فیصل آباد اور گھنٹہ گھر

فیصل آباد جس کو آٹھ راستوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہاں کا گھنٹہ گھر بہت مشہور ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی برصغیر اور پنجاب پر حملہ ہوا تو اس دھرتی کے سپوت سامنے آتے۔ 1903 سے یہاں آبادی شروع ہوئی۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ ڈالتے۔ ابتدائی دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا بعد میں پنجاب کے گورنر کے نام سے ’’لائل پور‘‘ رکھا گیا۔ شہر کا مرکز ایسے مستطیل رقبہ میں واقع ہے جہاں پر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں (اشکال) میں آٹھ سڑکوں میں تقسیم کیا گیا۔ جہاں آٹھ راستے ملتے ہیں وہیں ایک گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا گھنٹہ گھر جانے والی آٹھوں سڑکیں دراصل یہ آٹھ بازار ہیں۔ جھنگ بازار، گوانابازار، امین پور بازار، چنیوٹ بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، منٹگمری بازار، ریل بازار۔

دراصل 1895 میں یہاں پہلی رہائش تعمیر ہوئی، 1897 میں اس شہر کی بنیاد رکھی جس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جیمز براڈ لاسٹل کے نام سے لائل پور رکھا گیا یہی اس شہر کا پہلا نام پڑا۔ لائل پور سے قبل یہاں پکا ماڑی قدیم رہائشی قبیلہ تھا، جس کو آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ اس علاقے کو بعد میں بلدیہ کا درجہ دیا گیا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے کیا اور اسکا سنگ بنیاد 1903 میں لیفٹیننٹ سرجیمز لائل نے ہی رکھا۔ گھنٹہ گھر میں استعمال ہونے والا پتھر قریبی پہاڑی سلسلہ سے لیا گیا۔ گھنٹہ گھر جس جگہ موجود ہے اس کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک کنواں تھا۔ گھنٹہ گھر چالیس ہزار کی مالیت سے دو سال میں مکمل ہوا۔ لندن کی کیپ کمپنی بمبئی میں تھی وہاں سے اس کی بڑی گھڑیاں لائی گئیں۔ بعد ازاں سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے کرائے گئے بہت سے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شہر کا نام ’’فیصل آباد‘‘ رکھا دیا گیا۔

یہ نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ موصوف نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1985 میں فیصل آباد کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔  اس ڈویژن میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع جھنگ اور ضلع فیصل آباد شامل ہوئے۔ اس کی چھ تحصیلیں ہیں جن میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، سمندری، جڑانوالہ اور ٹانٹیاں والا شامل ہے۔ لائل پور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، جناح پارک اور مدینہ ٹاؤن اس شہر کے اہم مقامات ہیں۔ فیصل آباد ان چار اضلاع میں سے ہے جن کا نام پچھلے پچاس سالوں میں تبدیل کیا گیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت یہ ایک زراعتی شہر تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ ترقی کر کے ایک صنعتی شہر بن گیا اور پاکستان کا مانچسٹر کہلانے لگا۔ پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہے آبادی کے لحاظ سے کراچی اور لاہور کے بعد فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

کبھی اسے برصغیر کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، لوگوں نے روزگار کے لیے شہر میں آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع کیا اس وجہ سے یہ ایک بڑا شہر بن گیا۔  پاکستان کا 25 فیصد زر مبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے۔ مسیح قبرستان تقریباً سو سال پرانا ہے اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کتبوں کے ساتھ مرحوم شدگان کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ فیصل آباد کا خصوصی گھنٹہ گھر تاج برطانیہ کے دور میں 1904 میں تعمیر ہوا۔ اس کی گھڑیوں کا وزن ستر کلو ہے ایک ویٹ کا وزن 150 دوسری 125 کلو، پنڈولم تقریباً 200 کلو وزنی ہے۔ گھنٹہ گھر کی کلاک مشین جس کا وزن سیکڑوں کلو بتایا جاتا ہے۔ عمارت کے چو طرفہ ستر، ستر کلو کے چار کلاک نصب ہیں اور یہ چاروں گھڑیاں صرف ایک ہی مشین سے چل رہی ہیں۔ ان گھڑیوں کی صرف ایک سوئی کا وزن تقریباً ڈیڑھ کے جی ہے۔

مشین اور گھڑیوں پر گھڑی ساز کمپنی جو کہ بمبئی میں تھی 1904 کھدا ہوا ہے۔ گھنٹہ گھر سے المعروف آٹھ بازار صاف نظر آتے ہیں۔ 1904 میں فیصل آباد سٹی آباد ہوا اور اس کے گرد آٹھ بازار ڈیزائن کیے گئے۔ کچہری بازار کچہری کی طرف جاتا ہے ضلع کچہری صاف نظر آتا ہے۔ ریل بازار ریلوے اسٹیشن کی طرف، کارخانہ بازار۔ یہاں کارخانہ والا ساز و سامان کی مارکیٹ کی طرف جاتا ہے۔ کارخانہ میں استعمال ہونے والا ساز و سمان اس جگہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ منٹگمری بازار پھر دوسری طرف گوانا بازار منٹگمری کی طرف اور گوانہ بازار، گوانا سٹی کی طرف اسی لیے اسے گوانا بازار کہتے ہیں۔ چنیوٹ بازا ر چنیوٹ کی طرف، آگے جھنگ بازار اس کا رخ جھنگ سٹی کی طرف ہے۔ چونکہ پہلے ساہیوال کا پرانا نام منٹگمری تھا لہٰذا یہ اس جانب جاتا ہے۔

گھنٹہ گھر کو دیکھنے پر برٹش دور کی تاریخ نظر آتی ہے۔ جیساکہ میں نے عرض کیا یہ گھڑیاں بمعہ ساز و سامان لندن بروچکی کمپنی بمبئی کی 1904 سے چلائی  گئیں جن میں چابی لگتی ہے۔ اس کے تین عدد ویٹ ہیں پنڈولم درمیان میں لگا ہوا ہے یہ ہیوی ویٹ وائنڈنگ کرنے کے بعد گھڑیوں کو چلاتے ہیں۔ ایک ویٹ نچلی طرف دو ویٹ اوپر کی جانب ہیں۔ میں نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مشین کو بخوبی دیکھا جو کہ دھانسو قسم کی مشین ہے۔ چونکہ میں رات کے وقت یہاں تھا، میں نے دیکھا منظر شاندار تھا۔ میں نے اپنی گھڑی دیکھی تو رات کے ایک بجا رہی تھی۔ لیکن اس قدر رونق تھی کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ رات ایک بج چکے ہیں۔ میں گھنٹہ گھر میں داخل ہوا یہ میری زندگی کا پہلا مشاہدہ تھا کہ یہ ساری عمارت جوں کی توں موجود ہے۔ میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل تک جا پہنچا جہاں میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہاں سے سارے بازار صاف نظر آرہے تھے۔

میں 19 جون کو گھنٹہ گھرآیا اور اب 20 جون ہو چکی تھی میں نے نوٹ بک دیکھی جس میں ڈائل کے سائز ساڑھے پانچ فٹ درج تھے آخری منزل پر ایک پنڈولم دیکھا جوکہ میرے اندازے کے مطابق دو سو کلو گرام سے زیادہ وزنی معلوم دیتا ہے۔ منٹ والی سوئی پونے تین فٹ، گھنٹہ کو دکھانے والے دو فٹ کی سوئیاں ہیں۔ سارا خود کار نظام موجودہ ورکرز نہایت محنت، مشقت سے کام کر رہے ہیں۔ چاروں گھڑیوں کو پیرل ایک ہی وقت پر گراریوں کے ساتھ چلتی ہیں لیور لگا ہے جو گھنٹہ بجاتا ہے اس میں چابی پھیرنا مشکل کام ہے ساتھ ہی موٹی تاریں لگی ہوئی ہیں۔ تینوں وقت چابیاں دینی ہوتی ہیں گھنٹوں کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر سسٹم ہے۔ ایمپلی فائر لگا ہوا ہے جہاں لاؤڈ اسپیکر نظر آتے ہیں۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا بات ہے سیالکوٹ کی

بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ ملک کے شمال مشرق میں پاک، بھارت کنٹرول لائن پر واقع ہے یہاں کئی بزرگان دین کے مزارات موجود ہیں جنہوں نے اس خطے میں لاکھوں انسانوں کو کلمۂ توحید پڑھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیالکوٹ کی بنیاد 5 ہزار سال پہلے راجہ سالبان نامی حکمران نے رکھی تھی جس کی بناء پر اس کا نام سل کوٹ رکھا گیا تھا ہزاروں سال پرانا تاریخی شہر علامہ اقبالؒ، فیض احمد فیض ”پاکستان کا مطلب کیا‘‘ نعرے کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کی جنم بھومی ہے۔ سیالکوٹ کو ایکسپورٹ سٹی بھی کہا جاتا ہے یہ کراچی، لاہور کے بعد ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا شہر ہے ایک اندازے کیمطابق سیالکوٹ کی سالانہ برآمدات اڑھائی ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں اور سب سے زیادہ ٹیکسز اور ریونیو دینے والے شہروں میں سیالکوٹ تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے یہاں سٹیٹ بینک کی شاخ بھی قائم ہے۔

سیالکوٹ کی انڈسٹری سے نہ صرف قومی معیشت میں قابل قدر اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان صنعتوں سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرانتظام کئی پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئر پورٹ دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کا واحد ایئر پورٹ ہے جہاں سے دنیا بھر کیلئے پروازیں جاری ہیں ۔ جذبۂ خدمت سے سرشار سیالکوٹ کے صنعتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں اور دیگر فلاحی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جن سے سیالکوٹ کے عوام کیساتھ دیگر اضلاع گجرات جہلم، گوجرانوالہ اور نارووال کے عوام بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ دفاع وطن کیلئے بھی سیالکوٹ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب بڑی ٹینکوں کی لڑائی سیالکوٹ میں چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی تھی جب بھارت نے ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران رات کی تاریکی میں سیالکوٹ کی سرحد پر 500 ٹینکوں کیساتھ حملہ کر دیا۔

پاک فوج کے بہادر شیر جوانوں اور غیور عوام نے قوت ایمانی اور بہادری کے ایسے مظاہرے کیے جس کی دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے ہمارے شیر جوانوں نے اپنے جسموں کیساتھ بم باندھے اور بھارتی ٹینکوں کیساتھ ٹکرا گئے اور آن کی آن میں سینکڑوں بھارتی ٹینکوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ سیالکوٹ کی دھرتی پر لڑی جانے والی 17 دنوں کی یہ جنگ بھارت کی کو ہمیشہ یاد رہے گی کہ جس میں ایک نوزائیدہ ملک نے اپنے سے 10 گُنا طاقتور ملک کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔ اس جنگ میں پاک فوج اور عوام کی جرأت وبہادری کے اعتراف میں سیالکوٹ کو ہلالِ استقلال کے اعزاز سے نواز گیا تھا۔

چودھری عبدالقیوم

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان کا قدیم ترین شہر ملتان

ملتان گزرے وقت میں ایک سلطنت کا درجہ رکھتا تھا اس کے وسیع و عریض رقبے کی حدود لاہور کے قرب و جوار تک پھیلی ہوئی تھی۔ ساہیوال، پاک پتن، اوکاڑہ، میاں چنوں، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ اور بھکر اس کے علاقوں میں شامل تھے۔ لیکن بے رحم وقت نے اسے علاقہ در علاقہ تقسیم کر دیا۔ ملتان کے محل وقوع کی بات کی جائے تو اس کے مشرق میں وہاڑی ، جنوب مشرق میں لودھراں ، شمال میں خانیوال ، جنوب میں بھاولپور اور مغرب میں دریائے چناب کے پار مظفر گڑھ واقع ہے۔ ملتان ایک ہزار بیس کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی انیس لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو چالیس نفوس پر مشتمل ہے۔ ملتان کی زمین اپنی زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں میں مثال ہے اس کی اہم فصلوں میں گنا ، چاول، کپاس اور گندم شامل ہیں۔ آموں کو بڑے بڑے اور نایاب اقسام کے باغات موجود ہیں۔ یہاں کے آم نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں مشہور ہیں۔ ملتان میں سرائیکی، اردو اور پنجابی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

یہاں کافی تعداد میں اولیا، صوفیا کرام و بزرگان دین کے مزارات ہیں، مشہور مزارات میں حضرت شاہ شمس تبریزؒ، حضرت بہاالحسنؒ، حضرت بہاالدین زکریاؓؒ ملتانی، حضرت شاہ رکن عالم ؒ، حضرت موسیٰ پاک شہید اور حضرت حافظ محمد جمالؒ ؒ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے اولیا، صوفیا اور بزرگان دین کے مزارات یہاں موجود ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں دریاؤں کی وادی میں پیدا ہوئیں اور وہیں پروان چڑھیں ، نہر دجلہ ، فرات اور سندھ تہذیبیں دریاؤں کی تہذیبیں ہیں۔ دریائے سندھ کی وسیع و عریض آبادی کے علاقوں میں شہر اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔  ملتان قدیم تاریخی شہروں میں سے ایک شہر ہے جن کا ذکر اندر پرست کے دور میں ہوتا ہے۔ قدیم ہندو گھرانوں میں اس کا ذکر ’’مالی تھان‘‘ کے نام سے موجود ہے۔
تاریخ کی کتب میں یہ بھی ہے کہ ایک قوم جس کا نام ’’مالی تھان‘‘ یہاں آکر آباد ہوئی اور سنسکرت میں آباد ہونے کو ’’ستھان‘‘ کہتے ہیں۔ شروع میں اس کا نام مالی استھان پڑ گیا بعد میں بدل کر مالی تھان بن گیا، وقت کے ساتھ ساتھ مالی تھان پھر مولتان اور اب یہ ملتان بن گیا۔ بہت سے قدیمی شہر آباد ہوئے یہاں حالات زمانہ کا شکار ہوکر مٹ گئے، لیکن شہر ملتان پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔

ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے والے سیکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہوگئے۔ آج ان کا نام لیوا بھی نہیں۔ لیکن ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے۔ ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے یہ دریائے چناب کے کنارے آباد ہے آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ ضلع ملتان، تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔ تحصیلوں میں تحصیل صدر، تحصیل شجاع آباد، تحصیل جلال پور پیراں والا شامل ہے۔ اس کی ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے بھی قدیم ہو۔ اس امر پر مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے۔ قابل افسوس بات ہے کہ حملہ آوروں نے قلعہ ملتان کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار آتش زدگی ہوتی رہی۔ 1200 قبل مسیح میں دارا نے اسے تباہ کیا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر نے اس پر چڑھائی کی۔ بعد ازاں عرب ، افغان ، سکھ اور فرنگی حملہ آوروں نے قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

تاریخ کے اوراق میں ملتان قبل از مسیح سے ہی حربی اور ثقافتی فنون کا حصہ اور مرکز رہا ہے۔ چونکہ جنگی آلات ہر زمانے میں طاقت کے اظہار کا بہترین ذریعہ رہے ہیں لہٰذا وہ تمام افراد جو جنگی آلات بنانے کے فن سے جڑے ہوتے تو ان کا معاشرے میں ایک خاص مقام ہوتا تھا۔ خطہ ملتان میں حربی فنون کی مہارت اور تیر کمان سازی کا سب سے قدیم حوالہ 323 قبل از مسیح میں ملتا ہے ایک حوالے کے مطابق سکندر یونانیوں کو لگنے والا تیر ملتان کا تیار کردہ تھا۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ’’آئین اکبری‘‘ میں ملتان کی حدود کچھ اس طرح بیان کی ہیں۔ صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے قبل یہ صوبہ فیروز پور سے فیوستان تک چوڑائی میں کف پور سے جیسلمیر تک، ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ مکران تک وسیع ہو گیا۔ مشرق میں اس کی سرحدیں سرہند سرکار سے، شمال میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبہ اور مغرب میں کیچ (تربت) مکران سے ملتی ہیں۔ کیچ مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھا۔ ملتان کے صوبہ میں تین سرکاریں ملتان خاص ، دیال پور اور بھکر تھیں۔

ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے۔ 792 کو محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا اور اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ 997 کو محمود غزنوی نے ہندوستان کو فتح کرنے کے ساتھ ملتان کو بھی فتح کیا۔ 1175 میں سلطان شہاب الدین محمد غوری نے خسرو ملک کو شکست دے کر ملتان پر قبضہ کر لیا۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے بعد بے شمار خاندانوں نے اسے پایہ تخت بنائے رکھا۔ جن میں خاندان غلامان، خاندان خلجی، غیاث الدین تغلق، خاندان سادات، خاندان لودھی، پھر مغلیہ سلاطین کے حکمرانوں تک ملتان مسلم سلطنت کا حصہ رہا۔ رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کیا ایک زوردار جنگ ہوئی تاریخ میں اسے جنگ ملتان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ مارچ 1818 میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 کو ختم ہو گئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے قلعہ ملتان پر 2 جون 1818 میں قبضہ کر لیا۔ 1857 تک رنجیت سنگھ کے بیٹوں کی حکمرانی رہی۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد فرنگیوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور 1947 تک برٹش امپائر کے زیر اثر رہا۔ آزادی کے بعد ملتان پاکستان کا حصہ بن گیا۔

تاریخ میں قلعہ ملتان کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ قلعہ اندر دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ طرز تعمیر میں بھی یگانگت رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس قلعے کی دیواریں تقریباً چالیس سے ستر فٹ اونچی اور دو میل کے علاقے کا گھیراؤ کرتی تھیں۔ اس کی دیواریں برج دار تھیں اس کے ہر داخلی دروازے کے پہلو میں حفاظتی مینار تعمیر کیے گئے تھے۔ 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج کے حملے میں اندرونی چھوٹے قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ جوکہ ’’کاتوچوں‘‘ یعنی راجپوتوں کی حکمرانی کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ جنگ کے لیے مورچہ نما چھوٹا قلعہ کہلایا جس کے پہلو میں تیس حفاظتی مینار ایک مسجد ایک مندر اور خواتین کے محلات تعمیر کیے گئے تھے۔ ملتانی قلعہ کے باہر خندق بھی بنائی گئی تھی۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سر کپ : پاکستان میں یونانیوں کا بسایا شہر

جس چیز کو گندھارا آرٹ کا نام دیا جاتا ہے وہ دراصل آرین، یونانی، ساکا، پارتھی اور کُش تہذیبوں کا نچوڑ ہے۔ گندھارا آرٹ کو ہماری تہذیب میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اس لیے کہ عربوں کی آمد سے پیشتر کی تہذیب کا سب سے حسین مرقع گندھارا آرٹ ہی ہے۔ گندھارا آرٹ کا مرکز یوں تو ٹیکسلا تھا، لیکن اس کی جڑیں پشاور، مردان، سوات، افغانستان حتیٰ کہ وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ موریوں کے عہد تک جس بستی کو ٹیکسلا کہتے تھے اس کے کھنڈر بھیر کے مقام پر ملے ہیں۔ بھیر کی کھدائی میں سب سے نچلی تہہ میں نشانوں سے پتا چلتا ہے کہ بعض مکانات خوش حال لوگوں کے تھے اور بعض غریبوں کے اور دوسرے طبقے الگ الگ حصوں میں رہتے تھے۔ البتہ ہر گھر میں پچیس تیس فٹ گہر ایک چہ بچہ ہوتا تھا جس میں غلاظت پھینک دی جاتی تھی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ شہر میں بھنگیوں یا اچھوتوں کا کوئی طبقہ نہ تھا۔

