پاکستان میں پانی کا بحران : سنگین قومی چیلنج

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے جن ملکوں کو پانی کی قلت کے مسئلے کا سامنا ہے پاکستان اُن میں سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول آنے والے برسوں میں اس بحران کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔ اس صورت حال کی بناء پر مسئلے سے نمٹنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز عالمی یومِ ماحولیات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ پاکستان کو 80 فیصد پانی گلیشیروں سے ملتا ہے جو زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو انسانیت کی بقا کے لئے ضرورت کے مطابق مالیاتی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی جانب سے کاربن کا اخراج کم کیے جانے پر زور دیا۔

اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030ء تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دیں گے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہوں گے اور موسمی تبدیلیاں ختم ہوں گی، آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی اور حیوانی حیات کو تحفظ ملے گا۔ اس موقع پرچینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یومِ ماحولیات کی کامیاب میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور ماحولیات کے شعبے کی ترقی میں پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صراحت کی کہ کوئی ایک ملک مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

بلاشبہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری انسانی دنیا کا ایسا مسئلہ ہیں جن کے حل کی کوششوں میں لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک کر چکی ہے اور اب اس سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ کاوشوں کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم ہم اہلِ پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری کی طرف دیکھتے رہنے کے بجائے اپنے حصے کا کام انجام دینے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات کم سے کم ممکنہ مدت میں مکمل کر لینے چاہئیں کیونکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ گلیشیروں سے پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کا ازالہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر انتظامات سے ممکن ہے جس کا کم و بیش 90 فیصد حصہ سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہی ضروری نہیں یہ کام مقامی سطح پر ملک بھر میں چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیں بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بارش کا زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی اور ٹیوب ویلوں وغیرہ کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اسی طرح پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو رواج دنیا بھی ضروری ہے۔ زرعی فصلوں کی آبیاری کے لئے اب ایسے طریقے دنیا کے مختلف ملکوں میں مروج ہیں جن میں فصلوں کو دیے جانے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کی معمولی مقدار بھی ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔ ہمارے ہاں بھی یہ طریقے ہنگامی بنیادوں پر متعارف کرائے جانے چاہئیں۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں کا بھی کم سے کم وقت میں مکمل کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگرہمارے قومی وجود کا برقرار رہنا غیریقینی ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاکستان میں آبی قلت کا سنگین خطرہ

اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب پورے کرہ ارض کا درجہ حرارت تبدیل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیرز پگھل رہے ہیں اور پینے کے پانی کے وسائل میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ دیکھا جائے تو اِن موسمی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کے خطرے کی بابت ایک عشرے سےعالمی ماحولیاتی ادارے آگاہ کرتے رہے ہیں اور اسی خطرے کے پیش نظر کئی ممالک میں آبی ذخائر کے چھوٹے بڑے منصوبوں کی تعمیر کو اولیت دی جاتی رہی ہے لیکن اس باب میں وطن عزیز میں اب تک کوئی قابلِ ذکر کام نہیں ہوا۔ کئی عشروں قبل دو بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بعد ہنوز کوئی بڑا آبی منصوبہ مکمل نہیں ہوا بلکہ کئی اہم آبی منصوبے سیاست کی نذر ہو گئے حالانکہ پاکستان تو موسمیاتی تغیر سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جبکہ یہاں زیر زمین پانی کی سطح میں بھی مسلسل کمی آرہی ہے۔

اس وقت سب سے بڑے صوبے بلوچستان سمیت ملک کے کئی بڑے شہر پانی کی کمیابی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ یہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہے اور فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔ اچھی بات ہے کہ ایوانِ بالا کے حالیہ اجلاس میں پانی کی قلت کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ ملک میں پانی کی قلت کو الارمنگ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 1951 میں پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 5260 کیوبک میٹر سالانہ تھی جو کم ہو کر آج ایک ہزار کیوبک میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے۔ سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت علی خان نے سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں پانی کی مسلسل قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے جس پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے۔ اس وقت قلت آب کا مسئلہ جس طرح گمبھیر صورت اختیار کرتا جارہا ہے ایسے میں ہر شہر و علاقے میں کم لاگت اور چھوٹے آبی ذخیروں کی تعمیر کو اولیت دینی چاہئے جہاں بارش کے پانی کو محفوظ بنایا جا سکے اسی طرح پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

عوام کو اوپر لائیں

کے ایم سی کے پاس فنڈز نہیں، صوبائی حکومت کے پاس وقت نہیں۔ نتیجہ شہری لاوارث، کوئی مصیبت ایسی نہیں جسے وقت سے پہلے روکا جاسکے۔ کچرا، گندگی، یہ انسانوں کی اپنی نالائقی ہے لیکن بارشیں خدا کی پناہ بس جھانک جھانک کر آسمان کی طرف دیکھتے جائیے اور خوف سے آنکھیں بند کرتے جائیے۔ دو دن وہ بارش الامان و الحفیظ گھر کے باہر پانی، گھر کے اندر پانی جس طرف نظر اٹھائیے پانی ہی پانی۔ پکی چھتیں گر رہی ہیں، پکی دیواریں گر رہی ہیں۔ دفاتر اور فیکٹریوں کو جانے والے پھنس رہے ہیں، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، سامنے ندیاں بہہ رہی ہیں۔ حکومت کو معلوم ہے کہ یہ بارش کا موسم ہے، بارش کا کوئی سر پیر نہیں، محکمہ موسمیات جو پیش گوئیاں کرتا ہے وہ مذاق سے کم نہیں، سرکاری ادارے (متعلقہ) کی کارکردگی اللہ اللہ۔ عوام بس اللہ توکل ہیں، کراچی سمیت ملک بھر میں بارشوں کا جو سلسلہ جاری ہے کہا جا رہا ہے کہ پچھلے عشروں میں ایسی بارشیں نہیں دیکھیں، ہمارا انتظامی سیٹ اپ اتنا نامعقول کہ بارش کی لائی ہوئی تباہیوں کے بعد عوام کے آنسو پوچھنے آ جا تا ہے۔

دنیا کے مہذب ملکوں میں اول تو بارش سے بچاؤ کے ایسے مستحکم سسٹم موجود ہیں کہ بڑی سے بڑی بارش شہریوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس کے علاوہ ایک فعال ایمرجنسی نظام موجود ہوتا ہے جو ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی بھرپور مدد کرتا ہے اس کے برخلاف ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ معمولی سی بارش سے سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں۔ اطلاع ہے کہ اس بار پوش علاقوں میں بھی بارشوں نے گڑبڑ کر دی، پوش علاقوں میں ایسی آفات کے معقول انتظامات ہوتے ہیں نہ ان علاقوں میں کچرا کوڑا ہوتا ہے نہ گلیوں میں گندا پانی بہتا ہے ایسے علاقے جب پانی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں تو پانی کی تباہی کا اندازہ مشکل نہیں۔ ہمارا محکمہ بلدیہ مفت خوروں سے بھرا ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملازمین مہینوں نہیں آتے اور حاضریاں لگتی ہیں جہاں صورتحال یہ ہو وہاں کی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ 

انگریزوں کو ہم گالیاں دیتے ہیں لیکن انگریز ملازمین کے کام کے حوالے سے بہت سخت تھے، یہی وجہ ہے کہ اس پرانے دور میں بلدیہ سمیت سارے ادارے فعال رہتے تھے۔ آزادی ملی تو ہم انگریز سے تو آزاد ہو گئے لیکن اپنے غلام بن کر رہ گئے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے، اس سیزن کی بارشوں نے ملک کا جو حال کر رکھا ہے وہ سرکار کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے لیکن سرکار نے بے حسی کا ایسا لبادہ اوڑھ رکھا ہے کہ اس پر کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ اوپر کی کارکردگی صفر ہو تو صفر نیچے تک آ جاتا ہے۔ بلاشبہ اس سال بارشیں گزشتہ سالوں سے زیادہ ہوئی ہیں لیکن حکومتیں وقت کے ساتھ ساتھ، انتظام کر رکھتی ہیں، یہی وجہ ہوتی ہے کہ ان کا انفرااسٹرکچر بڑی سے بڑی بارشوں کو بھی برداشت کر لیتا ہے جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ذرا سی بارش میں سارا سسٹم اوندھا ہو جاتا ہے۔

ہماری بلدیاتی سرکار نے طے کر لیا ہے کہ بارش کے پانی کو کھلی آزادی دے دیں گے وہ جہاں چاہے بہتا جائے، نقصان کرے، سرکار آنکھیں بند ہی رکھے گی۔ یہ صورت حال بلدیاتی افسروں اور عملے کے لیے سوالیہ نشان نہیں بلکہ عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنے سرکاری محکموں پر نظر کیوں نہیں رکھتے، حالانکہ سرکاری ملازمین اورافسروں کو ہنگامی حالات کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں لیکن وہ سب ’’ہذا من فضل ربی‘‘ کی نذر ہو جاتے ہیں، جب تک کھانے پینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا بارشیں تباہی مچاتی رہیں گی۔ عوام رلتے رہیں گے، اس صورتحال کے خاتمے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ہمارے ملک کے مختلف محکموں میں سرکاری ملازمین نہیں نوابین کام کرتے ہیں اور یہ لوگ عادت کے اتنے پکے ہو گئے ہیں کہ اب انھیں غیر معمولی سختی اور سزاؤں سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص یعنی ہر سرکاری ملازم کھاؤ پیو اور ٹرخاؤ کے فارمولے پر عمل پیرا ہے اور جہاں یہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، وہاں بھلائی کی امید فضول ہے، سرکاری ملازمین تو ملازمین ہی ہیں لیکن ہمارے عوام کس مرض کی دوا ہیں۔ ہمارا ملک جمہوری کہلاتا ہے اور جمہوریت میں عوام بااختیار ہوتے ہیں لیکن ہماری جمہوریت میں عوام کو غلام بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس ملک میں یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، ایسے ملک کبھی سدھر نہیں سکتے اور عادی مجرموں کی خرابیاں اپنا لیتے ہیں۔ ہم نے اب تک اس نئی حکومت کی حمایت اس لیے کی کہ اس میں پرانے پاپی نظر نہیں آئے لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نئے کے روپ میں وہی پرانے ’’فنکار‘‘ عوام کے سروں پر سوار ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عمران خان ایک فعال انسان ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ماحول نے انھیں بھی پرانا بنا دیا ہے، اب وہ اپنا زیادہ وقت کابینہ کی میٹنگز میں گزارتے ہیں۔

وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور 72 سال بعد ایک ایسی مڈل کلاس حکومت برسر اقتدار آئی ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں اور 3 سال پہلے عمران خان عوام میں ہوتے تھے، اس لیے عوام ان کے ساتھ ہوتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان عوام سے خواص میں تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ تبدیلی عمران خان کے لیے فائدہ مند ہو لیکن عوام کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے۔ عمران خان نے بار بار کہا ہے کہ میں اس پسماندہ ملک کو اوپر لاؤں گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی حوالوں سے ملک اوپر آ رہا ہے لیکن اصل مسئلہ عوام کے اوپر آنے کا ہے۔ اگر عوام اوپر نہ آئے تو نئے پاکستان کا نعرہ سوائے نعرے کے کچھ نہیں رہے گا، اب بھی وقت ہے کہ عمران خان حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور عوام کو اوپر لانے کے لیے ٹھوس پلاننگ کریں۔

ظہیر اختر بیدری  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Torrential rain floods Karachi, shatters records

Torrential rain lashed Karachi, causing widespread flooding, as downpours in August shattered 89-year-old records for the city, meteorological officials said. Thursday marked the third day of heavy rain this week, during which more than a dozen people have died while residents have been forced to abandon their homes. Provincial authorities were moving displaced families into school buildings as the military carried out rescue and relief operations. “It has never rained so much in the month of August, according to our data,” the country’s chief meteorological officer, Sardar Sarfaraz, told Reuters, adding that the data went back to 1931.

Karachi still crying for help four days after rain disaster

Karachi residents began cleaning ruined homes and businesses after catastrophic flooding sent rivers of filthy water cascading through the country’s financial and commercial hub, even as authorities’ efforts to mitigate the crisis-like situation seemed not enough. Four days after record-breaking rainfall wreaked havoc on the city, parts of it remained waterlogged and without power. Frustrated by the lack of action by departments concerned, residents of DHA and Clifton gathered outside the Cantonment Board Clifton (CBC) office to protest against the post-rain situation in the two localities.
Source : Dawn News
The 2020 Karachi floods caused due to heavy rain and killed at least 41 people. Pakistan experiences monsoon during July and August, but has never experienced such heavy rainfall since records began.
The rainfall for a single day that totaled as much as 345 mm  rivaled that of a recorded rainfall of 298.4 in 1984. Since the city started keeping meteorological records in 1931, this is considered the worst flooding Karachi has suffered in its history As of August 28, 2020, 760 mm of rainfall was recorded in a single week that forced the authorities to employ boats to rescue people stranded in the streets across the city. Fallen power lines, out of service cell phone towers, and widespread fuel shortages due to heavy reliance on alternative power sources created a vicious mix of miseries for the estimated 15 million residents of the city.
Source : Wikipedia

کُھلا ہے جھوٹ کا بازار

اِس برسات کے موسم نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ساتھ جو کیا اُسے دیکھ کر قتیل شفائی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

یہ وہ بارش تھی جو رحمت سے زحمت بن گئی۔ غریبوں کی بستیاں اجڑ گئیں اور امیروں کے بنگلے بھی محفوظ نہ رہے۔ بھری برسات میں لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے کیونکہ بارش کے پانی نے شہر کو کچرے اور گندگی کا سمندر بنا دیا۔ ایک بارش آسماں سے برسی دوسری بارش مجبور اور لاچار لوگوں کی آنکھوں سے برس رہی تھی۔ اس بارش نے بے اختیار اور با اختیار کی تمیز ختم کر دی۔ بے اختیار بھی شہر کی سڑکوں پر کشتیوں کے منتظر تھے اور بااختیار لوگوں کی بھی بڑی بڑی گاڑیاں بارش کے پانی میں بہہ گئیں۔ میڈیا نے بارشوں سے پہلے ہی شور مچا دیا کہ ابھی کورونا وائرس کا عذاب ختم نہیں ہوا اور برسات کا موسم آنے والا ہے اس برسات میں شہر کو تباہی سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ میڈیا کی اس وارننگ پر سیاست شروع ہو گئی۔ شہر کے میئر نے کہا کہ میرے پاس وسائل کی کمی ہے، میں بے اختیار ہوں۔ صوبائی حکومت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں مناسب فنڈز نہیں دیئے اور وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ہم نے تو بہت فنڈز دیئے ہیں لیکن صوبے کی حکومت کرپٹ اور نا اہل ہے۔

بیان بازی کا ایک مقابلہ شروع ہو گیا اور اس مقابلے میں وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا کہ کراچی کے گندے نالے صاف کئے جائیں۔ نالوں کی صفائی شروع ہو گئی۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانے کے لئے ایک کوارڈی نیشن کمیٹی بھی بنائی گئی لیکن بارش اتنی زیادہ ہوئی کہ اس میں سب کمیٹیاں بہہ گئیں۔ اس بارش نے سرجانی ٹائون، ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی اور بحریہ ٹائون کا فرق مٹا دیا۔ سارے محمودوں اور ایازوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا اور یہ صف تھی نا اہلی اور نا اتفاقی کی۔ نا اہل لوگ کسی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے اتفاق اور اتحاد قائم کر لیں تو نقصان کو کم ضرور کر سکتے ہیں لیکن ہمارے محمود تو یہ فرما رہے تھے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا اور سب ایاز دل ہی دل میں اپنے سلطان کی ناکامی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

تو جناب کراچی میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومت سمیت سب سلطان ناکام ہو گئے۔ ناکامیوں کی یہ داستان صرف کراچی تک محدود نہیں۔ سندھ کے کئی شہروں اور دیہاتی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے بہت سے علاقے، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعض شہروں میں بھی ریاست اپنے شہریوں کی بروقت مدد نہیں کر سکی۔ میں نے کچھ صاحبان اختیار کو یہ بڑبڑاتے سنا کہ لوگ ٹیکس تو دیتے نہیں اور حکومت سے ہر قسم کی سہولت بھی مانگتے ہیں۔ آپ نے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کو سیاسی انتقام کے لئے ایک دوسرا نیب بنا دیا ہے۔ دو سال میں ایف بی آر کے چار سربراہ تبدیل کئے گئے تاکہ ایک جج پر لگائے جانے والے الزامات کو سچ ثابت کیا جا سکے۔ جس ادارے پر کوئی جج اعتبار نہ کرے اُس پر عام آدمی کیا اعتبار کرے گا؟۔ یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔ جب بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے اور یہ پانی حکمرانوں کے سب وعدوں اور دعوئوں کو بہا لے جاتا ہے۔ حکمرانوں کے وعدے عبدالحمید عدم کی غزل نہیں ہوتے جنہوں نے فرمایا تھا۔

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدم
بارش کے سب حروف کو اُلٹا کے پی گیا

بارش کے حروف کو اُلٹا پڑھیں تو یہ شراب بن جاتی ہے۔ ان حروف کو اُلٹا کر شاعر تو یہ شراب پی سکتا ہے لیکن عام آدمی ایسی چیزیں نہیں پی سکتا۔ اُسے تو وہ چاہئے جس کا وعدہ اُس کے ساتھ الیکشن کے جلسوں اور منشوروں میں کیا گیا تھا۔ عام آدمی سے کہا گیا تھا کہ میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں گا، میں پٹرول اور بجلی مہنگی نہیں کروں گا، میں مہنگائی کم کر دوں گا، میں آپ کی زندگی آسان کر دوں گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ جب کوئی وعدہ پورا نہ ہوا تو اُن وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے نئے وعدے کئے جانے لگے۔ نیا وعدہ یہ ہے کہ میں نواز شریف کو پاکستان واپس لائوں گا۔ سوال یہ ہے کہ آپ تو اسحاق ڈار کو پاکستان واپس نہ لا سکے تو نواز شریف کو واپس کیسے لائیں گے؟ ایک سفارتکار نے مجھ سے پوچھا کہ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف پاکستان میں قتل اور دہشت گردی کے درجنوں مقدمات درج ہیں، اُنہیں کئی مقدمات میں سزائیں ہو چکیں وہ اشتہاری قرار دیئے جا چکے اگر اُنہیں واپس نہیں لایا جا سکا تو نواز شریف کو کیسے واپس لایا جائے گا؟

میرے پاس مسکرا کر یہ سوال ٹالنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا لیکن جب سفارتکار نے یہ سوال دہرایا تو میرے صبر کا پیمانہ کچھ لبریز ہو گیا اور میں نے قدرے گستاخانہ انداز میں کہا کہ آپ کو یہ سوال وزیراعظم سے پوچھنا چاہئے؟ سفارتکار نے میرے گستاخانہ لہجے کو اپنی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا نواز شریف بھی اپنے بھائی شہباز شریف کی طرح خود ہی واپس آ جائیں گے؟ میں نے اپنی غیرت و حمیت کو جیب میں ڈالا اور ہاتھ جوڑ کر ان صاحب کے سامنے کہا…’’سر، مجھے معاف کر دیں، مجھے کچھ پتہ نہیں‘‘۔ افسوس کہ ایک بارش سچ اور جھوٹ کا فرق ختم کر دیتی ہے۔ سیاسی وعدوں اور دعوئوں کی بارش حکومت اور اپوزیشن کا فرق بھی ختم کر دیتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ حکومت سچی ہے یا اپوزیشن؟ یہ معاملہ صرف اہل سیاست تک محدود نہیں۔

اہل صحافت بھی سچ کے نام پر جھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان میں سے کوئی بھی اس ملک میں رہ کر سچ بولنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ جب تک اس ریاست کے شہریوں کو آئین کے مطابق سچ بولنے کا اختیار نہیں ملے گا اس ریاست پر جھوٹ کی حکمرانی رہے گی اور ہر بارش حکمرانوں کے وعدوں کو بہاتی رہے گی۔ قتیل شفائی سو مرتبہ کہتا رہے کہ

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آئو سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آئو سچ بولیں

لیکن آج کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہاں سچ کے نام پر بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔

حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ

اور کتنی ڈرامے بازی ؟

یہ جو پچھلے چند روز سے کراچی کی حالتِ زار پر مرکز سے صوبے تک ہر فیصلہ ساز ماتمی اداکاری کر رہا ہے۔ یہ تماشا ہم اہلیانِ کراچی کئی عشروں سے سالانہ بنیاد پر دیکھتے آ رہے ہیں۔ اب تو سب کچھ ایک پھٹیچر اسکرپٹ جیسا لگنے لگا ہے۔ پہلے منظر میں شدید بارش ہو گی۔ شاہراہوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گا۔ میڈیا کے کیمروں کی چاندی ہو جائے گی اور ریٹنگ کی آنکھ سے چھ انچ اونچا پانی بھی چھ فٹ کا نظر آئے گا۔ دوسرے ایکٹ میں بلدیاتی، صوبائی اور وفاقی عہدیدار ایک دوسرے کو دوپٹے پھیلا پھیلا کے کورس میں کوسیں گے۔ اس آہ و بکا کے دوران یوں لگے گا گویا عوام کو ہر پھپے کٹنی ماں سے زیادہ چاہ رہی ہے اور بس مصائب کا خاتمہ ہونے کو ہے۔ مگر کہاں صاحب۔ پھر اگلا برس آجاتا ہے۔ وہی جولائی اگست اور وہی پھٹیچر اسکرپٹ دوبارہ انھی اوور ایکٹرز کے طائفے کے ساتھ نمودار ہو جاتا ہے۔

اس بار بھی کیا مختلف ہو رہا ہے؟ مئیر کراچی وسیم اختر آنکھوں میں آنسو بھر کے اپنے سے اوپر والوں کو بددعائیں دیتے ہوئے مدت ِ عہدہ پوری ہونے کے بعد پچھلے ہفتے گھر بیٹھ گئے۔ سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی کی حالت دیکھ کر اس کی تو بھوک پیاس اڑ چکی ہے مگر وفاق ہمارے پھنسے ہوئے اربوں روپے نہیں دے رہا تو ہم کراچی کو کیسے سدھاریں۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ ناشکری سندھ حکومت کی جیب پھٹی ہوئی ہے۔ اس جیب میں قارون کا خزانہ بھی بھر دو تو خالی ہی نظر آئے گی۔ رہی عسکری اسٹیبلشمنٹ تو اس نے کراچی کے تین سیاسی فریقوں بلکہ حریفوں یعنی ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے نکتہ چینوں کو ایک ہی کمیٹی میں بٹھانے کی کوشش تو کی مگر یہ اتنی ہی کامیاب ہوئی جتنی کہ مینڈکوں کو ترازو میں تولنے کی کوشش۔

اس بار اگر کچھ نیا ہے تو بس یہ کہ موجودہ وزیرِ اعظم نے پہلی بار سندھ کے وزیرِ اعلی سے خود رابطہ کر کے یقین دلایا ہے کہ وہ کراچی کے بنیادی مسائل کے جامع حل کے لیے شانہ بشانہ مکمل تعاون پر تیار ہیں۔ مگر ہم اہلیانِ کراچی اس طرح کے چمتکاری مناظر کے اتنی بار ڈسے ہوئے ہیں کہ اب تو رسی بھی سانپ دکھائی پڑتی ہے۔ اس مرتبہ ہم واقعی یقین کر لیں بشرطیکہ درجِ ذیل اقدامات ہوتے نظر آئیں۔ 

اول ) بلدیاتی انتخابات سے پہلے پہلے موجودہ پوپلے اور بے بس ڈھانچے کی جگہ ایک بااختیار و با وسائل بلدیاتی ڈھانچے کے قیام کے لیے اسمبلی فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ میں بامعنی و موثر ترامیم کرے اور کچھ یوں کرے کہ صوبائی اور بلدیاتی ادارے اور ان کا انتظامی و مالیاتی دائرہ کار کسی بھی عام شہری کو شفاف انداز میں الگ الگ دائروں میں نظر آ سکے۔ یہ قانون سازی محض کراچی کے بہلاوے کے لیے نہیں بلکہ سندھ کے تمام شہروں کی بلدیات کو یکساں بااختیار و باوسائل بنانے کی نیت سے کی جائے۔

دوم) شہروں کی صحت و صفائی، منصوبہ بندی، ہنگامی حالات سے نپٹنے اور بنیادی انتظام چلانے کے ذمے دار تمام بکھرے اداروں کو یکجا کر کے مئیر کے اختیار میں دیا جائے جیسا کہ دنیا کے دیگر بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ 

سوم ) کچھ ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت کراچی اور دیگر شہروں میں قائم کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈی ایچ اے وغیرہ خود کو برہمن سمجھنے کے بجائے مقامی منتخب بلدیاتی ڈھانچے کے ساتھ اشتراک پر آمادہ ہو سکیں اور بحران کے وقت اپنی کمان ایک شخص یا ایک امبریلا ادارے کے ہاتھ میں دینے سے نہ ہچکچائیں تاکہ موثر رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل بھی جانفشانی کے ساتھ استعمال ہو سکیں۔ نہ کہ ہر ادارہ کڑک مرغی کی طرح اپنے اپنے اختیارات و وسائل پروں میں دبا کر ایک دوسرے سے منہ موڑ کے بیٹھ جائے جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے۔

چہارم) وہ تمام تجاوزات جو پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں بھلے بلدیاتی حدود میں ہیں یا کنٹونمنٹ حدود میں۔ ان سب کو بلا تاخیر و مصلحت فوری طور پر منہدم کیا جائے۔ ان تجاوزات پر اگر کمزور طبقات کے لوگ رہائش پذیر ہیں تو انھیں اپنی زندگی رواں رکھنے کے لیے مناسب معاوضہ اور متبادل چھت فراہم کی جائے۔ حالانکہ ان تجاوزات کی قانون حیثیت نہیں ہے مگر ان میں رہنے والے کمزور طبقات بہرحال پاکستانی شہری ہیں اور انھیں بحیرہ عرب میں تو نہیں پھینکا جا سکتا۔ لہذا ان کی بے دخلی سے پہلے بنیادی بندوبست بھی کیا جائے تاکہ ایک مسئلہ حل کرتے کرتے ایک اور انسانی بحران پیدا نہ ہو جائے۔

پنجم ) بلدیاتی اداروں کے مفلوج ہونے کا ایک سبب پچھلے تین عشروں کے دوران بے تحاشا سیاسی و سفارشی تقرریاں بھی ہیں۔ خزانے پر بوجھ ایسے لوگوں کا بیشتر وقت اپنی نااہلی چھپانے اور نوکری بچانے میں گذر جاتا ہے۔ لہذا عدلیہ ، اچھی شہرت والے سابق بیوروکریٹس اور سول سوسائٹی کے معزز ارکان پر مشتمل ایک نظرِ ثانی کمیشن بنایا جائے جو پچھلے تیس برس کی تمام تقرریوں کو میرٹ کی بنیاد پر پرکھ کے نوکری سے نکالنے یا رکھنے کا آزادانہ و شفاف فیصلہ دے سکے اور ان فیصلوں کو تمام فریق بلا مصلحت و ناراضی برداشت کریں۔ یہ وہ جلاب ہے جو بلدیاتی مریض کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ازبس ضروری ہے۔ 

ششم ) صرف آبی گذرگاہوں پر تجاوزات کے خاتمے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان گذرگاہوں کو نکاسی کے جدید نظام میں تبدیل اور منسلک کرنا ہو گا اور یہ کام کم از کم اگلے پچاس برس کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرنا ہو گا تاکہ ہر سال کی چھیچھا لیدر سے نجات مل سکے۔

ہفتم) ان سب مسائل کا سرچشمہ وہ سیکڑوں ٹن شہری کوڑا کرکٹ ہے جو روزانہ پیدا ہوتا ہے اور اسے پوری طرح ٹھکانے لگانے کا کوئی تسلی بخش انتظام نہیں۔ یہی کوڑا نہ صرف سڑکوں اور گلیوں کو آلودہ کرتا ہے بلکہ آبی گذرگاہوں میں بھی جمع ہوتا جاتا ہے۔ اس روگ سے نجات کے لیے ٹکڑوں میں کام کرنے کے بجائے شہروار و شہر گیر منصوبہ بندی، وسائل و آلات کی فراہمی و یکجائی اور نگرانی کے کڑے نظام کی تشکیل لازمی ہے۔ ورنہ آپ باقی سب کام کر لیں اور اس کام کو ڈھیلا چھوڑ دیں تو باقی کی منصوبہ بندی دھری کی دھری رھ جائے گی۔

ہشتم ) کراچی ، حیدرآباد ، میرپور خاص ، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں کو فوری طور پر ایک جامع، جدید، تیز رفتار کثیر القسم پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ یہ کام کسی ایک سطح کی حکومت کے بس کا روگ نہیں بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کے زور لگانا ہو گا۔ ایک آسان راہ یہ بھی ہے کہ بڑے شہروں کا اربن ٹرانسپورٹ سسٹم سی پیک میں ڈال دیا جائے۔

نہم) آج جو ہم اس حالت تک پہنچے ہیں، اس کی آدھی ذمے داری ایک بدعنوان اور نااہل بلڈنگ کنٹرول ڈھانچے اور تعمیراتی قوانین کو موم کی ناک بنانے کے جرم پر عائد ہوتی ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دائرہ کار، قوانین پر عمل درآمد کی رفتار ، قوانین میں پوشیدہ سقم اور اوپر سے نیچے تک ہونے والی بھرتیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے اور جانفشاں ڈھانچے کی غیر جانبدار بااختیار نگرانی کے لیے ایک رضاکار کمیشن کی ضرورت ہے۔ ورنہ کرپشن اور اندھا دھند تعمیراتی منظوری کا طوق اسی طرح شہروں کے گلے پڑا رہے گا۔

دہم) ان تمام اصلاحات کو ٹھوس بنیادوں پر شروع کرنے، جاری رکھنے اور ان کا رخ کسی بھی دور میں تبدیل نہ کرنے کی ٹھوس قانونی ضمانت کے لیے ایک خطیر بجٹ درکار ہے اور اس کے لیے وفاقی و صوبائی بجٹ دستاویز میں ایک مستقل مد کا خانہ بنانا پڑے گا جیسا کہ دفاع ، صحت اور تعلیم وغیرہ کے لیے بنایا جاتا ہے۔تاکہ بلدیات اس خوف سے آزاد رہیں کہ کل کی روٹی کہاں سے آئے گی۔ اگر ان میں سے نصف بھی ہو جائے تو سمجھ لیجے گا کہ ہمارے فیصلہ ساز پاکستانی شہروں کا مستقبل بچانے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں۔ بصورتِ دیگر ان فیصلہ سازوں کے ہر قلابے کو ایک پیشہ ور اداکار کی شاندار پرفارمنس سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔

وسعت اللہ خان  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

دیامیر بھاشا ڈیم : پایہ تکمیل کو پہنچنا چاہیے

ہم ٹیکنالوجی کے معاملے میں دوسرے ملکوں کے مرہون منت ہیں تو یہ بھی مان لینا چاہیے کہ اس میں قصور کسی اور کا نہیں ہمارا اپنا ہے۔ ہم نے 1972 کے بعد کوئی ڈیم نہیں بنایا، جب کہ 1972 کے مقابلے میں آبادی میں 4 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ (جب کہ اس کے مقابلے میں ہمسایہ ملک بھارت نے اس دوران ستائیس ڈیم بنا لیے ہیں۔ ) خیر اُس وقت اگر ہماری آبادی ساڑھے 4 کروڑ تھی تو آج 22 کروڑ کو پہنچ چکی ہے۔ اگر اُس وقت ہماری بجلی 1500 میگا واٹ استعمال ہوتی تھی تو آج ہم 22 ہزار میگاواٹ کو چھو رہے ہیں۔ اُس وقت فی یونٹ ریٹ اگر 25 پیسے تھا تو آج 30 روپے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ریٹ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اُس وقت ہم بجلی صرف پانی سے بناتے تھے جس کے لیے صرف انفرا اسٹرکچر اور ٹربائن کی ضرورت ہوتی تھی لیکن آج ہم دنیا کے مہنگے ترین پاور پلانٹ سے بجلی بنا رہے ہیں اور وہ فرنس آئل یا دوسری توانائیوں کو خرچ کر کے ’’توانائی‘‘ حاصل کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے جب آپ پانی کو چھوڑ کر تیل سے بجلی پیدا کریں گے تو آپ کو فی یونٹ کاسٹ بھی اسی حساب سے ادا کرنی پڑے گی۔

پاکستان نے کالاباغ ڈیم کے بجائے کم متنازع دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کرنے کا آغاز کر دیا ہے جو خاصی خوش آیند بات ہے۔ لیکن حقیقی خوشی تو تبھی ہو سکتی ہے جب اس کی تکمیل بھی ہو ورنہ تو کالاباغ ڈیم کو بھی شروع کیا گیا تھا، مشینری بھی ساری ’’وقوعہ‘‘ پر پہنچ چکی تھی لیکن اربوں روپے کی مشینری آج بھی وہاں ’’عبرت‘‘ کا نشان بن کر زنگ آلود ہو گئی ہے۔ یہ منصوبہ صوبوں کی لڑائی اور سیاست کی ایسی بھینٹ چڑھا کہ مشرف جیسا ڈکٹیٹر بھی اس پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہا۔ خیر دیر آئد درست آئد کے مصداق اگر ہم بات کریں ’’دیا میر بھاشا ڈیم‘‘ کی تو یہ ڈیم پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے بھاشا میں بننے جا رہا ہے۔ اس ڈیم کا کچھ حصہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوھستان میں ہے جب کہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے علاقے میں آتا ہے۔ جس وجہ سے اس کو دیامیر بھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر دور جب کہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چالاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔ ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جب کہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔ اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکٹر کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکٹر زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔ اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے بارہ ٹربائن لگائی جائیں گی اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گئی جب کہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جب کہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج 5 کروڑ فٹ ایکٹر ہے۔

ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہو گا جب کہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفرااسٹریکچر کی تعمیر ہو گی۔ ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ بائیس ہزار لگایا گیا ہے، 500 ایکٹر زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ پانی برد ہو گا۔ دیامیر بھاشا ڈیم پر اگر لاگت کی بات کی جائے تو اس کی تعمیر کا تازہ تخمینہ 1400 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ ابتدائی طور پر کام کرنے والے عملے کے لیے رہائشی کالونی، سڑکوں اور دیگر ضروری ڈھانچے پر کام لگ بھگ مکمل ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کالا باغ ڈیم کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ پہاڑی اور پتھریلے علاقے کی وجہ سے بھاشا ڈیم سے نہریں نکال کر اردگرد کے علاقوں میں آبپاشی کے لیے استعمال نہیں ہو سکتیں جب کہ کالا باغ دریائے سندھ کے پانی کے نہری استعمال کے لیے سب سے زیادہ موزوں مقام سمجھا جاتا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی منصوبہ بندی 2008ء میں مکمل ہوئی۔ اس وقت تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 12.6 ارب ڈالر لگایا گیا۔

مارچ 2008ء میں منصوبے کی تفصیلی ڈرائنگ مکمل کر لی گئی۔ اگست 2012ء میں منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کرنے والے بڑے شراکت داروں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے فنڈز کی فراہمی سے معذرت کر لی۔ بھارتی اثر و رسوخ نے ان اداروں کو منصوبے سے الگ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ دونوں نے کہا کہ ڈیم ایک متنازع علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے اس لیے پاکستان اگر فنڈز چاہتا ہے تو اسے بھارت سے این او سی لینا ہو گا۔ اگست 2013 کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم پر یکے بعد دیگرے کام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ بتایا گیا کہ بھاشا ڈیم پر 12 برس تک کام مکمل ہو جائے گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے منصوبے کی باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے2017ء کے آخر تک تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ نومبر 2017ء میں ایک بار پھر یہ منصوبہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔ منصوبے کو تعمیراتی فہرست سے نکال دیا گیا۔

منصوبہ پاک چین راہداری پیکیج میں شامل کیا گیا تھا ۔ جولائی 2018ء میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے حکومت کو بھاشا ڈیم کی تعمیر کا حکم جاری کیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے مہمند اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے اپنی جیب سے 10 لاکھ روپے دیے اور تمام پاکستانیوں سے عطیات کی اپیل کی۔ یہ عطیات بارہ ارب روپے کے لگ بھگ ہو چکے ہیں۔ ڈیم کے ابتدائی ڈھانچے کے لیے 5 ارب ڈالر اور بعد میں پانی ذخیرہ اور چالو کرنے پر 7 ارب ڈالر کا خرچ ہو گا۔
پاکستان میں پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت کا اندازہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر عالمی اداروں کی ان رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے جن کی رو سے 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔ ہمیں ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ بارش کا پانی دستیاب ہوتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے 14 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم پانی بچتا ہے۔ لہٰذا اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک عزم کے ساتھ ساتھ مجبوری بھی ہونی چاہیے۔

علی احمد ڈھلوں

بشکریہ ایکسپریس نیوز

بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر ناگزیر ہے

برسوں سے مسلسل تاخیر کے شکار دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فوری آغاز کا حکومتی فیصلہ روز بروز بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کے تناظر میں بلاشبہ ایسا اقدام ہے جس میں مزید لیت و لعل کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پانی کے تحفظ اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا جو یقینی طور پر وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ پاکستان میں پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت کا اندازہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر عالمی اداروں کی ان رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے جن کی رُو سے 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔ ہمیں ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ بارش کا پانی دستیاب ہوتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے 14 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم پانی بچتا ہے۔ 

ارسا کے مطابق پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین مزید ڈیموں کی ضرورت ہے۔ پانی کے قومی تحفظ کی پالیسی اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق اس اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے آباد کاری اور مالیاتی وسائل کی فراہمی کے لیے تفصیلی روڈ میپ سمیت تمام مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور یہ منصوبہ اب عملی کام کے آغاز کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں داسو ڈیم‘ نولانگ ڈیم‘ مہمند ڈیم اور سندھ بیراج پر تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے 16 ہزار 500 ملازمتیں اور 4 ہزار 500 میگاواٹ پن بجلی کی تیاری کے علاوہ 12 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی بھی سیراب ہو گی جبکہ تربیلا ڈیم کی زندگی 35 برس بڑھ جائے گی۔ 

وزیراعظم نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق ملازمتوں میں مقامی آبادی کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے اور کئی حوالوں سے مثبت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈیموں کی تعمیر متعلقہ صنعتوں کی ترقی اور علاقے کی خوشحالی کا ذریعہ بنے گی، اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو زندگی کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور یہ بجائے خود ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کے حصے کے طور پر علاقے کی سماجی ترقی پر 78 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ یہ ڈیم سیلاب کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو گا اور ہر سال سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچائے گا۔ وزیراعظم نے حال ہی میں شروع ہونے والے مہمند ڈیم کے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ داسو جیسے اہم منصوبے پر بھی جلد کام شروع کیا جائے۔ 

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں نولانگ ڈیم کے لیے فنڈز کا انتظام ہو گیا ہے اور اس پر اگلے سال کام شروع ہو جائے گا۔ بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کے لیے مختص زمین خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے اوربھارت گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ قرار دیتا ہے جس کی بناء پر عالمی مالیاتی ادارے اس ڈیم کے لیے مالی تعاون سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا تھا لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مزید پیش رفت نہ ہو سکی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈیم کی تعمیر کی لاگت جس کا تخمینہ ابتداء میں 12 ارب ڈالر تھا کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت نے اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کی حکمت ِعملی وضع کی ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیوں نہ محفوظ ہوا قیمتی پانی ہم سے

اللہ سائیں کتنا مہربان ہے۔ اپنے آسمانوں سے کتنا میٹھا پانی برسا رہا ہے، میٹھا پانی جو انسانوں کی اولیں ضرورت ہے۔ میٹھا پانی جو زندگی ہے۔ چھتوں سے گر رہا ہے، سڑکوں پر بہہ رہا ہے، ہم اتنی قیمتی چیز کو محفوظ کیوں نہیں کر سکتے۔ نہ ہم زمین میں چھپی نعمتیں باہر نکالتے ہیں، نہ پہاڑوں کے سینے میں جھانکتے ہیں۔ پہلے سے ہمیں خبر تھی کہ بارشیں کب ہوں گی۔ کتنی ہوں گی لیکن ہمیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے سے فرصت ہو، ترجمانوں کی لن ترانیاں ختم ہوں، ٹرمپ سے ملنے کی سرشاری کم ہو، وائٹ ہائوس کی یاترا کا خمار ٹوٹے، اپنے اربوں ناجائز اثاثوں کی فکر سے نجات ملے تو ہم اللہ سائیں کی برکتیں سمیٹنے کے منصوبے بنائیں۔ 72 سال میں کسی بھی حکومت نے شہروں میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کا کلچر متعارف نہیں کرایا بلکہ پہلے سے بنے ہوئے تالاب بھی ختم کر دیئے گئے۔

ہماری زمینیں جس طرح پیاسی ہیں، ہمارے علاقے جس طرح پانی کو ترستے ہیں، ہمارے شہروں میں پینے کے پانی کی کمی پر جس طرح احتجاج ہوتے ہیں، ہمارے سب سے زیادہ رقبے والے صوبے بلوچستان میں جس طرح میلوں میل لق و دق صحرا ہیں، سینکڑوں ایکڑ زمین میں زندگی کی رمق ڈالنے کے لئے پانی نہیں ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہمارا سر فہرست مسئلہ پانی کی تلاش ہوتا اور جب اللہ سائیں آسمان سے میٹھا پانی برسا رہا ہو تو ہم اپنے دامن پھیلا کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کی ایک بوند بھی ضائع نہیں ہونے دیں۔ یہ انتہائی قیمتی پانی گٹروں میں بہائے جانے کے لئے اوپر سے نہیں اترتا۔ ہم کتنے بدقسمت ہیں، نااہل کہ جو چیز ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے وہ جب نازل کی جاتی ہے تو ہم اسے سنبھالنے کے بجائے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور جو اس کے ذمہ دار ہیں وہ صرف بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو اس قیمتی پانی کو محفوظ کرنے کی عادت ہونی چاہئے۔ دیہات میں تو پھر بھی چھوٹے بند بنا کر اپنے لئے بارش کا پانی جمع کرنے کے کہیں کہیں انتظامات ہیں لیکن شہروں میں ایسا کوئی رواج نہیں ہے۔ باقاعدہ اہتمام تو کیا آگاہی اور شعور بھی نہیں ہے۔ ادھر انڈیا میں مدراس (اب چنائے) میں دوسرے علاقوں سے پانی بھری ٹرینیں لائی جا رہی ہیں پھر بھی پانی کم پڑ رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹائون میں پانی کی راشننگ ہو چکی ہے۔ پہلے برصغیر میں ہر بڑے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب ہوا کرتا تھا۔ پورے شہر سے بارش کا پانی یہاں جمع ہو جاتا تھا لیکن غارت ہو لینڈ مافیا اور ہم میں زمین کی ہوس، زر اور زن کے ساتھ ساتھ، پانی کا ذخیرہ کرنے، نکاسیٔ آب کے انتظامات نہ کر کے ہم نے باران رحمت کو آفت آسمانی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بارش کا دورانیہ دو تین گھنٹے سے زیادہ ہو جائے تو دل دہلنے لگتا ہے۔

اکثر ملکوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے باقاعدہ قوانین ہیں۔ کلچر ہے۔ ایسے ٹینک، ڈرم، پائپ ملتے ہیں۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں قانونی طور پر گھروں میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے جسے باغبانی، گاڑیاں، فرش دھونے میں استعمال کر کے سرکاری پانی کی بچت کی جاتی ہے۔ میں محقق نہیں ہوں، نہ ہی آبپاشی کا ماہر۔ ریسرچر دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے قوانین، طریقے، آلات پر تحقیق کر کے ہم وطنوں میں تحریک پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے معیشت بھی مستحکم ہوسکتی ہے۔ میں تو شعر میں اظہار کر سکتا ہوں۔

آتی نسلیں بھی کسی روز یہی پوچھیں گی
کیوں نہ محفوظ ہوا قیمتی پانی ہم سے

تحقیق کہتی ہے کہ پاکستان میں 145 ملین ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے۔ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی اہلیت صرف 14 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اندازہ کر لیں کتنا میٹھا پانی انسانوں کے کام آئے بغیر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ کفران نعمت نہیں تو کیا ہے؟ آسٹریلیا کو دنیا کا خشک ترین براعظم کہا جاتا ہے۔ وہاں ہر شہری کو خاص طور پر ہر کسان کو پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ کرنے کی فکر ہے۔ بارش کا پانی وہاں تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں 274 بلین لیٹر بارش کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ گھروں میں چھتوں سے پانی سیدھا کنٹینر میں چلا جاتا ہے۔ ہم کنٹینر صرف دھرنوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ امجد اسلام امجدؔ کے نصیب کی بارشیں جو کسی اور کی چھت پر برس پڑتی ہیں، وہ بھی محفوظ کی جاتی ہیں۔

بارانی پانی اس طرح جمع ہونے سے شہر میں سیلاب بھی نہیں آتا، سڑکیں نہریں نہیں بنتیں، نکاسی آب کا نظام خراب نہیں ہوتا۔ ایک تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں 100 میں سے 26 مکانات ایسے ہیں جہاں بارش کے پانی کے ٹینک موجود ہیں۔ ان میں ڈھائی لاکھ لیٹر سے 3 لاکھ لیٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ضرورت پڑنے پر شہریوں سے پانی خریدتی بھی ہیں۔ یہ تحقیق بھی ہو چکی ہے کہ پانی کے یہ ذخیرے بلڈنگ کو نقصان نہ پہنچائیں، مچھروں کی آماجگاہ نہ بنیں، فلٹرنگ بھی ہوتی رہے۔ میری کم علمی کہ مجھے پاکستان میں بارش کے پانی کی ذخیرہ بندی کے قوانین سے آگاہی نہیں ہے۔ ویب سائٹوں نے کوئی مدد نہیں کی۔

ایک پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز (آبی وسائل پر تحقیق کے لئے کونسل) ہے۔ جس نے پوٹھوہار میں 5 چھوٹے ڈیم بنا کر بارش کے پانی کے تحفظ کا ذکر کیا ہے۔ راولپنڈی کی بارانی زرعی یونیورسٹی نے بارش کے پانی کے تالاب کی روایت کو بحال کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ جو کامیاب رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے 2200 کینال رقبے میں پانچ تالاب بنائے گئے ہیں۔ شہروں میں پانی محفوظ کرنے کے لئے نہ تو انتظامات ہیں نہ ہی شہریوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے کوئی مہم چلائی جاتی ہے۔ البتہ یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ سرکاری طور پر فراہم کئے جانے والے میٹھے پانی میں سے 30 سے 45 فیصد گھریلو باغبانی اور گاڑیاں دھونے میں ضائع ہوتا ہے۔ 20 فیصد فلش سسٹم کی نذر ہو رہا ہے۔

ہمارے دشمن ملک انڈیا میں اس سلسلے میں کافی کام ہو رہا ہے۔ ایک سینٹرل گرائونڈ واٹر بورڈ ہے۔ پینے کے پانی اور نکاسی آب کے لئے الگ وزارت ہے۔ ’نیشنل گرین ٹریبونل‘ کو عدالتی اختیارات حاصل ہیں۔ حال ہی میں اس نے سارے اسکولوں کو حکم دیا ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے بڑے بڑے ٹینک بنائیں۔ جو متعلقہ محلے کی پانی کی ضروریات کو پوری کریں۔ اسی ٹریبونل نے مرکز اور شہری حکام کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ کسی تعمیراتی منصوبے کو اس وقت تک اجازت نہ دی جائے جب تک وہ دوران تعمیر بارش کا پانی جمع کرنے کے لئے ٹینک نہ بنائے اور تعمیر کے بعد بھی اس پروجیکٹ میں پانی کی مطلوبہ مقدار ذخیرہ کرنے کے لئے ٹینک تعمیر کئے جائیں۔

اب پاکستان میں 50 لاکھ گھر بننے والے ہیں۔ کسی نہ کسی متعلقہ ادارے یا سپریم کورٹ کو یہ پابندی عائد کرنی چاہئے کہ ہر نیا تعمیراتی منصوبہ بارش کے پانی کے ذخیرے کے لئے مطلوبہ سائز کے ٹینک بنائے گا۔ پاکستان کی انجینئرنگ کونسل کو چھتوں سے پانی ٹینک میں لے جانے کے لئے پائپوں کا سائز اور معیار کا تعین کرنا چاہئے۔ میں تو پانی کے درد میں لکھتا چلا گیا ہوں۔ یہ تو کسی تھنک ٹینک، پاکستان پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کا منصب ہے کہ وہ پاکستان کی ضروریات، آب و ہوا، زمینی حقائق کی بنیاد پر اللہ سائیں کے بھیجے ہوئے میٹھے پانی کو اللہ کے نائب اشرف المخلوقات کے استعمال میں لانے کے لئے قوانین بنائیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