تعلیمی اداروں کا بگڑتا ماحول

لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ذریعے پھیلائے جانے والے کلچر کا شاخانہ تھا اور جس کا اپنے حالیہ انٹرویوز میں وزیراعظم عمران خان نے بار بار ذکر کیا۔ واقعہ جس کی وڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں کچھ یوں ہے کہ مغربی لباس میں زیب تن ایک طالبہ ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھامے گھٹنوں کے بل ایک لڑکے کے سامنے بیٹھ کر اُسے وہ گلدستہ پیش کرتی ہے جس کا مقصد اُس بچی کی طرف سے لڑکے کو Propose کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لڑکا لڑکی کو کھڑا کرتا ہے اور دونوں گلے لگ جاتے ہیں اور یہ سین یونیورسٹی میں موجود درجنوں دوسرے طلباء و طالبات کے درمیان فلموں کی طرز میں موبائل کیمروں میں فلمایا بھی گیا۔ اچھا ہوا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے دونوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔ یہ واقعہ ہماری حکومت، ہمارے معاشرے، ماں باپ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی بند آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

یہ خطرے کی وہ گھنٹی ہے جسے اگر مزید نظر انداز کیا گیا تو ہماری رہی سہی معاشرتی اور مذہبی اقدار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور ہمیں اُس گندگی کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس کا شکار آج کل مغربی معاشرہ بن چکا اور جس کی نقالی میں بھارت بھی آگے نکل چکا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں بچے بچیاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں لیکن جس تیزی سے بالخصوص پرائیویٹ اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ماحول مغربی کلچر سے مرعوب ہو کر آزاد خیالی کی طرف جا رہا ہے وہ اِن اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے علاوہ پورے معاشرے کے لئے بہت خطرناک ہے جس کے تدارک کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ اِس بگڑتے ماحول کو دیکھ کر تو بڑی تعداد میں والدین اِس فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے بچے بچیوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں بھیجیں بھی کہ نہیں؟ تعلیمی ادارے بچوں کی تربیت کی بجائے اگر شرم و حیا کو تار تار کرنے اور مغربی کلچر کو پھیلانے کا سبب بن جائیں تو پھر ایسی تعلیم معاشرے کی تباہی کی وجہ بن جاتی ہے۔

ایک اسلامی ملک میں اصولاً تو لڑکے لڑکیوں کے لئے تعلیمی ادارے علیحدہ علیحدہ ہونے چاہئیں لیکن اگر کسی مجبوری کی بنیاد پر ہر جگہ ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو یہ حکومت اور تعلیم اداروں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ ایسے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں جہاں بچے اپنی تعلیم پر توجہ دیں نہ کہ تعلیمی اداروں کو ہالی وڈ اور بالی وڈ کے کلچر کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو فیشن کا گھر نہ بنایا جائے۔ بچوں بچیوں دونوں کے لئے اپنے معاشرتی و دینی اقدار کے مطابق مہذب لباس پہننے کو لازمی قرار دیا جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی اداروں میں کسی قسم کی نازیبا حرکت کو برداشت کرنے کے متعلق زیرو ٹالرنس ہو۔ حال ہی میں گورنر خیبر پختون خوا کی طرف سے صوبہ کی کچھ اہم جامعات میں لڑکے لڑکیوں کے لئے مخصوص یونیفارم کا لازمی کیا جانا ایک احسن اقدام ہے۔ تمام وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ پبلک اور پرائیویٹ دونوں قسم کی جامعات کے ماحول کو اپنے دینی اور معاشرتی اقدار کے مطابق سختی سے ڈسپلن کرنے کے لئے ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ جو تماشا ہم نے لاہور کی یونیورسٹی میں دیکھا وہ کہیں معمول نہ بن جائے۔

مغربی کلچر پھیلانے والوں کی سختی سے حوصلی شکنی کرنی چاہئے اور اس میں ریاست کا کردار بہت اہم ہے لیکن افسوس کہ وزیراعظم عمران خان کا بار بار اسلام اور ریاستِ مدینہ کی بات کرنے کے باوجود اُن کی ان باتوں اور وعدوں کا عملی طور پر کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آئینِ پاکستان کے مطابق وہ معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اس آئین کے ہم سب پابند ہیں۔ میڈیا ہو، سیاسی جماعتیں ہوں، حکومت ہو، پارلیمنٹ ہو، عدلیہ ہو یا کوئی اور ریاستی ادارہ ہو، سب کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائے نہ کہ اس کے خلاف کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلیٰ ملازمتوں میں میرٹ کا قتل جاری

پہلے تو ایک اچھی خبر ملی، بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب لوح و قلم سے، تعلق جماعت اسلامی سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کے پی میں اب نوکریاں میرٹ پر بغیر کسی سفارش کے مل رہی ہیں۔ وہ اپنا عملی تجربہ بتارہے ہیں کہ ان کی صاحبزادی نے اسکول ٹیچر کے لئے درخواست دی۔ تمام ضروری کاغذات منسلک کر کے ڈاک سے متعلقہ پتے پر بھیج دیے۔ کچھ دنوں بعد ان کی تقرری کا خط آگیا۔ کسی سے کہنا پڑا نہ کسی نے کوئی رشوت مانگی۔ اب وہ پاکستانی بیٹی اسکول جارہی ہے، پڑھا رہی ہے۔ بہت خوشی ہوئی کہ تبدیلی آگئی ہے۔ سندھ میں تو روز یہی خبریں سنتے ہیں کہ نوکریاں اتنے ہزار میں بک رہی ہیں۔ کوئی سننے والا نہیں لیکن کچھ دنوں بعد ہمارے بہت ہی قریبی عزیز نوجوان واہ سے آئے جو کے پی کی سرحد پر واقع ہے۔ دونوں بھائیوں نے انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ بہت سے متعلقہ تربیتی کورسز بھی کیے ہیں۔ دونوں کو کمپیوٹر پر نئی نئی باتیں اور نئے طریقے سیکھنے کا شوق بھی ہے۔ وہ کئی سال سے نوکری کی تلاش میں اخبارات دیکھ رہے ہیں۔

آن لائن نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اپنے ڈاکومنٹ بھیج رہے ہیں۔ ایک طرف میں ان کی پیشانی پر تابندہ عزائم بھی دیکھ رہا ہوں۔ دوسری طرف ان کی آنکھوں سے جھلکتی مایوسی سے پریشان بھی ہو رہا ہوں۔ ہوتا کیا ہے کہ وہ تحریری امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر لیتے ہیں۔ شارٹ لسٹ میں بھی آجاتے ہیں۔ زبانی انٹرویو بھی بہت تسلی بخش ہوتا ہے۔ اس میں بھی وہ سر فہرست ہوتے ہیں لیکن تقرری کا پروانہ انہیں نہیں ملتا ۔ کوئی جواب دینے کو بھی تیار نہیں ہوتا کہ انہیں نوکری کیوں نہیں دی گئی۔ انہیں یاد آتا ہے کہ امیدواروں میں دو نوجوان ایسے تھے جو دیگر نوجوانوں سے مل بھی نہیں رہے تھے۔ الگ تھلگ بیٹھے تھے۔ بہت پُرامید۔ پُر اعتماد۔ معلوم ہوا کہ نوکری کی شہزادی ان کے حصّے میں ہی آئی۔ تحریری امتحان میں بھی وہ بہت پیچھے تھے۔ زبانی انٹرویو میں بھی۔

میرے از حد قریبی عزیز نوجوانوں کو یہ تلخ اور مایوس کن تجربات گزشتہ پانچ سال سے ہو رہے ہیں۔ اب ان دونوں کو ایک سرکاری محکمے نے کراچی میں تحریری امتحان اور زبانی انٹرویو کے لئے بلایا ہے۔ اس میں بھی وہ کامیاب رہے ہیں لیکن وہ اب بھی آس اور یاس کی شاخ پر لٹکے ہوئے ہیں۔ اپنے شہر سے دوسرے شہر اپنے خرچ پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اپنے طور پر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ یہ ساری کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ۔ مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ عمران حکومت بھی نوجوانوں کے لئے میرٹ پر روزگار کی فراہمی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکی ۔ ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی داستان بیان کی ہے۔ انہیں بھی ایسی ہی مایوسیوں اور پسپائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر ناکامی پر بھرپور تحقیق کی، متعلقہ محکمے میں سوال جواب کیے۔ گوگل سے مدد لی تو وہ بار بار اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے تحریری ٹیسٹ اور زبانی انٹرویو میں سر فہرست آنے کے باوجود جن نوجوانوں کو نوکریاں ملتی رہی ہیں، وہ تعلیمی اعتبار سے اُن کے برابر نہیں تھے لیکن ان کا کھونٹا بہت مضبوط تھا۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ یہ تقرریاں عام کی جائیں۔ 

امیدواروں کے نام اہلیت، بھی ویب سائٹ پر دی جائے اور تقرری پانے والے خوش نصیبوں کے نام اور کوائف بھی دیے جائیں۔ اس وقت بعض اداروں کے مطابق 66 لاکھ سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ہر برس یونیورسٹیوں سے ہزاروں گریجویٹ فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہیں۔ نہ جانے کس طرح بھاری فیسوں کا انتظام کر کے وہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ دن رات پڑھتے ہیں۔ ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ ڈگری اعلیٰ گریڈ کے ساتھ ملتے ہی اچھے گریڈ کی نوکری مل جائے گی۔ ڈگری کے حامل نوجوانوں میں بیروزگاری مجموعی بیروزگاروں میں 3 گنا ہے تعلیم یافتہ خواتین میں بےروزگاری مردوں سے زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا میں آہ و فغاں کے جو مقامات ہیں وہاں یہ بےروزگار اپنی اہلیت اور کوائف آویزاں کرتے ہیں۔ 2008 میں بیروزگاری کی شرح 0.42 فیصد تھی۔ 2013 میں 2.95 فیصد۔ 2018 میں 4.08 تک جا پہنچی۔ 2020 میں 4.45 فیصد ہو گئی۔ 

پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سر فہرست ہے جہاں 65 فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی ہے جو کسی بھی مملکت کے لئے قابلِ فخر ہونی چاہئے لیکن اپنے اس اثاثے کو ہم نے اپنے لئے خطرناک بوجھ بنا لیا ہے۔ کیا ہماری یونیورسٹیاں وہ تعلیم اور تربیت نہیں دے رہی ہیں جس کی مارکیٹ میں ضرورت ہے۔ یا اس کی وجوہ کوئی اور ہیں؟ زیادہ بےروزگاری 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ہے۔ اِس عمر کے نوجوان تو پاکستان کی زبردست معاشی اور سماجی طاقت بن سکتے ہیں۔ بےروزگاری کے خاتمے کے لئے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو کسی نہ کسی ہُنر کی تربیت دی جائے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت پر زور دیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن کے پاس ڈگری ہے، میرٹ بھی، ذہانت بھی، ہُنر بھی، ان کی خوش نصیبی میں حائل اسباب کی نشاندہی کی جائے۔ دوسرے مافیائوں کی طرح ایک ایمپلائمنٹ مافیا بھی سرگرم ہے۔ نوکریوں کی خرید و فروخت ہی ان کا ذریعۂ معاش ہے۔

وہ میرٹ والوں کو آگے نہیں آنے دیتے۔ انٹرویوز میں سب نوجوانوں کو مساوی مواقع نہیں ملتے۔ یہ مافیا پرائیویٹ مارکیٹ میں بھی پیش پیش ہے اور وفاقی صوبائی سیکرٹریٹوں کے باہر بھی منڈلاتی رہتی ہے۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا مملکت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے پلیسمنٹ سینٹر بنائے جائیں۔ سرکاری محکمے اور پرائیویٹ ادارے اہل نوجوانوں کو دورانِ تعلیم ہی اپنے لئے چُن لیں۔ بھرتی اور تقرری کا شفاف سسٹم قائم کیا جائے۔ نوکری نہ ملنے پر شکایات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ محتسبِ اعلیٰ کے دفتر سے بھی جواب نہیں ملتا۔
میرے نوجوان مایوس ہیں۔ یعنی ہمارا مستقبل مایوس ہے۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

جامعات کی عالمی درجہ بندی

یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی کوئی ملکی جامعہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی میں جگہ بنانے میں ناکام رہی۔ معروف برطانوی ادارے کیو ایس کی جانب سے جاری کی کی گئی جامعات کی نئی درجہ بندی برائے 2021 میں دنیا کی بہترین 350 جامعات میں ایک یونیورسٹی بھی پاکستانی نہیں جبکہ بھارت کی 3 ملائیشیا کی 5 چین کی 6 اور سعودی عرب کی 2 یونیورسٹیز دنیا کی 200 بہترین جامعات میں شامل ہیں۔ پاکستان کی صرف 3 جامعات دنیا کی بہترین 500 جامعات میں شامل ہو سکیں ، جن میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز اسلام آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی شامل ہیں، جن کا نمبر بالترتیب 355 اور 373 اور 454 واں ہے۔

عالمی درجہ بندی میں امریکہ کی میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) پہلے نمبر پر ہے۔ مسلسل نو سال سے یہ پہلے نمبر پر آرہی ہے۔ اسٹین فورڈ دوسرے، ہارورڈ تیسرے ، کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چوتھے اور آکسفورڈ یونیورسٹی پانچویں نمبر پر ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ قوموں کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کے کلیے کو نہ سمجھتے ہوئےکسی بھی ادوار حکومت میں تعلیمی شعبے کو وہ قدر واہمیت نہ دی گئی جس کا یہ شعبہ متقاضی رہا ہے۔ حالانکہ تعلیم ایسا شعبہ ہے جسے کلی طور پر نجی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا بلکہ سرکاری سرپرستی ضروری ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں نئی تحقیق و ایجادات کیلئے سرکاری گرانٹس مختص کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں اول تو تعلیمی شعبے کیلئے بجٹ میں کوئی قابل ذکر حصہ نہیں بلکہ جو تھوڑی بہت گرانٹس دی جاتی تھیں اب ان میں بھی کٹوتی کر دی جاتی ہے ایسے میں ہمارے تعلیمی ادارے کیونکرعالمی سطح پر نمایا ں مقام حاصل کر سکیں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہر دس میں سے نو پاکستانی طلبہ کا اعلیٰ تعلیم کی خواہش کا اظہار

ہر 10 میں سے 9 پاکستانی طلبا نے گیلپ پاکستان کے سروے میں اعلی تعلیم کے حصول کی خواہش کا اظہار کر دیا مگر 83 فیصد نے یونیورسٹی تک رسائی کو استطاعت سے باہر قرار دیا۔ سروے میں 22 فیصد طلبا نے جامعات کی فیس کی ادائیگی کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور 19 فیصد نے صوبائی حکومتوں کو دینے کا کہا۔ گیلپ پاکستان نے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد انٹر کے طلباء کی رائے پر مبنی اپنی نوعیت کا پہلا سروے جاری کر دیا۔ پاکستانی طلباء اعلیٰ ڈگری کے حصول کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر یونیورسٹی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف گیلپ پاکستان کے سروے میں ہوا۔ گریجویشن کے بعد اعلیٰ ڈگری کے حصول کے سوال پر ہر 10 میں سے 9 طالب علم یعنی 90 فیصد نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اعلیٰ ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ 10 فیصد نے اس کے برعکس رائے دی اور اعلیٰ ڈگری کے لیے رجسٹریشن نہ کروانے کا کہا۔

اعلی ڈگری کے حصول کی خواہش کا اظہار شہری 91 فیصد اور دیہی 89 فیصد دونوں طلباء کی اکثریت نے کیا ، جبکہ صوبوں میں سب سے زیادہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سے 94 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا سے 92 فیصد نے اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کی امید ظاہر کی۔ سروے میں یہ دیکھا گیا کہ ہر 5 میں سے 2 طلباء یعنی 42 فیصد ماسٹرز تک ڈگری حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ ہر 3 میں سے 1 یعنی 32 فیصد پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ 16 فیصد نے بیچلرز، 2 فیصد نے میڈیکل اور 2 فیصد نے ہی قانون کی ڈگری لینے کی توقع ظاہر کی، جبکہ 1 فیصد نے بیچلرز کی دو ڈگری لینے اور 4 فیصد نے دیگر ڈگریز لینے کا بتایا۔ جس کے بعد گیلپ پاکستان نے جامعات کے عام آدمی کے پہنچ میں ہونے کا طلباء سے سوال کیا، جواب میں 83 فیصد نے مہنگی فیسوں کے باعث جامعات کو عام آدمی کی استطاعت سے باہر کہا جبکہ 17 فیصد نے پہنچ میں ہونے کا بتایا۔

گیلپ پاکستان کے مطابق مہنگائی کے باعث جامعات تک رسائی نہ ہونے کا کہنے والے طلباء کی شرح ویسے تو تمام صوبو ں میں زیادہ تھی مگر گلگت بلتستان، آزاد جموں کشمیر میں 87 فیصد اور پنجاب میں 84 فیصد زیادہ نظر آئی۔ اس سوال پر کہ جامعات کی فیس کس کو ادا کرنی چاہیے؟ تو سروے میں شامل 22 فیصد طالب علموں نے وفاقی حکومت، تو 19 فیصد صوبائی حکومتوں کی طرف دیکھا۔ جبکہ ہر 5 میں سے 1 طالب علم یعنی 19 فیصد نے طالب علموں اور ان کی فیملیز کو جامعات کی فیس دینے کا کہا۔ سروے میں 39 فیصد نے فیسوں کی ادائیگی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت یا مختلف اداروں پر مبنی کوئی مجموعہ بنانے کی خواہش ظاہر کی جبکہ صرف 1 فیصد نے نجی اداروں کو جامعات کی فیس دینے کہا۔ جامعات کی قدر و قیمت کے سوال پر 51 فیصد نے اسے بہترین قرار دیا، 38 فیصد نے اسے اچھا جبکہ 10 فیصد نے مناسب کہا۔ 1 فیصد نے اسے خراب کہا۔ دنیا کے مقابلے میں پاکستانی تعلیمی نظام کے معیار کے سوال پر 35 فیصد نے اسے اوسط درجے کا قرار دیا۔ جبکہ 29 فیصد نے عالمی اوسط سے اوپر تو 15 فیصد نے عالمی اوسط سے کم قرار دیا۔ 15 فیصد طالب علموں نے اسے دنیا کے بہترین نظام میں سے ایک تو 5 فیصد نے ملکی تعلیمی نظام کو بہتر کہا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

کورونا وائرس : پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد تک بڑھ جانے کا امکان

عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے نتیجے میں پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد بڑھ جائے گی۔ تعلیمی بدحالی کے معنی ہیں کہ 10 سال کی عمر تک سادہ سی تحریر کو پڑھ اور سمجھ نہیں پانا، کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں 53 فیصد بچے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم ختم ہونے تک سادہ سی کہانی پڑھ اور سمجھ نہیں پاتے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس شرح میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ بھی جو اسکول کی تعلیم حاصل کرنے باوجود 10 کی عمر تک پڑھنا نہیں سیکھ پاتے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بدحالی کی شرح پہلے ہی خاصی بلند یعنی 75 فیصد ہے۔

’کووِڈ 19 کے باعث اسکولوں کی بندش سے پاکستان میں تعلیمی نقصان‘ کے عنوان سے عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تخمینے پر پتھر پر لکیر نہیں اور حکومت کے تعاون کے ساتھ ڈیولپمنٹ پارٹنرز مناسب اقدامات اٹھا کر ان اعداد و شمار پر اثر ڈال سکتے ہیں بالخصوص اب جبکہ اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ ان اقدامات میں یہ یقینی بنانا کہ اسکول نہ چھوڑنے دیا جائے، اسکولوں میں داخلے کی ایک منظم مہم چلائی جائے اور داخلوں اور دوبارہ داخلوں پر رقم دی جائے، مسئلے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے طلبہ کے ٹیسٹس کا استعمال کیا جائے اور اساتذہ کو طلبہ کی سطح پر تعلیم بہتر بنانے اور اس کی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کی جائے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے، ڈیوائس کی ملکیت اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب پروگرام دستیاب ہو تو بچوں کے اہل خانہ اس بات سے واقف ہوں۔

اس کے علاوہ مواد کو مزید ترقی دے کر فاصلاتی تعلیم کا معیاد بہتر بنایا جائے۔  رپورٹ میں کہا گیا کہ کووِڈ 19 کے آغاز سے پاکستان نے فاصلاتی تعلیم میں معاونت کے لیے ایک بہترین انفرا اسٹرکچر قائم کیا تاہم عالمگیر اپیل کے باوجود فاصلاتی تعلیم ہر ایک کے لیے قابل رسائی نہیں ہے۔ پاکستان میں اکثر گھروں میں ٹیلی ویژن دستیاب ہے لیکن عالمی سطح پر قابل رسائی سے کوسوں دور ہے حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے سادہ سے آلات مثلاً ریڈیو بھی باقاعدگی سے استعمال نہیں ہوتے۔  رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق مزید 9 لاکھ 30 ہزار بچوں کئ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے نکلنے کا اندیشہ ہے جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں اور اس کے بعد اس میں 4.2 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی سطح پر پاکستان وہ ملک ہے جہاں کووِڈ 19 سے پیدا ہونے والے بحران کے سبب اسکولوں کو چھوڑنے سے شرح سب سے زیادہ ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز

وطن واپس نہ آنے والے پی ایچ ڈی

پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بیرون ملک پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے گئے 132 میں سے 80 اسکالر پاکستان واپس ہی نہیں آئے جبکہ 52 فیل ہو کر وطن لوٹے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان اسکالرز پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 955 ملین روپے کا خرچہ کیا۔ اس حوالے سے ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں، صرف ایک سکالر نے رقم واپس کی، ایچ ای سی حکام کے مطابق سکالر شپ فیز ٹو میں بھی 68 سکالر واپس نہیں آئے، اس روش کے سدباب کیلئے ایچ ای سی زمین یا گھر بطور ضمانت اپنے پاس رکھے گا۔ پی ایچ ڈی یا ڈاکٹریٹ ایک ایسی تعلیمی سند ہے جو کسی یونیورسٹی کی جانب سے کسی خاص شعبہ علم میں اعلیٰ مدارج تک فضیلت حاصل کرنے کے بعد عطا کی جاتی ہے، اس درجہ تعلیم کو عام طور پر’’علامہ فلسفہ‘‘ (پی ایچ ڈی) کے متبادل بھی استعمال کیا جاتا ہے

وطن عزیز کی جامعات کی حالت اور تعلیمی معیار کسی سے پوشیدہ نہیں اسی لئے اپنے سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے انتہائی مایوس کن نتائج سامنے ہیں اور یہ سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا اسکالر شپ دیتے وقت واقعی شفافیت کو ملحوظ رکھا گیا؟ کیا ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دنیا کے ہمقدم ہونے کے لائق نہیں؟ کیا پی ایچ ڈی کیلئے جانے والوں کا مطمح نظر تعلیم نہیں بیرون ملک اقامت تھا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور اسکالرز کو ملک میں امید کی کوئی کرن اب دکھائی نہیں دیتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے جانے والے اسکالرز کے وطن واپس نہ آنے یا فیل ہو کر واپس آنے سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر جائے گا۔ اس سارے معاملے کی جامع، شفاف اور بلاامتیاز انکوائری ہونی چاہئے کیونکہ یہ صرف انہی اسکالرز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بات نہیں آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

راولپنڈی کا اصغر مال کالج

یہ چار دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد میری عملی زندگی کا آغاز ہو رہا تھا۔ ابھی ڈگریوں کی بہتات اور ارزانی نہیں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں ایم اے انگلش کے بعد طالبِ علموں کا پہلا انتخاب سی ایس ایس ہوتا۔ میری گورڈن کالج میں پہلی پوزیشن تھی لیکن میں نے اپنی مرضی سے تدریس کے شعبے کا انتخاب کیا اور طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مجھے اپنے انتخاب پر خوشی ہے۔ ایم اے کا نتیجہ آنے کے کچھ دن بعد ہی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے لیکچررشِپ کا اشتہار آیا۔ میں بھی انٹرویو میں شریک ہوا۔ دو ہفتے بعد اطلاع ملی کہ میری سلیکشن ہو گئی ہے‘ اور میری تقرری گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین میں کی گئی ہے۔ منڈی بہاؤالدین میں میرا قیام چند ماہ رہا کیونکہ اسی دوران پبلک سروس پبلک سروس کمیشن کے تحت میری سلیکشن ہو گئی اور مجھے راولپنڈی کے ایک انٹر کالج میں تعینات کر دیا گیا۔ یہاں صرف دو کلاسوں کو پڑھانا ہوتا۔

بظاہر زندگی بہت آسان تھی۔ میری اپوائنٹمنٹ میرے شہر میں تھی اور ورک لوڈ بہت کم تھا۔ اصولی طور پر مجھے مطمئن ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن میں چند ماہ میں ہی یکسانیت سے اکتا گیا۔ مجھے اس کام میں کوئی چیلنج نظر نہیں آرہا تھا۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ بشیر قریشی مرحوم‘ جو گورنمنٹ کالج اصغر مال میں انگریزی کے شعبے سے وابستہ تھے‘ کا پیغام ملا کہ شعبے میں ایک ویکنسی ہے‘ اگر چاہو تو شعبے کے سربراہ سے ملاقات کر لو۔ قریشی صاحب کا پیغام سُن کر مجھے یوں لگا‘ جیسے میں اسی کا منتظر تھا۔ اس زمانے میں اصغر مال کالج میں شعبہ انگریزی کے سربراہ محترم سعیدالحسن صاحب تھے۔ وہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔ باغ وبہار شخصیت تھے۔ اونچا لمبا قد، سر کے بال سفید‘ ہونٹوں پر پان کی سُرخی اور دبی دبی مسکراہٹ۔ میں ملاقات کا وقت لے کر ان کے آفس پہنچ گیا۔ سعیدالحسن صاحب نے چائے منگوائی اور عام گفتگو کرنے لگے۔

میرا خیال تھا یہ ایک روایتی انٹرویو ہو گا۔ جب چائے پی چکے اور تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو سعید صاحب رُکے اور کہنے لگے: آپ سے مل کر مجھے خوشی ہوئی لیکن ایک مسئلہ ہے۔ مجھے لگا میرے اندر کوئی دیوار گِر گئی ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا: سرکیا مسئلہ ہے؟ اس پر سعید صاحب کہنے لگے: پہلے بھی دو امیدوار آئے تھے‘ لیکن جب انہیں بتایا کہ ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھانا ہو گا تو وہ واپس نہیں آئے۔ میں ان کا جواب سُن کر ہنس پڑا اور کہا: ایم اے انگلش پڑھانے کی ذمہ داری میری خوش بختی ہو گی۔ سعید صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر آئی اور وہ کہنے لگے: ہماری طرف سے ایک سرکاری خط ڈائریکٹوریٹ چلا جائے گا‘ جس میں آپ کی سروسز گورنمنٹ کالج اصغر مال کو دینے کی درخواست ہو گی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا۔ اور پھر وہ دن آگیا جب میں گورنمنٹ کالج اصغر مال کے شعبہ انگریزی سے منسلک ہو گیا۔

قیامِ پاکستان سے بہت پہلے 1904ء میں یہاں ایک سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نام سناتن دھرم سکول تھا۔ کہتے ہیں‘ یہ اس زمانے میں ایک وسیع وعریض جگہ تھی۔ ایک طرف ہری مندر تھا‘ لہلہاتے کھیت تھے اور ساتھ ہی سکول۔ اس زمانے میں ڈی اے وی کے نام سے کئی تعلیمی ادارے اور سڑکیں تھیں۔ آج بھی کچھ سڑکیں اسی نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ یوں تعلیمی اداروں کی اکثریت ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے قبضے میں تھی اور مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تعداد میں بہت کم تھے۔ وہ کالج میں میرا پہلا دن تھا۔ سائیکل سٹینڈ پر میں نے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی۔ سٹینڈ کے انچارج کا نام ممتاز خان تھا۔ فربہ اندام، سانولا چہرہ ،چمکتی آنکھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اس کی یادداشت بلا کی تھی۔ پہلے دن مجھے ٹائم ٹیبل ملا۔ چونکہ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی فیکلٹی میں سب سے جونیئر تھا‘ لہٰذا مجھے سب سے زیادہ ورک لوڈ دیا گیا۔

ٹائم ٹیبل کے مطابق مجھے ہر روز پانچ کلاسز کو پڑھانا ہوتا۔ ایم اے فائنل، ایم اے پریویس، بی ایس سی، ایف ایس سی اور بی اے۔ کلاسوں کی تعداد کے ساتھ دوسرا چیلنج فکری چھلانگ کا تھا۔ ابھی ایم اے کی کلاس، پھر ایف اے، اس کے بعد بی اے۔ ہر درجے کے طالبِ علموں کی ذہنی سطح مختلف تھی اور مجھے اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہوتا تھا۔ یہ آسان نہ تھا۔ ایک اور چیلنج یہ تھا کہ یہ کلاسیں کسی ایک بلاک میں نہیں تھیں۔ ایم اے کی کلاسز کیلئے فیصل بلاک، بی اے اور ایف اے کیلئے مین بلاک اور بی ایس سی کیلئے مجھے سائنس بلاک جانا پڑتا‘ اور تینوں بلاکس کے درمیان خاصا فاصلہ تھا۔ اس زمانے میں انگلش ڈیپارٹمنٹ میں سعیدالحسن صاحب کے علاوہ پروفیسر نذیر، ظفر زیدی، رؤف جمال، شوکت علی، اظہر جاوید، بلال سبحانی، بشیر قریشی اور اشرف صاحب پڑھاتے تھے۔ آہستہ آہستہ کالج کے دوسرے فیکلٹی ممبرز سے شناسائی ہونے لگی۔ پروفیسر وثیق بھی باغ وبہار شخصیت تھے۔

کالج کی ایک مقبول شخصیت پروفیسر اشتیاق شاہ تھے۔ وہ کالج کی کرکٹ ٹیم کے انچارج تھے۔ اُن کے عہد میں کالج کی کرکٹ ٹیم شہرت کی بلندیوں کو پہنچی اور ہمارے کچھ طالبِ علم قومی کرکٹ ٹیم میں بھی کھیلے‘ مسعود انور نے پاکستان کی طرف سے بطور اوپنر کئی میچز کھیلے اور شعیب اختر جنہیں راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کلاسوں کے درمیان کچھ وقت ملتا تو میں لائبریری چلا جاتا اور لائبریرین صدیقی صاحب کے کمرے میں بیٹھتا۔ وہیں میری ملاقات اردو ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اور معروف شاعر یوسف حسن سے ہوئی جو بعد میں مستقل دوستی میں بدل گئی۔ لائبریری کے علاوہ ہمارا ٹھکانا چائے کا ایک ڈھابہ تھا‘ جو کالج کے مین گیٹ کے بالکل سامنے سڑک کے اس طرف تھا۔ وہاں سے کالج کی مین بلاک کی عمارت صاف نظر آتی۔ یہ فنِ تعمیر کا دلکش نمونہ تھی۔ اس کے مینار، وسیع راہداریاں، اس پر نقش نگاری، بارش میں ہم اسے دیکھتے تو نجانے کیوں مجھے کہانیوں کا وہ قلعہ نما محل یاد آجاتا جس پر جادو کر دیا گیا ہے اور جہاں ایک شہزادی اپنے راجکمار کے انتظار میں بیٹھی ہے۔

یہ کالج کا سب سے پُرانا بلاک تھا جس میں ہال، پرنسپل آفس اور سٹاف روم ہوا کرتا تھا۔ اصغر مال کالج کی پُرشکوہ عمارت اپنی جگہ اس کی پہچان کا ایک اور واسطہ یہاں مختلف ادوار میں پڑھنے اور پڑھانے والی شخصیات ہیں جنہوں نے شعروادب کے میدان میں نام پیدا کیا۔ ان میں جیلانی کامران، اشفاق علی خان، ظہیر فتح پوری، آفتاب اقبال شمیم، کنیز فاطمہ، جمیل آذر، ماجد صدیقی، سرور کامران، سعادت سعید، فتح محمد ملک، اظہارالحق، احمد جاوید، نوازش علی، روش ندیم اور سعید احمد کے نام مجھے یاد آ رہے ہیں۔ اس وقت کے نمایاں طالبِ علموں میں بابر اعوان اور صدیق الفاروق شامل تھے۔ اب مجھے اصغر مال چھوڑے ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے۔ پچھلے دنوں کالج کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر ندیم اکرام کا فون آیا۔ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا بتا رہے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ اصغر مال کالج میں ایم اے انگلش کی کلاس میں میرا پہلا دن تھا۔

سامنے بیٹھے طالبِ علموں میں ندیم اکرام بھی تھا‘ جس کی آنکھیں روشن اور متجسس تھیں اور جو آج مجھے اپنی ریٹائرمنٹ کی خبر دے رہا تھا۔ وقت جیسے پر لگا کر اُڑ گیا ہو۔ سُنا ہے اس عرصے میں اصغر مال کالج میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ بہت سے نئے اُستاد آگئے ہیں۔ بہت سے پُرانے لوگ چلے گئے۔ کبھی کبھی جی میں آتا ہے اپنے پُرانے کالج جاؤں۔ ان عمارتوں کو دیکھوں، ان میدانوں سے گزروں اور پھر فیصل بلاک کی ان سیڑھیوں پر جا بیٹھوں جہاں سے ساری دنیا خوب صورت نظر آتی تھی۔ لیکن پھر یہ سوچ کر ارادہ بدل دیتا ہوں کہ اتنی مدت بعد مجھے وہاں کون پہچانے گا۔ مجھے فیصل بلاک کی سیڑھیوں پر کون بیٹھنے دے گا۔

شاہد صدیقی

بشکریہ دنیا نیوز

تعلیم ایک صنعت

دنیا کے وہ ملک بھی جو تعلیم کو اعلیٰ درجہ تک سرکاری ذمے داری سمجھتے ہیں اور مفت تعلیم دیتے ہیں ان کے ہاں بھی پرائیویٹ اسکول موجود ہیں لیکن ان کے مقابلے میں سرکاری اسکولوں کا معیار بھی اتنا کم نہیں کہ پرائیویٹ تعلیم دینے والے تعلیمی ادارے ان سے بہت آگے ہوں مگر اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں تو تعلیم ایک صنعت بن گئی ہے۔ ایک ایسی صنعت جس میں نقصان کا کوئی امکان نہیں اور آمدنی بھی کسی کارخانے سے زیادہ ہے، اس لیے مقصد تعلیم دینا نہیں مال کمانا رہ گیا ہے اور اس کا علم ہم سب کو ہے۔ ہر گھر کی ایک ہی کہانی ہے کیونکہ ہمارے سرکاری اسکولوں کا معیار پرائیویٹ اسکولوں سے بہت کم ہے، اس لیے ہم سب کے بچے ان پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور ان کی فیسیں ہم بھرتے ہیں جن کا ریکارڈ سرکار کے پاس موجود ہے لیکن یہ پرائیویٹ اسکول سرکار کی بات نہیں مانتے اور والدین کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کی فیسیں وصول کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

پنجاب کی حد تک تعلیم کی بات کی جائے تو سرکار کی سرپرستی میں چلنے والے اسکولوں میں تعلیم کے حالات کچھ اچھے نہیں رہے حالانکہ یہ وہی درسگاہیں ہیں جنھوں نے ہر شعبے میں اپنے وقت کے عالم فاضل باکمال لوگ کی ذہنی آبیاری کی۔ انگریز کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی داغ بیل ڈالی گئی اور آج بھی ان میں سے بیشتر اسکول اور کالج طالبعلموں کو بہترین تعلیم دے رہے ہیں اور ان میں داخلہ کے لیے طالب علموں کو اپنی تعلیمی قابلیت کی انتہاء چاہیے ہوتی ہے ۔ بڑھتی آبادی اور تعلیمی میدان میں جدت کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اسکولوں کی تعداد میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی حکومت نے تعلیم کے اس سستے ذریعے کی جانب توجہ دی جس میں پاکستان کے اس طبقہ کے نونہال تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کی پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں بھرنے کی استعداد نہیں ہے۔ وہ تو بھلا ہو پرویز الٰہی کا جنھوں نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں میٹرک تک تعلیم مفت کر دی بلکہ درسی کتب کی مفت فراہمی کا بھی بندوبست کیا۔

ان کے بعد شہباز شریف نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دانش اسکولوں کی داغ بیل ڈالی جن کا بڑاچرچا رہا لیکن شہباز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی کوئی سن گن نہیں مل سکی۔ شہباز شریف نے اعلیٰ تعلیمی معیار کے حامل طالب علموں میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے کسی حد تک تعلیمی میدان میں طالب علموں کی اشک شوئی کرنے کی کوشش کی ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے صوبے میں اسپتالوں کے ساتھ مختلف تعلیمی ادارے قائم کرنے کا خوش آیند اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے ایجنڈے میں صحت اور تعلیم کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی لیکن دو سال کا عرصہ کرنے کے باوجود ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی قابل ذکر عملی اقدامات ان دونوں شعبوں میں نظر نہیں آئے۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے موجودہ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے اگر اقدامات کر لیے جائیں تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے جو دھاندلی مچا رکھی ہے اور والدین کے تعلیمی شوق کو وہ اپنی نفع خوری کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں، ان کی شاید کچھ بچت ہو جائے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس کے بھاری رقوم مختص کی گئی ہیں، اب سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام پر منحصر ہے کہ وہ بھاری تنخواہیں وصول کرنے کے ساتھ تعلیم معیار کو کیسے بلند کرتے ہیں ۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے والدین پر بہت بوجھ ڈال رکھا ہے، ان کی فیسیں بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے ساتھ تعلیم کا معیار بھی سب اسکولوں میں ان بھاری فیسوں والا نہیں ہے اور حکومت کی جرات نہیں کہ ان حد سے بڑھی ہوئی فیسوں میں کمی کا اشارہ بھی کر سکے۔ صورتحال یوں ہے کہ لاہور میں بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے بچوں کی ابتدائی جماعتوں کی فیس بھی ہزاروں میں وصول کر رہے ہیں۔ میں ان بڑے تعلیمی اداروں کا ذکر نہیں کر رہا جن کی فیسیں کئی ہزار ماہانہ ہیں بلکہ کئی اسکول تو غیر ملکی کرنسی میں فیسیں وصول کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کا شوق اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ والدین ہر قیمت اور قربانی پر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اگر کوئی بچہ زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہے تو زندگی کی دوڑ میں کہیں نہیں ہے بس اسی نیک قومی خواہش کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

حکومت کا جس طرح بازار کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں اور دکاندار منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے ہیں اسی طرح منہ مانگی فیسیں بھی وصول کی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ تعلیم اس قدر نفع بخش کاروبار بن چکا ہے کہ اگر حکومت ان تعلیمی اداروں سے حساب کتاب لے اور ان کی ترقی کا جائزہ لے تو پتہ چلے گا کہ ایک سے دوسری عمارت بن رہی ہے اور لاکھوں نہیں کروڑوں کی آمدن ہے۔ ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس نے سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کی کمی پر ایک جامع و مانع تبصرہ کیا تھا کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کے بچے کسی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ اس تبصرے کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اگر ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار نہیں تو حکومت کی طرف سے ان کی تعداد میں اضافہ بے معنی ہے۔ تعلیم ہمارا قومی مسئلہ ہے اس کے بغیر ہم آگے ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکتے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا وائرس : پاکستان میں سکول کھلنے پر کیا احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی؟

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ 15 ستمبر سے پاکستان بھر میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔ تاہم فوری طور پر ہر جماعت کے طالب علموں کو 15 ستمبر سے سکول نہیں بلایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں نویں، دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کو 15 ستمبر سے سکول بلایا جائے گا۔ اس کے ایک ہفتے بعد 23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو سکول آنے کی اجازت ہو گی۔ جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام پرائمری سکول کے بچوں کو 30 ستمبر سے سکول جائیں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت کو مانیٹر کرنا ضروری ہے اس لیے سات دن کی صورت حال کا جائزہ لیں گے اور پھر اگلے مرحلے میں اگلی کلاس کے بچوں کو سکول بلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’تاہم ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ حالات اور بیماری کا پھیلاؤ کس طرف جا رہا ہے کیونکہ ہمارے ہائر ایجوکیشن کے طلبا کی تعداد 70 لاکھ ہے۔ تسلی ہونے کے بعد باقی تعلیمی نظام کو کھول سکیں گے۔‘ وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ان تمام فیصلوں کا اطلاق تمام صوبوں میں ہر قسم کے تدریسی عمل پر ہو گا جس میں سکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس بھی شامل ہوں گے انھوں نے مزید کہا کہ یہ بہت مشکل فیصلہ ہے اور ’ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور اس میں کامیابی صرف تب ہی ہو گی کہ جب ہم سب مل کر اپنا اپنا کردار ادا کریں گے‘۔ ایس او پیز کے حوالے سے وزیراعظم کے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے مشیر ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ

ایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد کو بٹھایا جائے گا، جیسا کہ اگر ایک کلاس میں 40 بچے پڑھتے ہیں تو ایک دن 20 بچے آئیں گے اور اگلے دن 20 بچوں کو سکول بلایا جائے گا۔

بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی دوری اپنائی جائے گی۔

انھوں نے بچوں اور والدین سے گزارش کی کہ ماسک لازمی پہن کر سکول آئیں چاہے کپڑے کا ماسک ہی کیوں نا ہو۔

انھوں نے سکول میں بچوں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی اور کہا کہ اس پابندی کو یقینی بنانے کے لیے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ان سب احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی حالات کو دیکھیں گے اور محکمہ صحت کے ساتھ مل کر ہر دو ہفتوں بعد ٹیسٹنگ اور سکرینگ ہو گی‘۔

والدین کے لیے ہدایات
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق

بچوں کو سکول ماسک لازمی پہنا کر بھیجیں۔

اگر کسی بچے کو کھانسی یا بیماری کی علامات ہوں تو اسے سکول مت بھیجیں۔ اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو فوری طور پر بچے کا کورونا ٹیسٹ کروائیں اور اگر ٹیسٹ مثبت آئے تو اسکول کو اطلاع دیں۔

یونیورسٹیوں کے حوالے سے فیصلہ
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی ترجمان عائشہ اکرام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹیوں کے سربراہوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ادارے کے حالات کے مطابق پالیسی ترتیب دے کر بروقت اور واضح انداز میں یونیورسٹی ممبران اور طلبا کو بتائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام یونیورسٹیوں کو وائرس کی روک تھام کے لیے ایس او پیز پر عمل درآعمد کرنا ہو گا۔ جبکہ اس بات کا فیصلہ بھی یونیورسٹی خود کرے گی کہ وہ کس سال کے طلبا کو یونیورسٹی بلانا چاہتے ہیں اور کن کو آن لائن تعلیم ہی دینا چاہیں گے۔

تاہم ایچ ای سی کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ
ایسے طلبا جن کا آخری سال ہے یا پھر جو ریسرچ کا کام کر رہے ہیں انھیں یونیورسٹی بلانے کو ترجیح دی جائے۔

وہ بچے جن کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے انھیں بھی یونیورسٹی آنے کی اجازت دی جائے۔

ہاسٹلز میں بھی ایسے بچوں کو رہنے کی اجازت ہو جنھیں مختلف وجوہات کی بنا پر ترجیحی بنیادوں پر یونیورسٹی آنے کی اجازت ہو گی۔

وزير تعليم سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر کے تمام سکولوں میں کسی بھی سکول میں ڈبل شفٹ چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ تمام جماعتوں کے طلبا کو متبادل دنوں پر بلایا جائے گا تاکہ ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ترہب اصغر
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

شفقت محمود کی توجہ کیلئے

میرے گزشتہ کالم پر تعلیمی نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کرنے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور کردار سازی کو لازم قرار دینے کے لئے سالوں سے جہاد کرنے والے محترم محمود احمد نے مجھے اپنے قیمتی تاثرات پہنچائے جن کو من و عن میں حکومت تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کر رہا ہوں : اسلام علیکم و رحمتہ اللہ آپ کے کالم بعنوان “ قرآن و حدیث پڑھانے پر اعتراض کرنے والے” کا مطالعہ کیا۔ بلا شبہ وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب اور NCC کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے یکساں قومی نصاب کی پرائمری کی دستاویز کی حتمی منظوری دے دی ہے ۔ وزیر موصوف نے دینی مدارس کا اعتماد بحال کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ پرائمری میں ذریعہ تعلیم اور یکساں قومی کتاب کے خیال میں لچک پیدا کی۔

آخر میں اشرافیہ کے اسکولوں میں بھی اس نصاب کی تنفیذ کا واضع پیغام دیا ہے۔ اسلامیات کی کمیٹی میں علماء کی شمولیت اور ان کی سفارشات کی پزیرائی قابل ستائش ہے۔ اسلامیات کا اول سے شروع ہونا اس میں احادیث نبوی کا شامل ہونا بھی قابل تحسین ہے۔ شفقت محمود صاحب کا یہ کہنا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے وہاں مسلمان طلبہ و طالبات کو اسلام نہیں پڑھایا جائے گا تو کیا کوئی دوسرا مذہب پڑھایا جائے گا ؟ ان سے قائم توقعات سے بہت بڑھ کر اور ایک زمینی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ انصار عباسی صاحب آپ ان مٹھی بھر لوگوں کی پروا نہ کریں جنہیں اس ملک کے قیام کے مقصد اور دستور پاکستان کی بنیاد ہی سے اتفاق نہیں۔ ان میں چند نظریاتی سیکولر اور اکثر پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار ہیں۔

میرے جیسے بے شمار لوگ جو تعلیم کو عبادت سمجھ کر اس شعبے سے وابستہ ہیں اس سب کی تحسین کے ساتھ جو نہیں ہوا آپ کے اس کالم کے توسط سے اس کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو پریزنٹیشن میں کہا گیا کہ قومی نصاب کی بنیاد آئین پاکستان ہو گی تو انہوں نے ٹوکا کہ قومی نصاب کی بنیاد قرآن و سنت ہو گی۔ میں نے خود شفقت محمود صاحب سے سنا کہ اگر ایک کمرے میں دینی مدارس ، گورنمنٹ اسکول ، پرائیویٹ اسکول اور اشرافیہ اسکول کے طلبہ کو جمع کیا جائے تو وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکتے۔ تعلیمی نظام میں دینی مدارس کے لئے سائنس ، ریاضی اور انگریزی لازمی قرار دی گئی ہے۔ مدارس نے اسے خوش دلی سے قبول کیا۔

یکساں نظام تعلیم کا تو تقاضا تھا کہ اسکولوں میں دو مضامین قرآن اور عربی کا اضافہ ہوتا یوں تمام گورنمنٹ اور پرائیویٹ اسکولوں میں اسلامیات قرآن اور عربی تین اسلامی مضامین اور دینی مدارس میں بھی رسمی تعلیم کے تین مضامین کا اضافہ ہوتا تو اسے یکساں نظام تعلیم قرار دیا جاتا۔ اس وقت تو یہ یکطرفہ نظام تعلیم ہے۔ وفاق اور پنجاب میں لازمی قرآن ایجوکیشن ایکٹ 2017 سے موجود ہے اور گزشتہ برس آزاد کشمیر میں بھی یہ قانون سازی ہو چکی ہے لیکن یکساں قومی نصاب میں اسے الگ مضمون کی حیثیت نہیں دی گئی۔ اسی طرح آئین پاکستان عربی کی تعلیم کو ضروری قرار دیتا ہے لیکن نصاب سازی کے اس موقع پر اسے بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ پرویز مشرف کے دور سے انگریزی ، اردو اور معاشرتی علوم سے اسلامی مواد کم کئے جانے کا مسلسل بین الاقوامی دباؤ ہے اور اسلام کو چن چن کر اسلامیات میں داخل کیا جا رہا ہے۔

عمران خان صاحب کے قرآن و سنت کو قومی نصاب کی بنیاد ہونے اور مدارس اور اسکولوں کی تعلیم میں توازن کے پہلو یکساں نہیں بلکہ یکطرفہ ہیں۔ پرائمری میں اسلامیات میں ناظرہ قرآن کو بھی شامل کر دیا گیا ہے ۔ اس کے لئے جماعت وار حاصلات تعلیم اور نصابی کتاب کی تیاری کے بجائے پاروں کی تعداد لکھ دینے کو کافی سمجھا گیا ہے۔ ملک میں سوا لاکھ گورنمنٹ پرائمری اسکولوں میں پونے چار لاکھ وہ اساتذہ جن کی اکثریت تجوید نہیں جانتی کسی ٹیکسٹ بک کے بغیر کس طرح پڑھائے گی یکساں قومی نصاب اس پر خاموش ہے۔ اس کا تدارک ہونا ضروری ہے۔ آزاد کشمیر میں حال ہی میں اسکیم آف اسٹڈی آئی ہے تو اس میں قرآن کو اسلامیات کے علاوہ ہفتے میں پانچ پیریڈ دیئے گئے ہیں۔ وہاں عربی بھی ایک ایکٹ کے ذریعے لازمی ہے ۔

اگر وہاں اس کے لئے وقت نکل سکتا ہے تو باقی ملک میں کیوں نہیں نکل سکتا۔ ہم عمران خان صاحب اور شفقت محمود صاحب سے توقع رکھتے ہیں کہ مڈل کے مرحلے میں اس کمی کا ازالہ کر کے قرآن کو الگ مضمون کا درجہ دیں گے اور آئین پاکستان کے تقاضے کے مطابق عربی کو لازمی قرار دیں گے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کی تین سال کی محنت سے تیار کیا گیا متفقہ ترجمہ قرآن تکمیل کے بعد پانچ ماہ سے ایک حکم کی شکل میں نافذ ہونے کا منتظر ہے اس کی منظوری کے احکامات جاری کئے جائیں۔ ہمارا نظام تعلیم کردارسازی میں ناکام ہے ۔ ملک میں موجود سارے بحرانوں نے کردارسازی کے بحران سے جنم لیا ہے۔ نصاب سازی کا اگلا مرحلہ یعنی مڈل کردار سازی کے لئے سب سے اہم ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر بھی توجہ دی جائےگی۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