پاکستان کے پہاڑوں میں قدرت کا حسن… شمشال جھیل

دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کر کے ایک سڑک تعمیر کر لی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

خوبصورت جھیل خرفاق جو سیف الملوک جھیل سے کم نہیں

پاکستان خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے لیکن حکومتوں نے سیاحت کی طرف کم توجہ دی اور قدرتی نظاروں تک پہنچے کیلئے جو ذرائع آمد و رفت آپ کو یورپی ممالک میں ملتے ہیں وہ یہاں دستیاب نہیں ۔ یورپ میں یہی سہولت قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے اور جوق درجوق سیاح آتے ہیں جس سے مقامی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی شمالی علاقہ جات قدرتی مناظر سے بھرپور ہے لیکن وہ یا تو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ خوبصورتی کی ایسی ہی مثال” جھیل خرفاق ‘‘ ہے۔ شمال میں چین کی سرحد اور واخان کی پٹی سے ملحقہ پاکستان کے آخری ضلع گانچھے کی تحصیل خپلو میں واقع ہے جس تک پہنچنے کیلئے سخت ہائیکنگ کرنا پڑتی ہے۔ سکردو سے اگر خرفاق جائیں تو براہ تک پونے دو گھنٹے کا سفر ہے لیکن اگر خپلو سے جائیں تو پچیس سے تیس منٹ لگتے ہیں ۔

راستہ بہت زیادہ دشوار گزار ہے۔ جھیل سے پہلے ایک دریا آتا ہے جہاں سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔ فور بائی فور گاڑی ہی کارگر ہوتی ہے ، یہاں سفر کرنا عام گاڑی کے بس کی بات نہیں ۔ جو لوگ ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے دلدادہ ہیں وہ خرفاق جھیل تک پہنچنے میں آسانی محسوس کرینگے کیونکہ جھیل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ یہاں چٹانوں کے پہاڑ کھلے کھلے ہیں درمیان میں کافی جگہ ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جھیل تک پہنچنے کیلئے سڑک تعمیر کرے تاکہ سیاحت میں اضافہ ہو سکے ۔ جھیل کا پانی اوپر پہاڑوں سے آتا ہے جب برف پگھلتی ہے تو جھیل گہری ہو جاتی ہے اور اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے لیکن جب پانی خشک ہوتا ہے تو جھیل سکڑ جاتی ہے ۔ جھیل کا داہانہ یا بہائو زیر زمین ہے اور اس کا پانی ایک گائوں میں جاکر نکلتا ہے ۔

گھنٹوں کی ہائیکنگ کرتے کرتے جب سیاح تھک جاتے ہیں تو کسی مقامی رہائشی کا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں جو مقامی فرد خوشی سے دے دیتا ہے کیونکہ وہاں ٹھہرنا تھوڑی دیر کیلئے ہوتا ہے ۔ مقامی آباد ی بہت ملنسار ہے۔ جھیل سے فاصلے پر کہیں کہیں آبادیاں ہیں، دریا کے ساتھ بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس جھیل تک پہنچ پاتے ہیں ۔ تھکے ہارے سیاح جب کئی میل کا سفر کر کے اس جھیل کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کا نیلگوں پانی دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جیسے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیں گے ۔ جھیل سے پہلے چٹانوں کے ٹوٹے پتھر آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا شفاف پانی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔ یہ ایک بہت خاموش اور دنیا سے ہٹ کر جگہ ہے جہاں آپ سکون محسوس کرینگے ، یہاں کوئی شور نہیں سوائے پانی کے گرنے کے یا پرندوں کے چہچہانے کے ۔

یہ جھیل خوبصورتی میں جھیل سیف الملوک سے کم نہیں لیکن چونکہ اس تک پہنچنا بہت دشوار ہے اس لئے سیاح عموماً یہاں کا رخ نہیں کرتے لیکن اگر حکومت توجہ دے تو اسے جھیل سیف الملوک کی طرح کا سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کا ٹھہرائو آپ کو کسی حسین دلربا پانی کے خوبصورت منظر کی طرف لے جاتا ہے جہاں آنے والے لوگ عجیب ہی تروتازگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جھیل اپنے اندر اک خوشنما احساس تو رکھتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دل کو غمزدہ بھی کرتی ہے کہ اتنی خوبصورت جھیل عوام کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔

زونیر کمبوہ

بشکریہ دنیا نیوز

دودی پت سر جھیل : جس کی خوبصورتی دنگ کر دیتی ہے

پاکستان میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جن کی خوبصورتی دنگ کر دیتی ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع جھیلوں میں ایک عجب کشش پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کی سیاحت میں ترجیح جھیلیں ہوتی ہیں اور وہ صرف انہیں کو دیکھنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ دودی پت سر بھی ایسی ہی ایک جھیل ہے جو خیبرپختون خوا کے ضلع مانسہرہ میں وادیٔ کاغان کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ اس جھیل کے گرد چوٹیاں بالخصوص موسم سرما میں برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ مقامی زبان میں دودی کا مطلب سفید، پت کا مطلب پہاڑ اور سر کا جھیل ہے۔ اردگرد موجود چوٹیوں پر سفید برف کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ انہیں کا عکس اس کے پانیوں میں جھلکتا ہے۔ گرمیوں میں اس کا ٹھنڈا پانی بالکل شفاف دکھائی دیتا ہے۔ 

یہ سطح سمندر سے تقریباً 3800 میٹر بلند ہے۔ جھیل میں ٹراؤٹ مچھلی بھی پائی جاتی ہے۔ اس جھیل اور آس پاس کے علاقوں میں جون سے ستمبر کے درمیان جانا خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ موسم گرما کے شفاف پانیوں کا نظارہ کرنے کے لیے دور دور سے سیاح آتے ہیں۔ یہ جھیل ’’لالو سار دودی پت سر نیشنل پارک‘‘ کا حصہ ہے ۔ حیاتیات و نباتات کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ پارک 2003ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا نام دو جھیلوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ لالو سار بھی ایک جھیل ہے جو اس نیشنل پارک کا حصہ ہے۔ اس پارک میں پائی جانے والی جنگلی حیات میں برفانی چیتا، سیاہ ریچھ، مارموٹ، نیولا، جنگلی بِلا، ہمالیائی برفانی مرغ اور برفانی چکور شامل ہیں۔ نیز یہاں مختلف طرح کی مفید جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر جڑی بوٹیاں وہ ہیں جو صرف بالائی علاقوں میں پھلتی پھولتی ہیں۔  

محمد شاہد

رش جھیل : پاکستان کی سب سے بلند جھیل

جھیلیں پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی خوبصورتی کا باعث بھی بنتی ہیں۔ جھیلوں کا نظارہ انجانے سے سکون سے آشنا کرتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی جھیلیں میدانی علاقوں میں پائی جاتی ہیں جن تک رسائی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ تاہم پہاڑی علاقوں میں پائی جانے والی جھیلوں تک عام طور پر رسائی مشکل ہوتی ہے۔ رش جھیل کا شمار انہی میں ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی بلندی ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4697 میٹر بلند ہے۔ اس کا شمار دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔

یہ پاکستان کی سب سے بلند جھیل ہے۔ رش جھیل پر وادیٔ ننگر اور وادی ہوپر کے راستے پہنچا جا سکتا ہے۔ رش جھیل گلگت بلتستان کی ننگروادی میں رش پہاڑی کے نزدیک واقع ہے۔ اس کے راستے میں ہوپر اور میار گلیشیر بھی آتا ہے۔ اس سفر میں بہت سی برف پوش چوٹیوں کا نظارہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جھیل خود بھی برف پوش پہاڑیوں سے گھری ہوئی ہے۔ اس علاقے کا موسم بہت سرد ہے اسی لیے جھیل سال میں تقریباً نو ماہ جمی رہتی ہے۔

محمد اقبال

سدپارہ جھیل : گلگت بلتستان میں واقع ایک قدرتی جھیل

سدپارہ جھیل گلگت بلتستان میں واقع ایک قدرتی جھیل ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ یہ شہر سکردو سے تھوڑی سی مسافت پر ہے اور شہر کو پانی کی فراہمی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ جھیل بہت خوبصورت ہے اور اس کا پانی میٹھا ہے۔ اس کے اطراف میں سنگلاخ چٹانیں ہیں۔ موسم سرما میں ان پہاڑوں پر برف پڑتی ہے۔ گرمیاں شروع ہونے پر یہ برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو اس کا پانی جھیل میں جمع ہونے لگتا ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک سے نکلنے والے قدرتی ندی نالوں کا پانی بھی بہتا ہوا اس جھیل میں آتا ہے۔ سدپارہ بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سات دروازے۔ اس نام کی وجہ ایک دیومالائی کہانی بتلائی جاتی ہے۔

محمد ریاض

پاکستان کی خوبصورت جھیلیں

 ڈرگ جھیل کھارے پانی کی اس جھیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم میں دریائے سندھ کی گزر گاہ رہی ہوگی۔ اس پانی میں مون سون کی بارشوں اور قریب کے ندری نالوں میں داخل ہوتا ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کا رخ موڑنے اور آبی پودوں کی بہتات سے اس کی سطح اور رقبے میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ بگلوں کی کئی اقسام یہاںپر افزائش نسل میں مصروف رہتی ہے ۔ سردیوں میں ہزاروں آبی پرندے جھیل پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھیل میں آبی پرندوں کا شکار ممنوع ہے۔ 

کینجھر جھیل میٹھے پانی کی یہ بہت بڑی جھیل ٹھٹھہ شہر سے 19 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کو کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دو جھیلوں کلری اور کینجھرکو ملانے پر وجود میں آئی ہے۔ جھیل میں پانی دریائے سندھ سے نہر کے ذریعے آتا ہے ۔ جھیل کے زیریں حصے پر ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر پانی کو روکا گیا ہے، یہی ڈیم جھیل سے پانی کے اخراج کے کام بھی آتا ہے۔ اس کے پانی سے کراچی اور اردگرد کی آبادی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ موسم سرما میں ہزاروں پرندے ہجرت کرکے اس جھیل کو اپنا عارضی مسکن بناتے ہیں ۔ جھیل میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیرے پرند وں کو افزائش نسل کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں پر آبی پرندوں کا شکار بھی ممنوع ہے۔ 

ہالیجی جھیل میٹھے پانی کی ایک جھیل کے اطراف مستقل رہنے والے پانی اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جھیل کے چاروں اطراف بند بنا کر پانی ذخیرہ کیا گیا ہے ،یہ اپنے بہترین محل وقوع اور ماحول کی وجہ سے پرندوں کی جنت کہلاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کی بہترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ نقل مکانی کے موسم میں ہزاروں پرندے اس جھیل پر آتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کے آبی اور دیگر پرندوں کو ان افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔ جھیل کی اہمیت کے پیش نظر اس پر ہر قسم کے شکار پر پابندی ہے۔

شیخ نوید اسلم

(پاکستان کی سیر گاہیں)  

نمل جھیل : پہاڑیوں کے دامن میں ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل

راولپنڈی، میانوالی روڈ پر میانوالی شہر سے قریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑیوں کے دامن میں ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے، جسے نمل جھیل کہتے ہیں۔ یہ جھیل فرنگی عہد میں 1913ء میں بنائی گئی۔ جھیل سے پہلے بھی یہاں کی زمین بے حد زرخیز اور سر سبز تھی۔ لوگ یہاں پر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں کنوؤں کی تعداد لگ بھگ سو کے قریب تھی۔ یہ علاقہ جو وادی نمل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کئی صدیوں سے آباد چلا آرہا ہے۔ اس حقیقت کا پتہ جھیل کے کنارے واقع قدیم قبرستان سے بھی ملتا ہے۔
نمل جھیل 1200 ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی گہرائی قریباً 20بیس فٹ ہے پہاڑوں سے آبی چشموں اور برساتی نالہ کے ذریعے آنے والا پانی جب یہاں پہنچتا ہے ،تو نمل کے کشادہ بازو اسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ جھیل کا یہ پانی میانوالی شہر اور اس سے ملحقہ دیہات کو سیراب کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے، جب جھیل کا پانی ڈیم کے آہنی درازوں میں سے ہوتا ہوا، دوسری طرف نالے میں آبشار کی صورت میں گرتا ہے، تو اس سے خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے۔ کنارے پر اللہ کے ایک برگزیدہ بندے حضرت حافظ جی کا مزار ہے۔ 7-6 شعبان کو حافظ جی کا عرس ہوتا ہے ۔ سالانہ عرس کے علاوہ ماہ محرم کی ساتویں اور آٹھویں تاریخوں کو بھی دور دراز سے لوگ جوق در جوق یہاں آتے ہیں اور اس مزار پر حاضری دیتے ہیں اس موقع پر یہاں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ عقیدت مندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر یہاں پر عارضی دکانیں بن جاتی ہیں۔ مزار سے ملحقہ ایک مسجد بھی ہے، جس میں آج بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صدائے دلنشین سنائی دیتی ہے ۔
1984ء سے مزار کا انتظام محکمہ اوقاف نے سنبھال رکھا ہے۔ مزار حافظ کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے ،جو دو کمروں لان اور خوبصورت صحن پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جھیل کا منظر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ مزار کی جانب آبادی خانقاہ حافظ جی کے نام سے موسوم ہے جبکہ دوسری طرف کی آبادی نمل گاؤں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ لوگ کشتیوں کے ذریعے اس جھیل کو عبور کرتے ہیں۔ کشتیوں کے علاوہ ان لوگوں کے لیے کوئی ذریعہ آمدروفت نہیں ۔نمل جھیل میں ایک فش فارم بھی بنایا گیا ہے، جس کا باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ اس کا انتظام ضلع کونسل میانوالی کے سپرد ہے ،یہاں مچھلیوں کا قابل ذکر ذخیرہ موجود ہے۔ لوگ یہاں پر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ مچھلی کے علاوہ جھیل میں مرغابیوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔ سابق صدر فلیڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم، سابق گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان مرحوم اور دیگر اعلیٰ شخصیات یہاں شکار کرنے اور تفریح کی غرض سے آتی رہی ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ میانوالی، خوشاب، تلہ کنگ، چکوال اور دیگر ملحقہ شہروں کے لیے یہ جھیل ایک خوبصورت اور بے مثال تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر جمعہ کو یہاں پر لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پکنک منانے اور ان قدرتی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ متذکرہ بارانی علاقوں، خشک اور بے مزہ ماحول میں رہنے والوں کے لیے نمل جھیل سے بہتر کوئی تفریحی مقام نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جھیل کے انتظام و انصرام سے متعلقہ محکمہ کے ارباب بست کشاد اسے مزید خوبصورت حسین 
اور دلکش بنانے کے لیے خصوصی توجہ دیں تاکہ یہاں آنے والے لوگوں کو کسی تکلیف، الجھن اور پریشانی وغیرہ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بھر پور طریقے سے ان مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ 
ایس انور خان
( ’’پاک جمہوریت‘‘سے مقتبس)