غدار سازی کی قانونی فیکٹری

وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بدترین قوانین بھی بہترین نیت سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ریاست بھلے جمہوری ہو کہ فسطائی کہ سامراجی کہ آمرانہ کہ نظریاتی۔ جب بھی کوئی تادیبی قانون نافذ کرتی ہے تو ایک جملہ ضرور کہا جاتا ہے ’’ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے‘‘۔ اور پھر یہی قانون ہر گدھے گھوڑے کو قطار میں رکھنے کے کام آتا ہے۔ بس انھی پر لاگو نہیں ہوتا جن کی سرکوبی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ خوف سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ جب انگریز نے انڈین پینل کوڈ میں اب سے ایک سو اکسٹھ برس پہلے غداری سے نپٹنے کے نام پر آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کا ٹیکہ لگایا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو انگریز سرکار کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جائے۔ انگریز تو چلا گیا، خود برطانیہ میں بھی ایسے قانون کا وجود نہیں مگر انڈیا اور پاکستان کے سانولے آقاؤں نے گورے کے مرتب کردہ لگ بھگ پونے دو سو برس پرانے نوآبادیاتی پینل کوڈ کے اندر سے تادیبی ضوابط کو چن چن کر اماں کے جہیز میں ملے منقش لوٹے کی طرح آج بھی سینے سے لگا رکھا ہے۔

مثلاً نوآبادیاتی دور کی یادگار پینل کوڈ کا آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کسی بھی شہری کو غدار قرار دے سکتا ہے، اگر حکومت ِ وقت کی نظر میں اس شہری نے اپنی زبان یا تحریر سے، براہ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں کنایوں میں یا کسی اور طریقے سے سرکار کی توہین کرنے یا اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہو۔ ایسے غدار کو تین برس سے عمر قید تک سزا ہو سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت قانون کے دائرے میں آزادیِ اظہار کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے مگر پینل کوڈ کے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے، اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے ایکٹ اور اسی کے دیگر چچیرے ممیرے قوانین کے تحت دونوں ملکوں میں اس آئینی آزادی کو بیڑیاں پہنانے کا بھی تسلی بخش انتظام رکھا گیا ہے۔ تادیبی قوانین کو کیسے موم کی ناک بنا کر انھی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے کہ جن کے تحفظ کے نام پر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ایمرجنسی کے تحت ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) کا قانون تھا۔ جسے نہ صرف ایوبی و یحییٰ آمریت بلکہ بھٹو دور میں بھی سیاسی مخالفین کی تواضع کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ایمرجنسی قانون کا حکمران کو سب سے بڑا اور فوری فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کسی بھی منہ پھٹ کی زباں بندی کے لیے اسے بنا کسی فردِ جرم نوے دن کے لیے جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ ضیا دور میں نفاذِ شریعت کے نام پر جو تعزیری قوانین بنائے گئے اور پینل کوڈ میں جو ترامیم کی گئیں ان کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا کہ عوام ایک نوآبادیاتی قانونی شکنجے سے آزاد ہو کر اس نظام کے تحت محفوظ زندگی بسر کر سکیں جس کے نفاذ کے لیے دراصل یہ ملک بنایا گیا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ شرعی تعزیری قوانین کو بھی سیاسی مخالفین کو لگام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس کی چاندی ہو گئی۔ اگر مٹھی گرم ہو گئی تو ملزم کے خلاف اینگلو سیکسن قانون کے تحت پرچہ کٹ گیا۔ نہ بات بنی تو ایف آئی آر میں تعزیری دفعات شامل کر دی گئیں۔ اب یہ ملزم کا کام ہے کہ وہ کبھی اس عدالت میں تو کبھی اس عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں جوتے گھساتا رہے۔

سرحد پار بھارت میں آرٹیکل دو سو چوبیس اے کے تحت کیسے کیسے غدار اور دہشت گرد پکڑے گئے۔  بال گنگا دھرتلک، گاندھی جی نوآبادیاتی دور میں اس آرٹیکل کے جال میں پھنسے۔ دورِ مودی میں کانگریسی رہنما ششہی تھرور، گجرات کے کسان رہنما ہاردک پٹیل، نامور ادیبہ اور سیاسی نقاد ارودن دھتی رائے، طالبِ علم رہنما کنہیا کمار ، معروف اداکارہ کنگنا رناوت ، سرکردہ صحافی راج دیپ سر ڈیسائی، ونود دعا، مرنال پانڈے، ظفر آغا ، کارٹونسٹ اسیم ترویدی وغیرہ وغیرہ۔ دو ہزار دس سے دو ہزار بیس تک کے دس برس میں انڈیا میں غداری کے آٹھ سو سولہ مقدمے درج کیے گئے۔ ان میں سے پینسٹھ فیصد پرچے مئی دو ہزار چودہ میں مودی سرکار بننے کے بعد کاٹے گئے۔ ایسے ایسے غدار گرفتار ہوئے کہ اصل غداروں نے بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ مثلاً گجرات کے ایک صحافی پر اس لیے غداری کا پرچہ کاٹ دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی کہ جلد ہی گجرات کی ریاستی قیادت بدلنے والی ہے۔ یو پی میں جب ایک صحافی نے ریپ ہونے والی ایک لڑکی کے گھر جا کر حقیقت جانے کی کوشش کی تو وہ بھی آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے تحت دھر لیا گیا۔

ریاست منی پور میں ایک رپورٹر نے جب سوشل میڈیا پر بی جے پی کے ایک صوبائی رہنما کی بیوی کی پوسٹ کا جواب دیا تو وہ بھی غداری میں پکڑا گیا۔ ایک شہری نے فیس بک پر ایک مودی مخالف کارٹون شئیر کیا تو اس کے ساتھ بھی یہی بیتی۔ ماحولیاتی تحریک سے وابستہ بائیس سالہ کارکن دیشا روی گریٹا تھون برگ کا ٹویٹ شئیر کرنے پر پولیس کے ہاتھوں پرچہ کٹوا بیٹھی۔ ریاست کرناٹک کے ایک اسکول میں جب بچوں نے شہریت کے نئے قانون سے متعلق ڈرامہ پیش کیا تو ایک دس سالہ بچی کے منہ سے ادا ہونے والے ایک جملے کے جرم میں اس کی ماں کو پکڑ لیا گیا اور اسکول کی پرنسپل اور عملے پر غداری کا پرچہ ہو گیا۔ پاکستان میں ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو اور سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی سمیت چوہتر برس میں متعدد سیاسی رہنما ، سماجی و سیاسی کارکن ، صحافی ، ادیب اور دانشور آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے غدار بنے۔ چند ماہ قبل مسلم لیگ نون کی لاہور میں نکلنے والی ایک ریلی کے بعد لگ بھگ ڈھائی سو لوگوں پر یہ قانون ٹھوک دیا گیا۔

سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سہولتوں کی کمی پر وائس چانسلر دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے طلبا اور لاہور میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے جلوس نکالنے والے بیسیوں نوجوان بھی غداری کے پرچے میں پھنس گئے۔ گویا قانون نہ ہوا اندھے کی لاٹھی ہو گئی جیسے چاہے گھما دی۔ اس برس جنوری میں پاکستانی سینیٹ کی قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کو قانون کی کتابوں سے نکالنے کا پیش کردہ بل منظور کیا جانا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ انڈین سپریم کورٹ کا جانے مانے صحافی ونود دعا کو غداری کے الزام سے بری کرنا بھی خوشی کی خبر ہے۔ ونود دعا پر گزشتہ برس مارچ میں اس وقت غداری کا پرچہ کاٹا گیا جب انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کوویڈ لاک ڈاؤن کے سبب بھارت کے مختلف علاقوں میں پھنس جانے والے لاکھوں مزدوروں کی تکلیف کا ذمے دار سرکاری پالیسیوں کو قرار دیا۔

انھیں بری کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک بار پھر یہ اصول دھرایا گیا ہے کہ سرکاری پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر کڑی سے کڑی تنقید بھی غداری کے دائرے میں نہیں آتی۔ ایسی تنقید جو سدھار کی نیت سے کی جائے ایک صحت مند سماج کی نشانی ہے۔ حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ ایسے قانون پھٹیچر ہو چکے ہیں۔کوئی بھی اعلیٰ عدالت ان کے تحت بنائے گئے زیادہ تر مقدمات ایک سماعت میں ہی خارج کر دے گی۔ مگر ضمانت ہوتے ہوتے ملزم کو کم ازکم دباؤ میں تو رکھا ہی جا سکتا ہے۔ اس کی ناک تو رگڑی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ایسے قوانین کتابوں سے خارج کرنے کا کسی بھی سرکار کا دل نہیں چاہتا۔ دل بس تب چاہتا ہے جب سرکاری پارٹی اپوزیشن کی بنچوں پر جا بیٹھتی ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ریاست مدینہ کا راستہ

ممتا بینر جی نے تیسری بار مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ بن کر ریکارڈ قائم کر دیا‘ یہ بھارت کی تاریخ میں 15 سال مسلسل سی ایم رہنے والی پہلی سیاست دان ہوں گی‘ ممتا جی انڈیا کی طاقتور ترین اور دنیا کی سو بااثر ترین خواتین میں بھی شامل ہیں اور یہ دنیا کی واحد سیاست دان بھی ہیں جو سیاست دان کے ساتھ ساتھ گیت نگار‘ موسیقار‘ ادیب اور مصورہ بھی ہیں۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ‘ سیکڑوں گیتوں کی شاعرہ اور تین سو بیسٹ سیلر پینٹنگز کی مصورہ بھی ہیں اور یہ ہندوستان کی پہلی سیاست دان بھی ہیں جس نے سادگی اور غریبانہ طرز رہائش کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی کو شکست دے دی ‘ یہ بنگال میں دیدی کہلاتی ہیں اور دنیا میں کامیاب سیاست کی بہت بڑی کیس اسٹڈی ہیں‘ ممتابینر جی نے کیا کیا اور یہ کیسے کیا؟ ہم اس طرف آئیں گے لیکن ہم پہلے اس خاتون کا بیک گراؤنڈ جان لیں۔ ممتا بینر جی 1955 میں کولکتہ میں پیدا ہوئیں‘ والد چھوٹے سے سیاسی ورکر تھے‘ والدہ ہاؤس وائف تھیں‘ یہ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں‘ والد فوت ہو گئے‘ خاندانی برہمن ہیں‘ چھوت چھات کے پابند ہیں‘ ممتا کالج پہنچیں تو اسلامی تاریخ سے متعارف ہوئیں اور آہستہ آہستہ اسلامی تعلیمات میں اترتی چلی گئیں۔

یہ اکثر اپنے آپ سے سوال کیا کرتی تھیں حجاز جیسے جاہل معاشرے میں ایک شخص نے انقلاب کیسے برپا کر دیا‘ یہ 53 سال کی عمر میں مکہ سے ہجرت کر گئے اور 10 سال بعد یہ نہ صرف پورے حجاز کے مالک تھے بلکہ یہ دنیا کی دونوں سپر پاورز کے دروازے پر دستک بھی دے رہے تھے‘ آخر ان لوگوں میں کیا کمال‘ کیا خوبی تھی؟ یہ جواب تلاش کرنا شروع کیا تو پتا چلا سادگی اور عاجزی نبی اکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کا سب سے بڑا ہتھیار تھا‘ یہ لوگ مال ومتاع‘ عیش وآرام اور نمودونمائش سے بالاتر تھے اور کردار کی یہ خوبیاں انسانوں اور لیڈرز دونوں کو عظیم بنا دیتی ہیں۔ ممتا بینرجی نے یہ فارمولا چیک کرنے کا فیصلہ کیا‘ اس نے سادگی کو اپنا ہتھیار اور زیور بنا لیا اور پھر کمال ہو گیا‘ یہ 15 سال کی عمر میں اسٹوڈنٹ لیڈر بنیں‘ اسلامک ہسٹری‘ ایجوکیشن اور قانون میں ڈگریاں لیں‘ سیاست میں آئیں اور 29 سال کی عمر میں سی پی آئی ایم پارٹی کے لیڈر سومناتھ چیٹر جی کو ہرا کر پورے انڈیا کو حیران کر دیا‘ یہ 1984 کی لوک سبھا کی کم عمر ترین ایم ایل اے تھیں‘ یہ چھ بار اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں‘ اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کی حکومت میں تین بار وفاقی وزیر بنیں اور پھر 2011 میں استعفیٰ دے کر صوبے کا الیکشن لڑا اور بنگال کی سی ایم بن گئیں اور پھر 2016 میں دوسری بار اور 2021 میں تیسری بار الیکٹ ہو گئیں۔

ممتا بینر جی نے 1998 میں اپنی سیاسی جماعت آل انڈیا ترینمول کانگریس بنائی تھی ‘ یہ جماعت ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے‘ پارٹی نے کُل 292 سیٹوں میں سے 2011 میں 184‘ 2016 میں 209 اور 2021 میں 213 سیٹیں حاصل کیں‘ یہ بھی انڈیا میں ریکارڈ ہے‘ ممتاجی سے پہلے مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی 34 سال حکمران رہی‘ ملک کی بڑی سے بڑی سیاسی جماعت بھی کمیونسٹ پارٹی کا مقابلہ نہ کر سکی لیکن یہ آئیں اوراسے ناک آؤٹ کرنا شروع کر دیا اور 2021 کے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک بھی امیدوار اسمبلی نہیں پہنچ سکا۔ یہ مسلمانوں اور خواتین دونوں میں بہت پاپولر ہیں‘ بنگال کے 30 فیصد ووٹرز مسلمان ہیں‘ یہ سب انھیں ووٹ دیتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ مسلمانوں کا احترام کرتی ہیں‘ نریندر مودی ان کی مسلم دوستی کو ’’دشمن سے محبت‘‘ قرار دیتے ہیں اور انھیں طنزاً بیگم کہتے ہیں‘ بی جے پی نے 2021 کے الیکشن میں ممتا بینر جی کو ہرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن اس کے باوجود صرف 77 سیٹیں حاصل کر سکی جب کہ ممتا بینرجی نے 213 سیٹیں لیں‘ کیا یہ کمال نہیں؟۔

ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں ممتا بینرجی نے یہ کمال کیا کیسے؟ اس کے پیچھے ان کی سادگی اور عاجزی ہے‘ یہ غیرشادی شدہ سنگل خاتون ہیں‘ گیارہ سال سے 10 کروڑ لوگوں کے صوبے کی سی ایم ہیں لیکن یہ آج تک چیف منسٹر ہاؤس میں نہیں رہیں‘ کولکتہ کی ہریش چیٹرجی اسٹریٹ میں ان کا دو کمرے کا مکان ہے‘ یہ اس میں رہتی ہیں اور گھر میں کوئی ملازم بھی نہیں‘ یہ تین بار وفاقی وزیر اور دو بار چیف منسٹر رہیں‘ اس حیثیت سے انھیں دو لاکھ روپے پنشن ملتی ہے‘ آج تک انھوں نے یہ پنشن نہیں لی‘ انھوں نے آج تک وزیراعلیٰ کی تنخواہ بھی وصول نہیں کی‘ اپنے سارے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کرتی ہیں اور چائے بھی سرکاری نہیں پیتیں لیکن سوال یہ ہے ان کی ذاتی جیب میں پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ یہ ان کی کتابوں اور کیسٹوں کی رائلٹی ہے۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں سے کئی کتابیں بیسٹ سیلر ہیں‘ان کی کیسٹس بھی بک جاتی ہیں یوں انھیں سالانہ پانچ سات لاکھ روپے مل جاتے ہیں اور یہ ان سے اپنے تمام اخراجات پورے کر لیتی ہیں‘ ان کی پینٹنگز بھی بکتی ہیں مگر یہ وہ رقم ڈونیشن میں دے دیتی ہیں‘ دوروں کے دوران ٹی اے ڈی اے بھی نہیں لیتیں اور ریسٹ ہاؤسز کے بل بھی اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں‘ اکانومی کلاس میں سفر کرتی ہیں‘ ہمیشہ سستی سی سفید ساڑھی اور ہوائی چپل پہنتی ہیں۔

کسی شخص نے آج تک انھیں رنگین قیمتی ساڑھی اور سینڈل میں نہیں دیکھا‘ میک اپ بالکل نہیں کرتیں‘ زیور کوئی ہے نہیں‘ سرکاری گاڑی بھی صرف سرکاری کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں‘ پانی بھی نلکے کا پیتی ہیں اور گھر میں فرنیچر بھی پرانا اور سستا ہے‘ یہ اگر سڑک پر چل رہی ہوں تو کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا ترکاری کا تھیلا اٹھا کر چلنے والی یہ خاتون 10 کروڑ لوگوں کی وزیراعلیٰ ہیں‘ دنیا نے انھیں موسٹ پاور فل وومن کی لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور یہ انڈیا کی آئرن لیڈی اور جمہوری ریکارڈ ہولڈر بھی ہیں‘ یہ چال ڈھال اور حلیے سے عام گھریلو ملازمہ دکھائی دیتی ہیں لیکن اس خاتون نے صوبے میں کمال کر دیا‘ صحت‘ تعلیم‘ انفراسٹرکچر‘ وومن ایمپاورمنٹ‘ روزگار‘ اسپورٹس اور مذہبی ہم آہنگی اس نے ہر شعبے میں نئی مثالیں قائم کر دیں‘ یہ مسلمانوں کو اسلام کی باتیں بتاتی ہیں اور ہندوؤں کو گیتا میں سے امن کے پیغام پڑھ پڑھ کر سناتی ہیں‘ یہ سب کی دیدی ہیں۔ ہم اگر ممتا بینرجی کی زندگی کا تجزیہ کریں تو ہم سادگی اور عاجزی کی طاقت کے قائل ہو جائیں گے‘ دنیا میں یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جن کا آج تک کوئی توڑ ایجاد نہیں ہو سکا‘

یہ دونوں موسٹ پاورفل ویپن ہیں‘ آپ زندگی میں ایک بار سادگی اور عاجزی اپنا کر دیکھ لیں آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ آپ کسی دن ریاست مدینہ کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو اس میں بھی عاجزی اور سادگی ملے گی‘ ریاست مدینہ میں سادگی کا یہ عالم تھا نبی رسالتؐ نے وصال سے قبل حضرت عائشہؓ سے پوچھا‘ میں نے آپ کو سات دینار دیے تھے‘ کیا وہ ابھی تک آپ کے پاس ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’جی میرے پاس ہیں‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’نکالیں اور ابھی خیرات کر دیں‘ مجھے شرم آتی ہے میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں اور میرے گھر میں مال موجود ہو‘‘ آپؐ کے بعد چاروں خلفاء راشدین کے وصال کے وقت بھی کسی کے گھر میں مال ودولت نہیں تھی‘ یہ لوگ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے‘ کچے گھروں میں رہتے تھے اور اینٹ پر سر رکھ کر سو جاتے تھے لیکن ان بوریا نشینوں کی ہیبت سے قیصر اور کسریٰ کے محل لرزتے تھے‘ حضرت عمرؓ فاتح شام حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔

یہ اس وقت دنیا کے مہذب ترین خطے کے گورنر تھے لیکن گھر میں ایک پیالے اور کھردری دری کے سوا کچھ نہیں تھا‘ یہ سادگی دیکھ کر حضرت عمرفاروقؓ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور پیچھے رہ گئی عاجزی تو نبی اکرمؐ کی حدیث کا مفہوم ہے ’’جو شخص بھی اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا رتبہ بلند کر دیتا ہے‘‘ اس سے آپ عاجزی کا رتبہ اور طاقت دیکھ لیجیے‘ یہ اتنے بڑے ہتھیار ہیں کہ انھیں اگر ایک برہمن خاتون بھی اپنا لے تو یہ حکومت کاری کا ریکارڈ قائم کر دیتی ہے اور لوگ حیرت سے منہ کھول کر دھان پان سی اس غریب خاتون کو دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا ممتا بینر جی مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ بنگال کو ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہیں لیکن انھوں نے ریاست مدینہ کے صرف دو اصول اپنا کر 58 اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مار دیا لہٰذا میری عمران خان‘ بلاول بھٹو اور مریم نواز سے درخواست ہے آپ اگر واقعی لیڈر بننا چاہتے ہیں اور ملک کو ریاست مدینہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ پلیز چند لمحوں کے لیے ممتا بینرجی کو دیکھ لیں‘ آپ بس ایسے بن جائیں‘ دنیا آخری سانس تک آپ کا نام نہیں بجھنے دے گی ورنہ آپ بھی اس جگنو ستان کے جگنو بن کر بجھ جائیں گے اور آپ کے بعد آپ کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ممتا بینرجی مودی کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں

پانچ غیر ہندی بولنے والی ریاستوں کے انتخابی نتائج کے اسباق کیا ہیں؟ پہلا سبق یہ ہے کہ بھارت ایک متنوع جمہوریت ہے۔ اب یہاں ”ایک پارٹی اور ایک رہنما‘‘ کی حکمرانی کام نہیں کر سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ بی جے پی آسام میں جیت گئی ہو لیکن تین بڑی ریاستوں مغربی بنگال ‘ تامل ناڈو اور کیرالہ میں ہار گئی۔ پڈوچیری میں وہ فاتح اتحاد کی رکن ہے۔ مغربی بنگال کی 200 نشستوں پر اس کا دعویٰ ہوائی قلعہ ثابت ہوا ۔ کیرالہ میں انہوں نے میٹرومین سریدھرن کو بھی داؤ پر لگا دیا ‘ لیکن اس سے قبل انہوں نے اپنے پاس محفوظ ایک نشست بھی گنوا دی۔ دوسرے لفظوں میں اب مرکز میں بی جے پی حکومت کو شمال اور جنوب کی مضبوط حزب اختلاف کی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کی سیاست کرنا ہو گی۔ داداگیری چلانا مشکل ہو گا۔ بی جے پی بنگال میں ہاری ہے لیکن اس نے 72 سیٹیں جیتی بھی ہیں۔ بنگال اور آسام جیسے غیر ہندی بولنے والے اور سرحدی صوبوں میں بی جے پی کے غلبے کی وجہ کیا ہے؟

بی جے پی ایک طویل عرصے سے حزبِ اختلاف اور ہندی علاقائی پارٹی رہی ہے۔ کیا ان علاقوں میں اس کا اضافہ قومی اتحاد کے عروج کی علامت نہیں ہے؟ یہ نمو بی جے پی کے اپنے کردار اور وژن میں توسیع کے بغیر نہیں ہو گی ۔ کانگریس کا تقریبا ًتمام ریاستوں میں پیچھے رہ جانا قومی سیاسی اتحاد کے نقطہ نظر سے اچھا نہیں ہے۔ اس سے اس کی قیادت اور پالیسی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے ‘ لیکن اتنے وسیع بھارت کو ایک دھاگے میں رکھنے کیلئے ایک طاقتور فوج اور مضبوط حکومت کے ساتھ منظم آل انڈیا پارٹی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی کے کمزور ہونے پر طاقتور سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا یا نہیں؟ بنگال میں ترنمول کانگریس ‘ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کیرالا میں مارکسسٹ پارٹی کی زبردست کامیابی ان کی خالص مقبولیت اور خدمات کی بنیاد پر رہی ہے‘ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کانگریس تینوں ریاستوں میں بُری طرح ہار چکی ہے اور بی جے پی بھی پیچھے رہ گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آل انڈیا پارٹیوں کے بجائے صوبائی پارٹیوں کا پرچم بلند ہوا ہے۔ یعنی ان ریاستوں میں بنگلہ ‘ تامل اور ملیالی قومیت غالب رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو ان تینوں ریاستوں کے ساتھ انتہائی احتیاط برتنا ہو گا۔ ان انتخابات نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ فرقہ واریت کا ٹرمپ کارڈ کبھی کبھی الٹا پڑ جاتا ہے۔

