پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، ایک سوال

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان بھی تھما دیا ہے۔ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان نئے 6 نکات پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا، چار ماہ بعد پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد فیٹف صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کر لیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی پیش رفت اطمینان بخش اور مثالی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینئر کمانڈرز سمیت اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا ہدف پورا کرے۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔ پاکستان فیٹف کے نئے ایکشن پلان پر عمل کرے، انویسٹی گیشن کے طریقہ کار میں بہتری لائے، اسے دہشت گردوں کو مالی معاونت دینے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی، سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک گروپ نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا، اسے آخری ہدف کے حصول تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان نے فروری 2021 سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے توانائی اور فیٹف سیکریٹریٹ کے سربراہ حماد اظہر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کر چکے ہیں، فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے، فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ تاہم گرے لسٹ سے نکلنے کا کچھ سفر ابھی باقی ہے، ہم اگلے تین چار ماہ میں آخری نکات کو بھی مکمل کر لیں گے۔ پہلے والے ایکشن پلان کی توجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی جب کہ 25 جون کو ملنے والے دوسرے ایکشن پلان کی توجہ منی لانڈرنگ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو پہلے جو ایکشن پلان دیا گیا تھا وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے چیلنجنگ اور مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ہمیں ہائی رسک ڈیکلیئر کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال میں عملدرآمد کا ہدف ہے۔

منی لانڈرنگ میں پاکستان لوئر رسک پر ہے، حماد اظہر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایکشن پلان پر اگلے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کریں گے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلانز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 2018 میں دیے گئے 82 میں سے 75 نکات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ فیٹف کا نیا چھ نکاتی ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اب بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ نہیں رہا، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہونگی۔ حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا، سب کو پتا ہے بھارت کا یہی مقصد ہے کہ وہ فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہو چکی ہیں۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمایندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہو چکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، مگر پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، اس حوالے سے سخت ترین قوانین وضع کریں گے۔ اس موقع پر فیٹف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل خواجہ عدنان ظہیر، ڈی جی نیکٹا طارق حسن اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ پیرس اجلاس میں فیٹف نے گھانا کو گرے لسٹ سے نکال دیا، (ایف اے ٹی ایف) کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا۔ یہ ٹاسک اگرچہ چیلنجنگ ہے، لیکن جن بنیادوں پر پاکستان کو اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے اس کی تکمیل ناگزیر بھی ہے اور ملکی سیاست اور معیشت کو اس آزمائش سے گزرنا بھی ہے، اب ’’قسمت کی خوبی کو دیکھنا ہے اور دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام‘‘ رہ گیا اس کی استقامت اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی دانش و حکمت اور دور اندیشی بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے، پاکستان کو فیٹف میں فرانس اور بھارت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

دونوں ملکوں کے فیٹف کیس میں ٹیکنیکل اور پولیٹیکل معیار کا سوال شاہ محمود قریشی پہلے اٹھا چکے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے، ستائیسویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے، ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے، جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 27 نکات پر عمل درآمد کرنا تھا جس میں سے پاکستان کی جانب سے ایک پر عمل درآمد باقی رہ گیا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاست کے گھناؤنے چکر کے جس کھیل کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، بھارت پاکستان دشمنی میں ایک تکنیکی ادارے کو استعمال کرنے میں اس حد تک آ چکا ہے کہ اسے نہ تو سیاسی اخلاقیات کا لحاظ ہے اور نہ اقتصادی، مالیاتی اور حساس آئینی و قانونی باریکیوں کی کوئی پرواہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ماہرین ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو الجھانے اور بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے کافی عرصہ سے بے قرار تھے، ان کے مالیاتی چمتکاروں نے اپنے بوگس تجزیوں کے انبار لگا رکھے تھے۔

ان اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے ایکشن ٹاسک فورس کو اس راستے پر ڈالنے کی گمراہ کن کوششیں بھی کیں جن پر وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ’’تکنیکی فورم اور پولیٹیکل‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، پاکستان کو اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران بھارت مزید کتنے پینترے بدل سکتا ہے، اسے بھی ادارہ جاتی سطح پر فیٹف ماہرین کو پیش نظر رکھنا ہو گا، ارباب اختیار غور فرمائیں کہ گھانا کی بہترین کارکردگی پر اسے گرے لسٹ سے نکالنے اور پاکستان کی مثالی پرفارمنس پر بھی اسے ایک نیا ایکشن پلان تھمانا کس بات کی غمازی کرتا ہے۔ ہمارے ماہرین کو خطے کی سیاسی جدلیات، ڈائنامزم اور سیاسی گٹھ جوڑ کے بدلتے رجحانات پر بھی نظر رکھنی ہو گی، اور ان سوالوں کی تہہ تک جانا ہو گا جو فہمیدہ افراد کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں، پاکستان کو نئے سیاسی سونامیوں کا خطرہ ہے، دشمن گھات میں بیٹھے ہیں، پاکستان کی معاشی بریک تھرو اور کامیابیاں ان کو ہضم نہیں ہو رہیں، وہ کسی نہ کسی بہانے ملکی اقتصادی استحکام اور عوام کو لازمی ریلیف سے محروم رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کا صائب میکنزم یہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اخلاص اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے پر توجہ دے، اگر گھانا اپنی کوششوں سے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے تو پاکستان کی تعریف تو فیٹف کے صدر بھی کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی توجہ چیلنجز پر مرکوز رکھے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

غربت، افلاس اور تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی

’’نیب‘‘ کے بارے میں رنگ برنگی سنتا، پڑھتا رہتا ہوں لیکن میرے اندر کہیں یہ بات بہت بھاری طریقے سے بیٹھ گئی ہے کہ ’’نیب‘‘ اِس لئے ٹھیک ہے کہ سیاستدان اُس کے خلاف گینگ اپ ہو گئے ہیں۔  کیا ہم ہر دوسرے، تیسرے دن یہ خبر نہیں پڑھتے کہ فلاں سیاستدان سے اربوں روپے کی زمین واگزار کرا لی گئی ہے تو یہ سب کیا ہے؟ دوسری طرف یہ کتنی دلچسپ دلیل ہے کہ ’’نیب‘‘ نام نہاد کاروباریوں پر ہاتھ ڈالے تو وہ سارا کچھ سمیٹ، سکیڑ کر بچی کچھی اکانومی کا بھی تیایا پانچا کر دیں گے۔ کارٹیلائزیشن اور بلیک میلنگ اور کیا ہوتی ہے؟ ’’نیب‘‘ میں نقص ہوں گے، کمزوریاں ہوں گی تو اُن کے پنجے، جبڑے ضائع کئے بغیر اُنہیں درست کر لیں، بہتر کر لیں لیکن ’’نیب‘‘ کے بارے اک خاص قسم کا زہریلا پن کم از کم میری سمجھ سے بالکل باہر ہے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ کا اک تازہ بیان سپر لیڈ کی شکل میں میرے سامنے ہے۔ ’’دھیلے نہیں اربوں کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ ’’نیب‘‘ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 714 ارب قومی خزانے میں جمع کرائے۔