بستی میں ایک بہت بڑا کمرہ (ہال) تھا جس کی چھت ستونوں پر کھڑی تھی۔ اس جگہ سے مٹی کی بہت سی اُبھرواں مورتیاں ملی ہیں۔ دوسری اور تیسری تہیں سکندر اور موریہ عہد کی ہیں۔ اس وقت تک لوہے کا استعمال بہت عام ہو چکا تھا۔ چنانچہ گھریلو استعمال کے برتن، کھیتی باڑی کے آلات و اوزار اور اسلحے سب لوہے کے بنے ملے ہیں۔ ان کے علاوہ چڑھاوے کی بکثرت ایسی تختیاں نکلی ہیں جن میں عورت مرد ساتھ کھڑے ہیں۔ باختر سے تجارت کے آثار بھی ملے ہیں۔ چوتھی یعنی سب سے بالائی سطح پر چاندی کے متعدد ٹھپہ دار سکے اور یونائی طلائی سکے، چاندی سونے کے زیور، یونانی بادیہ اور سکندر اعظم کے سر کی مورت ملی ہے۔ ٹیکسلا کی دوسری بستی سِرکپ کہلاتی ہے۔ اس کو دوسری صدی قبل مسیح میں یونانیوں نے آباد کیا تھا۔ یہ شہر تقریباً تین صدی تک یونانیوں، ساکاؤں، پارتھیوں اور ابتدائی کُشنوں کی راجدھانی رہا تھا۔

سِرکپ کی وجہ تسمیہ بارے کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجہ سالی وان کا بیٹا رِسالو ایک دن شہر کے باہر ہوا خوری کر رہا تھا۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک جھونپڑی کے سامنے سے گزرا تو کیا دیکھا ہے کہ ایک بڑھیا چولھے کے پاس بیٹھی گاہ ہنستی گاتی ہے اور گاہ رونے لگتی ہے۔ رِسالو کو بڑھیا کی اس حرکت پر بڑی حیرت ہوئی اور وہ بڑھیا کے پاس جا کر پوچھنے لگا کہ مائی کیا بات ہے جو تو کبھی گاتی اور ہنستی ہے اور کبھی رونے لگتی ہے۔ بڑھیا نے کہا کہ یہاں آدم خور راکششوں کا ایک گھرانا رہتا ہے۔ وہ سات بھائی بہن ہیں۔ بھائیوں کے نام سِرکپ، سِرسُکھ اور اَمبہ ہیں اور بہنوں کے انم کاپی، کالپی، منڈا اور منڈیبی ہیں۔ ہم کو ہر سال ایک جان ان کو بھینٹ دینا پڑتی ہے۔ میں ہنستی اور گاتی اس لیے ہوں کہ آج میرے بیٹے کا بیاہ ہے اور روتی اس لیے ہوں کہ کل راکشش اسے کھا جائیں گے۔

رِسالو نے بڑھیا کو دلاسا دیا اور جب دوسرے دن راکشش اس کے بیٹے کو کھانے آئے تو رِسالو نے ان کو قتل کر دیا۔ یونانیوں نے وادی سندھ میں دو ڈھائی سو برس تک حکومت کی۔ بھیرا اور سِرکپ کی کھدائی سے سیکڑوں یونانی سکے زیورات، آلات و اوزار عمارتوں کے کھنڈر سب کچھ برآمد ہوا لیکن کوئی نوشتہ نہ ملا۔ انہوں نے سرکپ کا نیا شہر یونانی شہروں کے نمونے پر بنایا تھا۔ لیکن بھیر کی مانند کنواں اس شہر میں بھی نہ تھا۔ ساکاؤں کے عہد کی عمارتوں میں ایک تو شاہی محل قابل ذکر ہے اور دوسرے دو منہ والے شاہین کی عبادت گاہ۔ محل کی دیواریں بالکل سپاٹ ہیں۔ ان میں کوئی نقش نگار نہیں ہے، اور وہ ساخت میں عراق کے اشوری محلوں سے مشابہ ہیں۔ دو مُنھا شاہین یوں تو بابل، ایشیا اور اسپارٹا میں بھی شاہی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں یہ علامت ساکاؤں سے مخصوص ہو گئی۔

چنانچہ انقلاب روس سے پہلے تک زار روس کا شاہی نشان رہی اور جرمنی میں یہ علامت دوسری جنگ عظیم تک رائج رہی۔ سِرکپ اور اس کے مضافات کی کھدائی میں سونے چاندی کے نہایت خوبصورت زیور اور سنگار کے سامان ملے ہیں۔ ان کے علاوہ بڑھیئوں، لوہاروں، سناروں اور جراحوں کے اوزار، پتھر کے اوزان، کھیتی باڑی اور باغبانی کے آلات، بچوں کے کھلونے، اسلحے، مورتیاں اور اُبھرواں شبیہیں، گنڈے تعویذ اور مالائیں، مہریں، سانچے اور دھات کے ٹپے بڑی تعداد میں برآمد ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سونے چاندی کے زیور اور ظروف تو یونانی طرز کے ہیں البتہ لوہے، پتھر اور مٹی کے سامانوں کی طرز خالص مقامی ہے۔ اس تفریق سے پتا چلتا ہے کہ یونانیوں اور ساکاؤں کے عہد میں ملک کے بالائی طبقے پر تو یونانی تہذیب کی چھاپ تھی لیکن عام ہنر مند بدستور پرانی ڈگر پر چلتے رہتے تھے۔ سِرکپ سے ملی ہوئی جانڈیال کے مقام پر یونانی عہد کی ایک یادگار عمارت ہے۔ یہ ایک عبادت گاہ ہے جو یونان کے خالص کلاسیکی انداز میں بنائی گئی تھی اور ایتھنز کی مشہور عبادت گاہ پارتھنیان کا ہوبہو چربہ ہے۔

بشکریہ دنیا نیوز

ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ : تعارف و مختصر حالاتِ زندگی

ہم پرانے زمانے کے لوگوں کی یہ عادت پختہ ہو چکی ہے کہ جب کوئی تحریر پسند آتی ہے تو اسے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں ایسی ہی ایک سنبھالی ہوئی تحریر پیش خدمت ہے دراصل یہ ایسے ہی موضوعات ہیں جن کے بارے میں ہمیں لکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ ماضی کے ان چراغوں میں مستقبل کی روشنی ہے یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ حضرت امام شافعیؒ سنی عقیدے کے چار فقہی مکاتب میں سے ایک کے امام اور بانی ہیں اور ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کو مسلمانوں کا حافظہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ حضرت امامؒ نے اپنی ابتدائی زندگی کی یہ مختصر روداد اپنے ایک شاگرد ربیع بن سلیمان سے بیان کی اور اس شاگرد رشید نے یہ نیکی کی کہ اس آنے والے زمانوں کے لیے قلمبند کر لیا۔ یوں یہ نادر حکائت ہم تک پہنچی اور میں یہ تحفہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ اسے میرا سیاسی قصے کہانیوں کا کفارہ سمجھئے۔

حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ جب میں مکہ سے روانہ ہوا تو میری عمر چودہ برس تھی اس حال میں کہ دو یمنی چادریں میرے جسم پر تھیں ۔ ذی طویٰ پہنچا تو ایک پڑاؤ دکھائی دیا میں نے صاحب سلامت کی تو ایک ضعیف العمر شخص میری طرف بڑھا اور مجھے اپنے ساتھ کھانے میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے بے تکلفی سے وہ دعوت قبول کر لی، کھانے سے فارغ ہو کر میں نے خدا کا شکر اور اس بوڑھے میزبان کا شکریہ ادا کیا ۔ کھانے کے بعد باتیں ہونے لگیں تو میزبان نے سوال کیا کہ ’’کیا تم مکی ہو‘‘ میں نے اثبات میں جواب دیا، پھر پوچھا ’’کیا تم قریشی ہو‘‘ میں نے جواب میں ہاں کہا اور پوچھا کہ چچا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں مکی اور قریشی ہوں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شہری ہونا تو تمہارے لباس سے ظاہر ہے اور قریشی ہونا تمہارے کھانے سے معلوم ہوا۔ جو شخص دوسروں کے کھانے میں بے تکلفی برتتا ہے وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس کا کھانا دل کھول کر کھائیں اور یہ خصلت صرف قریش میں ہے۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں جواب ملا رسول اللہﷺ کا شہر مدینہ میرا وطن ہے۔ میں نے پوچھا کہ مدینے میں کتاب و سنت کا سب سے بڑا عالم و مفتی کون ہے۔ بزرگ نے جواب دیا قبیلہ بنی اصبح کا سردار مالک بن انس (امام مالکؒ) ۔ میں نے عرض کیا خدا ہی جانتا ہے مجھے امام مالک سے ملنے کا کتنا شوق ہے۔

بوڑھے نے جواب میں کہا کہ خوش ہو جاؤ خدا نے تمہارا شوق پورا کر دیا ۔ اس بھورے اونٹ کو دیکھو یہ ہمارا سب سے اچھا اونٹ ہے تم اسی پر سوار ہو گے ۔تیار ہو جاؤ قافلہ کوچ کرنے والا ہے ۔ پھر بہت جلد تمام اونٹ ایک قطار میں کھڑے کر دیے گئے مجھے اسی اونٹ پر بٹھا دیا گیا اور قافلہ روانہ ہو گیا۔ میں نے تلاوت شروع کر دی ۔ مکہ مدینہ تک کے سفر میں سولہ قرآن پاک ختم ہو گئے ۔ ایک دن میں ختم کر لیتا دوسرا رات میں۔ آٹھویں دن عصر کے وقت ہمارا قافلہ مدینہ میں داخل ہوا۔ مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھی ، پھر مزار مقدس کے قریب حاضر ہوا۔ درود و سلام پڑھا۔ امام مالک ؒ دکھائی دیے ۔ ایک چادر کی تہہ بند باندھے تھے دوسری چادر اوڑھے ہوئے تھے اور بلند آواز میں حدیث کی روائت کر رہے تھے۔ یوں روائت کرتے تھے ’’مجھ سے نافع نے ابن عمر کے واسطے سے اس قبر کے مکین سے روائت کیا ‘‘ اور یہ کہہ کر اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور قبر مبارک کی طرف اشارہ کیا۔ سبحان اللہ ۔ درس و تدریس کا کیا انداز ہے ۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ یہ انداز اور نظارہ دیکھ کر میرے دل پر امام مالک کی ہیبت چھا گئی اور درس میں جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا ۔ میں نے جلدی سے ایک تنکا اٹھا لیا اور امام جب کوئی حدیث سناتے تو میں تنکے کو لعاب دہن میں تر کر کے اپنی ہتھیلی پر لکھ لیتا۔

امام میری یہ حرکت دیکھ رہے تھے مگر مجھے اس کی خبر نہ تھی ۔ آخر مجلس ختم ہو گئی اور امام مالک دیکھنے لگے کہ سب کی طرح میں بھی اٹھ جاتا ہوں یا نہیں ۔ میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہا تو امام مالک نے مجھے اشارے سے بلایا، میں قریب پہنچا تو کچھ دیر مجھے بڑے غور سے دیکھتے رہے پھر فرمایا تم حرم کے رہنے والے ہو۔ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ پوچھا مکی ہو۔ میں نے کہا جی ہاں! فرمایا سب اسباب پورے ہیں ۔ مگر تم میں ایک بے ادبی ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے کلمات طیبہ سنا رہا تھا اور تم تنکا لیے اپنے ہاتھ سے کھیل رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا کاغذ پاس نہیں تھا اس لیے جو کچھ سنتا ہاتھ پر لکھتا جاتا تھا ۔ اس پر امام مالک ؒنے ہاتھ کھینچ کر دیکھا اور فرمایا ہاتھ پر تو کچھ بھی لکھا ہوا نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا لعاب تو باقی نہیں رہتا ۔ لیکن آپ نے جتنی حدیثیں سنائی ہیں مجھے سب یاد ہو چکی ہیں ۔ امام کو تعجب ہوا فرمایا سب نہیں ایک ہی سنا دو ۔ میں نے امام صاحب کے انداز میں اور ہاتھ کے اشارے سے ایک نہیں پوری پچیس احادیث جو اس محفل میں بیان ہوئی تھیں سنا دیں۔

اب سورج ڈوب چکا تھا۔ امام مالک ؒنے نماز پڑھی پھر میری طرف اشارہ کیا اور خادم سے کہا اپنے آقا کا ہاتھ تھام اور مجھ سے فرمایا کہ اٹھو اور خادم کے ساتھ میرے گھر جائو ۔ میں اٹھ کھڑا ہوا جب گھر پہنچا تو خادم ایک کوٹھڑی میں لے گیا اور کہنے لگا گھر میں قبلہ اس طرف ہے اور پانی کا لوٹا یہ ہے اور بیت الخلاء ادھر ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد امام بھی آ گئے ۔ خادم کے ہاتھ میں ایک خوان تھا۔ امام مالکؒ نے خوان لے کر فرش پر رکھا ۔ پھر مجھے سلام کیا اور خادم سے کہا ہاتھ دھلائو۔ خادم برتن لے کر میری طرف بڑھا مگر امام نے ٹوک دیا ۔ جانتا نہیں کھانے سے پہلے میزبان کو ہاتھ دھونے چاہئیں اور کھانے کے بعد مہمان کو۔ میں نے اس کی حکمت پوچھی تو فرمایا کہ میزبان کھانے پر مہمان کو بلاتا ہے اس لیے اسے خود کھانے کے لیے تیار ہونا چاہیے اور کھانے کے بعد آخر میں اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران کوئی مہمان آ جائے اور اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہونا پڑے اس لیے میزبان کو ہاتھ پہلے نہیں دھونے چاہئیں ۔

کھانے سے فارغ ہوئے تو امام نے مکہ والوں کے حالات دریافت کیے ۔ جب رات زیادہ ہو گئی تو فرمایا اب تم آرام کرو ۔ پچھلے پہر کوٹھڑی پر دستک ہوئی ۔ خدا کی تم پر رحمت ہو نماز! میں اٹھ بیٹھا کیا دیکھتا ہوں کہ امام خود ہاتھ میں لوٹا لیے کھڑے ہیں ۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی ۔ تو وہ کہنے لگے۔ کچھ خیال نہ کرو مہمان کی خدمت تو فرض ہے۔ امام کے ساتھ نماز فجر مسجد نبویﷺ میں ادا کی ۔ اندھیرا بہت تھا ۔ جب دھوپ نمودار ہوئی تو امام مالک ؒ جس جگہ کل بیٹھے تھے آج بھی اسی جگہ جا بیٹھے اور اپنی کتاب موطا میرے ہاتھ میں دے دی ۔ میں نے کتاب سنانی شروع کر دی اور لوگ لکھنے لگے ۔ میں امام مالک ؒ کے ہاں آٹھ مہینے رہا ۔ پوری موطا مجھے حفظ ہو گئی۔ مجھ میں اور امام مالک میں اس قدر محبت اور بے تکلفی پیدا ہو گئی کہ ناواقف ہمیں دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مہمان کون ہے اور میزبان کون۔

صبح کے بعد مدینہ کی زیارت کے لیے اور موطا امام مالک سننے کے لیے لوگ مصر سے آئے۔ میں نے مصریوں کو موطا زبانی سنا دی ۔ اس کے بعد اہل عراق آئے ۔ مجھے ایک صاف ستھرا مہذب نوجوان دکھائی دیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا وہ کوفہ کا باشندہ ہے ۔ میں نے وہاں کے علماء کے بارے میں پوچھا تو اس نوجوان نے بتایا کہ ابو یوسف اور محمد بن حسن جو امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں ۔ یہ سن کر میرے دل میں عراق جانے کا شوق پیدا ہوا ۔ میں امام مالک ؒ کے پاس گیا کہ ان کا عندیہ معلوم کروں ۔ انھوں نے حصول علم کے لیے میری حوصلہ افزائی کی اور میرے زاد سفر کا انتظام کر کے مجھے رخصت کرنے کے لیے صبح صبح بقیع تک آئے اور اونچی آواز میں پکارنے لگے۔ کوفہ کے لیے کون اپنا اونٹ کرائے پر دے گا ۔ میں نے سن کر عرض کیا آپ یہ کیا کر رہے ہیں نہ میرے پاس کوئی رقم ہے اور نہ خود آپ کی حالت اس قابل ہے ۔ پھر کرائے کا اونٹ کیا؟ امام مسکرائے اور فرمانے لگے کل نماز عشاء کے بعد دروازے پر دستک ہوئی باہر نکلا تو عبد الرحمٰن بن قاسم ( امام کے ایک معروف شاگرد) کھڑے تھے ۔ ہدیہ لائے تھے۔ منت کر نے لگے کہ قبول کر لوں اور ہاتھ میں ایک تھیلی تھما دی ۔ تھیلی سے سو دینار نکلے ۔ پچاس میں نے اپنے اہل و عیال کے لیے رکھ لیے اور پچاس تمہارے لیے ۔ پھر امام نے چار دینار میں اونٹ طے کر لیا اور باقی رقم میر ے حوالے کر کے مجھے خدا حافظ کہا۔

حاجیوں کے اس قافلے کے ساتھ ہم بیسویں دن کوفہ پہنچے ۔ وہاں کی مسجد میں عصر کے وقت محمد بن حسن اور ابو یوسف سے ملاقت ہوئی ۔ میری باتوں سے ان دونوں کو گمان ہوا کہ میں کوئی صاحب علم ہوں چنانچہ مجھ سے پوچھا کہ امام مالک کو تم نے دیکھا ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ، امام مالک کے پاس سے آرہا ہوں ۔ (امام حسن ابوحنیفہؒ کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور امام یوسف خلافت عباسیہ کے چیف جسٹس رہے ہیں اور مشہور عالم کتاب ’’کتاب الاموال‘‘ کے مصنف ہیں جو دنیا میں معاشیات پر پہلی کتاب تصور کی جاتی ہے)۔ یہ سن کر پوچھا کہ تم نے موطا بھی دیکھی ہے ، میں نے کہا پوری حفظ بھی کر چکا ہوں ۔ محمد بن حسن اس پر متعجب ہوئے ، اسی وقت لکھنے کا سامان منگوایا اور ابواب فقہ کا ایک مسئلہ لکھا ۔ ہر دو مسئلوں کے درمیان کافی جگہ خالی چھوڑ دی اور کاغذ میری طرف بڑھا دیا اور کہا، ان دو سوالوں کا جواب موطا سے لکھ دو۔ میں نے جوابات لکھ دیے ۔

اس کے بعد امام محمد نے مجھے خادم کے ہمراہ اپنے گھر بھجوا دیا ۔ خادم نے کہا آقا کا حکم ہے کہ آپ سواری پر ان کے گھر جائیں ۔ ایک سجا سجایا خچر پیش کیا گیا۔ (علماء گھوڑے کی جگہ عموماً خچر کی سواری کیا کرتے تھے) جب میں سوار ہوا تو مجھے اپنے پرانے بوسیدہ کپڑے کھٹکنے لگے اور اپنی حالت پر افسوس ہوا۔ کچھ دیر بعد امام محمد بھی گھر آگئے ۔ انھوں نے ایک ہزار دینار کا قیمتی جوڑا مجھے پہنایا اور اپنے کتب خانے سے امام ابو حنیفہؒ کی کتاب ’’الاوسط‘‘ نکال کر دی۔ میں نے کتاب الٹ پلٹ کر دیکھی اور اور رات کو اسے حفظ کرنا شروع کر دیا۔ صبح تک مجھے پوری کتاب حفظ ہو گئی ۔ کچھ دن بعد میں نے امام محمد سے سفر کی اجازت چاہی ۔ فرمایا میں اپنے کسی مہمان کو جانے کی اجاز ت نہیں دیتا ۔ میرے پاس جو مال و دولت موجود ہے اس میں سے آدھا تم لے لو ۔ انھوں نے ساری نقدی منگوائی ، تین ہزار درہم نکلے ۔ آدھے میرے حوالے کیے اور میں بلاد فارس اور عراق کی سیاحت کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

اب میری عمر اکیس برس ہو گئی تھی۔ یہ امیر المومنین ہارون الرشید کا زمانہ تھا۔ جب بغداد آیا تو دروازے پر قدم رکھا ہی تھا کہ ایک شخص نے روکا اوربڑی نرمی سے نام پوچھا ، میں نے کہا محمد بن ادریس شافعی۔ اس نے جیب سے ایک نوٹ بک نکالی اور میرا بیان قلمبند کر کے مجھے جانے دیا ۔ میں ایک مسجد میں جا کر قیام پذیر ہوا ۔ آدھی رات کے بعد پولیس نے مسجد پر چھاپہ مارا اور ہر شخص کو روشنی میں دیکھنا شروع کر دیا ۔ آخر میں میری باری آئی ۔ پولیس نے پکار کر کہا ڈرنے کی بات نہیں ، جس کی تلاش تھی وہ مل گیا ۔ پھر مجھے شاہی محل پہنچا دیا گیا۔ جب امیر المومنین پر میری نظر پڑی تو میں نے صاف مضبوط آواز میں انھیں سلام کیا۔ امیر کو میرا انداز پسند آیا۔ سلام کا جواب دیا اور پوچھا تم کہتے ہو کہ ہاشمی ہو ، پھر نسب نامہ دریافت کیا ۔ میں نے بتا دیا بلکہ آدم علیہ السلام تک پہنچا دیا ۔ اس پر امیر المومنین کہنے لگے، بے شک یہ فصاحت و بلا غت اولاد مطلب ہی کا حصہ ہے ۔ پھر کہا، تم کتاب و سنت کے مطابق اپنا اور میرا حکم چلانے کے لیے مسلمانوں کے قاضی بن جاؤ ، کیا تم یہ پسند کرو گے؟ میں نے جواب دیا، سلطنت میں شرکت تو مجھے ایک دن کے لیے بھی منظور نہیں۔ یہ سن کر امیر المومنین رو پڑے۔

اب مجھے تین برس اور ہو چکے تھے ۔ اسی اثناء میں حاجی حجاز سے لوٹے تو مجھے ایک نوجوان ملا ۔ میں اس سے امام مالک ؒ اور حجاز کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس نے بتایا کہ امام مالک بہت دولت مند ہو گئے ہیں ۔ یہ سن کر مجھے شوق ہوا کہ امام صاحب کی غربت کو میں دیکھ چکا ہوں، اب دولت مندی کو بھی دیکھنا چاہیے ۔ چنانچہ میں نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔ ایک دولت مند آدمی نے مجھے با اصرار چالیس ہزار دینار کی نقدی پیش کی ۔ میں نے اسے خدا حافظ کہا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں اصحاب حدیث ملے ۔ان میں امام احمد بن حنبل، سفیان بن عینیہ اور اوزاعی وغیرہ شامل تھے (یہ تینوں فقہ میں بلند ترین مقام کے مالک علماء ہیں اور امام احمد تو فقہ حنبلی کے امام ہیں) میں نے ان تمام اصحاب کو اپنے پاس سے اتنا کچھ دیا جتنا ان کا مقدر تھا ۔ اگلے پڑاؤ تک میرے پاس صرف دس دینار رہ گئے تھے ۔ میں نے کرائے پر سواری لی اور اور ستائیسویں دن مدینہ منورہ پہنچا۔

مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھی ۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ لوہے کی ایک کرسی مسجد میں رکھی ہے ۔ کرسی پر قباطی مصر کا تکیہ رکھا ہوا ہے اور کرسی کے اوپر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے ۔ میں ابھی حیرت کے ساتھ دیکھ ہی رہا تھا کہ امام مالک آئے اور پوری مسجد عطر کی خوشبو سے مہک اٹھی ۔ ان کے جلو میں چار سو یا اس سے زائد کا مجمع تھا ۔ مجلس میں پہنچے تو سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ امام صاحب کرسی پر بیٹھ گئے ۔ آپ نے اپنے شاگردوں کے سامنے عمداً زخم لگانے کا مسئلہ پیش کیا۔ میں نے اپنے بغل میں بیٹھے ہوئے ایک جاہل آدمی کو اس کا جواب لکھا دیا ۔ اس نے بلند آواز میں جواب بتا دیا۔ دوسرے شاگردوں کے جواب غلط تھے ۔ دو تین بار ایسا ہی ہوا تو امام صاحب اس جاہل کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا یہاں آؤ، وہ جگہ تمہاری نہیں ہے۔ اس شخص نے صاف بتا دیا کہ میری بغل میں ایک نوجوان بیٹھا ہے جو مجھے یہ جواب لکھا رہا ہے ۔ اب تو امام صاحب نے میری طرف گردن گھمائی اور قریب بلایا۔ غور سے دیکھ کر پوچھا شافعی ہو۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ! آپ نے مجھے گھسیٹ کر سینے سے لگا لیا ۔ پھر کرسی سے اتر پڑے اور مجھ سے کہا علم کا جو باب ہم شروع کر چکے ہیں، تم اس کو پورا کرو۔ میں نے تعمیل کی لیکن میرے چار سوالوں کا کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔

امام صاحب نے میری پیٹھ تھپکی۔ میری تعریف کی اور نماز کے بعد مجھے اپنے گھر لے گئے ۔ پرانی عمارت کی جگہ اب نئی عمارت کھڑی تھی ۔ میں یہ دیکھ کر بے اختیار رونے لگا۔ یہ دیکھ کر امام نے کہا، تم روتے کیوں ہو، شاید یہ سمجھ رہے ہو کہ میں نے دنیا کے لیے آخرت تج کر دی ہے۔ عرض کیا یہی اندیشہ میرے دل میں پیدا ہوا تھا ۔ کہنے لگے تمہارا دل مطمئن رہے، تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں جو کچھ دیکھ رہے ہو ، یہ سب ہدیہ اور تحفہ ہے ۔ خراسان سے ، مصر سے ، دنیا کے دور دراز گوشوں سے ہدیئے چلے آرہے ہیں۔ نبیﷺ ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے اور صدقہ رد فرما دیتے تھے ۔ میرے پاس اس وقت خراسان اور مصر کے اعلیٰ ترین کپڑوں کے تین سو خلعت موجود ہیں ۔ اب یہ سب تمہارے لیے ہدیہ ہیں ۔ صندوقوں میں پانچ ہزار دینار ہیں ۔ ان کی زکوۃ نکلی ہوئی ہے ، اس کی آدھی رقم تمہاری ہے۔ صبح نماز فجر ادا کر کے نکلے تو ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ دروازے پر خراسانی گھوڑے اور مصری خچر کھڑے تھے ۔ میرے منہ سے نکل گیا ایسے خوبصورت گھوڑے تو میں نے آج تک نہیں دیکھے ۔ امام صاحب نے فرمایا کہ یہ تمام سواریاں تمہارے لیے ہدیہ ہیں ۔ میں نے عرض کیا کم از کم ایک جانور تو اپنے لیے رکھ لیجیے ۔ امام نے جواب دیا مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ اس زمین کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندوں جس کے نیچے رسول پاکﷺ آرام فرما رہے ہیں۔

تین دن بعد میں مکہ روانہ ہو گیا مگر اس حال میں کہ خدا کی بخشی ہوئی خیرو برکت اور مال و متاع میرے آگے آگے جارہے تھے۔ حدود حرم کے قریب والدہ مکرمہ چند عورتوں کے ساتھ ملیں۔ انھوں نے مجھے گلے سے لگایا ۔ میں نے آگے بڑھنا چاہا تو والدہ کہنے لگیں کہاں جا رہے ہو۔ میں عرض کیا گھر چلیں۔ فرمانے لگیں افسوس! کل تو مکہ سے فقیر کی صورت میں گیا تھا اور آج امیر بن کر لوٹا ہے تا کہ اپنے چچیرے بھائی بندوں پر گھمنڈ کرے۔ میں نے عرض کیا پھر کیا کروں ، کہنے لگیں منادی کرا دو، بھوکے آئیں اور کھائیں ، پیدل آئیں اور سواری لے جائیں ، ننگے آئیں اور کپڑے پہن لیں ۔ اس دنیا میں تیری آبرو بڑھے گی اور آخرت میں اجر بھی محفوظ رہے گا۔ میں نے والدہ کے حکم کی تعمیل کی ۔ یہ خبر امام مالکؒ نے بھی سنی اور کہلا بھیجا جتنا دے چکا ہوں، اتنا ہر سال بھیجتا رہوں گا۔ چنانچہ گیارہ سال تک انھوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

پاکستان میں انسانی تہذیب کی شروعات

پروفیسر عبدالحمید دانی لکھتے ہیں کہ ’’انسان اوزار ساز ہونے پر مجبور ہے، انہیں اوزاروں کی مدد سے اور ان کے ارتقا سے ہم زمانہ قبل از تاریخ کے انسان کا، اس کے خیالات اور اعمال کے ارتقا کا، قدرت کے خلاف اس کی جدوجہد کا اور اپنے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے اور سہولتیں فراہم کرنے کا… مختصر یہ کہ اس کی پوری تہذیبی تشکیل کا سراغ لگاتے ہیں۔ چنانچہ قدیم انسان کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ اوزار ہوتے ہیں۔‘‘ یہ ابتدائی اوزار راولپنڈی سے تقریباً 10 میل کے فاصلے پر سُوان ندی کے کنارے کثیر تعداد میں دستیاب ہوئے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے قدیم ترین باشندوں کے لیے ’’سوانی تہذیب‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اوزاروں کی ساخت بتاتی ہے کہ وادیٔ سُوان (پوٹھوہار) کے لوگ ان سے کلہاڑی، گوشت کاٹنے کے چھرے اور کھال کھرچنے کا کام لیتے تھے۔ 

سوانی تہذیب کے ان آثار سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں دشوار نہیں ہے کہ پاکستان کے ابتدائی باشندوں کا رہن سہن اور فکرو احساس کا نظام حجری دور کے دوسرے معاشروں سے مختلف نہیں تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں درختوں پر یا غاروں میں رہتے تھے۔ ہزارہ، پشاور اور مردان کے اضلاع میں ایسے کئی غار دریافت ہو چکے ہیں۔ مردان کے ایک غار میں تو اوزاروں کے علاوہ چولھے کے پاس جانوروں کی جلی ہوئی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔ وہ جنگلی پھل پھول کھاتے تھے۔ جانوروں کا شکار کرتے تھے اور ان کی کھال سے اپنا تن ڈھانکتے تھے۔ وہ درندوں اور دوسرے گروہوں کے خوف سے ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک ساتھ شکار کرتے تھے اور پھر اسے آپس میں مل بانٹ کر کھاتے تھے۔ البتہ ہم ان آثار کی مدد سے یہ نہیں بتا سکتے کہ سوانی تہذیب کے لوگ کس نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ کون سی زبان بولتے تھے۔ ان کا رنگ کیسا تھا اور ان کے چہرے کی بناوٹ کیا تھی۔