آسام میں ‘ جہاں شہریت کے سوال کو کارپٹ کے نیچے منتقل کرنا پڑا ‘ وہیں بنگال میں بی جے پی کو زیادہ تر ہندو ووٹوں کا حصہ نہیں مل سکا۔ وہ الگ ہو گئے۔ اقلیتوں کو ان کے خوف نے ممتا کی طرف کھینچ لیا اور بنگالی اور غیر بنگالی قانونی دعویداروں نے ہندو ووٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا۔ ممتا بینرجی نے بنگالی اور بیرونی شخص کا بھوت پیدا کیا لیکن خود کو برہمن اور وفادار ہندو ثابت کرنے کیلئے کس چیزکا سہارا نہیں لیا؟ دیدی اس کھیل میں مودی پر غالب آگئیں۔ ٹوٹی ہوئی ٹانگوں اور پہیے والی گاڑی کے ساتھ ہمدردی نے پورے ملک کی توجہ مبذول کر لی۔ دوسری طرف ‘ رابندر ناتھ ٹیگور جیسی داڑھی اور ڈھاکہ یاترا بھی کام نہیں کر سکی۔ اس انتخاب نے ممتا بینرجی کو بنگال کا لاجواب لیڈر بنایا اور انہیں آل انڈیا مہم جو بنا دیا۔ بنگال میں ان پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سب سے زیادہ مہم چلائی گئی تھی کیونکہ بی جے پی نے بہت کوشش کی ‘ مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی بھی صوبائی انتخابات میں ‘کسی بھی مرکزی پارٹی نے کبھی ایسا کیا تھا۔ وزیر اعظم کے علاوہ وزیر داخلہ ‘ وزیر دفاع ‘ پارٹی صدر ‘ درجنوں وزرا‘ وزیر اعلیٰ ‘ سینکڑوں ارکانِ پارلیمنٹ ‘ ہزاروں بیرونی کارکن اور بی جے پی کی طرف سے بھاری رقم بہانے کے باوجود ممتا کی بال نہیں روکی جا سکی‘ بلکہ ممتا کی سیٹوں اور ووٹوں میں اضافہ ہوا۔

ممتا کو موصول ہونے والی ہمدردی سے انہیں حزب ِاختلاف کے تقریباً تمام صوبائی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ متعدد اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ‘ سابق وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزرا ترنمول کانگریس کو جتانے کیلئے بنگال پہنچ گئے۔ کیا اب یہ قائدین پورے ملک میں مودی کے خلاف ممتا کوگھمانے کی کوشش نہیں کریں گے؟ ممتا کو مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے بنگال جنگ میں اپنے آپ کو ممتا کے برابر کھڑا کیا۔ بنگال میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ کا چہرہ نہیں تھا‘ اتر پردیش میں کھیلے گئے اسی کارڈ کو بنگال میں شکست دی گئی۔ یہ ناممکن نہیں کہ ممتا اب اگلے تین سالوں میں ملک کے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو متحد کر دیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے ‘ کیونکہ اگرچہ آج کل کورونا کی وبا کی وجہ سے مرکزی حکومت کی شبیہ دھندلا رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی آل انڈیا لیڈر مودی کا مقابلہ کرنے کیلئے سامنے نہیں آیا۔ ممتا نے انتخابات سے قبل ہی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔

کانگریس اور مارکسسٹ پارٹی کیلئے ممتا کو متعدد وجوہات کی بناپر رہنما تسلیم کرنا مشکل ہو گا۔ اس طرح ‘ معلوم نہیں کہ کیا ممتا ان معنی میں خود کو ترقی دے سکے گی جو ہندوستان کے تمام لوگوں میں مقبول ہونے کیلئے ضروری ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اس کے انتہائی جذباتی ‘ اس کی عجیب ہندی اور انگریزی اور اس کے انداز بیان سے کروڑوں غیر بنگالی ووٹرز متاثر ہوں گے۔ اگر ملک کی تقریباً تمام اہم پارٹیاں مودی مخالف اتحاد تشکیل دیتی ہیں اور ممتا کو قائد سمجھتی ہیں تو کانگریس اور کمیونسٹ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی انہیں جے پرکاش نارائن جیسے نامور اور بے باک قائد کی ضرورت ہو سکتی ہے ‘ جیسے 1977ء میں اندرا گاندھی کے خلاف ہوا تھا۔

کورونا سے سیکھیں سبق
پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ حکومت ‘ میڈیا اور عوام کی توجہ کورونا پر مکمل طور پر قابو پانے میں صرف ہو گی لیکن ہلاکتوں کے جو اعداد وشمار سامنے آرہے ہیں وہ افسوسناک اور مایوس کن ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر جگہ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کتنا درست ہے ‘ کچھ معلوم نہیں۔ ایسے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہیں جن کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کو انفیکشن ہوا ہے یا نہیں؟ وہ صرف خوف کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا رہے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس ڈاکٹروں کی فیس کی ادائیگی کیلئے رقم نہیں ہے تو ہسپتالوں میں ان کے داخلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ریٹائرڈ سفیر ‘ معروف فلمی ستارے اور قائدین کے لواحقین بھی ہسپتال میں داخل ہونے کے انتظارمیں دم توڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہسپتال میں بیڈ کے اہل ہیں وہ بھی کراہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو محل نما بنگلوں میں رہنے اور گھر سے باہر فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہنے کے عادی ہیں یا تو وہ متعدد مریضوں والے کمروں میں پڑے ہوئے ہیں یا ہسپتال کے برآمدے میں پڑے ہیں۔

بہت سے لوگ جو داخل نہیں ہو سکے ہیں ‘ وہ اپنی گاڑی میں یا ہینڈ کارٹ پر پڑے آکسیجن لے کر اپنی جان بچا رہے ہیں ‘ لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ مصیبت کی اس فضا میں ہمارے ملک میں بھی ایسی درندے ہیں جو بے شرمی سے منشیات کی کالا بازاری کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15‘ 20 دنوں میں روزانہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی شہروں میں لوگ مر رہے ہیں مگرسلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ ہو رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ہماری عدالتیں اور حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟ وہ خصوصی آرڈیننس جاری کر کے فوری طور پر ان لوگوں کو کیوں سزا نہیں دیتے؟ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ آکسیجن کی کمی نہیں ‘ پھر ملک کے ہسپتالوں میں افراتفری کیوں ہے؟ اب یہ کورونا شہروں سے دیہات میں منتقل ہو چکا ہے اور درمیانے اور نچلے طبقے میں بھی گھس آیا ہے۔ ان لوگوں کیلئے جن کے پاس کھانے کیلئے کافی روٹی نہیں ہے ‘ مفت اور فوری علاج کا انتظام کیوں نہیں کیا جاتا؟ ملک کے لاکھوں قابل افراد آگے کیوں نہیں آرہے ہیں؟

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ دنیا نیوز

وبا سے بچ جانے والوں کے پیغامات

برادر عزیز ۔ مجھے احساس ہے کہ آپ ابّا اور امّی کے انتقال پر کیوں نہیں آسکے۔ اس ظالم کورونا نے پوری دُنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔ ﷲ تعالیٰ کی رضا یہی تھی۔ یہ سب المیے اسی طرح رُونما ہونے تھے۔ آپ احتیاط کریں۔ بھابھی اور بچوں کا بھی پورا خیال رکھیں۔ انڈیا کی طرح اب کینیڈا میں بھی برا حال ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے دنیا بھر میں مقبول ناول نگار ابّو اس طرح ہمیں اچانک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ان کے نامکمل ناول مجھے خون کے آنسو رُلارہے ہیں۔ ان کی جدائی مجھ اکیلے کے لیے تو بہت تکلیف دہ ہے۔ مجھے تو ابّو اور امّی کی طرح اپنے محسوسات قلمبند کرنا بھی نہیں آتے۔ یہ غم میرا مقدر تھا۔ دو روز بعد ہماری پیاری امّی بھی ابّو کے پاس چلی گئیں۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ مجھ اکیلے کا کیا ہو گا۔ مجھے کون سنبھالے گا۔ پورا گھر بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔ ابّو کے دوست احباب دو تین روز آتے رہے۔ اب تو دروازے پر دستک ہی نہیں ہوتی۔

رشتے دار تو پہلے بھی کب پوچھتے تھے۔ سب کہتے تھے تمہارے ابّو بہت بڑے آدمی ہیں۔ ہماری کیا ضرورت ہے۔ ہمارے ابو یقیناً بڑے آدمی تھے۔ ان کے ناولوں کی دھوم تو پوری دنیا میں مچی ہوئی ہے۔ اخبارات میں ان کے بارے میں بہت اچھے مضامین آئے۔ بھائی۔ میں بہت اُداس ہوں۔ دل گرفتہ ہوں۔ بہت سے مراحل طے کرنے ہیں۔ بینک اکائونٹس کی تصدیق ۔ منتقلی ۔ مکان کے معاملات۔ کل میں نے ابّو کی ڈائری اچانک نکالی۔ ان کے ابتدائی حالات پڑھے۔ اب میں بہت پُر عزم ہوں۔ مجھے پوری امید ہے۔ اعتماد ہے۔ ﷲ تعالیٰ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ میرے کالج کے دوست میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔ وبا کا زور ٹوٹے تو پھر ہم مشورہ کر لیں گے کہ آپ اِدھر آئیں یا میں آپ کی طرف آئوں گا۔ آپ نے پوچھا ہے تو بتا رہا ہوں ورنہ میں نے یہاں کسی سے ذکر تک نہیں کیا۔ ابّو کے آخری لمحات بہت ہی کربناک تھے۔ پھیپھڑوں نے کام چھوڑ دیا تھا۔ پھر گردے ناکام ہونے لگے۔ مجھ سے تو یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ ﷲ کسی کو کورونا میں مبتلا نہ کرے۔ آپ کا بھائی احسن۔

میرے دوست۔ آج اس قابل ہوا ہوں کہ موبائل فون پکڑ سکوں۔ سب سے پہلے تمہیں ہی واٹس ایپ کر رہا ہوں۔ تمہارے فون چھوٹی ہوئی کالوں میں ہیں۔ کیسے فون سن سکتا تھا۔ میرے دونوں بیٹے۔ میرے بڑھاپے کے سہارے۔ میرے بازوئوں میں دم توڑ گئے۔ صرف 24 گھنٹوں کے وقفے میں۔ جانا تو مجھے ان کے کندھوں پر تھا لیکن مجھے انہیں کندھا دینا پڑا۔ وہ مجھے احتیاط کی تلقین کرتے رہے۔ میں بھی انہیں بہت سمجھاتا تھا لیکن ایک کے دفتر والے مجبور کرتے رہے اور دوسرے کے بازار والے۔ دنیا بھر میں واویلا مچا ہوا تھا لیکن ہمارے شہر میں تو گویا فکر ہی نہیں تھی۔ چھوٹے والا تو پھر بھی ماسک کبھی کبھی اوڑھ لیتا تھا۔ بڑے والا تو مان کے ہی نہیں دیتا تھا۔ مجھ سے تو ان کی ماں کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ جس نے انہیں 9 ماہ تک پیٹ میں پالا۔ پھر گود میں کھلایا۔ کتنی منتوں مرادوں سے تو آئے تھے۔ مت پوچھو کہ ان کے آخری دن کیسے گزرے وہ لمحے میری تو آنکھوں میں اٹکے ہوئے ہیں۔ بس اور نہیں لکھا جاتا۔