غربت، افلاس اور تعلیم کی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ منی لانڈرنگ۔ مضاربہ کیسز ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی۔ بھاری منافع کا لالچ دے کر جمع پونچی لوٹی گئی۔ وائٹ کالر اور سٹریٹ کرائم میں فرق ہوتا ہے‘‘۔ کوئی مجھ کو دن کو یہ سمجھائے کہ چیئرمین ’’نیب‘‘ کے اِس بیان میں کیا غلط ہے؟ مجھے ذاتی طور پر اِس بات میں بھی قطعاً کوئی شک نہیں کہ ’’تبدیلیٔ آب و ہوا‘‘ کے لئے ’’نیب‘‘ کا ناروا اور غلط استعمال بھی ہوتا ہو گا تو بھائی! میں اپنے ’’اجتماعی کردار‘‘ کو کہاں لے جائوں کہ غلط، ناجائز بلکہ ابلیسی استعمال تو پاکیزہ اور پوتر ترین چیزوں کا بھی ہوتا ہے اور عام ہوتا ہے۔ مِس یوز کرنے والے تو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی مثبت چیزوں کے بھیانک استعمال سے بھی باز نہیں آتے۔ دنیا میں کون سا ایسا ’’خیر‘‘ ہے جسے انسان نے کبھی بطور ’’شر‘‘ استعمال نہ کیا ہو۔ سمری اِس سارے سیاپے کی یہ ہے کہ ’’نیب‘‘ کی جتنی ڈینٹنگ، پینٹنگ ہو سکتی ہے، ضرور کرو۔ اُس کی ’’کاسمیٹک سرجری‘‘ کر کے اُسے زیادہ سے زیادہ قابلِ قبول ضرور بنائو لیکن اُس کی ’’روح‘‘ یعنی احتساب کی اہلیت پر کمپرومائز کئے بغیر۔

چیئرمین ’’نیب‘‘ کی یہ بات سو فیصد درست ہے جس پر ہر شے قربان کی جا سکتی ہے کہ … ’’غربت، افلاس اور تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ منی لانڈرنگ و دیگر اقسام کی کرپشن ہے‘‘۔ یاد رہے ’’اپنا ملک‘‘ غیرمعمولی طور پر ذہین، محنتی اور قابل لوگوں کی ’’ضرورت‘‘ نہیں ہوتا کیونکہ پوری انسانی تاریخ اِس بات کی گواہی میں پیش کی جا سکتی ہے کہ غیرمعمولی قسم کے لوگ دنیا کے جس حصے اور خطے میں بھی قدم رکھتے ہیں، اپنی کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑ کر اپنا آپ منوا لیتے ہیں۔ اپنا ملک تو ضرورت ہی عام آدمی، کمزور آدمی، اوسط درجے کے آدمی کی ہوتا ہے جو اُس پر ’’احسان‘‘ کر سکے کیونکہ ’’احسان‘‘ کا اصل مطلب ہی کسی کی کمی کو دور کرنا ہوتا ہے۔ میں سو فیصد اپنے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا تو میرا ملک آگے آئے اور میرا سہولت کار بنے، میرا مددگار بنے تو وہ ’’میرا‘‘ ملک ہے، ’’میری‘‘ ’’ریاست‘‘ ہے جو ماں کی طرح میرٹ سے بھی آگے دیکھتی ہے اور اگر نہیں دیکھتی تو وہ ’’سوتیلی ماں‘‘ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ 73 سال بعد بھی اگر عام آدمی کو غربت، افلاس اور جہالت جیسے طاغوتی تحائف کے علاوہ اور کچھ نہیں مل سکا بلکہ اُلٹا اِس آدم خور نظام نے اُس کی نسلیں تک غیروں کے پاس رہن رکھ دی ہیں تو پھر یہ سب کیا ہے؟

بغیر کسی وجہ کے جانور بھی خود کو نہیں کھجلاتا، انسان بھی خارش نہیں کرتا، بغیر پیاس کے احساس کے جاندار پانی جیسے تحفے کی طرف نہیں لپکتا تو حصولِ پاکستان، قیامِ پاکستان کے پیچھے دی گئی، لی گئی ہولناک قربانیوں کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی یا نہیں؟ آزادی آزادی کی رَٹ لگائی ہوئی ہے جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اِس ملک کا عام آدمی تھانے سے لے کر کچہری تک، غربت سے لے کر جہالت تک کا قیدی اور غلام ہے۔ ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یہ دھوکہ کب تک دیا جا سکے گا؟ آج نہیں تو کل لاکھوں مربع میل پر مشتمل یہ پریشر ککر پھٹ گیا تو کون سے مافیاز، کیسی کارٹیلائزیشن؟ کہاں کے ملی نغمے؟ 73 سال کی باٹم لائن؟ صرف، صرف اور صرف غربت، جہالت اور تہہ در تہہ غلامی لیکن بربادی بھنگڑا پورے زور و شور سے جاری ہے۔ صرف ’’نیب‘‘ برا اور کسی میں کوئی عیب نہیں۔

حسن نثار

بشکریہ روزنامہ جنگ

کرپشن کی دولت کی واپسی

پاکستانی سیاست کو چھومنتر کی سیاست کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ سڑکوں پر جادو کے کمالات دکھانے والے جب ایک خنجر یا چاقو لے کر اسے اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے میں اتار لیتے ہیں تو دیکھنے والوں کی تو چیخیں نکل جاتی ہیں۔ لیکن جب خنجر زدہ انسان اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے سے خنجر باہر نکال لیتا ہے اور مسکراتے ہوئے مجمع کی طرف دیکھتا ہے تو اس نظر بندی کے کھیل سے ہجوم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح جب وہ ٹوپی میں جیتا جاگتا زندہ خرگوش رکھ کر چھو منتر کے ساتھ اسے غائب کر کے خالی ٹوپی ہجوم کے سامنے جھٹک دیتا ہے تو حاضرین کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں یہی جادو کا کھیل سیاستدان اس مہارت کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ اہل نظر اس نظر بندی سے حیرت زدہ رہتے ہیں۔ عمران خان نے جب اقتدار سنبھالا تو جس بات پر زیادہ زور دیا جاتا رہا وہ تھی اربوں روپوں کی کرپشن۔ خان صاحب فرما رہے تھے کہ کرپشن کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی اور یہ منادی بھی کی جا رہی تھی کہ یہ لوٹی ہوئی دولت عوام کی ہے۔ بے چارے عوام خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ چلو دیر ہی سے صحیح نسلوں سے کھوئی ہوئی چیز واپس تو مل رہی ہے۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ کہ اگر خدانخواستہ کرپشن کی دولت واپس ملتی ہے تو عوام تک اس کا پہنچنا محال است و جنوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ بس اتنا ہو سکتا ہے کہ ایک تجوری سے دوسری تجوری میں شفٹ ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمارے جادوگر سیاستدانوں نے ایسا جادو کیا کہ اربوں روپے اڑن چھو ہو گئے اور بے چارہ عمران خان پہاڑے پڑھتا رہ گیا۔

