یہ مدرسے کی ناموس کا سوال ہے

لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ‘ کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔ 17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی‘ مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھا کہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔ لوگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے‘ ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم ‘رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں‘ اس کے اخلاق‘ کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔

معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔ مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہو جائے‘ اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔ یہ اسی وقت ہو گا جب مہتمم کو یہ معلوم ہو کہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔

اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتا کہ جب دوسرے یہ کام کر رہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان‘ کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے‘ اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔

ممکن ہے ایسا ہوا ہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے‘ اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔

مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبر لائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔ برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں‘ انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہا ہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اور ایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے‘ مولانا زاہد الراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کر ہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے‘ اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔

اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔ یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں‘ مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بنا ہے‘ اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے‘ وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔

خورشید ندیم

بشکریہ دنیا نیوز

ٹوٹی چپل والے کا آزادی دھرنا

آج آزادی مارچ یا آزادی دھرنا جو بھی آپ کہہ لیں خیر سے ساتویں دن میں داخل ہوگیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ سامنے کے مطالبات کے پیچھے اصل مطالبات کیا ہیں۔ بات چیت سرکاری خٹک کمیٹی یا حزبِ اختلاف کی نیم متحدہ رہبر کمیٹی کے درمیان ہو رہی ہے یا سرکاروں کو لیز پر اپنی ماہرانہ سیاسی خدمات پیش کرنے والے چوہدری برادران اور مولانا فضل الرحمان کی یک رکنی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں یا کسی تیسری شکل میں بھی رابطہ کاری جاری ہے کہ جس کی ’پل پل باخبر‘ میڈیا کو ہوا تک نہیں۔ اسی لیے ہر تبصرے باز، منہ پھٹ وزیر، اینکر اور اینکرانی پانی میں قیاسی جھاگ بنا رہے ہیں یا تجزیاتی تھوک سے واقعاتی پن چکی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کوئی پیش گوئی، کوئی توتا فال نشانے پر نہیں بیٹھ رہی۔

حزب ِ اختلاف کے اتحادیوں کے مابین ہم آہنگی و باہمی اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گرا ہوا صابن اٹھانے کے لیے جھکنے کو تیار نہیں۔ جبکہ عمرانی حکومت کو یہ آئیڈیا تک نہیں کہ یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ اگلے چند دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے یا اونٹ کس کروٹ بیٹھے یا لیٹے گا۔ پر ایک بات کا کریڈٹ تو ہر دوست دشمن دے رہا ہے۔ یعنی یہ مارچ یا اجتماع یا دھرنا منظم اور صبر والا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد تک کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا اور نہ ہی عام آدمی کو وہ زحمت ہوئی جو اس سے قبل ڈی چوک یا فیض آباد کے ہلاکو خانی دھرنوں نے پیدا کی۔ تازہ اجتماع بارانی آزمائش بھی بڑے قرینے سے جھیل گیا۔

اگر اس دھرنے میں شامل شکلیں دیکھیں تو شہری صورتیں کم اور دہقانی چہرے زیادہ نظر آئیں گے۔ یہ متوسط طبقے کا نہیں بلکہ ان طبقات کا اجتماع ہے جن کے پاس کھونے کے لیے شاید کچھ بھی نہیں۔ ان میں سے کم از کم آدھے وہ ہیں جنہوں نے پہلی باراسلام آباد دی بیوٹی فل دیکھا۔ چھ چھ لین کی دورویہ گرین بیلٹ یافتہ سڑکوں پر قدم رکھا، بڑے بڑے گھر اورعمارات دیکھیں۔ سبزے، پانی اوراشیا کی فراوانی اور قیمتوں کی بلندی دیکھی۔ اب جب یہ لوگ ایک دن اپنے اپنے علاقوں کو لوٹیں گے تو انہیں پہلے سے زیادہ بہتر اور واضح تصور ہو گا کہ جس پاکستان میں وہ رہتے ہیں وہ کوئی اور دیس ہے اور جس پاکستان سے وہ ہو کر آ رہے ہیں وہ کوئی اور ملک ہے۔

انہیں بالکل ویسا ہی لگے گا جیسے انیسویں صدی کے ہندوستان سے لندن جانے والے کسی بھی دیسی کو لگتا تھا اور اس لگنے نے ہی اس ہندوستانی کو شعور دیا کہ حاکم کیسے رہتے ہیں اور محکوم کیسے۔ آزادی کیا ہوتی ہے اور غلامی کیا۔ سہولت کسے کہتے ہیں اور بے سہولتی کیا شے ہے۔ بنیادی سہولتوں سے مزین روزمرہ زندگی کیا ہوتی ہے اور کنوئیں سے پانی بھر کر لانے یا جنگل سے لکڑی کاٹ کر جلانے والے چولہے پر پکنے والے کھانے اور ریسٹورنٹ کے کھانے کے ذائقے میں کیا کیا فرق ہوتا ہے۔ ان کا برقعہ کیسا ہے اور دوسرے پاکستان میں پردے کی نوعیت کیا ہے۔ بے رنگ وعدہ کیا ہوتا ہے اور تعبیر کتنی رنگارنگ ہوتی ہے۔ حال سے بے حال زندگی کسے کہتے ہیں اور مستقبل میں چھلانگ لگانے کے مواقعوں سے مسلح زندگی کیا شے ہے۔

ایرانی انقلاب 1979 میں تھوڑی آیا تھا۔ یہ تو تب سے آنا شروع ہو گیا تھا جب پچاس کی دہائی سے ایرانی دہقانوں کی دارلحکومت تہران میں آہر جاہر شروع ہوئی۔ جس بھی بیرونی مہمان کو ایران کی ترقی دکھانا مقصود ہوتی وہ تہران دیکھ لیتا کیونکہ تہران سے باہر کا زمانہ تہران کے اشرافی کیلنڈر سے کم ازکم سو برس پیچھے تھا۔ لگتا تھا گویا تیل کی نصف آمدنی تہران پر لگنے کے لیے ہے اور باقی نصف باقی ایران کے لیے۔ بالکل ایسے ہی جیسے اب اسلام آباد اور لاہور کو دیکھ کے محسوس ہوتا ہے۔ جب مجھے یہ لگ رہا ہے تو سوچیے پشین، ژوب، لکی مروت، دادو اور راجن پور سے آزادی مارچ کے بہانے پہلی بار لاہور سے گذرتے ہوئے اسلام آباد آنے والے پاکستانی کو کیا کیا لگ رہا ہو گا۔

لورالائی کے بھی کسی گاؤں کے مدرسے میں زیرِ تعلیم لڑکے یا ایسے ہی کسی مدرسے کے استاد کو کیا لگے گا جب وہ اگلے چند دن میں واپس گاؤں یا گاؤں کے مدرسے میں جائے گا۔ انیسویں اور اکیسویں صدی میں دو سو سال کا نہیں صرف ڈیڑھ ہزار کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ آپ نے بھی سوشل میڈیا پر اس کھردرے پیر کی وائرل تصویر دیکھی ہو گی جو جانے کتنی دور سے ایسی پٹھانی چپل میں اسلام آباد تک پہنچا کہ جس کی چمڑے کی ادھڑی پٹی کو موٹے دھاگوں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ یہی پیر تو وہ دوسرا پاکستان ہے جس کے بارے میں کہا جا چکا ہے کہ

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر
کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

جانے کون اس ٹوٹی چپل کے پیسے وصول کرے گا اور اسے پہننے والے کو خبر تک نہ ملے گی کہ اس کی یہ مفلوک چپل کتنی مہنگی بکی ہے اور وہ اسی چپل میں واپس جائے گا۔ کیونکہ اشرافیہ کی دنیاداری میں دینداری کے پیوند لگے عقیدے کے برعکس اس ٹوٹی چپل والے کے لیے سب اجر آخرت کے صندوق میں حفاظت سے رکھا ہے کہ جس کی چابی صرف مرنے کے بعد ہی اسے مل سکتی ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ اردو نیوز

افہام وتفہیم ہی بحران کا حل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے ڈی چوک اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کی دھمکی سے کشیدہ سیاسی ماحول کے مزید مکدر ہونے کے جو خطرات پیدا ہوئے تھے وہ مولانا فضل الرحمٰن کی معاملہ فہمی کے باعث فی الحال ٹل گئے ہیں اور حکومت اور ان کے درمیان بات چیت سے سیاسی معاملات کا حل نکالنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں اگرچہ ان کے بنیادی موقف اور لہجے میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں ملا کیونکہ انہوں نے اگلے قدم کے طور پر اسلام آباد کے بعد پورے ملک میں لاک ڈاؤن، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن جیسے انتہائی اقدامات کا اعلان کر کے حکومتی حلقوں کو، جو تشویش اور اضطراب کے ساتھ ساتھ تفکر و تدبر کی مثبت اور درست راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں، مزید متحرک کیا ہے۔ 

چنانچہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی جے یو آئی (ایف) کے سرکردہ رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ حکمران پارٹی کے اتحادی اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے براہ راست مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ جے یو آئی (ایف) کی مرکزی مجلس شوریٰ نے کل جماعتی کانفرنس طلب کر لی ہے تاکہ مشترکہ اپوزیشن آئندہ کے لئے متفقہ لائحہ عمل تیار کرے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے جنہیں شوریٰ نے تمام فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے، ’سولو فلائٹ‘ کے بجائے آئندہ فیصلے مشترکہ اپوزیشن پر چھوڑ دیئے ہیں۔ 

اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دھرنوں کے خلاف ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی درمیانی حل تجویز کر دیں جس سے حکومت کی رٹ متاثر نہ ہو اور اپوزیشن کی ساکھ بھی بچ جائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن پاریٹوں کے الگ الگ اجلاس ہو رہے ہیں جن میں اگلے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر دونوں فریق انتہا پسندانہ بیانیے ترک کر کے افہام و تفہیم کی فضا پیدا کریں گے۔ اس وقت فریقین کی جانب سے اپنی تقریروں اور بیانات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ مفاہمت کے ماحول کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ 

اس معاملے میں حکومتی رہنماؤں کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی ترقی اور معاشی بحالی کے لئے امن وامان برقرار رکھنے اور قومی اتحاد و یکجہتی کے لئے ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن کو بھی ایشوز کو اجاگر کرنا چاہئے، ذاتیات کو ہدفِ تنقید نہیں بنانا چاہئے۔ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے میں کارکنوں کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگانے سے روک کر اچھی مثال قائم کی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے اشتعال پھیلے اور فریقین دست و گریبان ہو جائیں۔ وزیر داخلہ نے حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فورسز تیار ہیں، جو ہر قسم کے حالات سے نمٹیں گی۔ 

امن و امان کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوں۔ پشاور موڑ پر لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ ضرور بیٹھے ہیں۔ انہیں اٹھانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا جائے۔ سیاست بحرانوں کا نام نہیں، بحرانوں کے حل کا راستہ نکالنے کا نام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈی چوک اور وزیراعظم ہاؤس پر یلغار کے ارادے کی نفی کر دی ہے مگر ساتھ ہی ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن بھی مسترد کر دیا ہے اور احتجاج پورے ملک میں پھیلانے کی بات کی ہے۔ انہوں نے ملکی نظام کو بہتر بنانے کے لئے نئے عمرانی معاہدے کی بات بھی کی ہے جس کا ذکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی کر چکے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے رہنما سرجوڑ کر اس تجویز پر غور کریں تو شاید آئندہ دھرنوں اور مارچوں کی ضرورت ہی نہ رہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

مولانا سے ڈیل کرنا کتنا مشکل کتنا آسان ؟

جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوا ویسے ہی مولانا کے اغراض و مقاصد اور ان کی ذات پر رکیک سوشل میڈیائی حملے شروع ہو گئے۔ کوئی گمراہ کہہ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی شکرانے کے نوافل ادا کرے گی جب کل مولانا کموں شہید پار کر کے سندھ سے پنجاب میں داخل ہوں گے۔ کوئی مجہول کہہ رہا ہے کہ بلاول تو دور تک مولانا کے ساتھ چلنا چاہتا تھا مگر کسی نے بلاول کو یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ ہرگز مت جائیو۔ مولانا ایک زیرک سیاسی تاجر ہیں۔ اسلام آباد کے راستے میں کہیں بھی اچھا ریٹ ملا تو بیچ کے گمچھا جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے۔ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ مولانا نے آزادی مارچ کے قالین کو ڈی چوک میں بچھانے کے لیے بولی وزیر اعظم کے استعفیٰ سے شروع کی اور پھر ان کے نمائندے اکرم درانی نے ڈی سی اسلام آباد کے لائے ہوئے 15 روپے کے سٹامپ پیپر پر دستخط کر دیے۔

یہ لوگ طعنے دے رہے ہیں کہ مولانا سے اچھے تو طاہر القادری رہے جنھوں نے جنوری سنہ 2013 میں اپنا لانگ مارچ اسلام آباد کے بلو ایریا تک لانے کا مطالبہ منوا لیا اور پھر اپنے زورِ بازو پر پارلیمان کے سامنے ریڈ زون میں پہنچ گئے جبکہ طاہر القادری سے اچھے تو عمران خان رہے جنھوں نے اگست سنہ 2014 میں اپنا مارچ کنونشن سینٹر تک روکنے کا وعدہ کیا اور پھر یہ وعدہ کنٹینر سے نیچے پھینک کر ڈی چوک تک آ گئے۔ تو کیا مولانا کا آزادی مارچ بھی معاہدے کے مطابق صرف ایچ نائن اتوار بازار تک رہے گا یا آگے بڑھے گا؟ ایسے سوال اٹھانے والوں کو معلوم نہیں کہ مولانا جب کوئی ڈیل کرتے ہیں یا ایک پیج پر آتے ہیں تو اس پر قائم رہتے ہیں۔ جعلی یا اصلی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت اپنی جگہ اور ڈیل اپنی جگہ۔ بس یہی فرق ہے مولانا اور دوسروں میں۔

کچھ گستاخ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے بنیادی مطالبات کا کیا ہوا جن کے مطابق عمران خان استعفیٰ دیں، فوج کی دخل اندازی کے بغیر نئے انتخابات کروائے جائیں، آئین کی اسلامی دفعات کا تحفظ کیا جائے اور نیب سیاسی اسیروں کو رہا کرے؟ کچھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پارٹی کے اہم رہنما حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ ہونے، مولانا کفایت اللہ کی اچانک گرفتاری اور جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی شاخ انصار السلام پر پابندی کے باوجود حکومتی ٹیم سے مولانا کی ٹیم کے مذاکرات بلا چون و چرا کامیاب کیسے ہو گئے؟ وہ کیا مجبوری تھی کہ مولانا کی ٹیم علامتی احتجاجی واک آؤٹ تک نہ کر سکی۔؟ اور کچھ ان پڑھ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ نواز شریف کی ضمانت کے بعد مسلم لیگ ن مولانا کے مارچ میں آخر کیوں دلچسپی اور جوش کے ساتھ شرکت کرے گی۔؟

حاسدوں کی رکیکیت اپنی جگہ مگر بادی النظر میں لگ رہا ہے کہ مولانا کا احتجاج جو شروع شروع میں ایلو پیتھک نظر آ رہا تھا اب ہومیوپیتھک نوعیت کا ٹپائی دے رہا ہے۔ حکومت کو غالباً جتنا جلاب دینا مقصود تھا دیا جا چکا۔ جس طرح چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی جادوئی ناکامی کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے اسی طرح 31 اکتوبر کی علامتی فتح کے بعد بھی سب ہنسی خوشی رہیں گے اور ویسے بھی جہاں موافقت بھی اجازت کے تحت ہو اور مخالفت بھی اجازت نامے کی مرہونِ منت اور منافقت بھی پرمٹ پر وہاں بے ساختگی کا کوئی مستقبل نہیں۔ مگر میں پھر دہراؤں گا کہ بالکل اچھا نہیں لگتا جب ڈرائنگ روم کے تبصرے باز سڑک پر خود نکلنے کی بجائے مولانا جیسے مثالی عملیت پسند سیاست دان میں میم میخ نکالتے ہیں۔ بد بخت ہیں وہ لوگ جو مولانا سے دین، سیاست، تجارت، متانت اور سفارت کے گر سیکھنے کی بجائے ان پر تیر زنی کر کے اپنی جہالت مزید آشکار کرتے ہیں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

مولانا جیسا کوئی نہیں

علامہ خادم حسین رضوی کسی کو یاد ہیں؟ کہیں سے ایک جھکڑ آیا اور ہوا ہو گیا۔ علامہ طاہر القادری کسی کی یادداشت میں ہیں؟ انھوں نے دو بار آرڈر پر مال تیار کیا، جہاں ہے اور جیسا ہے، کی بنیاد پر بیچا اور نکل لیے۔ مگر مولانا فضل الرحمان نہ تو کوئی جھکڑ ہیں، نہ ہی آرڈر پر مال تیار کرنے والے بلکہ وہ پہلے ضرورت پیدا کرتے ہیں اور پھر اس ضرورت کے اعتبار سے مال تیار کرتے ہیں اور سارا کا سارا بیچ بھی لیتے ہیں۔ تعجب ہے ہارورڈ بزنس سکول نے اب تک مولانا کو لیکچر سیریز کے لیے کیوں مدعو نہیں کیا۔ مولانا ایک کل وقتی سیاستدان اور ایک سو برس پرانی مذہبی سیاسی جماعت کے قائد ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ تک کہتے ہیں کہ اس ملک میں فوج کے بعد اگر کسی کے پاس منظم طاقت ہے تو وہ مولانا ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کیا ہے اور کمزوری کیا، کس موقع پر سیاست کی کونسی کل سیدھی کی جانی چاہیے اور کسے مروڑنا چاہیے اور کتنا، غالباً موجودہ سیاسی قبیلے میں مولانا سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ بخدا نہ تو یہ قصیدہ ہے نہ تعلی نہ خوشامد نہ طنز۔ میں دل سے یقین رکھتا ہوں کہ مولانا اگر مذہبی سیاسی رہنما کے بجائے ماہرِ طبیعیات ہوتے تو بھی صفِ اول میں ہوتے۔ جرنیل ہوتے تو بنا جنگ کیے دشمن کو نہتا کر کے باندھ دیتے۔ پروفیشنل شطرنجی ہوتے تو بورس کیسپروف آپ پر خوشی خوشی مورچھل جھلتا۔ موسیقار ہوتے تو اے آر رحمان فضل الرحمان کی پنڈلیاں دبا رہا ہوتا۔

آپ یہ دیکھیں کہ دو ڈھائی ہفتے سے اس ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ مولانا نے ابھی آزادی مارچ کا صرف اعلان کیا ہے اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون جیسی تجربہ کار جماعتوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ مولانا کا کرنا کیا ہے؟ جانا ہے کہ آنا ہے، جا کر آنا ہے کہ آ کر جانا ہے یا تھوڑا سا آگے جا کر آنا ہے یا پھر آنا جانا ہے۔ مولانا بذاتِ خود پارلیمنٹ سے باہر ہیں۔ 342 کی قومی اسمبلی میں ان کی جماعت کی 16 سیٹیں ہے اور 104سیٹوں کے ایوانِ بالا میں چار سینیٹرز ہیں۔ لیکن مولانا کی جماعت سے تگنی چوگنی سیٹیں رکھنے والی پیپلز پارٹی اور نون لیگ تک چندیا کھجا رہے ہیں کہ مولانا کا چہرہ مسلسل اتنا پرسکون اور باڈی لینگویج اتنی بااعتماد کیوں ہے۔

حکومتی وزرا بلاوقفہ اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں کہ مولانا کے ہاتھ میں ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ کچھ لو کچھ دو اور لچکدار سیاست کا راستہ چھوڑ تصادم کی شاہراہ پر آنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مولانا نے آزادی مارچ شروع نہیں کیا اور ابھی صرف ہتھوڑی سے طبلہ کس کے اس پر بیانیے کا پاؤڈر ہی مل رہے ہیں مگر وزرا نے کورس کی شکل میں تنقیدی گھنگرو باندھ کے تا تا تھئیا شروع کر رکھا ہے۔ بدحواسی کا یہ عالم ہے کہ کبھی مولانا کی پریس کانفرنس چینلوں سے غائب ہو رہی ہے، کبھی میڈیا کو زبانی کہا جا رہا ہے کہ مارچ اور دھرنے کی کوریج نہیں کرنی۔ کبھی جمیعت علمائے اسلام کے نام سے دھرنے کے شرکا کے لیے جعلی ہدایات تو کبھی آزادی مارچ کی حمایت میں جماعتِ احمدیہ کا جعلی خط سامنے لایا جا رہا ہے۔

نظم و نسق کا زمہ دار وفاقی وزیرِ داخلہ کہہ رہا ہے کہ مولانا کا اسلام آباد میں آنا خود کشی کے برابر ہو گا اور خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلی کہہ رہا ہے کہ میں دیکھتا ہوں جمیعت کا جلوس اٹک کا پل کیسے پار کرتا ہے؟ وزیرِ اعظم عمران خان کو ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی جتنی آسان محسوس ہو رہی ہے، حزب اختلاف سے معاملہ فہمی سے نمٹنا اتنا ہی مشکل لگ رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ شروع ہو کہ نہ ہو، کامیاب ہو کہ ناکام، پر ایک بات تو بارِ دگر کھل گئی ہے کہ برسراقتدار آنا بچپن کا شوق پورا ہونے جیسا ہو سکتا ہے مگر حکومت چلانا بچوں کا کھیل ہرگز نہیں۔ وہ الگ بات کہ کوئی بھی بچہ باپ کی گود میں بیٹھ کر سٹیرنگ گھما کر کہے بابا دیکھو اور باپ دلارے کا دل رکھنے کے لیے کہتا رہے ہاں بیٹے تو ہی گاڑی چلا رہا ہے اور زبردست چلا رہا ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

حلال اور حرام دھرنا

کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر کے وفاقی دارالحکومت کا درجہ دے تو دیا گیا تھا مگر فوراً ہی غلطی کا احساس ہو گیا۔ کیونکہ طلبا ہوں کہ سیاسی کارکن کہ مزدور کہ تقسیم کے نتیجے میں شہر میں آنے والے لٹے پٹے مہاجر۔ جس کا جب موڈ ہوتا یا منہ اٹھتا وہ سیدھا گورنر جنرل ہاؤس عرف ایوانِ صدر ( موجودہ گورنر ہاؤس ) کے اطراف دھرنے یا جلوس کے لیے چل پڑتا اور پھر نعروں کی گونج آنسو گیس کی بو کے ساتھ حکمران کو بھی بے چین رکھتی۔ مگر کسی بھی سویلین حکومت میں تپڑ نہیں تھا کہ وہ اس روز روز کی عوامی چھیچھا لیدر سے نجات کے لیے وفاقی دارالحکومت کراچی سے کہیں اور منتقل کرنے کا سوچتی۔ یہ کام بھی پہلے فوجی آمر ایوب خان کو ہی کرنا پڑا۔ انھوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے اگلے ہی برس میجر جنرل یحییٰ خان کی سربراہی میں فیڈرل کیپیٹل کمیشن تشکیل دیا۔ مقصد ایک نئے دارالحکومت کے لیے مناسب جگہ کی تلاش تھی جہاں حکمران کو تو عوام تک رسائی ہو مگر عوام کو اس تک رسائی مشکل ہو۔

ایک تجویز تھی کہ کراچی شہر سے باہر گڈاپ میں وفاقی دارالحکومت تعمیر کیا جائے۔ ایک تجویز آئی کہ لاہور کو وفاقی دارالحکومت بنا دیا جائے۔ ایبٹ آباد اور چاروں صوبوں کو جوڑنے والے ڈیرہ غازی خان کا نام بھی لیا گیا۔ مگر ایوب خان نے حتمی طور پر جی ٹی روڈ سے متصل مارگلہ کے دامن میں نئے دارالحکومت کے قیام کی منظوری دی۔ یہ جگہ چننے کے تین فائدے تھے۔ ایک تو راولپنڈی قریب تھا، ایوب خان کا گاؤں ریحانہ بھی قریب تھا اور یہ علاقہ عوام سے بھی دور اور کراچی جیسے شورشی علاقے سے تو بہت ہی دور تھا۔ بہت برس پہلے بنگلہ دیش کے پہلے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر کمال حسین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بنگالی ایک ہزار میل دور ہونے کے باوجود کراچی سے ذہنی طور پر مانوس ہو گئے تھے۔ لیکن جب دارالحکومت کراچی سے پنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو بنگالی مشترکہ و متحدہ پاکستان کے تصور سے دور ہونے لگے۔

نئے دارالحکومت کی منصوبہ بندی کا کام یونانی ٹاؤن پلانر ڈاکٹر کانسٹنٹینوز اپاسٹولو ڈوکسیاڈس کو سونپا گیا۔ انھوں نے چوبیس فروری انیس سو ساٹھ کو ایوب خان کو پہلی پریزنٹیشن دی۔ ایک ایسا شہر جس میں اگلے پچیس برس کے دوران پچیس لاکھ آبادی کو بسانے کی گنجائش ہو۔ نئے شہر کا نام اسلام آباد تجویز کیا گیا اور فیڈرل کیپیٹل کمیشن فیڈرل کیپیٹل اتھارٹی میں بدل گیا۔ انیس سو چونسٹھ سے اسلام آباد کے لال کوارٹرز میں سرکاری ملازموں کو بسانے کا سلسسلہ شروع ہوا۔ ایک خوبصورت ، الگ تھلگ سبز پہاڑی شہر جس کی پلاننگ میں بظاہر کسی نعرہ زن جلوس یا دھرنے کی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔ پر وہ جو کہتے ہیں کہ آدمی سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے۔ اسلام آباد کی تعمیر ہونے تک دارالحکومت عارضی طور پر کراچی سے راولپنڈی تو منتقل ہو گیا مگر اسی پنڈی سے انیس سو اڑسٹھ میں طلبا تحریک شروع ہوئی اور سکون کے متلاشی ایوب خان کو انھی صاحب نے اقتدار سے چلتا کر دیا جنھیں دس برس پہلے ایوب خان نے نئے دارالحکومت کی تلاش کا کام سونپا تھا۔

بھٹو کے زوال کے بعد اسلام آباد بطور ورکنگ کیپیٹل پوری طرح فعال ہو گیا مگر سکون بھی رخصت ہو گیا۔ چار جولائی انیس سو اسی کو اسلام آباد کے بارے میں یہ شاہی تصور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا کہ وہ رعایا کی دسترس سے باہر ہے۔ پہلی بار ایوانِ صدر کے بازو میں وفاقی سیکرٹیریٹ کے سامنے ہزاروں اہلِ تشیع نے مفتی جعفر حسین کی قیادت میں دھرنا دے دیا۔ تیسرے ہی دن چھ جولائی کو مفتی صاحب کو ایوانِ صدر میں بات چیت کی دعوت دی گئی اور پھر اعلان ہوا کہ مطالبہ منظور کیا جاتا ہے۔ اہلِ تشیع پر زکوٰۃ و عشر آرڈیننس لاگو نہیں ہو گا۔ اگلے نو برس تک اسلام آباد کا ریڈ زون حساس علاقے کے طور پر برقرار رہا کیونکہ سیاسی سرگرمیاں ہی حرام قرار پائی تھیں۔ مگر ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پر سترہ اگست انیس سو نواسی کو آئی جے آئی کے سربراہ نواز شریف کی قیادت میں ایک بہت بڑا جلوس پنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہوا۔ وزیرِ داخلہ اعتزاز احسن نے بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقت کے اس مظاہرے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی اور یہ گھڑی بخیریت گذر گئی۔

جلوس کے بیشتر شرکا نے اسلام آباد پہلی بار دیکھا۔ اگست انیس سو نوے میں بینظیر حکومت برطرف کر دی گئی۔ انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف وزیرِ اعظم بن گئے۔ چند ماہ بعد نواز شریف کو برطرف کر دیا گیا۔ مگر عدالت نے انھیں بحال کر دیا۔ سولہ جولائی انیس سو ترانوے کو بے نظیر بھٹو نے ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ جنرل وحید کاکڑ فارمولے کے تحت نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو چلتا کر دیا گیا۔ انتخابات کے نتیجے میں بی بی دوبارہ وزیرِ اعظم بن گئیں۔ اور اس کے بعد مارچ دو ہزار سات تک اسلام آباد نے کوئی قابلِ ذکر لانگ مارچ نہیں دیکھا۔ مگر اسلام آباد نے جس پہلی شورش کو جنم دیا وہ جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کے بعد چلنے والی وکلا تحریک تھی جو بالاخر پرویز مشرف کا اقتدار لے گئی۔ اس بیچ بی بی کی شہادت ہوئی۔ زرداری صدر بنے۔ نواز شریف نے افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے لاہور تا اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا مگر گوجرانوالہ پہنچتے پہنچتے ہی افتخار چوہدری کی بحالی کا پروانہ جاری ہو گیا۔ اس کے بعد سے اسلام آباد کے ساتھ گویا یوں ہوا کہ

دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے  سبط علی صبا

جبری لاپتہ لواحقین کے ورثا سے لے کر ناکافی تنخواہوں سے خوش کلرکوں تک سب کی رسائی ریڈ زون تک کھل گئی۔ چودہ جنوری دو ہزار تیرہ کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے نہ صرف ڈی چوک میں دھرنے کی روایت ڈالی بلکہ ایجی ٹیشن میں کنٹینر کی اہمیت اجاگر کروائی۔ اس کنٹینر سے علامہ نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی اور ملک میں اسلامی نظام کے قیام کا فرمان جاری کیا۔ مگر چار دن بعد چند وزیروں نے قادری صاحب کو سمجھا بجھا کر واپسی کے لیے یہ کہہ کر آمادہ کر لیا کہ آپ ہمیں جس کا پیغام پہنچانے آئے تھے وہ پوری طرح وصول پایا۔ غالباً یہ کنٹینر دھرنے کا پائلٹ پروجیکٹ تھا۔ اگلے برس چودہ اگست کو تجربہ کار طاہر القادری کی ہمراہی میں عمران خان نے ایجی ٹیشن بذریعہ کنٹینر کی روایت کو عروج پر پہنچا دیا اور نواز شریف کی ’’ دھاندلی زدہ کرپٹ حکومت ‘‘ کو گھر بھیجنے کے لیے ایک سو چھبیس دن کا محاصرہ شروع ہو گیا۔

وزیرِ اعظم ہاؤس کی ریلنگ پر مظاہرین نے کپڑِے سکھائے ، پارلیمنٹ ہاؤس کے ہرے بھرے میدان میں کھانے پکنے لگے ، نہلائی دھلائی شروع ہوئی۔ ٹی وی اسٹیشن میں توڑ پھوڑ ہوئی ، پولیس کی پھینٹیاں لگیں اور پاکستانی سیاست میں یہ روایت رقم ہوئی کہ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔ اکتوبر دو ہزار سولہ میں عمران خان نے دھمکی دی کہ اگر نواز شریف کے پاناما کیس کی شنوائی نہ ہوئی تو وہ دو نومبر سے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کر دیں گے۔ جب عدالت نے مقدمے کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی تب خان صاحب نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ واپس لیا۔ اس لاک ڈاؤن کو ناکام بنانے کے لیے وفاقی لیگی حکومت نے خیبر پختون خوا سے روانہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اٹک کے پل سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ عمران خان نے اس اقدام کو عوام کے جمہوری حق پر کرپٹ حکومت کا ڈاکہ قرار دیا۔

 آج مولانا فضل الرحمان بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں تو ملک دشمنی کر رہے ہیں۔ اور خیبر پختون خوا کے پی ٹی آئی وزیرِ اعلی محمود خان کہہ رہے ہیں کہ وہ مولانا کو اٹک پل کسی صورت پار نہیں کرنے دیں گے۔ اور وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کہہ رہے ہیں کہ مولانا کا اسلام آباد میں داخلہ خودکشی ہو گا پی ٹی آئی کے دو ہزار چودہ کے دھرنے اور دو ہزار سولہ کے لاک ڈاؤن کی کوشش نے نومبر دو ہزار سترہ میں تحفظ ِ ناموسِ رسالت کے نام پر تحریکِ لبیک کے بیس روزہ فیض آباد دھرنے کے لیے حوصلہ دیا۔ اس دھرنے کا مقصد کیا تھا یہ مقصد کس قدر حاصل ہوا ، کسے فائدہ اور نقصان ہوا۔ یہ سب کچھ سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے۔ اس فیصلے کے ایک مصنف جسٹس قاضی فائز عیسی بھی تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ بھلے دارالحکومت کہیں بھی لے جائیں۔لوگوں کی قسمت نہیں بدلے گی تو دارالحکومت بدلنے سے بھی کچھ نہ ہو گا۔ جب کوئی ایک اچھی یا بری غلط روایت پڑ جاتی ہے تو پھر یہ روایت آگے ہی بڑھتی ہے پیچھے صرف ملک ہٹتا ہے۔

یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی
کیوں ڈھونڈھ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

اطہر نفیس

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کارکن ۔ ہر سیاسی پارٹی میں بے چارگی کا شکار

محسوس یہ ہوا کہ واہگہ سے گواد ر تک سب ہی اصل انقلاب کے خواہاں ہیں۔ ایس ایم ایس سے فون سے سب نے میری تحریر کی داد دی اور کہا کہ ا نقلاب کی تلاش جاری رکھئے۔ اب آپ کو کیا سمجھائوں بہت پہلے میں کہہ چکا ہوں:

خواہشِ انقلاب میں یوں تو
یار لوگوں کے دل مچلتے ہیں

شاید ان کو خبر نہیں اس میں
جان جاتی ہے سر اچھلتے ہیں

ایک سوال بار بار یہ بھی ہوتا ہے کہ پکڑ دھکڑ وی آئی پی ہو رہی ہے۔ لیکن پیسہ تو ایک بھی واپس نہیں مل رہا ہے۔ اب کمیشن بن رہا ہے۔ پہلے بھی بہت کمیشن بنے۔ حمود الرحمن کمیشن، میمو گیٹ کمیشن، کیا فائدہ ہوا، بات تو ٹھیک ہے۔ قومی خزانے میں ضرورت ہے، کچھ جمع کرانے کی۔ مزید خرچوں کا بوجھ نہ ڈالیں۔ بجٹ نے بھی خسارے بڑھا دیے ہیں۔ بے چاری قوم کو اگلے بجٹ تک پیٹ پر مزید پتھر باندھنے ہوں گے۔ معیشت اعداد و شُمار، سنجیدہ امور ہیں۔ ماہرین معیشت ہی صحیح بتا سکتے ہیں کہ نئے بجٹ منصوبوں سے ہمارے حالات بتدریج بہتر ہوں گے کہ نہیں۔ خواتین کسی بھی پارٹی کی ہوں، ان کے بجٹ پر تبصرے مزید خسارے کی جانب لے جاتے ہیں۔ معاشی مشکلات جذباتی لفاظی سے آسان نہیں ہو سکتیں۔

کراچی کے سعید علی تلاش رزق میں بصرہ(عراق) پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن دل پاکستان میں اٹکا ہوا ہے۔ انقلابوں کی سر زمین عراق میں ’پاکستان میں اصل انقلاب کیوں نہیں آتا‘ نے ان کا دل جیت لیا ہے۔ درد مند ہیں۔ اس لئے عراق بالخصوص بصرے کی جیل میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے اپیل کالم میں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے پاس ہوائی ٹکٹ کے پیسے نہیں ہیں۔ اس لئے اجنبی دیار کے زنداں میں دن کاٹ رہے ہیں۔ جس طرح سعودی عرب، ملائشیا سے پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ہے ان ستم زدگان کے لئے بھی کچھ کیا جائے۔ مہذب قومیں اپنے ایک شہری کی واپسی کے لئے بھی دن رات ایک کر دیتی ہیں۔ ہم بے نیاز ہیں۔ ہم وطنوں پر کیا گزرتی ہے، ہماری بلا سے۔ ہم تو ان پاکستانیوں کو بھی بھول گئے، جو پاکستان کے لئے لڑتے رہے۔ پاکستان آنا چاہتے ہیں، بنگلہ دیش کے کیمپوں میں چار دہائیوں سے بد ترین حالات سے دوچار ہیں۔ کوئی تو ان کے لئے آواز اٹھائے۔

اداسی ہمارے شہروں کی دیواروں پر بال بکھیرے سو رہی ہے۔ کامریڈ نجم الحسن عطا نے فون پر اطلاع دی کہ صبح حسیں کی تلاش میں گھومنے والا۔ حرف کی حرمت کے لئے لڑنے والا راحیل اقبال ایک اسپتال میں زندگی سے منہ موڑ گیا۔ مجھے 80 اور 90 کی دہائیاں یاد آگئیں۔ گہری خوبصورت آنکھوں والا ہرلمحے مسکراتا جواں سال راحیل اقبال اور بہت سے سیاسی کارکنوں کی طرح اچھے دنوں کی آرزو میں سخت موسموں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ اپنی جمع پونجی بھی خرچ کر رہا تھا۔ حیات مستعار کی سانسیں بھی۔ کبھی کوئی رسالہ نکالتا کبھی کوئی اخبار۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی ترک کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ہزاروں نظریاتی کارکنوں کی مانند وہ بھی نظر انداز ہوتا رہا۔ راحیل اقبال جیسے پڑھے لکھے وفادار کارکن ہی قومی سیاسی پارٹیوں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ ایسے جاں نثار نہ ہوتے تو پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ یہ نہ ہوں تو انتخابی جلسے پھیکے پھیکے رہتے ہیں۔ انہی پروانوں نے

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں گے پاکستان

کے فلک شگاف نعرے بلند کر کے مسلم لیگ کو کامیاب بنایا۔ پھر یہ پاکستان کی مادر جماعت ان کو بھول گئی۔ سرداروں، خانوں، چوہدریوں، نوابوں، ملِکوں میں گھِر گئی۔ 1958 سے آج تک یہی کارکن احتجاج کے عندلیب بن کر گاتے رہے۔
لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو

سنہ 1958 کی خزاں سے سیاسی کارکنوں کی دیوانگی دیکھتا آرہا ہوں کہ روکھی سوکھی کھا کر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ کوئی بھی تحریک چلتی۔ تو اس کی رونق یہی ہوتے ہیں۔ آج کل تو پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں ہیں، ہر سیاسی لیڈر کے پاس محافظوں کا دستہ ہے، بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ پہلے یہی کارکن اپنے لیڈر کے ہر اول دستے اور سیکورٹی گارڈز کے فرائض ادا کرتے تھے۔ اور بغیر کسی معاوضے کے۔ قومی سیاسی پارٹیوں میں سب ہی اقتدار کے مزے اڑا چکی ہیں۔ اپنے جاں نثار کارکنوں کے ساتھ سب کا سلوک سوتیلی مائوں بلکہ اجنبی امیر زادیوں جیسا ہے۔ ان سے نہیں پوچھا جاتا گھر کیسے چل رہا ہے۔ بچوں کی فیسیں کب سے نہیں دیں۔ گھر میں راشن ہے یا نہیں، ان کارکنوں کے خاندان جمہوریت کی چوکھٹ پر قربان ہو گئے۔

میں نے بہت سے خاندان مختلف شہروں میں دیکھے۔ جن کے اثاثے سیاسی جدو جہد کی نذر ہو گئے۔ یہ خود یا گھر کا فرد کوئی بیمار پڑا تو پارٹی سے کوئی عیادت کے لئے آیا نہ ہی کسی نے اسپتال کے بل کی ادائیگی میں مدد کی۔ بڑے لوگ حکومت میں ہوں یا باہر وہ اپنے بیرون ملک علاج پر لاکھوں ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔ لیڈر ناظم آباد سے ڈیفنس، بھاٹی سے گلبرگ منتقل ہوتے رہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے رہے۔ کارکن وہیں ٹین کی چھتوں والے گھروں میں مختلف جمہوری دَور دیکھتے رہے۔ آزادی اور جمہوریت کا نام لیتے ہمارے حلق نہیں سوکھتے۔ لیکن آزادی اور جمہوریت دونوں کے اجزائے ترکیبی تو صرف یہی کارکن ہوتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا پاکستان مسلم لیگ (ن) یا مسلم لیگ (ق) ۔عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام کوئی بھی اپنے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لئے باقاعدہ منصوبہ نہیں بناتا۔ جو کارکن مختلف تحریکوں میں پیش پیش رہے۔ ان کے لئے کوئی ایوارڈ نہ انعام، میرے خیال میں تو تحریک پاکستان کے کارکنوں کے لئے بھی ایسے کوئی وظائف مقرر نہیں کیے گئے۔ بھارت میں اب تک تحریک آزادی کے لیڈروں کارکنوں کے لئے خصوصی مراعات ہیں۔ ایوب خان کے خلاف مزاحمتی جلسے جلوس ہوں، یا یحییٰ خان کے خلاف ریلیاں۔ بھٹو صاحب کے مدّ مقابل جلسے جلوس۔ پھر جنرل ضیا کی آمریت کو للکارنے والے کارکن، بعد میں تحریک بحالیٔ جمہوریت ۔

تحریک نجات اور اسی قسم کی کوششیں، کارکنوں کی نسلیں ان تحریکوں کو نتیجہ خیز بناتی رہیں۔ لیکن ان کارکنوں کو کیا ملا۔ ان میں سے اکثر ایسے تھے جو ذاتی طور پر کچھ نہیں چاہتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جب خلقت کے دن بدلیں گے تو میرے بھی بدل جائیں گے۔ کارکنوں کا خیال رکھنے والی پارٹیوں میں جماعت اسلامی سر فہرست ہے، وہ کارکن کے روزگار مالی حالات کا خیال کرتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی کارکنوں کی بہبود کو اہمیت دیتی تھی۔ بعض پارٹیوں میں ایسے متمول افراد ہوتے ہیں جو پارٹی کا خرچہ برداشت کرتے ہیں۔ ان میں سے ہی کچھ عید بقر عید پر کارکنوں کو نقد امداد فراہم کر دیتے ہیں۔ کارکن بیمار یا زخمی ہوجائے تو پہلے دو تین دن تو تصاویر کھنچتی ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اب یہ کارکن پارٹی کے لئے کچھ نہیں کر سکے گا تو اس سے آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ اب آپ ہی بتایئے اصل انقلاب کیسے آئے گا؟

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہماری مذہبی جماعتوں کا سیاسی المیہ

قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کے سیاسی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں بہت ساری مذہبی جماعتیں دیکھنے کو ملیں گی، مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہبی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتیں کبھی برسر اقتدار نہیں آئیں۔ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت مسلمان ہے، مسلمان اسلام سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اگر جذباتی وابستگی، فکری وابستگی سے محروم ہو تو بامقصد نتائج کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے ملک کی عوام نے ہمیشہ اپنے لیے ایسی قیادت کا انتخاب کیا جس کا مذہبی رجحان کم ہو، یا جس کی کسی مسلک اور عقیدے سے وابستگی ظاہر نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی کیسا اسلامی نظام چاہتا ہے؟

اسلامی حکومت کے بارے میں ایک عام شہری سے بات کی جائے تو اس کے ذہن میں خلافت راشدہ کا دور ابھرتا ہے۔ اس کے ذہن میں وہ حکمران آتا ہے جس سے ایک عام شہری بھی جواب طلب کر سکتا تھا کہ یہ دوسری چادر تمہارے پاس کہاں سے آئی اور مال میں یہ اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اس دور میں قاضی کی عدالت میں ایک حکمران کا بھی وہی مقام تھا جو ایک غریب شہری کا تھا اور دونوں برابر تھے۔ قانون دونوں پر یکساں طور پر لاگو کیا جاتا تھا۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر دور میں آنے والی حکمران جماعت نے ہمیشہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھا۔ اگر ہم 2002 کے الیکشن کی بات کریں جس کے نتائج بہت ہی حیرت انگیز تھے، تو معلوم ہو گا کہ 2002 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایک بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری۔ ایم ایم اے نے، جس میں چھ مذہبی و سیاسی جماعتیں شامل تھیں، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کی اور کے پی کے میں صوبائی حکومت بنالی جبکہ بلوچستان میں مخلوط صوبائی حکومت کا حصہ بنی۔

ایک لمبے عرصے کے بعد دینی جماعتوں کو اقتدار میں براہ راست آنے کا موقعہ ملا۔ یہ ایک لحاظ سے بڑی کامیابی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت مذہبی جماعتوں کی اس شاندار کامیابی کی وجہ کیا تھی؟ انہیں کیوں اور کیسے حکومت ملی؟ نتائج کیا رہے اور کیا آئندہ ایسا ممکن ہے؟ اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کی ملکی تاریخ میں پہلی بار تمام مسالک کی جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور ایک ساتھ ووٹرز کے پاس گئیں۔ بہت سے لوگوں نے انہیں آزمانے کے لیے بھی ووٹ دیئے، خاص طور پر خیبر پختونخواہ کے ووٹرز نے اپنا ووٹ مولوی صاحبان کی جھولی میں ڈال دیا۔ خیبر پختونخواہ میں پانچ برس تک مذہبی جماعتیں بلا شرکت غیرے حکومت کرتی رہیں اور جے یوآئی (ف) کے اکرم درانی وزیراعلیٰ بنے۔ حکومت میں غالب حصہ بھی اسی جماعت کا تھا، مگر صد افسوس! ایم ایم اے کی پانچ سالہ کارکردگی کہیں سے بھی مثالی نہیں کہی جا سکتی۔

کرپشن کے بہت سے الزامات بھی صوبائی وزراء پر، بالخصوص جے یو آئی (ف) کے رہنماﺅں پر عائد کئے گئے۔ اس خاص موقعے پر ایم ایم اے کا کردار نہایت مایوس کن رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو عوام یہ چاہتے ہیں کہ مذہبی جماعتیں اقتدار میں آئیں اور نہ ہی مذہبی جماعتیں اقتدار میں آنے کےلیے سنجیدہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں صرف نام ہی کا اسلامی جمہوریہ پاکستان رہے گا۔ پاکستان کی خاطر تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا ہو گا اور عوام کے سامنے اپنا مثبت کردار ادا کر کے ایماندار اور سنجیدہ قیادت ہونے کا ثبوت دینا ہو گا۔ امید کرتا ہوں کہ 2018 کا الیکشن پاکستان کےلیے مثبت ثابت ہو۔

حافظ محمد زبیر

کیا متحدہ مجلس عمل بحال ہو جائے گی ؟

پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں نے اپنے اتحاد ‘متحدہ مجلسِ عمل’ (ایم ایم اے) کی بحالی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا یہ اتحاد ماضی کی طرح انتخابی کامیابی حاصل کر سکے گا یا نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا انس نورانی، جمعیتِ اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر اور دیگر مذہبی سیاسی رہنمائوں نے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں دینی جماعتوں کے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

ان جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق آئندہ چند روز میں لاہور میں ایک اجلاس ہو گا جس میں ایم ایم اے کی باقاعدہ طور پر بحالی یا تمام مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک وسیع تر اتحاد کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا اسی قسم کے کسی دوسرے اتحاد کی تشکیل کے امکانات پر بظاہر خوش ہیں۔ لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اس اتحاد کی ماضی کی کارکردگی اور ملک کے بدلتی ہوئی صورتِ حال میں مذہبی جماعتوں کے کسی اتحاد کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی جو عوام نے 2002ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کو بخشی تھی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے مذہبی جماعتوں کے قائدین کے مابین والی ملاقات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2002ء کی نسبت موجودہ حالات نہایت گھمبیر ہیں کیونکہ اس وقت تو امریکہ اور اس کی اتحادی افواج صرف افغانستان میں داخل ہوئی تھیں مگر اب تو پاکستان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2002ء کی طرح 2018ء کے انتخابات میں بھی اس نئے اتحاد کو پذیرائی حاصل ہو گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اتحاد کے باقاعدہ اعلان کے بعد کسی بھی رکن جماعت کو انفرادی طور پر سیاسی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایم ایم اے نے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی جب کہ یہ اتحاد قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرا تھا جس کے باعث اس کے پاس قائدِ حزبِ اختلاف کا اہم عہدہ رہا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین کا کہنا ہے کہ 2002ء میں بھی مذہبی جماعتیں ایک غیر ملکی ایجنڈے کے تحت متحد ہوئی تھیں اور اب بھی غیر ملکی قوتوں نے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آئندہ عام انتخابات میں انہیں مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو متحدہ مجلسِ عمل کے غیر فعال ہونے کے بعد زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ملا ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کی دشمنی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ واضح ہے۔ لہذا ان حالات میں ان دونوں جماعتوں کا ایک ہی فورم پر متحد ہونا بہت مشکل ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جس کے رہنما اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات شاہ فرمان کہتے ہیں کہ قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنانا ان کا حق ہے۔

تاہم 2002ء سے2007ء تک متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ عوام اس بارے میں بہتر فیصلہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے بارے میں عوامی رائے زیادہ تسلی بخش نہیں تھی۔ تجزیہ کار بریگیڈیر (ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو یا مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی نیا اتحاد بنے، اسے 2002ء کے عام انتخابات کی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں.

شمیم شاہد

بشکریہ وائس آف امریکہ

ایک اور حلف جس کی خلاف ورزی پر سب خاموش ہیں

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی متفقہ طور پر حال ہی میں نئے الیکشن قانون میں کی گئی انتہائی متنازع ترامیم کو واپس لے لیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جس پر پاکستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ بجا طور پر میڈیا اور عوام کی توجہ اس خاص ترمیم پر مرکوز رہی لیکن متنازع تبدیلیوں میں ایک اور خطرناک تبدیلی بھی کی گئی جس کا میڈیا میں کوئی ذکر نہ ہوا لیکن میرے رب کی مہربانی سے وہ تبدیلی بھی واپس ہو گئی۔

قارئین کرام کی معلومات کے لیے یہ بتاتا چلوں کے الیکشن لڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانون کے مطابق مہیا کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ ایک اور حلفیہ بیان لازم ہے جس کا تعلق اسلامی نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان میں جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے سے متعلق ہے۔ اس بیان کو بھی نئے الیکشن قانون میں حلفیہ بیان سے بدل کر اقرار نامہ کیا گیا لیکن اب تازہ ترامیم کے ساتھ ہی پھر صورت حال پرانی ہو چکی جو قابل تسکین بات ہے۔ 

درج ذیل میں اس حلفیہ بیان کو پڑھیے:
’’میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ : (دوم) میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئے ہوئے اعلان کا وفادار رہوں گا ؍گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوریت ہو گی۔ میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا؍ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا؍ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ حلفیہ بیان حالیہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے بھی موجود تھا اور اب دوبارہ ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر کاغذات نامزدگی میں حلف کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جو بہت اچھی خبر ہے۔ یہ حلفیہ بیان پاکستان کی پارلیمنٹ یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے لیے لازم ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ حلف لینے کے باوجود ہمارے حکمران اور ممبران پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی پاکستان کی اسلامی اساس کے تحفظ اور اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے کوئی کوشش کیوں نہیں کر رہے۔

بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے پاکستان کو روشن خیالی ، لبرل ازم اور ترقی پسندی کے نام پرمغرب زدہ کیا جا رہا ہے بلکہ یہاں تو کئی سیاسی رہنما اورممبران اسمبلی ایسے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو سیکولر بنانے کی بات کر کے اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن اس خلاف ورزی کو نہ تو عدلیہ دیکھتی ہے نہ ہی الیکشن کمیشن، میڈیا یا کوئی اور اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے کسی سیاسی معاملہ میں اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر دے یا اُس کے خلاف بول پڑے تو اس پر تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ کوئی اپنی دولت کے بارے میں دی گئی تفصیلات کے متعلق جھوٹ بولے یا پیسہ چھپائے تو اس پر بھی نااہلی کی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔

لیکن یہ کیا کہ قسم اٹھا کر یہ حلف لینے والے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والے اسلامی نظریہ کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کی جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائیں گے، کس آسانی سے لبرل اور سیکولر پاکستان کی بات کرتے ہیں، خلاف اسلام قانون سازی کرتے ہیں، ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں لیکن ایسے سیاسی رہنمائوں، حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ میری سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس حلف کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں بھی سوچیں اور اُن کا احتساب کریں.

کیوں کہ یہ دھوکہ پاکستانی قوم کے ساتھ نہیں کیا جانا چاہیے کہ حلف تو آپ لیں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا اور جب اسمبلیوں میں آئیں یا اقتدار کی کرسی پر بیٹھیں تو روشن خیالی، لبرل ازم اور ترقی پسندی کی باتیں کریں اور مغرب زدہ پالیسیاں بنائیں۔ میڈیا سے مجھے کوئی امید نہیں کہ اس معاملہ پر بات کرے گا کیوں کہ بہت کچھ جو میڈیا کر رہا ہے وہ تو اسلامی پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا۔

انصار عباسی