غدار سازی کی قانونی فیکٹری

وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بدترین قوانین بھی بہترین نیت سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ریاست بھلے جمہوری ہو کہ فسطائی کہ سامراجی کہ آمرانہ کہ نظریاتی۔ جب بھی کوئی تادیبی قانون نافذ کرتی ہے تو ایک جملہ ضرور کہا جاتا ہے ’’ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے‘‘۔ اور پھر یہی قانون ہر گدھے گھوڑے کو قطار میں رکھنے کے کام آتا ہے۔ بس انھی پر لاگو نہیں ہوتا جن کی سرکوبی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ خوف سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ جب انگریز نے انڈین پینل کوڈ میں اب سے ایک سو اکسٹھ برس پہلے غداری سے نپٹنے کے نام پر آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کا ٹیکہ لگایا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو انگریز سرکار کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جائے۔ انگریز تو چلا گیا، خود برطانیہ میں بھی ایسے قانون کا وجود نہیں مگر انڈیا اور پاکستان کے سانولے آقاؤں نے گورے کے مرتب کردہ لگ بھگ پونے دو سو برس پرانے نوآبادیاتی پینل کوڈ کے اندر سے تادیبی ضوابط کو چن چن کر اماں کے جہیز میں ملے منقش لوٹے کی طرح آج بھی سینے سے لگا رکھا ہے۔

مثلاً نوآبادیاتی دور کی یادگار پینل کوڈ کا آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کسی بھی شہری کو غدار قرار دے سکتا ہے، اگر حکومت ِ وقت کی نظر میں اس شہری نے اپنی زبان یا تحریر سے، براہ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں کنایوں میں یا کسی اور طریقے سے سرکار کی توہین کرنے یا اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہو۔ ایسے غدار کو تین برس سے عمر قید تک سزا ہو سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت قانون کے دائرے میں آزادیِ اظہار کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے مگر پینل کوڈ کے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے، اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے ایکٹ اور اسی کے دیگر چچیرے ممیرے قوانین کے تحت دونوں ملکوں میں اس آئینی آزادی کو بیڑیاں پہنانے کا بھی تسلی بخش انتظام رکھا گیا ہے۔ تادیبی قوانین کو کیسے موم کی ناک بنا کر انھی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے کہ جن کے تحفظ کے نام پر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ایمرجنسی کے تحت ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) کا قانون تھا۔ جسے نہ صرف ایوبی و یحییٰ آمریت بلکہ بھٹو دور میں بھی سیاسی مخالفین کی تواضع کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ایمرجنسی قانون کا حکمران کو سب سے بڑا اور فوری فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کسی بھی منہ پھٹ کی زباں بندی کے لیے اسے بنا کسی فردِ جرم نوے دن کے لیے جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ ضیا دور میں نفاذِ شریعت کے نام پر جو تعزیری قوانین بنائے گئے اور پینل کوڈ میں جو ترامیم کی گئیں ان کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا کہ عوام ایک نوآبادیاتی قانونی شکنجے سے آزاد ہو کر اس نظام کے تحت محفوظ زندگی بسر کر سکیں جس کے نفاذ کے لیے دراصل یہ ملک بنایا گیا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ شرعی تعزیری قوانین کو بھی سیاسی مخالفین کو لگام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس کی چاندی ہو گئی۔ اگر مٹھی گرم ہو گئی تو ملزم کے خلاف اینگلو سیکسن قانون کے تحت پرچہ کٹ گیا۔ نہ بات بنی تو ایف آئی آر میں تعزیری دفعات شامل کر دی گئیں۔ اب یہ ملزم کا کام ہے کہ وہ کبھی اس عدالت میں تو کبھی اس عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں جوتے گھساتا رہے۔

سرحد پار بھارت میں آرٹیکل دو سو چوبیس اے کے تحت کیسے کیسے غدار اور دہشت گرد پکڑے گئے۔  بال گنگا دھرتلک، گاندھی جی نوآبادیاتی دور میں اس آرٹیکل کے جال میں پھنسے۔ دورِ مودی میں کانگریسی رہنما ششہی تھرور، گجرات کے کسان رہنما ہاردک پٹیل، نامور ادیبہ اور سیاسی نقاد ارودن دھتی رائے، طالبِ علم رہنما کنہیا کمار ، معروف اداکارہ کنگنا رناوت ، سرکردہ صحافی راج دیپ سر ڈیسائی، ونود دعا، مرنال پانڈے، ظفر آغا ، کارٹونسٹ اسیم ترویدی وغیرہ وغیرہ۔ دو ہزار دس سے دو ہزار بیس تک کے دس برس میں انڈیا میں غداری کے آٹھ سو سولہ مقدمے درج کیے گئے۔ ان میں سے پینسٹھ فیصد پرچے مئی دو ہزار چودہ میں مودی سرکار بننے کے بعد کاٹے گئے۔ ایسے ایسے غدار گرفتار ہوئے کہ اصل غداروں نے بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ مثلاً گجرات کے ایک صحافی پر اس لیے غداری کا پرچہ کاٹ دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی کہ جلد ہی گجرات کی ریاستی قیادت بدلنے والی ہے۔ یو پی میں جب ایک صحافی نے ریپ ہونے والی ایک لڑکی کے گھر جا کر حقیقت جانے کی کوشش کی تو وہ بھی آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے تحت دھر لیا گیا۔

ریاست منی پور میں ایک رپورٹر نے جب سوشل میڈیا پر بی جے پی کے ایک صوبائی رہنما کی بیوی کی پوسٹ کا جواب دیا تو وہ بھی غداری میں پکڑا گیا۔ ایک شہری نے فیس بک پر ایک مودی مخالف کارٹون شئیر کیا تو اس کے ساتھ بھی یہی بیتی۔ ماحولیاتی تحریک سے وابستہ بائیس سالہ کارکن دیشا روی گریٹا تھون برگ کا ٹویٹ شئیر کرنے پر پولیس کے ہاتھوں پرچہ کٹوا بیٹھی۔ ریاست کرناٹک کے ایک اسکول میں جب بچوں نے شہریت کے نئے قانون سے متعلق ڈرامہ پیش کیا تو ایک دس سالہ بچی کے منہ سے ادا ہونے والے ایک جملے کے جرم میں اس کی ماں کو پکڑ لیا گیا اور اسکول کی پرنسپل اور عملے پر غداری کا پرچہ ہو گیا۔ پاکستان میں ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو اور سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی سمیت چوہتر برس میں متعدد سیاسی رہنما ، سماجی و سیاسی کارکن ، صحافی ، ادیب اور دانشور آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کے غدار بنے۔ چند ماہ قبل مسلم لیگ نون کی لاہور میں نکلنے والی ایک ریلی کے بعد لگ بھگ ڈھائی سو لوگوں پر یہ قانون ٹھوک دیا گیا۔

سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سہولتوں کی کمی پر وائس چانسلر دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے طلبا اور لاہور میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے جلوس نکالنے والے بیسیوں نوجوان بھی غداری کے پرچے میں پھنس گئے۔ گویا قانون نہ ہوا اندھے کی لاٹھی ہو گئی جیسے چاہے گھما دی۔ اس برس جنوری میں پاکستانی سینیٹ کی قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے آرٹیکل ایک سو چوبیس اے کو قانون کی کتابوں سے نکالنے کا پیش کردہ بل منظور کیا جانا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ انڈین سپریم کورٹ کا جانے مانے صحافی ونود دعا کو غداری کے الزام سے بری کرنا بھی خوشی کی خبر ہے۔ ونود دعا پر گزشتہ برس مارچ میں اس وقت غداری کا پرچہ کاٹا گیا جب انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کوویڈ لاک ڈاؤن کے سبب بھارت کے مختلف علاقوں میں پھنس جانے والے لاکھوں مزدوروں کی تکلیف کا ذمے دار سرکاری پالیسیوں کو قرار دیا۔

انھیں بری کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک بار پھر یہ اصول دھرایا گیا ہے کہ سرکاری پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر کڑی سے کڑی تنقید بھی غداری کے دائرے میں نہیں آتی۔ ایسی تنقید جو سدھار کی نیت سے کی جائے ایک صحت مند سماج کی نشانی ہے۔ حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ ایسے قانون پھٹیچر ہو چکے ہیں۔کوئی بھی اعلیٰ عدالت ان کے تحت بنائے گئے زیادہ تر مقدمات ایک سماعت میں ہی خارج کر دے گی۔ مگر ضمانت ہوتے ہوتے ملزم کو کم ازکم دباؤ میں تو رکھا ہی جا سکتا ہے۔ اس کی ناک تو رگڑی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ایسے قوانین کتابوں سے خارج کرنے کا کسی بھی سرکار کا دل نہیں چاہتا۔ دل بس تب چاہتا ہے جب سرکاری پارٹی اپوزیشن کی بنچوں پر جا بیٹھتی ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیونکہ وائرس ووٹر نہیں ہوتا

ایک ایسے وقت جب بھارت کوویڈ متاثرین کی شکل میں امریکا اور برازیل جیسے سب سے زیادہ متاثر ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے، خود نریندر مودی کو اپنے ماہانہ ریڈیو خطاب میں اعتراف کرنا پڑ گیا ہے کہ یہ وہ بحران ہے جس نے بھارت کو ہلا ڈالا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دنیا سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ امریکا ، جرمنی اور فرانس نے مہارت اور آلات کی شکل میں فوری مدد پہنچانے کی حامی بھری ہے۔ مگر مصیبت کی اس گھڑی میں بھی کوویڈ تعصبات کو ہلاک کرنے میں ناکام ہے۔ عالمی طاقتوں میں سب سے پہلے چین نے گزشتہ ہفتے اپنے سب سے بڑے ہمسائے کی اپیل سے بھی پہلے مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہم حکومتِ بھارت کی اس کڑے وقت میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ پاکستانی کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن اور پھر حکومتِ پاکستان نے مدد کی پیش کش کی مگر تاحال مودی حکومت نے شکریہ تو درکنار پاکستان اور بھارت کی جانب سے مدد کی پیش کش کا رسمی شکریہ تک ادا کرنا گوارا نہیں کیا۔

ایک ایسے وقت جب بھارت کی دردناک تصاویر عالمی میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ مودی حکومت کو اس بحران سے تیزی سے نمٹنے کے بجائے اپنے امیج کی کہیں فکر پڑی ہوئی ہے۔ آج بھی اسے اتنی فرصت ہے کہ اس نے ٹویٹر کو کوویڈ سے متعلق سرکاری حکمتِ عملی پر تنقید کرنے والے ایک سو اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ بجائے یہ کہ آر ایس ایس اپنے تیس لاکھ سے زائد کارسیوکوں ( رضا کاروں ) کو آکسیجن کی فراہمی کی پہرے داری اور لوگوں کی شہر شہر مدد کے لیے متحرک کرتی، اس کی قیادت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں اس وبا کی سنگینی کی آڑ میں ملک کے اندرونی و بیرونی دشمن بھارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی کارروائی نہ کر ڈالیں۔ کل میں بھارت کے سرکردہ صحافی اور دی پرنٹ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کا ایک تجزیہ پڑھ رہا تھا۔ ان کے بقول ’’ ہم سب واقف ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ، جے بولسنارو ( برازیل کے صدر )، نیتن یاہو یا نریندر مودی جیسے طاقتور کہلانے کی شوقین شخصیات میں ایک بنیادی قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان کی پوری توجہ اپنے ووٹ بینک کو یکجا رکھنے پر ہوتی ہے۔

مضبوط لیڈر کی آج کل ایک نشانی یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنی ناکامی یا چھوٹی سے چھوٹی کمزوری کا اعتراف نہیں کرتا، بھلے اس کے آس پاس کی دنیا اینٹ اینٹ بکھر رہی ہو۔ اس کے بارے میں تاثر ابھارا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کے سامنے پلک نہیں جھپکتا۔ ووٹ بینک انھی خوبیوں کے سبب اپنے لیڈر پر لٹو رہتا ہے۔ ووٹ بینک تصور ہی نہیں کر سکتا کہ اس کے لیڈر کے منہ سے کبھی ایسے فقرے نکلیں گے جیسے ’’معافی چاہتا ہوں دوستو! میں اس صورتحال کو غلط سمجھا ‘‘۔غلطی کے اعتراف کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ بھی کسی دوسرے انسان کی طرح خطا کے پتلے ہیں۔ آپ بھی دیوتا یا اوتار نہیں ہیں۔ آپ سے تو ہماری ہمیشہ یہی توقع رہے گی کہ آپ مٹی کو بھی چھو لیں تو وہ سونا بن جائے۔ آپ کا ہر قدم ماسٹرا سٹروک ہو اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالیں اس میں کامیابی آپ کے پاؤں چھوتے ہوئے پیچھے پیچھے چلے۔

مگر گزشتہ ہفتے پہلی بار ایسا لگا کہ ’’ ناقابلِ تسخیر قیادت ’’کے بھی تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں پھولے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اس آفت سے نپٹنے کے لیے ویکسینیشن میں تیزی لانے سمیت مودی جی کے نام اپنے خط میں جو بھی تجاویز دیں، لگتا ہے حکومت اعتراف کیے بغیر ان پر عمل درآمد کرنے پر خود کو مجبور پا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے عین آخری دن بادلِ نخواستہ اعلان کیا کہ وہ مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں آخری بڑے جلسے سے خطاب کرنے نہیں جا رہے۔مگر مودی بھگتوں کو اب بھی امید ہے کہ جیسے ہی مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں اگلے ہفتے بی جے پی کی کامیابی کا گجر بجے گا، بھارت واسی کوویڈ شوویڈ بھول بھال کر پھر سے نریندر مودی بھائی کی شاندار شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے اور اس کامیابی کے شور میں کوویڈ ہاتھ سے نکلنے کا غل غپاڑہ کہیں دب دبا جائے گا۔

مشکل یہ ہے کہ دنیا کے بہترین سائنسی دماغ آج بھی کوویڈ کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ دماغ ہیں جو بہت پہلے ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔ پر کیا کیا جائے کہ یہ کم بخت وائرس ووٹر نہیں ہوتا۔ نہ ہی اسے پرواہ ہے کہ کون ہارا کون جیتا۔ اسے انسانوں کی طرح تقسیم بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا کام تو سیاسی و مذہبی عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بس تکلیف، بیماری اور موت پھیلانا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکا ، برازیل اور برطانیہ جیسے ممالک کی قیادت کے حد سے زیادہ اعتماد کو بھی پارہ پارہ کر دیا اور اب بھارت کی باری ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے لیڈر (مودی) نے جنوری میں ڈیوس میں ہونے والے عالمی اکنامک فورم کے اجلاس میں چھپن انچ کا سینہ پھلاتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ ’’ جب کوویڈ شروع ہوا تو دنیا بھارت کے بارے میں پریشان ہونے لگی کہ کوویڈ کا سونامی ٹکرانے والا ہے۔

سات سو سے آٹھ سو ملین بھارتی اس سے متاثر ہوں گے اور بیس لاکھ سے زائد اموات ہوں گی۔ مگر بھارت نے نہ صرف ایسا ہونے نہیں دیا بلکہ دنیا کو بھی ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں کو بلا تاخیر بڑھایا۔ ملک میں دنیا کا سب سے بڑا ویکسینشن پروگرام شروع کیا۔ دو میڈ ان انڈیا ویکسینز تیار کی گئیں اور باقی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ اور اب بھارت اس قابل ہے کہ وہ ان ویکسینز کی برآمد کے ذریعے باقی دنیا کی مدد کر سکے‘‘۔ پھر فروری میں بی جے پی کی ایگزیکٹو کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے کوویڈ پر فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ ہمیں فخر ہے بھارت نے نہ صرف نریندر مودی کی فعال اور ویژنری قیادت تلے کوویڈ کو شکست دی بلکہ ہر بھارتی کو یہ اعتماد بخشا کہ ایک خودکفیل بھارت کی تعمیر ممکن ہے۔ پارٹی بھارت کو دنیا کے سامنے کوویڈ کو شکست دینے والی قوم کے طور پر پیش کرنے پر اپنی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے‘‘۔

شکر ہے کہ اس قرار دار میں ایک عظیم الشان مہرابِ فتح تعمیر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے اس لمحے کی یاد دلا دی جب نعرہ لگا تھا کہ ’’ اندرا ہی انڈیا ہے ‘‘۔ مگر مسئلہ پھر وہی ہے کوویڈ نہ صرف ناخواندہ ہے بلکہ اندھا اور بہرا بھی ہے۔ اسے تو بس یہی یاد رہتا ہے کہ کب غافلوں پر پہلے سے بڑا شبخون مارنا ہے۔ اسی دوران ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا جس میں اتر پردیش میں کوویڈ کے حملے کو روکنے کے لیے وزیرِِ اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی کوششوں کو سراہا گیا۔ فروری کے وسط میں پنجاب ، کیرالا اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے مرکز سے درخواست کی کہ وبا کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے لہٰذا انھیں تیزی سے ویکسین فراہم کی جائے۔ مگر چونکہ ان تینوں ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی حکومتیں تھیں لہٰذا مرکز نے ان کی اپیل کو شیر آیا شیر آیا والا واویلا سمجھ کر سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آج کوویڈ ہر طرف سے ہر کسی کو کھا رہا ہے مگر مودی حکومت نے جنوری اور فروری میں آتے ہوئے طوفان کو دیکھنے کے بجائے عالمی اور مقامی سطح پر فتح کے جو لمبے لمبے دعوی کیے اب انھیں نگلے کیسے اور کیسے تسلیم کرے کہ ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ وہ ذہن ہے جو کوویڈ سے بھی بڑی مصیبت ہے۔‘‘

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

مولانا آ نہیں رہا آ رہے ہیں

میرا جو بھی سیاسی نظریہ ہو اس سے قطع نظر کبھی یہ چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ میں حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی شخصیت و سیاست کا کتنا بڑا پرستار ہوں۔ اس بابت چند برس پہلے بھی میں نے جو لکھا آج بھی اس پر قائم ہوں کہ قبل از مولانا سیاست برائے سیاست ہوا کرتی تھی مگر مولانا نے اسے فائن آرٹ میں بدل دیا اور اب لگ بھگ ہر سیاستداں کشادہ دل مولانا کے حوضِ سیاست سے بقدرِ ظرف بالواسطہ یا بلاواسطہ جتنے جرعے بھر سکتا ہے بھر رہا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ مولانا نے کھردری سیاست کو فائن آرٹ میں بدل دیا تو یہ کوئی تعلی یا ہوائی یا محض پرستارانہ بات نہیں ہے۔ بقول کسی مہان لکھاری کے دنیا ایک اسٹیج ہے جس پر ہم سب اپنا اپنا طے شدہ کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اسٹیج پر لگنے والے سیٹ پر ہر ایکٹ اور سین کی ضرورت کے اعتبار سے کچھ اشیا رکھی جاتی ہیں مثلاً میز کرسی ، گلدان، چھڑی ، کتاب، لاٹھی ، برتن وغیرہ۔ ان اشیا کو تھیٹر کی زبان میں پروپس کہا جاتا ہے۔ پروپس کسی اداکار کو اس کے مخصوص کردار کی ادائیگی ، نشست و برخواست چلت پھرت اور حرکات و سکنات میں مدد دینے کے لیے ہوتے ہیں۔

اگر ان میں سے ایک پروپ بھی کم ہو جائے تو بہت سے اداکار گڑبڑا جاتے ہیں اور تماشائیوں کی فقرے بازی کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ اگر دنیا ایک اسٹیج ہے جس پر زندگی کا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے تو سیاست بھی اس اسٹیج سے باہر نہیں ہو سکتی۔تھیٹر کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ پرفارمنس کے لیے صرف تین چیزیں درکار ہیں۔جگہ یعنی اسٹیج، ایک اداکار اور ایک تماشائی۔ اس تعریف کی روشنی میں اگر دیگران اور مولانا کا موازنہ کیا جائے تو باقیوں میں سے اکثریت کو نہ صرف بنا بنایا اسٹیج ، پروپس بلکہ تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد درکار ہے۔ مگر مولانا کی فنی عظمت یہ ہے کہ انھیں صرف اسٹیج درکار ہے۔ وہ جب اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں تو الفاظ اور ان کی ادائی پروپس میں بدل جاتے ہیں اور مجمع خود بخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور اسٹیج پر کھڑے باقی کردار ایکسٹراز میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور فضا مولانا آرہا ہے کہ نعروں اور تالیوں سے معمور ہو جاتی ہے۔

مولانا کی فنی عظمت کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ وہ تمام فن کار جو پارلیمنٹ کے اسٹیج پر عددی اعتبار سے چھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس امر کے باوجود کہ مولانا موجودہ پارلیمانی اسٹیج کا حصہ نہیں اپنی قیادت کے لیے مولانا کا انتخاب کیا ہے۔کیونکہ جتنا دینی و دنیاوی تجربہ ، زیرک نگاہ اور فنی باریکیوں کی سمجھ مولانا کے پاس ہے کسی کے پلے نہیں۔ مولانا اس وقت جس اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں اس میں دو بڑی ’’خاندانی جماعتیں‘‘ بھی شامل ہیں۔ کہنے کو دونوں خاندانی جماعتوں کا اقتداری تجربہ اور محلاتی سمجھ کسی بھی جماعت سے زیادہ ہے۔ مگر ان میں سے کسی کے پاس مولانا والی بات نہیں۔ بظاہر عددی اعتبار سے مولانا کبھی بھی اپنے تئیں اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں نہیں رہے مگر مولانا نے ہر دور میں اپنی بھاری بھرکم شخصیت کو اس آخری باٹ کی طرح استعمال کیا جو جس پلڑے میں بھی ڈل جائے اس کا وزن پورا ہو جاتا ہے اور دوسرا پلڑا ہوا میں لہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔

یہ ملک گزشتہ پچاس برس سے بالخصوص خاندانی سیاست کا اسیر ہے اور نہ جانے آنے والے کتنے برس تک یونہی رہے۔ مولانا کی دوررس نگاہی سے یہ راز کبھی بھی اوجھل نہیں رہا۔ اگرچہ مولانا طبعاً نظریاتی شخصیت ہیں مگر سیاست میں چونکہ سکہِ رائج الوقت خاندانیت ہی ہے لہذا بہ امرِمجبوری مولانا کو بھی یہ سکہ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسے آپ اپنی جماعت کے مرکزی سربراہ ہیں۔ آپ کے بھائی مولانا عطا الرحمان اسی جماعت کے صوبائی (کے پی کے) امیر ہیں۔ آپ کے دوسرے بھائی مولانا لطف الرحمان رکن ِصوبائی اسمبلی (کے پی کے) ہیں۔ آپ کے ایک اور بھائی عبید الرحمان جماعت کے ضلعی امیر ( ڈیرہ اسماعیل خان ) اور مہتمم جامعہ شریعہ ڈی آئی خان ہیں۔ آپ کے ایک اور بھائی ضیا الرحمان بیوروکریٹ ہیں۔آپ کے صاحبزادے اسعد محمود رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔

بہت سے حاسد اس خاندانی انتظام پر چیں بہ جبیں رہتے ہیں۔ مگر حاسدوں کا پیٹ صرف جہنم کی آگ ہی بھر سکتی ہے۔ ان لوگوں کو یہ ذرا سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ جتنے بھی نظریاتی و اصولی ہوں۔ بازار میں کام تو سکہ رائج الوقت سے ہی چلے گا۔ ویسے بھی اول خویش بعد درویش کی کہاوت مولانا نے توایجاد نہیں کی۔ یہ تو ہمارے پرکھوں کی دین ہے۔ ایسا ریاستی جہاز جس کے بیشتر مسافر خاندانی سیاست کے ہی اسیر ہوں اگر اس جہاز کا کپتان ہی اس سے بے بہرہ ہو اور اسے خاندانی سیاست کی الف ب کا بھی نہ پتہ ہو تو سوچیے اس جہاز کا کیا ہو گا۔ مولانا کے فن ِ سیاست و فضائل پر بہت بات ہو سکتی ہے۔ مگر میرا دھیان ایک اور خبر میں بھی جا اٹکا ہے۔ مفتی منیب الرحمان کو رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی سے تئیس برس بعد سبکدوش کر دیا گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جس ارسطو نے بھی یہ فیصلہ کیا اس نے کیا سوچ کے کیا۔

اگر چاند کروڑوں برس سے چمک رہا ہے تو مفتی صاحب کے تئیس برس کیوں کسی کی آنکھوں میں کھٹک گئے۔ اگلے رمضان کا چاند جب مفتی صاحب کو نہیں دیکھ پائے گا تو سوچیے اس پر کیا گذرے گی۔ مگر مفتی صاحب کو یوں اچانک ہٹایا جانا مہنگا پڑے گا۔ آپ نے ہٹتے ہی تحریکِ تحفظ مسجد و مدارس کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ نے بین الاقوامی طاغوتی قوتوں کے دباؤ پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کو خوش کرنے کے لیے جو قانون سازی کی ہے نیز اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری وقف بل منظور کیا ہے۔ ان دونوں قوانین کی دینی حلقے سختی سے مزاحمت کریں گے۔ ہم مدارس اور مذہبی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جے یو آئی ف کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی مفتی صاحب کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے اور دونوں قوانین کو خلافِ شریعت قرار دیا ہے۔ اگرچہ مفتی صاحب رکنِ پارلیمان نہیں ہیں مگر رکنِ پارلیمان تو مولانا فضل الرحمان بھی نہیں ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ مفتی منیب الرحمان کا تازہ مطالبہ رویت ہلال کمیٹی سے سبکدوشی کا ردِعمل ہے۔ یا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے عمران خان کے استعفی کے مطالبے کا تعلق کاروبارِ ریاست سے مولانا کی دوری کے سبب ہے۔ حق بات کے لیے کسی کمیٹی یا پارلیمنٹ کا حصہ ہونا ضروری تو نہیں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

صرف ایماندار ہونا اچھا نہیں ہے

جیسے ہی خان صاحب نے کہا کہ شروع کے ڈیڑھ برس توکاروبارِ حکومت سمجھنے میں ہی لگ گئے۔ اب کارکردگی دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ہر ہما شما ان کے پیچھے لگ گیا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے اس بندے کو کچھ نہیں پتہ اور ملک اس کے حوالے کر دیا گیا۔ تب ہی کوئی پالیسی سیدھی نہیں ہے اور ملک یوں چل رہا ہے جیسے بنا لنگر کا جہاز سمندر میں ڈول رہا ہو۔ ملک چلانا نہیں آتا تو اقتدار میں آنے کا اتنا شوق کیوں تھا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اب معاملات خان صاحب کی سمجھ میں آ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے خان صاحب کو داد نہیں دی کہ بندے نے کم ازکم ایمانداری سے اعتراف تو کر لیا اور ہر خدا ترس حکمران کو اتنی بنیادی ایمانداری تو دکھانی ہی چاہیے کہ جو شے سمجھ میں نہیں آئی یا سمجھنے میں دیر لگی اسے صاف صاف قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ کوئی بھی اچھے خان ہو، پیدا ہوتے ہی تو سب نہیں جان سکتا۔ زندگی کی اونچ نیچ اور غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔

مگر اس کا اعتراف کرنے کے لیے چوڑا سینہ بھی تو چاہیے۔ جو حکمران بغیر اعتراف کے غلطی پر غلطی کرتے جاتے ہیں اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور پھر ملک کو لاوارث چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے دوسروں پر اپنی نااہلی کا بوجھ ڈال کر چلے جاتے ہیں وہ بہتر ہوتے ہیں یا اپنی کمی بیشی کو ماننے والا حکمران بہتر ہوتا ہے ؟ ویسے بھی خان صاحب نے خود اعتراف کیا ہے۔ کسی نے کنپٹی پر پستول رکھ کے تو نہیں قبولوایا۔ شکر ہے کہ ڈھائی برس میں ہی بتا دیا کہ شروع کا ڈیڑھ برس کیسا گذرا۔ اگر پانچ برس بعد یہی اعتراف ہوتا یا نہ بھی ہوتا تو کوئی کیا بگاڑ لیتا۔ یہ خان صاحب کی بڑائی اور ظرف ہے۔ اور جو اسے ان کی کمزوری کے طور پر لے رہے ہیں یہ ان کا ظرف ہے۔ حکمران توآتے جاتے رہتے ہیں۔ ریاست کا کاروبار ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ چلاتی ہے۔ اب یہ حکمران کی ذاتی صلاحیت ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے منہ زور گھوڑے کو اپنی مرضی کی سمت میں دوڑانے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے یا پھر خود اسٹیبلشمنٹ کی سواری بن جاتا ہے۔ یہ وہ کلیہ ہے جس سے امریکا سے لے کر گنی بساؤ تک کسی ریاست کو مفر نہیں۔

امریکا میں جب بھی کوئی نیا صدر آتا ہے تو اسے بھی حکومتی فیصلہ سازی کی سائنس پر گرفت کرنے اور الف بے سمجھنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ محکمہ خارجہ و دفاع سمیت ہر اہم و غیر اہم محکمے کے کھانپڑ اس کو بار بار تفصیلی بریفنگ دیتے ہیں۔ اقتصادی تھنک ٹینک آسان انگریزی میں ٹکنیکل چیزیں سمجھاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا عملہ اسے صدارتی ادب آداب سے واقف کرواتا ہے۔ریاستی پالیسی کے دائرے میں تقاریر لکھتا اور رٹواتا ہے۔ ہر فیصلہ لینے سے پہلے صدر نہ صرف اپنے قریبی مشیروں بلکہ سبجیکٹ کمیٹیوں اور چنندہ ارکانِ کانگریس سے مشورہ کرتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر کی بھی تربیت و تعلیم ہوتی ہے اور پھر اس کے نام سے فیصلے اور احکامات جاری ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ سپر پاور کا حکمران داخلہ و خارجہ امور سے کس قدر باخبر ہے اور کرہِ ارض کی نبض پر اس کا کتنا مضبوط ہاتھ ہے۔

اب رہی یہ بات کہ آیا محض ایک حکمران کی ایمانداری پیچیدہ ریاستی نظام کو سمجھ کر چلا سکتی ہے یا پھر یہ سارا کھیل ایک ہی طرح کے جذبے سے سرشار مگر باصلاحیت افراد کے ٹیم ورک کا مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ شرط ہے جس کے پورا ہوئے بغیر ایک جمہوری کیا فاشسٹ حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ اس کے لیے مردم شناسی اولین شرط ہے۔ ضروری نہیں کہ آنکھ بند وفاداروں کی ٹیم باصلاحیت بھی ہو۔ لیڈر کا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح باصلاحیت لوگوں کو ایک وفادار ٹیم میں بدل سکتا ہے۔ ایسی ٹیم ایک ایک موتی چن کے لڑی میں پرونے جیسا ہے۔ یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ جتنی لیڈر میں صلاحیت ہو گی اتنی ہی ٹیم بھی اچھی یا بری بنے گی۔ ادھار میں ملنے والے ماہرین سے روزمرہ تو چل سکتا ہے مگر ادھاریوں یا اجرتیوں کے بل پر ریاست کو اپنے خوابوں کی تعبیر میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔

ہمارے ہاں اب تک جتنے بھی باوردی یا بلا وردی حکمران آئے ان کا احساسِ عدم تحفظ بھی ان کے ساتھ صدارتی محل یا ایوانِ وزیرِ اعظم میں در آتا ہے اور سائے کی طرح چپکا رہتا ہے۔ چنانچہ صلاحیت کو وفاداری کے مقابلے میں ہمیشہ پچھلی رو میں جگہ ملتی ہے۔ آدھا وقت تو آگا پیچھا بچانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ کب کیا ہو جائے، کون کس کے ساتھ مل کے کیا گل کھلا جائے ؟ بس یہی سوچ ہر فیصلے کی پشت پر ہوتی ہے۔ ایسے میں افلاطون بھی کرسی پر بیٹھا ہو تو اپنی بقا کے علاوہ کسی بھی قومی مسئلے پر کتنا اعلیٰ یا دوررس سوچ لے گا ؟ جو ڈنڈے کے زور پر آتا ہے اسے یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ ڈنڈہ ٹوٹ نہ جائے یا چھن نہ جائے۔جو ووٹ کے زور پر آتا ہے اسے بھی آڑھتیوں ( پاور بروکرز ) کو اختیاراتی بھتہ دیے بغیر محل میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔ محل کے صدر دروازے پر پچھلی حکومتیں ڈکارنے والے پیشہ ور استقبالی خوشامدی جادوگر فرشی سلام کرتے ہوئے نووارد پنچھی کو گھیر لیتے ہیں اور اپنی لچھے داریوں سے بڑے بڑے انقلابی دماغ کو جکڑ کر دولے شاہ کی کھوپڑی سے بدل دیتے ہیں۔

اور پھر فیصلے کوئی اور کرتا ہے مگر نام بدنام ہز ہائی نیس کا ہوتا ہے۔ اور ہزہائی نیس بھی اس عالیشان ذلت کو یہ سوچ سوچ کر سہتے رہتے ہیں کہ اور کچھ نہیں تو پروٹوکول تو مل ہی رہا ہے ، ہٹو بچو تو ہو ہی رہی ہے ، آگے پیچھے سائرن تو بج ہی رہے ہیں ، سلام پر سلام تو پڑ ہی رہے ہیں۔ پہلے بھی خجل تھے ، آیندہ بھی خجل خواری ہی کا زیادہ امکان ہے لہٰذا چار دن کی چاندنی کے مزے ہی لے لو۔ رہی فیصلہ سازی اور خود کو سب سے منوانے کی دھن اور اقتداری خود مختاری۔ جنھوں نے پہلے اس طرح کی مہم جوئی کا خطرہ مول لیا انھوں نے کسی کا کیا اکھاڑ لیا۔ الٹا اپنے جان و مال و خاندان کا نقصان کیا۔ چنانچہ جس حد تک بھی ممکن ہو ایمانداری و وضع داری کے ساتھ اپنا وقت کاٹو اور وہ گائے مت بنو جس کا خیال ہے کہ دنیا اسی کے سینگوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس کوشش میں دنیا کا توکچھ نہیں بگڑتا اکثر اپنے ہی سینگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر ایمان داری کا بھی کیا کریں۔ وہ بھی پر ہیزگار حکمران کا تب تک ساتھ دیتی ہے جب تک بے ایمانی کے اژدھے کی دم پر پاؤں نہ پڑے۔ چھوٹے موٹے جانور کچلنے میں البتہ کوئی حرج نہیں۔ اور کچلنے بھی چاہئیں تاکہ کچھ دیر تلک تھوڑا بہت دبدبہ تو قائم رہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کشمیر ڈکارنے کے بعد پہلے انتخابات

مقبوضہ جموں و کشمیر کی نیم خود مختارانہ حیثیت کے ضامن بھارتی آئین کے آرٹیکل تین سو ستر اور مقامی شہریت کے تحفظ کے آرٹیکل پینتیس اے کی سولہ ماہ قبل تنسیخ ( پانچ اگست دو ہزار انیس ) کے بعد اور ریاست کو دو حصوں ( لداخ اور جموں و کشمیر) میں تقسیم کر کے براہ راست دلی کے انتظامی کنٹرول میں دینے کے بعد ریاست میں ضلع ترقیاتی کونسلوں کے لیے پہلے انتخابات اٹھائیس نومبر سے انیس دسمبر تک آٹھ مرحلوں میں منعقد ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جموں و کشمیر کے بیس اضلاع میں رجسٹرڈ ساٹھ لاکھ ووٹروں میں سے اکیاون فیصد نے دو سو اسی ضلع نشستوں کے انتخاب میں حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں سات جماعتی آرٹیکل تین سو ستر کی بحالی کے حامی سات جماعتی گپکر عوامی اتحاد ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسلوں کی دو سو اسی میں سے ایک سو بارہ نشستیں جیت کر سب سے بڑے اتحاد کے طور پر ابھرا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کو چوہتر، آزاد امیدواروں کو انچاس اور کانگریس کو چھبیس نشستیں ملیں۔ بی جے پی کو وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں صرف تین نشستیں ملیں اور زیادہ تر نشستیں جموں کے غیرمسلم اکثریتی علاقے سے حاصل ہوئیں۔ اگرچہ گپکر عوامی اتحاد نے آرٹیکل تین سو ستر کی بحالی کے لیے جدوجہد کے نام پر ووٹ حاصل کیے۔ مگر ان بلدیات کو محض مقامی ترقی کے منصوبوں کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ ان کے ذریعے کوئی سیاسی ایجنڈہ آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جن جماعتوں نے انتخابی عمل کو یکسر مسترد کر دیا ان کا موقف ہے کہ ریاست کی نیم خود مختار حیثیت کی بحالی کی پرامن سیاسی و آئینی جدوجہد پر پوری توجہ دینے کے بجائے جموں و کشمیر کی رہی سہی سیاسی و جغرافیائی حیثیت کے خاتمے کے بعد کسی بھی انتخابی عمل کو تسلیم کر کے اس میں غیر مشروط حصہ لینا مودی حکومت کے کشمیر کی بابت اب تک کیے گئے اقدامات کی توثیق اور انھیں جائز تسلیم کرنے کے برابر ہے۔ جب کہ بھارتی سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کرنے والی درخواستیں اب تک زیرِ التوا ہیں۔حتی کہ احتجاج کے ان طریقوں پر بھی مکمل پابندی ہے جن  کی اجازت و ضمانت خود آئین میں موجود ہے۔ انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے والی جماعتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاست کے ساتھ بھارت جس طرح نوآبادیاتی انداز کا سلوک کر رہا ہے اور جس طرح ریاست کی مقامی آبادی کا تناسب تیزی سے تبدیل کرنے کے لیے بیرونی لوگوں کو باعجلت ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں اور جس طرح ریاست کی زمین و املاک کی خرید و فروخت غیر کشمیری بھارتی باشندوں اور کمپنیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اس کی مزاحمت  کے بجائے مسلط کردہ انتخابی عمل میں حصہ لینا کشمیر اور اس کے کاز کو فروخت کرنے کے کام میں بلا شرط آلہ کار بننے کے سوا کچھ نہیں۔

جن مقامی جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا ہے انھیں کشمیری خود مختاری سے زیادہ اپنا اقتدار عزیز ہے بھلے اس کے حصول کے لیے کیسی ہی ذلت کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ دوسری جانب جن جماعتوں نے ان بلدیاتی انتخابات میں ’’ احتجاجاً ‘‘ حصہ لیا ہے ان کا موقف ہے کہ خالی میدان چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنی مرضی کے ہاں میں ہاں ملانے والے امیدوار جتوا کر ایک متبادل طفیلی قیادت کو پروان چڑھائے تاکہ کشمیری خود مختاری کی بحالی کے لیے رہی سہی آوازیں بھی دم توڑ جائیں۔ اگر ان انتخابات میں خود مختاری کی بحالی کی حامی جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو واضح طور پر پیغام جائے کہ کشمیریوں کی اکثریت نہ صرف دلی حکومت کے یکطرفہ اقدامات مسترد کرتی ہے بلکہ اپنی چھنی ہوئی خودمختاری کی مکمل بحالی بھی چاہتی ہے۔ جب کہ حریت کانفرنس کا موقف یہ ہے کہ جب تک کشمیریوں کا آزادی کے ساتھ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک کوئی بھی انتخابی مشق بے معنی تھی اور بے معنی رہے گی۔

پہلے تو یہ فیصلہ ہو کہ کشمیری چاہتے کیا ہیں۔ اس کے بعد ہی کوئی بھی انتخابی عمل قانونی و جائز قرار پا سکتا ہے۔ اگر اس انتخابی عمل کو مودی حکومت کے منصوبہ سازوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو قطع نظر اس کے کہ ان بلدیاتی انتخابات میں کون جیتا یا ہارا۔ اس میں اکیاون فیصد ووٹ پڑنا اور بھارت نواز مگر مودی مخالف  کشمیری جماعتوں کا بھرپور طریقے سے حصہ لینا ایک بڑی اسٹرٹیجک کامیابی ہے۔ اس پوری مشق کو مودی حکومت کشمیر میں اب تک کیے گئے انتظامی اقدامات کی بھر پور عوامی توثیق کے طور پر باقی بھارت اور دنیا  کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ اس سارے کھیل میں خود وادی کی مسلمان اکثریت کہاں کھڑی ہے؟ پاکستان، ایران، ترکی اور ملائیشیا کو چھوڑ کے باقی مسلم دنیا بالخصوص عرب دنیا اب کشمیریوں کے لیے کسی بھی اہم فورم پر زبانی جمع خرچ کے لیے بھی آمادہ نہیں۔ ریاست میں معمول کی سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں۔ مسلح آزادی پسندوں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ و بے باکانہ استعمال پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

کشمیری میڈیا کو مین اسٹریم مودی نواز بھارتی میڈیا  کے ذریعے مکمل لاتعلقی کے غار میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کشمیریوں سے ہمدردی رکھنے والے بھارتی اہلِ فکر و دانش کو ریاست میں آمدورفت یا سیاسی و سماجی رابطے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بھارت نواز و بھارت مخالف کی تمیز کیے بغیر تمام مقامی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے سیاسی ورکرز یا تو نظربند ہیں یا مقدمات میں جکڑے جا چکے ہیں یا پھر روپوش ہیں۔ عام کشمیری پچھلے ڈیڑھ برس سے اقتصادی بدحالی کے کوڑے مسلسل کھا کھا کے ادھ موا ہو چکا ہے۔ اور اب اس کا حال اس بھینس جیسا ہو گیا ہے جسے چور کھول کے لے جانے لگے تو مالک نے آواز لگا دی بھینس بھینس خبردار تجھے رسہ گیر لے جا رہے ہیں۔ بھینس نے پلٹ کر کہا تیرے پاس سے بھی دودھ کے بدلے صرف چارہ ملتا تھا وہ بھی چارہ ہی دے گا۔ دو ہزار نو کے لوک سبھا انتخابات میں سوپور کے ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر لگی قطار میں کھڑے ستر برس سے اوپر کے ایک کشمیری سے میں نے پوچھا بابا جی آپ بھی ؟ کہنے لگا آزادی جب ملے گی تب ملے گی۔ مگر سڑک، پانی، بجلی، تعلیم، صحت، روزگار اور جان و مال کا تحفظ تو ابھی چاہیے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیا آیندہ کو پھانسی دی جا سکتی ہے ؟

جب بھی کوئی مسافر ویگن گیس سلنڈر پھٹنے سے جہنم بن کر اپنے ہی مسافروں کو خاک کر دیتی ہے تو سرکار عہد کرتی ہے کہ آیندہ گیس سلنڈرز کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اور پھر چند روز بعد اسی نوعیت کا ایک اور حادثہ ہو جاتا ہے اور پھر کوئی سرکاری توتا وہی عہدنامہِ عتیق دہرا دیتا ہے۔ یہی بیانیہ مشق مسافر بسوں اور ریل گاڑیوں کے حادثات کے بعد بھی ہوتی ہے۔ فوری رپورٹ کی طلبی ، میڈیا کی بارات کے ساتھ جائے وقوع کا ہنگامی دورہ، تحقیقاتی کمیٹی کا قیام ، کسی کو نہیں بخشا جائے گا، تعفن زدہ خوشخبری ، نچلے درجے کی چند پتلی گردنوں کی عارضی معطلیاں اور پھر سب بھول جاتے ہیں یہ حادثہ ایک نیا حادثہ ہونے تک۔ یہی کچھ مجرمانہ اسپتالی غفلتوں کے پیرائے میں بھی ہوتا ہے۔ اگر میں تہتر برس کا رونا رونے کے بجائے پچھلے دس برس کو ہی دیکھوں تو المناکی کی سفاکی جوں کی توں ہے۔

مثلاً سات جون دو ہزار بارہ کو کسی تھکیلے نجی اسپتال میں نہیں بلکہ لاہور کے باوقار سروسز اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے نرسری وارڈ میں نصب ایک ایئرکنڈیشنڈ کی تار میں شارٹ سرکٹ ہوا۔ جن اینکوبیٹرز ( برقی پالنے ) میں نوزائیدہ بچے پڑے تھے ان میں سے چند کے آکسیجن پائپوں نے آگ پکڑ لی۔ چھ بچے جل مرے۔ آگ بجھانے والے آلات اسپتال میں موجود تھے۔ مگر ان کا ڈھنگ سے استعمال کسی کو نہ آتا تھا اور جب سے یہ نصب ہوئے تھے ان کی کبھی ٹیسٹنگ یا استعمالی مشق نہیں ہوئی۔ اسپتال کی برقی وائرنگ حادثے سے پچیس برس پہلے انیس سو ستاسی میں ہوئی تھی۔ سانحے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے ہر اسپتال کی وائرنگ، ایئرکنڈیشننگ اور آگ بجھانے والے آلات کا معیار ہنگامی طور پر چیک کیا جاتا اور یہ بھی دیکھا جاتا کہ ایمرجنسی کی صورت میں عملہ حالات سے نمٹنے کے لیے کتنا مستعد اور تربیت یافتہ ہے۔ مگر ایسی کوئی خبر کبھی نہ آئی۔

سات جون دو ہزار چودہ کو کراچی میں کورنگی کراسنگ کے نزدیک درمیانے درجے کے ایک نجی اسپتال کے شعبہِ اطفال میں چوبیس گھنٹے کے دوران اینکوبیٹرز میں پڑے نو بچے مرتے چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ اسپتال کے پاس بجلی جانے کی صورت میں کوئی متبادل انتظام نہیں تھا۔ ناتجربہ کار عملہ قلیل تنخواہوں پر نوکری زہر مار کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ اسپتال کا صفائی عملہ بھی اتنا ماہر ہو گیا تھا کہ مریضوں کو انجکشن لگا لیا کرتا تھا۔ ظاہر ہے رپورٹ طلب ہوئی، چھان بین ہوئی مگر بہتری نہ ہوئی۔ اس حادثے کو محض ایک اسپتال کی انسانی غفلت کے طور پر دیکھا گیا اور فرض کر لیا گیا کہ باقی اسپتال تو گویا یورپی معیار کے مطابق کام کر رہے ہوں گے۔ انیس نومبر دو ہزارچودہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سرگودھا کے نرسری وارڈ میں آٹھ نوزائیدہ بچے آکسیجن کی سپلائی میں کمی کے سبب مر گئے۔ بیس بچوں کو اینکو بیٹرز کی ضرورت تھی مگر پانچ مہیا تھے یا کارآمد تھے۔ نرسری وارڈ میں پچیس بستروں کی گنجائش تھی مگر پچاس بچے داخل تھے یعنی ایک بستر پر دو دو۔

چار ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھے مگر وارڈ میں نہیں تھے۔ حسبِ معمول نرسنگ کا عملہ دیکھ بھال کر رہا تھا۔ ان میں سے کسی کو اندازہ نہ ہوا کہ آکسیجن کی مقدار کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ آج کا تو معلوم نہیں البتہ اس وقت تک پورے سرگودھا ڈویژن میں یہ واحد اسپتال تھا جہاں بچوں کے لیے نرسری وارڈ تھا اور اس میں میانوالی ، بکھر اور ڈی آئی خان تک سے مریض آتے تھے۔ سرکاری سطح پر بے روح ماتمی کیفیت کے بعد توقع تھی کہ اس حادثے کے بعد اگر ملک گیر یا صوبائی سطح پر نہیں تو کم ازکم مقامی سطح پر اسپتال کے عامل ڈھانچے میں اصلاحات ہوں گی اور وسائل و بہتر تربیت اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کا انتظام وجود میں آ جائے گا۔ مگر حادثے کے پانچ برس بعد اسی نرسری وارڈ میں اگست دو ہزار انیس میں ایئر کنڈیشنر خراب ہونے کے سبب چھ نوزائیدہ بچے مر گئے۔ معلوم ہوا کہ ایئر کنڈیشننگ کی بہتری کے لیے جو تھوڑا بہت بجٹ میسر تھا وہ وی آئی پی کمروں کو ٹھنڈا رکھنے پر صرف ہو گیا۔

تیرہ دسمبر دو ہزار چودہ کو لاڑکانہ کے چانڈکا ٹیچنگ اسپتال کے نرسری وارڈ میں آکسیجن ختم ہو جانے کے سبب پانچ بچے ہلاک ہو گئے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اس مد میں پچھلا بجٹ ختم ہو چکا تھا اور نئے بجٹ کی منظوری میں تاخیر ہو رہی تھی۔ اللہ اللہ خیرصلا۔ اور تازہ ترین شگوفہ ایک ہفتہ قبل پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں پھوٹ گیا جب آکسیجن ختم ہونے سے چھ مریض دم توڑ گئے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جو کمپنی آکسیجن سپلائی کرتی ہے اس کا ہرکارہ وقت پر نہ پہنچ سکا لہذا پلانٹ پر متعین عملہ بور ہونے کے بجائے گھر چلا گیا۔ آکسیجن ٹینک کی گنجائش اگرچہ دس ہزار کیوبک فٹ تھی مگر اسے اسپتال کی اوسط ضرورت دیکھتے ہوئے ہمیشہ آدھا بھرا جاتا تھا۔ اس دن شائد زیادہ ضرورت پڑ گئی مگر اتنے بڑے اسپتال کے پاس کوئی ہنگامی متبادل ذخیرہ نہیں تھا۔ اسپتال کہتا ہے کہ کمپنی بس اتنی ہی گیس سپلائی کرتی ہے۔ کمپنی والے کہتے ہیں کہ اسپتال بس اتنی ہی گیس ہم سے منگواتا ہے۔

کمپنی کا کنٹریکٹ تین برس پہلے دو ہزار سترہ میں ختم ہو گیا مگر کمپنی پھر بھی گیس سپلائی کرتی رہی۔ آخر کنٹریکٹ کی تین برس سے تجدید کیوں نہیں ہوئی؟ اسے سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں۔ کنٹریکٹ کے تحت کمپنی ایک ہی قیمت پر کنٹریکٹ کی پوری مدت میں سپلائی دینے کی پابند ہوتی ہے۔اور جب کنٹریکٹ نہ ہو تو ضروری نہیں کہ کمپنی سابقہ طے شدہ ریٹ پر سپلائی دینے کی پابند نہیں ہوتی وہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے رسد دیتی ہے۔ یعنی اگر کنٹریکٹ کے تحت کمپنی سو روپے فی یونٹ سپلائی دے رہی تھی تو کنٹریکٹ نہ ہونے کی صورت میں اگر مارکیٹ ریٹ دو سو ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ پونے دو سو روپے میں پرانے گاہک کو سپلائی جاری رکھے گی۔ چنانچہ یہ چھان بین بھی ہونی چاہیے کہ کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد کیا کمپنی پرانے ریٹ پر آکسیجن سپلائی کرتی رہی یا مارکیٹ ریٹ پر۔ اور مارکیٹ ریٹ پر سپلائی کی صورت میں اضافی منافع کس کس میں تقسیم ہوا۔

ممکن ہے کہ کنٹریکٹ کی تجدید نہ ہونے مگر سپلائی جاری رہنے کے پیچھے فریقین کے معاشی مفادات ہوں۔ کرپشن کے تو ویسے بھی ہزار چہرے ہوتے ہیں۔ اس دوران اگر حادثے میں چھ سات لوگ مر بھی جائیں تو لوگ تو ہیں ہی کیڑے مکوڑے۔ کیڑے مکوڑوں کی کیا شنوائی ، کیسا معاوضہ اور کون سی ضمانت ؟ وہی ہوا جو ایسے ہر حادثے کے بعد ہوتا ہے۔ سات لوگ معطل ہو گئے۔ یقین دلایا گیا کہ آیندہ کے لیے بیک اپ سسٹم قائم ہو گا ، تربیت یافتہ عملہ متعین ہو گا، ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مناسب تعداد میں مشقوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم ہو گا۔ ( اگر میرے بس میں ہو تو میں سب سے پہلے آیندہ جیسے الفاظ کو پھانسی دوں )۔ یقین جانیے کچھ بھی تو نہ ہو گا۔ چند ہفتے یا مہینوں بعد اسی اسپتال یا کسی اور جگہ ایسا ہی ایک اور حادثہ ہو گا اور پھر بندر پھرتیاں اور بیانیا کرتب بازی شروع ہو جائے گی۔ یہ بیماری کسی ایک حکومت کا ورثا نہیں۔ یہ ایک لگاتار قومی بیماری ہے جس کا علاج ہمیشہ الفاظ کی مرہم پٹی اور کھوکھلے ٹلاؤ وعدوں کی جڑی بوٹیوں سے ہی ہوتا ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اب پیشِ خدمت ہے گوادر کی باڑ

اطلاعات ہیں کہ سی پیک کے سرچشمے گوادر کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے خاردار تاروں کی ایک اونچی باڑ نصب کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد گوادر پہلا پاکستانی شہر ہو گا جس کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہر میں داخلے اور اخراج کے دو راستے ہوں گے تاکہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے اور نہ صرف بندرگاہ اور وہاں پر کام کرنے والے غیرملکی کارکنوں بلکہ عام شہریوں کا بھی تحفظ ہو سکے۔ جس کسی نے بھی یہ ‘ذہین منصوبہ’ بنایا ہے، اس نے یا تو شورش زدہ اور چھاپہ مار جنگ سے متاثر علاقوں میں ماضی کے ایسی ہی کوششوں کی تاریخ نہیں پڑھی یا پڑھنے کے بعد فرض کر لیا ہے کہ یہ منصوبہ چونکہ ہم اپنے معروضی و زمینی حالات کے مطابق بنا رہے ہیں لہٰذا کامیاب ضرور ہو گا۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ریاست کی نظر میں دہشت گرد تنظیموں، گوریلوں یا چھاپہ ماروں یا فدائین کو کہاں سے امداد مل رہی ہے، کون اکسا رہا ہے اور کون ان تنظیموں کو زندہ رکھنے کے لیے ‘معصوم نوجوانوں’ کو ورغلا رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایسی غیر روایتی لڑائی کو روایتی یا محض ردِ عملی طریقوں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ اس کے لیے بیک وقت سیاسی و سٹرٹیجک منصوبہ سازی اور عام آدمی کا دل و دماغ جیتنے کی سہہ طرفہ حکمتِ عملی ہی بار آور ہو سکتی ہے۔ اور عام آدمی کا دل تب ہی جیتا جا سکتا ہے جب اسے ریاست کے قول و فعل کی یک رنگی پر اعتبار ہو، وہ خود کو فیصلہ سازی میں شریک سمجھتا ہو اور اسے یقین ہو کہ یہ کوئی نو آبادیاتی ریاست نہیں بلکہ اس کی اپنی ریاست ہے۔ محض طاقت اور اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے تو باڑیں تو امریکہ نے بھی جنوبی ویتنام میں لگائی تھیں اور مقامی آبادی کو ان کے پیچھے یہ کہہ کر منتقل کیا گیا تھا کہ مقصد ویت کانگ دہشت گردی سے عام ویتنامی کا تحفظ ہے۔

باڑیں تو فرانس نے بھی الجزائر میں اٹھائی تھیں تاکہ عام الجزائریوں کو ایف ایل این کی دہشت گردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ باڑ کلچر سے تو فلسطینی بھی سب سے زیادہ واقف ہیں اور کشمیریوں کو بھی اپنی روزمرہ زندگی میں اسی طرح کے غیر مرئی باڑ کلچر کا سامنا ہے۔ ان میں سے کون سے خطے میں باڑ لگانے والے اپنے مقاصد حاصل کر کے بے چینی، بغاوت یا دہشت گردی یا انتہا پسندی پر قابو پا سکے؟ اور ہاں باڑ کے پیچھے تو 80 برس قبل سندھ کے حروں کو ان کے ہزاروں کنبوں سمیت انگریز سرکار کے دشمن سوریا بادشاہ پیر صبغت اللہ شاہ کے ‘انتہا پسندوں’ سے بچانے کے لیے کئی برس تک رکھا گیا۔ تو کیا باڑ کے پیچھے رہنے والے یہ ہزاروں کنبے انگریز کے حق میں منقلب ہو گئے تھے؟

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں ایک قومی ریاست کی باڑ پسندی کو نوآبادیاتی مثالوں سے کیوں آلودہ کر رہا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ بے چینی سے نمٹنے کے فرسودہ روایتی طریقے اگر ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس نوآبادیاتی طاقتوں کے کام نہ آ سکے تو کسی ترقی پذیر قومی ریاست کو کیسے کامیابی دلا سکتے ہیں؟ کسی دوسرے کی کامیابیوں سے بھلے آپ کچھ نہ سیکھیں لیکن دوسرے کی ناکامیوں سے سیکھنے میں کیا ذہنی اڑچن ہے؟ جب آپ اپنے ہی شہروں اور اپنے ہی لوگوں کی ناکہ بندی پر اتر آتے ہیں تو اس سے باقیوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ مسئلے پر قابو پانے کی آپ کی گذشتہ حکمتِ عملیاں ناکام رہی ہیں چنانچہ آپ کو ایک نئی مگر فرسودہ حکمتِ عملی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس سے آپ کے مخالف کے حوصلے پست ہونے کے بجائے اور بڑھتے ہیں اور اسے اپنی حکمتِ عملی کامیاب دکھائی دینے لگتی ہے۔

چلیے آپ نے ایک شہر کو باڑ میں گھیر کے محفوظ کر لیا۔ باقی بے باڑ شہروں کا کیا ہوگا۔ کارروائی پر کمر بستہ ایک جگہ داخل نہیں پائے تو دوسری جگہ سے گھس جائیں گے۔ دہشت گرد ہوں کہ چھاپہ مار یا علیحدگی پسند یا حریت پسند۔ آپ بھلے انھیں اپنی پسند کا کوئی بھی لقب دے دیں، وہ مقامی حمایت کے بغیر ایسے ہی ہیں جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔ اگر اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی گوادر میں کوئی دہشت گردی کی واردات ہو گئی تو پھر آپ کا اگلا قدم اور مقامی رویہ کیا ہو گا؟  مان لیا کہ بین الاقوامی سرحدوں پر باڑ لگانے کا یہ مقصد ہے کہ مشکوک اجنبیوں، سمگلروں، دہشت گردوں کا داخلہ یا اخراج مشکل بنایا جا سکے۔ اگر آپ کی بین الاقوامی سرحدوں کی باڑ کاری مؤثر ہو اور اس سے ملک دشمن عناصر کی نقل و حرکت کی روک تھام ہو سکے تو پھر اپنے ہی شہروں کو باڑ زدہ بنانے کا اضافی خرچہ کر کے آپ مزید کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسئلہ صرف خارجی ہی نہیں داخلی بھی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم کر کے ایک قابلِ عمل عوام دوست حکمتِ عملی نہیں بنائی جائے گی اور اس پالیسی کو عام آدمی قبول کرنا شروع نہیں کرے گا تب تک وسائل کا ضیاع تو ممکن ہے، کامیابی ممکن نہیں۔ کوئی بھی باڑ دماغ کے اندر کھڑی عدم اعتماد کی باڑ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتی۔ اگر ذہنی باڑ کٹ جائے تو پھر فولادی باڑ کی حاجت نہیں رہتی۔ البتہ اس ہدف تک پہنچنا تب ہی ممکن ہے جب زورِ بازو کو ذہنی زور کے تابع کرنے کی عادت ڈالی جائے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

اسلام آباد کے پیارے ہاتھی کاون کو خدا حافظ

تمہیں تو خیر کیا یاد ہو گا۔ پر میرا تم سے ایک دور پرے کا رشتہ ہے۔ میرے بچے بھی جب موقع ملتا تم سے ملنے اسلام آباد مرغزار کا چکر لگاتے تھے۔ تم انھیں دیکھ کے سر ہلاتے تھے، سونڈ سلام کرتے تھے اور موڈ اچھا ہو تو پیٹھ پر بھی بٹھاتے تھے۔ پھر وہ بڑے ہو گئے اور ان کی جگہ نئے بچوں نے لے لی۔ کاون کیا تمھیں یاد ہے کہ مرغزار میں پچھلے پینتیس برس کے دوران تم نے کتنے لاکھ بچوں کو سونڈ سلام کیا اور پیٹھ پر سواری کروائی۔ ان میں سے ہزاروں بچے ترقی پا کر جانے کہاں کہاں پہنچ گئے۔ ان میں سے کئی تو اتنے طاقتور عہدوں تک پہنچے کہ ان کے قلم کی ایک جنبش تمھیں دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی کے بجائے دنیا کا سب سے خوش و خرم ہاتھی بنا سکتی تھی۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی تمھارے پاؤں میں پڑی بھاری زنجیر کو دراز ہوتے اور تم سے آسیب کی طرح لپٹی جان توڑ تنہائی کے سایوں کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔

پیارے کاون، آج جب تم ایک طویل قید کے بعد رہا ہو کر کھلی چراگاہوں کی طرف جا رہے تو میں تمھیں مبارک باد تو دے سکتا ہوں مگر افسوس ہرگز نہ کروں گا، کیونکہ جس دُکھ سے تم پینتیس برس تک گذرے ہو وہ سانجھا ہے۔ جس طرح تمھیں 1985 میں بہت چاؤ کے ساتھ سری لنکا سے یہاں لایا گیا اور تمھارے رکھوالوں کو یقین دلایا گیا کہ کاون کا ہم اپنے بچوں کی طرح خیال رکھیں گے۔ بالکل اسی طرح ہمارے لیے بھی 73 برس پہلے ایک نیا گھر یہ کہہ کر دلایا گیا کہ ہم اسی میں محفوظ اور خوشحال رہیں گے۔ مگر جس طرح کے رکھوالے تم نے پچھلے 35 برس میں دیکھے وہ ہم عشروں سے بھگتتے آ رہے ہیں۔ تمھیں بھی پوری غذا نہیں ملتی تھی ہماری غذا بھی چرائی جاتی رہی۔ تمھارے علاج معالجے کا بھی کوئی بندوبست نہیں تھا تو ہمیں بھی کہاں تسلی بخش طبی سہولتیں ملیں۔ تمھیں بھی مرغزار کے لالچ سے لبریز اقربا پرور انتظام کا سامنا کرنا پڑا بعینہہ ہمارے ساتھ بھی یہی بیتی۔

تمھارا مہاوت بھی اناڑی اذیت پسند تھا تو ہم پر سوار اناڑی مہاوتوں کے ڈنڈے میں بھی لمبی لمبی کیلیں لگی ہوئی تھیں۔ تمھیں بھی سونڈ پھیلا پھیلا کے تماشائیوں سے بھیک مانگنا سکھایا گیا تو ہمیں بھی ریڑھے پر بٹھا کے خیرات کی آس میں سرِ بازارِ عالم گھمایا جاتا رہا۔ تمھاری جمع کردہ بھیک بھی مرغزار کے منتظمین لے اڑتے تھے۔ ہمارے نام پر اکھٹی ہونے والی امداد کا بھی یہی حشر ہوتا ہے۔ تمھاری دیکھ بھال کے لیے مختص بجٹ بھی جیبوں جیب غتربود ہو جاتا تھا تو ہماری فلاح کے لیے منظور بجٹ کا بھی یہی حشر ہوتا رہا۔ تمھارے حالات پر بھی مقامیوں سے زیادہ غیرملکیوں کا دل پسیجتا رہا ہمارے مسائل پر بھی بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز ہاتھ ملتے ہیں۔  فرق ہے تو بس اتنا کہ تمھارا پنجرہ چھوٹا ہے اور ہمارا پنجرہ کچھ بڑا۔

تم بھی حالات سے تنگ آ کر ہجرت کے خواب دیکھتے رہے۔ ہمارے بھی لاکھوں بچے موقع ملتے ہی اپنی آنکھوں میں خواب سجائے پہلا موقع ملتے ہی ہم سے دور چلے گئے۔ بہت سے کامیاب ہوئے اور بہت سے غلامی کی نئی زنجیروں میں جکڑے گئے۔ کچھ کو سنہری زنجیریں ملیں تو بیشتر کو تمھاری طرح آہنی جکڑ بندی۔ پیارے کاون! تمہاری رہائی پر میری آنکھوں میں جو چند آنسو اگر ہیں بھی تو وہ خوشی کے ہیں۔ میری دعا ہے کہ جب تم کچھ دن بعد نئے جنگلوں میں زنجیر سے پاک آزادی کے ساتھ چہل قدمی کرو تو تمھارے حافظے سے ماضی کی ہر یاد اڑ جائے اور یادداشت میں صرف حال اور مستقبل رہ جائے۔ ابھی تمھیں بہت جینا ہے۔ یہ دُعا یوں کر رہا ہوں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ہاتھی کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے۔ حالانکہ تم نے ہماری سر زمین پر جو وقت کاٹا اس کے بعد کہنا تو نہیں بنتا پھر بھی کہے دیتا ہوں کہ اگر مناسب سمجھو تو ہمارے لیے بھی دعا کرنا۔ شاید تمھاری دعا ہی لگ جائے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

گلگت بلتستان توقعات پر پورا اترا

وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ یعنی جو پارٹی اسلام آباد میں حکمران ہو گی وہی گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی کامیاب ہو گی۔ اس بار یہ اعزاز تحریک انصاف نے حاصل کیا۔ دو ہزار نو کے بعد مجلس قانون ساز کے یہ تیسرے انتخابات تھے۔ تینتیس ارکان پر مشتمل اسمبلی میں چوبیس نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہوتا ہے۔ چھ اضافی نشستیں خواتین کے لیے اور تین ٹیکنو کریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نو مخصوص نشستیں چوبیس عام نشستوں پر کامیابی کے تناسب سے آپس میں بٹ جاتی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کے پاس تینتیس میں سے سترہ نشستیں ہونی چاہئیں۔ اس بار ووٹروں کی کل تعداد سات لاکھ پینتالیس ہزار تین سو اکسٹھ تھی۔ ان میں ایک لاکھ ستائیس ہزار نئے ووٹر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دو انتخابات میں ساٹھ فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ اس بار بھی اسی اوسط کی توقع ہے۔

سن دو ہزار نو میں جب گلگت بلتستان آئینی اصلاحات کا پیکیج نافذ ہوا تو اس وقت مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ چنانچہ جب بارہ نومبر دو ہزار نو میں پہلی گلگت بلتستان لیجسلیٹو اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کے ابھری اور اس نے تینتیس کے ایوان میں بیس نشستیں حاصل کر لیں اور مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے بلامقابلہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئے (موجودہ انتخابات میں مہدی شاہ ہار گئے)۔ مسلم لیگ نواز کو دو ہزار نو میں دو نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس الیکشن میں ایم کیو ایم کو بھی ایک نشست ملی۔ تحریک انصاف کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ جب آٹھ جون دو ہزار پندرہ کو دوسری لیجسلیٹو اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو اس وقت اسلام آباد میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ چنانچہ جس مسلم لیگ ن نے دو ہزار نو میں صرف دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ اسی مسلم لیگ نے دو ہزار پندرہ میں تینتیس میں سے بائیس نشستیں اپنے بیگ میں ڈال لیں اور جس پیپلز پارٹی نے دو ہزار نو میں بیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی وہ اسلامی تحریک اور مجلسِ وحدت المسلمین کے بعد چوتھے نمبر پر آئی اور اس کے ہاتھ صرف ایک نشست لگی۔ تحریک انصاف نے پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور اس نے بھی ایک نشست جیتی۔ چنانچہ مسلم لیگ کے حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کے دوسرے وزیرِ اعلی منتخب ہو گئے۔

اب آئیے پندرہ نومبر دو ہزار بیس کے انتخابی نتائج کی طرف۔ ایک بار پھر وہی چمتکار ہوا جس کے گلگت بلتستان کے ووٹر عادی ہیں (ایک جنرل سیٹ پر ایک امیدوار کے انتقال کے سبب چوبیس میں سے تئیس نشستوں پر انتخاب ہوا) غیر سرکاری نتائج کے مطابق اسلام آباد میں حکمراں تحریک انصاف جس نے گزشتہ انتخابات میں ایک سیٹ جیتی تھی اس بار نو نشستیں جیت لی ہیں۔ مسلم لیگ ن جسے گزشتہ انتخابات میں چوبیس میں سے سولہ عام نشستیں ملی تھیں اس بار دو سیٹیں ہی نکال پائی ہے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان بھی ہار گئے ہیں۔ جب کہ پیپلز پارٹی جس نے گزشتہ بار ایک نشست نکالی تھی اس بار تین نشستوں پر کامیاب قرار دی گئی ہے۔ مگر موجودہ انتخابات میں ایک نئے عنصر کا بھی اضافہ ہوا یعنی آزاد امیدوار۔ گزشتہ انتخابات میں ایک بھی آزاد امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا تھا مگر اس بار آزاد امیدوار سات نشستیں جیت کر پی ٹی آئی کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے 10 ارکان اور سات آزاد ارکان اور پی ٹی آئی کی اتحادی مجلس وحدت المسلمین کے ایک رکن پر مشتمل اٹھارہ ارکان کی سادہ اکثریت کا اگلا وزیرِ اعلیٰ پی ٹی آئی سے ہو گا۔

جیسا کہ توقع تھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے الیکشن چوری کرنے کا الزام لگا دیا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر کیا فرق پڑتا ہے جب ہمیشہ یہی اصول انتخابی نتائج پر حکمرانی کرتا ہے کہ جو اسلام آباد کے تخت پر ہو گا وہی مظفر آباد اور گلگت پر بھی حکمرانی کرے گا۔ مگر یہ اصول صرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہی کیوں موثر ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایسا کیوں نہیں۔ اس کی کوئی بھی ممکنہ تاویل ڈھونڈی جا سکتی ہے مثلاً یہی کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ووٹرز بہت موقع شناس ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ ترقیاتی فنڈز اسلام آباد سے ہی آتے ہیں اور اختیارات بھی اسلام آباد کے لاکر روم سے ہی جاری ہوتے ہیں لہٰذا کسی ایک جماعت کے بجائے اسلام آباد کو خوش رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ دوسری تاویل یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جغرافیائی طور پر نہایت حساس علاقے ہیں لہٰذا ان میں کسی ایسی جماعت کی حکومت سازی افورڈ نہیں کی جا سکتی جس کا اسلام آباد سے چھتیس کا آنکڑا ہو۔ بہتر یہی ہے کہ جسے پیا چاہے وہی سہاگن تاکہ اسٹرٹیجک پالیسیوں میں تسلسل قائم رہے۔

گزشتہ دو انتخابات کی نسبت گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابی نتائج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس خطے کو اگلے چند ماہ میں پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ چونکہ علاقے کے ووٹروں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے لہٰذا زندگی سہل کرنے اور صوبے کے امکان کو روشن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جس حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے اسے ہی گلگت بلتستان میں بھی مینڈیٹ دے دیا جائے۔ جنھیں پہلے مینڈیٹ دیا گیا انھوں نے کیا ایسی توپ چلا لی جو نئی حکمران پارٹی نہیں چلا پائے گی۔ البتہ صوبائی حیثیت حاصل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نہ صرف آج کے مقابلے میں زیادہ بااختیار ہوں گے بلکہ وہ شائد اس نفسیات سے بھی رفتہ رفتہ چھٹکارا پالیں گے جو شدھ پھوٹھوہاری لہجے کے مالک ہمارے ریٹائرڈ بیورو کریٹ دوست راجہ گشتاسپ خان انجان کی زندگی کا منشور ہے۔ فرماتے ہیں ’’ سنگیا، حکومت وقوت دی فل تابعداری کرو ، افسراں دے چھوٹے موٹے کم وی کری چھوڑو، نا! کو حرج اے

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ٹرمپ کہ بائیڈن ۔ ہماری بلا سے

آج کون جیت رہا ہے ؟ اس سوال پر دنیا بھر میں لگ بھگ دو ارب ڈالر کی شرطیں لگ چکی ہیں۔ کچھ ہی دیر میں اگلے چار برس کا ممکنہ امریکا بھی سامنے آ جائے گا۔ امریکی پالیسیاں رولر کوسٹر پر ہی سوار رہیں گی یا پھر ان میں قبل از ٹرمپ استحکام واپس آ جائے گا ؟ اگر ٹرمپ کو شکست ہوتی ہے تو برازیل ، برطانیہ ، ہنگری اور بھارت جیسے ممالک میں برسرِاقتدار دائیں بازو کی پاپولسٹ حکومتوں کا قالین بھی وقتِ مقررہ پر لپٹ جائے گا یا اور پھیل جائے گا ؟ ٹرمپ رہا تو ہمیں معلوم ہے کہ مشرقِ وسطی میں زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مگر بائیڈن آگیا تو کیا اسرائیل اور امریکا کے تعلقات اسی سرد مہری کی کگار پہنچ جائیں گے جیسے آخری ڈیموکریٹ صدر بارک اوباما کے آٹھ سالہ دور میں تھے ؟ بائیڈن فلسطینیوں کا گلا گھونٹنے والی ٹرمپ کی ڈیل آف دی سنچری کا کیا کریں گے ؟ کیا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پھر کوئی نیا امن فارمولا سامنے آئے گا؟ اسرائیل پر نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا ؟

کیا فلسطینی اتھارٹی کے لیے معطل ہونے والی امریکی امداد پھر سے جاری ہو جائے گی ؟ البتہ ایک رعائیت شائد ضرور ملے گی۔ یعنی اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم کرنے کی اعلان کردہ پالیسی پر کم ازکم اگلے چار برس عمل نہیں کر پائے گا۔ کیا بائیڈن اپنے اس انتخابی وعدے کو پورا کرے گا کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کی علاقائی پالیسی کی اندھا دھند حمائت سے ہاتھ کھینچ لیا جائے گا ، یمن کی چار برس سے جاری بے مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے خلیجی ریاستوں پر دباؤ بڑھایا جائے گا ۔ ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان جوہری پھیلاؤ کو لگام دینے کا جو سمجھوتہ دو ہزار پندرہ میں ہوا تھا اور جس سے ٹرمپ نے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر کے اقتصادی ناکہ بندی کا شکنجہ اور کس دیا۔ بائیڈن کیا اسی سابقہ معاہدے کا پھر سے حصہ بن جائیں گے یا چند نئی شرائط پوری ہونے پر ہی ایران کا اقتصادی گھیراؤ ڈھیلا کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔

اور دو ہزار پندرہ میں ہی ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عالمی درجہِ حرارت میں کم ازکم دو ڈگری سنٹی گریڈ کم کرنے کے سمجھوتے میں امریکی دستخط پھر سے بحال ہو جائیں گے ؟ امریکا اقوامِ متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کا روکا ہوا چندہ بھی بحال کر دے گا؟ اگلے چند ماہ میں دنیا ان سوالوں کا مثبت جواب جاننے کے لیے بے کل رہے گی۔ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو یہ کہہ کر خفا کیا کہ امریکا اپنے پیسے سے ان کی لامحدود چوکیداری نہیں کر سکتا۔ یورپ کو اگر ناٹو کی چھتری چاہیے تو اسے خرچہ بھی خود اٹھانا پڑے گا۔ کچھ اسی طرح کا بل جنوبی کوریا اور جاپان کو بھی تھما دیا گیا۔ امریکا کے دو ہمسائیوں میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ہونے والا آزاد تجارت کا سمجھوتہ مفلوج ہو گیا۔ میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنا دی گئی ، تارکینِ وطن کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔

تیسری دنیا کے ممالک کو غلاظت و جرائم کا اڈہ قرار دے کر وہاں سے آنے والے تارکینِ وطن کے لیے دروازے بند کر دیے گئے۔ بالخصوص مسلمان ممالک کے تارکینِ وطن سے ’’ خصوصی حسنِ سلوک‘‘ کیا گیا۔ بائیڈن اس تھالی میں بکھرا ہوا گند کتنا صاف کر پائیں گے ؟ اور اس کے ردِ عمل میں سفید فام نسل پرستوں کو کیسے مطمئن کر پائیں گے ؟ دنیا یہ سب کچھ اگلے چار برس دلچسپی سے دیکھے گی۔ ٹرمپ دور میں چین امریکا اقتصادی مسابقت بڑھتے بڑھتے طاقت کے استعمال کی کھلم کھلا دھمکیوں کے دہانے تک جا پہنچی ۔ وائٹ ہاؤس کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ امریکا کو ہر دور میں کم ازکم ایک بڑا دشمن درکار ہوتا ہے تاکہ اس سے نمٹنے کی آڑ میں وہ اقتصادی و سیاسی پھیلاؤ کا ایجنڈہ آگے بڑھا سکے۔ انیسویں صدی میں اسپین امریکا کا اسٹرٹیجک دشمن قرار پایا۔ اس کے بعد اگلے چالیس برس کے لیے امریکا کمبل کی بکل مار کر سو گیا۔ پہلی عالمی جنگ کے آخری دنوں میں امریکا انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہو گیا۔

البتہ دوسری عالمی جنگ میں پرل ہاربر پر پڑنے والے جاپانی بموں نے سوتے ہوئے امریکا کو ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن امریکا نہ خود سویا نہ کسی اور کو سونے دیا۔ ہٹلر کے خاتمے کے بعد کوئی بڑا دشمن نہ رہا تو کیمونزم کو بقائی دشمن کے طور پر ایجاد کر لیا گیا۔ اور کیمونزم کو اپنی بالادستی سے دھمکانے کے لیے ادھ موئے جاپان پر ایٹم بم مار کر بین الاقوامی گلی میں ایک ناقابلِ تسخیر بدمعاش کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ سرد جنگ کی آڑ میں وسائل کی اپنی شرائط پر لوٹ کھسوٹ کی خاطر تیسری دنیا میں آمریتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اور اس کارِ خیر میں کیا ریپبلیکن کیا ڈیموکریٹ ہر انتظامیہ نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد امید ہو چلی کہ اب شائد دنیا رقابتوں سے آزاد امن کا گہوارہ بن جائے۔ نیو ورلڈ آرڈر میں صرف ایک سپرپاور کے وجود کا اعلان کیا گیا۔ فرانسس فوکو یاما جیسے علما نے تاریخ کی وفات کا اعلان کر دیا۔

سیموئیل ہنٹنگڈن نے تہذیبوں کے تصادم میں مغربی تہذیب کی فتح کا اعلان کر دیا۔مگر پھر کم بخت اسلامی انتہاپسندی نے بگل بجا دیا اور نائن الیون نے بلی کے بھاگوں چھینکا توڑ دیا۔ دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نعرے نے نئے اقتصادی و اسٹرٹیجک مواقع کے لیے راستہ کھول دیا اور اگلے پندرہ برس دھشت گردی کے خاتمے کے نام پر نئی اور پرانی تمام دشمنیوں کا کھاتا نمٹایا گیا۔ ممالک تتر بتر ہوگئے ، لاشیں بچھ گئیں اور شطرنج کے نئے اصول اور نئے پیادے متعارف ہو گئے۔ لوگ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اس آپا دھاپی سے تو سرد جنگ کی منظم کشیدگی کا زمانہ ہی غنیمت تھا۔ القاعدہ اور ہمنواؤں کی کمر بظاہر ٹوٹنے کے بعد پھر امید بندھی کہ اب کوئی بڑا دشمن نہیں لہٰذا ہر مسئلے اور ہر ملک کو کیل سمجھ کر اس کا علاج ہتھوڑے سے کرنے کی امریکی روش کو لگام مل جائے گی۔

مگر کہاں صاحب۔ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں۔ اب چین نیا دشمن ہے۔اسے اقتصادی طور پر نیچا دکھانا تو فی الحال ناممکن ہے۔ البتہ اس ابھرتے ہوئے ہاتھی کے پیروں میں چہار جانب سے اسی طرح بیڑیاں ڈال کے ہانکا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد کے چالیس برس میں طفیلیوں کی مدد سے سوویت یونین کا ہانکا کیا گیا۔ یعنی اگلی نصف صدی کے لیے امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو ایک نئی منافع بخش مصروفیت میسر آ گئی ہے۔ مگر ضروری تو نہیں کہ اکسیویں صدی کی بدلی ہوئی دنیا میں بھی دشمنی سے نمنٹنے والے باپ دادا کے آزمودہ نسخے ہی کام کر پائیں۔ وقت بھی تو جلاب بن کر بڑی بڑی سلطنتیں ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ یونانی، رومن ، عرب ، روسی زار ، عثمانی۔کیسے کیسے نام تھے جو تاریخ کے اوراق تک محدود ہو گئے۔ تو کیا بائیڈن انتظامیہ میں اتنی فراست ہو گی کہ وہ چین کے ساتھ امریکا کی اقتصادی و سیاسی مسابقت کو مکمل سرد جنگ اور تسلط کی لڑائی میں بدلنے سے پہلے پہلے روک لے۔ حسد کی جگہ رشک لے لے اور مبارزت مسابقت کے لیے جگہ خالی کر دے ؟ کل کے بعد ہمارے برصغیر پر کیا نئے اثرات پڑیں گے ؟ ہمیں خود کو موجودہ ابتری میں رکھنے کے لیے کسی بیرونی سپرپاور کی ضرورت نہیں۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود کو کنوئیں میں قید رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ٹرمپ جائے کہ بائیڈن آئے۔ ہماری بلا سے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز