سید منور حسن کا ایک منفرد انٹرویو

بیس اپریل 2011 کو منصورہ پہنچ کر امیر جماعت مرحوم سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ملاقات کا اہتمام پروفیسر طیب گلزار صاحب نے کیا تھا۔ اس وقت میں ایک برطانوی پبلشنگ ادارے کی جانب سے پاکستانی کرکٹ پر مشہور برطانوی صحافی اور مصنف پیٹر اوبورن کی طرف سے کتاب لکھنے کے پروجیکٹ کیلئے ریسرچر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ امیر جماعت کے بارے میں چونکہ مشہور تھا کہ وہ نہ صرف کرکٹ کے شیدائی ہیں بلکہ ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے ہیں اس لئے میں نے ان سے اس حوالے سے انٹرویو کی گزارش کی تھی۔ یہ انٹرویو اوبورن کی کتاب کا حصہ نہیں بن سکا مگر مرحوم منور حسن صاحب کے دیگر انٹرویوز کے مقابلے میں یہ کافی منفرد ہے۔

س: پاکستانی کرکٹ میں آپ کس چیز سے متاثر ہیں؟
ج: ہماری کرکٹ کافی منفرد ہے۔ یہ ہمیشہ توانا احساسات، جذبات اور قومی جوش و خروش سے بھرپور ہوتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کی تمام ٹیموں کو شکست دی ہے اور یہ ایک انتہائی فرحت بخش اور اعلیٰ احساس ہے۔

س: آپ نے کب اس کھیل میں حصہ لینا شروع کیا؟
ج: پہلے ہی دن سے۔ میں نے اپنی گریجویشن تک کرکٹ کھیلی اور یونیورسٹی سطح پر بیڈمنٹن بھی کھیلی۔ میری ذاتی دلچسپی سے قطع نظر ہم نے اس کھیل کو نوجوانوں سے تعلقات بنانے کیلئے ایک وسیلہ بنایا۔ مارشل لاکی وجہ سے ہماری طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبا پر پابندی تھی اس لئے ہم نے کرکٹ اور بیڈمنٹن کے توسط سے نوجوانوں کو اسلامی خطوط پر منظم کرنے کی کوشش کی اور ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

س: کرکٹ کے ساتھ اب جماعت کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟
ج: اس کے بعد ہم نے اس سے کچھ خاص استفادہ نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ سرمائے اور وقت دونوں کی کمی ہے۔ شاید اب اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے کیونکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کافی جامع ہے۔

س: کیا آپ اس کھیل کو ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کیلئے وسیلہ سمجھتے ہیں؟ حال ہی میں بھارت کے شہر موہالی میں پاک بھارت کرکٹ میچ کے تناظر میں ‘کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں کی گئیں۔
ج: اس طرح کی اصطلاح کا استعمال افسوسناک ہے اور یہ کھیل اور اس کی روح کو بدنام کرنے کے منافی ہے کیونکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی غیر ذمہ دارانہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اصل مسئلے کشمیر پر تو بالکل ہی بات نہیں کی جارہی۔

س: آپ کے خیال میں کرکٹ کو کیوں استعمال کیا جارہا ہے؟
ج: کیونکہ اس خطے میں کرکٹ ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ اس لئے بھارت اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے اس کا استعمال کررہا ہے۔ اسے پورا یقین ہے کہ اسے کشمیر کے بارے میں کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وہ کرکٹ کا استعمال کرکے کشمیر کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ کو مسخر کررہا ہے۔

س: پاکستان کیلئے کرکٹ کی کیا حیثیت ہے؟
ج: کرکٹ کا کھیل پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس کی حمایت میں سودمند ہو سکتا ہے۔ مثلاـ’’ جب پاکستان کی جیت ہوتی ہے تو پوری قوم بارگاہِ ایزدی میں سجدہ شکر بجا لاتی ہے۔ یہی طریقہ کار ہماری ٹیم میں بھی ہے۔ وہ اپنی پریکٹس کے دوران بھی عبادت گزار رہتی ہے جیسا کہ موہالی میں دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ہندو شدت پسندوں کو یہ ادا پسند نہیں آئی۔

س: پاکستانی ٹیم میں اس اچانک مذہبی جذبے کے ظہور میں کیا وجوہات کارفرما ہیں؟
ج: پوری مسلم دنیا میں مذہب اور اس کے ارکان کے ساتھ وابستگی بڑھ رہی ہے جس کی جھلک ہمیں پاکستانی ٹیم میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ تاریخ ساز لمحات بھی اس میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں جیسا کہ نائن الیون کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔

س: بھارت کے ساتھ حالیہ سیمی فائنل کے بعد کئی پاکستانی تجزیہ کاروں نے عندیہ دیا کہ کرکٹ نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا اور باہمی ملی جذبات کو مستحکم کیا۔
ج: کرکٹ کے مثبت سماجی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے پاس اس سے بھی اہم اور مضبوط مشترکہ اقدار ہیں جو ہمیں مستقل طور پر متحد رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً جہاد کا معاملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرتا ہے۔ اسی طرح شریعت کا نفاذ تمام مسلم معاشروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ حال ہی میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر لاکھوں پاکستانی جمع ہو گئے۔

س: پاکستان میں کرکٹ کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟
ج: اِن شاء ﷲ مستقبل تابناک ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی ٹیم کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔

س: کیا آپ کے بچے کرکٹ کھیلتے ہیں؟
ج: جی وہ کھیلتے ہیں۔ (مسکراتے ہوئے) حال ہی میں میرے بیٹے نے ایک مقامی میچ میں اکتیس گیندوں پر 72 رنز بنائے۔

مرتضیٰ شبلی

بشکریہ روزنامہ جنگ

شیرباز خان مزاری ملکی سیاست میں شرافت اور اصول پسندی کا عملی نمونہ

ممتاز سیاستدان سردار شیرباز خان مزاری ملکی سیاست میں وہ شرافت اور اصول پسندی کا عملی نمونہ تھے۔ ان کی تمام عمر سیاسی سرگرمیوں میں گزری، انھوں نے ایک فعال زندگی گزاری، گوکہ اب پیرانہ سالی کے باعث سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ شیر باز خان مزاری پنجاب میں آباد روجھان مزاری قبیلے کے سردار تھے، وہ نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے بانی تھے، 1970 کے انتخابات میں بطور آزاد امیدوار قومی اسمبلی کے ممبر کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے 1975 سے 1977 تک قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

انھوں نے 1973 کے آئین کی تیاری اور بعدازاں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔ سردار شیرباز مزاری کا شمار محب وطن، دیانت دار، با اصول اور حق گو سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچ قبائل کی تاریخ کے حوالے سے کتابیں بھی تحریر کیں، یعنی وہ ایک محقق اور مصنف بھی تھے اور وسیع مطالعہ کے حامل تھے۔ ایک تعلیم یافتہ، بردبار شخصیت کے حامل سردار شیر باز خان مزاری ہمارے سیاستدانوں کے لیے یقیناً ایک رول ماڈل کی بھی حیثیت رکھتے تھے، دیانت اور شرافت کا پیکر تھے ۔ قومی مسائل کے حل کا ایک واضح اور دوٹوک موقف رکھنے والے سیاستدان تھے۔  جمہوری حقوق کے علمبردار تھے اور جمہور کی فلاح ان کی زندگی کا نصب العین تھا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

فردوس عاشق چیمپئن ہیں

ہماری محبوب رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق جدھر جاتی ہیں کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہیں۔ کیا بیوروکریسی، کیا سیاست دان، انہوں نے سب کو آگے لگا رکھا ہے۔  سیالکوٹ فروٹ منڈی میں بیوروکریسی کی خبر لی تو اسلام آباد کے ایک ٹاک شو میں قادر مندو خیل کو تھپڑ مار ڈالا، بات یہیں تک محدود نہیں۔ وہ اس سے پہلے اینٹیں توڑنے، موٹر سائیکل چلانے اور کرکٹ کھیلنے کے مظاہرے بھی کر چکی ہیں موصوفہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، سو وہ ٹیکے لگانے کی بھی ماہر ہیں جسے چاہیں مریض بنا کر ویکسین کا ٹیکہ لگا دیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی جملہ خصوصیات اور سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر شعبے کی چیمپئن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی رفتار چھلاوے جیسی ہے، آج ادھر ہیں تو کل اسلام آباد میں ہوں گی، دوپہر سیالکوٹ میں ہیں تو شام فیصل آباد میں ہوں گی۔ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں فاصلہ ان کی صرف ایک چھلانگ کے برابر ہے۔ رفتار ان کی تیزگام جیسی ہے۔

اِدھر فیصل آباد پریس کلب میں ویکسین سینٹر کا افتتاح کیا، اُدھر شام کو اسلام آباد کے ٹاک شو میں براجمان ہو گئیں۔ ان کی رفتار کو پکڑنا کسی عام آدمی کے بس میں نہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا بیانیہ بڑا واضح ہے۔ (ن) لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، کسی کے لئے ان کے پاس رحم کی گنجائش نہیں۔ (ن) لیگ کی خواتین قیادت بالخصوص ان کا نشانہ ہے۔ وہ اُنہیں راجکماری اور کنیزوں کے لقب سے پکارتی ہیں۔ ان کا موضوع سخن بالخصوص مریم نواز اور مریم اورنگزیب ہیں ڈر اس دن سے لگ رہا ہے جب چیمپئن فردوس عاشق کا مقابلہ نہتی اور اکیلی مریم اورنگزیب سے ہو گیا تو کیا ہو گا؟ اور اگر خدانخواستہ ہاتھا پائی تک نوبت آ گئی جس کا چیمپئن کی موجودگی میں بہت زیادہ امکان ہے تو پھر کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق تو چاہیں گی کہ تمام سیاسی فیصلے آمنے سامنے کے مقابلے کے ذریعے ہی کئے جائیں، یہ الگ بات ہے کہ ن لیگی خواتین اس مقابلے سے ہی گریز کریں۔ گو پاکستان کا سیاسی میدان کافی وسیع ہے، اس میں طرح طرح کی لڑائیاں جاری رہتی ہیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ وہ ان لڑائیوں میں سے ہمیشہ خود کو توجہ کا مرکز بنائے رکھتی ہیں۔

ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ان کا کردار اہم تھا، ابھی مسلم لیگ ن کے ایم پی اے خوش اختر سبحانی کی وفات کے بعد جو نشست خالی ہوئی ہے وہاں پھر ضمنی انتخاب ہو گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق نے ابھی سے وہاں مضبوط اور دولتمند امیدوار کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پچھلی بار 40 ہزار ووٹ لینے والا سعید بھلی پریشان بیٹھا ہے جبکہ ڈاکٹر صاحبہ پہلے سیالکوٹ کے چیموں کے دروازے پر دستک دیتی رہیں، وہ تیار نہ ہوئے تو اب قیصر بریار کو ٹکٹ دلوا دیا گیا، یوں جاٹ گوجر مقابلہ ہوگا۔ بریار اور ڈاکٹر فردوس عاشق زور تو لگائیں گے، نتیجہ دیکھیں کیا ہو گا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق وفاق سے پنجاب میں آ تو گئی ہیں مگر وفاق کو نہیں بھولیں۔ ایک زمانے میں جب سینیٹر شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات تھے تو ڈاکٹر فردوس عاشق پنجاب میں ہوتے ہوئے بھی پورے ملک پر چھا گئی تھیں۔ چودھری فواد کے آنے کے بعد سے اب معاملات معمول کے مطابق چل پڑے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں، اسپورٹس، سیاست اور سماجی حالات سب پر وہ اتھارٹی ہیں، انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا، اس لئے سیاست تو ان کی نس نس میں بھری ہے۔ حلقے کی سیاست ہو، ضلع سیالکوٹ کی سیاست یا پنجاب یا وفاق کی سیاست، ان کا ہر ایک میں کردار ہے۔ ہر جگہ ان کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا دخل بھی نظر آتا ہے۔ سیالکوٹ میں ڈار برادران سے ان کے معاملات میں اونچ نیچ کا تو ہر ایک کو علم ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی دلیری اور بہادری ہے، وہ اپنے سیاسی بیانیے اور اپنے سیاسی دھڑے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس موقف کے لئے انہیں ہاتھ پائوں کا استعمال بھی کرنا پڑ جائے تو وہ دریغ نہیں کرتیں جہاں زبان سے کام نہ چلے وہ تھپڑ سے بھی کام چلا لیتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کی منفرد بات یہ ہے کہ وہ مردوں میں مرد اور عورتوں میں عورت بن جاتی ہیں، ان کی میک اپ اور ڈریس پر توجہ بتاتی ہے کہ وہ اندر سے پوری عورت ہیں لیکن کرکٹ میں چوکے چھکے لگانے ہوں، جوڈو کراٹے میں اینٹیں توڑنی ہو، موٹر سائیکل چلانی ہو تو وہ مردوں سے پیچھے نہیں رہتیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق کو پنجاب میں اطلاعات کا خصوصی مشیر اس لئے بنا کر بھیجا گیا کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار صاحب کے کارناموں کو عوام کے سامنے اجاگر کریں چنانچہ جس دن سے وہ پنجاب میں آئی ہیں اس دن سے بزدار کی گڈی چڑھ گئی ہے اور اپوزیشن کی پتنگ کٹ گئی ہے۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا جب ڈاکٹر فردوس اپوزیشن کی راج کماریوں اور کنیزوں پر نہیں برستیں اور کوئی دن خال نہیں جاتا جس روز ڈاکٹر فردوس عاشق بزدار کی تعریف میں ڈونگرے نہ برسائیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اس قدر سرگرم ہو گئی ہیں کہ بعض اوقات ان کی سرگرمیاں، یعنی کسی کے ساتھ سردی اور کسی کے ساتھ گرمی، اس قدر شہرت اختیار کر لیتی ہیں کہ بزدار اور پی ٹی آئی کی سیاست پیچھے رہ جاتی ہے۔

میں ذاتی طور پر ڈاکٹر فردوس عاشق کا خیر خواہ ہوں لیکن آج کل ان کے لئے پریشان بھی ہوں کیونکہ انہوں نے ہر طرف جھنڈے تو گاڑ دیے ہیں لیکن ان کی بےپناہ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مقابلے میں ان کے پاس اختیارات بہت کم ہیں۔ ان جیسی باصلاحیت رہنما کے پاس کئی محکمے اور کئی شعبے ہونے چاہئیں۔ صرف اطلاعات کا شعبہ بلکہ چھوٹی سی محکمی انہیں دینا ان کی بےپناہ صلاحیتوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وزیراعلیٰ پنجاب لا اینڈ آرڈر کا شعبہ ان کے حوالے کر دیں وہ ایسا ڈنڈا پھیریں گی کہ صوبے سے چوروں، ڈاکوئوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اپوزیشن اس کا تو کوئی نام لیوا تک نہیں رہے گا۔ ہر شخصیت کے بارے ستارہ شناس یہ قیافہ لگاتے ہیں کہ وہ دس سال بعد کہاں ہو گی؟ ڈاکٹر فردوس کے بارے میں علمِ نجوم کے ماہرین جو بھی کہیں، علمِ سیاست کے ماہر ببانگ دہل یہ کہیں گے کہ ڈاکٹر فردوس دس سال بعد میدانِ سیاست میں چمک رہی ہو گی۔

حکومت کوئی بھی ہو گی لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ اس میں عروج پر ہو گا۔ ڈاکٹر صاحبہ ایسی خصوصیات کی حامل ہیں کہ حکومتوں کے زوال سے انہیں فرق نہیں پڑتا۔ وہ کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ نکال کر گہرے بادلوں سے نکل کر پھر سے چمکنا شروع کر دیتی ہیں۔ خصوصیات کے علاوہ انہیں روحانی دعائوں کی آشیرباد بھی حاصل ہے، خاص کر ان کی بیمار اور بوڑھی والدہ کی دعائیں اور پھر روحانی شخصیتوں کی سپورٹ بھی موجود ہے۔ میری دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کا ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا شروع کریں یہ نہ ہو کہ کسی دن کوئی پہلوان مدِمقابل آجائے اور پھر ڈاکٹر صاحبہ کی طاقت کا بھرم کھل جائے۔ ویسے بھی سخت زبان اور ہاتھ پائوں کا استعمال ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔

سہیل وڑائچ

بشکریہ روزنامہ جنگ

ریاست مدینہ کا راستہ

ممتا بینر جی نے تیسری بار مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ بن کر ریکارڈ قائم کر دیا‘ یہ بھارت کی تاریخ میں 15 سال مسلسل سی ایم رہنے والی پہلی سیاست دان ہوں گی‘ ممتا جی انڈیا کی طاقتور ترین اور دنیا کی سو بااثر ترین خواتین میں بھی شامل ہیں اور یہ دنیا کی واحد سیاست دان بھی ہیں جو سیاست دان کے ساتھ ساتھ گیت نگار‘ موسیقار‘ ادیب اور مصورہ بھی ہیں۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ‘ سیکڑوں گیتوں کی شاعرہ اور تین سو بیسٹ سیلر پینٹنگز کی مصورہ بھی ہیں اور یہ ہندوستان کی پہلی سیاست دان بھی ہیں جس نے سادگی اور غریبانہ طرز رہائش کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی کو شکست دے دی ‘ یہ بنگال میں دیدی کہلاتی ہیں اور دنیا میں کامیاب سیاست کی بہت بڑی کیس اسٹڈی ہیں‘ ممتابینر جی نے کیا کیا اور یہ کیسے کیا؟ ہم اس طرف آئیں گے لیکن ہم پہلے اس خاتون کا بیک گراؤنڈ جان لیں۔ ممتا بینر جی 1955 میں کولکتہ میں پیدا ہوئیں‘ والد چھوٹے سے سیاسی ورکر تھے‘ والدہ ہاؤس وائف تھیں‘ یہ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں‘ والد فوت ہو گئے‘ خاندانی برہمن ہیں‘ چھوت چھات کے پابند ہیں‘ ممتا کالج پہنچیں تو اسلامی تاریخ سے متعارف ہوئیں اور آہستہ آہستہ اسلامی تعلیمات میں اترتی چلی گئیں۔

یہ اکثر اپنے آپ سے سوال کیا کرتی تھیں حجاز جیسے جاہل معاشرے میں ایک شخص نے انقلاب کیسے برپا کر دیا‘ یہ 53 سال کی عمر میں مکہ سے ہجرت کر گئے اور 10 سال بعد یہ نہ صرف پورے حجاز کے مالک تھے بلکہ یہ دنیا کی دونوں سپر پاورز کے دروازے پر دستک بھی دے رہے تھے‘ آخر ان لوگوں میں کیا کمال‘ کیا خوبی تھی؟ یہ جواب تلاش کرنا شروع کیا تو پتا چلا سادگی اور عاجزی نبی اکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کا سب سے بڑا ہتھیار تھا‘ یہ لوگ مال ومتاع‘ عیش وآرام اور نمودونمائش سے بالاتر تھے اور کردار کی یہ خوبیاں انسانوں اور لیڈرز دونوں کو عظیم بنا دیتی ہیں۔ ممتا بینرجی نے یہ فارمولا چیک کرنے کا فیصلہ کیا‘ اس نے سادگی کو اپنا ہتھیار اور زیور بنا لیا اور پھر کمال ہو گیا‘ یہ 15 سال کی عمر میں اسٹوڈنٹ لیڈر بنیں‘ اسلامک ہسٹری‘ ایجوکیشن اور قانون میں ڈگریاں لیں‘ سیاست میں آئیں اور 29 سال کی عمر میں سی پی آئی ایم پارٹی کے لیڈر سومناتھ چیٹر جی کو ہرا کر پورے انڈیا کو حیران کر دیا‘ یہ 1984 کی لوک سبھا کی کم عمر ترین ایم ایل اے تھیں‘ یہ چھ بار اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں‘ اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کی حکومت میں تین بار وفاقی وزیر بنیں اور پھر 2011 میں استعفیٰ دے کر صوبے کا الیکشن لڑا اور بنگال کی سی ایم بن گئیں اور پھر 2016 میں دوسری بار اور 2021 میں تیسری بار الیکٹ ہو گئیں۔

ممتا بینر جی نے 1998 میں اپنی سیاسی جماعت آل انڈیا ترینمول کانگریس بنائی تھی ‘ یہ جماعت ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے‘ پارٹی نے کُل 292 سیٹوں میں سے 2011 میں 184‘ 2016 میں 209 اور 2021 میں 213 سیٹیں حاصل کیں‘ یہ بھی انڈیا میں ریکارڈ ہے‘ ممتاجی سے پہلے مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی 34 سال حکمران رہی‘ ملک کی بڑی سے بڑی سیاسی جماعت بھی کمیونسٹ پارٹی کا مقابلہ نہ کر سکی لیکن یہ آئیں اوراسے ناک آؤٹ کرنا شروع کر دیا اور 2021 کے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک بھی امیدوار اسمبلی نہیں پہنچ سکا۔ یہ مسلمانوں اور خواتین دونوں میں بہت پاپولر ہیں‘ بنگال کے 30 فیصد ووٹرز مسلمان ہیں‘ یہ سب انھیں ووٹ دیتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ مسلمانوں کا احترام کرتی ہیں‘ نریندر مودی ان کی مسلم دوستی کو ’’دشمن سے محبت‘‘ قرار دیتے ہیں اور انھیں طنزاً بیگم کہتے ہیں‘ بی جے پی نے 2021 کے الیکشن میں ممتا بینر جی کو ہرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن اس کے باوجود صرف 77 سیٹیں حاصل کر سکی جب کہ ممتا بینرجی نے 213 سیٹیں لیں‘ کیا یہ کمال نہیں؟۔

ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں ممتا بینرجی نے یہ کمال کیا کیسے؟ اس کے پیچھے ان کی سادگی اور عاجزی ہے‘ یہ غیرشادی شدہ سنگل خاتون ہیں‘ گیارہ سال سے 10 کروڑ لوگوں کے صوبے کی سی ایم ہیں لیکن یہ آج تک چیف منسٹر ہاؤس میں نہیں رہیں‘ کولکتہ کی ہریش چیٹرجی اسٹریٹ میں ان کا دو کمرے کا مکان ہے‘ یہ اس میں رہتی ہیں اور گھر میں کوئی ملازم بھی نہیں‘ یہ تین بار وفاقی وزیر اور دو بار چیف منسٹر رہیں‘ اس حیثیت سے انھیں دو لاکھ روپے پنشن ملتی ہے‘ آج تک انھوں نے یہ پنشن نہیں لی‘ انھوں نے آج تک وزیراعلیٰ کی تنخواہ بھی وصول نہیں کی‘ اپنے سارے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کرتی ہیں اور چائے بھی سرکاری نہیں پیتیں لیکن سوال یہ ہے ان کی ذاتی جیب میں پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ یہ ان کی کتابوں اور کیسٹوں کی رائلٹی ہے۔ یہ 87 کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں سے کئی کتابیں بیسٹ سیلر ہیں‘ان کی کیسٹس بھی بک جاتی ہیں یوں انھیں سالانہ پانچ سات لاکھ روپے مل جاتے ہیں اور یہ ان سے اپنے تمام اخراجات پورے کر لیتی ہیں‘ ان کی پینٹنگز بھی بکتی ہیں مگر یہ وہ رقم ڈونیشن میں دے دیتی ہیں‘ دوروں کے دوران ٹی اے ڈی اے بھی نہیں لیتیں اور ریسٹ ہاؤسز کے بل بھی اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں‘ اکانومی کلاس میں سفر کرتی ہیں‘ ہمیشہ سستی سی سفید ساڑھی اور ہوائی چپل پہنتی ہیں۔

کسی شخص نے آج تک انھیں رنگین قیمتی ساڑھی اور سینڈل میں نہیں دیکھا‘ میک اپ بالکل نہیں کرتیں‘ زیور کوئی ہے نہیں‘ سرکاری گاڑی بھی صرف سرکاری کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں‘ پانی بھی نلکے کا پیتی ہیں اور گھر میں فرنیچر بھی پرانا اور سستا ہے‘ یہ اگر سڑک پر چل رہی ہوں تو کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا ترکاری کا تھیلا اٹھا کر چلنے والی یہ خاتون 10 کروڑ لوگوں کی وزیراعلیٰ ہیں‘ دنیا نے انھیں موسٹ پاور فل وومن کی لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور یہ انڈیا کی آئرن لیڈی اور جمہوری ریکارڈ ہولڈر بھی ہیں‘ یہ چال ڈھال اور حلیے سے عام گھریلو ملازمہ دکھائی دیتی ہیں لیکن اس خاتون نے صوبے میں کمال کر دیا‘ صحت‘ تعلیم‘ انفراسٹرکچر‘ وومن ایمپاورمنٹ‘ روزگار‘ اسپورٹس اور مذہبی ہم آہنگی اس نے ہر شعبے میں نئی مثالیں قائم کر دیں‘ یہ مسلمانوں کو اسلام کی باتیں بتاتی ہیں اور ہندوؤں کو گیتا میں سے امن کے پیغام پڑھ پڑھ کر سناتی ہیں‘ یہ سب کی دیدی ہیں۔ ہم اگر ممتا بینرجی کی زندگی کا تجزیہ کریں تو ہم سادگی اور عاجزی کی طاقت کے قائل ہو جائیں گے‘ دنیا میں یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جن کا آج تک کوئی توڑ ایجاد نہیں ہو سکا‘

یہ دونوں موسٹ پاورفل ویپن ہیں‘ آپ زندگی میں ایک بار سادگی اور عاجزی اپنا کر دیکھ لیں آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ آپ کسی دن ریاست مدینہ کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو اس میں بھی عاجزی اور سادگی ملے گی‘ ریاست مدینہ میں سادگی کا یہ عالم تھا نبی رسالتؐ نے وصال سے قبل حضرت عائشہؓ سے پوچھا‘ میں نے آپ کو سات دینار دیے تھے‘ کیا وہ ابھی تک آپ کے پاس ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’جی میرے پاس ہیں‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’نکالیں اور ابھی خیرات کر دیں‘ مجھے شرم آتی ہے میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں اور میرے گھر میں مال موجود ہو‘‘ آپؐ کے بعد چاروں خلفاء راشدین کے وصال کے وقت بھی کسی کے گھر میں مال ودولت نہیں تھی‘ یہ لوگ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے‘ کچے گھروں میں رہتے تھے اور اینٹ پر سر رکھ کر سو جاتے تھے لیکن ان بوریا نشینوں کی ہیبت سے قیصر اور کسریٰ کے محل لرزتے تھے‘ حضرت عمرؓ فاتح شام حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔

یہ اس وقت دنیا کے مہذب ترین خطے کے گورنر تھے لیکن گھر میں ایک پیالے اور کھردری دری کے سوا کچھ نہیں تھا‘ یہ سادگی دیکھ کر حضرت عمرفاروقؓ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور پیچھے رہ گئی عاجزی تو نبی اکرمؐ کی حدیث کا مفہوم ہے ’’جو شخص بھی اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا رتبہ بلند کر دیتا ہے‘‘ اس سے آپ عاجزی کا رتبہ اور طاقت دیکھ لیجیے‘ یہ اتنے بڑے ہتھیار ہیں کہ انھیں اگر ایک برہمن خاتون بھی اپنا لے تو یہ حکومت کاری کا ریکارڈ قائم کر دیتی ہے اور لوگ حیرت سے منہ کھول کر دھان پان سی اس غریب خاتون کو دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا ممتا بینر جی مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ بنگال کو ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہیں لیکن انھوں نے ریاست مدینہ کے صرف دو اصول اپنا کر 58 اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مار دیا لہٰذا میری عمران خان‘ بلاول بھٹو اور مریم نواز سے درخواست ہے آپ اگر واقعی لیڈر بننا چاہتے ہیں اور ملک کو ریاست مدینہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ پلیز چند لمحوں کے لیے ممتا بینرجی کو دیکھ لیں‘ آپ بس ایسے بن جائیں‘ دنیا آخری سانس تک آپ کا نام نہیں بجھنے دے گی ورنہ آپ بھی اس جگنو ستان کے جگنو بن کر بجھ جائیں گے اور آپ کے بعد آپ کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔

جاوید چوہدری

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سیاسی قائدین سے گزارش

مقاصدِ شرعیہ میں ایک ”سَدِّ ذرائع‘‘ ہے، یعنی ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنا کہ برائی کا راستہ رک جائے۔ شریعت میں اس کی متعدد مثالیں ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور (اے مسلمانو!) تم مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ نادانی اور سرکشی سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے‘‘ (الانعام: 108)۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے باطل معبودوں کو برا کہنے سے اس لیے منع نہیں فرمایا کہ وہ تعظیم کے لائق ہیں بلکہ اس لیے منع فرمایا کہ مبادا ان کے پجاری ضد میں آکر اللہ کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ کہہ دیں۔ جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو جنت میں داخل کیا گیا تو انہیں حکم ہوا: ”اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائو گے‘‘ (الاعراف: 19)۔ اس میں براہِ راست درخت کا پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ قریب جانے سے منع فرمایا کیونکہ جب قریب جائیں گے تو پھل کھانے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی ایسی ہدایات موجود ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ امور سے بچا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو بچا لیا اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو گیا، وہ اس چرواہے کی طرح ہے، جو ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد اپنے مویشی چَراتا ہے، اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ اس کے مویشی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائیں گے۔ خبردار! ہر بادشاہ کی کچھ ممنوعہ حدود ہوتی ہیں اور اس زمین میں اللہ کی ممنوعہ حدود اس کے محرّمات ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب اس میں خرابی پیدا ہو تو پورا جسم فاسد ہو جاتا ہے، سنو! وہ (گوشت کا لوتھڑا) دل ہے‘‘ (بخاری: 52)۔ پس مشتبہات اور ممنوعہ امور سے بچنا ہی دانش مندی ہے اور اسی میں عزت و آبرو اور دین و دنیا کی فلاح ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! کیا کوئی ایسا (بدبخت) شخص بھی ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! وہ دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ دوسرے شخص کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ (ردِّعمل میں) اس کی ماں کو گالی دیتا ہے‘‘ (مسلم: 90)۔ الغرض دوسرے کے ماں باپ کو گالی دینے والا دراصل اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا سبب بنتا ہے، دوسرے کے ماں باپ کی بے عزتی کرنے والا اپنے ماں باپ کی بے توقیری کا سبب بنتا ہے، اگر اس کے ہاتھوں دوسرے کے ماں باپ کی عزت و آبرو پامال نہ ہو تو اس کے ماں باپ کی آبرو بھی سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (1) ”یہ اللہ کی (ممنوعہ) حدود ہیں، پس ان کے قریب بھی نہ جائو، اللہ اسی طرح لوگوں کے لیے اپنی نشانیاں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں‘‘ (البقرہ:187)، (2) ”اور عَلانیہ اور پوشیدہ بے حیائیوں کے قریب نہ جائو‘‘ (الانعام: 151)، (3) ”اور بدکاری کے تو قریب بھی نہ جائو، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے‘‘ (الاسراء: 32)۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، جسے وہ لازماً پائے گا، پس آنکھ کا زنا (ہوس بھری نظروں سے) دیکھنا ہے اور جب مرد کی نامَحرم پر نظر پڑتی ہے، تو (نامَحرم سے) منہ پھیر لینے سے (اس کی پاکبازی کی) تصدیق ہوتی ہے اور زبان کا زنا (شہوت انگیز) باتیں کرنا ہے اور دل میں (زنا کی) تحریک پیدا ہوتی ہے اور شرم گاہ (گناہ میں مبتلا ہو کر) کبھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور کبھی (گناہ سے بچ کر) اس کی تکذیب کرتی ہے‘‘ (مسند احمد: 8215)، (2) ”جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ (کوشریعت کے تابع رکھنے) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ (بخاری: 6474)۔ اعلانِ نبوت سے پہلے سیلاب کے سبب کعبۃ اللہ کے منہدم ہونے کے بعد قریش نے از سرِ نو اس کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا، رسول اللہﷺ کی عمرِ مبارک اُس وقت پینتیس برس تھی، آپﷺ نے بھی تعمیرِ کعبہ میں حصہ لیا، پھر جب حجرِ اسود کو اپنے مقام پر نصب کرنے کا وقت آیا تو قریش کے سرداروں میں جھگڑا ہونے لگا، وہ کسی ایک کو یہ اعزاز دینے پر آمادہ نہ ہوئے، چنانچہ آپﷺ کو منصف بنایا گیا۔ آپﷺ نے ایک چادر بچھائی، اُس پر حجرِ اسود کو رکھا اور قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں سے فرمایا: اس کا ایک ایک کونا پکڑ کر اسے اٹھائیں اور جب وہ اپنے مقام تک بلند ہو گیا تو آپﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اُسے اٹھا کر اس کے مقام پر نصب فرما دیا، اس طرح آپﷺ کی قائدانہ بصیرت سے یہ مسئلہ حل ہوا۔

قریش نے یہ طے کیا تھا کہ بیت اللہ کی تعمیر پر صرف حلال مال لگایا جائے گا، مگر حلال مال اس قدر جمع نہ ہو سکا تھا کہ بِنائے ابراہیمی کے مطابق بیت اللہ کی عمارت کو مکمل کیا جا سکے، تو انہوں نے شمال کی جانب کم و بیش تین میٹر کا حصہ موجودہ عمارت سے باہر رکھا، اسی کو ”حطیمِ کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنا۔ رسول اللہﷺ کی دلی خواہش تھی کہ کعبۃ اللہ کو دوبارہ بنائے ابراہیمی پر تعمیر کیا جائے، لیکن آپﷺ نے وسائل ہونے کے باوجود دینی حکمت کے تحت اپنی خواہش پر عمل نہیں فرمایا، آپﷺ نے فرمایا: عائشہؓ! اگر تمہاری قوم کا زمانۂ شرک تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں کعبۃ اللہ کو منہدم کر کے زمین سے ملا دیتا اور پھر اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب اور اس میں حِجر (حطیم) کی جانب تقریباً تین گز کا اضافہ کرتا، کیونکہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو عمارت کے رقبے میں کچھ کمی کر دی تھی‘‘ (مسلم: 401)۔

قرآن و حدیث اور سیرتِ مصطفیﷺ سے ہم نے یہ مثالیں اس لیے بیان کی ہیں کہ ہمارے سیاسی قائدین ان سے سبق حاصل کریں، کئی سالوں سے ہمارے قائدین کا وتیرہ بن گیا ہے: حزبِ اقتدار والے اپنے مخالفین کو چور، ڈاکو، خائن، غدار اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں، اس کے جواب میں اپوزیشن والے اُن پر نااہل، نالائق، کشمیر کا سودا کرنے والے، چینی چور، آٹا چور، پیٹرول، میڈیسن مافیا اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سب کچھ سن کر کہتے ہیں: ”یہ دونوں سچے ہیں، یہ ایک دوسرے کے بارے میں جو فتوے صادر کرتے ہیں، وہی سچ ہے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ کہا جا رہا ہے‘‘۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ عربی کا مقولہ ہے:”جس نے دوسروں کی عزت کی، اُس نے خود اپنے لیے عزت کمائی‘‘۔ احتساب کے لیے گالی گلوچ ضروری نہیں ہے، شفاف، بے لاگ، غیر جانبدار اور نظر آنے والا انصاف ضروری ہے، اس کے لیے ادارے قائم ہیں، اُن کو بیرونی جبر سے آزاد ماحول میں اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اس شور وغوغا میں ان اداروں کی حرمت بھی پامال ہو رہی ہے، ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ حکومتِ وقت کے دبائو میں ہیں اور احتساب یک طرفہ ہو رہا ہے۔

ہمارے ہاں گالی گلوچ کے لیے باقاعدہ فوجِ ظفر موج رکھی گئی ہے، جو میڈیا کے سامنے، ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی توہین، تذلیل اور تحقیر میں مصروف ہے۔ نئی نسل کے ذہنوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ اب یہ اندازِ گفتار اور لب و لہجہ ہمارے نوجوانوں کے روز مرہ کا حصہ بن رہا ہے، اس کا ثبوت سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ وہ لوگ جو قیادت کے منصب پر فائز ہیں، انہیں مدبّر، متین اور بردبار ہونا چاہیے تاکہ لوگ انہیں ان کی خوبیوں سے پہچانیں۔ اندازِ کلام کسی بھی معاشرے کے آداب اور اقدار کا ترجمان ہوتا ہے، انسان اپنی گفتار سے پہچانا جاتا ہے، شرافت اور متانت انسانیت کے محاسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ”اُس کی نشانیوں میں سے تمہاری بولیوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے‘‘ (الروم: 22) نیز فرمایا: ”اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت بنا دیتا مگر لوگ برابر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اُس کے کہ جن پر تمہارا رب رحم فرمائے‘‘ (ہود: 118)۔

ایک دور تھا کہ ہمارے سیاسی و مذہبی قائدین میں وضع داری اور رواداری قائم تھی، اختلاف کے باوجود وہ مشترکات کے لیے مل بیٹھتے تھے، ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ نہیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے موقف اور پالیسیوں سے اپنے دلائل کی روشنی میں اختلاف کرتے تھے، مگر اب آغاز ہی ذاتیات سے ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (1) ”مومن لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا‘‘ (ترمذی: 1977)، (2) ”ایک انسان سوچے سمجھے بغیر کوئی ایسا کلمہ زبان سے کہہ دیتا ہے، وہ کلمہ اس کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے‘‘ (بخاری: 6477)، (3) ”جو کسی مسلمان کی ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اللہ تعالیٰ اُسے اُس وقت تک ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ میں رکھے گا جب تک کہ اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہو جائے‘‘ (ابودائود: 3597)۔ ”رَدْغَۃُ الْخَبَال‘‘ جہنم کی اُس وادی کو کہتے ہیں جس میں جہنمیوں کا پیپ اور خون جمع ہوتا ہے۔

