فیصل آباد اور گھنٹہ گھر

فیصل آباد جس کو آٹھ راستوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہاں کا گھنٹہ گھر بہت مشہور ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی برصغیر اور پنجاب پر حملہ ہوا تو اس دھرتی کے سپوت سامنے آتے۔ 1903 سے یہاں آبادی شروع ہوئی۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ ڈالتے۔ ابتدائی دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا بعد میں پنجاب کے گورنر کے نام سے ’’لائل پور‘‘ رکھا گیا۔ شہر کا مرکز ایسے مستطیل رقبہ میں واقع ہے جہاں پر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں (اشکال) میں آٹھ سڑکوں میں تقسیم کیا گیا۔ جہاں آٹھ راستے ملتے ہیں وہیں ایک گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا گھنٹہ گھر جانے والی آٹھوں سڑکیں دراصل یہ آٹھ بازار ہیں۔ جھنگ بازار، گوانابازار، امین پور بازار، چنیوٹ بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، منٹگمری بازار، ریل بازار۔

دراصل 1895 میں یہاں پہلی رہائش تعمیر ہوئی، 1897 میں اس شہر کی بنیاد رکھی جس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جیمز براڈ لاسٹل کے نام سے لائل پور رکھا گیا یہی اس شہر کا پہلا نام پڑا۔ لائل پور سے قبل یہاں پکا ماڑی قدیم رہائشی قبیلہ تھا، جس کو آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ اس علاقے کو بعد میں بلدیہ کا درجہ دیا گیا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے کیا اور اسکا سنگ بنیاد 1903 میں لیفٹیننٹ سرجیمز لائل نے ہی رکھا۔ گھنٹہ گھر میں استعمال ہونے والا پتھر قریبی پہاڑی سلسلہ سے لیا گیا۔ گھنٹہ گھر جس جگہ موجود ہے اس کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک کنواں تھا۔ گھنٹہ گھر چالیس ہزار کی مالیت سے دو سال میں مکمل ہوا۔ لندن کی کیپ کمپنی بمبئی میں تھی وہاں سے اس کی بڑی گھڑیاں لائی گئیں۔ بعد ازاں سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے کرائے گئے بہت سے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شہر کا نام ’’فیصل آباد‘‘ رکھا دیا گیا۔

یہ نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ موصوف نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1985 میں فیصل آباد کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔  اس ڈویژن میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع جھنگ اور ضلع فیصل آباد شامل ہوئے۔ اس کی چھ تحصیلیں ہیں جن میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، سمندری، جڑانوالہ اور ٹانٹیاں والا شامل ہے۔ لائل پور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، جناح پارک اور مدینہ ٹاؤن اس شہر کے اہم مقامات ہیں۔ فیصل آباد ان چار اضلاع میں سے ہے جن کا نام پچھلے پچاس سالوں میں تبدیل کیا گیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت یہ ایک زراعتی شہر تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ ترقی کر کے ایک صنعتی شہر بن گیا اور پاکستان کا مانچسٹر کہلانے لگا۔ پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہے آبادی کے لحاظ سے کراچی اور لاہور کے بعد فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

کبھی اسے برصغیر کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، لوگوں نے روزگار کے لیے شہر میں آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع کیا اس وجہ سے یہ ایک بڑا شہر بن گیا۔  پاکستان کا 25 فیصد زر مبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے۔ مسیح قبرستان تقریباً سو سال پرانا ہے اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کتبوں کے ساتھ مرحوم شدگان کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ فیصل آباد کا خصوصی گھنٹہ گھر تاج برطانیہ کے دور میں 1904 میں تعمیر ہوا۔ اس کی گھڑیوں کا وزن ستر کلو ہے ایک ویٹ کا وزن 150 دوسری 125 کلو، پنڈولم تقریباً 200 کلو وزنی ہے۔ گھنٹہ گھر کی کلاک مشین جس کا وزن سیکڑوں کلو بتایا جاتا ہے۔ عمارت کے چو طرفہ ستر، ستر کلو کے چار کلاک نصب ہیں اور یہ چاروں گھڑیاں صرف ایک ہی مشین سے چل رہی ہیں۔ ان گھڑیوں کی صرف ایک سوئی کا وزن تقریباً ڈیڑھ کے جی ہے۔

مشین اور گھڑیوں پر گھڑی ساز کمپنی جو کہ بمبئی میں تھی 1904 کھدا ہوا ہے۔ گھنٹہ گھر سے المعروف آٹھ بازار صاف نظر آتے ہیں۔ 1904 میں فیصل آباد سٹی آباد ہوا اور اس کے گرد آٹھ بازار ڈیزائن کیے گئے۔ کچہری بازار کچہری کی طرف جاتا ہے ضلع کچہری صاف نظر آتا ہے۔ ریل بازار ریلوے اسٹیشن کی طرف، کارخانہ بازار۔ یہاں کارخانہ والا ساز و سامان کی مارکیٹ کی طرف جاتا ہے۔ کارخانہ میں استعمال ہونے والا ساز و سمان اس جگہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ منٹگمری بازار پھر دوسری طرف گوانا بازار منٹگمری کی طرف اور گوانہ بازار، گوانا سٹی کی طرف اسی لیے اسے گوانا بازار کہتے ہیں۔ چنیوٹ بازا ر چنیوٹ کی طرف، آگے جھنگ بازار اس کا رخ جھنگ سٹی کی طرف ہے۔ چونکہ پہلے ساہیوال کا پرانا نام منٹگمری تھا لہٰذا یہ اس جانب جاتا ہے۔

گھنٹہ گھر کو دیکھنے پر برٹش دور کی تاریخ نظر آتی ہے۔ جیساکہ میں نے عرض کیا یہ گھڑیاں بمعہ ساز و سامان لندن بروچکی کمپنی بمبئی کی 1904 سے چلائی  گئیں جن میں چابی لگتی ہے۔ اس کے تین عدد ویٹ ہیں پنڈولم درمیان میں لگا ہوا ہے یہ ہیوی ویٹ وائنڈنگ کرنے کے بعد گھڑیوں کو چلاتے ہیں۔ ایک ویٹ نچلی طرف دو ویٹ اوپر کی جانب ہیں۔ میں نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مشین کو بخوبی دیکھا جو کہ دھانسو قسم کی مشین ہے۔ چونکہ میں رات کے وقت یہاں تھا، میں نے دیکھا منظر شاندار تھا۔ میں نے اپنی گھڑی دیکھی تو رات کے ایک بجا رہی تھی۔ لیکن اس قدر رونق تھی کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ رات ایک بج چکے ہیں۔ میں گھنٹہ گھر میں داخل ہوا یہ میری زندگی کا پہلا مشاہدہ تھا کہ یہ ساری عمارت جوں کی توں موجود ہے۔ میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل تک جا پہنچا جہاں میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہاں سے سارے بازار صاف نظر آرہے تھے۔

میں 19 جون کو گھنٹہ گھرآیا اور اب 20 جون ہو چکی تھی میں نے نوٹ بک دیکھی جس میں ڈائل کے سائز ساڑھے پانچ فٹ درج تھے آخری منزل پر ایک پنڈولم دیکھا جوکہ میرے اندازے کے مطابق دو سو کلو گرام سے زیادہ وزنی معلوم دیتا ہے۔ منٹ والی سوئی پونے تین فٹ، گھنٹہ کو دکھانے والے دو فٹ کی سوئیاں ہیں۔ سارا خود کار نظام موجودہ ورکرز نہایت محنت، مشقت سے کام کر رہے ہیں۔ چاروں گھڑیوں کو پیرل ایک ہی وقت پر گراریوں کے ساتھ چلتی ہیں لیور لگا ہے جو گھنٹہ بجاتا ہے اس میں چابی پھیرنا مشکل کام ہے ساتھ ہی موٹی تاریں لگی ہوئی ہیں۔ تینوں وقت چابیاں دینی ہوتی ہیں گھنٹوں کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر سسٹم ہے۔ ایمپلی فائر لگا ہوا ہے جہاں لاؤڈ اسپیکر نظر آتے ہیں۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا بات ہے سیالکوٹ کی

بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ ملک کے شمال مشرق میں پاک، بھارت کنٹرول لائن پر واقع ہے یہاں کئی بزرگان دین کے مزارات موجود ہیں جنہوں نے اس خطے میں لاکھوں انسانوں کو کلمۂ توحید پڑھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیالکوٹ کی بنیاد 5 ہزار سال پہلے راجہ سالبان نامی حکمران نے رکھی تھی جس کی بناء پر اس کا نام سل کوٹ رکھا گیا تھا ہزاروں سال پرانا تاریخی شہر علامہ اقبالؒ، فیض احمد فیض ”پاکستان کا مطلب کیا‘‘ نعرے کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کی جنم بھومی ہے۔ سیالکوٹ کو ایکسپورٹ سٹی بھی کہا جاتا ہے یہ کراچی، لاہور کے بعد ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا شہر ہے ایک اندازے کیمطابق سیالکوٹ کی سالانہ برآمدات اڑھائی ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں اور سب سے زیادہ ٹیکسز اور ریونیو دینے والے شہروں میں سیالکوٹ تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے یہاں سٹیٹ بینک کی شاخ بھی قائم ہے۔

سیالکوٹ کی انڈسٹری سے نہ صرف قومی معیشت میں قابل قدر اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان صنعتوں سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرانتظام کئی پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئر پورٹ دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کا واحد ایئر پورٹ ہے جہاں سے دنیا بھر کیلئے پروازیں جاری ہیں ۔ جذبۂ خدمت سے سرشار سیالکوٹ کے صنعتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں اور دیگر فلاحی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جن سے سیالکوٹ کے عوام کیساتھ دیگر اضلاع گجرات جہلم، گوجرانوالہ اور نارووال کے عوام بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ دفاع وطن کیلئے بھی سیالکوٹ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب بڑی ٹینکوں کی لڑائی سیالکوٹ میں چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی تھی جب بھارت نے ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران رات کی تاریکی میں سیالکوٹ کی سرحد پر 500 ٹینکوں کیساتھ حملہ کر دیا۔

پاک فوج کے بہادر شیر جوانوں اور غیور عوام نے قوت ایمانی اور بہادری کے ایسے مظاہرے کیے جس کی دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے ہمارے شیر جوانوں نے اپنے جسموں کیساتھ بم باندھے اور بھارتی ٹینکوں کیساتھ ٹکرا گئے اور آن کی آن میں سینکڑوں بھارتی ٹینکوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ سیالکوٹ کی دھرتی پر لڑی جانے والی 17 دنوں کی یہ جنگ بھارت کی کو ہمیشہ یاد رہے گی کہ جس میں ایک نوزائیدہ ملک نے اپنے سے 10 گُنا طاقتور ملک کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔ اس جنگ میں پاک فوج اور عوام کی جرأت وبہادری کے اعتراف میں سیالکوٹ کو ہلالِ استقلال کے اعزاز سے نواز گیا تھا۔

چودھری عبدالقیوم

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان کا قدیم ترین شہر ملتان

ملتان گزرے وقت میں ایک سلطنت کا درجہ رکھتا تھا اس کے وسیع و عریض رقبے کی حدود لاہور کے قرب و جوار تک پھیلی ہوئی تھی۔ ساہیوال، پاک پتن، اوکاڑہ، میاں چنوں، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ اور بھکر اس کے علاقوں میں شامل تھے۔ لیکن بے رحم وقت نے اسے علاقہ در علاقہ تقسیم کر دیا۔ ملتان کے محل وقوع کی بات کی جائے تو اس کے مشرق میں وہاڑی ، جنوب مشرق میں لودھراں ، شمال میں خانیوال ، جنوب میں بھاولپور اور مغرب میں دریائے چناب کے پار مظفر گڑھ واقع ہے۔ ملتان ایک ہزار بیس کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی انیس لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو چالیس نفوس پر مشتمل ہے۔ ملتان کی زمین اپنی زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں میں مثال ہے اس کی اہم فصلوں میں گنا ، چاول، کپاس اور گندم شامل ہیں۔ آموں کو بڑے بڑے اور نایاب اقسام کے باغات موجود ہیں۔ یہاں کے آم نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں مشہور ہیں۔ ملتان میں سرائیکی، اردو اور پنجابی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

یہاں کافی تعداد میں اولیا، صوفیا کرام و بزرگان دین کے مزارات ہیں، مشہور مزارات میں حضرت شاہ شمس تبریزؒ، حضرت بہاالحسنؒ، حضرت بہاالدین زکریاؓؒ ملتانی، حضرت شاہ رکن عالم ؒ، حضرت موسیٰ پاک شہید اور حضرت حافظ محمد جمالؒ ؒ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے اولیا، صوفیا اور بزرگان دین کے مزارات یہاں موجود ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں دریاؤں کی وادی میں پیدا ہوئیں اور وہیں پروان چڑھیں ، نہر دجلہ ، فرات اور سندھ تہذیبیں دریاؤں کی تہذیبیں ہیں۔ دریائے سندھ کی وسیع و عریض آبادی کے علاقوں میں شہر اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔  ملتان قدیم تاریخی شہروں میں سے ایک شہر ہے جن کا ذکر اندر پرست کے دور میں ہوتا ہے۔ قدیم ہندو گھرانوں میں اس کا ذکر ’’مالی تھان‘‘ کے نام سے موجود ہے۔
تاریخ کی کتب میں یہ بھی ہے کہ ایک قوم جس کا نام ’’مالی تھان‘‘ یہاں آکر آباد ہوئی اور سنسکرت میں آباد ہونے کو ’’ستھان‘‘ کہتے ہیں۔ شروع میں اس کا نام مالی استھان پڑ گیا بعد میں بدل کر مالی تھان بن گیا، وقت کے ساتھ ساتھ مالی تھان پھر مولتان اور اب یہ ملتان بن گیا۔ بہت سے قدیمی شہر آباد ہوئے یہاں حالات زمانہ کا شکار ہوکر مٹ گئے، لیکن شہر ملتان پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔

ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے والے سیکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہوگئے۔ آج ان کا نام لیوا بھی نہیں۔ لیکن ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے۔ ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے یہ دریائے چناب کے کنارے آباد ہے آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ ضلع ملتان، تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔ تحصیلوں میں تحصیل صدر، تحصیل شجاع آباد، تحصیل جلال پور پیراں والا شامل ہے۔ اس کی ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے بھی قدیم ہو۔ اس امر پر مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے۔ قابل افسوس بات ہے کہ حملہ آوروں نے قلعہ ملتان کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار آتش زدگی ہوتی رہی۔ 1200 قبل مسیح میں دارا نے اسے تباہ کیا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر نے اس پر چڑھائی کی۔ بعد ازاں عرب ، افغان ، سکھ اور فرنگی حملہ آوروں نے قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

