محکمۂ پولیس روبہ زوال کیوں؟

انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مختلف ناموں سے پولیس فورس سماج سے جرائم کے خاتمے، قیامِ امن، اور قانون کی بالا دستی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس ڈیوٹی میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی نائن الیون کے بعد بڑھتی دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے پولیس کی روایتی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ موجودہ عالمی تناظر میں قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ماضی میں پولیس سروس آف پاکستان کے افسران بیرونِ ممالک بھی قانون کی عملداری کے فرائض بجا لاتے رہے ہیں۔ آج حکومتی و سیاسی دخل اندازی اور پولیس کو سیاسی و گروہی فائدے کیلئے استعمال کرنے کی روش کی بدولت یہ اہم ترین شعبہ روبہ زوال ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بدلتے تقاضوں کے ساتھ اس اہم ترین قومی سلامتی کے ادارے کو اقربا پروری، ملکی سیاست اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

نہ تو گزشتہ 74 برسوں میں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکی اور نہ ہی میرٹ کی بالا دستی، قوانین کی تبدیلی، تربیت کی مناسب سہولتیں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں اشرافیہ سمیت حکومتی و سیاسی طبقے کے شکنجے سے نجات مل سکی۔ ہمارا موجودہ پولیس کا نظام برطانوی راج کا تحفہ ہے؛ اگرچہ 1861ء ایکٹ کی جگہ2002ء پولیس آرڈر لایا گیا جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام، قومی، صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر پولیس کو خود مختاری ملی اور عوام کو بھی پولیس کے محاسبے کا اختیار تفویض ہوا تاکہ پولیس اور عوام کے مابین ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو سکے مگر چہ معنی دارد؟ پولیس کا مورال عوام کے نزدیک اس قدر گر چکا ہے کہ بالخصوص پنجاب پولیس کا تصور آتے ہی خوف کی ایک لہر سی پورے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کے بڑے شہروں کی نسبت جنوبی پنجاب سمیت دیگر پسماندہ و دور دراز علاقوں میں پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ وہاں کے پولیس سٹیشن عقوبت خانوں کا دوسرا روپ ہیں۔ آئے روز اخبارات ان کی زیادتیوں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کرپشن، رشوت ستانی، تشدد کی خبریں بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ پاک فوج کی طرح محکمہ پولیس کے ایک معمولی سپاہی سے لے کر افسرانِ بالا تک‘ سب میں مادرِ وطن کے تحفظ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، وہ الگ بات کہ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے کا پورا محکمہ بدنام ہو چکا ہے اور فرض شناس و ایماندار پولیس اہلکاروں اور افسروں کے اچھے کارنامے بھی یکساں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے کالم کے ذریعے چند گزارشات کرنا چاہوں گا کہ ‘ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ‘ اور متعلقہ اربابِ حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ مذکورہ ڈپارٹمنٹ میں بے جا سیا سی مداخلت نے قومی سلامتی کے ادارے پر مضر اثرات مرتب کئے ہیں اور پولیس کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ فرض کریں اگر کوئی ایماندار، فرض شناس سپاہی یا پولیس افسر اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے تو بدلے میں اسے کیا ملے گا؟ اس کا متعلقہ علاقے کے حکومتی و عوامی نمائندوں کے مفادات کے خلاف نعرۂ حق بلند کرنا اگلے ہی روز اس کے تبادلے کا سبب بن جائے گا؛ چنانچہ پولیس کے حالات موجودہ نہج تک پہنچانے میں حکومتی و سیاسی اراکین کا کردار اہم رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے گزشتہ حکومتی دور میں کے پی پولیس اصلاحات کا خوب چرچا کرتے رہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا۔ اسی مقصد کے پیش نظر پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ سابق آئی جی کے پی ناصر درانی مرحوم کو پنجاب میں بھی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی مگر افسوس تحریک انصاف حکومت بلند بانگ دعووں تک محدود رہی اورپولیس سے سیاسی اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے کسی طور آمادہ دکھائی نہیں دی؛ ناصر درانی کے استعفے کو بھی اسی سوچ کا شاخسانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ پنجاب پولیس ان کی خدمات سے استفادہ نہ کر سکی۔ ان حالات میں بھی راولپنڈی پولیس نے اعلیٰ کارکردگی میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کھلی کچہری میں 20 ہزار سے زائد افراد کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کرنا یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ میں کسی کی تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہا لیکن یہ سچ ہے کہ محکمہ پولیس میں چند انقلابی اقدامات نے محکمے میں اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ایسا سسٹم صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت پسماندہ علاقوں میں بھی اپنایا جائے۔ مجھے خود سی پی او راولپنڈی کی ایک کھلی کچہری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں سائلوں کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر بڑے احسن طریقے سے باری آنے پر ہر سائل کی شکایات سنی جاتی ہے اور اس کی داد رسی کیلئے فوری طور پر متعلقہ افسر و ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس کا آفیشل سوشل میڈیا پیج بھی کھلی کچہری کا انعقاد کرتا ہے اور یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکوں کی مانند انقلابی اقدامات محکمے کی نیک نامی میں اضافے کے ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان خلیج پاٹنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ شہر میں امن و امان کی بہتر صورتحال اور جرائم میں واضح کمی بالخصوص کار چوری کی وارداتیں کم ہونے پر پولیس افسران لائقِ ستائش ہیں۔ بلاشبہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز ہو چکا ہے۔

پنجاب پولیس جس کا نام سن کر ایک ظالم‘ جابر پولیس کا تصور ذہن میں آتا ہے اسے ایک خوشگوار تبدیلی کے ذریعے واقعی ‘ پولیس کا فرض مدد آپ کی ‘ کے سلوگن میں ڈھالا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس وسائل کا اغوا برائے تاوان اور ریپ کیسز میں استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ لاک ڈائون جیسی آزمائش کی گھڑی میں پولیس پر کئی اضافی ذمہ داریاں بھی آئیں جن سے پولیس بخوبی عہدبرآ ہوئی۔ دکانوں اور کاروبار کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ٹرانس جینڈرز، خواتین و بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت خواتین کیلئے ہراسمنٹ رپورٹنگ یونٹ کی تشکیل اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے شکایات کے ازالہ کیلئے مفید ریفارمز کی گئیں۔ پاک فوج کے علاوہ دیگر سکیورٹی اداروں اور پولیس کے جوانوں نے بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں شہادتیں پائی ہیں اور شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں۔

پولیس والوں کے برے کاموں کا تو خوب شوروغوغا کیا جاتا ہے‘ بدعنوانی، زیادتی اور اختیارات سے تجاوز کی خبریں تو بڑھ چڑھ کر نشر کی جاتی ہیں لیکن ان کی قربانیاں اور اچھے کاموں کی اس طرح کوریج نہیں کی جاتی جو ان کا حق بنتا ہے۔ پولیس کے شہدا و غازی ہنوز پذیرائی سے محروم ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ پولیس آفیسرز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے پولیس کے شہدا کی تصاویر شہر کی اہم شاہراہوں پر آویزاں کر کے ان کو عزت و رتبہ دیا جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔ مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کیلئے اس سے بہترخراجِ تحسین نہیں ہو سکتا۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے تاریخی اقدامات کرتے ہوئے ان کی چھٹیوں، میڈیکل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ بہتر پرفارمنس اور بہادری کے جوہر دکھانے والے پولیس اہلکاروں کے لیے نقد انعامات و تعریفی سرٹیفکیٹس اور ناقص کارکردگی کی صورت میں سخت تادیبی محکمانہ کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر حسنِ نیت ہو اور کچھ کرنے کی ٹھان لی جائے تو بہت بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے، جبکہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے اگر محکمانہ اصلاحات کی جائیں تو کم وقت میں یقینا بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آگیا کہ محکمہ پولیس سیاست سے مبریٰ کیا جائے تاکہ پولیس کا مورال بلند ہو اور عوام کی نظر میں پولیس والوں کا ایک بہتر امیج ابھرے جس سے اس ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو اور صحیح معنوں میں یہ قومی خدمتگار ادارہ بن سکے۔

محمد عبداللہ حمید گل

بشکریہ دنیا نیوز

اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے

ہمیں وزیر اعظم عمران خان کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی والا بیان اب سمجھ میں آیا ہے۔ محترم وزیر اعظم اس بیان کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے ذہن میں حوالہ شاید اس بےلگام گفتگو کا تھا جو ان کے تحت چلنے والے نظام میں ان کے پیارے اور چہیتے کسی بھی موضوع پر کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اس گفتگو سے واضح ہوئی جو اس افسر نے موٹر وے پر ریپ ہونے والی خاتون کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کی۔ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔ بیان میں اپنے اندر کی جذباتی کیفیت کو چھپائے بغیر نیم سوالیہ نشان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو شام کے وقت اس طرح باہر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک نام نہاد وضاحتی بیان میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون چونکہ فرانس سے آئی تھیں لہذا ان کے ذہن میں اس معاشرے کا معیار اور ماحول تھا جو پاکستان کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس طرح کے تجزیے ایک ایسے پولیس افسر کی طرف سے، جو تفتیش پر بھی مامور ہو، جرم کا شکار ہونے والے خاندان پر بجلی کی طرح گرے ہوں گے۔ اس بات پر اصرار کہ یہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین واقعے کی بالواسطہ طور پر خود ذمہ دار ہیں، جرم میں شراکت داری کے الزام کے مترادف ہے۔ جرم کا شکار ہونے والوں کو ذہنی اذیت دینا، تفتیش سے پہلے مفروضوں کی بنیاد پر الٹے سیدھے نتائج اخذ کرنا جرم کی نوعیت اور سنجیدگی کو متاثر کرنے کی ایک مذموم کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر کسی بھی معاشرے میں افسر کو تفتیش اور عہدے سے ہٹا کر باضابطہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سی سی پی او خاص آدمی ہیں اور ان کو لانے کے لیے ایک آئی جی کی باقاعدہ قربانی دی گئی ہے لہٰذا ان کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو فارغ کیے گئے آئی جی شعیب دستگیر سے پوچھ لیں یا سلیکشن بورڈ کی اس رپورٹ کو پڑھ لیں جو ان کے تمام کیریئر کا احاطہ کرتی ہے۔

اسی آزادی کا فائدہ شہزاد اکبر نے بھی اٹھایا اور سی سی پی او کے دفاع میں لمبی چوڑی وضاحتیں دیں۔ قوم کو یہ بتایا کہ عمر شیخ کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے۔ ستم طریفی یہ ہے کہ عمر شیخ خود اپنے بیان پر مکمل استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہزاد اکبر کی وضاحتوں کے برعکس بار بار ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ اسد عمر کو بھی اظہار آزادی رائے سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ دانش مندی کے نئے دروازے کھولتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں عمر شیخ کے بیان کو بار بار’غیر ضروری‘ قرار دیتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان کے اس بیان میں کوئی پہلو غیرقانونی نہیں ہے لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بےجا ہے۔  اسی موضوع پر چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کو ایک ڈھیلے ڈھالے اور انتہائی دوستانہ انٹرویو میں سی سی پی او عمر شیخ کے بیانات کی مذمت کرنے کے اتنے ہی مواقع دیے گئے جتنے نقلی ریسلنگ کے مقابلوں میں ایک ریفری اپنے پسندیدہ پہلوان کو بار بار جتوانے کے لیے دیتا ہے۔ مگر ہر مرتبہ عثمان بزدار وہی کہہ سکے جو ان کو رٹوایا گیا تھا یعنی وہ مجرموں تک پہنچ جائیں گے اور کمیٹی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ان کے اظہار رائے پر پابندی صرف ان کی اپنی مجبوریاں ہیں جن کے تحت وہ اس پولیس افسر کو کسی طور غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ اگر اس کو بچانے کے لیے ایک آئی جی گرایا جا سکتا ہے تو چیف منسٹر کے آفس کے اندر بھی ہنگامہ مچ سکتا ہے، لہذا کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سر چھپا کر بیٹھے رہو، دامن پر کسی اصول کا دھبہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ خواہ مخواہ داغ نمایاں نظر آئے گا۔ کیا فائدہ۔ سوشل میڈیا پر ایک چیتے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون ایک بلیک میلر بھی ہو سکتی ہیں اور یہ واقعہ ن لیگ کا سی سی پی او اور حکومت کے خلاف ایک سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس موصوف کے 42 ہزار کے لگ بھگ فالورز ہیں اور یہ اپنے آپ کو ایک قابل فخر جماعت کے کارکن کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔

سی سی پی او عمر شیخ کی قوم کی ماؤں بہنوں کو جاری کردہ ہدایت کہ وہ آئندہ احتیاط کریں، بھی حق اظہار رائے کی ایک قسم ہے۔ اس طرح کی ہدایات ان جیسے افسران سے اٹی ہوئی ریاست اپنے مجبور شہریوں کی مدد کے لیے وقفے وقفے سے جاری کرتی رہتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب قصور میں زینب کے قتل اور زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تو اس ریاست کے طاقتور ترین، محفوظ قلعوں میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے قائدین نے قوم کو کیا مشورہ دیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ ماں باپ کو اپنی بچیوں کی خود حفاظت کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ بےنظیر بھٹو جب دہشت گردی کے ہاتھوں دن دہاڑے لیاقت باغ کے باہر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ایک انگریزی اخبار میں آرٹیکل کے ذریعے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بےنظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ جنرل مشرف، ان کے تمام وزرا اور مشیر (جن سے اس وقت 70 فیصد حکومت بنی ہوئی ہے) طویل عرصے تک بےنظیر بھٹو کی مبینہ بےاحتیاطی کو بیان کر کے اس سانحے کی وضاحت کرتے رہے۔

اخبارات میں آئے روز چھپنے والے بچوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات سے متعلق اکثر پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان بھی ایسا ہی ہوتا ہے جس میں والدین کو اولاد سے نظر ہٹانے پر سرزنش کی جاتی ہے۔ اپنی طرف سے یہ تمام لوگ ایسے بیانات دے کر اپنے فرائض کی انجام دہی کے ریکارڈ کو بہترین انداز سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، مگر اصل میں وہ گھناؤنے جرائم کے وکیل کے طور پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر احتیاط والی توجیہہ کو مان لیا جائے تو پھر ریاست اور حکومت کے کرنے کا کوئی کام نہیں رہ جاتا۔ اے پی ایس پشاور کے بچوں کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دن ان کو سکول سے چھٹی کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔ اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو ان کو وہ دن اپنی تمام تر بدنصیبیوں کے ساتھ نہ دیکھنا پڑتا۔ اسی سوچ کے تحت آپ مجید اچکزئی کی گاڑی کے نیچے آنے والے ٹریفک پولیس والے کے خاندان کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کے آگے سے ہٹ کیوں نہیں گیا۔

قصور گاڑی چلانے والے کا نہیں کانسٹیبل کا تھا جس نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔ ساہیوال کے واقعے میں تلف ہونے والی جانوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا الزام دیا جا سکتا ہے۔ نقیب اللہ مسحود کو بھی موت کا خود ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں جل جانے والے اگر وہاں کام نہ کر رہے ہوتے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جانیں بچ جاتیں۔ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی مکمل ہے۔ وزیر اعظم صحیح کہتے ہیں۔ یہاں پر رائے دینے کے لیے اپنے حواسوں میں ہونا ضروری نہیں۔ ہر مخبوط الحواس خود کو منبع عقل سمجھ کر کچھ بھی بول سکتا ہے۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

شہریوں کی محافظ پولیس

میں اگر یہ عرض کیا کرتا ہوں ہمارا ملک نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ ہی پرانے والا پاکستان ہے۔ یہ کوئی اور ملک ہے جو ہمارے ان سیاستدانوں نے بنایا تھا جو اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے آزاد ملک کی سرزمین پر ہر روز ایسے کئی ظلم ہوتے ہیں جو کہیں رپورٹ نہیں ہوتے یعنی ان کی کوئی شکایت کہیں درج نہیں کرائی جاتی کیونکہ ان مظلوموں کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان کی داد رسی نہیں ہو گی، اس لیے وہ صبر شکر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا فیصلہ ﷲ تبارک و تعالیٰ کی عدالت میں درج کرا دیتے ہیں۔ عوام کے ساتھ زیادتی کرنیوالوں میں کوئی سرکاری محکمہ بھی کسی دوسرے محکمہ سے پیچھے نہیں ہے۔ جہاں جائیں وہاں عوام کو تنگ کرنے والوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور چند منٹوں کا کام دو تین دن کی تاریخ دے کر بڑھا دیا جاتا ہے۔ 

بغیر کسی لالچ کے کام کرنیوالا کوئی دکھائی نہیں دیتا لیکن اکثر محکمے ایسے ہیں جن سے عوام کا واسطہ زیادہ نہیں یا بہت کم پڑتا ہے مگر پولیس کا محکمہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ دن رات کا واسطہ پڑتا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھیں تو پولیس دکھائی دے جاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی چوک تک دور ہوتی ہے ۔ اگر آپ کسی چیز پر سوار ہیں تو پھر پولیس کی اجازت اور مہربانی سے یہ سواری استعمال کر رہے ہیں۔ اگر پیدل ہیں تو آوارہ گردی میں پکڑے جا سکتے ہیں اور   کام پڑ جائے جو پڑ ہی جاتا ہے تو پھر تھانے کے اندر وہی ہوتا ہے جو منکر نکیر آپ کے ساتھ کریں گے۔ اس لیے پولیس کے ساتھ عوام کا واسطہ چونکہ زیادہ پڑتا ہے، اس لیے پولیس دوسرے سرکاری محکموں سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور پولیس کے ساتھ ناراضگی بھی دوسرے محکموں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

ادھر پولیس کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہیں اتنے زیادہ کہ وہ کسی بھی خواہ وہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اسے کسی نہ کسی قانونی دفعہ کے تحت گرفتار کر سکتی ہے اور اسے عدالت کے سپرد کر سکتی ہے جو خود کسی تھانے سے کم نہیں ہے۔ جو خبریں ہم پڑھتے ہیں کہ جیل سے ایک ایسا شخص رہا ہوا ہے جو برسوں تک بلاوجہ جیل میں سڑ رہا تھا تو اس شخص کی مصیبت کا آغاز پولیس سے ہوا تھا۔ سچ یہ ہے کہ پولیس کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہے کیونکہ اس کے اختیارات سے کوئی بھی فرد باہر نہیں ہے۔ پولیس اور عوام کا یہی تعلق اور رابطہ ہے جس کی وجہ سے پولیس ہر کسی کی نظروں میں کھٹکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ پولیس کے اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ان تما م اختیارات کے باوجود گمراہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ فرشتوں کی طرح دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایسے تو کئی ہیں جو قتل کے مقدمے میں کسی بے گناہ کا چالان نہیں کرتے کیونکہ انسان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ میں ایک ایسے علاقے کا باشندہ ہوں جہاں کبھی جرائم بہت ہوا کرتے تھے۔ اب تعلیم کی وجہ سے لوگ عقل مند ہو گئے ہیں اس لیے مجھے پولیس والوں کے بہت قصے کہانیاں یاد ہیں۔ دیہی علاقوں میں چونکہ باہم رابطے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مجرم اور بے گناہ عوام سے چھپے نہیں رہ سکتے اس لیے پولیس بھی زیادہ سنبھل کر چلتی ہے لیکن شہروں میں اسے کھلی چھٹی ہوتی ہے۔ جہاں پر میں روز ٹھنڈی گاڑیوں میں پولیس والوں کو سڑک کنارے آرام کرتے دیکھتا ہوں جو اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی پٹرول کی صورت میں پھونک رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹھنڈی گاڑیوں میں آرام کرنے والوں کے افسران یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ رات گئے گاڑی کا پٹرول چیک کیے بغیر خاتون کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایسے دلخراش سانحے پر بیان داغنا کسی پولیس والے کا ہی کام ہے، عوا م کا کوئی ہمدرد افسر اگر ہو تو وہ ایسے کیس میں عوام کی بات کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان باتوں کا تعین بعد میں ہوتا ہے کہ واقعہ سے پہلے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے یہ وقوعہ پیش آیا۔ لیکن لاہور کے اعلیٰ پولیس افسر نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کے بعد نہ جانے کس زعم میں زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بیان داغ دیا جس کی ہر طبقہ فکر جن میں عوام کے ساتھ حکومت بھی شامل ہے سب نے شدید مذمت کی ہے۔ لاہور میں سڑک کنارے ہونے والے اکیلی خاتون کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ جس نے بھی سنا اس کی زبان سے یہ فریاد نکلی کہ اتنے بڑے ظلم کے ملزموں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہر طبقہ فکر کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مجرموں کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے۔

موٹر وے لنک روڈکے ساتھ واقع گائوں کے مردوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ کی خطیر رقم جاری کر دی گئی ہے تا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعین کیا جاسکے۔ بھلا ہو میڈیا کا جو اس طرح کے عوامی کیس حکومت تک پہنچا کر ارباب اختیار کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ تحقیقات تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ عوامی حفاظت کا وہ کون سا محکمہ ہے جو اس لنک روڈ پرعوام کی حفاطت کا ذمے دار ہے۔ موٹر وے پولیس ہے یا ہائی وے پولیس، لنک روڈ کے لیے کوئی خصوصی پولیس فورس ہے یا ڈولفن پولیس کے دندناتے موٹر سائیکل سوار ہیں ان ذمے داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دینی چاہیے۔ لنک روڈ پرسفر کریں یا موٹر وے پر عوام کو بھاری ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ موٹر وے پر عوام کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  

جو جرم ہوا اس کے ملزمان تو حکومت ڈھونڈ لے گی لیکن جن کی غفلت اس جرم کا باعث بنی ان کو سزا دینا بھی ضروری ہے۔ بعد از خرابی بسیار سیکیورٹی کے لیے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی ٹیمیں تعینات کی گئیں ہے۔ موٹروے پر پیش آنے والے اس دلخراش سانحے کے اگلے ہی روز لاہور اسلام آباد موٹروے پر شیخو پورہ انٹر چینج سے دو کلو میٹر دوردن دہاڑے لوٹ مار کی گئی جس سے مجرموں کی دیدہ دلیری اور پولیس کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ عوام موٹروے پر سفر کو سب سے محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ موٹر وے بھی سفر کے لیے محفوظ نہیں رہے۔ بہر کیف یہ بحث بہت طویل ہے اور نازک بھی کہ میں بھی ایک عام شہری ہوں اور کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقیم رہتا ہوں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ پولیس یاد رکھے کہ عام شہریوں کی حفاظت بھی اس کی ذمے داری ہے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پولیس کی ایسی تیسی

بہتر طرز حکمرانی، سول سروس اور پولیس میں اصلاحات اور انسٹیٹیوشن بلڈنگ کے موضوعات پر بولتے ہوئے میں نے عمران خان کو تمام سیاستدانوں سے آگے پایا۔ اُنہیں جب بھی میں نے سنا ہمیشہ ایسا لگا کہ اُنہیں پاکستان میں گورننس کی خرابی کی وجوہات، سول سروس اور پولیس کے سیاست زدہ ہونے اور سرکاری اداروں کی نالائقی کا سب کا ادراک ہے، اسی لئے وہ ہر بار کہتے رہے، حتیٰ کہ اپنے پارٹی منشور میں بھی اس بات کو شامل کیا کہ وہ سول سروس خصوصاً پولیس کو غیرسیاسی کریں گے۔ افسران کو اُن کی معیاد پوری کئے بغیر تبدیل نہیں کیا جائے گا، سول سروس اور پولیس میں اصلاحا ت لائی جائیں گی، اچھے اور ایماندار افسروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، کرپٹ افسران کا احتساب کیا جائے گا اور سرکاری افسران کے کام میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن افسوس گزشتہ دو برسوں میں جو کچھ وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی میں پوری دنیا نے دیکھا وہ بالکل اُن تصورات اور اُن خیالات کے برعکس تھا، جو خان صاحب ماضی میں پیش کرتے رہے۔

خان صاحب نے بیوروکریسی اور پولیس کو اتنا سیاست زدہ اور کمزور کر دیا کہ اب تو کوئی سرکاری افسر کسی عہدہ پر ایک سال بھی گزار دے تو سمجھا جاتا ہے کہ کمال ہو گیا۔ وفاقی و صوبائی سیکریٹریوں، چیف سیکرٹریز اور آئی جی کا اتنا بُرا حال ہو چکا کہ محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے ساتھ میوزیکل چئیر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور سب سے بدتر صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی ہے جہاں کسی کو کہیں ٹکنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پانچ آئی جی پولیس اور شاید چھ چیف سیکریٹری ان دو برسوں میں پنجاب میں بدل چکے۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کے تعریفیں کر کر کے خان صاحب نہیں تھکتے تھے لیکن خان صاحب کی حکومت جو پولیس اور سول سروس کے ساتھ کر رہی ہے اُسے دیکھ کر ناصر درانی صاحب نے وزیراعظم صاحب سے معذرت کر لی کہ وہ پنجاب میں پولیس ریفارمز کا کام نہیں کر سکتے بلکہ اُنہوں نے یہ ذمہ داری دیے جانے کے چند ہی ہفتوں میں احتجاجاً ایک آئی جی کے غلط طریقہ سے تبدیل ہونے پر استعفا دے دیا تھا۔

اُن کے بعد تو آئی جیز کا پنجاب میں آنا جانا معمول بن گیا اور پولیس مزید سیاست زدہ ہو گئی لیکن گزشتہ روز جو کچھ ہوا اُس نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا بہتر ہو گا کہ پولیس کی اصلاحات کے بجائے ایسی تیسی کر دی گئی۔ آئی جی کے خلاف اُس کے ماتحت کمانڈ افسر نے لاہور پولیس کے افسران کے سامنے سخت باتیں کیں جس پر اُس ماتحت افسر کے بجائے وزیراعظم عمران خان نے آئی جی ہی کو بدل دیا۔ ماتحت افسر بھی وہ جس کو خان صاحب نے خود ہی دو ماہ قبل اس لئے گریڈ 21 میں پروموٹ نہیں کیا کہ خان صاحب نے اُس افسر کی کارکردگی اور ریپوٹیشن کو خراب پایا۔ وزیراعظم کو اس افسر کے بارے میں جو انٹیلی جنس رپورٹ ملی وہ بھی بہت سنگین تھی جبکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات اور بورڈ کی اس افسر کے بارے میں رائے بھی بہت منفی تھی، جس کو منظور کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس افسر کو ترقی نہیں دی جس کے لئے دو ماہ کے بعد ہی پنجاب کے آئی جی کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جن سفارشات کو منظور کیا اُس کے مطابق ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوایشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔ بورڈ نے اپنے مشترکہ فیصلے، جس کو وزیراعظم نے منظور کیا، میں کہا کہ مذکورہ افسر سی کیٹگری کا ہے اور اس کی ترقی کا معاملہ سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ترقی کیلئے مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتا۔ دو مہینوں میں ایسا کیا معجزہ ہوا کہ وہ افسر جسے وزیراعظم نے ترقی دینے سے انکار کیا اور سی کٹیگری ڈکلیئر کیا وہ اے کیٹیگری ہو گیا اور اُسے لاہور جیسے اہم ترین شہر کا نہ صرف پولیس سربراہ لگا دیا بلکہ اُس کی اپنے آئی جی کے خلاف پولیس کے افسروں اور جوانوں کے سامنے تقریر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے آئی جی کو ہی بدل ڈالا۔ عمران خان نے جو کیا اُسے میں تو سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس اور سول سروس کو مکمل تباہ کر کے خان صاحب نئے سرے سے دوبارہ کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر واقعی پولیس و سول سروس کو وہ تباہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ

پاکستان کو برطانوی راج سے پولیس کا سامراجی ڈھانچہ ورثے میں ملا، امن و امان کے فروغ، معاشرتی ہم آہنگی، سلامتی اور نفاذ قانون کے بجائے برطانوی حکمرانوں کی خدمت گزاری کے لیے جس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ 1861ء کے پولیس ایکٹ میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی بنیادی ترمیم نہیں کی گئی۔بلکہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے قوانین میں بھی برطانوی دور کے قانون کی روح کو کم و بیش برقرار رکھا گیا ہے۔ ہمارے موجودہ کلچر میں کم زوروں کو با اثر سیاسی اشرافیہ کا غلام بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی طاقت ور طبقات کی آلہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔

پولیس سے متعلق قوانین میں کبھی بھی اس سامراجی ورثے کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے جیسے جاگیردارانہ معاشرے میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے بغیر ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہو گا۔ 14 جنوری 2019ء کو پولیس ریفارم کمیٹی رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ’’ایک مؤثر فوج داری نظامِ انصاف کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اہم ترین ذمے داریوں میں شامل ہے۔ شفافیت کے ساتھ انصاف کے قیام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جیسے عنصر اثر انداز ہوتے ہیں.

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 میں قانون کے ہر کس و ناکس کے ساتھ یکساں سلوک کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ جرائم کے انسداد اور تفتیش کے ساتھ ساتھ ، پولیس شفاف عدالتی کارروائی اور از روئے ضابطہ قانونی عمل کے بنیادی حق کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جس کی ضمانت دستور کی شق 10 الف میں دی گئی ہے۔‘‘ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ عام شہری قانون کے مطابق اپنی شکایات کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کے بجائے اس سے گریز کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو حکمراں اشرافیہ کی خدمت گزاری سے محفوظ کرنے کے لیے، سپریم کورٹ نے ’’پولیس اصلاحات کمیٹی‘‘ تشکیل دی جس کا مقصد ٹھوس تجاویز ترتیب دینا تھا۔