معراج النبی کے موقع پررسول اللہﷺ کا گزر ایک چھوٹے پتھر کے پاس سے ہوا جس سے روشنی نکل رہی تھی، آپﷺ نے دیکھا: اُس سے ایک بیل نکلا، پھر وہ اُسی سوراخ میں واپس داخل ہونا چاہتا ہے مگر داخل نہیں ہو پاتا۔ آپﷺ نے جبریل سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اُس شخص کی مثال ہے جو سوچے سمجھے بغیر بات کر لیتا ہے، پھر اس پر نادم ہوتا ہے اور اُسے واپس لینا چاہتا ہے، مگر ایسا کر نہیں سکتا‘‘ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِیْ، ج: 2، ص: 397)۔ پس سیاسی قائدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے فریقِ مخالف کی نہیں تو اپنی عزت کا پاس رکھیں، ایسا شعار، اندازِ گفتار اور رویہ اختیار نہ کریں کہ ردِّعمل میں ان کی اپنی عزت پامال ہو اور دنیا کو یہ تاثر ملے کہ ہمارے قانون ساز ادارے بے وقعت ہیں، بے توقیر ہیں، باہمی نفرتوں کا مرکز ہیں۔ یہ جس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اُس کو چھوڑ کر غیر ضروری باتوں میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ سطور ہم نے خیر خواہی کے طور پر لکھی ہیں، نہ کسی کی حمایت مقصود ہے اور نہ مخالفت، کیونکہ لوگ پسند کریں یا ناپسند، یہ قوم کے رہنما بنے بیٹھے ہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن

بشکریہ دنیا نیوز

شہباز شریف کا شکوہ اور جواب شکوہ

شہباز شریف کا شکوہ ہے کہ ان کے بھائی اور بعد میں ان کی بھتیجی کی ضد نے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے بطور سیاسی جماعت زمین تنگ کر دی ہے۔ ایک حد تک یہ شکوہ درست ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی سیاست اتنے پیچ و خم سے گزری ہے کہ نہ ان کے اعتراض سمجھ میں آتے ہیں اور نہ ہی اعتراف۔ شہباز شریف کیمپ کا یہ کہنا جائز ہے کہ ان کی قیادت کی سیاست کی جڑوں میں کسی انقلاب کا خون نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو طے کر کے قافلے کو آگے بڑھانے والے لائحہ عمل نے اسے سینچا ہے۔ یہ اعتراض بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ نواز شریف پاناما کیس میں خود سے چل کر اس جکڑ کا شکار ہوئے جس نے ان کو طاقت، سیاست اور ملک سے جلاوطن کرنے کا ماحول بنایا۔ اس بات میں بھی وزن ہے کہ مریم نواز ہر وقت تلوار اٹھا کر جو سیاسی خونریزی کرتی ہیں اس کے نتائج شہباز شریف کو بھی بھگتنے پڑے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا کچھ غصہ مریم اور نواز شریف پر نکلا مگر زیادہ متاثر شہباز شریف ہوئے۔

نواز شریف کی اولاد کے بر عکس ان کے کاروبار پاکستان میں ہیں جہاں پر ریاستی اداروں کا زور زیادہ چلتا ہے، لہذا شہباز شریف کی بازو مریم نواز کی سیاست کی وجہ سے زیادہ مروڑی گئی۔ اس اعتراض کا جواب دینا بھی مشکل ہے کہ نواز شریف موجودہ پالیسی کو کب تک چلا پائیں گے۔ وہ کون سی منزل ہے جو اپنے جنگجوانہ رویے سے قریب آتی نظر آ رہی ہے۔ تین سال سے مسلسل جھگڑے نے اسٹیبلشمنٹ کی آنے والی قیادت کو بھی جماعت کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ جو مسائل اب کھڑے کیے گئے ہیں وہ موجودہ قیادت کے جانے سے حل نہیں ہوں گے۔ آنے والے پچھلے چار سال کی تاریخ سے ہونے والی ذہن سازی کے ماتحت رہیں گے۔ وقت گزرتا جائے گا، لڑائی جاری رہے گی۔ نہ کوئی نتیجہ نکلے گا، نہ فائدہ ہو گا۔ خدا بھی نہ ملے گا، صنم بھی ناراض ہو گا۔ ایسے میں لائحہ عمل کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔

مگر ہر شکوے کا جواب بھی ہوتا ہے۔ اس کو سنیئے تو محسوس ہو گا کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کرنے کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ ذہنی دھند کا شکار ہیں جو نواز شریف کی مزاحمتی پالیسی پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ فرق ضرور ہے کہ مزاحمت و اعتراض کرنے والے اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتے ہیں کیوں کہ وہ آئین، قانون اور تاریخ کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسی تسلی شہباز شریف کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ جواب شکوہ کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ مفاہمت کا اگلا قدم کیا ہو گا اور یہ کیسے حاصل کی جائے گی؟ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید جاتی عمرا تو نہیں جائیں گے۔ نہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیٹھ کر نیا سیاسی معاہدہ طے کریں گے۔ وہ میز کہاں پر سجے گی جس پر بیٹھ کر شہباز شریف اپنے مفاہمتی فارمولے کو اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں کے سامنے رکھیں گے؟ پھر یہ ٹیبل کتنی وسیع ہو گی؟

اس پر عمران خان کی جماعت کی کرسی دونوں جنرل صاحبان کے درمیان میں رکھی ہوگی، دائیں ہو گی، بائیں ہو گی، اونچی ہو گی یا وہ سب کے ساتھ بیٹھیں گے؟ اور اگر وہ سب کے ساتھ بیٹھیں گے تو کیا ضمانت ہے کہ وہ میز کو الٹانے سے پہلے اس پر پڑی چیزوں سے شریف خاندان، بھٹو خاندان اور فضل الرحمان پر تاک تاک کر نشانے نہیں لگائیں گے؟ اس کی وضاحت کوئی نہیں کرتا کہ وہ کون سا عمل ہے، جس کے ذریعے سیاسی کھیل کے نئے قوائد وضع ہوں گے؟ اور پھر ایجنڈا آئٹم کیا ہوں گے؟ کیا شہباز شریف فوج اور انٹیلی جنس کے سربراہان کو بتائیں گے کہ خارجہ اور دفاعی امور کا کتنا حصہ راولپنڈی اور آبپارہ میں طے ہونا ہے اور کتنا وزیراعظم ہاؤس میں؟ معیشت میں سے فوج کو مستقل بنیادوں پر کتنے پیسے مختص ہونے ہیں اور کتنے عوام کے لیے رکھنے ہیں؟ مہینے میں کتنے سیاست دان فوجی سربراہ سے مل سکتے ہیں اور کیا کور کمانڈر کو سیاست دانوں سے ملنے کی اجازت ہو گی؟

جج صاحبان کو فیصلوں کی آزادی ہے یا نہیں؟ ذرائع ابلاغ اور اس کے مالکان کتنی ہدایات لے سکتے ہیں اور کہاں سے؟ کیا صرف آئی ایس پی آر کی سننی ہے یا وزارت اطلاعات کی بھی؟ کون سے صحافی ڈنڈے سے سدھارے جائیں اور کون سے وٹس ایپ پیغامات کے ذریعے؟ سیاست دانوں کے خلاف موجودہ مقدمات کس نے اور کیسے واپس لینے ہیں؟ کیا یہ مفاہمت کے نکات ہوں گے؟ کیا سب کچھ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو گا؟ یا کسی پردے کے پیچھے خاموش نشست ہو گی؟ یہ مفاہمت ہوگی کیسے؟ یہ بتائے بغیر اس کی رٹ لگا کر خواہ مخواہ کی سیاسی کنفیوژن پیدا کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف یا تو مفاہمت کے خدوخال بیان کر دیں اور اس کے طریقہ کار پر روشنی ڈالیں اور یا پھر اس کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دیں۔ دوسرا نکتہ شہباز شریف کی اپنی سیاست سے متعلق ہے۔ ان پر بننے والے مقدمات کا تعلق نواز شریف کی پالیسی سے نہیں۔ ان کی اپنی حکومت کے منصوبے اور ان کے خاندان کے کاروبار سے ہے۔

اس پر کوئی یقین نہیں کرتا کہ شہباز شریف نواز شریف کے مبینہ سخت بیانات کی وجہ سے زیر عتاب ہیں۔ ان کا بڑا بھائی اگر مسلسل چپ کا روزہ بھی رکھ لیتا تب بھی شہباز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات بننے ہی تھے۔ مسئلہ پنجاب کی سیاست سے ہے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے شہباز شریف اس جماعت کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں جو پنجاب میں ایک بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے۔ اگر وہ بلوچستان یا خیبر پختونخوا میں کسی جماعت کے نمائندے ہوتے تو جو من میں آتے کرتے، کوئی کچھ نہ پوچھتا۔ بغیر پرمٹ کی گاڑیاں لاتے، نقلی سیگریٹ بیچتے یا شہد کا کاروبار کرتے، سب کچھ جائز تصور ہوتا۔ مگر چونکہ پنجاب میں سیاسی جڑیں رکھتے ہیں لہذا ان کے غم کم نہیں ہو سکتے۔ عمران خان کا احتساب اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈنڈا ن لیگ کی پنجاب میں سیاست کو بظاہر لگام ڈالنے کے لیے ہے، جس کے بغیر پاکستان میں سیاسی تجربہ گاہ نہیں چل سکتی۔

اور پھر آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ شہباز شریف مفاہمت کی بات اپنی ذاتی سیاست اور کاروبار کے زاویے سے کرتے ہیں۔ وہ بےشک اپنے پالیسی کے عمومی فائدے گنواتے رہیں لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ہاتھ ملا کر اپنے لیے سہولت مہیا کروانا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض فعل نہیں ہے۔ کسی کو بھی بغیر جرم کے معاشی و سیاسی و ذہنی و کاروباری تکلیف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے بچاؤ کا حق سب کا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ شہباز شریف نے مفاہمت بھی کی اور جیل بھی کاٹی۔ فی الحال نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ یہاں سے وہ کدھر جائیں گے؟ اس کے بعد وہ کیا ایسا کریں گے جو انہوں نے پہلے نہیں کیا؟ اور جس کے باوجود ان کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جو مزاحمت اور اعتراض کرنے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مفاہمت، جواب شکوہ کی روشنی میں ایک مضحکہ خیز اصطلاح ہے۔ ایک بے سروپا کہانی ہے بیچارگی کی اور بس۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

جہانگیر ترین کا گروپ

جہانگیر خان ترین کے گروپ نے تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس گروپ نے اتنی تیزی سے اتنی اہمیت کیسے اختیار کی؟ جہانگیر ترین تاحیات نااہل ہو کر عملی سیاست سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ ہاں اگر آرٹیکل 62، 63 مستقبل میں کبھی آئین سے نکال دیا جائے اور ثاقب نثار جیسے کوئی منصف کسی آئینی شق کو استعمال کر کے ان کو یہ حق واپس دلوا دیں تو علیحدہ بات ہے۔ مگر فی الحال جہانگیر خان ترین سیاسی میدان سے باہر ہیں اور ان کی تمام تر دولت اپنے حلقے میں ایک یونین کونسل کا الیکشن جتوانے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ایسے میں کائیاں سیاست دانوں کا ان کے ساتھ چپک جانا، ان کے حق میں کھڑے ہو جانا اور عمران خان پر ایسی تنقید کرنا کہ دشمن بھی کانوں کو ہاتھ لگائے یقیناً ایک پہیلی سے کم نہیں۔ جہانگیر خان ترین گروپ کے بننے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کچھ اہم اور مرکزی، کچھ ضمنی اور نسبتاً کم اہم۔

مگر سب نے مل کر نتیجہ ایک ہی نکالا ہے اور وہ یہ کہ وزیر اعظم عمران خان جیسے سخت گیر کپتان جو اپنی قیادت کے سائے میں اپنی مرضی کے بغیر گھاس بھی نہیں اگنے دیتے، اپنے سامنے اپنے کھلاڑیوں کی بغاوت اور ان کے پرانے دوست اور مہربان کے ہاتھ پر بعیت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عثمان بزدار کو پنجاب میں رکھا اس لیے گیا تھا کہ ان جیسا وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے بڑے صوبے کو مرکز کی ہدایت، مرضی اور حکم کے بغیر نہ چلا سکے اور اس طرح پنجاب سے پارٹی کے اندر مرکزی قیادت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اگر کوئی پنجاب صحیح چلانے لگے تو اسلام آباد کو سنبھالنا کون سا مشکل کام ہو گا۔ لہٰذا پنجاب میں کمزور وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں مضبوط اور بااعتماد وزیر اعظم کی ضمانت ہے۔ یہ فارمولہ لاگو کرنے والے یہ بھول گئے کہ پنجاب کی کمزوری اس سیاسی بنیاد کو ہی ہلا سکتی ہے جس پر پارٹی طاقت میں رہنے کے لیے تکیہ کرتی ہے۔

اگر ممبران صوبائی اسمبلی اپنے چیف منسٹر کو اپنی سیاست کے لیے ایک بحران کے طور پر دیکھیں تو ان کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی راستہ موجود نہیں۔ اسلام آباد میں قد آور سینیٹرز اور وزرا کو سفارشیں کر کے وقت ملتا ہے۔ دور دراز کے صوبائی اسمبلی کے نمائندگان کو کون پوچھے گا؟ جہانگیر خان ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے بیشتر لوگ وہ ہیں جو پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے جڑی ہوئی حکمرانی کے بکھرے ہوئے شیرازے میں بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ عثمان بزدار پنجاب جیسے مشکل اور حساس صوبے کے سیاسی جذبات کو کسی طور سنبھال نہیں پائے۔ اوپر سے عوامی جذبات ہر گاؤں، قصبے اور حلقے میں ابل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترین گروپ کے اکثر ممبران ٹی وی پروگراموں میں اپنے سیاسی مستقبل کا رونا روتے سنے گئے۔ ان کی سیاست داؤ پر لگی ہے۔

تین سال میں پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو کر انہوں نے جو قربانی دی اب وہ رائیگاں جاتی نظر آ رہی ہے۔ دو سال بعد انتخابات ہیں۔ وہ ووٹر کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ حکومتی جماعت ہونے کے باوجود وہ اپنی ناقص کارکردگی کو ن لیگ یا پیپلز پارٹی سے نہیں جوڑ سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ ووٹر اس قسم کی فضول وضاحتیں سن کر تنگ آ گیا ہے۔ پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹہرانا اپنے سر پر سیاسی جوتے برسوانے کے مترادف ہے۔ اب یہ تمام لوگ جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی حکومت کو کوستے ہوئے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس دباؤ کی وجہ سے عثمان بزدار کی نیند بھی کھل گئی ہے اور اس طرح یہ گروپ اپنے لیے کچھ خصوصی مراعات بھی حاصل کر پائے گا۔ اس گروپ کے بننے کی دوسری وجہ پنجاب کے حلقوں میں یہ پھیلتا ہوا تصور ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگلے انتخابات میں طاقت حاصل نہیں کر پائے گی۔

یہ تصور حقیقی ہے یا فرضی اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ مگر یہ موجود ضرور ہے۔ حلقوں کے سیاست دان چوراہوں اور چوپالوں میں ہونے والی بحث کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کو یہی فکر لاحق ہے کہ اگلا الیکشن کیسے جیتا جائے۔ اگر وہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں تو ان کے پاس یا ن لیگ کی آپشن موجود ہے اور یا پھر پیپلز پارٹی۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا مستقبل پی ٹی آئی سے بھی زیادہ مشکوک ہے۔ ن لیگ کے اپنے حلقے بھرے ہوئے ہیں۔ آپشنز کی تلاش میں مصروف حلقے کے سیاست دان جہانگیر ترین کے ساتھ نتھی ہو کر خود کو یہ اعتماد دینا چاہتے ہیں کہ برا وقت آنے پر وہ کسی ایسے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو پائیں گے جہاں سے حکومت کی ناکامیوں کا ریلا ان کو بہا نہ لے جا سکے۔ مگر یہ سب عوامل اپنی جگہ، حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ گروپ جہانگیر ترین کی اپنی کاوش اور مقتدر حلقوں کی مدد کے بغیر جنم نہ لے پاتا۔

جہانگیر ترین نے اپنی سر توڑ کوشش سے وہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کیا ہے جو سیاست سے نااہلی کی وجہ سے بے دخلی کا بہترین متبادل ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ ان سیاست دانوں کو ملا کر ایک ایسا دھڑا بنا دیا ہے جس سے سینگ لڑا کر حکومت اور عمران خان صرف نقصان ہی اٹھا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے جہانگیر ترین نے یہ سب کچھ دھڑے کے ممبران کے لیے نہیں کیا۔ ان کو معلوم ہے کہ اگر مخصوص قسم کا احتساب ایسے ہی چلتا رہا تو تحریک انصاف میں ان کے خون کے پیاسے ان کا کاروبار اور مستقبل مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ اس گروپ کی طاقت جہانگیر ترین کی طاقت ہے۔ اگر اس گروپ کے ذریعے جہانگیر خان کے پرانے دوست اس حکومت کی مشکیں کس سکتے ہیں تو سونے پر سہاگہ۔ جہانگیر ترین ایک مالدار شخص ہیں مگر اس وقت ان کا سب سے قیمتی اثاثہ یہ گروپ ہے جو ان کے قریبی ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات تک پھلتا پھولتا رہے گا۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

ممتا بینرجی مودی کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں

پانچ غیر ہندی بولنے والی ریاستوں کے انتخابی نتائج کے اسباق کیا ہیں؟ پہلا سبق یہ ہے کہ بھارت ایک متنوع جمہوریت ہے۔ اب یہاں ”ایک پارٹی اور ایک رہنما‘‘ کی حکمرانی کام نہیں کر سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ بی جے پی آسام میں جیت گئی ہو لیکن تین بڑی ریاستوں مغربی بنگال ‘ تامل ناڈو اور کیرالہ میں ہار گئی۔ پڈوچیری میں وہ فاتح اتحاد کی رکن ہے۔ مغربی بنگال کی 200 نشستوں پر اس کا دعویٰ ہوائی قلعہ ثابت ہوا ۔ کیرالہ میں انہوں نے میٹرومین سریدھرن کو بھی داؤ پر لگا دیا ‘ لیکن اس سے قبل انہوں نے اپنے پاس محفوظ ایک نشست بھی گنوا دی۔ دوسرے لفظوں میں اب مرکز میں بی جے پی حکومت کو شمال اور جنوب کی مضبوط حزب اختلاف کی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کی سیاست کرنا ہو گی۔ داداگیری چلانا مشکل ہو گا۔ بی جے پی بنگال میں ہاری ہے لیکن اس نے 72 سیٹیں جیتی بھی ہیں۔ بنگال اور آسام جیسے غیر ہندی بولنے والے اور سرحدی صوبوں میں بی جے پی کے غلبے کی وجہ کیا ہے؟

بی جے پی ایک طویل عرصے سے حزبِ اختلاف اور ہندی علاقائی پارٹی رہی ہے۔ کیا ان علاقوں میں اس کا اضافہ قومی اتحاد کے عروج کی علامت نہیں ہے؟ یہ نمو بی جے پی کے اپنے کردار اور وژن میں توسیع کے بغیر نہیں ہو گی ۔ کانگریس کا تقریبا ًتمام ریاستوں میں پیچھے رہ جانا قومی سیاسی اتحاد کے نقطہ نظر سے اچھا نہیں ہے۔ اس سے اس کی قیادت اور پالیسی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے ‘ لیکن اتنے وسیع بھارت کو ایک دھاگے میں رکھنے کیلئے ایک طاقتور فوج اور مضبوط حکومت کے ساتھ منظم آل انڈیا پارٹی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی کے کمزور ہونے پر طاقتور سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا یا نہیں؟ بنگال میں ترنمول کانگریس ‘ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کیرالا میں مارکسسٹ پارٹی کی زبردست کامیابی ان کی خالص مقبولیت اور خدمات کی بنیاد پر رہی ہے‘ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کانگریس تینوں ریاستوں میں بُری طرح ہار چکی ہے اور بی جے پی بھی پیچھے رہ گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آل انڈیا پارٹیوں کے بجائے صوبائی پارٹیوں کا پرچم بلند ہوا ہے۔ یعنی ان ریاستوں میں بنگلہ ‘ تامل اور ملیالی قومیت غالب رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو ان تینوں ریاستوں کے ساتھ انتہائی احتیاط برتنا ہو گا۔ ان انتخابات نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ فرقہ واریت کا ٹرمپ کارڈ کبھی کبھی الٹا پڑ جاتا ہے۔