تاریخ کے اوراق میں ملتان قبل از مسیح سے ہی حربی اور ثقافتی فنون کا حصہ اور مرکز رہا ہے۔ چونکہ جنگی آلات ہر زمانے میں طاقت کے اظہار کا بہترین ذریعہ رہے ہیں لہٰذا وہ تمام افراد جو جنگی آلات بنانے کے فن سے جڑے ہوتے تو ان کا معاشرے میں ایک خاص مقام ہوتا تھا۔ خطہ ملتان میں حربی فنون کی مہارت اور تیر کمان سازی کا سب سے قدیم حوالہ 323 قبل از مسیح میں ملتا ہے ایک حوالے کے مطابق سکندر یونانیوں کو لگنے والا تیر ملتان کا تیار کردہ تھا۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ’’آئین اکبری‘‘ میں ملتان کی حدود کچھ اس طرح بیان کی ہیں۔ صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے قبل یہ صوبہ فیروز پور سے فیوستان تک چوڑائی میں کف پور سے جیسلمیر تک، ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ مکران تک وسیع ہو گیا۔ مشرق میں اس کی سرحدیں سرہند سرکار سے، شمال میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبہ اور مغرب میں کیچ (تربت) مکران سے ملتی ہیں۔ کیچ مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھا۔ ملتان کے صوبہ میں تین سرکاریں ملتان خاص ، دیال پور اور بھکر تھیں۔

ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے۔ 792 کو محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا اور اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ 997 کو محمود غزنوی نے ہندوستان کو فتح کرنے کے ساتھ ملتان کو بھی فتح کیا۔ 1175 میں سلطان شہاب الدین محمد غوری نے خسرو ملک کو شکست دے کر ملتان پر قبضہ کر لیا۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے بعد بے شمار خاندانوں نے اسے پایہ تخت بنائے رکھا۔ جن میں خاندان غلامان، خاندان خلجی، غیاث الدین تغلق، خاندان سادات، خاندان لودھی، پھر مغلیہ سلاطین کے حکمرانوں تک ملتان مسلم سلطنت کا حصہ رہا۔ رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کیا ایک زوردار جنگ ہوئی تاریخ میں اسے جنگ ملتان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ مارچ 1818 میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 کو ختم ہو گئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے قلعہ ملتان پر 2 جون 1818 میں قبضہ کر لیا۔ 1857 تک رنجیت سنگھ کے بیٹوں کی حکمرانی رہی۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد فرنگیوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور 1947 تک برٹش امپائر کے زیر اثر رہا۔ آزادی کے بعد ملتان پاکستان کا حصہ بن گیا۔

تاریخ میں قلعہ ملتان کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ قلعہ اندر دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ طرز تعمیر میں بھی یگانگت رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس قلعے کی دیواریں تقریباً چالیس سے ستر فٹ اونچی اور دو میل کے علاقے کا گھیراؤ کرتی تھیں۔ اس کی دیواریں برج دار تھیں اس کے ہر داخلی دروازے کے پہلو میں حفاظتی مینار تعمیر کیے گئے تھے۔ 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج کے حملے میں اندرونی چھوٹے قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ جوکہ ’’کاتوچوں‘‘ یعنی راجپوتوں کی حکمرانی کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ جنگ کے لیے مورچہ نما چھوٹا قلعہ کہلایا جس کے پہلو میں تیس حفاظتی مینار ایک مسجد ایک مندر اور خواتین کے محلات تعمیر کیے گئے تھے۔ ملتانی قلعہ کے باہر خندق بھی بنائی گئی تھی۔

ایم قادر خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

چنیوٹ…. اک شہرِ بے مثال

سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کی رومان پرور موجوں کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ واقع ہے۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے کیا؟ اس حوالے سے مختلف آرأ پائی جاتی ہیں۔ تاہم، تاریخی روایت کے مطابق 712ء میں بنو امیّہ کی تسخیر سے پنجاب کے بہت سے علاقوں کے ساتھ چنیوٹ، جھنگ اور شورکوٹ بھی مسلمانوں کی عمل داری میں شامل ہو گئے۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم، حکومتی عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا، جس نے چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار تعمیر کروایا۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔

کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔ جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔ یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔ چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔

یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سائیں سُکھ اپنے دَور کی روحانی شخصیت تھے۔ کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ ایک بار دریائے چناب کے کنارے اپنے لائو لشکر سمیت جارہا تھا۔ اس نے دُور سے ایک بارات کو دریا پار جاتے دیکھا، تو قافلہ روک لیا، تاکہ کارروان شاہی، بارات کی روانگی میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔ اس پر ایک درویش نے کہا۔ ’’بادشاہ عادل، اہل کار دین دار، خلقِ خدا خوش حال۔‘‘ افسوس، اب نہ وہ بادشاہ رہا نہ درویش، لیکن سوکھتے ہوئے دریائے چناب کے کنارے یہ شہرِ بے مثال اسی آب و تاب سے جیے چلا جارہا ہے۔

مصباح طیّب
بشکریہ روزنامہ جنگ

کسان کو کب تک غصہ نہیں آئے گا ؟

میں ایک کسان ہوں اور میں نے آنکھ کھولتے ہی یہ سنا تھا کہ کسان کو غصہ نہیں آتا۔ کسان کا دل بھینس کی طرح فراغ ہوتا ہے۔ صدیوں سے پنجاب کا کسان اور بھینس ساتھ رہ رہے ہیں۔ صدیوں کے اس ساتھ میں کسان نے بھینس سے پر امن اور پر سکون رہنا سیکھ لیا۔ اس قدر لحیم شحیم بھینس ایک ذرا سے کھونٹے سے اس لئے بندھی رہتی ہے کیونکہ یہ اس کی مرضی ہے، ورنہ نہ کھونٹے میں اتنی طاقت ہے اور نہ ہی انسان کی اتنی مجال کہ بھینس کو کھونٹے سے باندھ کے رکھے۔ جس شخص کو یہ مالک تصور کر لیتی ہے پھر وہ کم چارہ دے، سوکھا کھلائے، پانی نہ پلائے، صفائی ستھرائی کا دھیان نہ رکھے، علاج معالجے پر توجہ نہ دے یہ اللہ لوک اسی طرح کھڑی رہتی ہے۔ بلکہ مورکھ مالک جب قصاب کے ہاتھ بیچنے جا رہا ہو تو اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتی بھی جاتی ہے اور موقع ملنے پر مارے محبت کے چاٹ بھی لیتی ہے۔

پنجاب کا کسان بھی اپنی بھینس کی طرح باظرف ہے۔ صدیوں سے، کہاں کہاں سے بھوکے، اجڈ، گنوار، جنھیں اناج اگانے کا فن نہیں آتا تھا اٹھ اٹھ کے اس کے دستر خوان پر لوٹ مار مچاتے رہے۔ کھا کھا کے جب یہ حملہ آور اپھر جاتے تھے تو کسان پر حکومت کرتے تھے، زرعی اصلاحات کرتے تھے اور اسی کی اگائی فصل سے اسے فقط چند ٹکے دے کر ٹرخا دیا کرتے تھے۔ کسان کو کبھی غصہ نہ آیا ورنہ کیا درانتی چلانے والے ہاتھ تلوار چلانے والی کلائی کاٹ کر نہیں پھینک سکتے تھے؟ نوآبادیاتی دور میں بھی یہ کسان ہی تھا جسے لوٹ لوٹ کر اپنے کارخانے چلائے گئے اور اجرت میں، قحط، فاقہ، غربت اور عسرت ملی۔ آزادی کے نعروں اور دل نشیں خوابوں میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد ہمارا خام مال کوڑیوں کے مول لے کر اپنے کارخانوں کا مال مہنگے داموں ہمیں نہیں بیچا جائے گا۔ مگر صاحبو! یہ خواب فقط خواب تھا۔ آزادی کے پہلے ہی برسوں میں ہم سے ہمارے دریا چھین لئے گئے، ہمیں ٹیوب ویل کی صورت میں مسلسل بجلی کے بلوں کے بوجھ کے نیچے دبا دیا گیا، کیمیائی کھادوں، ہائبرڈ بیج اور کیڑے مار ادویات کی منڈی بنا دیا گیا۔ کسان کو اب بھی غصہ نہ آیا۔

جاگیر دارانہ نظام کے خاتمے کا جھنجھنا بجا کے کسانوں کی زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئی جبکہ جاگیر دار وہیں کے وہیں ہیں بلکہ نت نئے جاگیر دار پیدا ہو رہے ہیں۔اصلاحات کے نام پر کسان کے دل میں جو بد اعتمادی پیدا کی گئی اس نے ہاؤسنگ کالونی نامی بیماری کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور ہماری قیمتی زرعی زمینیں پراپرٹی ڈیلر کھا گئے۔ کسانوں کو تب بھی غصہ نہیں آیا۔ انگریز نے مقامی کپڑے کی صنعت کو تباہ کرنے کے لئے جو قوانین وضع کیے تھے قریبا سب کے سب وہیں موجود ہیں۔ شوگر مل مالکان کسان کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں سب ہی کو معلوم ہے اور اس پر تیار چینی کس قدر مہنگی بیچی جاتی ہے یہ بھی کوئی راز نہیں۔ فصل کاشت ہونے سے پہلے نہ اس کی قیمت مقرر کی جاتی ہے اور نہ ہی فصل کی فروخت کا کوئی نظام ہے۔ آڑھت کے نظام کو کسی نے کبھی آنکھ بھر کے نہیں دیکھا، صدیوں سے یہ نظام اسی طرح چلا آرہا ہے۔ فصل اچھی ہوتی ہے دام گر جاتے ہیں۔

ملک میں اچھی پیداوار ہونے کے باوجود اچانک دساور سے وہی فصل دگنے داموں منگائی جانے لگتی ہے۔ کسان کو فصل یا تو کوڑیوں کے مول بیچنا پڑتی ہے یا یوں ہی سڑک پر پھینک کے کھلیان خالی کرنا پڑتے ہیں مگر کسان کو غصہ نہیں آتا۔ موجودہ حکومت نے آٹے اور چینی کے معاملے میں جو گڑ بڑ کی ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ سندھ حکومت گندم کی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کر چکی ہے لیکن جب یہی مطالبہ پنجاب حکومت سے کیا گیا تو کسانوں کے پرامن جلوس پر تشدد کیا گیا۔ ملک اشفاق لنگڑیال زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ پنجاب کے وزیر زراعت کے نزدیک گندم کی قیمت دو ہزار روپے مقرر کرنا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ ایسی باتیں سن کے چرچل یاد آجاتا ہے۔ گندم کی قیمت کسان کے سوا کسی اور کو مقرر کرنے کا حق کس نے دیا؟ کسان کا خام مال کوڑیوں کے مول خریدنے کی یہ ظالمانہ روایت اب ختم کرنی ہو گی۔ کسان شاید مزید احتجاج بھی نہ کریں، آپ ان کی گندم سستی خرید کے مہنگی روٹی بیچ کے کمائیں گے کیا؟ چند ٹکے؟ حیف ہے اس عہد پر جو یہ سوچ لے کر چلے اور تف ہے اس حکومت پر جہاں کسانوں کا خون پسینہ کھیت میں بھی بے مول بہے اور آپ کی راجدھانی لاہور کی سڑکوں پر بھی ارزاں ہو۔ کسانوں کو شاید اب بھی غصہ نہیں آیا ہو گا مگر قوم ثمود کی راہ پر چلنے والوں پر اگر قدرت کو غصہ آ گیا تو کیا ہو گا۔

آمنہ مفتی

بشکریہ بی بی سی اردو

اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے

ہمیں وزیر اعظم عمران خان کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی والا بیان اب سمجھ میں آیا ہے۔ محترم وزیر اعظم اس بیان کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے ذہن میں حوالہ شاید اس بےلگام گفتگو کا تھا جو ان کے تحت چلنے والے نظام میں ان کے پیارے اور چہیتے کسی بھی موضوع پر کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اس گفتگو سے واضح ہوئی جو اس افسر نے موٹر وے پر ریپ ہونے والی خاتون کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کی۔ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔ بیان میں اپنے اندر کی جذباتی کیفیت کو چھپائے بغیر نیم سوالیہ نشان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو شام کے وقت اس طرح باہر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک نام نہاد وضاحتی بیان میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون چونکہ فرانس سے آئی تھیں لہذا ان کے ذہن میں اس معاشرے کا معیار اور ماحول تھا جو پاکستان کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس طرح کے تجزیے ایک ایسے پولیس افسر کی طرف سے، جو تفتیش پر بھی مامور ہو، جرم کا شکار ہونے والے خاندان پر بجلی کی طرح گرے ہوں گے۔ اس بات پر اصرار کہ یہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین واقعے کی بالواسطہ طور پر خود ذمہ دار ہیں، جرم میں شراکت داری کے الزام کے مترادف ہے۔ جرم کا شکار ہونے والوں کو ذہنی اذیت دینا، تفتیش سے پہلے مفروضوں کی بنیاد پر الٹے سیدھے نتائج اخذ کرنا جرم کی نوعیت اور سنجیدگی کو متاثر کرنے کی ایک مذموم کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر کسی بھی معاشرے میں افسر کو تفتیش اور عہدے سے ہٹا کر باضابطہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سی سی پی او خاص آدمی ہیں اور ان کو لانے کے لیے ایک آئی جی کی باقاعدہ قربانی دی گئی ہے لہٰذا ان کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو فارغ کیے گئے آئی جی شعیب دستگیر سے پوچھ لیں یا سلیکشن بورڈ کی اس رپورٹ کو پڑھ لیں جو ان کے تمام کیریئر کا احاطہ کرتی ہے۔

اسی آزادی کا فائدہ شہزاد اکبر نے بھی اٹھایا اور سی سی پی او کے دفاع میں لمبی چوڑی وضاحتیں دیں۔ قوم کو یہ بتایا کہ عمر شیخ کے بیان کا غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے۔ ستم طریفی یہ ہے کہ عمر شیخ خود اپنے بیان پر مکمل استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہزاد اکبر کی وضاحتوں کے برعکس بار بار ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ اسد عمر کو بھی اظہار آزادی رائے سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ دانش مندی کے نئے دروازے کھولتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں عمر شیخ کے بیان کو بار بار’غیر ضروری‘ قرار دیتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان کے اس بیان میں کوئی پہلو غیرقانونی نہیں ہے لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بےجا ہے۔  اسی موضوع پر چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کو ایک ڈھیلے ڈھالے اور انتہائی دوستانہ انٹرویو میں سی سی پی او عمر شیخ کے بیانات کی مذمت کرنے کے اتنے ہی مواقع دیے گئے جتنے نقلی ریسلنگ کے مقابلوں میں ایک ریفری اپنے پسندیدہ پہلوان کو بار بار جتوانے کے لیے دیتا ہے۔ مگر ہر مرتبہ عثمان بزدار وہی کہہ سکے جو ان کو رٹوایا گیا تھا یعنی وہ مجرموں تک پہنچ جائیں گے اور کمیٹی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ان کے اظہار رائے پر پابندی صرف ان کی اپنی مجبوریاں ہیں جن کے تحت وہ اس پولیس افسر کو کسی طور غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کو پتہ ہے کہ اگر اس کو بچانے کے لیے ایک آئی جی گرایا جا سکتا ہے تو چیف منسٹر کے آفس کے اندر بھی ہنگامہ مچ سکتا ہے، لہذا کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سر چھپا کر بیٹھے رہو، دامن پر کسی اصول کا دھبہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ خواہ مخواہ داغ نمایاں نظر آئے گا۔ کیا فائدہ۔ سوشل میڈیا پر ایک چیتے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون ایک بلیک میلر بھی ہو سکتی ہیں اور یہ واقعہ ن لیگ کا سی سی پی او اور حکومت کے خلاف ایک سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس موصوف کے 42 ہزار کے لگ بھگ فالورز ہیں اور یہ اپنے آپ کو ایک قابل فخر جماعت کے کارکن کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔

سی سی پی او عمر شیخ کی قوم کی ماؤں بہنوں کو جاری کردہ ہدایت کہ وہ آئندہ احتیاط کریں، بھی حق اظہار رائے کی ایک قسم ہے۔ اس طرح کی ہدایات ان جیسے افسران سے اٹی ہوئی ریاست اپنے مجبور شہریوں کی مدد کے لیے وقفے وقفے سے جاری کرتی رہتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب قصور میں زینب کے قتل اور زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تو اس ریاست کے طاقتور ترین، محفوظ قلعوں میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے قائدین نے قوم کو کیا مشورہ دیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ ماں باپ کو اپنی بچیوں کی خود حفاظت کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ بےنظیر بھٹو جب دہشت گردی کے ہاتھوں دن دہاڑے لیاقت باغ کے باہر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ایک انگریزی اخبار میں آرٹیکل کے ذریعے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بےنظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ جنرل مشرف، ان کے تمام وزرا اور مشیر (جن سے اس وقت 70 فیصد حکومت بنی ہوئی ہے) طویل عرصے تک بےنظیر بھٹو کی مبینہ بےاحتیاطی کو بیان کر کے اس سانحے کی وضاحت کرتے رہے۔

اخبارات میں آئے روز چھپنے والے بچوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات سے متعلق اکثر پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان بھی ایسا ہی ہوتا ہے جس میں والدین کو اولاد سے نظر ہٹانے پر سرزنش کی جاتی ہے۔ اپنی طرف سے یہ تمام لوگ ایسے بیانات دے کر اپنے فرائض کی انجام دہی کے ریکارڈ کو بہترین انداز سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، مگر اصل میں وہ گھناؤنے جرائم کے وکیل کے طور پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر احتیاط والی توجیہہ کو مان لیا جائے تو پھر ریاست اور حکومت کے کرنے کا کوئی کام نہیں رہ جاتا۔ اے پی ایس پشاور کے بچوں کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دن ان کو سکول سے چھٹی کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔ اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو ان کو وہ دن اپنی تمام تر بدنصیبیوں کے ساتھ نہ دیکھنا پڑتا۔ اسی سوچ کے تحت آپ مجید اچکزئی کی گاڑی کے نیچے آنے والے ٹریفک پولیس والے کے خاندان کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کے آگے سے ہٹ کیوں نہیں گیا۔

قصور گاڑی چلانے والے کا نہیں کانسٹیبل کا تھا جس نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔ ساہیوال کے واقعے میں تلف ہونے والی جانوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا الزام دیا جا سکتا ہے۔ نقیب اللہ مسحود کو بھی موت کا خود ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں جل جانے والے اگر وہاں کام نہ کر رہے ہوتے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جانیں بچ جاتیں۔ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی مکمل ہے۔ وزیر اعظم صحیح کہتے ہیں۔ یہاں پر رائے دینے کے لیے اپنے حواسوں میں ہونا ضروری نہیں۔ ہر مخبوط الحواس خود کو منبع عقل سمجھ کر کچھ بھی بول سکتا ہے۔

سید طلعت حسین

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

شہریوں کی محافظ پولیس

میں اگر یہ عرض کیا کرتا ہوں ہمارا ملک نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ ہی پرانے والا پاکستان ہے۔ یہ کوئی اور ملک ہے جو ہمارے ان سیاستدانوں نے بنایا تھا جو اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے آزاد ملک کی سرزمین پر ہر روز ایسے کئی ظلم ہوتے ہیں جو کہیں رپورٹ نہیں ہوتے یعنی ان کی کوئی شکایت کہیں درج نہیں کرائی جاتی کیونکہ ان مظلوموں کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان کی داد رسی نہیں ہو گی، اس لیے وہ صبر شکر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا فیصلہ ﷲ تبارک و تعالیٰ کی عدالت میں درج کرا دیتے ہیں۔ عوام کے ساتھ زیادتی کرنیوالوں میں کوئی سرکاری محکمہ بھی کسی دوسرے محکمہ سے پیچھے نہیں ہے۔ جہاں جائیں وہاں عوام کو تنگ کرنے والوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور چند منٹوں کا کام دو تین دن کی تاریخ دے کر بڑھا دیا جاتا ہے۔ 

بغیر کسی لالچ کے کام کرنیوالا کوئی دکھائی نہیں دیتا لیکن اکثر محکمے ایسے ہیں جن سے عوام کا واسطہ زیادہ نہیں یا بہت کم پڑتا ہے مگر پولیس کا محکمہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ دن رات کا واسطہ پڑتا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھیں تو پولیس دکھائی دے جاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی چوک تک دور ہوتی ہے ۔ اگر آپ کسی چیز پر سوار ہیں تو پھر پولیس کی اجازت اور مہربانی سے یہ سواری استعمال کر رہے ہیں۔ اگر پیدل ہیں تو آوارہ گردی میں پکڑے جا سکتے ہیں اور   کام پڑ جائے جو پڑ ہی جاتا ہے تو پھر تھانے کے اندر وہی ہوتا ہے جو منکر نکیر آپ کے ساتھ کریں گے۔ اس لیے پولیس کے ساتھ عوام کا واسطہ چونکہ زیادہ پڑتا ہے، اس لیے پولیس دوسرے سرکاری محکموں سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور پولیس کے ساتھ ناراضگی بھی دوسرے محکموں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

ادھر پولیس کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہیں اتنے زیادہ کہ وہ کسی بھی خواہ وہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اسے کسی نہ کسی قانونی دفعہ کے تحت گرفتار کر سکتی ہے اور اسے عدالت کے سپرد کر سکتی ہے جو خود کسی تھانے سے کم نہیں ہے۔ جو خبریں ہم پڑھتے ہیں کہ جیل سے ایک ایسا شخص رہا ہوا ہے جو برسوں تک بلاوجہ جیل میں سڑ رہا تھا تو اس شخص کی مصیبت کا آغاز پولیس سے ہوا تھا۔ سچ یہ ہے کہ پولیس کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہے کیونکہ اس کے اختیارات سے کوئی بھی فرد باہر نہیں ہے۔ پولیس اور عوام کا یہی تعلق اور رابطہ ہے جس کی وجہ سے پولیس ہر کسی کی نظروں میں کھٹکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ پولیس کے اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ان تما م اختیارات کے باوجود گمراہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ فرشتوں کی طرح دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایسے تو کئی ہیں جو قتل کے مقدمے میں کسی بے گناہ کا چالان نہیں کرتے کیونکہ انسان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ میں ایک ایسے علاقے کا باشندہ ہوں جہاں کبھی جرائم بہت ہوا کرتے تھے۔ اب تعلیم کی وجہ سے لوگ عقل مند ہو گئے ہیں اس لیے مجھے پولیس والوں کے بہت قصے کہانیاں یاد ہیں۔ دیہی علاقوں میں چونکہ باہم رابطے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مجرم اور بے گناہ عوام سے چھپے نہیں رہ سکتے اس لیے پولیس بھی زیادہ سنبھل کر چلتی ہے لیکن شہروں میں اسے کھلی چھٹی ہوتی ہے۔ جہاں پر میں روز ٹھنڈی گاڑیوں میں پولیس والوں کو سڑک کنارے آرام کرتے دیکھتا ہوں جو اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی پٹرول کی صورت میں پھونک رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹھنڈی گاڑیوں میں آرام کرنے والوں کے افسران یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ رات گئے گاڑی کا پٹرول چیک کیے بغیر خاتون کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایسے دلخراش سانحے پر بیان داغنا کسی پولیس والے کا ہی کام ہے، عوا م کا کوئی ہمدرد افسر اگر ہو تو وہ ایسے کیس میں عوام کی بات کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان باتوں کا تعین بعد میں ہوتا ہے کہ واقعہ سے پہلے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے یہ وقوعہ پیش آیا۔ لیکن لاہور کے اعلیٰ پولیس افسر نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کے بعد نہ جانے کس زعم میں زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بیان داغ دیا جس کی ہر طبقہ فکر جن میں عوام کے ساتھ حکومت بھی شامل ہے سب نے شدید مذمت کی ہے۔ لاہور میں سڑک کنارے ہونے والے اکیلی خاتون کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ جس نے بھی سنا اس کی زبان سے یہ فریاد نکلی کہ اتنے بڑے ظلم کے ملزموں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہر طبقہ فکر کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مجرموں کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے۔

موٹر وے لنک روڈکے ساتھ واقع گائوں کے مردوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ کی خطیر رقم جاری کر دی گئی ہے تا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعین کیا جاسکے۔ بھلا ہو میڈیا کا جو اس طرح کے عوامی کیس حکومت تک پہنچا کر ارباب اختیار کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ تحقیقات تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ عوامی حفاظت کا وہ کون سا محکمہ ہے جو اس لنک روڈ پرعوام کی حفاطت کا ذمے دار ہے۔ موٹر وے پولیس ہے یا ہائی وے پولیس، لنک روڈ کے لیے کوئی خصوصی پولیس فورس ہے یا ڈولفن پولیس کے دندناتے موٹر سائیکل سوار ہیں ان ذمے داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دینی چاہیے۔ لنک روڈ پرسفر کریں یا موٹر وے پر عوام کو بھاری ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ موٹر وے پر عوام کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  

جو جرم ہوا اس کے ملزمان تو حکومت ڈھونڈ لے گی لیکن جن کی غفلت اس جرم کا باعث بنی ان کو سزا دینا بھی ضروری ہے۔ بعد از خرابی بسیار سیکیورٹی کے لیے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی ٹیمیں تعینات کی گئیں ہے۔ موٹروے پر پیش آنے والے اس دلخراش سانحے کے اگلے ہی روز لاہور اسلام آباد موٹروے پر شیخو پورہ انٹر چینج سے دو کلو میٹر دوردن دہاڑے لوٹ مار کی گئی جس سے مجرموں کی دیدہ دلیری اور پولیس کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ عوام موٹروے پر سفر کو سب سے محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ موٹر وے بھی سفر کے لیے محفوظ نہیں رہے۔ بہر کیف یہ بحث بہت طویل ہے اور نازک بھی کہ میں بھی ایک عام شہری ہوں اور کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقیم رہتا ہوں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ پولیس یاد رکھے کہ عام شہریوں کی حفاظت بھی اس کی ذمے داری ہے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پولیس کی ایسی تیسی

بہتر طرز حکمرانی، سول سروس اور پولیس میں اصلاحات اور انسٹیٹیوشن بلڈنگ کے موضوعات پر بولتے ہوئے میں نے عمران خان کو تمام سیاستدانوں سے آگے پایا۔ اُنہیں جب بھی میں نے سنا ہمیشہ ایسا لگا کہ اُنہیں پاکستان میں گورننس کی خرابی کی وجوہات، سول سروس اور پولیس کے سیاست زدہ ہونے اور سرکاری اداروں کی نالائقی کا سب کا ادراک ہے، اسی لئے وہ ہر بار کہتے رہے، حتیٰ کہ اپنے پارٹی منشور میں بھی اس بات کو شامل کیا کہ وہ سول سروس خصوصاً پولیس کو غیرسیاسی کریں گے۔ افسران کو اُن کی معیاد پوری کئے بغیر تبدیل نہیں کیا جائے گا، سول سروس اور پولیس میں اصلاحا ت لائی جائیں گی، اچھے اور ایماندار افسروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، کرپٹ افسران کا احتساب کیا جائے گا اور سرکاری افسران کے کام میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن افسوس گزشتہ دو برسوں میں جو کچھ وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی میں پوری دنیا نے دیکھا وہ بالکل اُن تصورات اور اُن خیالات کے برعکس تھا، جو خان صاحب ماضی میں پیش کرتے رہے۔

خان صاحب نے بیوروکریسی اور پولیس کو اتنا سیاست زدہ اور کمزور کر دیا کہ اب تو کوئی سرکاری افسر کسی عہدہ پر ایک سال بھی گزار دے تو سمجھا جاتا ہے کہ کمال ہو گیا۔ وفاقی و صوبائی سیکریٹریوں، چیف سیکرٹریز اور آئی جی کا اتنا بُرا حال ہو چکا کہ محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے ساتھ میوزیکل چئیر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور سب سے بدتر صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی ہے جہاں کسی کو کہیں ٹکنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پانچ آئی جی پولیس اور شاید چھ چیف سیکریٹری ان دو برسوں میں پنجاب میں بدل چکے۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کے تعریفیں کر کر کے خان صاحب نہیں تھکتے تھے لیکن خان صاحب کی حکومت جو پولیس اور سول سروس کے ساتھ کر رہی ہے اُسے دیکھ کر ناصر درانی صاحب نے وزیراعظم صاحب سے معذرت کر لی کہ وہ پنجاب میں پولیس ریفارمز کا کام نہیں کر سکتے بلکہ اُنہوں نے یہ ذمہ داری دیے جانے کے چند ہی ہفتوں میں احتجاجاً ایک آئی جی کے غلط طریقہ سے تبدیل ہونے پر استعفا دے دیا تھا۔

اُن کے بعد تو آئی جیز کا پنجاب میں آنا جانا معمول بن گیا اور پولیس مزید سیاست زدہ ہو گئی لیکن گزشتہ روز جو کچھ ہوا اُس نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا بہتر ہو گا کہ پولیس کی اصلاحات کے بجائے ایسی تیسی کر دی گئی۔ آئی جی کے خلاف اُس کے ماتحت کمانڈ افسر نے لاہور پولیس کے افسران کے سامنے سخت باتیں کیں جس پر اُس ماتحت افسر کے بجائے وزیراعظم عمران خان نے آئی جی ہی کو بدل دیا۔ ماتحت افسر بھی وہ جس کو خان صاحب نے خود ہی دو ماہ قبل اس لئے گریڈ 21 میں پروموٹ نہیں کیا کہ خان صاحب نے اُس افسر کی کارکردگی اور ریپوٹیشن کو خراب پایا۔ وزیراعظم کو اس افسر کے بارے میں جو انٹیلی جنس رپورٹ ملی وہ بھی بہت سنگین تھی جبکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات اور بورڈ کی اس افسر کے بارے میں رائے بھی بہت منفی تھی، جس کو منظور کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس افسر کو ترقی نہیں دی جس کے لئے دو ماہ کے بعد ہی پنجاب کے آئی جی کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جن سفارشات کو منظور کیا اُس کے مطابق ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوایشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔ بورڈ نے اپنے مشترکہ فیصلے، جس کو وزیراعظم نے منظور کیا، میں کہا کہ مذکورہ افسر سی کیٹگری کا ہے اور اس کی ترقی کا معاملہ سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ترقی کیلئے مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتا۔ دو مہینوں میں ایسا کیا معجزہ ہوا کہ وہ افسر جسے وزیراعظم نے ترقی دینے سے انکار کیا اور سی کٹیگری ڈکلیئر کیا وہ اے کیٹیگری ہو گیا اور اُسے لاہور جیسے اہم ترین شہر کا نہ صرف پولیس سربراہ لگا دیا بلکہ اُس کی اپنے آئی جی کے خلاف پولیس کے افسروں اور جوانوں کے سامنے تقریر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے آئی جی کو ہی بدل ڈالا۔ عمران خان نے جو کیا اُسے میں تو سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس اور سول سروس کو مکمل تباہ کر کے خان صاحب نئے سرے سے دوبارہ کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر واقعی پولیس و سول سروس کو وہ تباہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

ایک درخواست وزیر اعظم سے، ایک درخواست آرمی چیف سے

بچپن سے ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں مری میں اپنے گائوں علیوٹ جانا ہوتا۔ یہ سلسلہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی جاری رہا لیکن ماضی کے برعکس گائوں میں رہنے کے لئے وقت کم ہو گیا۔ کبھی ایک دو ہفتوں کے لئے چلے گئے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ چند دن مری میں گزارے اور چند دن اسلام آباد میں، اس طرح سخت گرمی کا مقابلہ بھی کر لیا اور اپنا کام بھی متاثر نہ ہوا۔ اس سال کورونا کی وجہ سے اسلام آباد میں گھر میں محدود ہونے کے بجائے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ مری ہی جایا جائے. ایک طرف تو موسم اچھا ملے گا اور دوسری طرف قدرتی طور پر سماجی دوری کو برقرار رکھنا بھی آسان ہو گا۔ اگرچہ مری میں رہنے والوں کی اکثریت کے لئے کورونا کی کوئی حیثیت نہ کل تھی، نہ آج ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط کرنے والوں کے لیے باہر نکلنے، واک اور ہائکنگ کرنے کے بہت مواقع ہیں۔ گویا برسوں بعد ایک لمبے عرصہ کے لیے مری میں اپنے گائوں میں رہنے کا موقع ملا، واک بھی خوب کی، ہائکنگ بھی جاری ہے، گھر سے کام کرنے کا بھی یہاں اپنا ہی لطف ہے۔

واک اور ہائکنگ کے دوران اپنے مشاہدے اور مقامی لوگوں سے بات چیت کی بنیاد پر دو معاملات ایسے ہیں جن کے بارے میں سوچا کہ اِن پر لکھوں تاکہ متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کی توجہ اس طرف دلوا سکوں۔ ایک معاملہ تو جنگلات میں کچرا پھینکنے کے متعلق ہے جس سے صرف مری کے قیمتی جنگلات اور قدرتی ماحول کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کی طرف کسی کو کوئی توجہ نہیں۔ میں گائوں کی سڑک سے واک کرتے بھوربن جھیکا گلی سڑک پر نکلتا ہوں تو ہر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر سڑک کنارے جنگل میں کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ عوام کو نہ تو صفائی کا خیال ہے نہ اپنی ذمہ داری کا احساس۔ مقامی رہنے والے ہوں، ٹورسٹ یا ہوٹل اور ریسٹ ہاوس والے، جس کا جہاں جی چاہتا جنگل میں کوڑا کرکٹ پھینک دیتا ہے۔ مری کی انتظامیہ، پنجاب حکومت، ضلع و تحصیل کے متعلقہ اداروں کسی کی اس طرف کوئی توجہ نہیں اور یوں مری کے جنگلات کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کیے جانے کا وہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے جسے نہ روکا گیا تو یہ خوبصورت مقام رہنے اور دیکھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

میری وزیراعظم عمران خان، حکومتِ پنجاب، محکمہ جنگلات اور متعلقہ ذمہ داروں سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کی طرف توجہ دیں ورنہ مری کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔ دوسرے معاملہ کا تعلق مقامی بچوں اور نوجوان نسل سے ہے۔ ہمارا گائوں بھوربن کے بہت قریب ہے۔ بچپن میں ہم اکثر جنگل کی سیر کرتے کرتے یا گھومنے پھرنے کے لیے بھوربن کے گالف کورس میں چلے جاتے۔ عید کی نمازوں کا بھی وہاں اہتمام ہوتا لیکن اب میں یا کوئی بھی لوکل گالف کورس نہیں جا سکتا۔ کئی برسوں سے اس گالف کورس کو آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اگر کسی نے وہاں جانا ہے تو کسی فوجی افسر کے حوالے سے ہی جا سکتا ہے۔ اسی طرح مری کے نوجوانوں کے لیے فٹ بال، کرکٹ، ہاکی وغیرہ کے لیے جھیکا گلی کے قریب کھڑیال کے دو گراونڈ بہت اہمیت کے حامل تھے۔ یہاں اکثر فٹبال، ہاکی اور کرکٹ کے ٹورنمنٹ ہوتے تھے۔

مجھے بھی ان دونوں گراونڈز میں کھیلنے کا موقع ملا۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں گراونڈز کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے ان گراونڈز کو ہمیشہ سے مری میں کھیلوں کے لیے ایک مرکزی حیثیت رہی ہے۔ کئی برسوں سے ان گراونڈز کو بھی فوج کے لیے مختص کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مری کے نوجوان کو کھیلوں کی ایک بہت بڑی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اگر کھیل کے میدان نہیں ہوں گے، نوجوانوں کو صحت مند تفریح کے مواقع نہیں ملیں گے تو پھر وہ منفی کاموں کی طرف متوجہ ہوں گے اور اسی لیے بہت شکایات مل رہی ہیں کہ مری میں نوجوانوں میں نشہ بہت عام ہو رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مری میں چوری چکاری اور خصوصاً سیاحوں کو لوٹنے کے واقعات جن کے بارے میں ماضی میں کبھی سنا بھی نہ تھا، کی شکایات چند برسوں میں مل رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں میری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست ہے کہ مری میں واقع ایسے کھیل کے میدان جو فوج کے لیے اب مختص کر دیے گئے ہیں اُنہیں مقامی نوجوانوں کے لیے اور اسپورٹس ٹورنامنٹس کے لیے کھولا جائے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے کہ فوج کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ اس طرح کی پالیسی سے فوج کے وقار اور اُس کے عوام اور عوام کے درمیان رشتہ مضبوط ہو گا۔ مری کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں نئے میدان نہیں بنائے جا سکتے اس لیے جو میدان یہاں ہیں اُن پر مقامی نوجوانوں کے کھیلنے کا حق کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

پنجاب پولیس نے ڈکیتی کے ملزم کے گھر کا کرایہ کیوں ادا کیا ؟

عام طور پر جب پولیس کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں چھاپے، گرفتاریاں، تفتیش اوربکتر بند گاڑی آتی ہے۔ لیکن تھوڑا اپنے دل میں نرمی پیدا کیجیے کیونکہ تصورات کے برعکس آپ کی ملاقات پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے سول لائن پولیس اہلکاروں سے ہونے جا رہی ہے جنھوں نے ڈکیتی کے ملزم کی مشکلات کم کرنے میں اس کے خاندان کی مدد کی۔ وبا کے دنوں میں اگر کوئی آپ کے مکان کے کرائے کی ادائیگی اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے مالی مدد کر دے تو یہ کسی معجزے سے کم تو نہیں مگر یہاں معاملہ ایک منفرد ڈکیتی اور پولیس تحقیقات کا ہے۔

جب اندھی ڈکیتی کی تفتیش نے پولیس کی آنکھیں کھول دیں
سول لائن تھانے کی پولیس نے بتایا کہ چند روز قبل انھوں نے ایک اندھی ڈکیتی کا ناصرف سراغ لگا لیا تھا بلکہ لوٹی ہوئی رقم بھی برآمد کر لی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں انھوں نے اس ڈکیتی سے جڑے تمام ٹھوس شواہد اکھٹے کر لیے تھے جنھیں عدالت میں جھٹلانا تقریباً ناممکن ہو گا۔ پولیس مزید تفتیش سے متعلق اپنی فائل بند کرنے ہی والی تھی کہ ایک خاتون اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ تھانے کے اندر داخل ہوئیں اور فرش پر بیٹھتے ہی کہا کہ وہ ملزم کی اہلیہ ہیں اور یہ ان کے پانچ بچے ہیں۔ پولیس اس وقت ششدر رہ گئی جب خاتون نے کہا کہ ہم ملزم کو چھڑانے نہیں آئے بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ ہمیں بھی تھانے میں رکھا جائے۔ اس سے پہلے کہ پولیس کچھ کہتی خاتون نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے پولیس کو کہا کہ ان کے ساتھ ہمیں بھی جیل بھج دیں، کم از کم ان پانچ بچوں کو کھانا تو مل جائے گا۔ پولیس کے مطابق تھوڑا توقف سے خاتون نے انھیں بتایا کہ ’ہمارے گھر میں کئی دن سے فاقے ہیں، تین ماہ کا کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اب مالک مکان نے بھی آخری وارننگ دے دی ہے، جس کے بعد چھت بھی نہیں رہے گا۔ جیل میں کم از کم چھت تو ہو گی۔’ یہ سننے کے بعد پولیس نے جو کیا اس کی تفصیل ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے، لیکن پہلے اس واقعے سے متعلق کچھ اہم حقائق پر نظر دوڑاتے ہیں۔

ملزم نے ڈکیتی کیوں کی؟
ڈی ایس پی سول لائن ایریا گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ ملزم گوجرانوالہ میں غیر معروف نہیں ہے۔ ملزم شہر میں کافی عرصے سے دہی بھلے کی ریڑھی لگا رہا تھا مگر جب سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی تو اس کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ جب سے لاک ڈاؤن ہوا تو رش نہ بننے کے خدشے کے باعث انھیں مرکزی مقامات پر ریڑھی لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ ملزم نے بتایا کہ انھوں نے چھپ کر گلی کوچوں میں محنت مزدوری کرنے کی کوشش بھی کی مگر اس سے روزانہ صرف سو، دو سو روپیہ ہی بچ پاتے تھے، جس سے مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے ہونا مشکل ہو گئے تھے۔

پولیس نے ملزم کے گھرانے کی مالی مدد کیسے کی؟
ملزم کی اہلیہ کے تھانے میں آ کر بیان دینے کے بعد پولیس نے علاقے کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو انھیں معلوم ہوا کہ ان خاتون کی باتوں میں سچائی ہے۔
پولیس نے ملزم کے گھر والوں کی مالی مدد کے لیے تھانے میں ایک فنڈ قائم کیا جس میں سب پولیس والوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔ پولیس نے تین ماہ کے کرائے کے علاوہ ملزم کی اہلیہ کی کچھ مالی اعانت بھی کی۔ ملزم کی اہلیہ نے صحافی زبیر خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاوند نے ان سے کہا تھا کہ ’میرے پیچھے تھانے، عدالت اور جیل میں نہ آئیں، یہ اچھی جگہیں نہیں ہیں۔‘ ملزم کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی تسلیوں کے بعد وہ گھر آگئیں لیکن ’دوسرے دن پولیس پھر آئی تو مجھے لگا کہ لوگ ٹھیک کہتے تھے کہ پولیس ہم سب کو گرفتار کرے گی۔ لیکن ہمیں گرفتاری کا ڈر نہیں تھا۔‘ ’اس سے پہلے کے وہ ہمیں کہتے کہ تھانے چلو انھوں نے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ یہ مکان کا کرایہ اور یہ کچھ پیسے جس سے گھر والے کچھ دن سکون سے گزر بسر کر سکیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مجھے شدید حیرت ہوئی اور میں پولیس کا یہ رویہ دیکھ کر رو پڑی۔

کورونا وائرس بے روزگاری میں اضافے کا سبب
پائیدار ترقی سے متعلق تحقیقاتی ادارے (سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ) کے مطابق لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دوران نقد رقم کی کمی بھی بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوا ہے۔ پاکستان میں کئی چھوٹے کاروبار اپنے قرض لوٹانے کے علاوہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے ان ملازمین کو فارغ کرنا پڑا ہے۔ تحقیق کے مطابق نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے دس لاکھ کے قریب چھوٹے کاروبار بند ہو گئے ہیں اور اپریل میں ان کی آمدنی میں 50 فیصد کمی نظر آئی۔ پاکستان میں محنت کشوں پر تحقیق کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار لیبر ریسرچ کے مطابق ملک میں روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد تقریباً 26 ملین ہے۔ ان میں سے تقریباً پانچ ملین کو معاوضہ روزانہ کی بنیاد پر جبکہ چار ملین کو ہفتہ وار معاوضہ ملتا ہے۔

حال ہی میں گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان نے اپنے سروے میں بتایا ہے کہ کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران گذشتہ ایک ہفتے میں پاکستان کے 21 لاکھ خاندانوں کو گھر کا سامان بیچ کر ضرورتیں پوری کرنا پڑیں۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں کسی ملزم نے اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قانون توڑا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا روزگار کے ذرائع کم ہونے سے ہو رہا ہے۔ حال ہی میں سٹیٹ بینک نے قرض لینے کی شرائط میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق اپنے ملازمین کو فارغ نہ کرنے والے چھوٹے کاروبار، مالی اداروں سے قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔

محمد زبیر خان
بشکریہ بی بی سی اردو