اس کمیٹی نے اصلاحات کے لیے یہ نکات تجویز کیے۔ (الف) شکایت کے ازالے کا نظام (ب) شہری پولیسنگ (ج) انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مؤثر بنانا (د) پولیس کا احتساب اور (د) فوجداری نظام انصاف کا ادغام۔ ان تجاویز میں فوج کی ملٹری سیکریٹری ( ایم ایس) برانچ کی طرز پر ’’تعیناتی/ ترقی کے نظام‘‘ جیسے اہم ترین پہلو سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ میرٹ پر ترقی اور موزوں افراد کی تعیناتی کے لیے ایک جامع نظام کا نفاذ ہی اس کا واحد حل ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں پولیس اصلاحات پر دو درجن رپورٹس جاری ہو چکی ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں کسی کی بھی تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ اس کی فکر کی گئی۔ ’’2002ء فوکس گروپ برائے پولیس اصلاحات‘‘ میں شامل ہونا جمیل یوسف کے اور میرے لیے پریشان کُن تجربہ رہا۔

نیم دلی سے کیے گئے اقدامات سے دیانت دار افسران کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی نفاذِ قانون کا ہدف حاصل ہوتا ہے۔ اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس نے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیر نگرانی ان سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے پولیس آئی جیز پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی۔ پریزینٹیشنز میں آئی جی رینک کے سابق سینیئر افسران کی اصلاحات و تجاویز شامل کی گئی، ایک موجودہ آئی جی نے رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کا نقشہ وضع کیا۔ کسی بھی ملک کے نظام انصاف میں پولیس کی ناگزیریت کے پیش نظر ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس محکمے کو مکمل طور پر آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔ پولیس یا تو طاقتوروں کے سامنے کھڑے ہونے والے جرأت مند افسران کے انجام سے خوف زدہ ہے یا سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ان گنت بھرتیوں اور تقرری و معطلی کی وجہ سے پوری طرح سیاسی عناصر کے زیر دست ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ناقص تربیت، ناکافی ہتھیار اور عادی بدعنوانوں کے بوجھ تلے دبی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دیمک کی طرح اس کی بنیادیں چاٹ رہے ہیں۔ پولیس کو جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے، سندھ میں یہ حالات بدترین ہیں، کم سہی دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ دوسری جانب عزت مآب چیف جسٹس نے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پولیس نظام کی تباہ حالی کے باوجود، مقننہ اور حکومت ضروری اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سندھ کے سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کو جن حالات کا سامنا رہا وہ اس کی بڑی واضح مثال ہے، اپنی دیانت داری اور میرٹ کے باوجود ان کی ترقی نہ ہونا اس نظام کی تذلیل کے مترادف ہے۔

پولیس بہتر کارکردگی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے محکمے کو حکومت اور بڑی سیاسی جماعتوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پر سے ہر طرح کے دباؤ کا خاتمہ ہونا چاہے۔ بدقسمتی سے پولیس حکام اکثر ایسے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں جن کی روک تھام ان کا فرض ہے، دوسری جانب جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت سے بچ نکلے ہیں کیوں کہ انھیں پولیس کے اندر سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے ہی انھوں نے پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے درکار سب سے ضروری تبدیلی میں پیش رفت کو ممکن بنایا۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں۔ اس تحریر کے لیے 14جنوری 2019ء کو پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر کیے گئے چیف جسٹس کے اقتباسات سے مدد لی گئی۔)

اکرام سہگل

شہدائے پولیس کی قربانیاں بھی کسی سے کم نہیں

جیسا کہ پاک افواج کے جوان سرحدوں کی حفاظت اور ملک دشمن عناصر سے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کر کے تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں، اسی طرح وطن عزیز کے اندر عوام کے جان، مال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لیے قائم اداروں میں سرِفہرست محکمہ پولیس کا ادارہ ہے جو ملک بھر میں دہشت گردی، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرتے ہیں تو پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ملک کے اندر موجود، دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ قانون کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا سماج دشمن عناصر سے مقابلہ، ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ براء ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔

شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کی یاد میں نیشنل پولیس بیورو پاکستان کی جانب سے ہر سال چار اگست کا دن یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوم شہدائے پولیس کے منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یاد میں بڑی تقاریب کا انعقاد کرنا ہے جس میں شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کےلیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، شہداء کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں اور محکمہ پولیس کے شہداء کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ چاروں صوبوں کی پولیس اور اسپیشل فورسز کی جانب سے صوبائی، ریجنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں پولیس افسران، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ایف آر پی، ایلیٹ فورس، ٹرنینگ اسٹاف اور ٹریفک پولیس سمیت ہر یونٹ کے افسران اور جوان، شہدائے پولیس کے لواحقین کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔

یوم شہدائے پولیس پر اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہداء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے، ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔ نیشنل پولیس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث عناصر سے لڑتے ہوئے ڈی آئی جی سے کانسٹیبل تک مختلف رینک کے 2600 سے زائد پولیس افسران نے شہادت کے رتبے پر فائز ہو کر بہادری کی ایک نئی داستان رقم اور محکمہ پولیس کی توقیر میں اضافہ کیا ہے۔

بلاشبہ شہریوں کے ساتھ جب کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، تو مشکل کی اس گھڑی میں وہ پولیس کو ہی اپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں، کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پولیس ان کی مدد کو ضرور پہنچے گی۔ پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر ہر طرح کے حالات میں مدد کو پہنچتے ہیں، موسم کی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاص طور پر موسم گرما میں پچاس ڈگری درجہ حرارت میں بھی باوردی کانسٹیبل بلٹ پروف جیکٹ اور بھاری بھرکم گن اٹھائے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن پولیس فورس کی بات کرتے وقت عوام کے ذہن میں فوراً منفی تاثر ابھرتا ہے، اور فوراً پولیس کے کرپٹ ہونے کے الفاظ رواں ہو جاتے ہیں۔ عوام ہو یا میڈیا، غرضیکہ ہر کوئی پولیس پر تنقید کرتا نظر آتا ہے، لیکن ان شکایات کے برعکس اگر پولیس کے اوقات کار کی طوالت اور ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا اداراک ہے کہ پولیس جتنا سخت اور طویل ڈیوٹی کا کام کوئی اور محکمہ نہیں کرتا۔

کیا کبھی معاشرے کے کسی فرد نے فرض کی ادائیگی کے دوران ان اہلکاروں کے چہرے، اور ان کی آنکھوں میں چھپی حسرتوں کو پڑھنے کی کوشش کی ہے کہ عید جیسے تہوار پر ان کے بچے کتنی شدت سے ان کا انتظار کر رہے ہوں گے؟ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ تفریحی مقامات پر جب بچے اپنے والدین کے ہمراہ سیرو تفریح میں مشغول ہوتے ہیں تو کچھ فاصلے پر ان کی سیکیورٹی کے فرائض ادا کرنے والا کانسٹیبل گھر جا کر اپنے بچوں کو کس طرح بہلاتا ہو گا ؟
تمام تر معاشرتی بے حسی، نفرت، تنقید، تمسخر اورشدید ترین نکتہ چینی کے باوجود پولیس فرائض کی ادائیگی میں دن رات مصروف عمل ہے۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں پاکستان پولیس کا نظام انحطاط کا شکار رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ پولیس میں سیاسی مداخلت تھی۔ برسراقتدار افراد اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے جس سے پولیس عوام کو انصاف اور ریلیف فراہم کر نے کے اپنے اصل مقصد سے دور ہوتی چلی گئی۔

لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پولیس سسٹم میں خاصی بہتری آئی ہے، محکمہ پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہوا ہے اور اعلیٰ پولیس افسران نے اپنی ساری توجہ عوام کے پولیس پر اعتماد کو بحال کرنے پر مرکوز کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں سنگین وارداتوں کا گراف نیچے آیا ہے۔ پولیس سسٹم میں مزید بہتری کےلیے برسراقتدار طبقے، محنتی دیانت دار اور عوام دوست افسران کو ترقی دے کر اپنا موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں بڑی جنگوں اور معاملات میں نہ تو پولیس کو ملوث کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے نپٹنے کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے، لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایک ایسی جنگ میں ملوث ہو گئے جو ہماری تھی ہی نہیں۔ غلط فیصلوں اور غلط لالچ سے یہ پرائی جنگ ہمارے آنگن کی جنگ بن گئی اور اس میں سول آبادی بھی زد پر آگئی۔ اس گھمبیر صورتحال میں پولیس کو بھی اس میں شامل ہونا پڑا، کیونکہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمے داری تو ان کو نبھانا ہی تھی۔

ان حالات میں جب وطن عزیز میں دہشت گردی سے کوئی محفوظ نہ تھا، پولیس نے مسلح افواج اور دیگر فورسز کے ساتھ مل کر امن و امان کے قیام میں مثالی کردار ادا کیا، اس حوالے سے سب سے زیادہ قربانیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے دیں جنہوں نے شہادت کا جھومر ماتھے پر سجا کر ملک و ملت اور عوام دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ یوم شہدائے پولیس درحقیقت پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور اشتراک عمل کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے جس سے بھر پور استفادہ وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو آئندہ نسلوں کو پولیس کے شہداء کے کارناموں سے با خبر رکھنے کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈز کے تحت چھپنے والی درسی کتابوں میں اسباق شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ جس طرح افواج پاکستان کے شہدا کے تذکرے سے ان کی یادیں روشن کی جا رہی ہیں، اسی طرح پولیس کے شہداء کی یاد بھی نئی نسل کے سامنے اجاگر کر کے یہ بات ان کے ذہنوں میں بٹھائی جا سکتی ہے کہ پولیس اہلکار بھی ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہر لمحہ برسر پیکار رہتے ہیں۔ یوم شہدائے پولیس پر ہمیں شہدا ء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرنا چاہیے اور ان کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا عہد کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے پیاروں کی لازوال قربانیوں کی بدولت تمام شہری امن و سکون کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

رانا اعجاز حسین چوہان