بڑے بڑے جادوگر بھی وہ کمال نہیں دکھا سکتے جو ہمارے سیاستدانوں نے دکھایا ہے، اربوں روپے ۔۔۔۔ جی ہاں عوام کے اربوں روپے دیکھتے دیکھتے غائب ہو گئے۔ ہمارے ملک میں بڑی بڑی تحقیقاتی ایجنسیاں ہیں سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہی ہیں کہ لاکھ نہ دو لاکھ، اربوں روپوں کی یہ رقم کہاں گئی، کیسے گئی؟
کہا جاتا ہے کہ ہمارے سیاستدان “204” میں اتنے چالاک ہیں کہ اربوں کی رقم چھوڑیے وہ ہمالیہ پہاڑ کو اس کی جگہ سے غائب کر سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نیک کام عشروں سے ہو رہا تھا اور سب کو پتا تھا کہ غبن ہو رہا ہے لیکن کسی کو پرواہ نہ تھی، سیاستدان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹ رہے تھے اور متعلقہ ادارے غالباً گہری نیند میں تھے۔ ہمارے تحقیقاتی اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چوری کا مال خواہ وہ زمین کے اندر ہو یا خلا میں ہمارے تحقیقاتی ادارے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام چوری سے شروع ہوتا ہے چوری پر ختم ہوتا ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی اسی نظام کا حصہ ہیں اور چوری اور سینہ زوری میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہر ہمارے سیاستدانوں کی شاگردی پر ناز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوٹے گئے اربوں روپے غریب عوام کی محنت کی کمائی تھے، رات دن پسینہ بہاکر جو دولت عوام پیدا کرتے ہیں، اسے یہ کرپٹ آنکھوں سے سرمے کی طرح نکال لے جاتے ہیں۔ کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کا لازمہ ہے جب تک سرمایہ دارانہ نظام باقی ہے کرپشن باقی ہے ۔ کرپشن صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے اور عوام اس وبا سے اس قدر بے زار اور متنفر ہیں کہ دنیا کے کئی ملکوں میں کرپشن کے خلاف پرتشدد مظاہرے اور ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ میاں نواز شریف اینڈ فیملی آصف علی زرداری اور ساتھیوں نے اربوں روپوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا ارتکاب کیا ہے اور اس حوالے سے نشان دہی بھی کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ہم لوٹی ہوئی بھاری رقوم سے ایک ایک پائی نکالیں گے۔ عمران خان کے یہ دعوے کہاں گئے؟ بلاشبہ یہ حکومت کی ناکامی ہے جس کی عمران خان کو جوابدہی کرنا چاہیے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں بڑی بڑی کرپشن کی ہائٹ کا فول پروف انتظام ہوتا ہے اور ایسے ایسے طریقوں سے اربوں کی دولت کو چھپایا جاتا ہے کہ اس دولت کو نکالنے میں بڑے بڑے شرلاک ہومز ناکام رہتے ہیں۔

اس حوالے سے تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ لوٹے گئے اربوں روپے عوام کی کمائی تھے اگر یہ بھاری رقوم عوام کی بھلائی اور ترقی میں استعمال کی جائے تو 90 فیصد عوام اس شرمناک غربت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں جس میں وہ 72 سال سے پھنسے ہوئے ہیں یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے کہ اشرافیہ عوام کی محنت کی کمائی کے اربوں روپوں پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ حکومت سر پیر کا زور لگا رہی ہے کہ لوٹی ہوئی اربوں روپوں کی بھاری رقوم کسی طرح برآمد کر لے لیکن اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اشرافیہ کا کوئی فرد واحد اس کرپشن کا اکیلا مرتکب نہیں ہے بلکہ اس سب مل کر کرپشن کرتے ہیں جب سیاں کوتوال ہو تو ڈر کاہے کا ہوتا ہے۔

ظہیر اختر بیدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو

یہ بات ہمیں گھر سے درس گاہ تک متواتر ازبر کرائی جاتی ہے کہ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت پہلو۔ ہمیں منفی سے زیادہ مثبت پہلو کو دیکھنا اور اجاگر کرنا چاہیے۔ جیسے گلاس پانی سے آدھا بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے تو ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ گلاس آدھا خالی ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ اس طرح سوچنے سے انسان میں مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور مایوسی قریب نہیں پھٹکتی۔ مثلاً ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں سے آدھا وقت ملک پر براہِ راست عسکری حکمرانی رہی بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان میں آدھا وقت سویلین بھی تو حکمران رہے اور آج بھی کم و بیش سویلین حکمرانی ہے۔

ہمیں یہ نہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملک سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو آدھا رہ گیا بلکہ نئی نسل کو یہ بتانا چاہیے کہ ملک کا جو آدھا حصہ بچ گیا وہ پورا ہونے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ کیا ہوا کہ چند سو یا چند ہزار لوگ غائب ہیں۔ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ بائیس کروڑ میں سے اکیس کروڑ ننانوے لاکھ پچھتر ہزار تو اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس پر ہی کیوں نگاہ جاتی ہے کہ سکولوں میں آدھے بچے داخل نہیں ہیں۔ اس پر کیوں شکر ادا نہیں کرتے کہ پچاس فیصد بچے پڑھ تو رہے ہیں۔ یقیناً ہمارے ہاں صحت اور صاف پانی کی سہولتوں تک عام آدمی کی اتنی رسائی نہیں جتنی ہونی چاہیے مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ ہم اس معاملے میں بہت سے افریقی ممالک سے کتنے بہتر ہیں۔

جب بھی آپ کو لگے کہ پاکستان میں صحافت پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہے اور سانس لینا مشکل ہے تو پھر چین، ایران، خلیجی ممالک، ترکی اور انڈیا کا تصور کر لیں۔ آپ کو فوراً لگنے لگے گا کہ ہمارے ہاں صحافت آج بھی کتنی آزاد ہے۔ شکر ہے کہ سوائے دو تین ٹی وی چینلز اور مٹھی بھر صحافیوں کے سب ہی کو گلاس آدھا بھرا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بال کی کھال نکالنے والے کچھ صحافی دوست میڈیا پر پابندی کی تازہ ترین مثال یہ پیش کرتے ہیں کہ حساس اداروں اور عدلیہ پر تنقید کی حوصلہ شکنی اور ازقسم مریم نواز اور آصف زرداری کے انٹرویوز کے نشر کرنے پر پابندی تو کھینچ تان کے سمجھ میں آ سکتی ہے مگر اب تو آپ پاکستان کی سب سے بڑی تعمیری شخصیت ملک ریاض کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی حساس یا غیر حساس سرکاری عہدہ بھی نہیں۔

کسی نے یہ بھی بتایا کہ تین روز پہلے ہی ایک اینکر عاصمہ شیرازی کے ٹاک شو میں مدعو ایک سابق گورنر نے ملک ریاض کہنا چاہا تو تکنیکی خرابی کے سبب ملک کی میم کے بعد آواز غائب ہو گئی اور ایسا ایک بار نہیں بار بار ہوا۔ ایسے بودے اعتراضات وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں اثاثوں اور سٹرٹیجک اثاثوں میں بنیادی فرق نہیں معلوم۔ جس شخص کو عدلیہ، احتسابی حکومت، نیب، سرکردہ قومی سیاسی جماعتوں اور ننانوے فیصد میڈیا مالکان کی جانب سے کلین چٹ ملی ہوئی ہے کم از کم اس کا پیچھا تو چھوڑ دیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر ملک ریاض صاحب کے اثاثوں کی منی ٹریل ثابت نہ ہوتی، اگر وہ ملک کو معاشی نقصان پہنچا رہے ہوتے، اگر انہیں بیرونی قوتوں کا آشیر واد ہوتا اور اگر وہ قانون کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے کاروبار کر رہے ہوتے تو کیا عمران خان خاموش رہتے؟ کچھ تو عقل کو ہاتھ ماریں۔

