اسلام آباد کے پیارے ہاتھی کاون کو خدا حافظ

تمہیں تو خیر کیا یاد ہو گا۔ پر میرا تم سے ایک دور پرے کا رشتہ ہے۔ میرے بچے بھی جب موقع ملتا تم سے ملنے اسلام آباد مرغزار کا چکر لگاتے تھے۔ تم انھیں دیکھ کے سر ہلاتے تھے، سونڈ سلام کرتے تھے اور موڈ اچھا ہو تو پیٹھ پر بھی بٹھاتے تھے۔ پھر وہ بڑے ہو گئے اور ان کی جگہ نئے بچوں نے لے لی۔ کاون کیا تمھیں یاد ہے کہ مرغزار میں پچھلے پینتیس برس کے دوران تم نے کتنے لاکھ بچوں کو سونڈ سلام کیا اور پیٹھ پر سواری کروائی۔ ان میں سے ہزاروں بچے ترقی پا کر جانے کہاں کہاں پہنچ گئے۔ ان میں سے کئی تو اتنے طاقتور عہدوں تک پہنچے کہ ان کے قلم کی ایک جنبش تمھیں دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی کے بجائے دنیا کا سب سے خوش و خرم ہاتھی بنا سکتی تھی۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی تمھارے پاؤں میں پڑی بھاری زنجیر کو دراز ہوتے اور تم سے آسیب کی طرح لپٹی جان توڑ تنہائی کے سایوں کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔

پیارے کاون، آج جب تم ایک طویل قید کے بعد رہا ہو کر کھلی چراگاہوں کی طرف جا رہے تو میں تمھیں مبارک باد تو دے سکتا ہوں مگر افسوس ہرگز نہ کروں گا، کیونکہ جس دُکھ سے تم پینتیس برس تک گذرے ہو وہ سانجھا ہے۔ جس طرح تمھیں 1985 میں بہت چاؤ کے ساتھ سری لنکا سے یہاں لایا گیا اور تمھارے رکھوالوں کو یقین دلایا گیا کہ کاون کا ہم اپنے بچوں کی طرح خیال رکھیں گے۔ بالکل اسی طرح ہمارے لیے بھی 73 برس پہلے ایک نیا گھر یہ کہہ کر دلایا گیا کہ ہم اسی میں محفوظ اور خوشحال رہیں گے۔ مگر جس طرح کے رکھوالے تم نے پچھلے 35 برس میں دیکھے وہ ہم عشروں سے بھگتتے آ رہے ہیں۔ تمھیں بھی پوری غذا نہیں ملتی تھی ہماری غذا بھی چرائی جاتی رہی۔ تمھارے علاج معالجے کا بھی کوئی بندوبست نہیں تھا تو ہمیں بھی کہاں تسلی بخش طبی سہولتیں ملیں۔ تمھیں بھی مرغزار کے لالچ سے لبریز اقربا پرور انتظام کا سامنا کرنا پڑا بعینہہ ہمارے ساتھ بھی یہی بیتی۔

تمھارا مہاوت بھی اناڑی اذیت پسند تھا تو ہم پر سوار اناڑی مہاوتوں کے ڈنڈے میں بھی لمبی لمبی کیلیں لگی ہوئی تھیں۔ تمھیں بھی سونڈ پھیلا پھیلا کے تماشائیوں سے بھیک مانگنا سکھایا گیا تو ہمیں بھی ریڑھے پر بٹھا کے خیرات کی آس میں سرِ بازارِ عالم گھمایا جاتا رہا۔ تمھاری جمع کردہ بھیک بھی مرغزار کے منتظمین لے اڑتے تھے۔ ہمارے نام پر اکھٹی ہونے والی امداد کا بھی یہی حشر ہوتا ہے۔ تمھاری دیکھ بھال کے لیے مختص بجٹ بھی جیبوں جیب غتربود ہو جاتا تھا تو ہماری فلاح کے لیے منظور بجٹ کا بھی یہی حشر ہوتا رہا۔ تمھارے حالات پر بھی مقامیوں سے زیادہ غیرملکیوں کا دل پسیجتا رہا ہمارے مسائل پر بھی بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز ہاتھ ملتے ہیں۔  فرق ہے تو بس اتنا کہ تمھارا پنجرہ چھوٹا ہے اور ہمارا پنجرہ کچھ بڑا۔

تم بھی حالات سے تنگ آ کر ہجرت کے خواب دیکھتے رہے۔ ہمارے بھی لاکھوں بچے موقع ملتے ہی اپنی آنکھوں میں خواب سجائے پہلا موقع ملتے ہی ہم سے دور چلے گئے۔ بہت سے کامیاب ہوئے اور بہت سے غلامی کی نئی زنجیروں میں جکڑے گئے۔ کچھ کو سنہری زنجیریں ملیں تو بیشتر کو تمھاری طرح آہنی جکڑ بندی۔ پیارے کاون! تمہاری رہائی پر میری آنکھوں میں جو چند آنسو اگر ہیں بھی تو وہ خوشی کے ہیں۔ میری دعا ہے کہ جب تم کچھ دن بعد نئے جنگلوں میں زنجیر سے پاک آزادی کے ساتھ چہل قدمی کرو تو تمھارے حافظے سے ماضی کی ہر یاد اڑ جائے اور یادداشت میں صرف حال اور مستقبل رہ جائے۔ ابھی تمھیں بہت جینا ہے۔ یہ دُعا یوں کر رہا ہوں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ہاتھی کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے۔ حالانکہ تم نے ہماری سر زمین پر جو وقت کاٹا اس کے بعد کہنا تو نہیں بنتا پھر بھی کہے دیتا ہوں کہ اگر مناسب سمجھو تو ہمارے لیے بھی دعا کرنا۔ شاید تمھاری دعا ہی لگ جائے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

مندر کے نام پر سیاست

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے معاملہ پر جہاں ایک طرف سیاست ہو رہی وہیں جھوٹا پروپیگنڈہ بھی خوب کیا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔
این جی اوز میدان میں نکل آئیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بیان جاری کر دیا، سول سوسائٹی اپنی آواز بلند کر رہی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مذہبی طبقہ کا بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ یہ معاملہ ایک تنازعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ آیا مندر اسلام آباد میں بننا چاہیے یا نہیں۔ کیس کے حقائق کو جانے بغیر اقلیتوں کے حقوق کے نام پر پارلیمنٹ تک میں تقریریں کی جارہی ہیں اور مغرب کو خوش کرنے کے لیے ایسی ایسی باتیں کی جا رہی ہے جو پہلے کبھی نہ دیکھیں نہ سنی۔ ن لیگ کے ایک ذمہ دار نے جوش خطابت میں یہ تک کہہ دیا کہ کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت نہیں۔ اس پر جب جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی کی طرف سے اعتراض کیا گیا تو جماعت اسلامی کو طعنہ سازی کا نشانہ بناتے ہوئے بغیر کسی معذرت اور شرمندگی کے وضاحت یہ کی گئی کہ آئین کہتا ہے کہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق برابر ہیں چاہے کسی کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔

جو بات پہلے کی گئی اُس بات سے مختلف تھی جو بعد میں کی گئی۔ پہلی بات سے مغرب کو خوش کیا جا سکتا ہے اور ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ن لیگ تو ایک لبرل جماعت ہے جبکہ دوسری بات سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ کہنے کا مطلب وہ نہیں تھا جو سمجھا گیا بلکہ وہ تھا جس کی وضاحت کی گئی۔ بحرحال قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق پر دونوں اطراف سے تقاریر کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ مندر کو تعمیر کیا جائے۔ اب زرا حقاق سن لیں۔ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے نواز شریف دور حکومت (2016) میں چار کنال زمین کی جگہ سی ڈی اے کی طرف سے متعین کی گئی۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قومی خزانہ سے پچاس کروڑ روپیہ مندر کی تعمیر کے لیے مختص کیا جائے جس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حال ہی میں سی ڈی اے سے بغیر منظوری کے مندر کے لیے مختص پلاٹ پر دیواریں بنانا شروع کر دی گئی جس پر قانونی طور پر سی ڈی اے نے نوٹس جاری کیا۔

قانون کے مطابق کسی قسم کی تعمیر کے لیے سی ڈی اے سے منظوری لینا لازم ہے۔ نوٹس ملنے پر یہ ایشو بنا دیا گیا کہ سی ڈی اے نے مندر کی تعمیر روک دی جس کی وجہ قانونی نہیں بلکہ مذہبی ہے جو سراسر جھوٹ ہے لیکن اس جھوٹ کو خوب پھیلایا جا رہا ہے اور اسی جھوٹ کی بنیاد پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، این جی اوز اور ایک مخصوص طبقہ اپنی اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کیا امریکا، برطانیہ، یورپ میں بغیر اجازات کے کوئی مسجد، کوئی مندر حتیٰ کہ کوئی گرجا گھر بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟؟ اگر نہیں تو سی ڈے اے اگر قانون کی عملداری کے لیے مندر کی غیر قانونی تعمیر کو روکنے کے لیے نوٹس جاری کر رہا ہے تو اس پر اتنا شور کیوں۔ جس دن مندر کی تعمیر کے غیر قانونی کام کو روکنے کے لیے سی ڈے اے نے نوٹس جاری کیا اور اسے اقلیتوں کے حقوق کے خلاف اقدام گردانا گیا اُسی روز اسلام آباد کے ہی علاقہ سہالہ میں ایک ایسی مسجد کو شہید کیا گیا جس کے بارے میں سی ڈی اے کا کہنا ہے تو وہ غیر قانونی تعمیر تھی۔ کیا اس مسجد کے شہید کیے جانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، این جی اوز ، میڈیا اور ہماری پارلیمنٹ میں کوئی بات ہوئی؟؟؟ بلکل نہیں۔

سی ٖڈی اے نے ایک نہیں بلکہ کئی اور مساجد کو نوٹس جاری کیے اور ماضی میں کئی ایسی مساجد کو شہید بھی کیا گیا جن کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اُن کی تعمیر غیر قانونی تھی۔ گویا مندر کی تعمیر کے قانونی معاملہ کو مذہبی رنگ دینا دراصل ایک غیر قانونی عمل کی حمایت کرنا ہے جس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ جہاں تک مندر کی تعمیر کے مذہبی معاملہ کی بات ہے تو اس پر محترم مفتی تقی عثمانی نے سوشل میٖڈیا کے ذریعے اپنا جو بیان جاری کیا وہ پاکستان اور اسلام کے خلاف پروپیگندہ کرنے والوں کی جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے کہا کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو حق ہے کہ جہاں ان کی آبادی کے لیے ضروری ہو وہ اپنی عبادت گاہ برقرار رکھیں اور پاکستان جیسے ملک میں جو صلح سے بنا ہے وہ ضرورت کے موقع پر نئی عبادت گاہ بھی بنا سکتے ہیں لیکن حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خرچ پر مندر کی تعمیر کرے خاص طور پر ایسی جگہ جہاں ہندو برادری کی آبادی بہت کم ہو اس لیے اسلام آباد میں حکومت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرائے۔ تقی صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نہ جانے اس نازک وقت میں کیوں ایسے شاخصانے کھڑے کیے جا تے ہیں جس سے انتشار پیدا ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیا ہمارے تعلیمی ادارے نئی نسل کو تباہ کرنے کے ٹھکانے بن رہے ہیں ؟

تعلیمی ادارے جو کبھی ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت کے وجہ سے جانے جاتے تھے، آج ان میں پڑھنے والے قوم کے بچوں کو نشہ کی صورت میں موت بیچی جا رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اگر کوئی نشہ سے بچ جائے تو اُسے اخلاقی طور پر تباہ کر دیا جاتا ہے۔ آج (بروز بدھ 19دسمبر 2018) دو خبریں شائع ہوئیں جو تعلیمی اداروں کے متعلق تھیں اور جنہیں پڑھ کے ایک بار پھر محسوس ہوا کہ ہمارے بچوں کو کس قدر سنگین خطرات کا سامنا، اُس ماحول اور اُن اداروں سے ہے جہاں ہم اُن کے روشن مستقبل کے لیے اُنہیں پڑھنے اور کردار سازی کے لیے بھیجتے ہیں۔ 

ایک خبر وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے حوالے سے پڑھنے کو ملی۔ اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے انکشاف کیا کہ ایک سروے کے مطابق اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں میں 75 فیصد لڑکیاں اور 45 فیصد لڑکے ایک خطرناک نشہ‘ آئس کرسٹل ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ان بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی ہر چار میں سے تین طالبات اور تقریباً نصف نوجوان لڑکے ایسا نشہ کرتے ہیں جو کسی بھی فرد کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہے اور جس کے سبب اب تک لاکھوں افراد اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔ شہریار آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ بڑے بڑے اسکولوں میں آئس ہیروئن بک رہی ہے، منشیات کینڈی کے ریپر میں لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔

اگرچہ وزیر مملکت نے اس بات کا تہیہ ظاہر کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق حکومت ڈرگ مافیا کو کچل دے گی لیکن یہ صورتحال پورے معاشرہ کے لیے ایک ایسی وارننگ ہے جسے اگر Ignore کیا گیا تو کسی کا بیٹا، بیٹی یا بھائی، بہن نشہ سے نہ بچ پائے گا کیونکہ یہ وہ نشہ ہے جو نہ صرف زندگی تباہ کرتا ہے بلکہ موت تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔ دوسری خبر کے مطابق سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کے متعلق اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو اخلاقیات سکھانے اور اُن کی کردار سازی کرنے کے برعکس اُنہیں ڈانس، فیشن اور مغربی ثقافت سکھائی جا رہی ہے جس کہ وجہ سے طرح طرح کی معاشرتی خرابیاں پیدا جنم لیتی ہیں اور ہمارے بچوں کے اخلاق اور اُن کے کردار تباہ ہو رہے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات اور کردار سازی کو تعلیم کے ساتھ لازم جز کے طور پر شامل کیا جائے اور ایسا ماحول پیدا نہ جائے کہ ہمارے بچے اپنی معاشرتی اور دینی اقدار کو بھلا کے مغربی کلچر، ڈانس اور فیشن ہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ اگرچہ ہمارے درمیان موجود ایک طبقہ مغربی کلچر، فیشن اور ڈانس کو بُرا نہیں سمجھتا لیکن کسے نہیں معلوم کہ یہی وہ طور طریقے ہیں جو نہ صرف اخلاقی طور پر ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کر رہے ہیں بلکہ کئی بچوں کو منشیات کی طرف بھی دھکیل رہے ہیں۔ میں نے ان موضوعات پر پہلے بھی کئی بار لکھا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں فیشن، ڈانس، نوجوان لڑکے لڑکیوں کا آپس میں ملاپ وغیرہ وہ چیزیں ہیں جو بچوں کو اصل مقصد یعنی پڑھائی لکھائی سے دور کرتی ہیں۔ 

لیکن افسوس کہ جب یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام کو ختم کیا جائے، جب کسی تعلیمی ادارہ کی انتظامیہ پڑھائی پر زور دیتی ہے اور فیشن، ڈانس اور لڑکے لڑکیوں کے بلاوجہ ملاپ کو روکتی ہے، جب طلباء و طالبات کو مہذب لباس پہننے کی تاکید کی جاتی ہے، جب کوئی حکومت طالبات کو سر ڈھانپنے کے ترغیب دیتی ہے تو ایک مخصوص مغرب زدہ طبقہ شور مچاتا اور ایسے اقدامات کو ترقی کے خلاف گردانتا ہے۔ ہمارا میڈیا اس طبقہ کی ہاں میں ہاں ملا کر تربیت اور کردار سازی کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اس طبقہ اور میڈیا کے ڈر سے حکومت اور پارلیمنٹ بھی کچھ نہیں کرتے جبکہ عام لوگ بھی میڈیا کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر فیشن، ڈانس اور مرد و عورت کے ملاپ کو ہی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نتیجتاً ہم ایک ایسا معاشرہ بنا رہے ہیں جس میں ہماری نوجوان نسل کو تعلیم کے نام پر تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ جہالت کے زمانے میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے لیکن آج جو کچھ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہو رہا ہے، وہ پورے معاشرہ کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔

انصار عباسی
 

ٹریفک حادثے میں نوجوان کی ہلاکت میں ملوث امریکی سفارت کار وطن روانہ

پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں متعیّن دفاعی اور فضائی اتاشی کرنل جوزف عمانوایل ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق انھیں سوموار کو امریکا کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان سے افغانستان لے جایا گیا ہے۔ کرنل جوزف نے 7 اپریل کو اسلام آباد کی شاہراہ مارگلہ پر واقع دامن کوہ چوک میں دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی تھی جس سے ایک نوجوان عتیق بیگ موقع پر جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ کرنل جوزف کی غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ اور سرخ اشارے پر نہ رکنے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے دو روز پہلے امریکی دفاعی اتاشی کی پاکستان سے فرار کی کوشش ناکام بنا دی تھی اور انھیں افغانستان سے لینے کے لیے آنے والا امریکا کا سی 130 طیارہ راولپنڈی کے نور خاں ائیربیس سے خالی لوٹ گیا تھا۔ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
پاکستانی حکومت نے مبینّہ طور پر امریکی حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کرنل جوزف ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دی ہے کہ ان کے خلاف امریکی قوانین کے مطابق امریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پاکستان کی سابقہ حکومت نے دو شہریوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بھی امریکا کی جانب سے ایسی یقین دہانی پر ملک سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

گذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ امریکی دفاعی اتاشی کو مکمل سفارتی اسثنا حاصل نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کور ٹ میں مقتول نوجوان عتیق بیگ کے والد نے کرنل جوزف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں شامل کرنے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔ اس پر عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق معاملے کا دو ہفتے میں فیصلہ کرے لیکن اس فیصلے سے قبل ہی حکومت نے انھیں ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالتِ عالیہ اسلام آباد کے جج نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت میزبان ملک میں سفارت کاروں کو گرفتاری اور حراست میں رکھنے کا استثنا حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کو یہ استثنا ختم کرنے کے لیے ایک خط بھی لکھا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی عہدہ دار ایلس ویلز نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور کرنل جوزف کے معاملے پر پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی۔

اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

دس ممالک کے دارالحکومتوں میں اسلام آباد دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین شہر

ترک خبررساں ادرے کے مطابق عالمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوبصورتی میں بڑا مقام رکھنے والے دس ممالک کے دارالحکومتوں میں اسلام آباد دوسرے نمبر پر ہے۔ تقریبا دو ملین کی آبادی کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں تیسرا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ سب سے زیادہ کثیر نسلی شہروں میں سے ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد جس کا شمار نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بھی کیا جاتا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق لندن دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے جس کے بعد اسلام آباد کا نمبر آتا ہے۔ شہر کی طرز تعمیر یونانی معمار ڈاکسی ایسوسی ایشن کمپنی نے کی تھی۔ اس فہرست میں برلن تیسرے، واشنگٹن چوتھے، پیرس پانچویں، روم چھٹے، ٹوکیو ساتویں، بڈاپسٹ آٹھویں، اوٹاوا نویں جبکہ ماسکو دسویں نمبر پر ہے۔ اسلام آباد کی وجہ شہرت سرسبز و شاداب درخت، آسمان سے باتیں کرتے مارگلہ کے پہاڑ، آبشاریں، سواں کا موجیں مارتا دریا ہے۔ اس شہر کو 1964 میں پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ اس سے پہلے کراچی کو یہ درجہ حاصل تھا۔

اسلام آباد کا شمار دنیا کے چند خوبصورت ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا سب سے زیادہ شرح خواندگی والا شہر ہے۔ اسلام آباد پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ شہر اقتدار اسلام آباد میں شکر پڑیاں، مونومینٹ میں جاسمین گارڈن، ایف 9 میں پارک، راول اے پارک، چڑیا گھر، پلے لینڈ، لوک ورثا کے علاوہ دامن کوہ پیر سواہا کے مقامات واقع ہیں اور 2011 کے بعد سینٹورس شاپنگ مال اسلام آباد بھی ایک خاص مقبولیت رکھتا ہے۔اسلام آباد کے بارے میں ترکی کے سابق صدر عبدللہ گل کہہ چکے ہیں کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں کا دورہ کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اسلام آباد جیسا خوبصورت اور سرسبزو شاداب کہیں نہیں دیکھا یہ شہر حسین پارک کا منظر پیش کرتا ہے۔

دھرنے کے بعد اٹھنے والے سوال

اسلام آباد کا دھرنا بالآخر تین ہفتے بعد ختم ہو گیا۔ لیکن، ختم ہوتے ہوتے اپنے پیچھے کئی کہانیاں بھی چھوڑ گیا ہے۔ ان کہانیوں میں سے ایک اہم کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تقریباً 30 سیکنڈ کی وہ ویڈیو فوٹیج ہے جس میں فوجی وردی میں ملبوس ایک عہدے دار کو احتجاجی مظاہرین میں لفافے تقسیم کرتا دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج میں ایک شخص لفافه لینے میں قدرے ہچکچاہٹ ظاہر کرتا ہے تو فوجی عہدے دار کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ’’یہ ہماری طرف سے ہے۔ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں‘‘۔ پھر کسی شخص کی جانب سے پوچھا جاتا ہے کہ ’’اس میں کتنے پیسے ہیں‘‘ تو بتایا جاتا ہے کہ ’’ہزار ہزار روپے ہیں‘‘۔ پھر ایک کارکن غالباً گرفتار کارکنوں کا ذکر کرتا ہے جس کے جواب میں عہدے دار کہتے ہیں کہ ’’ہم سب کو چھڑوائیں گے‘‘۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ مظاہرین میں لفافے تقسیم کرنے والے ’’پنجاب رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل اظہر نوید تھے اور وہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ان کارکنوں میں ایک ایک ہزار روپے کے لفافے تقسیم کر رہے تھے، جنہیں حکومت اور احتجاجي مظاہرین کے راہنماؤں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا‘‘۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے راہنماؤں اور کارکنوں نے فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے کر دونوں جڑواں شہروں کے لوگوں کی آمد و رفت کو روک کر روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔ مظاہرین کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی رہی۔ لیکن، حکومت شديد عوامی دباؤ کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کرنے سے احتراز کرتی رہی اور حکومتی عہدے دار ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ کہتے رہے کہ دھرنے کو منتشر کرنے کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ، بقول حکومتی اہل کار ’’دھرنے والوں کو حکومتیں الٹنے اور بنانے والوں کی پشت پناہی حاصل ہے‘‘۔

دھرنے کے قائد خادم حسین رضوی نے ایک غیر ملکی میڈیا چینل کو ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ، بقول اُن کے ’’فوج ہمیں فیض آباد سے ہٹانے کے لیے نہیں آئے گی۔’’ اور پھر یہی ہوا، جب دھرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کا آپریشن ناکام ہوا تو وفاقی حکومت نے آئین کے تحت فوج کو طلب کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، فوج نے حکم نامے پر کچھ وضاحتیں طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کی پابند ہے۔ لیکن، وہ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرے گی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایکشن شروع ہونے سے پہلے متعدد بار یہ کہا تھا کہ دھرنے کا مقام صرف تین گھنٹوں میں خالی کرایا جا سکتا ہے۔ لیکن، جب پولیس اور ایف سی کے ہزاروں اہل کاروں کی ناکامی کے بعد آپریشن ختم کرنا پڑا تو انہوں نے آپریشن کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’مقامی انتظامیہ نے یہ آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کیا۔ اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انتظامیہ نے مجھ سے نہیں پوچھا‘‘۔

حکومتی عہدے داروں، سول انتظامیہ اور دھرنا قائدین کے درمیان فیض آباد خالی کرانے کے لیے مذاكرات کے کئی دور بے نتیجہ ثابت ہوئے کیونکہ دھرنے والے لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں تھے اور آخرکار فوج کی ثالثی میں معاہدہ انہی کی شرائط پر طے پایا۔ فوج کی ثالثی میں طے پانے والے سمجھوتے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئینِ پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے؟ کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں؟ فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ تو لگ رہا ہے کہ دھرنا ان کے کہنے پر ہوا۔ ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا؟‘‘ ہائی کورٹ کے اس سوال کا جواب شاید کوئی نہیں دے گا۔

دھرنے والوں نے جہاں مذہب کے نام لوگوں کے جذبات بھڑکائے اور گالی گلوچ کے کلچر کو متعارف کرایا۔ سوشل میڈیا پر جرمنی کے ایک نوجوان کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں اس نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہلاک کرنے والے کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کی پیش کش کی ہے۔ اس کا ذکر وزیر داخلہ نے ہائی کورٹ میں اپنی پیشی کے موقع پر بھی کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایسے شدت پسند گروہوں کے لیے اپنے جائز و ناجائز مطالبے منوانے کا راستہ کھل جائے گا، جن کے پاس دو تین ہزار کے جتھے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم، دھرنا ختم ہونے پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے زیادہ تر شہریوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ دھرنے کے دوران گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے افراد کو ڈی جی رینجرز کی طرف سے ایک ہزار روپے ملنے کے حوالے سے اسلام آباد میں تعمیرات کے کاروبار سے منسلک سید ناصر شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’دھرنے میں آنے والے زیادہ تر لوگ وہ تھے جو مذہبی جذبے سے سرشار تھے، ان میں زیادہ تر غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔ لہذا، اگر ان کے سفری اخراجات کے لیے کوئی رقم دی گئی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے‘‘۔

راولپنڈی کے وقاص علی نے کہا کہ اس دھرنا کے دوران21 دن جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن، اس کے باوجود خوشی ہے کہ شہر میں امن تو ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈی جی رینجرز نے اچھی سوچ کے ساتھ رقم دی ہو گی۔ لیکن، آیا یہ رقم سرکاری خزانے سے تھی یا انہوں نے خود ادا کی، اس کی وضاحت ہونا اچھی بات ہے‘‘۔ سوشل میڈیا پر زوہیب مجید نے لکھا ہے کہ ’’ایسا صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے جہاں انتہاپسندوں کو نوازا جاتا ہے، جب کہ انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والوں کو لاپتا کر دیا جاتا ہے‘‘۔

جمیل اختر – واشنگٹن

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کون ہیں ؟

جسٹس شوکت عزیز صدیقی گزشتہ چھ سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بننا شروع ہوئے جب اُنھوں نے وفاقی دارالحکومت میں قائم افغان بستیوں کو گرانے میں ناکامی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام کو جیل بھجوایا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالتی احکامات کے بعد سابق فوجی صدر کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے بعدازاں پولیس نے اُنھیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔ سابق فوجی صدر کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک میں بھی شوکت عزیز صدیقی پیش پیش تھے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق اُنھیں اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔  شوکت عزیز صدیقی ان چند وکلا رہنماؤں میں سے تھے جنہیں اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی قربت حاصل تھی۔

شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سنیئر ترین جج ہیں، نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد ہی فیس بک کی انتظامیہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد نہیں لگایا جائے گا۔ شکرپڑیاں کے قریب پریڈ گراونڈ کو ’ڈیموکریسی پارک‘ اور ’سپیچ کارنر‘ کا نام بھی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم پر ہی رکھا ہے۔ اس گراونڈ پر پاکستانی افواج اپنی سالانہ پریڈ کرتی ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو گزشتہ سال اسلام آباد کو لاک ڈون کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں دھرنا دینے سے روک دیا تھا۔ شوکت عزیز صدیقی کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات کیا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011 میں جب اُنھیں ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج بنانے کے بارے میں غور کیا گیا تو وہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کے چند مصروف ترین وکلا میں سے ایک تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کی سپریم کورٹ میں چلے جانے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سی ڈی اے کے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے دباو ڈالا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز نے ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کو بند کمرے میں کرنے کی بجائے اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست کو سپریم جوڈیشیل نے مسترد کر دیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس دو رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر دیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے مجرم کو موت کی سزا دینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
 

کیا فوج جی ایچ کیو کے باہر بھی دھرنے کی اجازت دے گی ؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت صدیقی نے دھرنے کے خاتمے میں فوجی سربراہ جنرل جاوید قمر باجوہ کے کردار پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر بتایا کہ 21 روز سے جاری دھرنا ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندے اور دھرنا دینے والی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے اس معاملے میں فوج کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر داخلہ سے اس بات پر وضاحت چاہیے کہ فوجی افسران نے کس حیثیت سے حکومت اور دھرنا رہنماؤں کے درمیان ثالثی کی؟  ’’کس حیثیت سے فوجی سربراہ کا نام اس معاہدے میں ضامن کے طور پر شامل کیا گیا اور کس قانون کے تحت ایک جنرل (جنرل فیض حمید) اس میں ثالث تھے؟‘‘

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ مظاہرین نے دارالحکومت اسلام آباد میں افراتفری پیدا کی اور 21 روز تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ردالفساد کہاں ہے؟‘ انہوں نے وزیرداخلہ سے کہا کہ کیا فوج جی ایچ کیو (جنرل ہیڈکوارٹرز) کے قریب دھرنے کی اجازت دے گی؟ ‌جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ فوجی افسران کو سیاست میں دخل اندازی کا بہت شوق ہے۔ ’’وہ اپنے عہدے چھوڑ کر عملی طور پر سیاست میں کیوں نہیں آتے؟‘‘ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’پاکستانی فوج اپنے دستور حدود میں کام کرے۔ جنرل حمید کی خدمات ریاست کے لیے ہونا چاہئیں اور وہ اس طرز کے کسی بھی معاہدے کے ثالث نہیں بن سکتے۔‘‘

جسٹس صدیقی نے وزارت داخلہ سے دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس کی مدد سے کی گئی کارروائی میں ناکامی کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔ جسٹس شوکت صدیقی کے ان ریمارکس پر پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی زبردست بحث جاری ہے اور ان کی پزیرائی کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا صارف وقاص نے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے۔
’’جسٹس شوکت آپ نے ثابت کیا ہے کہ آپ دستور کے محافظ ہیں اور حکومت اور فوج دونوں کی سرزنش کر سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور صارف فواد کے مطابق جسٹس شوکت کے ان ریمارکس سے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ گزشتہ کچھ روز میں اٹھنے والے بہت سے سوالات پر کھل کر بات کر سکیں۔

سوشل میڈیا صارف صبینہ صدیقی کے مطابق، ’’جسٹس شوکت نے پرویز مشرف کے قابل ضمانت مقدمے میں ضمانت ختم کی تھی۔ وہ سن 2002ء کے انتخابات میں مذہبی جماعت متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور ایک مقدمے میں لال مسجد کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔‘‘

ایک اور ٹوئٹر صارف ہارون بلوچ کا کہنا ہے، ’’جسٹس شوکت کتنے غیرمتوقع واقع ہوئے ہیں۔ ان سے کبھی اس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، مگر انہوں نے درست کہا۔‘‘

بشکریہ DW اردو
 

ن لیگ کی خود احتسابی کا بہترین وقت ؟

میاں نواز شریف کے لیے بلخصوص اور ن لیگ کے لیے بلعموم یہ بہترین موقع ہے کہ اپنا محاسبہ کر کے غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے لیے مصیبتیں اور مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سب سے اہم بات غور کرنے کی یہ ہے کہ اپنے موجودہ دور حکومت کے دوران ن لیگی قیادت نے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں سے کہیں اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ یہ وقت ہے کہ میاں صاحب اور ن لیگی قیادت کے لیے سوچنے کا کہ غیروں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود مغرب زدہ سیکولر طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اُنہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران کچھ ایسا تو نہیں کیا جس نے اسلامی نظریہ پاکستان کے تصور کو دھندلانے کی کوشش کی ہو ؟

میں یہاں بہت سے ایسے متنازعہ حکومتی اقدامات گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں میں ان سالوں کے دوران وقتا فوقتا لکھتا رہا اور جو بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ن لیگیوں کے لیے بھی حیران کن تھے۔ کئی لیگیوں نے مجھے خود بتایا کہ معلوم نہیں کہ اُن کی اعلیٰ قیادت کے مشیر کون ہیں جنہوں نے ن لیگ کو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے فیصلے کروائے جو اسلام پسندوں اور مذہبی طبقوں کے لیے انتہائی پریشان کن تھے۔ وہ ن لیگ جس کو دائیں بازو کی سیاسی طاقت مانا جاتا تھا ان سالوں کے دوران پاکستان کو لبرل اور ترقی پسند ریاست بنانے کا وعدہ کرتی رہی۔ ویسے تو جب میاں نواز شریف کو حکومت سے اقامہ جیسے بہانے پر وزارت عظمی سے نکالا گیا اور ہمیشہ کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا جس پر انہیں چاہیے تھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا سوال اپنے آپ سے بھی کرتے اور پوچھتے کہ کہیں میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ 

گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان بھر میں جو سنگین صورتحال پیدا ہوئی اُس کے نتیجے میں ن لیگی حکومت کو سیاسی طور پر کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی اس بارے میں فیصلہ تو مستقبل کرے گا لیکن جس انداز میں راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے علاقہ فیض آباد کو کھولنے کے لیے ن لیگی حکومت نے آپریشن کیا اُس نے فیض آباد میں محدود احتجاج کو پاکستان بھر میں پھیلا دیا، ن لیگیوں پر حملے کروا دیے، کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا اور ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ معاملہ کہاں اور کیسے رکے گا ؟ 

یہ بہترین وقت ہے کہ ن لیگی اور اُن کی قیادت سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی طلب کریں۔ ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پندرہ بیس دن کے فیض آباد دھرنے کو اس طرح ملک بھر میں پھیلا دیا جائیگا۔ کوئی ہوش مند دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ سب کو معلوم تھا کہ جس مسئلہ پر دھرنا دیا گیا وہ انتہائی نازک معاملہ ہے اور اُسے طے کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مطلب یہ ہو گا کہ صورتحال کو مزید خراب کر دیا جائے۔ معلوم نہیں حکومت اور انتظامیہ کو کیا ہوا اور یہ کیسی حکمت عملی تھی کہ آپریشن کا فیصلہ بھی کیا تو میڈیا کو بتا کر اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آپریشن اور گھیراو جلاو کو پوری دنیا کو میڈیا کے ذریعے دکھایا جائے۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ جب پولیس اور ایف سی کو مار پڑے تو انہیں بھی بھاگتا ہوا دکھائیں۔ جب ٹی وی چینلز نے یہ صورتحال پورے پاکستان کو دکھا دی اور ملک بھر میں اشتعال پیدا ہو گیا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تو پھر فیصلہ ہوا ٹی وی چینل بند کر دیں۔ ویسے تو فیض آباد اور اس کے گردو جوار کے علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو دھرنے کے ابتدائی دنوں میں بند رکھا گیا لیکن آپریشن کے دوران ٹی چینلز کی لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اس علاقہ میں نہ تو موبائل بند ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ اس ’’بہترین حکمت عملی‘‘ پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو کم از کم اس وزارت سے تو فوری طور پرفارغ کر دینا چاہیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھرنے کی سازش میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔ احسن اقبال صاحب انکوائری کروائیں ہو سکتا ہےفیض آباد آپریشن کے حکمت عملی بھی بھارتی سازش کا ہی نتیجہ ہو۔ بہتر ہو گا کہ اپنی غلطیوں اور خرابیوں کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ڈٖالا جائے۔ ویسے اگر میاں نواز شریف راجہ ظفرالحق کمیٹی کی سفارش پر چند ایک افراد کے خلاف ایکشن لے لیتے تو معاملہ دھرنے تک بھی نہ پہنچتا۔ ختم نبوت کے متعلق الیکشن قانون میں متازعہ ترامیم کیا کسی غلطی کا نتیجہ تھی یا کوئی سازش؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کسی بھی دوسرے معاملہ سے زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت اور ن لیگی قیادت کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

اس معاملہ کو جس طریقہ سے حکومت نے ہینڈل کیا ہے اُس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہوں اور ذہن ماوٗف ہو گیا ہو کیوں کہ جو بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسانی سے آ رہی تھی وہ ن لیگ کے بڑے بڑے رہنمائوں اور تجربہ کار سیاستدانوں کو سمجھ نہ آئی اور انہوں نے اس آگ کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا۔ پہلے معاملہ ایک وزیر کی رخصت سے حل ہو سکتا تھا لیکن اب ایک دو یا تین وزراء برطرف کر دیے جائیں اور حکومت بچ جائے تو بھی ن لیگ کے لیے مہنگا سودا نہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ اللہ کو کیا منظور ہے!!!

انصار عباسی

اسلام آباد دھرنا : غیر معینہ مدت کے لیے فوج طلب

اسلام آباد میں امن و امان کے قیام کے لیے فوج کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں، اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا جس کے تحت فوج کو غیر معینہ مدت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جاری ان دھرنوں کی وجہ سے تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مذہبی جماعت کی جانب سے 8 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ فوج طلب کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق فوج کی طلبی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے تاہم فوجی اہلکاروں کی نفری کا فیصلہ ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر کریں گے۔

فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن گزرنے کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی بھاری نفری نے علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فیض آباد انٹر چینج سے پولیس اہلکار غائب ہو گئے جب کہ مظاہرین کے جتھے ایک مرتبہ پھر علاقے میں پہنچنا شروع ہو گئے۔ فیض آباد میں دھرنے کے مقام پر مظاہرین نے پولیس کی 14 گاڑیوں اور کئی موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ اطراف کی تمام سڑکیں بھی بند کر دی گئیں۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے درختوں اور سامان کو بھی آگ لگا دی. دوسری جانب مذہبی جماعت کے قائدین نے اعلان کیا ہے کہ اب صرف ایک وزیر نہیں بلکہ پوری کابینہ کا استعفیٰ مانگا جائے گا.

حکومت نے بھی اس حوالے سے مشاورت کا آغاز کر رکھا ہے اور رات گئے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اسلام آباد میں طلب کی گئی فوج صرف حساس مقامات اور اہم عمارتوں پر ڈیوٹی سر انجام دے گی۔ فوج کی تعیناتی کا دھرنا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔ حکومتی درخواست پر اسلام آباد کے حساس علاقوں میں فوج پہنچ چکی ہے، اور اہم عمارتوں پر ڈیوٹی سنبھال لی ہے۔ موجودہ صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہے اور جڑواں شہروں کے مکین موجودہ صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔

ملک بھر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس دھرنے کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل چکا ہے، موٹروے اور جی ٹی روڈ بند ہیں۔ اسلام آباد میں ائیرپورٹ کے طرف جانے والا راستہ کورال چوک کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔ زیادہ تر شہروں میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے شہروں کو بلاک کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات تک یہ صورتحال ملک کے 87 شہروں تک پھیل چکی ہے جہاں سڑکیں بند ہونے سے ملک بھر میں عملی طور یر پہیہ جام ہو چکا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