ہیلو۔ السلام علیکم۔ بھائی معاف کرنا میں پیغام دے سکی نہ بات کر سکی۔ ان دو ہفتوں میں تو قیامتیں گزر گئیں۔ ہم تو سب ہی بہت ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ کورونا کے حملے جاری تھے۔ میں تو روزانہ دفتر جارہی تھی۔ پھر یہ پابندی لگی کہ ایک دن دفتر دو روز گھر سے کام۔ گھر سے کام والے دنوں میں ہی بیماری نے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ ابّو تو پہلے ہی بستر سے لگے ہوئے تھے۔ پہلے سے ہی انہیں دمہ رہتا تھا۔ یہ کورونا کی لہر نہ جانے کہاں سے آئی۔ ان کو اپنے ساتھ لے گئی۔ ان کے آخری لمحے تو دیکھے نہیں جاتے تھے۔ اسپتال والے بھی کیا کرتے۔ بل بناتے رہے۔ جو جمع پونجی تھی لگ گئی۔ قسمت کو نہ جانے کیا منظور تھا۔ امی جو ابو کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں وہ بھی کھانسنے لگیں۔ ابو کے بعد تین روز ہی سانس لے سکیں۔ بھائی دنیا اجڑ گئی ہے۔ بڑی مشکل سے میں یہ ریکارڈ کررہی ہوں۔ میرے میاں نے بہت خیال کیا۔ سارے بل اس نے ہی دیے ہیں۔ ﷲ کا شکر ہے کہ وہ سخت احتیاط کرتا رہا۔ محفوظ رہا۔ بھائی اپنا خیال رکھنا۔ ایسی بیماری تو پہلے دیکھی نہ سنی۔
۔۔۔۔
انکم ٹیکس آفیسر۔ ابھی تو خدا کا واسطہ۔ ان دنوں تو تنگ نہ کرو۔ کاروبار بالکل تباہ ہوگیا ہے۔ اپنے ورکرز جو برسوں سے ساتھ کام کررہے تھے۔ کمپنی کا اثاثہ تھے۔ ان سب سے معذرت کرنا پڑی ہے۔ سالوں کی محنت اکارت گئی ہے۔ کچھ خبر نہیں آگے کیا ہو گا۔
۔۔۔۔۔
میں بوڑھی اکیلی رہ گئی ہوں۔ یہ چھوٹے چھوٹے پوتا پوتی پالنے کے لیے۔ بیٹا بہو دونوں ہی کورونا کی نذر ہو گئے۔ کیا سوچوں ۔ کیا کروں۔ میں کتنے دن جیوں گی۔ انہیں کون پالے گا۔ کون خیال رکھے گا۔
۔۔۔۔۔
میں ایک ہندو ہوں۔ چھوٹی ذات کا۔ پولیس میں ہوں۔ میرا قصبہ بلا کی زد میں ہے۔ میں تو اس مسجد کے پاس سے بھی نہیں گزرتا تھا۔ آر ایس ایس سے ڈرتا تھا مگر اب میں مسجد کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ امام صاحب سے اپیل کر رہا ہوں۔ اپنے ﷲ سے دعا مانگیں۔ میرے شہر کو بچائے۔ لوگ سسکیاں لے لے کر تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔
ہیلو: یار یہاں تو بہت برا حال ہے۔ وہاں چین میں کیا ہورہا ہے۔
یہاں تو بہت سختی ہے۔ الحمد للہ۔ وبا کو روکا ہوا ہے۔
دکاندار شور نہیں مچا رہے۔
یہاں جمہوریت شمہوریت نہیں ہے۔ لوگوں کی زندگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ہم بھی کمروں میں بند ہیں۔ زندہ تو ہیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیونکہ وائرس ووٹر نہیں ہوتا

ایک ایسے وقت جب بھارت کوویڈ متاثرین کی شکل میں امریکا اور برازیل جیسے سب سے زیادہ متاثر ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے، خود نریندر مودی کو اپنے ماہانہ ریڈیو خطاب میں اعتراف کرنا پڑ گیا ہے کہ یہ وہ بحران ہے جس نے بھارت کو ہلا ڈالا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دنیا سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ امریکا ، جرمنی اور فرانس نے مہارت اور آلات کی شکل میں فوری مدد پہنچانے کی حامی بھری ہے۔ مگر مصیبت کی اس گھڑی میں بھی کوویڈ تعصبات کو ہلاک کرنے میں ناکام ہے۔ عالمی طاقتوں میں سب سے پہلے چین نے گزشتہ ہفتے اپنے سب سے بڑے ہمسائے کی اپیل سے بھی پہلے مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہم حکومتِ بھارت کی اس کڑے وقت میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ پاکستانی کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن اور پھر حکومتِ پاکستان نے مدد کی پیش کش کی مگر تاحال مودی حکومت نے شکریہ تو درکنار پاکستان اور بھارت کی جانب سے مدد کی پیش کش کا رسمی شکریہ تک ادا کرنا گوارا نہیں کیا۔

ایک ایسے وقت جب بھارت کی دردناک تصاویر عالمی میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ مودی حکومت کو اس بحران سے تیزی سے نمٹنے کے بجائے اپنے امیج کی کہیں فکر پڑی ہوئی ہے۔ آج بھی اسے اتنی فرصت ہے کہ اس نے ٹویٹر کو کوویڈ سے متعلق سرکاری حکمتِ عملی پر تنقید کرنے والے ایک سو اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ بجائے یہ کہ آر ایس ایس اپنے تیس لاکھ سے زائد کارسیوکوں ( رضا کاروں ) کو آکسیجن کی فراہمی کی پہرے داری اور لوگوں کی شہر شہر مدد کے لیے متحرک کرتی، اس کی قیادت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں اس وبا کی سنگینی کی آڑ میں ملک کے اندرونی و بیرونی دشمن بھارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی کارروائی نہ کر ڈالیں۔ کل میں بھارت کے سرکردہ صحافی اور دی پرنٹ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کا ایک تجزیہ پڑھ رہا تھا۔ ان کے بقول ’’ ہم سب واقف ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ، جے بولسنارو ( برازیل کے صدر )، نیتن یاہو یا نریندر مودی جیسے طاقتور کہلانے کی شوقین شخصیات میں ایک بنیادی قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان کی پوری توجہ اپنے ووٹ بینک کو یکجا رکھنے پر ہوتی ہے۔

مضبوط لیڈر کی آج کل ایک نشانی یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنی ناکامی یا چھوٹی سے چھوٹی کمزوری کا اعتراف نہیں کرتا، بھلے اس کے آس پاس کی دنیا اینٹ اینٹ بکھر رہی ہو۔ اس کے بارے میں تاثر ابھارا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کے سامنے پلک نہیں جھپکتا۔ ووٹ بینک انھی خوبیوں کے سبب اپنے لیڈر پر لٹو رہتا ہے۔ ووٹ بینک تصور ہی نہیں کر سکتا کہ اس کے لیڈر کے منہ سے کبھی ایسے فقرے نکلیں گے جیسے ’’معافی چاہتا ہوں دوستو! میں اس صورتحال کو غلط سمجھا ‘‘۔غلطی کے اعتراف کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ بھی کسی دوسرے انسان کی طرح خطا کے پتلے ہیں۔ آپ بھی دیوتا یا اوتار نہیں ہیں۔ آپ سے تو ہماری ہمیشہ یہی توقع رہے گی کہ آپ مٹی کو بھی چھو لیں تو وہ سونا بن جائے۔ آپ کا ہر قدم ماسٹرا سٹروک ہو اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالیں اس میں کامیابی آپ کے پاؤں چھوتے ہوئے پیچھے پیچھے چلے۔

مگر گزشتہ ہفتے پہلی بار ایسا لگا کہ ’’ ناقابلِ تسخیر قیادت ’’کے بھی تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں پھولے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اس آفت سے نپٹنے کے لیے ویکسینیشن میں تیزی لانے سمیت مودی جی کے نام اپنے خط میں جو بھی تجاویز دیں، لگتا ہے حکومت اعتراف کیے بغیر ان پر عمل درآمد کرنے پر خود کو مجبور پا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے عین آخری دن بادلِ نخواستہ اعلان کیا کہ وہ مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں آخری بڑے جلسے سے خطاب کرنے نہیں جا رہے۔مگر مودی بھگتوں کو اب بھی امید ہے کہ جیسے ہی مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں اگلے ہفتے بی جے پی کی کامیابی کا گجر بجے گا، بھارت واسی کوویڈ شوویڈ بھول بھال کر پھر سے نریندر مودی بھائی کی شاندار شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے اور اس کامیابی کے شور میں کوویڈ ہاتھ سے نکلنے کا غل غپاڑہ کہیں دب دبا جائے گا۔

مشکل یہ ہے کہ دنیا کے بہترین سائنسی دماغ آج بھی کوویڈ کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ دماغ ہیں جو بہت پہلے ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔ پر کیا کیا جائے کہ یہ کم بخت وائرس ووٹر نہیں ہوتا۔ نہ ہی اسے پرواہ ہے کہ کون ہارا کون جیتا۔ اسے انسانوں کی طرح تقسیم بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا کام تو سیاسی و مذہبی عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بس تکلیف، بیماری اور موت پھیلانا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکا ، برازیل اور برطانیہ جیسے ممالک کی قیادت کے حد سے زیادہ اعتماد کو بھی پارہ پارہ کر دیا اور اب بھارت کی باری ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے لیڈر (مودی) نے جنوری میں ڈیوس میں ہونے والے عالمی اکنامک فورم کے اجلاس میں چھپن انچ کا سینہ پھلاتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ ’’ جب کوویڈ شروع ہوا تو دنیا بھارت کے بارے میں پریشان ہونے لگی کہ کوویڈ کا سونامی ٹکرانے والا ہے۔

سات سو سے آٹھ سو ملین بھارتی اس سے متاثر ہوں گے اور بیس لاکھ سے زائد اموات ہوں گی۔ مگر بھارت نے نہ صرف ایسا ہونے نہیں دیا بلکہ دنیا کو بھی ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں کو بلا تاخیر بڑھایا۔ ملک میں دنیا کا سب سے بڑا ویکسینشن پروگرام شروع کیا۔ دو میڈ ان انڈیا ویکسینز تیار کی گئیں اور باقی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ اور اب بھارت اس قابل ہے کہ وہ ان ویکسینز کی برآمد کے ذریعے باقی دنیا کی مدد کر سکے‘‘۔ پھر فروری میں بی جے پی کی ایگزیکٹو کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے کوویڈ پر فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ ہمیں فخر ہے بھارت نے نہ صرف نریندر مودی کی فعال اور ویژنری قیادت تلے کوویڈ کو شکست دی بلکہ ہر بھارتی کو یہ اعتماد بخشا کہ ایک خودکفیل بھارت کی تعمیر ممکن ہے۔ پارٹی بھارت کو دنیا کے سامنے کوویڈ کو شکست دینے والی قوم کے طور پر پیش کرنے پر اپنی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے‘‘۔

شکر ہے کہ اس قرار دار میں ایک عظیم الشان مہرابِ فتح تعمیر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے اس لمحے کی یاد دلا دی جب نعرہ لگا تھا کہ ’’ اندرا ہی انڈیا ہے ‘‘۔ مگر مسئلہ پھر وہی ہے کوویڈ نہ صرف ناخواندہ ہے بلکہ اندھا اور بہرا بھی ہے۔ اسے تو بس یہی یاد رہتا ہے کہ کب غافلوں پر پہلے سے بڑا شبخون مارنا ہے۔ اسی دوران ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا جس میں اتر پردیش میں کوویڈ کے حملے کو روکنے کے لیے وزیرِِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی کوششوں کو سراہا گیا۔ فروری کے وسط میں پنجاب ، کیرالا اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے مرکز سے درخواست کی کہ وبا کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے لہٰذا انھیں تیزی سے ویکسین فراہم کی جائے۔ مگر چونکہ ان تینوں ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی حکومتیں تھیں لہٰذا مرکز نے ان کی اپیل کو شیر آیا شیر آیا والا واویلا سمجھ کر سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آج کوویڈ ہر طرف سے ہر کسی کو کھا رہا ہے مگر مودی حکومت نے جنوری اور فروری میں آتے ہوئے طوفان کو دیکھنے کے بجائے عالمی اور مقامی سطح پر فتح کے جو لمبے لمبے دعوی کیے اب انھیں نگلے کیسے اور کیسے تسلیم کرے کہ ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ وہ ذہن ہے جو کوویڈ سے بھی بڑی مصیبت ہے۔‘‘

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

عالمی وبا : لاک ڈائون حل نہیں ہے

بھارت میں کورونا کی وبا آج کل ایسی بھیانک شکل اختیار کر رہی ہے کہ اس نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پاک بھارت جنگوں کے وقت اتنا خوف نہیں تھا، جتنا آج کل ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو قوم سے خطاب کرنا پڑا اور بتانا پڑا کہ حکومت اس وبا سے لڑنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ آکسیجن، انجکشن، بیڈ، دوائیوں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟ اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت پر غفلت اور لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے‘ لیکن انہی قائدین کو کورونا نے پکڑ لیا ہے۔ کورونا کسی بھی ذات، حیثیت، مذہب، صوبے وغیرہ سے امتیازی سلوک نہیں کر رہا ہے۔ سب ویکسین کیلئے دوڑ لگا رہے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ لوگوں کی مدد کریں۔ یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ یہ وبا ہر روز لاکھوں نئے لوگوں میں کیوں پھیل رہی ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں میں بے احتیاطی بہت بڑھ گئی تھی۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ، پونے جیسے شہروں کے علاوہ، چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ماسک پہنے بغیر لوگ گھومتے ہوئے نظر آئے۔

شادیوں، ماتمی جلسوں اور کانفرنسوں میں ایک بہت بڑا ہجوم نظر آیا۔ بازاروں میں، لوگ ایک دوسرے کے قریب چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ٹرینوں اور بسوں میں بھی لوگ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے اور منہ چھپانے میں عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ایسے حالات میں پھر یہ کورونا کیوں نہیں پھیلے گا؟ شہروں سے دیہاتوں میں فرار ہونے والے لوگ اپنے ساتھ کورونا کے جراثیم بھی لے کر جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ہم ہر روز لاکھوں لوگوں کیلئے ہسپتالوں میں جگہ کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ حکومت نے یقینی طور پر نرمی کی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ کورونا کا دوسرا حملہ اتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔ وہ اس نئے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ کچھ صوبائی حکومتیں ایک بار پھر لاک ڈائون کا اعلان کر رہی ہیں، جبکہ کچھ نائٹ کرفیو نافذ کر رہی ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ ان کے ارادے نیک ہیں، لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ بیروزگار لوگ بھوک سے مر جائیں گے، معیشت تباہ ہو جائے گی اور بحران دوگنا ہو جائے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مکمل لاک ڈائون کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ابھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ منہ پر ماسک لگائے رکھیں، جسمانی فاصلہ رکھیں اور اپنے روزمرہ کے تمام کام کرتے رہیں۔ یہ ضروری ہے کہ لوگ خوفزدہ نہ ہوں۔ کورونا ان لوگوں کو ہوا ہے جو مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

بھارت کی سکڑتی ہوئی مڈل کلاس
کورونا وبا کے دوسرے حملے کا اثر اتنا شدید ہے کہ لاکھوں مزدور ایک بار پھر اپنے گائوں بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والوں اور منشیات فروشوں کے سوا تمام تاجر پریشان ہیں۔ ان کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ اس دور میں، صرف لیڈر اور ڈاکٹر زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے تمام شعبوں میں سُستی کا ماحول ہے۔ گزشتہ سال، تقریبا 10 ملین افراد بیروزگار ہوئے تھے۔ اس وقت حکومت نے غریبوں کی کھانے پینے کی اشیا کے حوالے سے مدد ضرور کی، لیکن یورپی حکومتوں کی طرح اس نے بھی خود عام آدمی کی 80 فیصد آمدنی کا بوجھ نہیں اٹھایا۔ اب ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کی بنیاد پر، پیو ریسرچ سنٹر کا کہنا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے بھارت کی معیشت اس قدر گر چکی ہے کہ اس کے غریبوں کا تو کیا، جسے ہم مڈل کلاس کہتے ہیں، اس کی تعداد بھی 10 کروڑ سے کم ہو کر 7 کروڑ رہ گئی ہے یعنی درمیانی طبقے سے 3 ملین افراد غریبی کی سطح پر آ چکے ہیں۔ متوسط طبقے کے خاندانوں کے یومیہ اخراجات 750 سے 3750 روپے تک ہوتے ہیں۔

یہ اعدادوشمار خود ہی کافی مایوس کن ہیں۔ اگر ہندوستان کا متوسط طبقہ 10 کروڑ ہے تو غریب طبقہ کتنے کروڑ ہو گا؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اعلیٰ متوسط طبقے اور اعلیٰ آمدنی والے گروپ میں 5 کروڑ افراد یا اس سے بھی زیادہ 10 کروڑ لوگ ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا یہ نہیں ہے کہ بھارت کے 100 کروڑ سے زیادہ لوگ غریب طبقے میں آگئے ہیں؟ ہندوستان میں انکم ٹیکس جمع کرنے والے کتنے لوگ ہیں؟ پانچ چھ کروڑ بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1.25 بلین افراد کے پاس کھانے، لباس، رہائش، تعلیم، دوا اور تفریح کے کم سے کم وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آزادی کے بعد بھارت نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ اس نے ترقی کی ہے لیکن اس کی رفتار بہت سست رہی ہے اور اس کا فائدہ بہت کم لوگوں تک محدود رہا ہے۔ چین بھارت سے بہت پیچھے تھا لیکن اس کی معیشت آج ہندوستان سے پانچ گنا بڑی ہے۔ وہ کورونا پھیلانے کے لئے پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے، لیکن اس کی معاشی ترقی اس دور میں بھی بھارت کی نسبت زیادہ ہے۔ وہ دوسری سپر پاورز کے مقابلے میں کورونا کو کنٹرول کرنے میں زیادہ کامیاب ہے۔بھارت کی بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود، وہ اب بھی ذہنی طور پر انگریزوں کا غلام ہی ہے۔ اس کی زبان، اس کی تعلیم، اس کی دوائی، اس کا قانون، اس کا طرز زندگی حتیٰ کہ اس کا نقلچی پن بھی آج تک زندہ ہے۔ خود انحصاری کی عدم موجودگی میں، بھارت نہ تو کورونا کی وبا کا شدت سے مقابلہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی یہ ایک بڑی طاقت بننے کے قابل ہے۔

بھارت روس تعلقات
روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے مابین پچھلے دنوں ہونے والی گفتگو کے اقتباسات شائع ہو چکے ہیں اور اگر آپ نے ان کی پریس کانفرنس میں ان دونوں کی باتوں کا گہرائی سے جا ئزہ لیا ہو گا تو بھارتیوں کو کچھ خوشی ہوئی ہو گی لیکن وہ غمزدہ ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکے ہوں گے۔ بھارتی لوگ اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ بھارت روس سے ایس 400 میزائل خرید رہا ہے اور یہ خریداری امریکی پابندیوں کے باوجود جاری رہے گی۔ روس بھارت سے ساڑھے سات لاکھ کورونا ویکسین خریدے گا۔ اگرچہ بھارت نے روسی ہتھیاروں کی خریداری میں تقریباً 33 فیصد کی کمی کر دی ہے، لیکن لاوروف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ روس اب جدید اسلحہ سازی میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ لاوروف نے ہند روس سٹریٹیجک اور تجارتی تعاون بڑھانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات بند کرنے کیلئے آزاد ہے۔ یہاں اس کا اشارہ شاید بھارت اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت کی طرف تھا، لیکن اس نے بہت سی باتیں بھی کہی ہیں، جن پر تھوڑا سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔

وہ دن گزر گئے جب بھارت روس تعلقات کو آہنی دوستی کہا جاتا تھا۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی لاوروف اسلام آباد پہنچ گئے۔ بھارت کے بارے میں روس کا رویہ ویسا ہی ہو گیا ہے، جیسا کبھی امریکہ کا تھا۔ وہ اسلام آباد کیوں گئے؟ کیونکہ وہ افغانستان کے بحران کو حل کرنے میں مصروف ہیں۔ سوویت روس ہی اس تکلیف کا باعث بنا تھا اور وہی اس کی دوا تلاش کر رہا ہے۔ لاوروف نے واضح طور پر کہا کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر افغان بحران حل نہیں ہو سکتا۔ لاوروف نے طالبان کے ساتھ روسی تعلقات پر اصرار کیا۔ انہوں نے ‘انڈو پیسیفک‘ کے بجائے ‘ایشیا پیسیفک‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلوی چوکڑی کو ‘ایشین نیٹو‘ بھی کہا۔ روس، چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر اب امریکی تسلط کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بہتر ہو گا کہ بھارت کسی دھڑے کا پچھ لگو نہ بنے۔ جے شنکر نے اس نکتے کو واضح کیا ہے۔

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ دنیا نیوز

بھارتی کسانوں کی تاریخی جدوجہد

بھارت میں کسانوں کی جدوجہد نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ بھارتی پنجاب، اتر پردیش اور مدہیہ پردیش کے لاکھوں کسانوں نے پولیس کی رکاوٹوں اور تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے، کسانوں کے اس دھرنا میں خواتین کی بھاری تعداد شریک ہے۔ یہ کسان مودی حکومت کی زراعت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالہ کرنے کے خلاف صف آراء ہیں۔ بھارت کی 2.9 ٹریلین ڈالر معیشت میں سے زرعی شعبہ کا تقریباً 15 فیصد حصہ ہے مگر بھارت کی 1.3 بلین آبادی میں سے آدھی آبادی کا انحصار زرعی شعبہ پر ہے۔ بھارت کی حکومت کارپوریٹ سیکٹر کو زرعی شعبہ میں داخل کر کے امریکا کے زرعی نظام کو نافذ کر رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے کسان پیلے اور ہرے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس دھرنے میں فیض اور جالب کی نظموں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ کسان بھگت سنگھ اور اشفاق ﷲ کی قربانیوں کو یاد کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومتوں کی کسان دشمن پالیسیوں کی بناء پر ہر سال درجنوں کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، کچھ زمینداروں کے تشدد سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کے اس دھرنا میں ان مرنے والے کسانوں کی بیوائیں اور بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ بیوائیں، بیٹیاں اور بہنیں زیادہ پرجوش ہیں۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ پرائیوٹ کمپنیوں کو زرعی شعبہ میں کردار کے لیے قانون سازی کی تھی۔ بھارتی پارلیمنٹ میں منظورکیے جانے والے اس قانون کے تحت کسان پرائیوٹ کمپنیوں کو زرعی اجناس فروخت کریں گے۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نجی شعبہ سے زرعی شعبہ کی معیشت بہتر ہو گی۔ بھارتی حکومت کی 24 سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو سیاہ قانون قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما اور جدید بھارت کے معمار پنڈت جواہر لعل نہرو کے پر نواسے راہول گاندھی کا مدعا ہے کہ وزیر اعظم مودی کسانوں کو سرمایہ دار کا غلام بنا رہے ہیں بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد جاگیرداری کا خاتمہ کیا تھا۔

سنہ 1964 ء میں ان کی حکومت نے زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی  ایم سی) ایکٹ نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسانوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ زرعی اجناس حکومت کی ریگولیٹ کردہ مارکیٹ یا منڈی میں فروخت کریں جہاں مڈل مین کسانوں کو ریاست کی قائم کردہ کمیٹی یا نجی خریداروں کو اشیاء فروخت کرنے میں مدد دیں گے۔ مودی حکومت کا دعوی ہے کہ اب اے پی  ایم سی منڈیس کی اجارہ داری ختم کر دی گئی ہے مگر حکومت نے زرعی اجناس کی کم از کم قیمت کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو ختم نہیں کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پورے ملک میں زرعی اجناس فروخت کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل زرعی اجناس کی ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقلی پر پابندی عائد تھی۔ ایک اندازہ کے مطابق اس قانون کے تحت کسانوں کو نجی کمپنیوں سے تحریری معاہدے کرنے ہونگے۔ اس معاہدہ میں کسانوں کو بہتر منافع کی یقین دہانی کرائی گئی ہے مگر بعض ایسی شقیں شامل ہیں کہ کسان ایک طرح سے کمیٹی کا غلام بن جائے گا۔

کسانوں کے دھرنا کی منظم تنظیموں میں سے ایک بھارتی کسان یونین (بھارتیہ کسان یونین) کے 53 سالہ بروندر سنگھ لگووال اس معاہدہ کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاملہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ عزت نفس کا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت کسان کی عزت نفس پامال ہو رہی ہے اور زرعی اجناس پیدا کرنے کے حق بڑھنے کا حق سے محروم ہو جائے گا، یوں حکومت کسانوں کو کارپوریشنز کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدہ پر عملدرآمد پر کوئی تنازعہ پیدا ہو گا تو کسان اپنے مفاد کا تحفظ نہیں کر  سکے گا۔ اب ان رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ زراعت میں بعض اوقات ناقابل برداشت صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس صورتحال میں کسان کے پاس صرف ایک راستہ رہ جائے گا، وہ راستہ خودکشی کا ہو گا۔ کسان اس بات پر متفق ہیں کہ پرانے نظام میں کئی خرابیاں ہیں، اس بناء پر زراعت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتا کہ زراعت کی معیشت میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ حکومت ایک مڈل مین سے دوسرے مڈل مین کی طرف دھکیل دے۔ یہ قانون قطعی طور پر مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

کسان اپنے مؤقف کی تقویت کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ 86 فیصد کسانوں کی زرعی زمین کا رقبہ دو ہیکٹرز (دو ہیکٹر) سے بھی کم ہے۔ اس صورتحال میں کسان کے لیے دور دراز علاقہ میں جا کر اپنی پیداوار فروخت کرنا ایک لاحاصل عمل ہے۔ بھارت کے زرعی شعبہ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نجی شعبہ کو زرعی معیشت میں داخل کر کے یہ امید لگا بیٹھی ہے کہ اب نتائج مثبت ہونگے مگر صورتحال اس کے بالکل منفی ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ یہ ابھی ابتدائی اقدامات ہیں، مستقبل میں کچھ بڑا خطرناک کام ہو گا اور خطرہ ہے کہ حکومت زرعی اجناس کی خریداری کے نظام سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گی۔ کسانوں کی معیشت کا سارا انحصار سرکاری نظام میں زرعی اجناس کی خریداری پر ہے۔ بھارتی پنجاب میں زرعی شعبہ کی تاریخ کا جائزہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1960 میں پنجاب اور ہریانہ میں زرعی اصلاحات کے بعد گیہوں اور دھان کے بیجوں کی مختلف اقسام حکومت نے رائج کیں، یوں ان اجناس کی پیداوار حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی تھی۔

اس بناء پر 60ء کی دہائی کو سبز انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ کسانوں کو حکومت کے زرعی اجناس کی کم سے کم قیمت مقررکرنے کے نظام سے خاطرخواہ فائدہ ہوا تھا۔ کسانوں کی اس تحریک کی مزدور تنظیموں کی جانب سے بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ مزدور، کسان اتحاد زندہ باد کے نعرے ہر طرف گونج رہے ہیں۔ اس تحریک میں بعض طبقاتی تضادات بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ خوشحال جاٹ، سکھ ، کسانوں اور بے زمین زرعی مزدوروں میں تضادات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ 1970ء میں قائم ہونے والی بڑے کسانوں کی انجمن نئے کسان تحریک نے چھوٹے کسانوں کو بھی اس جدوجہد میں شامل کر لیا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ 1960ء کی دہائی کے سبز انقلاب کے اثرات ختم ہو چکے ہیں۔ اس زمین کی پیداواری صلاحیت سیم و تھور کی وجہ سے کم ہو گئی ہے، یوں زرعی اجناس پر آنے والی لاگت بڑھ گئی ہے، مگر اجناس کی مناسب قیمتیں نہیں ملتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے کسان اور بے زمین زرعی مزدوروں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ کسان کارکن کہتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف کسانوں کا ہے، اس صورتحال سے مزدور، دکاندار، طالب علم، آڑتی اور بے روزگار نوجوان لڑکے لڑکیاں سب متاثر ہوئے ہیں۔

دہلی کے قریب مسلمانوں نے کسانوں کے لیے لنگر قائم کیا ہے۔ 30 کے قریب کھلاڑیوں، ادیبوں اور ڈاکٹروں نے کسانوں سے برے سلوک کے خلاف احتجاجاً اپنے قومی ایوارڈ واپس کر دئیے ہیں۔ کسان تنظیموں کی اپیل پر گزشتہ منگل کو 4 گھنٹے تک مکمل ہڑتال ہوئی۔ حکومت نے اس ہڑتال کو روکنے کے لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ کو گھر میں نظربند کر دیا۔ کسان رہنما کہتے ہیں کہ بھارت کے تین بڑے سرمایہ دار خاندان اس قانون کے پیچھے ہیں۔ اس دھرنا کی خاص بات یہ ہے کہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی کھانا تیارکرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسانوں کے اس دھرنا کی گونج سمندر پار تک پھیل گئی ہے۔ کینیڈا اور برطانیہ میں سکھوں نے اس دھرنا سے یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے کسانوں کے مطالبات سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے جس پر مودی حکومت چراغ پا ہے۔

بعض کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جس طرح دہلی میں شاہین باغ میں احتجاج کرنے والی خواتین کو محصور کیا تھا اور تشدد کر کے انھیں منتشر ہونے پر مجبورکیا تھا مودی حکومت وہی طریقے کسان دھرنا کے شرکاء پر استعمال کرنا چاہتی ہے مگرکسانوں کا مزدوروں کے ساتھ اتحاد ہے، یہ ایک سیکیولر تحریک ہے۔ یوں ہر سیاسی جماعت اس تحریک کی حمایت کر رہی ہے۔ حکومت کسانوں کو اعصابی لڑائی میں الجھا کر منتشرکرنا چاہتی ہے مگر دھرنا کے شرکاء خاص طور پر عورتوں کا عزم ہے کہ جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں ہونگی وہ واپس نہیں جائیں گی۔ پنجاب کے دونوں طرف کے کسان بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ یہ جدوجہد خطہ کے مظلوموں کو ایک نیا راستہ دکھا رہی ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

انڈیا کسانوں کے نرغے میں

بہت دنوں سے نریندر مودی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر اسمبلی میں کھیلتے کھیلتے کسانوں کی زمینوں کو بھی اپنی ملکیت سمجھ کر اور اپنے من مانے کھلاڑیوں کی فیلڈ جان کر یہاں بھی انھیں کھیلنے کی سوجھی۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ سردیوں کے موسم میں کوئی نیا ڈکٹیشن ملک اور قوم کو نہیں دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ موسم تھا جس نے روس کو سوویت یونین بنا دیا تھا۔ کسانوں کی ٹولیاں نکلی تھیں اور ارد گرد کی ریاستوں نے ان کو جوائن کر کے دنیا کی سب سے بڑی ریاست بنا دیا تھا۔ لیکن نریندر مودی کو بھلا کیا معلوم تھا ان کو تو بھارتی زر پرستوں نے بھارت کا پرائم منسٹر بنا دیا۔ وہ بھی دوسرے انتخاب میں دو تہائی ووٹوں کا مالک بنا کر۔ پہلے تو انھوں نے جموں اور کشمیر کو ہڑپ کیا اس بل کے مخالف بڑا احتجاج ہوا۔ کرفیو لگے، جو شاید تاریخ عالم میں اپنی نوعیت کے یہ طویل ترین کرفیو تھے۔ کشمیری لیڈروں کو یکے بعد دیگرے پھر اچانک اپنی ہی اتحادی پارٹی کے لیڈروں کو جو کشمیر سے متعلق تھے۔

ان کو پس زنداں کر دیا۔ جن میں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی صاحبہ اور ان کی پوری کابینہ شامل تھی۔ پورے ہند میں بیشتر صوبوں میں بعض حکمرانوں اور شہریوں نے سری نگر شہر کو تو فوجیوں کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا ۔ تقریباً ہر گلی میں پانچ سے سات فوجی ڈیوٹی پر نافذ کر دیے گئے۔ پھر وہی سربراہ پوچھتے ہیں کہ سری نگر میں مظاہرے کیوں نہیں ہو رہے۔ اس کے بعد انھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک بل پاس کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پینتیس فیصد مسلمان وہ بھی بھارت میں۔ تو ان کو ایک بل کے ذریعے ملک میں آ کر بنگلہ دیش سے اور برما سے آئے ہوئے مسلمانوں کو غیر قانونی قرار دے کر نکالنا مقصد تھا۔ بقول مودی حکومت کے ایک وزیر کے تیس فیصد مسلمان ہونا ملک کے لیے خطرناک ہو گا۔ اس لیے جب اس بل کی مخالفت کے لیے تحریک چلی تو ہندو طلبا بھی مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر آگئے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی جنرل سیکریٹری نے بھی مسلمانوں کے خلاف اس بل کی مخالفت کی۔ لہٰذا ان کو فرقہ پرستوں نے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔

اس طرح بھارت میں ہندو مسلم نوجوانوں کا اتحاد اس قدر بڑھ گیا کہ شاہین باغ میں پنجاب یونیورسٹی سے طعام و قیام کا انتظام ہونے لگا جو یقینا بی جے پی کے خلاف ایک بڑی قوت بن گئی تھی۔ اس قدر مضبوط قوت کہ شاہین باغ کی مسلم خواتین کو بے دخل کرنے کی مسٹر مودی کو جرأت نہ ہوئی مگر کورونا وبا پھیلتی گئی اور تحریک ٹوٹتی گئی۔ تحریک کے اس ٹوٹ پھوٹ اور سائنسی بندش کی وجہ سے مسلمانوں کی یہ تحریک تو چل نہیں سکی۔ لہٰذا انھوں نے عوام دشمن سرمایہ دارانہ حمایت کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سرمایہ داروں کی اسمبلی تھی لہٰذا بل پاس بھی ہو گیا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے ایک ارب پینتیس کروڑ آبادی والے ملک میں سرمایہ دار تو محدود تعداد میں ہیں جب کہ عوام اور مزدور طبقات لامحدود تعداد میں۔ پھر یہ موسم انقلاب کی نوید کا موسم ہے۔ آدھی رات کو دہلی میں ناقوس، جھانجھ، ڈھول اور بگل کی آوازیں آنے لگیں۔ شہر جاگ گیا۔ پھر بگل کی آواز سے یہ سمجھ گئے کہ یہ انقلاب کی آواز ہے۔ پھر انھیں یہ یاد آیا کہ انھوں نے اخبارات میں صبح کو یہ پڑھا تھا کہ سیکڑوں کسان اور مزدور انجمنیں پنجاب، یوپی اور دکن سے دلی میں 30 نومبر کو داخل ہوں گی۔ اور تمام راستے بند کر دیں گے۔

وقت گزرتا گیا لیکن آواز تیز نہ ہوئی۔ اس سے اندازہ ہو گیا کہ میرؔ و غالبؔ کے اس شہر میں آنے والے لوگوں کو روک دیا گیا ہے۔ جب صبح ہوئی تو صورتحال واضح ہوئی کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی جلسے جلوس کو دلی شہر میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ سیکڑوں راہ میں گھائل ہوئے۔ جاں سے گزر بھی گئے۔ پھر لاٹھی چارج بند ہو گیا۔ کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ کہیں 1949 کے پیکنگ کا حال نہ ہو جس کو ماؤزے تنگ نے گھیر کر اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ لہٰذا اس سنسنی خیز اور خطرناک صورتحال کو سرمایہ دار سمجھ گئے وہ تصادم سے بچ کر امن کی چھاؤں میں گفتگو پر تیار ہو گئے۔ مگر اب صورتحال بات چیت سے آگے نکلتی جا رہی تھی۔ کیونکہ دوسرے شہروں سے آندولن کے حامی دلی کی سرحدوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کسانوں کی تقریباً دو سو پارٹیاں اس آندولن میں شرکت کر رہی ہیں۔ اور ہر پارٹی دو تین ہزار افراد کو لے کر چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو دو سو افراد کے یونٹ بھی چل رہے ہیں۔

اس بغاوت نما جلوس میں یہ ٹولیاں رات گئے تک پولیس اور پیرا ملٹری فورس سے تصادم کرتی رہیں۔ دلی چلو تحریک میں شامل ہونے کے لیے پنجاب سے تو کسان چلے ہی تھے۔ اس کے علاوہ یوپی، سی پی سے بھی کسان چل پڑے۔ ہر آدمی اپنے کھانے کا سامان بھی ساتھ لے کر چلا ہے۔ اور ان کا عزم ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے وہ واپس نہیں جائیں گے۔ ایسی صورت میں بھارتی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی ہوشیاریاں بھی دھری کی دھری رہ گئیں۔ اس جلوس کی خاص بات یہ ہے کہ تامل ناڈو اور مہاراشٹرا سے چلنے والے تین سو کسان اپنے ساتھ ان کسانوں کی کھوپڑیاں بھی لائے تھے جنھوں نے خودکشی کر لی تھی۔ کیونکہ وہ بینک کے قرضہ جات ادا نہیں کر سکے تھے اور بینک نے ان کو حد درجہ اذیت دی تھی یہ اذیت خانے نریندر مودی کے ایجاد کردہ چالبازیوں میں سے ایک ہیں کہ انسان کو کیسے دکھ دیا جائے کہ پہلے تو وہ شرمندہ ہو اور شرمندگی کے بعد موت کی آغوش میں پناہ لے لے۔

مردہ کسانوں کی تین سو کھوپڑیاں تاریخ کا بدترین المیہ ہیں اور ایک ٹولی ان کسانوں کی بھی تھی جو کامریڈوں کی طرح جان دینے پر تیار نہ تھے بلکہ سابقین کے طریقے سے موت کو گلے لگانے آئے تھے۔ تا کہ انتظامیہ پر اس کا بوجھ پڑے اور حکومت جن علاقوں میں بارش نہیں ہوئی یا پانی کی قلت رہی ہے ان کسانوں کے قرضے معاف کر دے۔ ایک کسان چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں نے پانچ سال پہلے بینک سے چالیس ہزار قرض لیا تھا جو اب بڑھ کر چار لاکھ ہو گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ لیکن بعد میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسانوں میں یہ بے چینی ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ برسوں سے کسان مسائل کا شکار ہیں۔ یوپی کے کسان جو پنجاب کے کسانوں کی طرح اعداد و شمار میں ہوشیار ہیں۔ ان کی ٹولیاں جونپور، نیشاپور، لکھنو کے اطراف سے ہوتی ہوئی یکم دسمبر کو دہلی کے بارڈر غازی آباد میں روڈ تک پہنچ چکی تھیں۔ ان کی پولیس سے بڑی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کی ہوشیاریاں یہی تھیں کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ جس طرح کورونا کی آمد سے مسلمان گھروں کو چلے گئے تو کسان مارچ کیا کریں گے۔ یہ غفلت ان کو رات دن ہیجانی کیفیت اور مینٹل ٹینشن میں ڈال چکی ہے۔ اب صورتحال یہی رہ گئی ہے کہ آخرکار کسانوں کو جلسہ کر کے اپنی ڈیمانڈ پیش کرنے دی جائے۔ اگر ان کسانوں میں کوئی لیڈر زبردست ہوا تو وہ دلی کا گھیراؤ کر دے گا۔ چین کی کمیونسٹ حکومت شہروں کا گھیراؤ کر کے معرض وجود میں آئی اور آج وہ امریکا کے مقابل کھڑی ہے۔ جہاں تک ہماری اطلاع ہے بھارت کی چین نواز کمیونسٹ پارٹی جس کو عرف عام میں ماؤ نواز کہتے ہیں وہ بھی اس سنگھٹن میں اپنا کردار بتانے کو ہے صورتحال جس طرف جا رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کے مزدور طبقات اب زیادہ دنوں تک خودکشی کر کے سرمایہ داری کو فروغ نہیں دیں گے۔ بی جے پی کا منصوبہ یہ تھا کہ تمام کسانوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ گورنمنٹ کو کم سے کم ریٹ پر مال بیچیں اور پھر اس کی پیمنٹ توڑ توڑ کر قسطیں بنا کر دی جائیں۔ ایک تو عوام کو کسان مجبور ہو کر اپنی اصل قیمت سے کم قیمت پر اجناس کو فروخت کرنے پر مجبور کیے جائیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غلے کو جمع کرنا اس کو منافع کسی خاطر چھپا دینا۔ بھارت کی حکومت نے اس کو جرم کے حصے سے نکال دیا ہے۔

حکومت نے ذخیرہ اندوزی کو قابل جرم قرار دینے کے بجائے اس کو جائز قرار دینے کے لیے بھی بل پاس کیا ہے تاکہ چھوٹے کسانوں کی کوئی آواز نہ رہے۔ صرف وہ چند بڑے کسانوں سے ڈیل کر کے اپنا سودا عوام کو فروخت کریں اور دنیا میں نایاب بڑے بڑے تاجر بھارت کی سسکتی جنتا میں پیدا کریں۔ اب تک تو بمبئی کی سڑکوں پر رات گئے بے گھر لوگوں کے سونے کی جگہیں سڑکیں ہیں اب لاکھوں نئے لوگ بھی سرمایہ دارانہ چال سے اپنی نیند اور کئی شہروں کی سڑکوں پر خراب کریں گے۔ مگر ہر وقت یہ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں حکومت کو چین نصیب نہیں کرنے دیں گی۔ 3 دسمبر کے بعد جو اب تک پنجاب اور ہریانہ سے تین لاکھ کسان آئے تھے اور بقیہ جگہوں سے لاکھوں کسان جو مختلف صوبوں کے کسان ہیں جو مودی کے اعلان کے بعد اپنا طبل جنگ بجائیں گے۔ تب مسٹر مودی کو اندازہ ہو گا کہ کسان مزدور قوت کیا ہے۔ اب جا کر گارجین اور دنیا بھر کے اخباروں کے ایڈیٹروں کی آنکھیں کھلی ہیں کہ بھارت میں حکومت کی مجرمانہ سرگرمیاں کیا ہیں۔ جو خود اپنی نفی کی طرف آگے بڑھ رہی ہیں۔

انیس باقر  جمعـ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سی پیک کے تحفظ کے لیے چین و پاکستان متحد ہیں

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نریندر مودی کی حاسد‘ تنگ دل اور متعصب حکومت کی نگاہوں میں پہلے دن سے کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے جس کا اظہار آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے یہ بےبنیاد دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیم کی دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا گیا ہے۔ اُنہوں نے اِس بےثبوت الزام کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی دہشت گردی میں ملوث قرار دیا جس سے حکومت پاکستان کے اِس اندیشے کو تقویت ملی کہ مودی حکومت دہشت گردی کی کسی جعلی کارروائی کا ناٹک رچا کر اُس کا الزام پاکستان پر عائد کرنے اور اُسے پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا کر سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بڑی کارروائی کے لئے زمین ہموار کر رہی ہے۔

بھارتی قیادت کے ارادوں کی سنگینی کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر مودی سرکار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نوٹس لینا ضروری سمجھا اور اُس کے ترجمان نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتا ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان نے واضح کیا کہ چین دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی معاونت کرتا رہے گا اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ہر موسم کے ساتھی دونوں ملک مل کر ناکام بنائیں گے۔ چین کے اِس بیان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صراحت کی کہ پاکستان سی پیک منصوبے کی حفاظت کیلئے پوری طرح مستعد اور پُرعزم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے کوشاں ہے جبکہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان اور سی پیک کے منصوبوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے مودی سرکار نے 80 ارب روپے کے لگ بھگ رقم مختص کی ہے اور یہ رقم سی پیک منصوبوں کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جانی ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہر صورت سی پیک منصوبے کی حفاظت کا عزم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین مل کر اس منصوبے کی حفاظت کریں گے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اِن حقائق کی نشاندہی کی کہ سی پیک منصوبہ پورے خطے کیلئے فائدہ مند ہے، اِن فلیگ شپ پراجیکٹس کے ساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، چین بھارتی سازش سے اچھی طرح واقف ہے، سی پیک منصوبے پر چین کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہے اور اُس کے انجینئر اور کارکن یہاں کام کر رہے ہیں، اگر اُن منصوبوں کو کسی طور بھی نشانہ بنایا جاتا ہے تو چین اور پاکستان ہرگز خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں بھی پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو اٹھایا جائے گا اور بھارت خطے میں جو خطرناک کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے پوری دنیا کو اس سے خبردار کیا جائے گا۔

نریندر مودی کے الزامات پر چین اور پاکستان کے اس فوری اور بھرپور ردِعمل سے صورت حال کی سنگینی پوری طرح عیاں ہے۔ چینی قیادت کا ون بیلٹ ون روڈ کا انقلابی تصور اگرچہ بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور خود بھارت کیلئے اس میں شمولیت کی راہ کھلی رکھی گئی ہے لیکن ہمسایہ دشمنی کے چانکیائی فلسفے پر استوار مودی حکومت اس عظیم منصوبے کے پاک چین جزو یعنی سی پیک کو تباہ کرنے کی مجنونانہ کوششوں میں مصروف ہے تاہم انہیں ناکام بنانے کیلئے چین و پاکستان پوری طرح متحد ہیں جس کی بناء پر مودی سرکار کی رسوا کن ناکامی دیوار پہ لکھی نظر آتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

کرونا وائرس اور تبلیغی جماعت

اس سال کے اوائل میں کرونا (کرونا) کے مہلک وائرس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ خوف اور غیریقینی حالات کا یہ عالم تھا کہ بھائی بھائی سے دوری اختیار کر رہا تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ کرونا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتا ہے۔ غرض یہ کہ وائرس ایک آسمانی عذاب آزمائش اور ابتلا کی صورت میں اربوں لوگوں کے لیے موت کا خطرہ بن چکا تھا۔ آئے روز یہ وائرس پھیلتا ہی چلا جا رہا تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں اور ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے جا رہے تھے۔ پاکستان بھی انہی ملکوں میں سے ایک ہے جہاں ہر عام اور خاص میں خوف کی کیفیت صاف اور واضح طور پر مشاہدے میں آئی۔ انہی دنوں میں ایران سے پاکستان کے زائرین کی براستہ تفتان وطن واپسی شروع ہوئی۔ ان زائرین میں سے چند افراد میں مبینہ طور پر کرونا وائرس کے اثرات مشاہدے میں آئے جس کے نتیجے میں وہ افراد بیمار پڑ گئے اور موت کے منہ میں بھی چلے گئے۔ ان افراد کے قریب رہنے والے بعض دیگر لوگوں میں بھی جلد ہی اس وائرس کے اثرات منتقل ہو گئے چنانچہ عمومی طور پر یہ کہا جانے لگا کہ پاکستان میں کرونا وائرس زائرین ایران میں زیارتوں کے بعد وطن واپسی میں پاکستان لے آئے۔

وفاقی حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت بلوچستان کو موثر اقدامات کرنے کی احکامات جاری کیے چنانچہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے ذاتی طور پر ایران سے آنے والے زائرین کو پاک ایران سرحد پر واقع پاکستانی شہر تفتان میں روک لیے جانے کے ہنگامی اقدامات کی نگرانی کی۔ خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد تفتان میں ایک خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں زائرین کو قیام کے لیے روک لیا جاتا تھا اور مخصوص ٹیسٹ کے مراحل کے گزرنے کے بعد ان افراد کو گھر جانے کی اجازت مل جاتی تھی۔ سرکاری طور پر ان زائرین کو کرونا سے بچانا بھی مقصود بتایا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ ان زائرین کے ذریعے ملک کے دیگر شہروں میں کرونا کے پھیلنے کا خطرہ بھی ہے چنانچہ اس کی روک تھام کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ تمام زائرین کے ٹیسٹ لیے گئے اور جس شخص کو بھی کرونا وائرس میں مبتلا پایا گیا اسے خصوصی علاج کے لیے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر ایک سیاسی بحث شروع ہو گئی اور یہ کہا جانے لگا کہ وزیر اعظم عمران خان کے معتمد زلفی بخاری نے تفتان میں تعینات ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ عملہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے زائرین جن میں سے تقریباً 99 فیصد کا تعلق فقہ جعفریہ سے تھا کو کرونا کے ٹیسٹ کے بغیر ہی اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دلوا دی۔ زلفی بخاری پر الزام لگایا کہ انہوں نے محض مذہبی تعصب کی بنیاد پر ملک کی اکثریت کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

اسی دوران بیرون ملک سے پاکستان آئی ہوئی ایک تبلیغی جماعت کو کرونا وائرس میں مبتلا پایا گیا۔ یہ جماعت اسلام آباد کے علاقہ بارہ کہو میں واقع ایک مسجد میں قیام پذیر تھی۔ اب تبلیغ کے مخالفین نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر یہ الزام لگایا کہ ملک بھر میں تبلیغی جماعتیں یہ مہلک وائرس پھیلانے کی ذمہ دار ہیں۔ یہ الزام بھی لگا کہ بھارت میں واقع تبلیغی مرکز سے جو دہلی کے قریب مسجد نظام الدین میں واقع ہے بھی کرونا وائرس میں مبتلا افراد جماعتوں سے نکل کر بھارت بھر میں وائرس پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ چنانچہ حکومت پاکستان نے تبلیغی جماعت کی مرکزی مسجد واقع رائیونڈ کو عملاً بند کر دیا اور چاروں طرف سے مسلح پولیس اور سکیورٹی کے اداروں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ تبلیغ میں آئے ہوئے سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی ساتھیوں کو مسجد کے اندر ہی نظر بند کر دیا گیا کیونکہ یہ تصور کر لیا گیا تھا کہ ان تمام افراد میں کرونا وائرس موجود ہے۔ اسی طرح کی صورت حال تقریباً ہر شہر میں واقع تبلیغی مرکز کو سرکاری طور پر پیش آئی جس کی وجہ سے اللہ کے راستے میں نکلنے والے افراد کو ایسی مشکلات کا شکار بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ افراد کے جو تبلیغی مراکز میں اور ملک بھر کی مختلف مساجد میں نظر بند کر دیئے گئے تھے رشتے داروں اور عزیز و اقارب کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔

انہیں یہ معلوم نہ ہوا کہ ان کے رشتے دار کس حال میں ہیں اور کہاں ہیں۔ یہ افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں اپنے باپ بیٹوں بھائیوں کی مارے مارے تلاش کرتے رہے مگر سرکاری طور پر ان کے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا گیا۔ تلاش کرنے والے تھک ہار کے بیٹھ گئے اور مضطرب رہے تاوقت کہ ان کے عزیز و اقارب ہفتوں بعد اپنے گھر لوٹ آئے۔ بارہ کہو کی مسجد میں بیرون ملک سے آئی ہوئی جماعت کو سرکاری طور پر بتایا گیا کہ وہ 14 دن نظر بند رہیں گے۔ بعد میں ٹیسٹ ہوں گے جو افراد اس وائرس سے نجات پا چکے ہوں گے انہیں اپنے گھر جانے کی اجازت ہو گی جب کہ دیگر افراد کو مزید دو ہفتے کے لیے مسجد میں ہی روک لیا جائے گا۔ کم و بیش یہ صورت ان تمام جماعتوں کے ساتھیوں کے ساتھ پیش آئی جو کہ مختلف شہروں کے مختلف مساجد میں دعوت و تبلیغ کے غرض سے قیام پذیر تھیں۔ عمومی طور پر یہ جماعتیں تین دن کے لیے مساجد میں آتی ہیں۔ تین دن کے بعد وہ کسی دوسری مسجد میں منتقل ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ بعض اوقات چار ماہ اور بعض دفعہ 40 دن اور دس دن یا محض تین دن کے لیے ہوتا ہے۔ مگر بعض جماعتوں کو کئی کئی ہفتے مساجد میں نظر بند رکھا گیا جہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔

اس دوران ایک بھارتی ٹیلی ویژن پر مذاکرہ ہوا جس میں شریک ایک ہندو اور اس مخصوص فرقے کے افراد نے یہ الزام لگایا کہ تبلیغی جماعت پاکستان اور بھارت میں کرونا وائرس پھیلانے کی ذمہ دار ہے۔ اس پروپیگینڈا کے پیچھے ناصرف دین بیزار عناصر تھے بلکہ بعض اقلیتی فرقے بھی تھے جو آئے روز ملک میں فرقہ واریت کی فضا پیدا کرنے کے جنون میں رہتے ہیں۔ حکومت میں بعض وزرا نے بھی تبلیغ کے خلاف اپنے بغض کے اظہار کا موقع ضائع نہیں کیا بلکہ کاری ضربیں بھی لگانے کی کوشش کی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں پورے ملک میں تبلیغی مراکز میں سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ لاہور میں فرقہ واریت پھیلانے والے پولیس افسروں اور ملازموں نے بھی تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پر بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے۔ انہیں ہتھکڑیاں پہنائی گئیں اور مار پیٹ کے بعد تھانوں میں بند کر دیا گیا۔ ان کا جرم یہ بتایا گیا کہ آپ لوگ کرونا وائرس پھیلا رہے ہیں۔

یہ الزام ناصرف مضحکہ خیز اور بے ہودہ تھا بلکہ سائنسی اعتبار سے حکومت کے لیے ڈوب مر جانے کا مقام بھی تھا تبلیغی جماعت کے اکابرین نے اس صورت حال کا نہایت صبر اور تحمل سے مقابلہ کیا اور اپنی جوابی کارروائیاں نوافل اور دعاﺅں تک محدود رکھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے اکابرین نے جماعت کے خلاف ہونے والے اس پروپیگینڈا کے جواب میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔ اس صورت حال میں بعض جگہ پر خود حق شناس لوگوں نے ٹی وی چینلز پر حق بات کہی۔ بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر مذاکرہ کے ہندو مبصر نے تبلیغی جماعت کو وائرس پھیلانے کا ذمہ ٹھہرانے والوں سے سوال کیا کہ اگر بھارت میں کرونا تبلیغی جماعت پاکستان سے لائی ہے تو ایران میں اسے کون لے گیا ہے کیونکہ تبلیغی جماعتوں کا ایران میں داخلہ بند ہے۔ اس مذاکرہ کے دیگر شرکا جو تبلغی جماعت پر کرونا کے حوالے سے الزامات لگا رہے تھے خاموش رہے اور اس مبصر کے اس سوال کے جواب میں کھسیانی بلی کے مانند دائیں بائیں دیکھنے لگے۔

دنیا بھر میں معتصبانہ میڈیا نے رائیونڈ اور تبلیغی جماعت کے خلاف بھر پور پروپیگینڈا کیا حالانکہ ایسا کرنے والوں کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی سائنسی اور عقلی دلیل موجود نہیں تھی۔ اب اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت بڑے احسان اور مہربانی کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں کرونا وائرس دم توڑ رہا ہے۔ کئی معتصب اور گمراہ افراد یہ بات تسلیم نہیں کریں گے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے خاتمے کی ایک وجہ اللہ پاک کی وہ مہربانی اور احسان ہے جو ملک بھر کے علمائے کرام اور دین دار افراد کے رونے دھونے اور عاجزانہ دعاﺅں اور نوافل کے نتیجے میں ہوا۔ اب وہ لوگ جن کی آنکھوں پر تعصب کی عینک ہے یا دین سے واقف نہیں ہیں وہ کب اس حقیقت کو تسلیم کریں گے؟ الحمد اللہ تمام تبلیغی مراکز پوری طرح کھل چکے ہیں اور وہاں معمول کی تبلیغی سرگرمیاں بھی شروع ہیں۔ کاش وزیراعظم عمران خان اور ان کے وہ ساتھی جنہوں نے تبلیغی جماعت کے خلاف پروپیگینڈا کو ختم کرنے کا کوئی اقدام نہیں کیا تھا اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ کرونا وائرس غریب مسلمانوں، علما کرام اور دین دار افراد کی وجہ سے خلاصی ملی ہے۔ بہر حال اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر شرمسار ہونے اور توبہ استغفار کا سلسلہ جاری رکھنے کی اب بھی شدید ضرورت ہے۔ اس موقع پر بہت مناسب ہو گا کہ تمام علما کرام مساجد میں کرونا وائرس کے اثرات ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ وزیر اعظم عمران خان اور تمام وزرائے اعلیٰ سے گزارش ہے کہ وہ ملک میں کرونا وائرس کے خاتمے پر یوم تشکر منائیں اور خصوصی نوافل پڑھیں۔

قیصر بٹ

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو