پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ایف اے ٹی ایف اجلاس اور پاکستان کی توقعات

دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے تدارک کے لیے قائم بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پیرس میں جاری اجلاس پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکالنے کے ممکنہ فیصلے کی توقع کی جارہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مالیاتی نظام کے لیے خطرات جیسے اہم معاملات میں پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018ء میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے لیے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا اس کے بڑے حصے پر اب تک کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے پر عزم انداز سے اس ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باوجود گزشتہ برس اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو اس فروری کے اجلاس تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ‘ تاہم گزشتہ ماہ بیجنگ میں ہونے والے ورکنگ گروپ کے اجلاس ہی میں پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے مقرر کردہ اہداف اور شرائط پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی ‘جس کا جائزہ حالیہ پیرس اجلاس میں لیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے لیے دو مشکلات رہی ہیں‘ پہلی یہ کہ پاکستان اس 39 رکنی تنظیم کا رکن نہیں؛ چنانچہ بھارت یہاں اپنی موجودگی کا پاکستان کے خلاف ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ظاہر ہے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات سے فرار پاکستان کا کبھی آپشن نہیں رہا‘ یہی وجہ ہے کہ جو ایکشن پلان پاکستان کو دیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کی رفتار اور سمت ایف اے ٹی ایف کی توقعات سے بڑھ کر رہی ہیں ‘ تاہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ بھارت نے اس پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو بلیک میل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا ؛چنانچہ پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے دو طرح سے کوششیں کرنا پڑیں ‘ ایک تو ایکشن پلان پر عمل کیا گیا اور دوسرا سفارتی رابطہ کاری کا محاذ تھا۔ 

چین ‘ ترکی‘ سعودی عرب اور ملائیشیا جیسے دوست ممالک تو پہلے ہی پاکستان کا دفاع کرتے رہے ہیں‘ مگر بھارت کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسڑیلیا، جرمنی، اٹلی اور روس کی حکومتوں سے بھی رابطے کئے گئے ہیں ۔ ان سفارتی کوششوں سے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی سپورٹ مل رہی ہے کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کے پالیسی ساز ادارے کو پاکستان کے خلاف اپنے سیاسی مفاد میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ تکنیکی پیش رفت کے ساتھ پاکستان کے دفاع کے اس واضح نکتے سے بھی ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید سامنے آ رہی ہے۔ صدر رجب طیب اردوان گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران پاکستان کے لیے حمایت کا اعلان کر گئے ہیں ‘ امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی کہہ چکی ہیں کہ امریکہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق مالی اعانت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ 

چین بھی گزشتہ ماہ پاکستان کے ان بھر پور اقدامات کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی ان کوششوں کو تسلیم کرنے پر زور دے چکا ہے۔مختصر یہ کہ 39 ملکوں کے اس ادارے میں سوائے بھارت اور اس کے ایک آدھ حلیف کے کوئی بھی ایسی ریاست نہیں جو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے مؤثر اقدامات سے انکار کر سکے؛چنانچہ بھارت ایک برس پہلے سے جن بد ارادوں کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا ‘ اس میں اسے برُی طرح شکست ہوتی نظر آ رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان رکن ممالک کے اتنے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز