فیصل آباد اور گھنٹہ گھر

فیصل آباد جس کو آٹھ راستوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہاں کا گھنٹہ گھر بہت مشہور ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی برصغیر اور پنجاب پر حملہ ہوا تو اس دھرتی کے سپوت سامنے آتے۔ 1903 سے یہاں آبادی شروع ہوئی۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ ڈالتے۔ ابتدائی دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا بعد میں پنجاب کے گورنر کے نام سے ’’لائل پور‘‘ رکھا گیا۔ شہر کا مرکز ایسے مستطیل رقبہ میں واقع ہے جہاں پر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں (اشکال) میں آٹھ سڑکوں میں تقسیم کیا گیا۔ جہاں آٹھ راستے ملتے ہیں وہیں ایک گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا گھنٹہ گھر جانے والی آٹھوں سڑکیں دراصل یہ آٹھ بازار ہیں۔ جھنگ بازار، گوانابازار، امین پور بازار، چنیوٹ بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، منٹگمری بازار، ریل بازار۔

دراصل 1895 میں یہاں پہلی رہائش تعمیر ہوئی، 1897 میں اس شہر کی بنیاد رکھی جس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جیمز براڈ لاسٹل کے نام سے لائل پور رکھا گیا یہی اس شہر کا پہلا نام پڑا۔ لائل پور سے قبل یہاں پکا ماڑی قدیم رہائشی قبیلہ تھا، جس کو آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ اس علاقے کو بعد میں بلدیہ کا درجہ دیا گیا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے کیا اور اسکا سنگ بنیاد 1903 میں لیفٹیننٹ سرجیمز لائل نے ہی رکھا۔ گھنٹہ گھر میں استعمال ہونے والا پتھر قریبی پہاڑی سلسلہ سے لیا گیا۔ گھنٹہ گھر جس جگہ موجود ہے اس کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک کنواں تھا۔ گھنٹہ گھر چالیس ہزار کی مالیت سے دو سال میں مکمل ہوا۔ لندن کی کیپ کمپنی بمبئی میں تھی وہاں سے اس کی بڑی گھڑیاں لائی گئیں۔ بعد ازاں سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے کرائے گئے بہت سے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شہر کا نام ’’فیصل آباد‘‘ رکھا دیا گیا۔

یہ نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ موصوف نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1985 میں فیصل آباد کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔  اس ڈویژن میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع جھنگ اور ضلع فیصل آباد شامل ہوئے۔ اس کی چھ تحصیلیں ہیں جن میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، سمندری، جڑانوالہ اور ٹانٹیاں والا شامل ہے۔ لائل پور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، جناح پارک اور مدینہ ٹاؤن اس شہر کے اہم مقامات ہیں۔ فیصل آباد ان چار اضلاع میں سے ہے جن کا نام پچھلے پچاس سالوں میں تبدیل کیا گیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت یہ ایک زراعتی شہر تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ ترقی کر کے ایک صنعتی شہر بن گیا اور پاکستان کا مانچسٹر کہلانے لگا۔ پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہے آبادی کے لحاظ سے کراچی اور لاہور کے بعد فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

کبھی اسے برصغیر کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، لوگوں نے روزگار کے لیے شہر میں آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع کیا اس وجہ سے یہ ایک بڑا شہر بن گیا۔  پاکستان کا 25 فیصد زر مبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے۔ مسیح قبرستان تقریباً سو سال پرانا ہے اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کتبوں کے ساتھ مرحوم شدگان کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ فیصل آباد کا خصوصی گھنٹہ گھر تاج برطانیہ کے دور میں 1904 میں تعمیر ہوا۔ اس کی گھڑیوں کا وزن ستر کلو ہے ایک ویٹ کا وزن 150 دوسری 125 کلو، پنڈولم تقریباً 200 کلو وزنی ہے۔ گھنٹہ گھر کی کلاک مشین جس کا وزن سیکڑوں کلو بتایا جاتا ہے۔ عمارت کے چو طرفہ ستر، ستر کلو کے چار کلاک نصب ہیں اور یہ چاروں گھڑیاں صرف ایک ہی مشین سے چل رہی ہیں۔ ان گھڑیوں کی صرف ایک سوئی کا وزن تقریباً ڈیڑھ کے جی ہے۔

مشین اور گھڑیوں پر گھڑی ساز کمپنی جو کہ بمبئی میں تھی 1904 کھدا ہوا ہے۔ گھنٹہ گھر سے المعروف آٹھ بازار صاف نظر آتے ہیں۔ 1904 میں فیصل آباد سٹی آباد ہوا اور اس کے گرد آٹھ بازار ڈیزائن کیے گئے۔ کچہری بازار کچہری کی طرف جاتا ہے ضلع کچہری صاف نظر آتا ہے۔ ریل بازار ریلوے اسٹیشن کی طرف، کارخانہ بازار۔ یہاں کارخانہ والا ساز و سامان کی مارکیٹ کی طرف جاتا ہے۔ کارخانہ میں استعمال ہونے والا ساز و سمان اس جگہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ منٹگمری بازار پھر دوسری طرف گوانا بازار منٹگمری کی طرف اور گوانہ بازار، گوانا سٹی کی طرف اسی لیے اسے گوانا بازار کہتے ہیں۔ چنیوٹ بازا ر چنیوٹ کی طرف، آگے جھنگ بازار اس کا رخ جھنگ سٹی کی طرف ہے۔ چونکہ پہلے ساہیوال کا پرانا نام منٹگمری تھا لہٰذا یہ اس جانب جاتا ہے۔

گھنٹہ گھر کو دیکھنے پر برٹش دور کی تاریخ نظر آتی ہے۔ جیساکہ میں نے عرض کیا یہ گھڑیاں بمعہ ساز و سامان لندن بروچکی کمپنی بمبئی کی 1904 سے چلائی  گئیں جن میں چابی لگتی ہے۔ اس کے تین عدد ویٹ ہیں پنڈولم درمیان میں لگا ہوا ہے یہ ہیوی ویٹ وائنڈنگ کرنے کے بعد گھڑیوں کو چلاتے ہیں۔ ایک ویٹ نچلی طرف دو ویٹ اوپر کی جانب ہیں۔ میں نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مشین کو بخوبی دیکھا جو کہ دھانسو قسم کی مشین ہے۔ چونکہ میں رات کے وقت یہاں تھا، میں نے دیکھا منظر شاندار تھا۔ میں نے اپنی گھڑی دیکھی تو رات کے ایک بجا رہی تھی۔ لیکن اس قدر رونق تھی کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ رات ایک بج چکے ہیں۔ میں گھنٹہ گھر میں داخل ہوا یہ میری زندگی کا پہلا مشاہدہ تھا کہ یہ ساری عمارت جوں کی توں موجود ہے۔ میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل تک جا پہنچا جہاں میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہاں سے سارے بازار صاف نظر آرہے تھے۔

میں 19 جون کو گھنٹہ گھرآیا اور اب 20 جون ہو چکی تھی میں نے نوٹ بک دیکھی جس میں ڈائل کے سائز ساڑھے پانچ فٹ درج تھے آخری منزل پر ایک پنڈولم دیکھا جوکہ میرے اندازے کے مطابق دو سو کلو گرام سے زیادہ وزنی معلوم دیتا ہے۔ منٹ والی سوئی پونے تین فٹ، گھنٹہ کو دکھانے والے دو فٹ کی سوئیاں ہیں۔ سارا خود کار نظام موجودہ ورکرز نہایت محنت، مشقت سے کام کر رہے ہیں۔ چاروں گھڑیوں کو پیرل ایک ہی وقت پر گراریوں کے ساتھ چلتی ہیں لیور لگا ہے جو گھنٹہ بجاتا ہے اس میں چابی پھیرنا مشکل کام ہے ساتھ ہی موٹی تاریں لگی ہوئی ہیں۔ تینوں وقت چابیاں دینی ہوتی ہیں گھنٹوں کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر سسٹم ہے۔ ایمپلی فائر لگا ہوا ہے جہاں لاؤڈ اسپیکر نظر آتے ہیں۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا بات ہے سیالکوٹ کی

بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ ملک کے شمال مشرق میں پاک، بھارت کنٹرول لائن پر واقع ہے یہاں کئی بزرگان دین کے مزارات موجود ہیں جنہوں نے اس خطے میں لاکھوں انسانوں کو کلمۂ توحید پڑھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیالکوٹ کی بنیاد 5 ہزار سال پہلے راجہ سالبان نامی حکمران نے رکھی تھی جس کی بناء پر اس کا نام سل کوٹ رکھا گیا تھا ہزاروں سال پرانا تاریخی شہر علامہ اقبالؒ، فیض احمد فیض ”پاکستان کا مطلب کیا‘‘ نعرے کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کی جنم بھومی ہے۔ سیالکوٹ کو ایکسپورٹ سٹی بھی کہا جاتا ہے یہ کراچی، لاہور کے بعد ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا شہر ہے ایک اندازے کیمطابق سیالکوٹ کی سالانہ برآمدات اڑھائی ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں اور سب سے زیادہ ٹیکسز اور ریونیو دینے والے شہروں میں سیالکوٹ تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے یہاں سٹیٹ بینک کی شاخ بھی قائم ہے۔

سیالکوٹ کی انڈسٹری سے نہ صرف قومی معیشت میں قابل قدر اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان صنعتوں سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرانتظام کئی پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئر پورٹ دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کا واحد ایئر پورٹ ہے جہاں سے دنیا بھر کیلئے پروازیں جاری ہیں ۔ جذبۂ خدمت سے سرشار سیالکوٹ کے صنعتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں اور دیگر فلاحی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جن سے سیالکوٹ کے عوام کیساتھ دیگر اضلاع گجرات جہلم، گوجرانوالہ اور نارووال کے عوام بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ دفاع وطن کیلئے بھی سیالکوٹ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب بڑی ٹینکوں کی لڑائی سیالکوٹ میں چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی تھی جب بھارت نے ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران رات کی تاریکی میں سیالکوٹ کی سرحد پر 500 ٹینکوں کیساتھ حملہ کر دیا۔

پاک فوج کے بہادر شیر جوانوں اور غیور عوام نے قوت ایمانی اور بہادری کے ایسے مظاہرے کیے جس کی دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے ہمارے شیر جوانوں نے اپنے جسموں کیساتھ بم باندھے اور بھارتی ٹینکوں کیساتھ ٹکرا گئے اور آن کی آن میں سینکڑوں بھارتی ٹینکوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ سیالکوٹ کی دھرتی پر لڑی جانے والی 17 دنوں کی یہ جنگ بھارت کی کو ہمیشہ یاد رہے گی کہ جس میں ایک نوزائیدہ ملک نے اپنے سے 10 گُنا طاقتور ملک کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔ اس جنگ میں پاک فوج اور عوام کی جرأت وبہادری کے اعتراف میں سیالکوٹ کو ہلالِ استقلال کے اعزاز سے نواز گیا تھا۔

چودھری عبدالقیوم

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان کا قدیم ترین شہر ملتان

ملتان گزرے وقت میں ایک سلطنت کا درجہ رکھتا تھا اس کے وسیع و عریض رقبے کی حدود لاہور کے قرب و جوار تک پھیلی ہوئی تھی۔ ساہیوال، پاک پتن، اوکاڑہ، میاں چنوں، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ اور بھکر اس کے علاقوں میں شامل تھے۔ لیکن بے رحم وقت نے اسے علاقہ در علاقہ تقسیم کر دیا۔ ملتان کے محل وقوع کی بات کی جائے تو اس کے مشرق میں وہاڑی ، جنوب مشرق میں لودھراں ، شمال میں خانیوال ، جنوب میں بھاولپور اور مغرب میں دریائے چناب کے پار مظفر گڑھ واقع ہے۔ ملتان ایک ہزار بیس کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی انیس لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو چالیس نفوس پر مشتمل ہے۔ ملتان کی زمین اپنی زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں میں مثال ہے اس کی اہم فصلوں میں گنا ، چاول، کپاس اور گندم شامل ہیں۔ آموں کو بڑے بڑے اور نایاب اقسام کے باغات موجود ہیں۔ یہاں کے آم نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں مشہور ہیں۔ ملتان میں سرائیکی، اردو اور پنجابی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

یہاں کافی تعداد میں اولیا، صوفیا کرام و بزرگان دین کے مزارات ہیں، مشہور مزارات میں حضرت شاہ شمس تبریزؒ، حضرت بہاالحسنؒ، حضرت بہاالدین زکریاؓؒ ملتانی، حضرت شاہ رکن عالم ؒ، حضرت موسیٰ پاک شہید اور حضرت حافظ محمد جمالؒ ؒ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے اولیا، صوفیا اور بزرگان دین کے مزارات یہاں موجود ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں دریاؤں کی وادی میں پیدا ہوئیں اور وہیں پروان چڑھیں ، نہر دجلہ ، فرات اور سندھ تہذیبیں دریاؤں کی تہذیبیں ہیں۔ دریائے سندھ کی وسیع و عریض آبادی کے علاقوں میں شہر اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔  ملتان قدیم تاریخی شہروں میں سے ایک شہر ہے جن کا ذکر اندر پرست کے دور میں ہوتا ہے۔ قدیم ہندو گھرانوں میں اس کا ذکر ’’مالی تھان‘‘ کے نام سے موجود ہے۔
تاریخ کی کتب میں یہ بھی ہے کہ ایک قوم جس کا نام ’’مالی تھان‘‘ یہاں آکر آباد ہوئی اور سنسکرت میں آباد ہونے کو ’’ستھان‘‘ کہتے ہیں۔ شروع میں اس کا نام مالی استھان پڑ گیا بعد میں بدل کر مالی تھان بن گیا، وقت کے ساتھ ساتھ مالی تھان پھر مولتان اور اب یہ ملتان بن گیا۔ بہت سے قدیمی شہر آباد ہوئے یہاں حالات زمانہ کا شکار ہوکر مٹ گئے، لیکن شہر ملتان پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔

ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے والے سیکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہوگئے۔ آج ان کا نام لیوا بھی نہیں۔ لیکن ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے۔ ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے یہ دریائے چناب کے کنارے آباد ہے آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ ضلع ملتان، تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔ تحصیلوں میں تحصیل صدر، تحصیل شجاع آباد، تحصیل جلال پور پیراں والا شامل ہے۔ اس کی ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے بھی قدیم ہو۔ اس امر پر مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے۔ قابل افسوس بات ہے کہ حملہ آوروں نے قلعہ ملتان کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار آتش زدگی ہوتی رہی۔ 1200 قبل مسیح میں دارا نے اسے تباہ کیا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر نے اس پر چڑھائی کی۔ بعد ازاں عرب ، افغان ، سکھ اور فرنگی حملہ آوروں نے قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

تاریخ کے اوراق میں ملتان قبل از مسیح سے ہی حربی اور ثقافتی فنون کا حصہ اور مرکز رہا ہے۔ چونکہ جنگی آلات ہر زمانے میں طاقت کے اظہار کا بہترین ذریعہ رہے ہیں لہٰذا وہ تمام افراد جو جنگی آلات بنانے کے فن سے جڑے ہوتے تو ان کا معاشرے میں ایک خاص مقام ہوتا تھا۔ خطہ ملتان میں حربی فنون کی مہارت اور تیر کمان سازی کا سب سے قدیم حوالہ 323 قبل از مسیح میں ملتا ہے ایک حوالے کے مطابق سکندر یونانیوں کو لگنے والا تیر ملتان کا تیار کردہ تھا۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ’’آئین اکبری‘‘ میں ملتان کی حدود کچھ اس طرح بیان کی ہیں۔ صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے قبل یہ صوبہ فیروز پور سے فیوستان تک چوڑائی میں کف پور سے جیسلمیر تک، ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ مکران تک وسیع ہو گیا۔ مشرق میں اس کی سرحدیں سرہند سرکار سے، شمال میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبہ اور مغرب میں کیچ (تربت) مکران سے ملتی ہیں۔ کیچ مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھا۔ ملتان کے صوبہ میں تین سرکاریں ملتان خاص ، دیال پور اور بھکر تھیں۔

ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے۔ 792 کو محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا اور اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ 997 کو محمود غزنوی نے ہندوستان کو فتح کرنے کے ساتھ ملتان کو بھی فتح کیا۔ 1175 میں سلطان شہاب الدین محمد غوری نے خسرو ملک کو شکست دے کر ملتان پر قبضہ کر لیا۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے بعد بے شمار خاندانوں نے اسے پایہ تخت بنائے رکھا۔ جن میں خاندان غلامان، خاندان خلجی، غیاث الدین تغلق، خاندان سادات، خاندان لودھی، پھر مغلیہ سلاطین کے حکمرانوں تک ملتان مسلم سلطنت کا حصہ رہا۔ رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کیا ایک زوردار جنگ ہوئی تاریخ میں اسے جنگ ملتان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ مارچ 1818 میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 کو ختم ہو گئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے قلعہ ملتان پر 2 جون 1818 میں قبضہ کر لیا۔ 1857 تک رنجیت سنگھ کے بیٹوں کی حکمرانی رہی۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد فرنگیوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور 1947 تک برٹش امپائر کے زیر اثر رہا۔ آزادی کے بعد ملتان پاکستان کا حصہ بن گیا۔

تاریخ میں قلعہ ملتان کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ قلعہ اندر دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ طرز تعمیر میں بھی یگانگت رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس قلعے کی دیواریں تقریباً چالیس سے ستر فٹ اونچی اور دو میل کے علاقے کا گھیراؤ کرتی تھیں۔ اس کی دیواریں برج دار تھیں اس کے ہر داخلی دروازے کے پہلو میں حفاظتی مینار تعمیر کیے گئے تھے۔ 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج کے حملے میں اندرونی چھوٹے قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ جوکہ ’’کاتوچوں‘‘ یعنی راجپوتوں کی حکمرانی کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ جنگ کے لیے مورچہ نما چھوٹا قلعہ کہلایا جس کے پہلو میں تیس حفاظتی مینار ایک مسجد ایک مندر اور خواتین کے محلات تعمیر کیے گئے تھے۔ ملتانی قلعہ کے باہر خندق بھی بنائی گئی تھی۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

چنیوٹ…. اک شہرِ بے مثال

سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کی رومان پرور موجوں کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ واقع ہے۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے کیا؟ اس حوالے سے مختلف آرأ پائی جاتی ہیں۔ تاہم، تاریخی روایت کے مطابق 712ء میں بنو امیّہ کی تسخیر سے پنجاب کے بہت سے علاقوں کے ساتھ چنیوٹ، جھنگ اور شورکوٹ بھی مسلمانوں کی عمل داری میں شامل ہو گئے۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم، حکومتی عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا، جس نے چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار تعمیر کروایا۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔

کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔ جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔ یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔ چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔

یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سائیں سُکھ اپنے دَور کی روحانی شخصیت تھے۔ کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ ایک بار دریائے چناب کے کنارے اپنے لائو لشکر سمیت جارہا تھا۔ اس نے دُور سے ایک بارات کو دریا پار جاتے دیکھا، تو قافلہ روک لیا، تاکہ کارروان شاہی، بارات کی روانگی میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔ اس پر ایک درویش نے کہا۔ ’’بادشاہ عادل، اہل کار دین دار، خلقِ خدا خوش حال۔‘‘ افسوس، اب نہ وہ بادشاہ رہا نہ درویش، لیکن سوکھتے ہوئے دریائے چناب کے کنارے یہ شہرِ بے مثال اسی آب و تاب سے جیے چلا جارہا ہے۔

مصباح طیّب
بشکریہ روزنامہ جنگ

وھاڑی : معمولی بستی سے بڑے شہر تک

پنجاب کا ایک شہر اور ضلع وہاڑی، ملتان سے 100 کلومیٹر جبکہ بوریوالہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ضلع دو دریائوں ستلج اور سکھ بیاس کے درمیان ہے۔ اس ضلع کا علاقہ دریائے ستلج کے بائیں اور سکھ بیاس کے دائیں کنارے کے درمیان ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ نیلی بار کہلاتا تھا۔ اس ضلع کی حدود جنوب کی طرف ضلع بہاولپور اور بہاولنگر سے ملتی ہیں۔ دریائے ستلج ان دونوں اضلاع کی حد بندی کا کام دیتا ہے۔ مشرقی طرف ضلع ساہیوال، شمال میں ضلع خانیوال اور شمال مغرب کی طرف ضلع ملتان واقع ہے۔ اس ضلع کی شرقاً غرباً لمبائی 80 میل اور شمالاً جنوباً چوڑائی 40 میل بنتی ہے۔ اس کا کل رقبہ 1854 مربع میل ہے۔ 

ماضی قدیم میں ہزاروں سال قبل اس علاقے میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں پھیلی ہوئی تھیں اور یہ علاقہ تاریخی ریاست ملوہہ کا حصہ تھا۔ اس زمانے میں دریائے بیاس اپنی پوری روانی کے ساتھ موجود تھا۔ صدیوں پہلے وسطی پنجاب یعنی ہڑپہ اور ملتان کے علاقے میں دریائے بیاس سوکھ گیا۔ اس آبی گزرگاہ کو آج کل مقامی زبان میں سکھ ویاہ (خشک بیاس) کہتے ہیں۔ 1985ء سے اس میں تھوڑا تھوڑا پانی رواں رہتا ہے۔ دریائے بیاس کے خشک ہوجانے کے بعد ان کے کنارے بسی بسائی آبادیوں پر موت نے اپنے سائے پھیلا دئیے۔ مختصر مختصر سی بستیاں، بڑے بڑے قصبے اور گائوں کھنڈروں میں بدل گئے اور وہ بلند ٹیلوں کی صورت میں باقی رہ گئے۔

نہروں کے نکلنے کے بعد لوگوں نے ہزاروں برس پرانی بستیوں کے آثار کے حامل ٹیلوں کو ہموار کر کے زراعت شروع کر دی۔ اس طرح قدیم مقامات کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ ضلع وہاڑی کے علاقے میں دریائے بیاس کو مقامی لوگ ’’ویاہ‘‘ کہتے تھے۔ جب بیاس سوکھ گیا تو برساتی نالے کی گزرگاہ کے لئے بھی لفظ ’’ویاہ‘‘ استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ برساتی نالوں کے قریب کئی بستیاں آباد ہوئیں جو لفظ ’’ویاہ‘‘ کی نسبت سے ’’ویاڑی‘‘ اور پھر ہوتے ہوتے ’’وہاڑی‘‘ کہلائیں۔ اس نام کی کئی بستیاں مثلاً وہاڑی سموراں والی اور وہاڑی ملکاں والی وغیرہ آباد ہیں۔ وہاڑی دراصل ’’وہاڑی لُڑکیاں والی‘‘ نام کی ایک معمولی بستی تھی جو اس جگہ آباد تھی جہاں آج کل اسلامیہ ہائی سکول واقع ہے۔

رفتہ رفتہ اس لمبے نام کا تخصیصی حصہ ’’لُڑکیاں والی‘‘ کثرت استعمال سے حذف ہو گیا، اور اس پرانی بستی کی جگہ جواب ناپید ہو چکی ہے۔ نئی بستی صرف ’’وہاڑی‘‘ کہلائی۔ ابتداً وہاڑی میلسی میں شامل تھا ۔ دریائے ستلج کے کنارے وہاڑی، میلسی، بورے والا اور ساہیوال تک بھابھے، تجوانے، دولتانے، مگھرانے، دادپوترے، لکھویرے، سلایرے، سنپال، سیال اور کھرل قوم کے لوگ آباد چلے آرہے تھے۔ ماضی میں اس علاقہ کا تعلق ملتان سے رہا ہے۔ ضلع وہاڑی کی تحصیل بوریوالہ کا قصبہ کھتوال سب سے پُرانا اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ علاقہ محمد بن قاسم کی ملتان فتح کے وقت راجہ داہر کی حکومت کے ماتحت تھا۔ اکبر بادشاہ کے زمانے میں 1591ء میں ملتان، کہروڑپکا، جھنگ، شورکوٹ اور وہاڑی کے علاقوں کو ملا کر دوبارہ صوبہ ملتان بنایا گیا۔ 

اسی عرصے میں شہنشاہ اکبر کے زمانے میں ستلج دریا کے دائیں کنارے کے علاقے پر جوئیہ خاندان کا راج تھا اور ان کا مرکز فتح پور (تحصیل میلسی) تھا۔ یہ قصبہ آج بھی قائم ہے۔ 1748ء سے 1752ء کے دوران معین الدین اور میر منو لاہور اور ملتان کے صوبیدار مقرر ہوئے۔ میر منو نے ایک چھوٹے درجہ کے ہندو کوڑا مل کو علاقہ ملتان کا کچھ مشرقی حصہ، جس میں وہاڑی، میلسی، کہروڑپکا، بہاول گڑھ اور دُنیا پور کے علاقے شامل تھے، پٹے پر دے دیا۔ کوڑا مل نے بغاوت کی اور مہاراجہ کا لقب اختیار کر کے ان علاقوں پر حکمرانی کرنے لگا۔ بعد ازاں اس کے خلاف کارروائی کر کے اس کا اقتدار ختم کر دیا گیا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں نواب مظفر خاں والیِ ملتان کی حکومت قائم ہوئی۔ 

میلسی اور لُڈن کو اس زمانے میں پرگنوں کی حیثیت حاصل تھی۔ وہاڑی کی آباد کاری باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت 1924ء میں شروع ہوئی۔ اس سال پاک پتن نہر نکلی اور1925ء میں نیلی بار پراجیکٹ شروع ہوا۔ مسٹر ایف ڈبلیو ویس پہلے منتظم آبادی مقرر ہوئے۔ 1925ء میں یہاں لائن بچھائی گئی اور 1928ء میں منڈی کی تعمیر ہوئی۔ 1927ء میں اسے نوٹیفائیڈ ایریا قرا ر دیا گیا، پھر ٹائون کمیٹی اور 1966ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہو گیا۔ ایک سکیم کے تحت علاقے میں دس ایکڑ فی خاندان رقبہ الاٹ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 

ضلع وہاڑی کے چکوک ڈبلیو بی 19، 21 اور 23، 1926ء میں اسی سکیم کے تحت وجود میں آئے تھے۔ 1942ء میں وہاڑی کو تحصیل میلسی سے الگ کر کے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ 1963ء میں وہاڑی کو سب ڈویژن اور 1976ء میں اسے ضلع بنا دیا گیا۔ میلسی، بوریوالہ اور وہاڑی کو اس کی تحصیلیں اور ٹبہ سلطان اور گگو منڈی کو سب تحصیلوں کا درجہ دیا گیا۔ قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان وسیم احمد اور اولمپین وقاص اکبر کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔

اسد سلیم شیخ

بشکریہ دنیا نیوز

قلعہ نندنہ : ابو ریحان البیرونی نے یہیں سے زمیں کا قطر ناپا

قلعہ نندنہ دسویں صدی عیسوی سے متعلقہ ہے جس کا رقبہ 45 کنال اور 16 مرلے ہے۔ یہ قلعہ چوا سیدن شاہ سے 12 میل مشرق کی طرف واقع ہے نندنہ پاس اصل میں چوا سیدن سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ یہاں سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔ ابو ریحان البیرونی نے یہیں سے زمیں کا قطر ناپا تھا جو موجودہ قطر سے 43 فٹ کے فرق کے ساتھ تھا سر اورل کے مطابق یہ راستہ سکندر کی ا فواج نے بھی دریائے جہلم کو پار کرنے کے لئے اختیار کیا جو اس نے جلال پور (بوکے قالیہ ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور محمود غزنوی کی فوجوںء میں میدان جنگ بنا ۔ اس طرح محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نند نہ پر ہو گیا یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقررکیا۔ نندنہ قلعہ کا ذکر تاریخ میں991 عیسوی میں ملتا ہے جب لاہور کے راجہ نے مشرق کی طرف سے حملہ کی کو شش کی13 ویں صدی کے شروع میں اس پر قمرالدین کرمانی کا قبضہ تھا جس سے جلا ل الدین خوارزمی نے قلعہ کا قبضہ لیا ۔

جلال الدین خوارزمی کو چنگیز خان نے 1012ء میں دریائے سندھ کے کنارے شکست دی تو اسی کے امیر ترقی کے زیر تسلط یہ قلعہ آیا ۔ التمش کی فتوحات کے زمرہ میں بھی نندنہ قلعہ کا نام آتا ہے۔ التمش کے بیٹے محمود نے 1247ء میں کوہ نمک کے راجہ کو سزا دینے کے لیے حملہ کیا جو چنگیز خان کی فوج کا ہمرکاب تھا اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زما نہ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا ۔ اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پرنمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے ۔ 

پاکستان میں پایا جانے والا نایاب برفانی چیتا

ہمارے ملک میں مختلف انواع کے جنگلی جانوروں پائے جاتے ہیں لیکن چند ایک
کے بارے میں معلومات عام نہیں۔ ان میں سے ایک برفانی چیتا ہے۔ یہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت ، افغانستان، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا مسکن کوہ ہندو کش اور قراقرم کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا اور آزاد کشمیر میں نظر آتا ہے۔ یہ کسی بڑی اور خونخوار بلی کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ سر سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 30 سے 50 انچ ہوتی ہے۔ البتہ اس کی دم بہت لمبی ہوتی ہے۔ ان کا وزن 27 سے 55 کلوگرام تک ہوتا ہے۔

دنیا میں برفانی چیتوں ان کی آبادی کے درست اعدادوشمار نہیں ملتے کیونکہ دشوار گزار علاقے میں رہنے والے ان جانوروں کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اندازاً ان کی تعداد چار سے آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ جانور سطح سمندر سے 8700 فٹ یا اس سے بلند مقامات پر رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نسبتاً کم بلند پہاڑوں میں بھی رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے جسم پر گھنے اور قدرے لمبے بال ہوتے ہیں۔ یہ باآسانی سرد اور برفانی موسم میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے بال، موٹی جلد اور چھوٹے کان سردی سے بچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کے پنجے چوڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے برف پر چلنا آسان ہوتا ہے اور یہ پھسلتے نہیں۔ قدرت نے انہیں لمبی دُم بلا مقصد عطا نہیں کی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دُم توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی دم موٹی ہوتی ہے جسے وہ سوتے وقت کسی کمبل کی طرح چہرے پر ڈال لیتے ہیں تاکہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے اردگرد دوسرے برفانی چیتوں کا آنا ناپسند کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اچھے شکاری ہیں اور گوشت کھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ گھریلو جانوروں کا بھی شکار کرتے ہیں۔ یہ اپنے سے چار گنا وزنی جانور کا شکار بھی کر سکتے ہیں جن میں مارخور، گھوڑا اور اونٹ شامل ہیں۔ چھوٹے پرندے بھی ان کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ ان علاقوں میں اگنے والی گھاس اور سبزیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ پیدائش کے وقت برفانی چیتے کے بچے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

ان کی آنکھیں چند دنوں کے بعد کھلتی ہیں۔ 18 سے 22 ماہ تک بچے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے بعد آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ برفانی چیتا دو سے تین سال کی عمر میں سن بلوغت کو پہنچتا ہے۔ ان کی عمر 15 سے 18 برس ہوتی ہے۔ برفانی چیتے کا شمار دنیا میں جانوروں کی تیزی سے ختم ہوتی نسلوں میں ہوتا ہے۔ شکار اور بے جا انسانی مداخلت کی وجہ سے برفانی چیتا نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اندازے ایک مطابق پاکستان میں برفانی چیتے کی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے اور اب یہ 200 کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اس کمی کی مختلف وجوہ ہیں۔ جس میں انسانی آبادی میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہے ۔ جن علاقوں میں یہ رہتے ہیں وہاں قیام پاکستان سے اب تک آبادی کم و بیش چار گنا بڑھی ہے۔
اس اضافے سے وہ علاقہ کم ہو گیا ہے جس میں برفانی چیتے آزادانہ گھومتے اور شکار کرتے تھے۔ دوسری وجہ ان جانوروں کا انسانوں کے ہاتھوں شکار کے سبب کم ہونا ہے جو برفانی چیتے کی خوراک بنتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قیام پاکستان سے اب تک جنگلی بکریوں کی آبادی 50 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ بکریاں ان چیتوں کی خوراک ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلہ بانی کرنے والوں کو اکثرشکایت رہتی ہے کہ برفانی چیتا ان کی بھیڑ بکریوں کا شکار کرتا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے یا بدلہ لینے کے لیے چیتے کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں یہ چیتا پایا جاتا ہے ان کی تعداد 12 ہے۔ چند سال قبل ان ممالک نے ایک معاہدہ کیا جسے بشکک ڈیکلیئریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس میں اتفاق کیا برفانی چیتا قدرت کا انمول تحفہ، ہماری پہچان اور پہاڑی علاقوں میں ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے۔ اس موقع پر برفانی چیتے کی نسل کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے کا عہد کیا گیا۔ اس نایاب جانور کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے 2015ء کو برفانی چیتے کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا ۔ ملک میں ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ جانور ناپید ہوجائے۔ پاکستان میں اس جانور کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔
رضوان مسعود

وادی کرم کے آبی مقامات

وادی کرم کے آبی مقامات جن میں دریائے کرم، بادان ڈیم اور مولو گلی ڈھنڈ شامل ہیں، آبی پرندوں کی نقل مکانی کے راستہ پر واقع ہونے کی وجہ سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ 
چشمہ بیراج
اس آبی مقام کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں نقل مکانی کرکے آنے والے دو لاکھ سے زیادہ آبی پرندے عارضی قیام کرتے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان میں موجود کسی بھی آبی مقام پر آنے والے پرندوں کی تعداد سے زیادہ ہے دریائے سندھ پر یہ آبی مقام میانوالی شہر سے 25 کلومیٹر جنوب مغرب میں پانچ چھوٹی چھوٹی جھیلوں پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر کا اصل مقصد آبپاشی کے لیے پانی ذخیرہ کرنا، بجلی پیدا کرنا اور ماہی پروری تھا، مگر اب یہ آبی پرندوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
 اچھالی جھیل
 نو شہر ہ کے مغرب میں 13 کلومیٹر پر سلسلہ کوہ نمک میں واقع اس جھیل کی سطح سمندر سے بلندی قریباً 700میٹر ہے۔ جھیل میں پانی کا انحصار قدرتی چشموں او ربارشوں پر ہے۔ یہ جھیل کی گہرائی او رپرندوں کی تعداد پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ نقل مکانی کے دوران سینکڑوں آبی پرندوں کے ساتھ سفید سر والی مرغابی جو کہ ایک نایاب بطخ ہے اس جھیل کو اپنا مسکن بناتی ہے۔ جھیل میں آبی پرندوں کے شکار پر پابندی ہے۔ 
زنگی ناور جھیل
کھارے پانی کی یہ جھیل مختلف اطراف سے ریت کے ٹیلوں پر گھر ی ہوئی ہے۔ اس میں پانی کا انحصار بارشوں پر ہے، جو نہ صرف اس کی گہرائی پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ اس کے کھارے یا نمکین ہونے کا دارومدار بھی انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔ مرغابی کی ایک نایاب نسل جس کو Morbled Teal کہتے ہیں ،اس جھیل پر افزائش نسل کرتی ہے۔ 
تونسہ بیراج
 دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کا ذخیرہ کوٹ ادو سے 20 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے، یہاں پر آبی پودوں اور درختوں کی بہتات نے آبی پرندوں اور دوسرے جانوروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا ہے اور کئی اقسام کے پرندے اور جانور یہاں پر افزائش نسل کرتے ہیں، اس مقام کی اہمیت اندھی ڈولفن کی وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے جو کہ دریا کے پانی میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ 
شیخ نوید اسلم
(پاکستان کی سیر گاہیں)
 

خان گڑھ : ضلع مظفر گڑھ کا قصبہ

ضلع مظفر گڑھ کا قصبہ۔ شہر مظفر گڑھ سے علی پور جانے والی سڑک پر16 کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ اس کے بارے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک روایت ہے کہ یہ علاقہ نواب مظفر خان بانی مظفر گڑھ کے والد نواب شجاع نے اپنی بیٹی خان بی بی کو عطا کیا تھا۔ خان بی بی اپنے بھائی نواب مظفر خان کی فوج میں سپہ سالار تھی اور جنگ منکیرہ میں شہید ہو گئی تھی۔ اس کا مزار ملتان میں حضرت غوث بہاول حق کے مزار کے باہر واقع ہے۔ اسی خان بی بی نے قصبہ خان گڑھ کی بنیاد رکھی تھی۔ دوسری روایت کے مطابق اسے شجاع خان نے آباد کیا تھا، جس کا انتقال 1773ء میں ہوا تھا جبکہ تیسری روایت یہ ہے کہ یہ قلعہ نواب مظفر خان کی زیر نگرانی تعمیر ہوا تھا جب نواب شجاع خان نے انہیں مظفر گڑھ کے علاقے کا انتظام سونپا تھا۔

ان تمام روائتوں سے ہٹ کر مورخین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہاں کا قلعہ شجاع خان نے تعمیر کرایا، جو نواب مظفر خان کی نگرانی میں بنا اور خان بی بی کے نام پر اس کا نام خان گڑھ رکھا گیا۔ یہ قلعہ شہر کے مشرقی طرف دریائے چناب کے کنارے واقع تھا۔ خان بی بی کی شہادت کے بعد چناب میں سیلاب کی وجہ سے یہ قلعہ مسمار ہو گیا اور اس کا نام و نشان بھی باقی نہ بچا۔ 1811ء کے بعد نواب مظفر خان اور نواب بہاولپور کے درمیان تنازعات بڑھے ،تو نواب احمد خان نے خان گڑھ کو اپنامستقر بنا کر بہاولپور کے علاقے میں چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ نواب صادق محمد خان نے تنگ آ کر فوجی افسر یعقوب کی سرکردگی میں ایک لشکر خان گڑھ روانہ کیا۔ یعقوب خان نے خان گڑھ کا محاصرہ کیا، تو احمد خان مقابلے کی تاب نہ لا کر فرار ہو گیا۔ 1818ء میں خان گڑھ پر سکھوں کا قبضہ ہو گیا۔ 1849ء میں انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی ،تو انہوں نے خان گڑھ کو ضلعی صدر مقام بنایا اور خان گڑھ، سیت پور اور رنگ پور کی تحصیلوں کو اس میں شامل کیا۔ اس وقت رنگ پور میں ضلع جھنگ کے علاقے گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال بھی شامل تھے۔ 1850ء تک یہ ضلعی صدر مقام رہا، بعد ازاں مظفر گڑھ کو ضلع بنایا گیا اور خان گڑھ تحصیل اس میں شامل کر دی گئی۔ خان گڑھ تھانہ 1849ء میں بنا جبکہ آنریری عدالت 1893ء میں بن چکی تھی اور مرحوم سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان کے والد نوابزادہ سیف اللہ خان اس کے جج تھے۔ 

تھانہ، ڈاکخانہ، ٹاؤن کمیٹی اور ڈسپنسری بھی انگریزی دور میں بنے ۔1931ء کی مردم شماری کے مطابق خان گڑھ کی آبادی4402 نفوس پر مشتمل تھی۔ تجارتی لحاظ سے علاقے کا اہم مرکز ہے۔ کھجور، آم اور گندم کی پیداوار عام ہوتی ہے۔ محلہ ڈسکیاں والا، محلہ شیخاں، محلہ سیداں، محلہ توحید آباد، محلہ نواباں والا، نئی بستی، بستی کلاں اور رحمت کالونی یہاں کی رہائشی بستیاں ہیں جبکہ مین بازار اور بازار خواجگان تجارتی مراکز ہیں۔ پاسکو کے گودام بھی ہیں۔ پیر مہدی شاہ، پیر بالک شاہ اور پیر طالب شاہ کے مزارات ہیں۔ یہاں کا بُھنا کھویہ بہت مشہور ہے۔ شمس اور موج قصبہ خان گڑھ کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ سیّد شمس الدین شمس یہاں 1865ء میں پیدا ہوئے اور1945ء میں وفات پائی۔ آپ سرائیکی زبان کے شاعر تھے۔

ایک غیرمطبوعہ مجموعہ یادگار چھوڑا۔ ان کے بیٹے سیّد غلام مصطفیٰ شاہ مست جن کا انتقال 1955ء میں ہوا تھا بھی سرائیکی شاعری کرتے تھے۔ شاہ مست کے بیٹے اور شمس کے پوتے سیّد کرم حسین شاہ گیلانی بھی یہاں کے اُستاد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ حکیم شمشیر مرحوم اور سیّد غلام حسین شاہ مسکین بھی شاعر تھے۔ معروف سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خاں بھی یہاں کے رہنے والے تھے  وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ پاکستانی سیاست میں وہ بہت بلند مقام پر فائز رہے۔ اسی طرح فضل حسین بلوچ جو موج تخلص کرتے تھے نعت، قصائد، نوحہ، رباعیاں اور مُسدّس کی شکل میں شاعری کرتے تھے۔ 

(اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)