آسام میں ‘ جہاں شہریت کے سوال کو کارپٹ کے نیچے منتقل کرنا پڑا ‘ وہیں بنگال میں بی جے پی کو زیادہ تر ہندو ووٹوں کا حصہ نہیں مل سکا۔ وہ الگ ہو گئے۔ اقلیتوں کو ان کے خوف نے ممتا کی طرف کھینچ لیا اور بنگالی اور غیر بنگالی قانونی دعویداروں نے ہندو ووٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا۔ ممتا بینرجی نے بنگالی اور بیرونی شخص کا بھوت پیدا کیا لیکن خود کو برہمن اور وفادار ہندو ثابت کرنے کیلئے کس چیزکا سہارا نہیں لیا؟ دیدی اس کھیل میں مودی پر غالب آگئیں۔ ٹوٹی ہوئی ٹانگوں اور پہیے والی گاڑی کے ساتھ ہمدردی نے پورے ملک کی توجہ مبذول کر لی۔ دوسری طرف ‘ رابندر ناتھ ٹیگور جیسی داڑھی اور ڈھاکہ یاترا بھی کام نہیں کر سکی۔ اس انتخاب نے ممتا بینرجی کو بنگال کا لاجواب لیڈر بنایا اور انہیں آل انڈیا مہم جو بنا دیا۔ بنگال میں ان پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سب سے زیادہ مہم چلائی گئی تھی کیونکہ بی جے پی نے بہت کوشش کی ‘ مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی بھی صوبائی انتخابات میں ‘کسی بھی مرکزی پارٹی نے کبھی ایسا کیا تھا۔ وزیر اعظم کے علاوہ وزیر داخلہ ‘ وزیر دفاع ‘ پارٹی صدر ‘ درجنوں وزرا‘ وزیر اعلیٰ ‘ سینکڑوں ارکانِ پارلیمنٹ ‘ ہزاروں بیرونی کارکن اور بی جے پی کی طرف سے بھاری رقم بہانے کے باوجود ممتا کی بال نہیں روکی جا سکی‘ بلکہ ممتا کی سیٹوں اور ووٹوں میں اضافہ ہوا۔

ممتا کو موصول ہونے والی ہمدردی سے انہیں حزب ِاختلاف کے تقریباً تمام صوبائی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ متعدد اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ‘ سابق وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزرا ترنمول کانگریس کو جتانے کیلئے بنگال پہنچ گئے۔ کیا اب یہ قائدین پورے ملک میں مودی کے خلاف ممتا کوگھمانے کی کوشش نہیں کریں گے؟ ممتا کو مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے بنگال جنگ میں اپنے آپ کو ممتا کے برابر کھڑا کیا۔ بنگال میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ کا چہرہ نہیں تھا‘ اتر پردیش میں کھیلے گئے اسی کارڈ کو بنگال میں شکست دی گئی۔ یہ ناممکن نہیں کہ ممتا اب اگلے تین سالوں میں ملک کے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو متحد کر دیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے ‘ کیونکہ اگرچہ آج کل کورونا کی وبا کی وجہ سے مرکزی حکومت کی شبیہ دھندلا رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی آل انڈیا لیڈر مودی کا مقابلہ کرنے کیلئے سامنے نہیں آیا۔ ممتا نے انتخابات سے قبل ہی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔

کانگریس اور مارکسسٹ پارٹی کیلئے ممتا کو متعدد وجوہات کی بناپر رہنما تسلیم کرنا مشکل ہو گا۔ اس طرح ‘ معلوم نہیں کہ کیا ممتا ان معنی میں خود کو ترقی دے سکے گی جو ہندوستان کے تمام لوگوں میں مقبول ہونے کیلئے ضروری ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اس کے انتہائی جذباتی ‘ اس کی عجیب ہندی اور انگریزی اور اس کے انداز بیان سے کروڑوں غیر بنگالی ووٹرز متاثر ہوں گے۔ اگر ملک کی تقریباً تمام اہم پارٹیاں مودی مخالف اتحاد تشکیل دیتی ہیں اور ممتا کو قائد سمجھتی ہیں تو کانگریس اور کمیونسٹ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی انہیں جے پرکاش نارائن جیسے نامور اور بے باک قائد کی ضرورت ہو سکتی ہے ‘ جیسے 1977ء میں اندرا گاندھی کے خلاف ہوا تھا۔

کورونا سے سیکھیں سبق
پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ حکومت ‘ میڈیا اور عوام کی توجہ کورونا پر مکمل طور پر قابو پانے میں صرف ہو گی لیکن ہلاکتوں کے جو اعداد وشمار سامنے آرہے ہیں وہ افسوسناک اور مایوس کن ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر جگہ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کتنا درست ہے ‘ کچھ معلوم نہیں۔ ایسے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہیں جن کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کو انفیکشن ہوا ہے یا نہیں؟ وہ صرف خوف کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا رہے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس ڈاکٹروں کی فیس کی ادائیگی کیلئے رقم نہیں ہے تو ہسپتالوں میں ان کے داخلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ریٹائرڈ سفیر ‘ معروف فلمی ستارے اور قائدین کے لواحقین بھی ہسپتال میں داخل ہونے کے انتظارمیں دم توڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہسپتال میں بیڈ کے اہل ہیں وہ بھی کراہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو محل نما بنگلوں میں رہنے اور گھر سے باہر فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہنے کے عادی ہیں یا تو وہ متعدد مریضوں والے کمروں میں پڑے ہوئے ہیں یا ہسپتال کے برآمدے میں پڑے ہیں۔

بہت سے لوگ جو داخل نہیں ہو سکے ہیں ‘ وہ اپنی گاڑی میں یا ہینڈ کارٹ پر پڑے آکسیجن لے کر اپنی جان بچا رہے ہیں ‘ لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ مصیبت کی اس فضا میں ہمارے ملک میں بھی ایسی درندے ہیں جو بے شرمی سے منشیات کی کالا بازاری کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15‘ 20 دنوں میں روزانہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی شہروں میں لوگ مر رہے ہیں مگرسلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ ہو رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ہماری عدالتیں اور حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟ وہ خصوصی آرڈیننس جاری کر کے فوری طور پر ان لوگوں کو کیوں سزا نہیں دیتے؟ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ آکسیجن کی کمی نہیں ‘ پھر ملک کے ہسپتالوں میں افراتفری کیوں ہے؟ اب یہ کورونا شہروں سے دیہات میں منتقل ہو چکا ہے اور درمیانے اور نچلے طبقے میں بھی گھس آیا ہے۔ ان لوگوں کیلئے جن کے پاس کھانے کیلئے کافی روٹی نہیں ہے ‘ مفت اور فوری علاج کا انتظام کیوں نہیں کیا جاتا؟ ملک کے لاکھوں قابل افراد آگے کیوں نہیں آرہے ہیں؟

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ دنیا نیوز

اشرافیہ پاکستان کو کھا گئی

ویسے تو پاکستان کو بہت سی بیماریوں کا سامنا ہے اور جس طرف دیکھیں مایوسی ہی مایوسی ہے۔ اخبارات پڑھیں یا ٹی وی کھولیں تو کم ہی اچھی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں لیکن جنگ اخبار میں صحافی رفیق مانگٹ کی ایک خبر شائع ہوئی جو ہمارے ایک ایسے مرض کے متعلق ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور اس ملک کا غریب طبقہ دونوں شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارے (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوے خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے 26 کھرب 60 ارب روپے (17.4 ارب ڈالر) اشرافیہ کی مراعات پر خرچ ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر، جاگیردار، سیاسی طبقہ اور اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان کی اشرافیہ کو دی جانے والی معاشی مراعات ملکی معیشت کا چھ فیصد ہیں جو تقریباً 17.4 ارب ڈالر (2,659,590,000,000روپے) بنتے ہیں۔

خبر کے مطابق گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تحت نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (این ایچ ڈی آر) جاری کی گئی جس میں 22 کروڑ نفوس کے ملک پاکستان میں عدم مساوات کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طاقتور طبقہ اپنے منصفانہ حصے سے زیادہ کے لئے اپنا استحقاق استعمال کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراعات سے سب سے زیادہ فائدہ کارپوریٹ سیکٹر اُٹھاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس نے سات کھرب 18 ارب روپے (4.7 ارب ڈالر) کی مراعات حاصل کی ہیں۔ دوسرے اور تیسرے نمبر پر مراعات حاصل کرنے والا ملک کا ایک فیصد امیر ترین طبقہ ہے جو ملک کی مجموعی آمدن کا نو فیصد مالک ہے، جاگیر دار اور بڑے زمیندار جو آبادی کے 1.1 پر مشتمل ہیں لیکن ملک کی 22 فیصد قابلِ کاشت زمین کے مالک ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان آخر سے دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلے پر افغانستان ہے۔ خبر کے مطابق اس رپورٹ کے نتائج پر تبادلۂ خیال کے لئے، یو این ڈی پی کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور علاقائی چیف، کنی وگینا راجا دو ہفتوں کے ورچوئل ٹور پر ہیں، انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزراء سمیت ان کی کابینہ کے دیگر اراکین جن میں امور خارجہ اور منصوبہ بندی کے وزرا شامل ہیں، سے اس رپورٹ کی فائنڈنگ پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں نے اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اِس حوالے سے کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے۔ بہت اچھی بات ہے اگر موجودہ حکومت اس بیماری کو دور کرنے کے لئے کچھ اقدامات اُٹھا سکے لیکن جو اشرافیہ پاکستان اور غریب عوام کا خون چوس رہی ہے، وہ تو اُس چینی اور آٹا مافیا سے بہت مضبوط ہے جسے قابو کرنے میں حکومت ناکام رہی۔ حکومت تو گزشتہ ایک دو دن سے ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے سامنے بھی بےبس نظر آئی جس کی وجہ سے شہر شہر بلاک ہوئے، خون خرابہ ہوا، جانیں ضائع ہوئیں، توڑ پھوڑ ہوئی، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دلی تکلیف ہوتی ہے لیکن کوئی حل نظر نہیں آتا۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

عالمی وبا : لاک ڈائون حل نہیں ہے

بھارت میں کورونا کی وبا آج کل ایسی بھیانک شکل اختیار کر رہی ہے کہ اس نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پاک بھارت جنگوں کے وقت اتنا خوف نہیں تھا، جتنا آج کل ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو قوم سے خطاب کرنا پڑا اور بتانا پڑا کہ حکومت اس وبا سے لڑنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ آکسیجن، انجکشن، بیڈ، دوائیوں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟ اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت پر غفلت اور لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے‘ لیکن انہی قائدین کو کورونا نے پکڑ لیا ہے۔ کورونا کسی بھی ذات، حیثیت، مذہب، صوبے وغیرہ سے امتیازی سلوک نہیں کر رہا ہے۔ سب ویکسین کیلئے دوڑ لگا رہے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ لوگوں کی مدد کریں۔ یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ یہ وبا ہر روز لاکھوں نئے لوگوں میں کیوں پھیل رہی ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں میں بے احتیاطی بہت بڑھ گئی تھی۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ، پونے جیسے شہروں کے علاوہ، چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ماسک پہنے بغیر لوگ گھومتے ہوئے نظر آئے۔

شادیوں، ماتمی جلسوں اور کانفرنسوں میں ایک بہت بڑا ہجوم نظر آیا۔ بازاروں میں، لوگ ایک دوسرے کے قریب چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ٹرینوں اور بسوں میں بھی لوگ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے اور منہ چھپانے میں عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ایسے حالات میں پھر یہ کورونا کیوں نہیں پھیلے گا؟ شہروں سے دیہاتوں میں فرار ہونے والے لوگ اپنے ساتھ کورونا کے جراثیم بھی لے کر جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ہم ہر روز لاکھوں لوگوں کیلئے ہسپتالوں میں جگہ کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ حکومت نے یقینی طور پر نرمی کی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ کورونا کا دوسرا حملہ اتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔ وہ اس نئے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ کچھ صوبائی حکومتیں ایک بار پھر لاک ڈائون کا اعلان کر رہی ہیں، جبکہ کچھ نائٹ کرفیو نافذ کر رہی ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ ان کے ارادے نیک ہیں، لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ بیروزگار لوگ بھوک سے مر جائیں گے، معیشت تباہ ہو جائے گی اور بحران دوگنا ہو جائے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مکمل لاک ڈائون کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ابھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ منہ پر ماسک لگائے رکھیں، جسمانی فاصلہ رکھیں اور اپنے روزمرہ کے تمام کام کرتے رہیں۔ یہ ضروری ہے کہ لوگ خوفزدہ نہ ہوں۔ کورونا ان لوگوں کو ہوا ہے جو مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

بھارت کی سکڑتی ہوئی مڈل کلاس
کورونا وبا کے دوسرے حملے کا اثر اتنا شدید ہے کہ لاکھوں مزدور ایک بار پھر اپنے گائوں بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والوں اور منشیات فروشوں کے سوا تمام تاجر پریشان ہیں۔ ان کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ اس دور میں، صرف لیڈر اور ڈاکٹر زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے تمام شعبوں میں سُستی کا ماحول ہے۔ گزشتہ سال، تقریبا 10 ملین افراد بیروزگار ہوئے تھے۔ اس وقت حکومت نے غریبوں کی کھانے پینے کی اشیا کے حوالے سے مدد ضرور کی، لیکن یورپی حکومتوں کی طرح اس نے بھی خود عام آدمی کی 80 فیصد آمدنی کا بوجھ نہیں اٹھایا۔ اب ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کی بنیاد پر، پیو ریسرچ سنٹر کا کہنا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے بھارت کی معیشت اس قدر گر چکی ہے کہ اس کے غریبوں کا تو کیا، جسے ہم مڈل کلاس کہتے ہیں، اس کی تعداد بھی 10 کروڑ سے کم ہو کر 7 کروڑ رہ گئی ہے یعنی درمیانی طبقے سے 3 ملین افراد غریبی کی سطح پر آ چکے ہیں۔ متوسط طبقے کے خاندانوں کے یومیہ اخراجات 750 سے 3750 روپے تک ہوتے ہیں۔

یہ اعدادوشمار خود ہی کافی مایوس کن ہیں۔ اگر ہندوستان کا متوسط طبقہ 10 کروڑ ہے تو غریب طبقہ کتنے کروڑ ہو گا؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اعلیٰ متوسط طبقے اور اعلیٰ آمدنی والے گروپ میں 5 کروڑ افراد یا اس سے بھی زیادہ 10 کروڑ لوگ ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا یہ نہیں ہے کہ بھارت کے 100 کروڑ سے زیادہ لوگ غریب طبقے میں آگئے ہیں؟ ہندوستان میں انکم ٹیکس جمع کرنے والے کتنے لوگ ہیں؟ پانچ چھ کروڑ بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1.25 بلین افراد کے پاس کھانے، لباس، رہائش، تعلیم، دوا اور تفریح کے کم سے کم وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آزادی کے بعد بھارت نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ اس نے ترقی کی ہے لیکن اس کی رفتار بہت سست رہی ہے اور اس کا فائدہ بہت کم لوگوں تک محدود رہا ہے۔ چین بھارت سے بہت پیچھے تھا لیکن اس کی معیشت آج ہندوستان سے پانچ گنا بڑی ہے۔ وہ کورونا پھیلانے کے لئے پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے، لیکن اس کی معاشی ترقی اس دور میں بھی بھارت کی نسبت زیادہ ہے۔ وہ دوسری سپر پاورز کے مقابلے میں کورونا کو کنٹرول کرنے میں زیادہ کامیاب ہے۔بھارت کی بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود، وہ اب بھی ذہنی طور پر انگریزوں کا غلام ہی ہے۔ اس کی زبان، اس کی تعلیم، اس کی دوائی، اس کا قانون، اس کا طرز زندگی حتیٰ کہ اس کا نقلچی پن بھی آج تک زندہ ہے۔ خود انحصاری کی عدم موجودگی میں، بھارت نہ تو کورونا کی وبا کا شدت سے مقابلہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی یہ ایک بڑی طاقت بننے کے قابل ہے۔

بھارت روس تعلقات
روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے مابین پچھلے دنوں ہونے والی گفتگو کے اقتباسات شائع ہو چکے ہیں اور اگر آپ نے ان کی پریس کانفرنس میں ان دونوں کی باتوں کا گہرائی سے جا ئزہ لیا ہو گا تو بھارتیوں کو کچھ خوشی ہوئی ہو گی لیکن وہ غمزدہ ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکے ہوں گے۔ بھارتی لوگ اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ بھارت روس سے ایس 400 میزائل خرید رہا ہے اور یہ خریداری امریکی پابندیوں کے باوجود جاری رہے گی۔ روس بھارت سے ساڑھے سات لاکھ کورونا ویکسین خریدے گا۔ اگرچہ بھارت نے روسی ہتھیاروں کی خریداری میں تقریباً 33 فیصد کی کمی کر دی ہے، لیکن لاوروف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ روس اب جدید اسلحہ سازی میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ لاوروف نے ہند روس سٹریٹیجک اور تجارتی تعاون بڑھانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات بند کرنے کیلئے آزاد ہے۔ یہاں اس کا اشارہ شاید بھارت اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت کی طرف تھا، لیکن اس نے بہت سی باتیں بھی کہی ہیں، جن پر تھوڑا سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔

وہ دن گزر گئے جب بھارت روس تعلقات کو آہنی دوستی کہا جاتا تھا۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی لاوروف اسلام آباد پہنچ گئے۔ بھارت کے بارے میں روس کا رویہ ویسا ہی ہو گیا ہے، جیسا کبھی امریکہ کا تھا۔ وہ اسلام آباد کیوں گئے؟ کیونکہ وہ افغانستان کے بحران کو حل کرنے میں مصروف ہیں۔ سوویت روس ہی اس تکلیف کا باعث بنا تھا اور وہی اس کی دوا تلاش کر رہا ہے۔ لاوروف نے واضح طور پر کہا کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر افغان بحران حل نہیں ہو سکتا۔ لاوروف نے طالبان کے ساتھ روسی تعلقات پر اصرار کیا۔ انہوں نے ‘انڈو پیسیفک‘ کے بجائے ‘ایشیا پیسیفک‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلوی چوکڑی کو ‘ایشین نیٹو‘ بھی کہا۔ روس، چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر اب امریکی تسلط کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بہتر ہو گا کہ بھارت کسی دھڑے کا پچھ لگو نہ بنے۔ جے شنکر نے اس نکتے کو واضح کیا ہے۔

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ دنیا نیوز