یہ پہلا حجری دور کب ختم ہوا اور پوٹھواریوں نے کھیتی باڑی کب شروع کی، ان سوالات کے جواب کے لیے ہمیں شاید انتظار کرنا پڑے۔ پاکستان میں دوسرا حجری دور کھیتی باڑی سے شروع ہوا۔ کھیتی باڑی انسان کا نہایت انقلاب آفریں تجربہ تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ اس فن کی ایجاد ہی کی بدولت انسان انسان کہلانے کا مستحق ہوا۔ زراعت کا فن سیکھنے کے بعد وہ اپنی ضروریات زندگی خود پیدا کرنے لگا۔ اس طرح انسان کو اپنی ذاتی صلاحیتوں کا شعور ہوا اور وہ اپنی تخلیقی قوتوں سے کام لے کر اپنے لیے ایک جہان تازہ پیدا کرنے پر قادر ہوا۔ پہلے حجری دور کے ذہنی اور حسی محرکات کا محور اگر انسانوں اور جانوروں کی افزائش نسل کی آرزو تھی تو دوسرے حجری دور کے رسوم و افسوں کا محرک افزائش نسل اور افزائش فصل کے تقاضے تھے۔

انہیں تقاضوں کی تکمیل کے دوران میں بلوچستان کے کاشت کاروں نے دھات کا استعمال معلوم کر لیا۔ تب ہم دیہی تہذیب سے ترقی کر کے وادیٔ سندھ کی شہری تہذیب تک پہنچ گئے۔ تہذیب نے تمدن کا لباس فاخرہ زیب تن کر لیا اور طبقات میں بٹ گئی۔ محققین نے سوانی تہذیب اور موہن جو ڈرو؍ ہڑپہ کی شہری تہذیب کے درمیان چار دیہی یا زرعی تہذیبیں دریافت کی ہیں۔ ان تہذیبوں میں بعض باتیں مشترک ہیں اور بعض باتیں فرق ہیں۔ مثلاً زراعت ان کی مشترکہ خصوصیت تھی۔ وہ کھیت جوتنے کے لیے ہل اور کدال، جن کے پھل نوکیلے پتھر کے ہوتے تھے، استعمال کرتے تھے۔ وہ جَو، گیہوں اور دالیں بوتے تھے۔ فصل پتھر کی ہنسیوں سے کاٹتے تھے اور اناج کو پتھر کی چکیوں میں پیستے تھے۔ انہیں پتھر کے چاک پر مٹی کے نقشی برتن بنانے اور ان برتنوں کو آگ میں پکانے کا ہنر بھی آتا تھا۔ ان کی بستیوں کا رقبہ زیادہ سے زیادہ ڈھائی ایکڑ ہوتا تھا۔ 

سندھ اور بلوچستان کے آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے کے لوگ موہن جو دڑو؍ ہڑپہ تہذیب سے پیشتر بہت ترقی یافتہ تھے بلکہ موہن جو دڑو والوں نے بعض باتیں انہیں سے سیکھی تھیں۔ موہن جو دڑو؍ ہڑپہ کی تہذیب کو عرف عام میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کہتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کانسی کے دور کا نقطۂ عروج تھی۔ یہ تہذیب کوہ ہمالیہ کے دامن سے کاٹھیاواڑ تک اور کوئٹہ سے راجپوتانہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی تہذیبی تھی کیونکہ اس کا دائرہ ہم عصر مصری، سومیری اور ایرانی تہذیبوں سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ یہ تہذیب تقریباً ایک ہزار برس تک بڑی آن بان سے زندہ رہی۔ اس کے آثار میں دو بڑے شہر موہن جو دڑو اور ہڑپہ ہیں۔ بقیہ چھوٹی چھوٹی بستیاں جو پورے سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ موہن جو دڑو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھا اور ہڑپہ دریائے راوی کے کنارے۔ 

خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں شہر وادیٔ سندھ کے دارالسلطنت تھے۔ موہن جو دڑو تجارتی بندرگاہ بھی تھا جس کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ آج کل کی طرح اس زمانے میں وادیٔ سندھ کے باشندوں کی غالب اکثریت گاؤں میں رہتی اور کھیتی باڑی کرتی تھی۔ یہ لوگ جَو، گیہوں، رائی اور تِل کی کاشت کرتے تھے۔ گائے، بیل، بھینس، بھیڑ، بکری، اونٹ، گھوڑے، گدھے اور کتے پالتے تھے۔ کپاس اگاتے اور سوت کے کپڑے پہنتے تھے۔ کپاس ان کی اجارہ داری تھی چنانچہ وہ بھی ہمارے طرح کپاس اور سوتی سامان دساور بھیج کر زرمبادلہ کماتے تھے۔ وادیٔ سندھ کے برتن بھانڈے عموماً مٹی کے ہوتے تھے۔ اسی وضع کے جیسے آج کل بنتے ہیں۔

حتیٰ کہ ان کے نقش و نگار میں تین ہزار برس گزر جانے کے بعد بھی فرق نہیں آیا۔ ان لوگوں کو سونے، چاندی، تانبا، ٹن اور جست کو گلا کر اوزار اور زیورات بنانا آتا تھا۔ اونچے طبقے کی عورتوں کو آرائش و زیبائش کا بڑا شوق تھا، چنانچہ ہڑپہ اور موہن جو دڑو سے سونے چاندی کے بکثرت ہار، مالائیں، گلوبند، کڑے، جھومر، کرن پھول، ناک کی کیلیں اور سرمہ دانیاں ملی ہیں۔ کانسی کے آلات میں کلہاڑیاں، استرے، چاقو اور بلم بھالوں کے چھوٹے چھوٹے پھل دستیاب ہوئے ہیں۔ البتہ ڈھال تلوار، خود، زرہ بکتر یعنی جنگی اسلحہ ایک بھی نہیں ملا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وادیٔ سندھ کا معاشرہ محفوظ معاشرہ تھا۔ لوگ بڑے امن پسند اور صلح جُو تھے۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری ان کا شیوہ نہ تھا۔

سبطِ حسن

بشکریہ دنیا نیوز

علم : اندھیروں سے روشنی کا سفر

علم کی ہر دور میں اہمیت اور ضرورت رہی، جن لوگوں نے کامیاب زندگی گزاری، ان کو علم سے روشنی اور راہِ عمل ملی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ علم حاصل کرنے والے کی زندگی ناکام اور نامراد ہو۔ صدیوں سے علم کو کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے، کتابوں کا دور شروع ہونے سے قبل علم کا سلسلہ زبانی اور سینہ بہ سینہ تھا۔ انسان کا حافظہ بہت تیز تھا اور ایک دوسرے سے زبانی طور پر علم حاصل کرتے تھے۔ کاغذ کا دور شروع ہونے سے بھی صدیوں قبل کتابیں لکھی جانے لگی تھیں، چمڑے پر، درختوں، پتھروں اور دیگر اشیاء پر۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون سا علم حاصل کیا جائے؟ کیوںکہ علم تو سمندر ہے اور کوئی اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکا۔ بنیادی طور پر ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہمیں کس نے پیدا کیا؟ کیوں پیدا کیا؟ کس لیے پیدا کیا؟

ہماری دنیا میں آمد کا مقصد کیا ہے، دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کیا ہے، ہمارے شہر، ہمارے ملک، امت مسلمہ اور دنیا کی تاریخ کیا ہے، ایسا کیا کریں کہ ہماری زندگی کامیاب گزرے، علم اور ادب، شعر وسخن، وغیرہ وغیرہ کیا ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب کتابوں ہی سے مل سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا صرف معلومات دے سکتی ہے، علم نہیں۔ ہوش سنبھالنے یعنی لڑکپن سے جوانی کی حدود میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی ہمیں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہئیں۔ انسان کے مقصد ِ حیات اور زندگی گزارنے کے بنیادی اصولوں کے درست اور جامع جواب ہمیں کوئی انسان دے ہی نہیں سکتا، ان کے جوابات تو ہمارا خالق اور ہمارا ربّ ہی دے سکتا ہے اور اس نے ابتدائے آفرینش سے اس کا اہتمام کیا۔ یعنی آسمانی کتابیں اور انبیاء کی بعثت کا سلسلہ۔ تمام آسمانی کتابوں میں تحریف ہوتی رہی اور سرکش اور مفسد لوگ اور شیطان کے پیروکار انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔

صرف آخری آسمانی کتاب یعنی قرآن کریم میں نہ تو کوئی تحریف ہو سکی اور نہ ہی ممکن ہے، کیوںکہ ہمارے ربّ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور عملی قرآن یعنی سرکار دو عالم سیدنا محمد مصطفیٰ ؐ کی ذات بابرکات۔ قرآن اور سنت کی روشنی میں انسان خاص طور پر مسلمانوں کو ان تمام سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں، جن کی تلاش میں اگر زمین اور آسمان ایک کر دیے جائیں تو نہ مل سکیں۔ یہ دونوں انسان کی عملی ہدایت کے لازوال سرچشمے ہیں۔ ہر انسان کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ کامیاب زندگی گزارے، اس کے پاس دولت ہو، گاڑی ہو، خوبصورت شریک حیات اور بچے ہوں اور کوئی غم اس کے قریب نہ آئے۔ مگر محض آرزو کرنے اور دوسروں کی نقالی کرنے سے یہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ 

قرآن وسنت وہ راستہ دکھاتے ہیں، جن سے دنیا کی زندگی بھی چین اور سکون سے گزرتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ جس وقت بھی یہ احساس ہو جائے کہ علم حاصل کرنا ہے اور اندھیروں سے روشنی میں آنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے چوبیس گھنٹوں کا شیڈول تیار کرنا اور اس پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ پہلے دس دن تو اس امر کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ ہمارے دن اور رات کن کاموں میں صرف ہوتے ہیں۔ اس مشق سے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا وقت کن کاموں میں گزرتا ہے۔ طالب علم اپنی تدریسی سرگرمیوں، جوان اپنے حصول روزگار، خواتین اپنے گھریلو کاموں اور بوڑھے دیگر کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن دس دن اپنی مصروفیات کو تحریری صورت دینے سے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا وقت کن کن کاموں میں صرف ہو رہا ہے۔ اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم روزانہ اوسطاً پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔ 

ضرورت سے زیادہ سونے، کھانے پینے، نہانے دھونے، سفر کرنے اور دیگر کام سست رفتاری سے کرنے میں۔ خاص طور پر موجودہ دور میں موبائل فون وقت ضائع کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے اور دوسرا نمبر ٹیلی ویژن اور دوستوں کا ہے۔ اگر کامیاب زندگی گزارنی ہے تو چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنا کر فالتو کاموں سے جان چھڑانا ہو گی۔ دیگر اچھے کاموں کے ساتھ ساتھ ہر فرد آسانی کے ساتھ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ مطالعہ کے لیے وقف کر سکتا ہے۔ میں تو ہر ایک کو یہی مشورہ دوں گا کہ صبح سویرے بیدار ہو کر فرائض و واجبات سے فارغ ہو کر قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر، احادیث اور سیرت النبیؐ اور حیات صحابہ کرام ؓ اور اولیائے کرام ؒ کا تھوڑا تھوڑا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان کے علاوہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، جن میں آپ کو دلچسپی ہو اور دل لگے اور ان کے مطالعہ کے دوران آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جائیں، جو آپ کے دل ودماغ کو تازگی بخشیں اور انہیں روشن کر دیں۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو مطالعہ سے پہلے اپنے بڑوں اور اساتذہ سے مشورہ کر لیں۔

تعلیمی اداروں میں زیادہ تر وہ علم حاصل کیا جاتا ہے، جو اچھے روزگار کی ضمانت دے سکے، لیکن یہاں اس علم پر زور دیا جارہا ہے، جو آدمی کو انسان بنا سکے اور انسانیت سکھا سکے۔ اس حوالے سے مندرجہ بالا موضوعات کے علاوہ ادب، شاعری، سیاحت، جغرافیہ اور کہانیوں کے علاوہ تاریخ کا مطالعہ بھی بہت کارآمد ہے۔ خاص طور پر اپنے وطن پاکستان کی تاریخ، اسلام کی تاریخ، اور تاریخ عالم۔ جس کی بدولت ہمیں گزری ہوئی اقوام اور عہد حاضر کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے گی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ علم سمندر ہے، ہمیں یہ غور کرنا ہے کہ ہم اس سمندر سے کتنا استفادہ کریں، جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کر دے۔

مطالعہ کے لیے اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے اوقات مقرر کرنے چاہئیں۔ جیسے صبح کا وقت اور رات کو سونے سے پیش تر۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک کتاب ساتھ رہنا چاہیے، جسے سفر میں اور مختلف مقامات پر انتظار کے دوران پڑھا جا سکے۔ مطالعہ کے ساتھ اسے جذب کرنا بھی ضروری ہے، یعنی وہ آپ کے ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ہو جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ پڑھا ہو، اس کے نوٹس لیے جائیں اور اس کے بارے میں اپنے اہل خانہ اور قریبی دوستوں سے گفتگو کی جائے تاکہ نہ صرف یہ کہ دوسرے اس سے مستفید ہوں، بلکہ وہ آپ کے اندر جذب ہو جائے۔ کوشش کریں کہ فضول کتابوں کے مطالعہ میں وقت ضائع نہ کریں، بلکہ ایسا علم حاصل کریں جو نافع ہو، نافع سے مراد یہ نہیں کہ اس کی بدولت آپ کو بہت سے پیسے مل جائیں بلکہ اس کی بدولت آپ اچھے انسان بن جائیں، اپنے ربّ کے بندے، دوسروں سے محبت کرنے والے اور دوسروں کے کام آنے والے۔ اسی کو علم نافع کہا گیا ہے۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ اللہ سے علم نافع کا سوال کرو اور غیر نافع علم سے پناہ مانگو!۔

شبیر ابن عادل

بشکریہ روزنامہ جسارت

پنجاب کا تاریخی پس منظر

پنجاب انسانی آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا نہایت ہی قدیم خطہ ہے۔ لفظ پنجاب علاقے کے نام کے طور پر مسلمانوں کی آمد کے بعد رائج ہوا۔ یہاں پر لاکھوں سال پہلے قدیم پتھر کے زمانے کا انسان آباد تھا جو جنگلی زندگی بسر کرتا تھا اور پتھر کے اوزاروں سے شکار کھیلتا تھا۔ پنجاب میں تاریخی دور کا آغاز آریائوں کی آمد کے بعد سے ہوا۔ انہوں نے پنجاب میں قیام کے دوران کتاب ’’رگ وید‘‘ تصنیف کی۔ اس میں پنجاب کو ’’سپت سندھو‘‘ لکھا گیا ہے۔ سپت کے معنی سات اور سندھو کے معنی دریا کے ہیں۔ ان سات دریائوں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ چھٹے اور ساتویں دریا کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ 

بعض کے خیال میں باقی دو دریا، دریائے سندھ اور سرسوتی ہیں جبکہ کچھ دریائے کابل اور دریائے جیحوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ اِس کے بعد اس کا نام ’’پنج ند‘‘ مشہور ہوا جس کے معنی پانچ ندیاں یا پانچ دریا ہیں۔ یہ پانچ دریا شندر یعنی ستلج، ویباس یعنی بیاس، ایراوتی یعنی راوی، چندربھاگ یعنی چناب اور وتست یعنی جہلم ہیں۔ پنجاب پنجند کا فارسی ترجمہ ہے۔ پنجند کا لفظ مہا بھارت اور ما بعد لٹریچر میں بھی مستعمل ہے۔ آج کل پنجند اس مقام کو کہتے ہیں جہاں پنجاب کے پانچ دریا ملتے ہیں۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے لیے آریہ وات، بہلیک یا بہیگ کا نام بھی تاریخ میں استعمال ہوا ہے۔ بہلیک یا وہیک پنجاب کا ایک قدیم قبیلہ تھا۔ قبیلوں کے اعتبار سے پنجاب کے بعض مخصوص خطوں کا نام مدر دیس، مدر قبیلہ کی نسبت سے بھی رہا۔ 

کورووں اور پانڈوں کی لڑائیوں کے زمرے میں پنجاب کا نام پنجال میں بھی ملتا ہے۔ یونانیوں کے عہد میں اس کو ’’پنیٹا پوٹامیہ‘‘ بھی کہا جاتا رہا یعنی پانچ دریائوں کی سرزمین۔ اس کے بعد اسے ’’ٹکی دیس‘‘ کہا جاتا رہا۔ مشہور چینی سیاح ہیون سانگ کی ساتویں صدی عیسوی میںہندوستان آمد کے وقت پنجاب کا یہی نام رائج تھا۔ بعض سنسکرتی ماخذوں میں پنجاب کے لیے پنج امبو کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ پنج امبو کے معنی بھی پانچ پانیوں کی سرزمین ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر کے عہد میں پہلی بار اس سرزمین کو پنجاب کے نام سے موسوم کیا گیا۔ پنجاب کے مذکورہ تمام قدیم نام صفحۂ ہستی سے معدوم ہو گئے اور اس کا نیا فارسی نام پنجاب ہی آج تک زندہ و پائندہ ہے۔ 

پنج کے معنی پانچ، آب کے معنی پانی۔ یعنی پانچ پانیوں کی سرزمین۔ عمومی طور پر یہ پانچ دریا ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم لیے جاتے ہیں۔ پنجاب کا یہ دریائی نظام دنیا کا پانچواں عظیم ترین دریائی نظام ہے جو یہاں کے لوگوں کے لیے ایک بیش بہا قدرتی عطیہ ہے۔ خوشحالی کے سبب جو انسان یہاں پیدا ہوا وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا ، خوشحالی کے چرچے سُن کر جو غیر ملکی حملہ آور، تاجر، مبلغ اور دوسرے لوگ یہاں آئے وہ بھی یہیں کے ہو کے رہ گئے۔ ان میں دراوڑ، آریہ، ایرانی، چینی، منگول، مغل اور عربی شامل ہیں۔ وہ یہاں کا رہن سہن سیکھ گئے۔ پنجاب میں تہذیب و تمدن کا تنوع ان ہی لوگوں کی وجہ سے ہے۔ پنجاب کی سواں تہذیب، دنیا کی قدیم ترین تہذیب خیال کی جاتی ہے۔

وادی سواں کے اردگرد کے علاقوں میں انسان کثیر تعداد میں رہتے تھے۔ ان کے زیر استعمال پتھر کے اوزار جگہ جگہ ملے ہیں۔ دریائے سواں دریائے سندھ کا معاون دریا ہے اور راولپنڈی کے قریب بہتا ہے۔ وادیٔ سواں راولپنڈی ، اٹک ، جہلم، ہزارہ، سرگودھا اور خوشاب کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ سواں صنعت کے پتھریلے اوزاروں میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر ’’ٹوکا‘‘ ہے۔ اس قسم کے اوزار دنیا میں اور کہیں بھی نہیں ملے۔ رفتہ رفتہ سواں کی صنعت بھی تبدیل ہوتی گئی۔ پہلے یہ لوگ غاروں رہتے تھے، گھاس پھوس اور شاید تنکوں کے خیمے بھی بنائے ۔ جانوروں کا شکار کرنے کے بعد ان کی کھالیں لباس کے طور پر استعمال کرتے تھے اور خوراک کا انحصار قدرت پر تھا یعنی نباتات اور حیوانات ہی ان کی خوراک تھی۔ پھر رفتہ رفتہ وہ انسان زراعت سے واقف ہوتا گیا۔ 

