خوبصورت جھیل خرفاق جو سیف الملوک جھیل سے کم نہیں

پاکستان خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے لیکن حکومتوں نے سیاحت کی طرف کم توجہ دی اور قدرتی نظاروں تک پہنچے کیلئے جو ذرائع آمد و رفت آپ کو یورپی ممالک میں ملتے ہیں وہ یہاں دستیاب نہیں ۔ یورپ میں یہی سہولت قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے اور جوق درجوق سیاح آتے ہیں جس سے مقامی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی شمالی علاقہ جات قدرتی مناظر سے بھرپور ہے لیکن وہ یا تو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ خوبصورتی کی ایسی ہی مثال” جھیل خرفاق ‘‘ ہے۔ شمال میں چین کی سرحد اور واخان کی پٹی سے ملحقہ پاکستان کے آخری ضلع گانچھے کی تحصیل خپلو میں واقع ہے جس تک پہنچنے کیلئے سخت ہائیکنگ کرنا پڑتی ہے۔ سکردو سے اگر خرفاق جائیں تو براہ تک پونے دو گھنٹے کا سفر ہے لیکن اگر خپلو سے جائیں تو پچیس سے تیس منٹ لگتے ہیں ۔

راستہ بہت زیادہ دشوار گزار ہے۔ جھیل سے پہلے ایک دریا آتا ہے جہاں سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔ فور بائی فور گاڑی ہی کارگر ہوتی ہے ، یہاں سفر کرنا عام گاڑی کے بس کی بات نہیں ۔ جو لوگ ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے دلدادہ ہیں وہ خرفاق جھیل تک پہنچنے میں آسانی محسوس کرینگے کیونکہ جھیل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ یہاں چٹانوں کے پہاڑ کھلے کھلے ہیں درمیان میں کافی جگہ ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جھیل تک پہنچنے کیلئے سڑک تعمیر کرے تاکہ سیاحت میں اضافہ ہو سکے ۔ جھیل کا پانی اوپر پہاڑوں سے آتا ہے جب برف پگھلتی ہے تو جھیل گہری ہو جاتی ہے اور اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے لیکن جب پانی خشک ہوتا ہے تو جھیل سکڑ جاتی ہے ۔ جھیل کا داہانہ یا بہائو زیر زمین ہے اور اس کا پانی ایک گائوں میں جاکر نکلتا ہے ۔

گھنٹوں کی ہائیکنگ کرتے کرتے جب سیاح تھک جاتے ہیں تو کسی مقامی رہائشی کا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں جو مقامی فرد خوشی سے دے دیتا ہے کیونکہ وہاں ٹھہرنا تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے ۔ مقامی آباد ی بہت ملنسار ہے۔ جھیل سے فاصلے پر کہیں کہیں آبادیاں ہیں، دریا کے ساتھ بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس جھیل تک پہنچ پاتے ہیں ۔ تھکے ہارے سیاح جب کئی میل کا سفر کر کے اس جھیل کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کا نیلگوں پانی دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جیسے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیں گے ۔ جھیل سے پہلے چٹانوں کے ٹوٹے پتھر آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا شفاف پانی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔ یہ ایک بہت خاموش اور دنیا سے ہٹ کر جگہ ہے جہاں آپ سکون محسوس کرینگے ، یہاں کوئی شور نہیں سوائے پانی کے گرنے کے یا پرندوں کے چہچہانے کے ۔

یہ جھیل خوبصورتی میں جھیل سیف الملوک سے کم نہیں لیکن چونکہ اس تک پہنچنا بہت دشوار ہے اس لئے سیاح عموماً یہاں کا رخ نہیں کرتے لیکن اگر حکومت توجہ دے تو اسے جھیل سیف الملوک کی طرح کا سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کا ٹھہرائو آپ کو کسی حسین دلربا پانی کے خوبصورت منظر کی طرف لے جاتا ہے جہاں آنے والے لوگ عجیب ہی تروتازگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جھیل اپنے اندر اک خوشنما احساس تو رکھتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کو غمزدہ بھی کرتی ہے کہ اتنی خوبصورت جھیل عوام کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔

زونیر کمبوہ

بشکریہ دنیا نیوز

سیاحت کے لیے بے مثال پاکستان

سطح سمندر سے صرف چند فٹ اونچائی سے لے کر دنیا کی بلند ترین سرزمینوں تک بچھے اور پھیلے ہوئے میرے وطن عزیز کا ذرہ ذرہ بے مثال ہے، اس کی سر بلند چوٹیوں کے نظارے انسانی عقل کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ شمالی پاکستان کے دروں اور وادیوں میں سے ابھرتی ہوئی ان چوٹیوں میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں سے طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے والے سوچتے ہیں کہ کیا جنت کا کوئی منظر اس سے بھی دلفریب ہو گا۔ طلوع آفتاب کے وقت یوں لگتا ہے جیسے کسی نے رنگ رنگ کے کروڑوں ہیرے جواہرات یکایک فضا میں اچھال دیے ہیں اور آتشبازی کے لاتعداد رنگوں نے زمین کے ان بلند ترین نظاروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس منظر کو جو چند ثانئے برقرار رہتا ہے بیان کرنے کے لیے انسان الفاظ تلاش نہیں کر سکا۔

دنیا میں کوئی دوسرا مقام ایسا نہیں جہاں سے طلوع آفتاب کی ایسی سج دھج دیکھی جا سکے ۔ یہ منفرد ہے، صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔ قدرتی جغرافیہ نے یہ زاویہ صرف اسی مقام کو عطا کیا ہے جو شمالی پاکستان کی اس پہاڑی پر واقع ہے اور انسانی دسترس میں بھی ہے۔ مگر ان خوش نصیبوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں جنھوں نے کسی سرد صبح کو قدرت کے اس پاکستانی عطیہ کو دیکھا ہو ۔ جنھوں نے دیکھا وہ پہروں گم سم رہے اور پھر کئی صبحوں تک مطلع صاف ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ ان چوٹیوں پر جمی رہنے والی برف اور آسمانوں کو دیکھتے رہنے والے درختوں میں سے بہتے پانیوں کے ساتھ ساتھ نیچے اتر کر کوئی مسافر جب ان صحرائوں تک جو چولستان سندھ اور بلوچستان میں بچھے ہوئے ہیں، پہنچتا ہے تو وہ بالکل ایک دوسرا منظر دیکھتا ہے، ایک ایسا منظر جو بہت کم صحرائوں کے نصیب میں ہے ۔ صحرائی عرب اپنے ریگستانوں کو چھوڑ کر پاکستان کے ان صحرائوں میں آتے ہیں اور یہاں ایسے نظارے دیکھتے ہیں کہ یہاں ڈیرے لگا اور بنا لیتے ہیں۔

ہزارہا برسوں سے نسل در نسل بادیہ نشین عربوں کا پاکستانی صحرائوں کو یہ خراج تحسین ہے ۔ یہ صحرا دیکھ کر ان عربوں کو اپنے سب سے بڑے شاعر امراء القیس کے قصیدے کا وہ منظر ضرور یاد آتا ہو گا جو اس نے اپنی محبوبہ کے فراق میں اس کی خیمہ گاہ کو دیکھ کر یوں کھینچا تھا کہ اس کے قبیلے نے دخول اور حومل نامی دو ٹیلوں کے درمیان خیمے ڈال دیے تھے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں شمال اور جنوب دونوں طرف سے چلنے والی ہوائیں رواں ریت کو سوئی دھاگے کی طرح پروتی اور بُنتی رہتی ہیں۔ میرے دوستو ذرا ٹھہرو اور مجھے اس منظر کی یاد میں آنسو بہا نے دو۔ پاکستان کے سر کشیدہ پہاڑوں پر دنیا کے کوہ دامن رشک کرتے ہیں اور اس کے صحرائوں پر عربوں کے صحرا۔ یہ میرا پاکستان ہے ۔ یہاں کے انسانوں کے لیے قدرت کا انعام۔ ان دنوں سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان کے تاریخی شہروں، تاریخ کے کھنڈروں، تاریخ کے زندہ نمونوں اور قدرت کے عطا کردہ فرواں نظاروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کا اتنا کچھ رکھنے کے باوجود ہم سیاحت کے صنعت سے محروم کیوں رہیں ۔ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے پاکستان میں امن و امان کو بگاڑ رکھا جس کی وجہ سے سیاحوں نے ہم سے منہ موڑ لیا۔

پاکستان میں سیاست کا خزانہ خالی نہیں ہے، اس کی دلکشی کو کسی ساہوکار کی ضرورت نہیں صرف ہمیں خود اس شعبے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ شروع دن سے ایک محکمہ موجود ہے مگر شجر کاری والے محکمے کی طرح وہ بھی کام نہیں کرتا اور شاید اس محکمے کے کارپردازوں کو بھی پوری طرح علم نہ ہو کہ ان کا خزانہ عامرہ کن حیران کُن اشیاء سے بھر پور ہے۔ عرض کرتا ہوں کہ ایک دن ایک باتصویر کتاب دیکھ رہا تھا جس میں لاہور کی مسجد وزیر خان کی عقبی دیوار کی تصویر تھی اور لکھا تھا کہ اس سے خوبصورت تاریخی دیوار دنیا میں کوئی اور نہیں ۔ دنیا کے تاریخی عجائبات پر کسی غیر ملک کی چھپی یہ کتاب ہمیں بتا رہی تھی کہ جس دیوار کو ہم نے اوپلوں سے بھر رکھا ہے اور بھینسیں جس سے سینگ رگڑتی رہتی ہیں وہ کیا ہے۔ مرحوم عبداللہ چغتائی کی طرح چند سر پھرے لوگوں نے کچھ کام کیا تھا مگر وہ لوگ ان پرانی دیواروں پراپنے ذوق شوق کا لہو چھڑک کر گزر گئے اور ان کے بعد ہم ان در و دیوار میں شادیاں رچانے میں مصروف ہیں ۔ اپنے آثار قدیمہ کا تحفظ کرنے کے بجائے ان کو ختم کرنے پر لگ گئے ہیں ۔

سیاحوں کی دلچسپی کے لیے ہمیں آثار قدیمہ کے تحفظ سے آغاز کرنا ہو گا ان کی از سر نو مرمت کرنا ہو گی ان کے ماحول کو خوشگوار بنانا ہو گا کیونکہ ان کا متبادل کوئی نہیں ہے ۔ یہ کوئی کارخانے یا فیکٹریاں نہیں جو نئی مشینری کے ساتھ آسانی سے بدلتی رہتی ہیں۔ جہاں تک بات ہے سیاحت کے فروغ کی تو اس کے لیے ہمیں ایک مخصوص ثقافت کی ضرورت ہے جن ممالک نے اس صنعت کو ترقی دی ہے انھوں نے اس کے مطابق کلچر بھی بنایا ہے ۔ مسلمان ملکوں میں اس وقت ترکی سر فہرست ہے جہاں اس صنعت سے وہ بہت مال کما رہے ہیں ۔ حکومت بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان لائیں جس کے لیے سیاحت کے متعلق لکھنے اور فضا ہموار کرنے والوں کو پاکستان بلایا جا رہا ہے جن کی وجہ سے پاکستان کے متعلق غیر ملکیوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

خاص طور پر برطانیہ کے شاہی جوڑے کی شمالی علاقہ جات آمد نے پاکستان کے سیاحتی تشخص کو دنیا میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں عرض کروں پاکستان کے دامن میں بہت کچھ ہے جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے، بھارت کے پاس مسلمانوں کی چند عمارتیں ہیں، پاکستان کے مقابلے میں کم دلکش پہاڑ ہیں اور ایسا کوئی منظر نہیں جو پاکستان سے بہتر ہو لیکن وہاں محنت کر کے سیاحوں کی دلکشی کا سامان پیدا کیا گیا ہے ۔ پاکستان کا ذہن بہت کچھ سوچ سکتا ہے، نئی راہیں نکالی جا سکتی ہیں ۔ سیاحت کی ترقی کی چند تجاویز میرے پاس ہیں لیکن مجھے بہت ڈر لگتا ہے خصوصاً علمائے کرام کی ناراضی سے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

برطانیہ نے سیاحت کے لیے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دیدیا

برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر کرنے کے لیے سفری ہدایات میں ترمیم کر دی ہیں جس پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سے پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی۔ ایسا ان کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں برٹش ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں امن و امان کی بہتری کی جانب گامزن صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج برطانیہ نے پاکستان کے لیے اپنی سفری ہدایات (یوکے ٹریول ایڈوائس) میں تبدیلیاں جاری کی ہیں۔

یہ برطانیہ کی جانب سے 2015 کے بعد سفری ہدایات میں کی جانے والی پہلی واضح تبدیلی ہے۔ سفری ہدایات میں تبدیلی کے بعد اب برطانوی شہریوں کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بموریت جیسے علاقوں کو بذریعہ سڑک سفر کرنے کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’میں نے دسمبر 2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کے تجزیے کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امن و امان کی صورتحال میں بہتری حکومت پاکستان کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ’مجھے خوشی ہے کہ برطانوی شہری اب پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے۔‘ اس سے قبل جون 2019 میں برٹش ایئرویز نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا تھا جبکہ گذشتہ سال اکتوبر میں ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

پاکستان سیاحت کیلئے آنیوالی کینیڈا کی سیاح نے اسلام قبول کر لیا

موٹرسائیکل پر سوار ہو کر دنیا کے سفر پر نکلنے والی کینیڈا کی سیاح روزی گیبریل نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ روزی نے گذشتہ سال پاکستان کے مختلف صوبوں کی سیاحت کی تھی۔ وہ پاکستان کی ثقافت اور خوبصورت مقامات سے کافی متاثر دکھائی دیتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ روزی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’ ’میری قسمت مجھے پاکستان لے کر آئی نہ صرف اس لیے کہ میں خود کو چیلنج کر سکوں بلکہ اس لیے بھی کہ اپنی تکلیف اور انا سے چھٹکارا پا سکوں اور سیدھے راستے پہ چل سکوں۔ ان کے مطابق کہ انہوں نے اپنا مذہب چار برس پہلے چھوڑا تھا اور وہ روحانیت کے سفر پر نکلی تھی اور کائنات ان کو پاکستان لے آئی۔

کینیڈین بائیکر نے مزید لکھا کہ ’میں دس سے زائد برس مسلم ملک میں رہی ہوں اور وہاں ایک منفرد چیز کے بارے میں جان پائی ہوں جو کہ مجھے کہیں نہیں ملا، وہ ہے سکون کا وہ درجہ جسے حاصل کرنا بہت سے لوگوں کا خواب ہے۔‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دنیا میں اسلام سے متعلق نظریوں کی نفی کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تنقید کا شکار اور غلط سمجھا جانے والا مذہب ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام کا اصل امن، محبت اور واحدانیت ہے۔

روزی گیبریل جب پاکستان کے لیے سفر پر نکلی تھیں تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے منع تھا کہ وہ پاکستان نہ جائیں کیونکہ یہ ان کے لیے خطرناک ہے لیکن انہیں پاکستان میں کہیں بھی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ کینیڈین بائیکر نے نہ صرف پاکستان کی خوبصورتی کی تعریف کی تھی بلکہ انہیں مقامی لوگوں کی خوش اخلاقی نے بھی کافی متاثر تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

سیاحوں کو پاکستان کا رخ ضرور کرنا چاہیے

سی این ٹریولر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سر سبز میدانوں کے دامن میں   پہاڑی سلسلے ہیں اور سیاحوں کو یہاں کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔ اب پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیاحت کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے۔‘ رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہا گیا ہے اور یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ  پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ ’قدیم وادیاں، ویزے کی پابندیوں میں نرمی اور شاہی دورے سے اس ملک کو وہ توجہ مل رہی ہے جس کا یہ مستحق ہے۔

 

پاکستان نے میرا دل چرا لیا : چینی سفارت کار لیجیان ژاؤ

سابق جرمن سفیرمارٹن کوبلر کے بعد چینی سفارتکار لیجیان ژاؤ بھی پاکستان کے مداح نکلے۔ لیجیان ژاؤ گذشتہ چار سال سے پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے میں بطور ڈپٹی چیف آف مشن تعینات تھے۔ اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر انہوں نے پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ پاکستان سے واپس جانے پر افسردہ ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لیجیان ژاؤ نے لکھا کہ وہ پاکستان چھوڑ کر تو جارہے ہیں لیکن ان کا دل بہت بھاری ہے کیونکہ اس ملک نے انکا ‘دل چرا لیا ہے‘۔ لیجان نے اپنے الوداعی کلمات کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہترین وقت گزارا جو ہمیشہ یاد رہے گا، پاکستان چین کا آئرن برادر ہے۔ لیجیان نے مزید بتایا کہ اب ان کی جگہ چینی منسٹر کاؤنسل چانگ شنزؤئی فرائض نبھائیں گے۔

لیجیان ژاؤ سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے، انہوں نے پاک-چین دوستی اور اس کے مںصوبوں پر بے جا تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا جس پر پاکستانیوں نے انہیں خوب سراہا تھا۔ چینی سفارتکار کے پاکستان سے جانے کی خبر پر پاکستانی صارفین کے دل بھی اداس ہو گئے ہیں۔ مراد شعیب خان نامی پاکستانی صارف نے لکھا کہ گو وہ کبھی لیجیان سے ملے نہیں ہیں مگر ان کے دل میں ہمیشہ ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ ’پاکستان آپ سے ہمیشہ جڑا رہے گا۔‘ ایک اور صارف مشرف عباس نے لکھا ’لیجیان اب تک پاکستان میں فائض سفیروں میں سے سب سے بہترین ثابت ہوئے ہیں، پاکستان اور چین کے عوام کو قریب لانے میں ان کی محنت قابلِ ستائش ہے۔‘ عتیق احمد خان نامی صارف نے لکھا ’ہم آپ کو اور دونوں ممالک کے لیے آپ کی خدمات کو یاد کریں گے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے۔‘ واضح رہے کہ لیجیان پہلے سفیر نہیں جن کے جانے پر پاکستانی غمگین ہیں بلکہ سابق جرمن سفیر مارٹن کوبلر کے پاکستان سے جانے پر لوگوں کے ایسے ہی جذبات تھے۔ مارٹن نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

حسین و جمیل وادیٔ کونش : شاہراہ قراقرم یہاں سے گزرتی ہے

پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی حسین وادیاں، سرسبز و شاداب پہاڑ، بہتے دریا، صحرا اور جنگل دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے جن پرکشش مقامات سے نوازا ہے ان کی ایک مثال خیبرپختون خوا کی وادیٔ کونش ہے۔ یہاں کے نظارے دل کو موہ لیتے ہیں۔ یہاں کے دل کش مرغزار، جنگلات اور پہاڑ طلسماتی حسن لیے ہوئے ہیں۔ یہ وادی ضلع مانسہرہ کے شمال مغربی میں واقع ہے۔ شاہراہ قراقرم یہاں سے گزرتی ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وادیٔ کونش کے مشرق میں درہ بھوگڑمنگ ہے۔ مغرب میں وادیٔ اگرور واقع ہے۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ کی بستیاں ہیں۔ 

خوبصورت وادی کونش کا مرکزی شہر یا ہیڈ کوارٹر بٹل ہے۔ بٹل کو اردگرد کے خوبصورت پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ بٹل کے قریب اس وادی کا ایک صحت افزا اور حسین مقام چھترپلین آتا ہے۔ اس وادی میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ مختلف انواع کے پھولوں کے کھلنے سے مختلف رنگ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ یہاں کی سڑکیں بل کھاتی ہوئی مسافروں کو قدرت کے نظارے کا پورا موقع دیتی ہیں۔ یہاں کے بہتے چشموں کا صاف اور ٹھنڈا پانی روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ بٹل سے صاف اور شفاف پانی کا ایک دریا گزر کر جاتا ہے۔ وادی میں لوگوں کی گزر بسر کا ذریعہ مویشی، زراعت، باغات اور جنگل ہیں۔

محمد ریاض

سدپارہ جھیل : گلگت بلتستان میں واقع ایک قدرتی جھیل

سدپارہ جھیل گلگت بلتستان میں واقع ایک قدرتی جھیل ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ یہ شہر سکردو سے تھوڑی سی مسافت پر ہے اور شہر کو پانی کی فراہمی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ جھیل بہت خوبصورت ہے اور اس کا پانی میٹھا ہے۔ اس کے اطراف میں سنگلاخ چٹانیں ہیں۔ موسم سرما میں ان پہاڑوں پر برف پڑتی ہے۔ گرمیاں شروع ہونے پر یہ برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو اس کا پانی جھیل میں جمع ہونے لگتا ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک سے نکلنے والے قدرتی ندی نالوں کا پانی بھی بہتا ہوا اس جھیل میں آتا ہے۔ سدپارہ بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سات دروازے۔ اس نام کی وجہ ایک دیومالائی کہانی بتلائی جاتی ہے۔

محمد ریاض

پاکستان کے خوبصورت مقامات

قدرت نے پاکستان کو کئی نعمتوں سے نوازا ہے اور ہماری دھرتی کو بہت ہی خوبصورت مقامات عطا کیے ہیں، آئیے آپ کو پاکستان کے ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو بے حد حسین ہیں۔ آپ کو زندگی میں ایک بار ضرور ان مقامات کو دیکھنا چاہیے ۔

کلر کہار: موٹروے ایم 2 سے اسلام آباد جاتے ہوئے چکوال کے قریب یہ مقام آتا ہے۔ یہاں پر موجود ایک خوبصورت جھیل اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ موروں، مختلف پھلوں، اور رنگ برنگے پھولوں کے سبب یہ مقام انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں سیکورٹی کا بھی بظاہرکوئی مسئلہ نہیں جبکہ متعدد سیاحتی مقامات کی طرح یہاں زیادہ مہنگائی بھی نہیں ہے۔ آپ بآسانی اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔

موہنجو داڑو: سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے یہ تاریخی مقام صرف 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا یہ شہر اڑھائی ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ تعمیر ہوا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو اسے عالمی ورثہ قرار دے چکا ہے۔

مری: اسلام آباد سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ شہر بیشتر سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ سردی کا موسم ہو یا گرمی کا یہاں کی رونقیں ماند نہیں پڑتیں۔

ٹھنڈیانی: ایبٹ آباد کے شمال مغرب میں 31 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کو خوبصورتی اور ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے ٹھنڈیانی کہا جاتا ہے اور اس علاقے میں سال کے ہر مہینے میں آیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سستے ہوٹلوں میں اچھی رہائش کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

وادیٔ کیلاش: یہ وادی خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع ہے۔ یہاں منفرد زبان اور ثقافت کا حامل کیلاش قبیلہ آباد ہے۔ اپنے پُرفضا مقامات اور خوبصورتی کی وجہ سے یہ وادی پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہے۔

سوات: یہ خوبصورت مقام خیبر پختو نخوا میں واقع ہے اور اس کو خوبصورتی کی وجہ سے ایشیا کا سوئٹزر لینڈ بھی کیا جاتا ہے۔ اسے یہ خطاب ملکہ برطانیہ نے اپنے 1961ء کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دیا تھا۔ وہ اس وادی کو دیکھنے کے بعد بہت متاثر ہوئیں۔

زیارت: صوبہ بلوچستان کے اس مقام کو یہ شرف حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظمؒ نے اپنے آخری ایام یہاں گزارے تھے اور انہیں اس سے خاص رغبت تھی۔ کوئٹہ سے 125 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کا درجہ حرارت گرمیوں میں بھی خوشگوار رہتا ہے اور سیاحوں کو آنے کی دعوت دیتا ہے۔

وادیٔ نیلم: آزاد کشمیر کے دریائے نیلم کے ساتھ واقع یہ وادی خوبصورت درختوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ وادی کاغان کے متوازی واقع ہے اور ان دونوں وادیوں کو تقریباً چار ہزار فٹ بلند پہاڑی سلسلے جدا کرتے ہیں۔

شندور ٹاپ: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع اس مقام کی بلندی تقریباً 12200 فٹ ہے۔ اس کی خاص بات پولو میچز ہیں، جو ہر سال یہاں منعقد کیے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گرائونڈ ہے ۔

دیوسائی میدان : پاکستان کے شمال میں یہ میدان سکردو، گلتاری، کھرمنگ اور استور کے درمیان واقع ہے۔ ان کی اونچائی تقریباً 13497 فٹ ہے۔ مقامی زبان میں دیوسائی کا مطلب جنات میں زمین ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جگہ جنات کی قیام گاہ ہے۔ یہ جگہ غیر گنجان آباد ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی سرد ہے اور یہاں طوفان آتے رہتے ہیں۔ یہاں مختلف طرح کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں ۔

روھاب لطیف

پاکستان کو دنیا کا بہترین سیاحتی مقام قرار دے دیا گیا

برطانیہ سےتعلق رکھنے والی بیک پیکر نامی سوسائٹی نے پاکستان کو دنیا کا بہترین سیاحتی مقام قرار دیا ہے، سوسائٹی نے پاکستان کو پر امن، بہترین مہمان نواز اور دوست ملک بھی قرار دیا ۔ بیک پیکر سوسائٹی کی جانب سے جا ری کی جانے والی سیاحت کیلئے دنیا کے20 بہترین مقامات کی فہرست میں پاکستان کے علاوہ روس، ترکی کرغزستان، چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔ بیک پیکر سوسائٹی کے سیموئل جونسن اورایڈم سلوپر نے یہ فہرست دنیا کے 101 ممالک کے دورے کے بعد مرتب کی ہے، دونوں کا ایک خلیجی اخبار سے گفتگو کرتے ہو ئے کہنا تھا کہ پاکستان نے اس فہرست میں واضح طور پر اپنی جگہ بنائی، قدرتی حسین مناظر اور وہاں کے لوگوں کی زبردست مہمان نوازی نے ہمارے دل جیتے اور یقینی طور پر پاکستان کرہ ارض کا دوست ترین ملک ہے۔

سیاحت کے شوقین افراد کو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سیاحت کے لئے پاکستان کا انتخاب کریں، خاص طور پر شاہراہ قراقرم سے اسلام آباد اور پھر درہ خنجراب تک سفر ضرورکریں، سیاحت کا مزہ آ جائے گا۔ سیموئل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آپ کے خیال سے بھی زیادہ حسین مناظر آپ کے منتظر ہیں جو آپ کے ذہن پر نقش ہو جائیں گے اور آپ ان کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ جنوبی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے26 سالہ سیموئل اور26 سالہ سلوپر نے موسم گرما میں پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چند دن لاہور ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزارے جس کے بعد وہ کاغان ویلی سے ناران اور بعد ازاں بابو سر شمالی گلگت تک جا پہنچے ان کا یہ سفر ہنزہ ویلی تک رہا جہاں سے کریم آباد کے مقام سے انہوں نے ھون پاس پرچڑھنے انتخاب کیا ۔

ھون پاس پر چڑھنے کیلئے منتخب کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جگہ کا انتخاب برطانیہ کے معروف کوہ پیما ایرک شپٹن کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے ان نظاروں سے لطف اندوز ہو نا تھا جسے انہوں نے دریافت کیا اور بعد ازاں انہوں نے ان خوبصورت اور حسین مناظر کا ذکر بھی کیا ،اس موقع پر سیموئل نے اپنے سفر کو یاد کرتے ہو ئے بتایا کہ واقعی یہ قدرتی مناظر دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آئے اور ان مناظر نے ہم پر سحر طاری کر دیا ۔ سیموئل کا کہنا تھا کہ دنیا میں جو لوگ کوہ پیمائی کا شوق رکھتے ہیں ان کے لئے مشورہ ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ حسین مقام انہوں نے نہیں دیکھا ہو گا وہ اس مقام پر ضرور جائیں اور یہاں کے سحر زدہ مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے یہاں کا سفر ضرور کریں ۔ انہوں نے ہنزہ ویلی اور یہاں کی چوٹیوں کے مناظر کو دنیا کے بہترین قدرتی مناظر قرار دیا ۔ مہم جو سیاحوں کا اصرار ہے کہ دنیا کے سیاح اسلام آباد سے چین کی سرحد خنجراب کا سبشفر بذریعہ شاہراہ قراقرم ضرور کریں یہ دنیا کا زبردست اور یاد گار سفر ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