حسن حاضر ہے محبت کی سزا پانے کو
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

خاموشی کو شاید ہی پہلے اتنا زیادہ شور مچاتے دیکھا ہے۔ ایک ایسی حکومت جس نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پورے زور و شور سے یہ وعدے کیے تھے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی، اس کی ایک ایسے وقت میں خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، جب لندن میں اتنی بڑی مچھلی پکڑی جا چکی ہو، اور ضبط شدہ رقم کو ’ریاستِ پاکستان‘ کے حوالے کرنے سے متعلق برطانوی حکام نے وعدہ بھی کر لیا ہو۔ اس پورے معاملے سے متعلق زیادہ حقائق ابھی منظرِ عام پر نہیں آسکے ہیں لیکن ہم یہ سب ضرور جانتے ہیں کہ رواں سال اگست میں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ اسے ’ایسے 8 بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں جن میں 10 کروڑ پاؤنڈز سے زائد رقم جمع ہے، شک ہے کہ یہ رقم سمندر پار ملکوں میں رشوت اور کرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی ہے‘۔

اگرچہ پریس ریلیز میں کسی کا بھی نام درج نہیں ہے مگر اس میں اتنا ضرور لکھا تھا کہ ’احکامات کے مطابق این سی اے ان رقوم کے حوالے سے مزید تحقیقات کرنے کی مجاز ہو گی۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں بدعنوانیوں سے حاصل شدہ رقم یہاں جمع کروائی گئی ہے یا پھر بدعنوانیوں میں استعمال کے ارادے سے محفوظ کی گئی ہے تو این سی اے ان پیسوں کو ری کور کرنے کی کوشش کرے گی‘۔ اس پریس ریلیز میں کسی بشر کا ذکر ایک سطر میں پڑھنے کو ملتا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’دسمبر 2018ء میں ہونے والی ایک سماعت کے بعد ایک متعلقہ شخص کی تقریباً 2 کروڑ پاؤنڈز کی رقم منجمد کی گئی ہے‘۔ اس کے محض چند دن پہلے ہی ہمیں یہ سننے کو ملا کہ ’وہ متعلقہ شخص‘ درحقیقت ملک ریاض اور ان کے اہل خانہ ہیں۔

این سی اے کی پریس ریلیز میں یہ بتایا گیا ہے کہ این سی اے کی جانب سے ’ملک ریاض حسین کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں‘ تصفیہ ہوا اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا کہ پہلے سے منجمد 9 اکاؤنٹس کے علاوہ لندن کے علاقے ہائیڈ پارک ون میں واقع فلیٹ کو بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔ حکام نے اس فلیٹ کی قیمت 5 کروڑ پاؤنڈ بتائی۔ جیسے ہی یہ خبر منظرِ عام پر آئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے داد و تعریف کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ ہمارے رہنما کے وعدے کی تکمیل کا آغاز ہوا چاہتا ہے تاہم حکومتی حلقے میں ایک عجیب سی بے اطمینانی محسوس کی گئی۔ حکومت کے وہ نمائندگان جو بے باکی کے ساتھ ٹی وی پر آکر اپنی کامیابیوں کے راگ الاپنے کا حد سے زیادہ شوق رکھتے ہیں، نہ جانے کیوں اتنے شرمیلے ہو گئے ہیں۔ کئی اینکروں نے بھی اپنے شوز میں اس موضوع کو زیادہ چھیڑنا پسند نہیں کیا۔ لیکن ہاں، میں نے ایسی شخصیات بھی ضرور دیکھیں جو اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتی تھیں۔

انہی شخصیات میں سے ایک کے شو میں حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان بطورِ مہمان شریک تھیں۔ اینکر نے جب ان سے پوچھا کہ حکومت اس معاملے پر اتنی خاموش کیوں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وزیرِاعظم کے اپنے ایسیٹ ری کوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ شہزاد اکبر، پریس کانفرنس کریں گے اور اس معاملے کے حوالے سے تمام تفصیلات سے بھی آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ وہ بتائیں گے کہ اس میں حکومت کا کردار کیا تھا اور یہ کہ ’ہماری وہ کون سی مجبوریاں ہیں جو اس معاملے سے جڑی ہوئی ہیں‘۔ شیخ رشید ویسے تو وفاقی وزیرِ ریلوے ہیں لیکن انہیں کل وقتی ٹی وی پرسن کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہو گا۔ انہوں نے ایک ٹی وی شو میں اینکر کو بتایا کہ ’کابینہ کے اجلاس میں ہمیں اس معاملے پر خاموش رہنے کے لیے کہا گیا ہے‘۔

تاوقتِ تحریر شہزاد اکبر نے نہ پریس کانفرنس کی ہے اور نہ ہی کسی ٹی وی شو پر آکر کسی کو بھی کچھ بتایا ہے۔ وہ اسلام آباد میں ایک مرتبہ منظرِ عام آئے ضرور تھے لیکن انہوں نے این سی اے کے معاملے پر بہت ہی سطحی بات کی اور آگے بڑھ گئے۔ ہمارے پاس صرف اور صرف ایک عجیب و غریب انداز میں لکھی جانے والی ایک پریس ریلیز ہے جسے اسی دن ٹوئیٹر پر جاری کیا گیا جس دن این سی اے نے انکشافات کیے تھے۔ شہزاد اکبر کی پریس ریلیز پھیکی اس لیے ہے کہ حقائق کو اگر مدِنظر رکھا جائے تو اس میں 2 باتیں بہت ہی غیر ضروری معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ جائیداد کو یہ کہہ کر شریف خاندان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’اس سے پہلے یہ سابق وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کی ملکیت تھی‘۔ جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ اس پریس ریلیز کے ذریعے ملک ریاض کو یہ کہہ کر معاملے سے بَری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’تصفیہ ایک سول معاملہ ہے اور اس میں جرم تسلیم کرنے کا پہلو نہیں نکلتا‘۔

ان دونوں بیانات کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی تھی۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں کو کہتے پایا گیا کہ پاناما کہانی کی خبر منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے پہلے مارچ 2016ء میں پرانے مالکان نے پکڑے جانے کے ڈر سے بلاتاخیر اس جائیداد کو فروخت کر دیا تھا۔ حالانکہ پاناما کیس کا اس جائیداد سے نہیں بلکہ ایون فیلڈ فلیٹ سے تعلق ہے جو ہائیڈ پارک ون سے کافی زیادہ دُور واقع ہے۔ یہ سچ ہے کہ جے آئی ٹی ٹیم کی پوچھ گچھ اور عدالتی کارروائیوں کے دوران اس پر بھی بات ہوئی تھی لیکن یہ جائیداد کبھی بھی اس کیس کا متنازع پہلو نہیں بنی، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کی منی ٹریل اور خرید و فروخت کی تمام تر تفصیلات پیش کی گئی تھیں۔ عدالتی حکم نامے میں بھی اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔

وہ سطر جس میں ملک ریاض کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اسے ملک ریاض نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر پریس ریلیز جاری ہونے سے 2 گھنٹے پہلے ہی شیئر کر دی تھی، جو کافی عجیب بات ہے۔ ملک ریاض نے عجیب و غریب تحریر والی اس دستاویز کی تصویر شیئر کی تھی جس پر ’نوٹ ٹو ایڈیٹرز‘ کی سرخی پڑھی جاسکتی ہے۔ اس میں شامل چند جملوں کو 2 گھنٹے بعد شہزاد اکبر کی پریس ریلیز میں بھی پایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ شہزاد اکبر کی پریس ریلیز میں ملک ریاض کو بے گناہ ثابت کرنے سے متعلق جملہ 2 بار شامل کیا گیا ہے۔ اب یا تو یہ جلد بازی کا کیا دھرا ہے یا پھر اس نکتے پر زور دینے کی کوشش کی گئی ہے دونوں ہی حالات میں اس تاثر کو تقویت پہنچتی ہے کہ شہزاد اکبر کی پریس ریلیز کی تیاری میں ملک ریاض کا عمل دخل شامل رہا ہے اور تیزی سے منظرِ عام پر آنے والی خبروں کے پیش نظر انہوں نے جلد بازی میں پریس ریلیز کا ابتدائی ڈرافٹ ہی ٹوئیٹ کر دیا۔

شہزاد اکبر کے لیے پریس کانفرنس کرنے کا یہی اچھا وقت رہے گا۔ حالیہ مہینوں میں لندن میں ان کی ملک ریاض کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا آخر معاملہ کیا ہے؟ حکومت کیوں اس پیش رفت کا سہرا اپنے سر سجانے میں اتنی سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے، حالانکہ جج صاحبان کی جائیدادوں پر نظر رکھنے کے عمل کو فوراً اپنا کارنامہ بتا دیتی ہے، جس کا اندازہ یکم جون 2019ء کو جاری ہونے والی اے آر یو کی پریس ریلیز سے لگایا جاسکتا ہے؟ شہزاد اکبر کو ملک ریاض کے اس بیان کی وضاحت کرنی ہو گی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ضبط شدہ رقم سپریم کورٹ کو بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں واجبات کی مد میں دیے جائیں گے۔ خاموشی ہی جُرم کو پنپنے دیتی ہے۔ اکبر صاحب کے لیے اچھا ہو گا کہ وہ حکومتی وعدے کے مطابق جلد ہی پریس کانفرنس بُلائیں۔

خرم حسین

یہ مضمون 5 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

ملک ریاض جہاں کھڑے ہوں قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے

کچھ مڈل کلاسیے اچھل اچھل کر ملک ریاض کو پڑنے والے مبینہ ہرجانے کا جشن منا رہے ہیں، برطانیہ میں ہونے والی ملک ریاض کی سُبکی پہ کچھ ناعاقبت اندیش پھول کے کپا ہوئے جاتے ہیں۔ ذرا سنبھل جاؤ میرے ہم وطنو۔ وہ اتنا دھن والا ہے کہ آپ سمیت آپ کا پورا سسٹم خرید سکتا ہے۔ مڈل کلاسیوں کا تو یہ حال ہے کہ ابا ساری زندگی سرکاری دفتر کی جوتیاں گھستے گھستے اللہ کے پاس جا بسے، پیچھے اپنے نکمے لڑکوں کو بسانے کے لیے جو 120 گز کا پلاٹ چھوڑ گئے تھے، اس پر چھ بھائیوں کے بیچ مقدمے بازی چل رہی ہے، چھ کے چھ کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں جہاں ہر پہلی تاریخ کو مالک مکان کے ہاتھوں عزت کا سیخ کباب بنواتے ہیں۔ کم بختو سے اس پلاٹ پر چار دیواری تک نہ اٹھائی گئی، مگر سلام ہے اس خود اعتمادی پہ جب چھ کے چھ بھائی مل کر ملک ریاض کو اجتماعی لعن طعن کرتے ہیں کہ ’ملک ریاض سارا ملک کھا گیا۔

میں سمجھتی تھی کہ پاکستانیوں میں ’پلاٹ‘ خریدنے کا پہلے ضرورت پھر فیشن اور اب لت بنانے کے پیچھے بھی ملک ریاض کا ہاتھ ہے، پھر دھیرے دھیرے اندازہ ہوا کہ جیسے ملک ریاض ایک ہی نگاہ میں بندے کی قیمت کا اندازہ لگا لیتے ہیں ویسے ہی ملک صاحب نے اس قوم کی نبض پہ بھی ہاتھ رکھا۔ ہمارے متوسط طبقے کو پلاٹ کی شکل میں دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری نظر آتی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی چاہے برسوں میں ایک بار وطن آئے مگر اپنی کوٹھی ضرور بناتا ہے۔ جہیز میں بھی دیے گئے پلاٹوں کی بڑی دھوم ہوتی ہے، لڑکے بھی ترکے میں ملنے والے رقبوں پر بہت چوڑے ہوتے ہیں۔ جو زیادہ امیر ہیں وہ شہر سے پرے خالی پلاٹ پر فارم ہاؤس بنا کر نجانے کون سے جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔ آپ خود اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں سمجھ آجائے گا کہ یہ ’پلاٹ‘ موئی کس آفت کا نام ہے۔

راولپنڈی لوئی بھیر کے اطراف میں جنگلات تھے، ان جنگلوں میں بھی ملک صاحب نے راستے نکال لیے۔ پہلے ایسا صرف جنید جمشید کے گانے میں ہوتا تھا۔ کراچی کی جو زمین بنجر تھی سندھ حکومت نے ویسے بھی وہاں تیسرا ٹاؤن ٹائپ کا کوئی فلاپ پراجیکٹ ہی بنانا تھا، سو وہاں ملک ریاض نے حسرتوں کا تاج محل کھڑا کر دیا۔ پرانے لہور والے یونہی اپنی تاریخی عمارتوں پر اتراتے تھے، ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن لاہور بنا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔ ملک صاحب پہ دھوکہ دہی، قتل، رشوت، جنگلات پہ قبضے، حکومتی اراضی پر قبضے کے درجنوں مقدمات بنے مگر وہ ماشاء اللہ سے ہر بار سرخرو ہوئے، کہیں مصالحت کے نتیجے میں کہیں سپریم کورٹ کو پیسے دے کر۔

ملک صاحب واحد بندہ ہے جو کھل کر بتاتا ہے کہ فائلوں کو پہیے کیسے لگائے جاتے ہیں، ذرا فلمی ہو جائے گا مگر تحریر کے اس نازک موڑ پر یہ ڈائیلاگ مارنا ضروری ہے کہ ’ابھی تک وہ قانون ہی نہیں بنا جو ملک ریاض پر گرفت کر سکے‘ یا پھر ’ملک ریاض جہاں کھڑے ہو جائیں قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
کیس میڈیا پر اچھلے تو ملک صاحب اپنا اخبار نکال لیتے ہیں، صحافیوں کی زبانیں زیادہ چلنے لگیں تو اپنے آڑی اینکرز کو شو کرا دیتے ہیں۔ کوئی میڈیا گروپ آنکھیں دکھائے تو بحریہ ٹاؤن کے یہ لمبے لمبے اشتہار کروڑوں میں دے دیتے ہیں۔ کیس سپریم کورٹ آئے تو سپریم کورٹ بار کے صدر کو ہی اپنا وکیل کر لیتے ہیں۔ ایک فوجی نے اپنے حلف میں سوہنی دھرتی کی حفاظت کی قسم اٹھائی ہوتی ہے، تو ملک صاحب اسی اٹھائی گئی قسم کی ایکسٹینشن کرتے ہوئے ریٹائرڈ افسران کو اپنے ہاں ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے رکھ لیتے ہیں۔

وللہ ایسی دور اندیشی ایسی منصوبہ بندی! سوائے ڈی ایچ اے کوئی مقابل نہیں دور تک۔ محسوس ہوتا ہے کہ پاک بحریہ بھی تذبذب کا شکار ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں خواہ مخواہ لگے اپنے نام پہ فخر کرے یا اس سے اظہار لاتعلقی فرما دے۔ ملک ریاض کی محفل میں کون ہے جو غزل سرا نہ ہوا۔ ملک صاحب زرداری کے عزیز دوست ہیں تو شریف خاندان کے بھی پکے ساتھی، چوہدری برادران بھی ملک ریاض کے قریبی سمجھے جاتے ہیں تو تحریک انصاف والے بھی ان کے پیارے ہیں۔ اور تو اور یہ ملک ریاض ہی کا دل گردہ تھا جو حیدرآباد میں الطاف بھائی کے نام سے یونیورسٹی بنانے کا نادر خیال پیش کیا بلکہ فیتہ تک کاٹ دیا۔ کوئی اور ایسا خطروں کا کھلاڑی ہے تو بتائیں۔

ملک ریاض کو بولی لگانی آتی ہے، چیز چاہے نیلامی کے لیے پیش کی گئی ہو یا نہیں، چیز چاہے خریدنے کے قابل بھی ہو یا نہیں، کوئی خود کو بازار میں برائے فروخت لایا یا نہیں، یا پھر کسی نے خود کو انمول سمجھ کر کوئی قیمت ہی نہ لگائی ہو۔ ملک ریاض وہ خریدار ہے جو قیمت خود طے کرتا ہے۔ وہ ایک ہی ملاقات، چھوٹی سی بات یا ڈھکی چھپی مناجات سے سمجھ جاتا ہے کہ کس کو کتنے دام میں خریدا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک ریاض کے پاس کامیابی کی کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟ اس کا جواب بھی سوال میں چھپا ہے یعنی پہلے ’مال‘ پھر ’کامیابی۔‘ روئٹرز کو دیے ایک انٹرویو میں ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ’اگر میں یہ بتا دوں کہ میں نے سب سے بڑی رشوت کتنے پیسوں کی دی تو آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے گا۔‘ ملک ریاض ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں۔ وہ سیاست، فوج، میڈیا، بیوروکریسی سے لے کر عدلیہ تک سب کا چہرہ ہمیں بار بار دکھاتے ہیں۔ میرے خیال میں تو ملک ریاض کو اس ملک کی ’کرپشن مٹاؤ مہم‘ کا سربراہ بنا دیا جائے، سارے چور اندر ہوں گے۔ ملک صاحب نے تو ویسے بھی باہر ہی رہنا ہے۔

عفت حسن رضوی

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

بینک، اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا ٹیکس حکام کو دینے پر آمادہ ہو گئے

اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا ٹیکس حکام کو دینے پر بنک آمادہ ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایف بی آر اور بنکوں میں معاہدہ ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ چیئرمین ایف بی آر اور کمرشل بینکوں کے چیف ایگزیکٹیوز کے درمیان کراچی میں ہونے والے اجلاس میں ہوا۔ معاہدے کے تحت ان اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی جو یومیہ 50 ہزار یا ماہانہ 10 لاکھ روپے نکلواتے یا 1 کروڑ جمع کراتے یا ماہانہ ڈھائی لاکھ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی یا 5 لاکھ روپے سے زائد سالانہ پر نفع حاصل کر رہے ہیں۔ بینکوں نے  ٹیکس حکام کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ٹیکس حکام کو اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات دینے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ مشتبہ غیر دستاویزی رقوم کو چیک کیا جا سکے۔

 ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ہائی کورٹ سے اپنی پٹیشن واپس لینے اور اکاؤنٹس ہولڈرز کی تفصیلات فراہم کرنے پر اتفاق انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 165 اے کے تحت کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بینکس اپنی پٹیشنز واپس لے لیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ دفعہ 165 اے میں 2014 ، 2018 اور حالیہ ضمنی فنانس ترمیمی ایکٹ، 2019 میں پی بی اے کی سفارش پر ترمیم کی گئی ہے۔ لہٰذا پی بی اے اور اس کے ارکان کو اس کے عمل درآمد پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

قانون کے مطابق، بینک ان اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہیں جو یومیہ 50 ہزار روپے نقد نکالتے ہیں یا دس لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ نکلواتے ہیں یا ایک کروڑ روپے ماہانہ جمع کراتے ہیں یا ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کریڈٹ کارڈ ادائیگی کرتے ہیں۔ یا وہ افراد جو سالانہ پانچ لاکھ روپے سے زائد پر نفع حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت نے اہم قوانین میں بھی یہ انتظام کیا ہے کہ بینک ڈپوزٹس تک رسائی ہو تاکہ فنانشل ٹرانزیکشنز کی شناخت ہو سکے۔ وزیراعظم نے بھی گزشتہ ماہ اجلاس میں وزارت قانون و انصاف اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی تھی کہ وہ بینکنگ قوانین میں ضروری ترامیم کی تجویز دیں تاکہ فنانشل ٹرانزیکشنز کے اسی وقت کے اعداد وشمار کا اشتراک ایف بی آر سے ہو سکے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ایف اے ٹی ایف : پاکستان کے لیے بلیک لسٹ کا خطرہ نہ ٹلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو تنبیہ جاری کی ہے کہ فروری تک مزید اقدامات نہ کرنے کی صورت میں ملک کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے؟ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرنے والے سابق سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گو پاکستان کو چند مزید اقدامات کی ضرورت ہے مگر ایف اے ٹی ایف کے عدم اطمینان کی سیاسی اور سفارتی وجوہات بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کو امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے اور سفارتی میدان میں زیادہ دوست بنانے ہوں گے۔

دہشت گردی سے نمٹنے والے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں ایف اے ٹی ایف اور زیادہ تر بین الاقوامی ریگولیٹری اتھارٹیز میں سیاسی عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ ’جب ہم کچھ اہداف حاصل کر لیتے ہیں تو گول پوسٹ بدل دی جاتی ہے اور پیمانہ تبدیل کر دیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان رابطے کا بحران بھی ہے کیونکہ یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں کسی دور دراز علاقے میں اگر کوئی چندہ اکھٹا کر لیتا ہے تو بعض اوقات حکومت کو اس کا علم نہیں ہو پاتا اور اسے روکنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بات نہ ہم سمجھا پا رہے ہیں نا وہ سمجھنا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کو شکایت تھی کہ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں رابطے کا فقدان ہے۔ ’اس شکایت کو دور کرنے کے لیے میں نے اپنے دور میں ایک ٹاسک فورس بنائی تھی تاکہ سب ادارے مل کر دہشت گردی کے لیے پیسوں کی ترسیل کا راستہ روکیں۔ اس ٹاسک فورس میں ایف آئی اے، آئی بی، وزارت مذہبی امور، صوبائی ادارے، مذہبی ادارے ، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور ایف بی آر سب شامل تھے۔‘ ان کے مطابق ’ہر ماہ ان تمام اداروں کا اجلاس ہوتا تھا اور دہشت گردی کی معاونت کے اقدامات کا تذکرہ ہوتا تھا تاہم اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ ایک دفتر میں ان تمام اداروں کے نمائندے بیٹھا کریں جو کہ پورا نہ ہو سکا اور اب تک یہ اقدام مکمل نہیں ہوا۔

پولیس، استغاثہ اور عدلیہ میں صلاحیت کا فقدان
نیکٹا کے سابق سربراہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں مالیاتی امور کی تفتیش کی مکمل مہارت اور صلاحیت نہ پولیس کے پاس ہے، نہ استغاثہ کے پاس اور نہ ہی عدلیہ کے پاس۔ اس سلسلے میں مہارت میں وقت درکار ہے مگر ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ ہوتا ہے کہ مالیاتی جرائم میں ملوث افراد نہ صرف پکڑے جائیں بلکہ ان پر مضبوط کیس چلائے جائیں اور پھر ان کو سزائیں بھی ملیں۔ سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود جو کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات دیکھتے رہیں ہیں وہ احسان غنی سے متفق نظر آتے ہیں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صلاحیت کی کمی کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ عرصے میں سٹیٹ بینک نے متعدد بینکوں کو تقریبا ایک ارب کے جرمانے اس لیے کیے کہ وہ مشکوک مالی ترسیلات کی صحیح رپورٹنگ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسی طرح پولیس اور حتی کہ نیب کی تربیت بھی نہیں کہ وہ پیچیدہ مالی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایسی تفتیش کر سکیں جو سزاؤں پر منتج ہوں۔

قانون سازی کے لیے سیاسی قیادت کا اتفاق درکار
سابق سیکرٹری خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر مکمل عمل کے لیے کسٹم اتھارٹی، ہاؤسنگ سیکٹر اتھارٹی وغیرہ کی طرز پر کئی ادارے بنانے پڑیں گے جس کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو ملک کے لیے نئے عہدو پیمان کرنا ہوں گے تاکہ مل کر ایسی قانون سازی ہو سکے ورنہ اکیلی حکومت کے لیے یہ کام ممکن نہیں ہو گا۔ ان کے بقول ’جہاں جہاں بڑی رقوم کا لین دین ہوتا ہے، چاہے وہ سونے کا کاروبار ہو یا پراپرٹی کا اسے ریگولیٹ کرنا اب ضروری ہو گیا ہے تاکہ منی لانڈرنگ کا شک نہ رہے۔

امریکہ سے تعلقات بہتر کرنا ہوں گے
وقار مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کچھ مشکلات بین الاقوامی سیاست کا بھی نتیجہ ہیں۔ جس انداز میں چین سے تعلق رکھنے والے ایف اے ٹی ایف کے صدر نے باتیں کی ہیں وہ خوشگوار نہیں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں امریکہ سے اتنی پینگیں بڑھائیں مگر اس کا کیا فائدہ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ انڈیا جس انداز سے دنیا میں اثرو رسوخ بنا رہا ہے اس سے پاکستان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید دوست بنانے ہوں گے اور امریکہ سے تعلقات بھی بہتر کرنے ہوں گے۔

بلیک لسٹ کی نوبت شاید نہ آئے
ماہر معیشت اور اسلام آباد کے تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری کا خیال ہے کہ پاکستان نے اپریل 2019 کے بعد بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے مگر ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں جو رپورٹ پیش ہوئی وہ اس مدت سے قبل کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’بلیک لسٹ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس لسٹ میں وہ ممالک ڈالے جاتے ہیں جو بات مانتے ہی نہیں، جیسے شمالی کوریا اور ایران۔ تاہم پاکستان مکمل تعاون کر رہا ہے اور اپنی خامیوں کو تسلیم بھی کر رہا ہے۔ ہاں اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو گئے تو اور بات ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا اور دوسرا یہ کہ معیشت بھی دستاویزی شکل اختیار کر لے گی۔

یاد رہے کہ فرانس کے شہر پیرس میں اپنے اجلاس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف نے کہا تھا کہ پاکستان مقررہ وقت تک اس کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں ادارے کے صدر ژیانگ من لیو نے کہا کہ پاکستان کو جلد اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے اور اگر فروری تک اس نے خاطر خواہ پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف مزید اقدامات پر غور کرے گا جس میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا شامل ہے۔

وسیم عباسی

بشکریہ اردو نیوز، اسلام آباد

ٹیکس ہیون ممالک اصل میں منی لانڈرنگ کا اہم ذریعہ

پچھلے کالم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر میں ایک اہم نکتہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کالم میں دوسرے اہم نکتہ پہ بات کی جائے گی۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان سے پیسہ باہر جارہا ہے۔ وہ ممالک جن میں پاکستان سے پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعہ جارہا ہے اگر ہمارے ساتھ تعاون کریں تو ہمیں پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں آسانی ہو گی۔ گزشتہ روز کی اخباری اطلاعات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے پاکستان سے بھیجے گئے پیسوں کی واپسی کو مشکل یا ناممکن قرار دیا ۔ جبکہ دوسری اخباری خبر کے مطابق ٹیکس ہیون قرار دیئے گئے ممالک کی فہرست سے سوئٹزرلینڈ اور متحدہ عرب امارات کے نکالنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کیونکہ ٹیکس ہیون ممالک اصل میں منی لانڈرنگ کا اہم ذریعہ ہیں۔ “شکر ہے کفرٹوٹا خدا خدا کر کے”۔ کچھ خیال تو آیا کہ ان یورپی ممالک کی بنائی گئی پالیسیوں سے نقصان کس کا ہوتا ہے اور دولت کون بناتا ہے؟ لہٰذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ان ٹیکس ہیون ممالک کی فہرست سے کچھ کو گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کر کے نکالا جارہا ہے۔ جب ان ممالک کو ٹیکس ہیون بنایا جا رہا تھا تب عالمی مالیاتی اداروں کو کیوں خیال نہ آیا کہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر مالی بدعنوانی، منی لانڈرنگ، عالمی دہشت گردی کے فروغ کا اہم ذریعہ بنے گا؟ کیا عالمی اداروں خاص طور پر امریکہ اور یورپی ممالک کے کئے گئے ہر غلط فیصلوں کا نقصان صرف ترقی پذیر ممالک کو ہی کیوں ہوتا ہے؟ 

 ایف اے ٹی ایف یہ تو پوچھتا ہے کہ آپ کے ملک کا پیسہ دہشت گردی کی مالی معاونت میں استعمال ہوا اور کیوں ہوا؟ لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا براہ راست  حصہ دارکون کون سے ملک ہیں؟ یقیناً یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک سے پیسہ باہر جائے اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہو تو اس ملک کو دھمکی ملتی ہے اور گرے اور پھر بلیک لسٹ میں نام ڈالا جاتا ہے مالیاتی نظام کو سخت کرنے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے تمام افراد کو ان ” ترقی یافتہ ممالک” میں فوراً پناہ دے دی جاتی ہے ۔ ان کے لائے گئے مال کو ” مال غنیمت” سمجھ کر حفاظت سے رکھ لیا جاتا ہے۔ 

باوجود حکومتی درخواست کے ان کو پاکستانی حکومت تک براہ راست رسائی نہیں دلوائی جاتی نہ ان کے بنک بیلنس کا حساب دیا جاتا ہے۔ یقیناً اب وقت آچکا ہے کہ ان ممالک اور خاص طور پر ان عالمی اداروں کے خلاف آواز اٹھائی جائے جو اس قسم کے عالمی بلاک کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یقیناً عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں اس موضوع کو چھیڑ کر عالمی اداروں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ تب ہی کئی ممالک کو ان کی تقریر کے بعد سے گرے لسٹ میں ڈالنے اور بہت سوں کو اس بلاک سے باہر یعنی بلیک لسٹ ہی کر دیا گیا ہے۔ آخرکب تک ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کی بدولت یہ یورپین، امریکن اور ٹیکس ہیون ممالک ترقی کرتے رہیں گے؟

سید منہاج الرب

بشکریہ روزنامہ جنگ

الطاف حسین : آغاز سے انجام تک

کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین کو پہلی بار منی لانڈرنگ کے شبہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے دفتر میں سوال و جواب کے لئے طلب کیا گیا تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو باقاعدہ فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ شہری اپنا کاروبار جاری رکھیں۔ یہ اعلان اس لئے کرنا پڑا کہ چوتھائی صدی سے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ عادی ہو چکے تھے کہ ایک کونسلر یا سیکٹر انچارج یا رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی بھی خبر آئے تو موٹر سائیکل سوار لڑکوں کی آمد کا انتظار کئے بغیر دوکانوں کے شٹر گرا کے تالا لگا دیں۔

ایسا بھی ہوا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے عین دوپہر میں ’پرامن یومِ احتجاج‘ کی اپیل کی اور شہر آدھے گھنٹے میں یوں ہو گیا گویا کسی جادوئی ہاتھ نے منجمد کر دیا ہو اور پھر ایک گھنٹے بعد احتجاج کی اپیل واپس لی گئی تو مجسموں میں پھر سے حرکت پیدا ہو گئی اور نل بٹا سناٹا شاہراہوں پر دوبارہ ٹریفک جام ہو گیا۔ لندن سے الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر آنے کے نصف گھنٹے بعد میں نے فلیٹ کی کھڑکی سے جھانکا۔ سب دوکانیں کھلی ہیں۔ مجھے لگا کہ شاید دوکان داروں تک یہ خبر نہیں پہنچی۔ نیچے اتر کر عبداللہ بھائی پان والے سے کہا الطاف بھائی گرفتار ہو گئے۔ پان پر کتھا لگانے اور دوسرے ہاتھ سے چائے سڑکنے میں مصروف عبداللہ بھائی نے کہا ’معلوم ہے۔ چائے منگواؤں؟

ایک ’گاہک‘ بولا عمران کی قسمت اچھی ہے۔ قوم کل زرداری کی گرفتاری پر لگی پڑی تھی آج الطاف بھائی کی خبر میں مست ہے۔ بجٹ کا ڈنڈا کسی کو محسوس نہیں ہو گا۔ ایک اور نے لقمہ دیا ’انگریزوں کو الطاف بھائی کی تین سال پرانی تقریر اب جا کے سمجھ میں آئی ہے۔ گوروں کو بھی پتہ چل گیا کہ اب الطاف بھائی کسی کام کے نہیں اس لئے او ایل ایکس پر بیچ دو۔ دیکھ لینا اگر انہیں پاکستان کے حوالے بھی کر دیا تو سنگل خبر ہی چھپے گی۔‘ اب تو یہ بحث بھی نہیں ہوتی کہ الطاف حسین مولا جٹ ہیں کہ نوری نت۔ کل ہی کی تو بات ہے کہ اہلیانِ کراچی کو رابطہ کمیٹی کے ارکان چھوڑ علاقہ یونٹ اور سیکٹر انچارج کے نام تک ازبر تھے۔

کینٹ سٹیشن پر رکنے والی ہر ٹرین سے پہلی بار کراچی کے پلیٹ فارم پر قدم رکھنے والا ہولو خبطو پردیسی بھی جانتا تھا کہ نائن زیرو کا مطلب کیا ہے۔ پر آج یہ بتانا بھی دشوار ہے کہ مئیر کراچی وسیم اختر ایم کیو ایم بہادر آباد میں شامل ہیں کہ ایم کیو ایم پی آئی بی کالونی میں۔ الطاف حسین جب تقریر کرتے تھے تو ہر ٹی وی چینل ان کا خطاب اعوذ باللہ سے لے کر خدا حافظ تک پورا پورا دکھاتا تھا۔ عزیز آباد کے ٹی گراؤنڈ میں ہزاروں کا سناٹے دار مجمع بھائی کے ٹیلی فونک خطاب میں سنائی دینے والی ایک ایک سانس سے جھول جاتا تھا۔ سب ایمان کی حد تک اس نعرے سے سرشار تھے ’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے۔‘

ٹیلی فونک خطاب کے دوران سٹیج پر بیٹھی قیادت کو صرف دو جملے بولنے کی اجازت و عادت تھی۔ ہر جملے پر جی بھائی جی بھائی کہنا ہے اور جب الطاف بھائی ایک ہزار پانچ سو بیاسیویں بار استعفی کا اعلان کریں تو پوری طاقت لگا کے کہنا ہے ’نہیں بھائی نہیں بھائی۔‘ کیونکہ بھائی ایک ایک کی آواز پہچانتے ہیں۔ الطاف بھائی نے کراچی پر 1988 سے 22 اگست 2016 تک 28 برس شمالی کوریائی انداز کی حکمرانی کی، یکے بعد دیگرے دو نسلیں ان کی مٹھی میں بند رہیں۔ آٹھ برس ایم کیو ایم مشرف حکومت کی دامے درمے ڈارلنگ رہی۔ الطاف حسین چاہتے تو اس بے پناہ اختیار سے کراچی کو جنوبی ایشیا کا مثالیہ بنا سکتے تھے۔ خیر یہ مثالی شہر تو بن گیا مگر کوئی اس مثال کو دہرانا نہیں چاہتا۔

میں نے چند ہفتے قبل فیس بک پر بھائی کے سولو خطاب کی جو وڈیو دیکھی اس پر تب تک صرف 761 لائیکس پڑے ہوئے تھے۔ گویا میری نسل نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اورنگ زیب از خود بہادر شاہ ظفر میں کیسے تبدیل ہوتا ہے۔

وسعت اللہ خان
بشکریہ بی بی سی اردو