی لاگت میں کمی آئے گی وہیں ملکی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر ویکسین کی تیاری بھی ممکن ہو سکے گی۔ پاکستان میں تیار کردہ کورونا ویکسین ’’پاک ویک‘‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے، پہلے مرحلے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں چینی خام مال سے چینی ماہرین کی زیر نگرانی ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد خوراکیں تیار کی گئیں جبکہ کورونا ویکسین کی دوسری کھیپ رواں ماہ تیار کرنے کیلئے انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے جس کیلئے 10 لاکھ ڈوز کا خام مال رواں ہفتے آئے گا جو چینی کمپنی کین سائنو فراہم کرے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ کمپنی 10 لاکھ تیار ڈوزز بھی فراہم کرے گی۔ اچھی بات یہ ہے کہ دوسری کھیپ مکمل طور پر پاکستانی ماہرین تیار کریں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں صحت کے اعلیٰ ماہرین کی تو کوئی کمی نہیں البتہ وسائل کی کمی اور حکومتی عدم توجہی آڑے آتی ہے اور اگر حکومتی سرپرستی حاصل ہو تو ملکی ماہرین مکمل طور پر کورونا ویکسین مقامی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عالمی وبا کے انسداد کیلئے کورونا ویکسین کا عمل دنیا بھر میں تیزی سے جاری ہے۔ اگرچہ وطن عزیز میں ویکسین کا عمل قدرے تاخیر سے شروع ہوا تاہم دیر آید درست آید کے مصداق اب اس عمل میں تیزی آرہی ہے۔ ملک میں اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کی 76 لاکھ 48 ہزار 481 خوراکیں لگائی جا چکی ہیں جس کے نتیجے میں 2 لاکھ 76 ہزار 600 افراد کی ویکسی نیشن مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم ملکی آبادی کو دیکھتے ہوئے اس عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح کورونا وبا سے مکمل بچائو ممکن ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

شہباز شریف کا شکوہ اور جواب شکوہ

شہباز شریف کا شکوہ ہے کہ ان کے بھائی اور بعد میں ان کی بھتیجی کی ضد نے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے بطور سیاسی جماعت زمین تنگ کر دی ہے۔ ایک حد تک یہ شکوہ درست ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی سیاست اتنے پیچ و خم سے گزری ہے کہ نہ ان کے اعتراض سمجھ میں آتے ہیں اور نہ ہی اعتراف۔ شہباز شریف کیمپ کا یہ کہنا جائز ہے کہ ان کی قیادت کی سیاست کی جڑوں میں کسی انقلاب کا خون نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو طے کر کے قافلے کو آگے بڑھانے والے لائحہ عمل نے اسے سینچا ہے۔ یہ اعتراض بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ نواز شریف پاناما کیس میں خود سے چل کر اس جکڑ کا شکار ہوئے جس نے ان کو طاقت، سیاست اور ملک سے جلاوطن کرنے کا ماحول بنایا۔ اس بات میں بھی وزن ہے کہ مریم نواز ہر وقت تلوار اٹھا کر جو سیاسی خونریزی کرتی ہیں اس کے نتائج شہباز شریف کو بھی بھگتنے پڑے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا کچھ غصہ مریم اور نواز شریف پر نکلا مگر زیادہ متاثر شہباز شریف ہوئے۔

نواز شریف کی اولاد کے بر عکس ان کے کاروبار پاکستان میں ہیں جہاں پر ریاستی اداروں کا زور زیادہ چلتا ہے، لہذا شہباز شریف کی بازو مریم نواز کی سیاست کی وجہ سے زیادہ مروڑی گئی۔ اس اعتراض کا جواب دینا بھی مشکل ہے کہ نواز شریف موجودہ پالیسی کو کب تک چلا پائیں گے۔ وہ کون سی منزل ہے جو اپنے جنگجوانہ رویے سے قریب آتی نظر آ رہی ہے۔ تین سال سے مسلسل جھگڑے نے اسٹیبلشمنٹ کی آنے والی قیادت کو بھی جماعت کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ جو مسائل اب کھڑے کیے گئے ہیں وہ موجودہ قیادت کے جانے سے حل نہیں ہوں گے۔ آنے والے پچھلے چار سال کی تاریخ سے ہونے والی ذہن سازی کے ماتحت رہیں گے۔ وقت گزرتا جائے گا، لڑائی جاری رہے گی۔ نہ کوئی نتیجہ نکلے گا، نہ فائدہ ہو گا۔ خدا بھی نہ ملے گا، صنم بھی ناراض ہو گا۔ ایسے میں لائحہ عمل کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔

مگر ہر شکوے کا جواب بھی ہوتا ہے۔ اس کو سنیئے تو محسوس ہو گا کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کرنے کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ ذہنی دھند کا شکار ہیں جو نواز شریف کی مزاحمتی پالیسی پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ فرق ضرور ہے کہ مزاحمت و اعتراض کرنے والے اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتے ہیں کیوں کہ وہ آئین، قانون اور تاریخ کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسی تسلی شہباز شریف کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ جواب شکوہ کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ مفاہمت کا اگلا قدم کیا ہو گا اور یہ کیسے حاصل کی جائے گی؟ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید جاتی عمرا تو نہیں جائیں گے۔ نہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیٹھ کر نیا سیاسی معاہدہ طے کریں گے۔ وہ میز کہاں پر سجے گی جس پر بیٹھ کر شہباز شریف اپنے مفاہمتی فارمولے کو اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں کے سامنے رکھیں گے؟ پھر یہ ٹیبل کتنی وسیع ہو گی؟

اس پر عمران خان کی جماعت کی کرسی دونوں جنرل صاحبان کے درمیان میں رکھی ہوگی، دائیں ہو گی، بائیں ہو گی، اونچی ہو گی یا وہ سب کے ساتھ بیٹھیں گے؟ اور اگر وہ سب کے ساتھ بیٹھیں گے تو کیا ضمانت ہے کہ وہ میز کو الٹانے سے پہلے اس پر پڑی چیزوں سے شریف خاندان، بھٹو خاندان اور فضل الرحمان پر تاک تاک کر نشانے نہیں لگائیں گے؟ اس کی وضاحت کوئی نہیں کرتا کہ وہ کون سا عمل ہے، جس کے ذریعے سیاسی کھیل کے نئے قوائد وضع ہوں گے؟ اور پھر ایجنڈا آئٹم کیا ہوں گے؟ کیا شہباز شریف فوج اور انٹیلی جنس کے سربراہان کو بتائیں گے کہ خارجہ اور دفاعی امور کا کتنا حصہ راولپنڈی اور آبپارہ میں طے ہونا ہے اور کتنا وزیراعظم ہاؤس میں؟ معیشت میں سے فوج کو مستقل بنیادوں پر کتنے پیسے مختص ہونے ہیں اور کتنے عوام کے لیے رکھنے ہیں؟ مہینے میں کتنے سیاست دان فوجی سربراہ سے مل سکتے ہیں اور کیا کور کمانڈر کو سیاست دانوں سے ملنے کی اجازت ہو گی؟

جج صاحبان کو فیصلوں کی آزادی ہے یا نہیں؟ ذرائع ابلاغ اور اس کے مالکان کتنی ہدایات لے سکتے ہیں اور کہاں سے؟ کیا صرف آئی ایس پی آر کی سننی ہے یا وزارت اطلاعات کی بھی؟ کون سے صحافی ڈنڈے سے سدھارے جائیں اور کون سے وٹس ایپ پیغامات کے ذریعے؟ سیاست دانوں کے خلاف موجودہ مقدمات کس نے اور کیسے واپس لینے ہیں؟ کیا یہ مفاہمت کے نکات ہوں گے؟ کیا سب کچھ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو گا؟ یا کسی پردے کے پیچھے خاموش نشست ہو گی؟ یہ مفاہمت ہوگی کیسے؟ یہ بتائے بغیر اس کی رٹ لگا کر خواہ مخواہ کی سیاسی کنفیوژن پیدا کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف یا تو مفاہمت کے خدوخال بیان کر دیں اور اس کے طریقہ کار پر روشنی ڈالیں اور یا پھر اس کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دیں۔ دوسرا نکتہ شہباز شریف کی اپنی سیاست سے متعلق ہے۔ ان پر بننے والے مقدمات کا تعلق نواز شریف کی پالیسی سے نہیں۔ ان کی اپنی حکومت کے منصوبے اور ان کے خاندان کے کاروبار سے ہے۔

اس پر کوئی یقین نہیں کرتا کہ شہباز شریف نواز شریف کے مبینہ سخت بیانات کی وجہ سے زیر عتاب ہیں۔ ان کا بڑا بھائی اگر مسلسل چپ کا روزہ بھی رکھ لیتا تب بھی شہباز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات بننے ہی تھے۔ مسئلہ پنجاب کی سیاست سے ہے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے شہباز شریف اس جماعت کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں جو پنجاب میں ایک بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے۔ اگر وہ بلوچستان یا خیبر پختونخوا میں کسی جماعت کے نمائندے ہوتے تو جو من میں آتے کرتے، کوئی کچھ نہ پوچھتا۔ بغیر پرمٹ کی گاڑیاں لاتے، نقلی سیگریٹ بیچتے یا شہد کا کاروبار کرتے، سب کچھ جائز تصور ہوتا۔ مگر چونکہ پنجاب میں سیاسی جڑیں رکھتے ہیں لہذا ان کے غم کم نہیں ہو سکتے۔ عمران خان کا احتساب اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈنڈا ن لیگ کی پنجاب میں سیاست کو بظاہر لگام ڈالنے کے لیے ہے، جس کے بغیر پاکستان میں سیاسی تجربہ گاہ نہیں چل سکتی۔

اور پھر آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ شہباز شریف مفاہمت کی بات اپنی ذاتی سیاست اور کاروبار کے زاویے سے کرتے ہیں۔ وہ بےشک اپنے پالیسی کے عمومی فائدے گنواتے رہیں لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ہاتھ ملا کر اپنے لیے سہولت مہیا کروانا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض فعل نہیں ہے۔ کسی کو بھی بغیر جرم کے معاشی و سیاسی و ذہنی و کاروباری تکلیف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے بچاؤ کا حق سب کا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ شہباز شریف نے مفاہمت بھی کی اور جیل بھی کاٹی۔ فی الحال نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ یہاں سے وہ کدھر جائیں گے؟ اس کے بعد وہ کیا ایسا کریں گے جو انہوں نے پہلے نہیں کیا؟ اور جس کے باوجود ان کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جو مزاحمت اور اعتراض کرنے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مفاہمت، جواب شکوہ کی روشنی میں ایک مضحکہ خیز اصطلاح ہے۔ ایک بے سروپا کہانی ہے بیچارگی کی اور بس۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟

صحافت کہتے کسے ہیں؟ صحافت شہریوں کو باخبر رکھنے کا نام ہے۔ عوام کو روز مرہ واقعات اور مسائل کے پیچھے کارفرما محرکات سے آگاہ کیا جائے۔ سیاست دان کے موقف اور ریاست کی پالیسیوں کے رمز و کنائے واضح کئے جائیں۔ معیشت کی گرہ کشائی کی جائے۔ معلومات کے تجزیے، بحث مباحثے اور حقائق کی چھان پھٹک کے ذریعے شہریوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ جمہوری عمل میں پرکشش نعروں سے گمراہ ہونے کی بجائے ایسے فیصلے کر سکیں جو ان کی زندگیوں کو زیادہ محفوظ اور آسودہ بنا سکیں۔ صحافت اور عملی سیاست میں باریک سی لکیر ہے۔ صحافی انتخابی عزائم نہیں رکھتا، ریاستی منصب کا خواہاں نہیں ہوتا۔ صحافت حتمی تجزیے میں سیاسی عمل کا لازمی جزو ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں امریکا کے موقر ترین صحافی والٹر کرونکائٹ نے کہا تھا، ’’صحافت محض جمہوریت کے لئے اہم نہیں، صحافت خود جمہوریت ہی کا دوسرا نام ہے‘‘۔

ثبوت یہ کہ تمام غیر جمہوری حکومتیں اور ریاستیں صحافت کو ناپسندیدہ اکائی سمجھتی ہیں۔ ہمارا ملک تو ایسا جنت نظیر نمونہ ہے کہ ہمارے براہ راست آمر بھی صحافت کی آزادی اور جمہوریت کی حمد و ثنا کیا کرتے تھے۔ بس ذرا جمہوریت کے ساتھ کوئی مفید مطلب اسم صفت (بنیادی، اسلامی یا کنٹرولڈ وغیرہ) ٹانک دیتے تھے اور صحافت سے مثبت رپورٹنگ کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے قومی اشاریے ہماری قومی ترجیحات کی توانائی اور صحافت کی آزادی کی گواہی کیوں نہیں دیتے؟ عوام کے معیار زندگی کی درجہ بندی میں ہم 111 ممالک میں 93 نمبر پر ہیں۔ دنیا کے کل 97 ممالک تیسری دنیا میں شمار ہوتے ہیں۔ ہم اس صف میں بھی 84 نمبر پر ہیں۔ اکنامسٹ انٹلیجنس یونٹ نے جمہوری درجہ بندی میں 165 ممالک میں سے ہمیں 105ویں درجے پر رکھا ہے۔عالمی انوویشن انڈیکس  نے ہمیں کاروباری اپج اور صلاحیت میں تین درجے گرا کے 107 پر کھڑا کر دیا ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم نے ہمیں آزادی صحافت میں 145ویں زینے پر سرفراز کیا ہے۔

شرح خواندگی میں ہم 200 ممالک میں نیچے سے 18ویں درجے پر ہیں۔ صنفی مساوات میں 156 ممالک کی درجہ بندی میں صرف تین ملک ہم سے پیچھے ہیں۔ انصاف تک شفاف رسائی میں 128 ممالک میں ہم 120ویں درجے پر ہیں۔ علاج معالجے تک رسائی میں ہم 195 ممالک میں 154 درجے پر ہیں۔ متوقع عمر، شرح خواندگی نیز نوزائیدہ بچوں اور دوران زچگی ماؤں کی اموات میں جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد سب سے پیچھے ہیں۔ تاہم ایسا نہیں کہ ہم ہر میدان میں پھسڈی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آبادی میں ہم برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پانچویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں اسکول سے محروم آبادی میں ہم دوسرے نمبر پر ہیں۔ ایک تیسرا درخشاں اشاریہ بھی یاد آ رہا ہے لیکن اس کا ذکر بوجوہ ممکن نہیں۔ یہ وہ اشاریے ہیں جو دہائیوں کی محنت سے بہتر ہوتے ہیں۔ ہم پیاز ٹماٹر کی قیمت، افراطِ زر، جی ڈی پی کے حجم یا فی کس آمدنی کا ذکر نہیں کر رہے۔

ہم درمیانے درجے کے ممالک میں شمار ہوتے تھے پھر ایسی کیا آفت ٹوٹی؟ ہمارے عوام کو معیار زندگی، تعلیم اور صحت کی بجائے بے معنی نعروں کے تعاقب میں روانہ کیا گیا۔ جب ہم پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ناپسندیدہ اخبار اور جرائد بند کرنے کے درپے ہو رہے تھے، ہماری معیشت رہن رکھی جا رہی تھی۔ جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، تب پروگریسو پیپرز ضبط کر کے نیشنل پریس ٹرسٹ کے بھونپو نصب کئے جا رہے تھے۔ ستر کی دہائی عالمی معیشت میں بریک تھرو کے برس تھے۔ ہم صحافیوں کو کوڑے مار رہے تھے۔ سرد جنگ کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ دنیا بدل رہے تھے، ہم جمہوریت اور صحافت کی آتما رگید رہے تھے۔ سول سوسائٹی کا گلا گھونٹ رہے تھے۔ ہم نے جدیدیت کی مزاحمت پر کمر باندھ رکھی ہے اور قدم قدم پر جدید دنیا کے محتاج ہیں۔ معاشرتی اقدار میں پسماندگی برقرار رکھتے ہوئے معاشی ترقی چاہتے ہیں۔

ہم نے علم، تحقیق، معیشت، جمہوریت اور روزمرہ اخلاقیات میں قدامت پسندی کی بارودی سرنگیں لگا رکھی ہیں۔ قدامت پسندی وسائل پر اجارے، معاشی بدحالی اور پیوستہ مفادات کے تسلسل کا نسخہ ہے۔ قومی ترقی کے لئے اجتماعی زندگی میں تنوع کے احترام، فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت، معاشی مواقع میں مساوات، اختیار کی جوابدہی اور انفرادی آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پڑتی ہے۔ صحافت ملک دشمن نہیں ہوتی اور خامیوں کی نشاندہی غیرملکی ایجنڈا نہیں ہوتا۔ ہم تزویراتی گہرائی سے نکلتے ہیں تو ففتھ جنریشن وار فیئر کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔ ایسا ہی کسی کو سلامتی کی سائنس پر عبور کا غرہ ہے تو پچھلے پانچ برس میں سیکورٹی اسٹڈیز کے کسی بین الاقوامی تحقیقی جریدے سے اس اصطلاح کی تعریف کا حوالہ پیش کر دے۔

وجاہت مسعود

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کا مستقبل : ایک مضبوط علمی معیشت

پاکستان کا مستقبل اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جدّت طرازی اور کاروباری صلاحیتوں پر مبنی مضبوط علمی معیشت کی ترقی میں مضمر ہے۔ ضروری ہے کہ غیر معیاری زرعی معیشت کے جال سے نکل کر ایک مضبوط علمی معیشت کی طرف گامزن ہوا جائے۔ اس کیلئے ہمیں ایک انتہائی ہنر مند افرادی قوت تشکیل دینےاور ایسی حکمتِ عملی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس سے اس افرادی قوت کی صلاحیتوں کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات کی تیاری اور برآمد کے لئے بڑی صنعتوں کے قیام کے لئے بروئے کار لا یا جا سکے۔ یہی سنگاپور، کوریا اور چین جیسے ممالک کی تیز رفتار ترقی کا راز ہے۔ ہمیں انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، بائیو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی کے اسٹوریج سسٹم، جدید دھات کاری، پریسیشن مینو فیکچرنگ، مائیکرو الیکٹرونکس، دفاعی مصنوعات، جہاز سازی، آٹو موبائل مینو فیکچرنگ اور اس طرح کی معیاری مصنوعات کی تیاری کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ پاکستان نے ہمیشہ کم آمدنی والے شعبوں پر ہی توجہ مرکوز کی ہے جس نے ہمیں فی کس آمدنی کے لحاظ سے بہت نچلے درجے پر پہنچا دیا ہے۔

علمی معیشت کے لئے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے، بین الضابطہ شعبوں میں کام کرنے اور تقریباً ہر شعبے میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کو تیزی سے اپنانے کی صلاحیتوں کے ساتھ بہترین تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کی مہارتیں جو آج کے نئے ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کاروبار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں، خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک علمی معیشت کو چلانے کے لئے چار بنیادی ستونوں کی ضرورت ہوتی ہے، پہلا ستون، ایک ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی دستیابی، ملازمین کا اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نئے چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کا اہل ہونا ضروری ہے۔ دوسرا ستون جدید معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنا لوجی ذرائع تک رسائی ہے تاکہ تازہ ترین معلومات، نئی پیش رفتوں اور موثر طریقے سے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔

تیسرا ستون تجارتی اداروں اور صنعتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک موثر جدت طرازی کا نظام ہے تاکہ دانشور جو اثاثہ ہوتے ہیں کو محفوظ رکھا جا سکے اور نئے خیالات کو جدید مصنوعات اور عمل میں تبدیل کرنے کے لئے نظام فراہم ہو۔ چوتھا ستون قومی ماحولیاتی نظام کا قیام ہے جس میں جدت طرازی پروان چڑھ سکے۔ اس کے لئے اچھی قیادت، یعنی ماہر وفاقی وزرا ء اور سیکرٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ ادراک رکھتے ہوں کہ کس طرح علمی معیشت کی طرف بڑھا جا سکتا ہے تاکہ ایک قابل ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ ایک مضبوط علمی معیشت کی ترقی کی شروعات صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی تھی جب سال 2000 میں وفاقی وزیر سائنس کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد میں نے انہیں سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے پر راضی کیا بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد، بہت بڑی تبدیلیاں رُونما ہوئیں جنہیں اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بے حد سراہا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پروگراموں کا جائزہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کے چیئرمین پروفیسرمائیکل روڈ نے لیا۔

 انہوں نے متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا اور 2008 میں پاکستان کے ایک اخبار میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جس میں میری پالیسیوں کی تعریف کی، ایچ ای سی کی قیادت کے طور پر میرا یہ رویہ تھا کہ’’معیار مقدار سے کہیں زیادہ اہم ہے‘‘۔ نیچر، دُنیا کا معروف سائنسی جریدہ ہے، اِس نے چار اداریے تحریر کئے جن میں پاکستان کے اس شعبے میں کئے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا۔ دُنیا کی سب سے مشہور سائنسی سوسائٹی، دِی رائل سو سائٹی (لندن) نے ’’اے نیو گولڈن ایج‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کی پالیسیوں کودوسرے ترقی پذیر ممالک کے لئے بہترین مثال قرار دیا۔ ہم نے سائنسدانوں کی تنخواہوں کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ ایک نئے ٹینور ٹریک نظام کے تحت پروفیسروں کی تنخواہوں میں 4 سے 5 گنا اضافہ کیا گیا جو وفاقی وزرا کی تنخواہوں سے چار گنا زیادہ تھا، جامعہ فیکلٹی ممبروں کے گریڈ میں اضافہ کیا گیا اور جامعہ کے اساتذہ کو 75 فیصد ٹیکس میں چھوٹ بھی دی گئی۔ ادبی سرقہ کو روکنے کے لئے ایک سوفٹ وئیر متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے تمام تحقیقی مقالوں کی جانچ پڑتال کی جانے لگی۔

 اس طرح کے دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستانی جامعات کی تحقیقی پیداوار میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ جہاں ہم 2000 میں بین الاقوامی جرائد میں ریسرچ کی اشاعت کے معاملے میں ہندوستان سے 400 فیصد پیچھے تھے، ہم نے 2017 میں ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا اور 2019 تک ہم ہندوستان سے تقریباً 25 فیصد آگے ہو گئے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم کو 22 جولائی 2006 کو میرے اور HEC کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بارے میں27 جولائی 2006 کو ہندوستان کے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی جس کی سُرخی تھی ’’ہندوستان کو پاکستان کی سائنس میں ترقی سے خطرہ‘‘۔ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم کی زیر صدارت علمی معیشت پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جس کا، میں وائس چیئرمین ہوں، ایک علمی معیشت کی طرف گامزن سفر جو 2000 میں شروع ہوا تھا دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن
کالم نگار سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اورسابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہیں

بشکریہ روزنامہ جنگ