جدید حجری دور میں اس نے رگڑائی کے ذریعے پتھر کے متفرق حصوں کو جوڑ کر اوزار بنانے سیکھ لیے۔ اس دَور میں لوگ باقاعدہ مکانات بنا کر چھوٹی چھوٹی بستیوں کی شکل میں آباد ہو گئے تھے اور آبادی کا خاصا بڑا حصہ مکمل خانہ بدوشی چھوڑ کر نیم آباد ہو چکا تھا۔ بارش زیادہ ہوتی تھی اور وسیع جنگلات موجود تھے۔ جدید حجری دور کے بعد ’’ابتدائی ہڑپائی‘‘ دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کا زمانہ چار ہزار سال ق۔م سے لے کر ۲۳۷۰ سال ق۔م مقرر کیا گیا ہے۔ اس دَور میں شہری معاشرے کا آغاز ہو گیا ۔ انسان خانہ بدوشی کی زندگی ترک کر کے اجتماعی آبادیوں میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ انہوں نے پودے اُگانے اور گھروں میں جانور پالنے بھی شروع کر دئیے۔

انہی اَدوار میں انسان نے برتن سازی کی مہارت میں بڑی ترقی کی۔ نیزانسان نے برتنوں کو منقش کرنے کا فن بھی ایجاد کیا، پھر متنوع قسم کی دستکاریوں کو رواج دیا۔ پنجاب میں اس دَور کے آثار سرائے کالا (ٹیکسلا) ، پنڈ نوشہری، کھنڈا، جلیل پور، ہڑپہ، بھوت اور چولستان کے علاقے میں بے شمار مقامات سے ملے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رفیق مغل نے صرف چُولستان میں ۳۶۳ مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اسی وجہ سے اسے ہڑپن تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔

اسد سلیم شیخ

 

جناح آف پاکستان کے مصنف سٹینلے والپرٹ انتقال کر گئے

پاکستان میں ’جناح آف پاکستان‘ کتاب سے شہرت حاصل کرنے والے معروف مصنف سٹینلے والپرٹ 91 ویں برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سٹینلے والپرٹ کا انتقال امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہوا. سٹینلے والپرٹ 23 دسمبر 1927 میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی سے مطالعے کا شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے پینسلوینیا یونیورسٹی سے ‘ساؤتھ ایشیاء اسٹیڈیز’ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی جس کے بعد برصغیر پاک و ہند کے عنوانات پر کتابیں بھی تحریر کیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 59 برس تعلیمی خدمات کے لیے وقف کیے اس دوران انہوں نے 15 کتابیں لکھیں جن میں چار افسانوی کتابیں بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں ان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ’جناح آف پاکستان‘ ہے جو 1982 میں تحریر کی گئی تھی۔ یہ کتاب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کی آپ بیتی ہے جس میں بابائے قوم کی پاکستان کے حصول کے لیے جدوجہد اور ان کی خدمات کو بیان کیا گیا ہے۔ سٹینلے والپرٹ کی لکھی گئی’جناح آف پاکستان‘ بانی پاکستان پر لکھی جانے والی بہترین سوانح حیات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ سٹینلے والپرٹ ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح حیات بھی تحریر کر چکے ہیں۔

سندہ میں موئنجودڑو سے بھی قدیم ثقافت دریافت کر لی گئی

لاڑکانہ سے 30 کلومیٹر کی دوری پر رتوڈیرو قصبے کے مضافات میں ایک مقبرہ واقع ہے۔ سترھویں صدی عیسوی میں ایک ٹیلے پر تعمیر کردہ یہ مقبرہ مقامی آبادی میں ’’ بھانڈو جو قبو‘‘ کے نام سے مقبول ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقبرے میں رتو ڈیرو کے بانی رتوخان جلبانی کی باقیات دفن ہیں جنھوں نے بیرونی حملہ آوروں سے اپنی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے جان قربان کر دی تھی۔ عین ممکن تھا کہ یہ مقبرہ اور اس سے وابستہ داستان مقامی آبادی ہی تک محدود رہتی تاہم دو عشرے قبل رونما ہونے والے ایک حادثے کے نتیجے میں یہاں قدیم انسانی ساختہ اشیاء و نوادرات دریافت ہوئے، جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ مقبرہ مقامی آبادی کے لیے صد قابل احترام ہستی کی آخری آرام گاہ ہی نہیں بلکہ کسی قدیم تہذیب کا بھی مدفن ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ’’بھانڈو جو قبو‘‘ میں دریافت ہونے والے آثار وادیٔ سندھ کی تہذیب سے بھی قدیم ہیں۔ شاہ لطیف یونی ورسٹی کے شعبہ آثاریات کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محی الدین ویسار نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقام پر کھدائی کے دوران ہم نے جو دستکاریاں دریافت کی ہیں جو کوٹ ڈیجی کی ثقافت سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، جن کے بارے میں مقامی اور عالمی ماہرین آثار قدیمہ کو یقین ہے کہ وہ وادی سندھ کی تہذیب سے زیادہ قدیم ہیں اور ممکنہ طور پر اس خطے کی سب سے قدیم ثقافت ہے۔ ڈاکٹر غلام محی الدین نے بتایا کہ کوٹ ڈیجی کی 2800 قبل مسیح قدیم ثقافت پیچیدہ سماجی اقتصادی نظام کے ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے 2500 قبل مسیح میں وادی سندھ کی تہذیب کی صورت اختیار کر گئی، جہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قصبے تعمیر کیے جاتے تھے اور جہاں باقاعدہ تحریری زبان موجود تھی۔

موہن جو دڑو کے آثار قدیمہ میں بھی یہی بات سب سے نمایاں ہے۔ ڈاکٹر غلام محی الدین ویسار کے مطابق جو ’’ بھانڈو جو قبو‘‘ پر آثار قدیمہ دریافت کرنے والی ٹیم کے رکن تھے، ماہرین آثار قدیمہ کے علم میں یہ جگہ 1998ء میں آچکی تھی جب سندھ کو ملک کے باقی حصوں سے ملانے والی انڈس ہائی وے تعمیر کی جارہی تھی۔ انھوں نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ہمیں اس ٹیلے کا ہائی وے کے حکام سے پتا چلا تھا۔ شاہراہ کی تعمیر کے دوران تعمیراتی کارکنان نے 400 میٹر چوڑے ٹیلے کا نصف حصہ کھود ڈالا تھا۔ انھوں نے یہاں قدیم آثار کی موجودگی کی اطلاع دی۔ ڈاکٹر غلام محی الدین کے مطابق جلد ہی انھوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ کیا اور بہت جلد کھدائی کا آغاز کر دیا گیا۔ ڈاکٹر ویسار کہتے ہیں کہ ہم نے کھدائی شروع کی تو ہمیں جو اشیاء اور دستکاریاں ملیں وہ کوٹ ڈیجی کی ثقافت سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔

’’بھانڈو جو قبو‘‘ سے نکالی گئی کچھ دستکاریاں اور برتن وغیرہ پر ویسے ہی نقش و نگار بنے ہوئے تھے جو موئن جو دڑو سے دریافت شدہ دستکاریوں پر موجود تھے۔ ’’بھانڈو جو قبو‘‘ دریافت ہونے والی دستکاریوں میں مٹی کے شکستہ ظروف، جانوروں کی ہڈیاں، سنگی باٹ اور کوئلہ وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کو آتش دانوں کی باقیات بھی ملیں۔ ’’بھانڈو جو قبو‘‘ کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ویسار نے کہا کہ ایک عالمی جریدے میں مضمون شایع ہونے کے بعد دنیا بھر سے ماہرین آثار قدیمہ نے تحقیق کے لیے خیرپور یونی ورسٹی سے رابطہ کیا۔ چناں چہ 21 سال کے بعد اس مقام پر یونی ورسٹی آف بارسلونا اور ٹوکیو کی میجی یونی ورسٹی کے 5 ماہرین آثار قدیمہ کی مدد سے کھدائی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ٹیم میں غیرملکی ماہرین کے علاوہ خود ڈاکٹر ویسار اور ڈاکٹر قاصد ملاح بھی شامل ہیں۔

تحقیقی ٹیم میں شامل ڈاکٹر ملاح نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم 4 میٹر کی گہرائی تک کھدائی کر چکے ہیں۔ اب ہم یہاں سے نکالی گئی ہڈیاں اور کوئلے کو ریڈیو کارین ڈیٹنگ کے لیے اسپین بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ اس مقام کی صحیح عمر کا بالکل درست تعین ہو سکے ۔ تاریخی تحقیق کے حوالے سے وادی سندھ کی اہمیت پر اظہارخیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ملاح نے کہا کہ ممکنہ طور پر موئن جو دڑو وادی ٔ سندھ کی تہذیب کا مرکز ہو سکتا ہے تاہم یہ واحد شہر نہیں ہو سکتا تھا، یقیناً اس دور کی مزید آبادیاں ہنوز دریافت کیے جانے کی منتظر ہیں۔ ’’ بھانڈو جو قبو‘‘ کی تاریخ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مقبرہ سترھویں صدی عیسوی میں کلہوڑا حکمرانوں نے رتوخان جلبانی کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کرایا تھا۔

اگرچہ اس میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے تاہم مقامی تاریخ دانوں کو یقین ہے کہ رتوڈیرو کے بانی نے مغرب سے آنے والے پشتون لٹیروں سے جنگ میں اپنے قبیلے کی قیادت کرتے ہوئے شہادت پائی تھی۔ مقامی صحافی اعجاز قمبر نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی آبادی میں رائج داستان کے مطابق رتوخان کی شہادت کے بعد لٹیروں نے ان کا سر دھڑ سے جدا کر دیا تھا اور وہ ان کا سربریدہ جسم چھوڑ کر سر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اعجاز قمبر کے مطابق ’’ بھانڈو جو قبو‘‘ کا نام رتوخان کی سربریدہ جسم ہی کی وجہ سے پڑا۔ ’’ بھانڈو‘‘ سندھی میں دھڑ کو کہتے ہیں لہٰذا اس کا نام ’’ بھانڈو جو قبو‘‘ یعنی ’’ دھڑ کا مقبرہ یا مزار‘‘ پڑ گیا۔

حفیظ تنیو

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو